صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ
عقائد و نظریات

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ

✍️ Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

مضمون۔ کیا اھل بیت اطھار معصوم ہیں ؟؟؟؟ ایک تحقیقی جائزہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اھل تشیع کے درجنوں گمراہ کن عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک اھل بیت اطھار معصوم ہیں جبکہ یہ قرآن و سنت ، اجماع و قیاس کے سراسر مخالف و متضاد ہے اور غیر معصومین حضرات کو معصوم گرداننا عقیدۂ اھل سنت کے خلاف ہے ,رشد و ہدایت کے راستے سے انحراف، اقوال بزرگان دین و طریق سلف صالحین سے رو گردانی کرنا ہے، گمرہی اور بد عقیدگی کے دلدل میں اپنے آپ کو جھونکنا ہے, آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ عصمت کیا ہے، چلئے حق کا متلاشی بن کر اقوال بزرگان دین، آرائے سلف صالحین کو کھنگال کر دیکھتے ہیں کہ معصوم کون ہیں، کیا اہل بیت اطھار بھی معصوم ہیں ؟یا یہ بس شیعوں کا افترا ہے

عصمت کا معنی و مفہوم

عصم یعصم عصما ، کا لغوی معنی ہے ،روکنا،باز رکھنا، حفاظت کرنا، بچانا، جیساکہ قرآن میں ہے لا عاصم اليوم من امر الله سورۂ ہود آیت 43، ترجمہ، آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔
اسی سے ہے العصمۃ یعنی بچاؤ، گناہوں سے بچنے کا ملکہ، جیساکہ المعجم الوسیط میں ہے العصمۃ ملکۃ إلھیۃ تمنع من فعل المعصیۃ والمیل الیھا یعنی عصمت اک ایسی خدا داد صلاحیت اور وہبی ملکہ ہے جو گناہوں کے ارتکاب کرنے بلکہ اس کی طرف میلان سے بھی روکتی ہے ۔
تو جو لوگ معصوم ہوتے ہیں وہ ہر طرح کے گناہوں سے منزہ و مصفا ہوتے ہیں ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال ہے اسی لئے در بارۂ معصومین ارتکاب صغائر و کبائر کے ساتھ ساتھ احکام شرعیہ میں خطاء اجتہادی کا تصور بھی ممنوع و محذور ہے جیساکہ فواتح الرحموت میں اس کی صراحت ہے قد تطلق علىٰ اجتناب الصغائر مع ذلك الاجتناب (ائ الكبائر) و نرجو أن يكونوا معصومين به‍ذالعصمة و ايضا قد تطلق على عدم صدور ذنب لا عمدا ولا سهوا ولا خطأ و مع ذالك عدم الوقوع فى خطأ اجته‍ادي فى حكم شرعى اسی صفحہ میں صاحب فواتح الرحموت اس عبارت کے متعلق فرماتے ہیں عندنا العصمة بالوجه مختصة بالأنبياء فيما يخبرون بالوحي و مايستقرون عليه جلد ثانى صفہ 286
اوپر والی عبارت جس میں یہ صراحت ہے کہ حضرات معصومین سے گناہ صغائر و کبائر کے ساتھ ساتھ احکام شرعیہ میں خطاء اجتہادی کے صدور کا تصور بھی ممتنع ہے اور آگے صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ یہ عبارت ہمارے نزدیک حضرات انبیاء کرام کے ساتھ خاص ہے, اس عبارت سے شیعہ کے اس عقیدہ کا رد فرمایا جس میں وہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل بیت اطہار بھی معصوم ہیں جو تمام گناہوں کے ساتھ ساتھ انبیاء علیہم السلام کی طرح خطاء اجتہادی سے بھی محفوظ و مامون ہے جبکہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ارو یہ کھلا افترا اور مکابرہ ہے

کون کون معصوم ہیں ؟

عصمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جو کہ مخصوص جماعت اور اک خاص گروہ کے اندر اللہ رب العزت نے ودیعت فرمائی ہے اور یہ خالص اللہ ربّ العزت کی طرف سے وہبی شئ ہے، کسی کو اس کے کسب و ارادے سے یہ ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا جیساکہ بخاری شریف کے حاشیہ میں مرقوم ہے المعصوم من عصمه الله تعالى لا من عصمة نفسه
حدیث پاک میں ہے عن ابى سعيد الخدرى عن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم قال ما استخلف خليفة الا له بطانتان بطانة تأمره بالخير و تحضه عليه و بطانة تأمره بالشر و تحضه عليه و المعصوم من عصم الله بخاری شریف جلد ثانی باب المعصوم من عصم اللہ صفحہ 978
ترجمہ : ہر خلیفہ کے دو مشیر ہوتے ہیں ایک مشیر وہ جو انہیں خیر کا حکم دیتا ہے اور انہیں خیر کی طرف ابھار تا ہے اور ایک وہ جو انہیں شر کا حکم دیتا ہے اور اسے شر کی طرف ابھار تا ہے اور معصوم وہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ بچا لیا
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن مقدس جماعت اور پاک گروہ کو عصمت کا تمغہ عطا فرمایا ہے وہ انبیاء کرام اور ملٰئکہ مقربین کی مقدس جماعت ہیں جن کی عصمت پر دلیلیں، قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ بے شمار کتابوں میں مذکور و مسطور ہیں ۔اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے إذ إبتلىٰ ابراهيمَ ربُه بكلمٰت فأتمهن قال إنى جاعلك للناس إماما قال و من ذُرِّيَتى قال لا ينال عهدي الظالمينسورة البقرة ترجمہ:اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں، فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے، فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہونچتا۔ کنزالایمان
یہ آیت کریمہ عصمت انبیاء پر دال ہے اس آیت کے متعلق حضرت ملا احمد جیون اپنی مشہور زمانہ تفسیر، تفسیرات احمدیہ میں ارشاد فرماتے ہیں ان الامام ان كان على معناه المتعارف كان المراد بالظالم الكافر إذ هو الظالم المطلق و ان اريد به ذوالنبوة كان الظالم على معناه كما نقل ان ابراهيم عليه السلام انما سأل ان يكون بعض اولاده نبيا كما كان هو فأخبر ان الظالم لا يكون نبيا هكذا فى المدارك و اقول فعلى التقدير الاول يكون المراد بالظالم الكافر و هو لا يصلح لامامة المسلم على ما فى الزاهدى و على التقدير الثانى يكون الآية بحيث يستدل بها على ان الانبياء معصومون عن الذنب و الكذب إذ يفهم عصمتهم عن الظلم حينئذ كل ذنب ظلم لانه تجاوز عن الحق و تعد عليه
ترجمہ و تشریح : إنى جاعلك للناس اماما میں امام سے مراد اگر اس کا معنی متعارف یعنی امامت کبری ہے تو لا ينال عهدي الظالمين میں ظالم کا معنی کافر ہوگا کیوں کہ کافر مسلمانوں کا والی و امام نہیں ہو سکتا جیساکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا سورة النساء، اور اگر اس سے مراد نبوت ہے تو ظالم اپنے معنی متعارف پر ہوگا، جیساکہ منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی ہی طرح اپنی ذریت کے لئے نبوت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہونچتا یعنی کوئی ظالم نبی نہیں ہو سکتا، اسی طرح مدارک التنزیل میں بھی مرقوم ہے ۔
حضرت ملا احمد جیون فرماتے ہیں کہ، میں کہتا ہوں کہ پہلی تقدیر پر ظالم سے مراد کافر ہے اور وہ مسلمانوں کی امامت کی صلاحیت نہیں رکھتا، اسی طرح تفسیر زاہدی میں بھی ہے اور دوسری تقدیر پر آیت کریمہ عصمت انبیاء پر دلالت کرتی ہے، کہ انبیاء کرام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں کیوں کہ اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے وہ ظلم سے معصوم ہیں اور ہر چھوٹے بڑے گناہوں کو ظلم کہتے ہیں کیوں کہ ظلم حق سے تجاوز کرنے اور حد سے آگے بڑھنے کا نام ہے تو پتہ چلا کہ انبیاء علیہم السلام تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ۔
منع الروض الازھر میں ہے الانبياء عليهم الصلاة و السلام كلهم منزهون أى معصومون :صفحہ 56 ۔ ترجمہ، تمام انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں
شرح النووی میں ہے ذهب جماعة من اهل التحقيق و النظر من الفقهاء و المتكلمين من أئمتنا الى عصمتهم من الصغائر كعصمتهم من الكبائر :جلد 1 صفحہ 108
شرح العقائد میں ہے
ان الانبياء معصومون عن الكذب خصوصاً فيما يتعلق بأمر الشرائع و تبليغ الاحكام و ارشاد الأمة أما عمدا فبالاجماع و أما سهوا فعندالاكثرين و فى عصمتهم عن سائر الذنوب تفصيل و هو انهم معصومون عن الكفر قبل الوحى و بعده بالاجماع و كذا عن تعمد الكبائر عندالجمهور ": صفحه 140
ترجمہ ، انبیاء کرام علیہم السلام بالاجماع عمدا کذب سے معصوم ہیں خاص کر امر شرائع تبلیغ احکام اور ارشاد امت کے معاملے میں اور اکثر محققین کے نزدیک سہوا کذب سے بھی معصوم ہیں ارو تمام گناہوں سے عصمت کے تعلق سے تفصیل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام بالاجماع قبل نبوت و بعد دونوں حالتوں میں کفر سے معصوم ہوتے ہیں یونہی عند الجمہور کبائر کا معاملہ بھی ہے
امام الامہ کاشف الغمہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب، الفقہ الاکبر میں رقم طراز ہیںالانبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزهون عن الصغائر و الكبائر و الكفر و القبائح ارو آگے حضور کے بارے میں لکھتے ہیں و محمد عليه الصلاة والسلام حبيبه و عبده و رسوله و نبيه و صفيه و نقيه و لم يعبد الصنم لم يشرك بالله طرفة عين قط و لم يرتكب صغيرة و لا كبيرة
امام اعظم فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام گناہ صغائر و کبائر ، کفر و قبیح چیزوں سے پاک ہیں ،اور آقا علیہ السلام کے بارے فرماتے ہیں کہ کبھی آپ نے شرک باللہ نہیں کئےاور نہ ہی کھبی گناہ صغائر و کبائر کا ارتکاب کئے
اسى عبارت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ملا علی قاری شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں أى لا قبل النبوة و لا بعدها فإن الانبياء عليهم الصلاة والسلام معصومون عن الكفر مطلقا بالاجماع
اور علامہ ملا علی قاری اپنی دوسری کتاب منع الروض الازھر میں رقم طراز ہیں الانبياء منزهون عن الصغائر و الكبائر یعنی انبیاء کرام علیہم السلام تمام گناہ صغائر و کبائر سے معصوم ہیں ۔
مذکورہ بالا تمام عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں یونہی انبیاء علیہم السلام کی طرح فرشتے کی مقدس جماعت بھی معصوم ہیں جن کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرونسورة التحريم ۔ترجمہ:جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں
یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر سکتے کیوں کہ اللہ رب العزت نے ان کے اندر عصمت اور اطاعت کو ودیعت فرما دی ہے
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے لا يسبقونه بالقول و هم بأمره يعملون سورة الانبياء ۔ ترجمہ : بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم کے کاربند ہوتے ہیں : کنزالایمان یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی ہو بہو تعمیل کرتے ہیں اس میں کسی طرح کی کوتاہی کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ۔
شرح العقائد میں ہےالملائکة عباد الله تعالى العاملون بأمره اس عبارت کی شرح کر تے ہوئے علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اپنی کتاب نبراس میں تحریر فرماتے ہیںيريد انهم معصومون و قد اختلف فى عصمتهم فالمختار انهم معصومون عن كل معصية و قال القاضى الصواب عصمة جميعهم
حدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ میں ہے(ان الملائكةالذين هم عباد مكرمون لا يسبقونه بالقول و هم بأمره يعملون ) لا يعملون قط ما لم يأمرهم به قاله البيضاوى (لا يوصفون)أى الملائكة عليهم السلام (بمعصية) صغيرة ولا كبيرة لانهم كالأنبياء معصومون)
یہاں تک تمام عبارات پر غور کر نے سے پتہ چلا کہ انبیاء کرام علیھم السلام اور فرشتوں کی مقدس جماعت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے معصوم بنایا ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں مقدس جماعت کے علاوہ اور کوئی ہے جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عصمت کا تمغہ عطا فرمایا ؟ کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ؟ آئیے دیکھتے انبیاء اور فرشتوں کے علاوے کو معصوم کہنے والوں کا کیا حکم ہے ؟
تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتوں کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہیں اللہ نے صرف انہیں ہی صفت معصومیت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ان حضرات کے علاوہ کسی جماعت یا طبقہ کو یہ تمغہ نہیں عطا کیا گیا، جیساکہ علامہ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب فتح الباری شرح البخاری میں لکھتے ہیں ان غير النبي و لو بلغ من الفضل الغاية ليس بمعصوم : جلد 7 صفحہ 31
ترجمہ ، کہ غیر انبیاء اگرچہ فضل و کمال میں انتہا کو پہنچ جائے لیکن وہ معصوم نہیں ہو سکتا ۔
تاج الفحول سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول بدایونی المعتقد المنتقد میں تحریر فرماتے ہیں فمنه العصمة، و هى من خصائص النبوة على مذهب اهل الحق
فتاویٰ رضویہ میں ہےاجماع اہل سنت ہے کہ بشر میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں جو دوسرے کو معصوم مانے اہل سنت سے خارج ہے :جلد صفحہ 188
علامہ امجد علی اعظمی اپنی مشہور زمانہ کتاب بہار شریعت میں لکھتے ہیں کہ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور ملک کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں
صدر الافاضل استاد العلماء علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی کتاب العقائد میں لکھتے ہیں انبیاء اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا اور اولیاء کرام کو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہوں سے بچا تا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں : صفحہ 21

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ؟

تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اہل بیت اطہار معصوم نہیں ہیں کیوں کہ انبیاء اور ملائکہ علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں ہیں اور اسی پر اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے جس پر متعدد دلیلیں اوپر ذکر کی جا چکیں بر خلاف اہل تشیع کے کہ ان کے نزدیک اہل بیت اطہار کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ اولاد جو منصب امامت پر فائز تھے معصوم ہیں، شیعان زمانہ جھوٹی محبت اہل بیت کے آڑ میں بے شمار عقائد فاسدہ و باطلہ اہل سنت و جماعت کے خلاف گڑھ کر بھولے بھالے مسلمانوں کو ورغلانے کی نا کام کوششیں کر رہے ہیں، راہ راست سے ہٹانے میں سعی پیہم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں آگاہ ہو جاؤ مسلمانوں ایسے رہزنوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کرو جو معاشرے میں اپنے گمراہ کن عقائد کے جال میں پھنسا کر پل بھر میں ثروت ایمان اچک لے جاتے ہیں ، ان کے گمراہ کن عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ اہل بیت اطہار معصوم ہیں
جیساکہ شیعہ امامیہ کے بڑے عالم سید محمد رضا مظفر اپنی کتاب عقائد الامامیہ میں لکھتا ہے ونعتقد أن الإمام كالنبى يجب أن يكون معصوما من جميع الرذائل والفواحش ما ظهر منها وما بطن من الطفولة إلى الموت عمدًا وسهوًا. كما يجب أن يكون معصوما من السهو والخطأ والنسيان لأن الأئمة حفظة الشرع والقوامون عليه حالهم في ذلك حال النبي ..
ترجمہ ، اور ہمارا اعتقاد ہے کہ امام کا تمام بری باتوں،فحش کاموں سے ظاہری اور باطنی طور پر سن طفولیت سے تا دم حیات عمدا اور سہوا معصوم ہونا واجب ہے جیسے ان کا سہو، خطاء، اور نسیان سے معصوم ہونا واجب و ضروری ہے کیوں کہ وہ شریعت کے محافظ اور دین کے ستون ہیں تو ان کا معاملہ اس صورت میں انبیاء علیہم السلام کی طرح ہو گیا ‌۔
امام کی معصومیت پر مزید بطور دلیل یہ آیت لا ينال عهدي الظالمين پیش کر تے ہیں، اور اس سے تمسک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت میں امام اور ظالم دونوں ہی اپنے معنی متعارف پر ہے اور ظلم ہر چھوٹے بڑے گناہ اور تجاوز عن الحق کا نام ہے تو پتہ چلا کہ جو منصب امامت پر فائز ہوگا وہ ان تمام گناہوں سے معصوم ہو گا ۔
جبکہ یہ عقائد اہل سنت و جماعت اور اجماع کے مخالف و متضاد ہے شرح العقائد میں ہے لا يشترط فى الامام أن يكون معصوما لما مر من الدليل على إمامة ابى بكر مع عدم القطع بعصمته تفسیرات احمدیہ میں ہے لا يشترط فى الامام ان يكون معصوما لعدم قطعية عصمة ابى بكر مع اجماع حقية خلافتهصفحہ 32
ان عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ امام کے لئے معصوم ہونا شرط نہیں ہیں کیوں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت و خلافت اجماع سے ثابت اور ان کا معصوم نہ ہونا بھی قطعی طور پر ثابت ہے تو پتہ چلا کہ امام کے عصمت شرط نہیں ہے ۔
اہل تشیع عصمت اہل بیت پر دلیل کے طور یہ آیت انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرا پیش کرتے ہیں اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ آیت کریمہ اہل بیت کے حق میں نازل ہوئی ہے مزید یہ کہتے ہیں اہل بیت میں حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ فاطمتہ الزہرہ اور حضرات حسنین کریمین داخل ہیں اور ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہیں ہیں اور یہ دو حدیث پاک پیش کرتے ہیں عن عمر بن ابي سلمة قال نزلت هذه الآية على النبى صلى الله عليه وسلم انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت فى بيت ان سلمة فدعا فاطمة و عليا و حسنا و حسينا فجعللهم بكساء و على خلف ظهره ثم قال اللهم هؤلاء اهل بيتى فاذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرا قالت ام سلمة و أنا معهم يا رسول الله قال انت على مكانك و انت على الخير
دوسری حدیثعن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نزلت هذه الآية فى خمس:فيَّ و في علي و فاطمة وحسن و حسين انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرا
تو اہل تشیع دعویٰ کرتے ہیں کہ اہل بیت میں یہ چار نفوس حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدہ فاطمتہ الزہرا اور حسنین کریمین شامل ہیں اور ازواج مطہرات اس سے خارج ہیں اس پر دلیل دیتے ہوئے مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کو پیش کرتے ہیں جبکہ ان دونوں حدیثوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ازواج مطہرات اہل بیت سے خارج ہیں تفصیل آگے آ رہی ہے ، اور ان حضرات کی عصمت پر مذکورہ آیت کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے ان سے رجس و خطاء کو اٹھا لیا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرات معصوم ہیں
اور یہ اجماع اہل سنت کے خلاف ہے ان کا رد اس طور پر کیا جائے گا کہ اولا ان کا یہ کہنا کہ یہ آیت کریمہ، مذکورہ مخصوص حضرات کے حق میں نازل ہوئی یہ تسلیم ہی نہیں ہے کیوں حضرت ابن عباس سے صحیح روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت کریمہ ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی اور مختار یہ ہے کہ ان حضرات کے ساتھ اور لوگ بھی شامل ہیں یا یہ کہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جس پر صدقات حرام ہے،اور حضرت زید ابن ارقم کا بھی یہی موقف ہے،
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں من شاء باهلته انها نزلت فى ازواج النبى صلى الله عليه وسلم ترجمہ : جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے اس بارے میں کہ یہ آیت ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔
اور شیعہ حضرات جس حديث مذکورہ سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہیں ہے اس كا جواب دیتے ہوئے صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں فليس فيه دلالة على عدم دخولهن بل معنى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم انت على مكانك الخ: الزمى مكانك فإنك على خير و من اهل البيت و داخلة فى منطوق الآية لكونها مسوقة لهن و انما ادعوا لمن تثبت مسوقة لهم
یعنی مذکورہ حدیث پاک ازواج مطہرات کے اہل بیت میں عدم دخول پر کوئی دلالت نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول انت على مكانك و انت على الخيرکا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی جگہ کو لازم پکڑو بیشک تم خیر پر ہو اور تم اہل بیت سے ہو اور آیت کریمہ کے منطوق میں داخل ہو اسی لئے کہ آیت کریمہ انہیں ازواج مطہرات کے لئے نازل ہوئی تھی اور میں انہیں بلا رہا ہوں کہ ان کا اہل بیت سے ہونا سیاق سے ثابت ہو جاۓ
دوسری حدیث پاک کا جواب دیتے ہوئے صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں فمعناه انها نزلت في مع من معى من الازواج و اربعة آخرين لا يسكنون فى البيت لئلا يلزم المكابرة و لا يعارضه ما قال عكرمة
فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ، میرے اور میرے ساتھ جو میری بیویاں رہتی ہیں اور چار لوگ دوسرے جو میرے گھر میں نہیں رہتے ہیں ان تمام کے حق میں نازل ہوئی، اور یہ معنی حضرت عکرمہ کے قول کے موافق بھی ہے جو ابھی اوپر ذکر کیا گیا ۔اور رہا ان کا آیت کریمہ سے مذکور مخصوص حضرات کی عصمت پر استدلال کرنا تو ان سے کہا جائے گا کہ حضرت ابن عباس، زید ابن ارقم اور عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی باتوں سے یہ بات صاف واضح ہے کہ اس آیت کے منطوق میں ان حضرات کے علاوہ اور لوگ بھی ہیں اور اس آیت سے ہی عصمت ثابت کر رہے ہیں تو مناسب یہ ہونا چاہیۓ کہ جتنے لوگ آیت کے منطوق میں داخل ہیں سب کے سب معصوم ہوتے جبکہ یہ ان کے مذہب کے بھی خلاف ہے یہ شیعوں کی کیسی دوگلی پالیسی ہے
صاحب فواتح الرحموت ان کے اس استدلال پر جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں لا يلزم منه العصمة عن الذنوب أيضا بل الذى يلزم المغفرة و محو الذنوب فإن اذهاب الذنوب يقتضى وجوده أولا فلا يلزم العصمة ترجمہ : اس سے عصمت عن الذنوب بھی لازم نہیں آتا ہے بلکہ اس سے مغفرت اور محو ذنوب لازم آتا ہے اسی لئے کہ گناہوں کو معاف کر نا اور خطاؤں کو لے جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے پہلے گناہ کا وجود ہو تو اس سے عصمت لازم نہیں آیا اور معنی عصمت کے مخالف ہے ۔
بلکہ عصمت کا مطلب ہے کہ گناہوں پر قدرت ہوتے ہوئے سرے سے گناہ کا وجود نہ ہونا جیساکہ شرح العقائد میں ہے حقيقة العصمة أن لا يخلق الله تعالى فى العبد الذنب مع بقاء قدرته:152 صفحہ
اور فتاویٰ مہریہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب فرما تے ہیں آیت تطہیر کا مورد خواہ امہات المومنین ہوں فقط یا مع اَل کساء ہوں یا صرف آل کساء ہوں ایساہی تطہیر در رنگ انزال شرعیہ ہوں یا در صورت عفو م مغفرت ہوں بہت کیف خطاء کا صدور مطہرین سے ممکن ہے ۔
تصفیہ مابین سنی و شیعہ میں فرماتے ہیں کہ آیت تطہیر کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور ان سے کسی قسم کی خطاء کا سرزد ہونا ناممکن ہے اس کا مطلب یہ ہے اگر بمقتضاۓ بشریت ان سے کوئی خطاء سرزد بھی ہو تو عفو و تطہیر الٰہی میں داخل ہوگی : صفحہ 46

اہل بیت اطہار کے معصوم نہ ہونے پر دلائل

صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں و اهل البيت كسائر المجتهدين يجوز عليهم الخطاء فى اجتهادهم و هم يصيبون و يخطئون و كذا عليهم الزلة و هي وقوعهم فى أمر غير مناسب لمرتبتهم من غير تعمد
یعنی اہل بیت اطہار بھی باقی اور مجتہدین کی طرح ہیں کہ کبھی وہ اپنے اجتہاد میں صواب کو پہونچتے ہیں اور کبھی خطاء پر ہوتے ہیں اور رہی بات معصوم کی تو ان سے خطاء اجتہادی بھی صادر نہیں ہوتا جس پر دلیل بیان کر دی گئی ہے ۔
اور اہل بیت اطہار سے کئی جگہوں میں خطاء اجتہادی کا صدور ہوا ہے جیساکہ سیدۃ النساء سیدہ فاطمتہ الزہرا سے باغ فدک کے مسئلہ میں ہوا اور بھی بہت سارے مسئلوں میں اہل بیت سے صحابہ کرام نے اختلاف کئے ہیں مگر کسی نے اس پر نہ روکا اور نہ ہی اس کو عیب سمجھا اور نہ ہی کسی نے اہل بیت سے مسئلہ میں اختلاف کر نے کو خطاء تصور کیا جیساکہ حاملہ متوفیٰ عنہا زوجھا کی عدت کے سلسلے میں حضرت ابن مسعود نے مولاۓ کائنات کے خلاف فتویٰ دیا اور حضرت عبیدہ نے بیع امہات الولد کے مسئلہ میں مولاۓ کائنات کے خلاف فتویٰ دیا اور مولاۓ نے اس بات نا پسند نہیں فرمایا اور نہ ہی کسی اس بات کو غلط قرار دیا تو ان باتوں سے واضح ہوگیا کہ اہل بیت اطہار سے بھی خطاء اجتہادی کا صدور ہوا ہے اور جن سے خطاء اجتہادی کا صدور ہو وہ معصوم نہیں ہو سکتے ۔
صاحب فواتح الرحموت اس پر دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے یہ آیت فإن تنازعتم في شىئ فردوه الى الله و الرسولنقل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں و اهل البيت أيضا داخلون فى الخطاب ففرض عليهم حين التنازع إزاحته بالرد على الكتاب و السنة و لم يعب على منازع اهل البيت فى الاحكام بشىئ یعنی جب تم کسی معاملے میں اختلاف کرلو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیرو مطلب کتاب و سنت سے اس کا حل تلاش کرو تو مصنف صاحب کہتے ہیں کہ اس خطاب میں اہل بیت بھی شامل ہیں اور ان پر بھی ضروری ہے کہ جب ان کا کسی معاملے میں تنازع ہو جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس معاملے کے حل کے لئے لوٹے اور اہل بیت سے کسی حکم میں تنازع کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔
تو جب انہیں بھی تنازع کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹنے کا حکم ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ اہل بیت معصوم نہیں ہیں کیوں کہ اگر معصوم ہوتے تو انہیں معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا نے کا حکم نہیں ہوتا کیوں کہ معصوم کی بات خود ہی قطعی اور واجب العمل ہوتی ہے یونہی اہل بیت اگر معصوم ہوتے تو ان پھر ان سے اختلاف رائے کی اجازت بھی نہیں ہوتی جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔
ان تمام عبارات سے واضح ہوگیا کہ اہل بیت اطہار معصوم نہیں ہیں اور غیر معصوم کو معصوم کہنا گمرہی بد دینی ہے، کھلا افترا جھوٹ اور کذب ہے اہل سنت سے خروج کا سبب ہے جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے بشر میں انبیاء کے سوا کوئی معصوم نہیں ہیں اور جو غیر معصوم کو معصوم کہے اہل سنت سے خارج ہے
بہار شریعت میں ہے نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔
اور العواصم من القواصم الاوقاف السعودیہ میں امام ابن العربی فرماتے ہیں نحن المسلمين لا نعتقد العصمة لأحد بعد رسول الله ﷺ، وكل من ادعى العصمة لأحد بعد رسول الله ﷺ فهو كاذب."صفحہ 3
ترجمہ ، ہم مسلمان ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے ہیں اور ہر وہ شخص جو حضور کے بعد کسی کی عصمت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ شیعہ جیسے ایمان کے لٹیروں سے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں موقف اہل سنت کو جانے علماء اہل سے استفادہ کریں اور انبیاء کرام رسولان عظام ملائکہ علیہم السلام اور اہل بیت اطہار و غیرھم کے مقام مرتبہ کو پہچانیں اور ہر ایک سے سچی محبت کریں کسی کی جھوٹی محبت میں اس قدر حد سے تجاوز نہ کریں کہ گمرہی و بد دینی کا طوق گلے پڑ جائے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمارے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور اہل سنت پر استقامت عطا فرمائے حب اہل بیت اور حب کل اصحاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں راسخ فرمائے بغض اہل بیت اور بغض صحابہ کرام سے بچاۓ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
خامہ فرسائی۔ ابن التوحید محمد نور نواز ناشد
المتخصص فی الفقہ۔ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر۔ 9341323861۔ 9973594560

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ

مضمون نگار: Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

مضمون۔ کیا اھل بیت اطھار معصوم ہیں ؟؟؟؟ ایک تحقیقی جائزہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اھل تشیع کے درجنوں گمراہ کن عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک اھل بیت اطھار معصوم ہیں جبکہ یہ قرآن و سنت ، اجماع و قیاس کے سراسر مخالف و متضاد ہے اور غیر معصومین حضرات کو معصوم گرداننا عقیدۂ اھل سنت کے خلاف ہے ,رشد و ہدایت کے راستے سے انحراف، اقوال بزرگان دین و طریق سلف صالحین سے رو گردانی کرنا ہے، گمرہی اور بد عقیدگی کے دلدل میں اپنے آپ کو جھونکنا ہے, آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ عصمت کیا ہے، چلئے حق کا متلاشی بن کر اقوال بزرگان دین، آرائے سلف صالحین کو کھنگال کر دیکھتے ہیں کہ معصوم کون ہیں، کیا اہل بیت اطھار بھی معصوم ہیں ؟یا یہ بس شیعوں کا افترا ہے

عصمت کا معنی و مفہوم

عصم یعصم عصما ، کا لغوی معنی ہے ،روکنا،باز رکھنا، حفاظت کرنا، بچانا، جیساکہ قرآن میں ہے لا عاصم اليوم من امر الله سورۂ ہود آیت 43، ترجمہ، آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔
اسی سے ہے العصمۃ یعنی بچاؤ، گناہوں سے بچنے کا ملکہ، جیساکہ المعجم الوسیط میں ہے العصمۃ ملکۃ إلھیۃ تمنع من فعل المعصیۃ والمیل الیھا یعنی عصمت اک ایسی خدا داد صلاحیت اور وہبی ملکہ ہے جو گناہوں کے ارتکاب کرنے بلکہ اس کی طرف میلان سے بھی روکتی ہے ۔
تو جو لوگ معصوم ہوتے ہیں وہ ہر طرح کے گناہوں سے منزہ و مصفا ہوتے ہیں ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال ہے اسی لئے در بارۂ معصومین ارتکاب صغائر و کبائر کے ساتھ ساتھ احکام شرعیہ میں خطاء اجتہادی کا تصور بھی ممنوع و محذور ہے جیساکہ فواتح الرحموت میں اس کی صراحت ہے قد تطلق علىٰ اجتناب الصغائر مع ذلك الاجتناب (ائ الكبائر) و نرجو أن يكونوا معصومين به‍ذالعصمة و ايضا قد تطلق على عدم صدور ذنب لا عمدا ولا سهوا ولا خطأ و مع ذالك عدم الوقوع فى خطأ اجته‍ادي فى حكم شرعى اسی صفحہ میں صاحب فواتح الرحموت اس عبارت کے متعلق فرماتے ہیں عندنا العصمة بالوجه مختصة بالأنبياء فيما يخبرون بالوحي و مايستقرون عليه جلد ثانى صفہ 286
اوپر والی عبارت جس میں یہ صراحت ہے کہ حضرات معصومین سے گناہ صغائر و کبائر کے ساتھ ساتھ احکام شرعیہ میں خطاء اجتہادی کے صدور کا تصور بھی ممتنع ہے اور آگے صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ یہ عبارت ہمارے نزدیک حضرات انبیاء کرام کے ساتھ خاص ہے, اس عبارت سے شیعہ کے اس عقیدہ کا رد فرمایا جس میں وہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل بیت اطہار بھی معصوم ہیں جو تمام گناہوں کے ساتھ ساتھ انبیاء علیہم السلام کی طرح خطاء اجتہادی سے بھی محفوظ و مامون ہے جبکہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ارو یہ کھلا افترا اور مکابرہ ہے

کون کون معصوم ہیں ؟

عصمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جو کہ مخصوص جماعت اور اک خاص گروہ کے اندر اللہ رب العزت نے ودیعت فرمائی ہے اور یہ خالص اللہ ربّ العزت کی طرف سے وہبی شئ ہے، کسی کو اس کے کسب و ارادے سے یہ ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا جیساکہ بخاری شریف کے حاشیہ میں مرقوم ہے المعصوم من عصمه الله تعالى لا من عصمة نفسه
حدیث پاک میں ہے عن ابى سعيد الخدرى عن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم قال ما استخلف خليفة الا له بطانتان بطانة تأمره بالخير و تحضه عليه و بطانة تأمره بالشر و تحضه عليه و المعصوم من عصم الله بخاری شریف جلد ثانی باب المعصوم من عصم اللہ صفحہ 978
ترجمہ : ہر خلیفہ کے دو مشیر ہوتے ہیں ایک مشیر وہ جو انہیں خیر کا حکم دیتا ہے اور انہیں خیر کی طرف ابھار تا ہے اور ایک وہ جو انہیں شر کا حکم دیتا ہے اور اسے شر کی طرف ابھار تا ہے اور معصوم وہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ بچا لیا
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن مقدس جماعت اور پاک گروہ کو عصمت کا تمغہ عطا فرمایا ہے وہ انبیاء کرام اور ملٰئکہ مقربین کی مقدس جماعت ہیں جن کی عصمت پر دلیلیں، قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ بے شمار کتابوں میں مذکور و مسطور ہیں ۔اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے إذ إبتلىٰ ابراهيمَ ربُه بكلمٰت فأتمهن قال إنى جاعلك للناس إماما قال و من ذُرِّيَتى قال لا ينال عهدي الظالمينسورة البقرة ترجمہ:اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں، فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے، فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہونچتا۔ کنزالایمان
یہ آیت کریمہ عصمت انبیاء پر دال ہے اس آیت کے متعلق حضرت ملا احمد جیون اپنی مشہور زمانہ تفسیر، تفسیرات احمدیہ میں ارشاد فرماتے ہیں ان الامام ان كان على معناه المتعارف كان المراد بالظالم الكافر إذ هو الظالم المطلق و ان اريد به ذوالنبوة كان الظالم على معناه كما نقل ان ابراهيم عليه السلام انما سأل ان يكون بعض اولاده نبيا كما كان هو فأخبر ان الظالم لا يكون نبيا هكذا فى المدارك و اقول فعلى التقدير الاول يكون المراد بالظالم الكافر و هو لا يصلح لامامة المسلم على ما فى الزاهدى و على التقدير الثانى يكون الآية بحيث يستدل بها على ان الانبياء معصومون عن الذنب و الكذب إذ يفهم عصمتهم عن الظلم حينئذ كل ذنب ظلم لانه تجاوز عن الحق و تعد عليه
ترجمہ و تشریح : إنى جاعلك للناس اماما میں امام سے مراد اگر اس کا معنی متعارف یعنی امامت کبری ہے تو لا ينال عهدي الظالمين میں ظالم کا معنی کافر ہوگا کیوں کہ کافر مسلمانوں کا والی و امام نہیں ہو سکتا جیساکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا سورة النساء، اور اگر اس سے مراد نبوت ہے تو ظالم اپنے معنی متعارف پر ہوگا، جیساکہ منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی ہی طرح اپنی ذریت کے لئے نبوت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہونچتا یعنی کوئی ظالم نبی نہیں ہو سکتا، اسی طرح مدارک التنزیل میں بھی مرقوم ہے ۔
حضرت ملا احمد جیون فرماتے ہیں کہ، میں کہتا ہوں کہ پہلی تقدیر پر ظالم سے مراد کافر ہے اور وہ مسلمانوں کی امامت کی صلاحیت نہیں رکھتا، اسی طرح تفسیر زاہدی میں بھی ہے اور دوسری تقدیر پر آیت کریمہ عصمت انبیاء پر دلالت کرتی ہے، کہ انبیاء کرام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں کیوں کہ اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے وہ ظلم سے معصوم ہیں اور ہر چھوٹے بڑے گناہوں کو ظلم کہتے ہیں کیوں کہ ظلم حق سے تجاوز کرنے اور حد سے آگے بڑھنے کا نام ہے تو پتہ چلا کہ انبیاء علیہم السلام تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ۔
منع الروض الازھر میں ہے الانبياء عليهم الصلاة و السلام كلهم منزهون أى معصومون :صفحہ 56 ۔ ترجمہ، تمام انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں
شرح النووی میں ہے ذهب جماعة من اهل التحقيق و النظر من الفقهاء و المتكلمين من أئمتنا الى عصمتهم من الصغائر كعصمتهم من الكبائر :جلد 1 صفحہ 108
شرح العقائد میں ہے
ان الانبياء معصومون عن الكذب خصوصاً فيما يتعلق بأمر الشرائع و تبليغ الاحكام و ارشاد الأمة أما عمدا فبالاجماع و أما سهوا فعندالاكثرين و فى عصمتهم عن سائر الذنوب تفصيل و هو انهم معصومون عن الكفر قبل الوحى و بعده بالاجماع و كذا عن تعمد الكبائر عندالجمهور ": صفحه 140
ترجمہ ، انبیاء کرام علیہم السلام بالاجماع عمدا کذب سے معصوم ہیں خاص کر امر شرائع تبلیغ احکام اور ارشاد امت کے معاملے میں اور اکثر محققین کے نزدیک سہوا کذب سے بھی معصوم ہیں ارو تمام گناہوں سے عصمت کے تعلق سے تفصیل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام بالاجماع قبل نبوت و بعد دونوں حالتوں میں کفر سے معصوم ہوتے ہیں یونہی عند الجمہور کبائر کا معاملہ بھی ہے
امام الامہ کاشف الغمہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب، الفقہ الاکبر میں رقم طراز ہیںالانبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزهون عن الصغائر و الكبائر و الكفر و القبائح ارو آگے حضور کے بارے میں لکھتے ہیں و محمد عليه الصلاة والسلام حبيبه و عبده و رسوله و نبيه و صفيه و نقيه و لم يعبد الصنم لم يشرك بالله طرفة عين قط و لم يرتكب صغيرة و لا كبيرة
امام اعظم فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام گناہ صغائر و کبائر ، کفر و قبیح چیزوں سے پاک ہیں ،اور آقا علیہ السلام کے بارے فرماتے ہیں کہ کبھی آپ نے شرک باللہ نہیں کئےاور نہ ہی کھبی گناہ صغائر و کبائر کا ارتکاب کئے
اسى عبارت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ملا علی قاری شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں أى لا قبل النبوة و لا بعدها فإن الانبياء عليهم الصلاة والسلام معصومون عن الكفر مطلقا بالاجماع
اور علامہ ملا علی قاری اپنی دوسری کتاب منع الروض الازھر میں رقم طراز ہیں الانبياء منزهون عن الصغائر و الكبائر یعنی انبیاء کرام علیہم السلام تمام گناہ صغائر و کبائر سے معصوم ہیں ۔
مذکورہ بالا تمام عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں یونہی انبیاء علیہم السلام کی طرح فرشتے کی مقدس جماعت بھی معصوم ہیں جن کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرونسورة التحريم ۔ترجمہ:جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں
یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر سکتے کیوں کہ اللہ رب العزت نے ان کے اندر عصمت اور اطاعت کو ودیعت فرما دی ہے
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے لا يسبقونه بالقول و هم بأمره يعملون سورة الانبياء ۔ ترجمہ : بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم کے کاربند ہوتے ہیں : کنزالایمان یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی ہو بہو تعمیل کرتے ہیں اس میں کسی طرح کی کوتاہی کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ۔
شرح العقائد میں ہےالملائکة عباد الله تعالى العاملون بأمره اس عبارت کی شرح کر تے ہوئے علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اپنی کتاب نبراس میں تحریر فرماتے ہیںيريد انهم معصومون و قد اختلف فى عصمتهم فالمختار انهم معصومون عن كل معصية و قال القاضى الصواب عصمة جميعهم
حدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ میں ہے(ان الملائكةالذين هم عباد مكرمون لا يسبقونه بالقول و هم بأمره يعملون ) لا يعملون قط ما لم يأمرهم به قاله البيضاوى (لا يوصفون)أى الملائكة عليهم السلام (بمعصية) صغيرة ولا كبيرة لانهم كالأنبياء معصومون)
یہاں تک تمام عبارات پر غور کر نے سے پتہ چلا کہ انبیاء کرام علیھم السلام اور فرشتوں کی مقدس جماعت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے معصوم بنایا ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں مقدس جماعت کے علاوہ اور کوئی ہے جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عصمت کا تمغہ عطا فرمایا ؟ کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ؟ آئیے دیکھتے انبیاء اور فرشتوں کے علاوے کو معصوم کہنے والوں کا کیا حکم ہے ؟
تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتوں کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہیں اللہ نے صرف انہیں ہی صفت معصومیت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ان حضرات کے علاوہ کسی جماعت یا طبقہ کو یہ تمغہ نہیں عطا کیا گیا، جیساکہ علامہ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب فتح الباری شرح البخاری میں لکھتے ہیں ان غير النبي و لو بلغ من الفضل الغاية ليس بمعصوم : جلد 7 صفحہ 31
ترجمہ ، کہ غیر انبیاء اگرچہ فضل و کمال میں انتہا کو پہنچ جائے لیکن وہ معصوم نہیں ہو سکتا ۔
تاج الفحول سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول بدایونی المعتقد المنتقد میں تحریر فرماتے ہیں فمنه العصمة، و هى من خصائص النبوة على مذهب اهل الحق
فتاویٰ رضویہ میں ہےاجماع اہل سنت ہے کہ بشر میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں جو دوسرے کو معصوم مانے اہل سنت سے خارج ہے :جلد صفحہ 188
علامہ امجد علی اعظمی اپنی مشہور زمانہ کتاب بہار شریعت میں لکھتے ہیں کہ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور ملک کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں
صدر الافاضل استاد العلماء علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی کتاب العقائد میں لکھتے ہیں انبیاء اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا اور اولیاء کرام کو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہوں سے بچا تا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں : صفحہ 21

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ؟

تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اہل بیت اطہار معصوم نہیں ہیں کیوں کہ انبیاء اور ملائکہ علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں ہیں اور اسی پر اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے جس پر متعدد دلیلیں اوپر ذکر کی جا چکیں بر خلاف اہل تشیع کے کہ ان کے نزدیک اہل بیت اطہار کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ اولاد جو منصب امامت پر فائز تھے معصوم ہیں، شیعان زمانہ جھوٹی محبت اہل بیت کے آڑ میں بے شمار عقائد فاسدہ و باطلہ اہل سنت و جماعت کے خلاف گڑھ کر بھولے بھالے مسلمانوں کو ورغلانے کی نا کام کوششیں کر رہے ہیں، راہ راست سے ہٹانے میں سعی پیہم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں آگاہ ہو جاؤ مسلمانوں ایسے رہزنوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کرو جو معاشرے میں اپنے گمراہ کن عقائد کے جال میں پھنسا کر پل بھر میں ثروت ایمان اچک لے جاتے ہیں ، ان کے گمراہ کن عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ اہل بیت اطہار معصوم ہیں
جیساکہ شیعہ امامیہ کے بڑے عالم سید محمد رضا مظفر اپنی کتاب عقائد الامامیہ میں لکھتا ہے ونعتقد أن الإمام كالنبى يجب أن يكون معصوما من جميع الرذائل والفواحش ما ظهر منها وما بطن من الطفولة إلى الموت عمدًا وسهوًا. كما يجب أن يكون معصوما من السهو والخطأ والنسيان لأن الأئمة حفظة الشرع والقوامون عليه حالهم في ذلك حال النبي ..
ترجمہ ، اور ہمارا اعتقاد ہے کہ امام کا تمام بری باتوں،فحش کاموں سے ظاہری اور باطنی طور پر سن طفولیت سے تا دم حیات عمدا اور سہوا معصوم ہونا واجب ہے جیسے ان کا سہو، خطاء، اور نسیان سے معصوم ہونا واجب و ضروری ہے کیوں کہ وہ شریعت کے محافظ اور دین کے ستون ہیں تو ان کا معاملہ اس صورت میں انبیاء علیہم السلام کی طرح ہو گیا ‌۔
امام کی معصومیت پر مزید بطور دلیل یہ آیت لا ينال عهدي الظالمين پیش کر تے ہیں، اور اس سے تمسک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت میں امام اور ظالم دونوں ہی اپنے معنی متعارف پر ہے اور ظلم ہر چھوٹے بڑے گناہ اور تجاوز عن الحق کا نام ہے تو پتہ چلا کہ جو منصب امامت پر فائز ہوگا وہ ان تمام گناہوں سے معصوم ہو گا ۔
جبکہ یہ عقائد اہل سنت و جماعت اور اجماع کے مخالف و متضاد ہے شرح العقائد میں ہے لا يشترط فى الامام أن يكون معصوما لما مر من الدليل على إمامة ابى بكر مع عدم القطع بعصمته تفسیرات احمدیہ میں ہے لا يشترط فى الامام ان يكون معصوما لعدم قطعية عصمة ابى بكر مع اجماع حقية خلافتهصفحہ 32
ان عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ امام کے لئے معصوم ہونا شرط نہیں ہیں کیوں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت و خلافت اجماع سے ثابت اور ان کا معصوم نہ ہونا بھی قطعی طور پر ثابت ہے تو پتہ چلا کہ امام کے عصمت شرط نہیں ہے ۔
اہل تشیع عصمت اہل بیت پر دلیل کے طور یہ آیت انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرا پیش کرتے ہیں اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ آیت کریمہ اہل بیت کے حق میں نازل ہوئی ہے مزید یہ کہتے ہیں اہل بیت میں حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ فاطمتہ الزہرہ اور حضرات حسنین کریمین داخل ہیں اور ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہیں ہیں اور یہ دو حدیث پاک پیش کرتے ہیں عن عمر بن ابي سلمة قال نزلت هذه الآية على النبى صلى الله عليه وسلم انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت فى بيت ان سلمة فدعا فاطمة و عليا و حسنا و حسينا فجعللهم بكساء و على خلف ظهره ثم قال اللهم هؤلاء اهل بيتى فاذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرا قالت ام سلمة و أنا معهم يا رسول الله قال انت على مكانك و انت على الخير
دوسری حدیثعن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نزلت هذه الآية فى خمس:فيَّ و في علي و فاطمة وحسن و حسين انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرا
تو اہل تشیع دعویٰ کرتے ہیں کہ اہل بیت میں یہ چار نفوس حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدہ فاطمتہ الزہرا اور حسنین کریمین شامل ہیں اور ازواج مطہرات اس سے خارج ہیں اس پر دلیل دیتے ہوئے مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کو پیش کرتے ہیں جبکہ ان دونوں حدیثوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ازواج مطہرات اہل بیت سے خارج ہیں تفصیل آگے آ رہی ہے ، اور ان حضرات کی عصمت پر مذکورہ آیت کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے ان سے رجس و خطاء کو اٹھا لیا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرات معصوم ہیں
اور یہ اجماع اہل سنت کے خلاف ہے ان کا رد اس طور پر کیا جائے گا کہ اولا ان کا یہ کہنا کہ یہ آیت کریمہ، مذکورہ مخصوص حضرات کے حق میں نازل ہوئی یہ تسلیم ہی نہیں ہے کیوں حضرت ابن عباس سے صحیح روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت کریمہ ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی اور مختار یہ ہے کہ ان حضرات کے ساتھ اور لوگ بھی شامل ہیں یا یہ کہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جس پر صدقات حرام ہے،اور حضرت زید ابن ارقم کا بھی یہی موقف ہے،
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں من شاء باهلته انها نزلت فى ازواج النبى صلى الله عليه وسلم ترجمہ : جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے اس بارے میں کہ یہ آیت ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔
اور شیعہ حضرات جس حديث مذکورہ سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہیں ہے اس كا جواب دیتے ہوئے صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں فليس فيه دلالة على عدم دخولهن بل معنى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم انت على مكانك الخ: الزمى مكانك فإنك على خير و من اهل البيت و داخلة فى منطوق الآية لكونها مسوقة لهن و انما ادعوا لمن تثبت مسوقة لهم
یعنی مذکورہ حدیث پاک ازواج مطہرات کے اہل بیت میں عدم دخول پر کوئی دلالت نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول انت على مكانك و انت على الخيرکا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی جگہ کو لازم پکڑو بیشک تم خیر پر ہو اور تم اہل بیت سے ہو اور آیت کریمہ کے منطوق میں داخل ہو اسی لئے کہ آیت کریمہ انہیں ازواج مطہرات کے لئے نازل ہوئی تھی اور میں انہیں بلا رہا ہوں کہ ان کا اہل بیت سے ہونا سیاق سے ثابت ہو جاۓ
دوسری حدیث پاک کا جواب دیتے ہوئے صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں فمعناه انها نزلت في مع من معى من الازواج و اربعة آخرين لا يسكنون فى البيت لئلا يلزم المكابرة و لا يعارضه ما قال عكرمة
فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ، میرے اور میرے ساتھ جو میری بیویاں رہتی ہیں اور چار لوگ دوسرے جو میرے گھر میں نہیں رہتے ہیں ان تمام کے حق میں نازل ہوئی، اور یہ معنی حضرت عکرمہ کے قول کے موافق بھی ہے جو ابھی اوپر ذکر کیا گیا ۔اور رہا ان کا آیت کریمہ سے مذکور مخصوص حضرات کی عصمت پر استدلال کرنا تو ان سے کہا جائے گا کہ حضرت ابن عباس، زید ابن ارقم اور عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی باتوں سے یہ بات صاف واضح ہے کہ اس آیت کے منطوق میں ان حضرات کے علاوہ اور لوگ بھی ہیں اور اس آیت سے ہی عصمت ثابت کر رہے ہیں تو مناسب یہ ہونا چاہیۓ کہ جتنے لوگ آیت کے منطوق میں داخل ہیں سب کے سب معصوم ہوتے جبکہ یہ ان کے مذہب کے بھی خلاف ہے یہ شیعوں کی کیسی دوگلی پالیسی ہے
صاحب فواتح الرحموت ان کے اس استدلال پر جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں لا يلزم منه العصمة عن الذنوب أيضا بل الذى يلزم المغفرة و محو الذنوب فإن اذهاب الذنوب يقتضى وجوده أولا فلا يلزم العصمة ترجمہ : اس سے عصمت عن الذنوب بھی لازم نہیں آتا ہے بلکہ اس سے مغفرت اور محو ذنوب لازم آتا ہے اسی لئے کہ گناہوں کو معاف کر نا اور خطاؤں کو لے جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے پہلے گناہ کا وجود ہو تو اس سے عصمت لازم نہیں آیا اور معنی عصمت کے مخالف ہے ۔
بلکہ عصمت کا مطلب ہے کہ گناہوں پر قدرت ہوتے ہوئے سرے سے گناہ کا وجود نہ ہونا جیساکہ شرح العقائد میں ہے حقيقة العصمة أن لا يخلق الله تعالى فى العبد الذنب مع بقاء قدرته:152 صفحہ
اور فتاویٰ مہریہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب فرما تے ہیں آیت تطہیر کا مورد خواہ امہات المومنین ہوں فقط یا مع اَل کساء ہوں یا صرف آل کساء ہوں ایساہی تطہیر در رنگ انزال شرعیہ ہوں یا در صورت عفو م مغفرت ہوں بہت کیف خطاء کا صدور مطہرین سے ممکن ہے ۔
تصفیہ مابین سنی و شیعہ میں فرماتے ہیں کہ آیت تطہیر کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور ان سے کسی قسم کی خطاء کا سرزد ہونا ناممکن ہے اس کا مطلب یہ ہے اگر بمقتضاۓ بشریت ان سے کوئی خطاء سرزد بھی ہو تو عفو و تطہیر الٰہی میں داخل ہوگی : صفحہ 46

اہل بیت اطہار کے معصوم نہ ہونے پر دلائل

صاحب فواتح الرحموت فرماتے ہیں و اهل البيت كسائر المجتهدين يجوز عليهم الخطاء فى اجتهادهم و هم يصيبون و يخطئون و كذا عليهم الزلة و هي وقوعهم فى أمر غير مناسب لمرتبتهم من غير تعمد
یعنی اہل بیت اطہار بھی باقی اور مجتہدین کی طرح ہیں کہ کبھی وہ اپنے اجتہاد میں صواب کو پہونچتے ہیں اور کبھی خطاء پر ہوتے ہیں اور رہی بات معصوم کی تو ان سے خطاء اجتہادی بھی صادر نہیں ہوتا جس پر دلیل بیان کر دی گئی ہے ۔
اور اہل بیت اطہار سے کئی جگہوں میں خطاء اجتہادی کا صدور ہوا ہے جیساکہ سیدۃ النساء سیدہ فاطمتہ الزہرا سے باغ فدک کے مسئلہ میں ہوا اور بھی بہت سارے مسئلوں میں اہل بیت سے صحابہ کرام نے اختلاف کئے ہیں مگر کسی نے اس پر نہ روکا اور نہ ہی اس کو عیب سمجھا اور نہ ہی کسی نے اہل بیت سے مسئلہ میں اختلاف کر نے کو خطاء تصور کیا جیساکہ حاملہ متوفیٰ عنہا زوجھا کی عدت کے سلسلے میں حضرت ابن مسعود نے مولاۓ کائنات کے خلاف فتویٰ دیا اور حضرت عبیدہ نے بیع امہات الولد کے مسئلہ میں مولاۓ کائنات کے خلاف فتویٰ دیا اور مولاۓ نے اس بات نا پسند نہیں فرمایا اور نہ ہی کسی اس بات کو غلط قرار دیا تو ان باتوں سے واضح ہوگیا کہ اہل بیت اطہار سے بھی خطاء اجتہادی کا صدور ہوا ہے اور جن سے خطاء اجتہادی کا صدور ہو وہ معصوم نہیں ہو سکتے ۔
صاحب فواتح الرحموت اس پر دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے یہ آیت فإن تنازعتم في شىئ فردوه الى الله و الرسولنقل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں و اهل البيت أيضا داخلون فى الخطاب ففرض عليهم حين التنازع إزاحته بالرد على الكتاب و السنة و لم يعب على منازع اهل البيت فى الاحكام بشىئ یعنی جب تم کسی معاملے میں اختلاف کرلو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیرو مطلب کتاب و سنت سے اس کا حل تلاش کرو تو مصنف صاحب کہتے ہیں کہ اس خطاب میں اہل بیت بھی شامل ہیں اور ان پر بھی ضروری ہے کہ جب ان کا کسی معاملے میں تنازع ہو جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس معاملے کے حل کے لئے لوٹے اور اہل بیت سے کسی حکم میں تنازع کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔
تو جب انہیں بھی تنازع کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹنے کا حکم ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ اہل بیت معصوم نہیں ہیں کیوں کہ اگر معصوم ہوتے تو انہیں معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا نے کا حکم نہیں ہوتا کیوں کہ معصوم کی بات خود ہی قطعی اور واجب العمل ہوتی ہے یونہی اہل بیت اگر معصوم ہوتے تو ان پھر ان سے اختلاف رائے کی اجازت بھی نہیں ہوتی جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔
ان تمام عبارات سے واضح ہوگیا کہ اہل بیت اطہار معصوم نہیں ہیں اور غیر معصوم کو معصوم کہنا گمرہی بد دینی ہے، کھلا افترا جھوٹ اور کذب ہے اہل سنت سے خروج کا سبب ہے جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے بشر میں انبیاء کے سوا کوئی معصوم نہیں ہیں اور جو غیر معصوم کو معصوم کہے اہل سنت سے خارج ہے
بہار شریعت میں ہے نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔
اور العواصم من القواصم الاوقاف السعودیہ میں امام ابن العربی فرماتے ہیں نحن المسلمين لا نعتقد العصمة لأحد بعد رسول الله ﷺ، وكل من ادعى العصمة لأحد بعد رسول الله ﷺ فهو كاذب."صفحہ 3
ترجمہ ، ہم مسلمان ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے ہیں اور ہر وہ شخص جو حضور کے بعد کسی کی عصمت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ شیعہ جیسے ایمان کے لٹیروں سے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں موقف اہل سنت کو جانے علماء اہل سے استفادہ کریں اور انبیاء کرام رسولان عظام ملائکہ علیہم السلام اور اہل بیت اطہار و غیرھم کے مقام مرتبہ کو پہچانیں اور ہر ایک سے سچی محبت کریں کسی کی جھوٹی محبت میں اس قدر حد سے تجاوز نہ کریں کہ گمرہی و بد دینی کا طوق گلے پڑ جائے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمارے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور اہل سنت پر استقامت عطا فرمائے حب اہل بیت اور حب کل اصحاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں راسخ فرمائے بغض اہل بیت اور بغض صحابہ کرام سے بچاۓ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
خامہ فرسائی۔ ابن التوحید محمد نور نواز ناشد
المتخصص فی الفقہ۔ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر۔ 9341323861۔ 9973594560
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

Student - Takhassus 2nd | Jamiatur Raza
9
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 3
Kalam 0
Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi
زمرہ جات

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢