صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات
اسلامیات

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات
انسان اس دنیا میں آتا ہے، کچھ دن یہاں رہتا ہے، زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، خوشیاں دیکھتا ہے، غم سہتا ہے، کامیابیاں حاصل کرتا ہے، ناکامیاں برداشت کرتا ہے، لوگوں سے تعلق بناتا ہے، کچھ کو اپنا سمجھتا ہے اور کچھ کو کھو دیتا ہے، پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
لیکن کچھ سوال ایسے ہیں جو پوری زندگی اس کے ساتھ رہتے ہیں:
میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ میں کیوں پیدا کیا گیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میری موت کے بعد کیا ہوگا؟
ان سوالوں کا صحیح جواب انسان کو صرف فلسفہ نہیں دیتا، صرف سائنس نہیں دیتی، صرف دنیا کا تجربہ نہیں دیتا، بلکہ ان سب کے خالق کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت دیتی ہے۔
وہ ہدایت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا ایک رب ہے۔ وہی ہمارا خالق ہے، وہی مالک ہے، وہی رازق ہے، وہی زندگی دینے والا اور موت دینے والا ہے، وہی مصیبت دور کرنے والا ہے، وہی حقیقی مددگار ہے، وہی عبادت کے لائق ہے۔
اسی یقین کا نام ایمان باللہ ہے۔
ایمان باللہ محض زبان سے یہ کہہ دینا نہیں کہ اللہ موجود ہے۔ یہ تو ایک ابتدائی بات ہے۔ ایمان باللہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، مالک، معبود، رازق، حاکم اور حقیقی کارساز مانے، اس کی ذات و صفات پر یقین رکھے، اس کے احکام کے سامنے سر جھکائے، اس سے محبت کرے، اس سے ڈرے، اسی سے امید رکھے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ قرآن کریم نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان کیا:
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـٴُـوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (البقرۃ: 255)
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔

معرفت الہی ہی اصل مقصد حیات ہے

دنیا میں ہم بہت سی چیزوں کو جانتے ہیں۔ ہم اپنے والدین کو جانتے ہیں، دوستوں کو جانتے ہیں، اپنے استاد کو جانتے ہیں، اپنے شہر کو جانتے ہیں، اپنے پیشے کو جانتے ہیں، اپنے جسم کو جانتے ہیں، دنیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ لیکن اگر انسان نے اپنے رب کو نہ پہچانا تو اس کی بہت سی معلومات کے باوجود وہ ناقص رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ (محمد: 19)
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔
غور کیجیے! قرآن نے یہاں جاننے یعنی اس کی معرفت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ جسے انسان صحیح طور پر پہچان لیتا ہے، اس کے ساتھ اس کا تعلق بھی درست ہونے لگتا ہے۔ اللہ کو صرف اتنا جان لینا کہ وہ موجود ہے، کافی نہیں۔ کہ اگر یہ کافی ہوتا تو بڑے بڑے فلاسفہ کفر و ضلالت کی وادیوں میں نہ بھٹکتے۔ بلکہ اس کی عظمت کو پہچاننا، اس کی قدرت کو سمجھنا، اس کی نعمتوں کو محسوس کرنا، اس کے سامنے اپنی بے بسی کو ماننا، اس کی رحمت سے امید رکھنا، اس کے عذاب سے ڈرنا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا معرفتِ الٰہی کے آثار ہیں اور اس زندگی کا اصل مقصد اسی معرفت الہی کا حصول ہے۔

کائنات معرفتِ الٰہی کی ایک کھلی کتاب ہے

اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے وجود پر غور کرے۔ یہ آنکھیں کس نے دیں؟ یہ دل کس نے بنایا؟ یہ سانس کس کے حکم سے چل رہی ہے؟ جب ہم سوتے ہیں تو کون ہماری حفاظت کرتا ہے؟ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو شفا کس کے اختیار میں ہے؟ زمین میں بیج ڈالنے کے بعد اس میں زندگی کون پیدا کرتا ہے؟ بادل کون بناتا ہے؟ بارش کون برساتا ہے؟ دن اور رات کا یہ نظام کس کے حکم سے قائم ہے؟ قرآن کریم بار بار انسان کو کائنات میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ۔ (آل عمران: 190)
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
اور فرمایا:
وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (الذاریات: 21)
اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔
یعنی اللہ کی قدرت کی نشانیاں صرف آسمانوں میں نہیں، فقط زمین میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے وجود میں بھی موجود ہیں۔ انسان ذرا غور کرے تو اس کا اپنا وجود اسے اپنے خالق کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ کون ہے؟

قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کا تعارف نہایت جامع انداز میں سورۂ اخلاص میں فرمایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (1) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (2) لَمْ یَلِدْ، وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (3) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (4)
تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہمیں کھانے کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں نیند کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں آرام کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے، وہ سب کا مددگار ہے۔ ہم پیدا ہوئے ہیں، وہ ازلی و ابدی ہے۔ ہم فنا ہونے والے ہیں، وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے:
كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ (القصص: 88)
ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے۔

اللہ صرف خالق نہیں، رب اور معبود بھی ہے

بہت سے لوگ اللہ کو خالق تو مانتے ہیں، لیکن اللہ کی ربوبیت کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں پوری طرح قبول نہیں کرتے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُۚ (العنکبوت: 61)
اور اگر تم اُن سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرورکہیں گے الله نے۔
لیکن قرآن ہمیں صرف خالق ماننے پر نہیں چھوڑتا۔ وہ کہتا ہے کہ جب وہ خالق ہے تو رب بھی وہی ہے، عبادت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ (البقرۃ: 21)
اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
یہاں ایک بہت اہم بات اور سمجھنے کی ہے کہ جس نے پیدا کیا، حکم اسی کا مانا جائے گا۔ جس نے زندگی دی، اسی کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزاری جائے گی۔ جس نے نعمتیں دیں، اسی کا شکر ادا کیا جائے گا۔ جس کے پاس آخرکار لوٹ کر جانا ہے، اسی کے لیے زندگی میں تیاری کی جائے گی۔

ایمان باللہ کا پہلا اثر: دل کو سہارا ملتا ہے

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حالات سے بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ کاروبار میں نقصان ہوا، پریشان۔ امتحان میں ناکامی ہوئی، پریشان۔ کسی نے برا کہہ دیا، پریشان۔ کسی عزیز نے ساتھ چھوڑ دیا، پریشان۔ بیماری آگئی، پریشان۔ مستقبل کی فکر ہوئی، پریشان۔ لیکن جس دل میں یہ یقین زندہ ہو کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے، وہاں حالات کی سختی کے باوجود ایک اندرونی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: 28)
سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
ظاہری عیش و آرام دنیوی چیزوں سے مل سکتا ہے، لیکن دل کا سکون اللہ سے تعلق کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے کبھی انسان کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، مگر دل بے چین رہتا ہے اور کبھی ظاہری وسائل کم ہوتے ہیں، آدمی فاقہ کشی میں مبتلا ہوتا ہے، مگر دل مطمئن ہوتا ہے۔ اصل فرق حالات کا نہیں، تعلق کا ہوتا ہے۔

ایمان باللہ انسان کو تنہائی میں بھی سنبھالتا ہے

لوگ ہمارے ظاہر کو دیکھتے ہیں، اللہ ظاہر و باطن سب کچھ دیکھتا ہے۔ لوگ ہمارے الفاظ سنتے ہیں، اللہ ہمارے دل کی کیفیت کو بھی جانتا ہے۔ لوگ ہمارے ساتھ چند لمحے رہتے ہیں، اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (الحدید: 4)
اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
یہ آیت جہاں انسان کو ایک نگراں و محافظ کا تصور دیتی ہے وہیں قلبی اطمینان و سکون کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ تنہائی میں گناہ کرنے والا اگر حقیقتاً ایمان رکھتا ہے تو اسے یاد رہتا ہے: کوئی انسان مجھے نہیں دیکھ رہا، لیکن میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ اور جب انسان مصیبت میں اکیلا رہ جاتا ہے تو اسے یاد رہتا ہے: لوگ میرے ساتھ ہوں، نہ ہوں، میرا رب میرے ساتھ ہے۔ یہی ایمان انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

ایمان باللہ گناہوں سے بچنے کی طاقت دیتا ہے

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گناہ سے بچنے کے لیے صرف سخت قانون کافی ہے۔ قانون ضروری ہے، لیکن انسان ہر وقت قانون کی گرفت میں نہیں ہوتا۔ ایک شخص تنہائی میں ہے۔ اس کے سامنے گناہ کا موقع ہے۔ نہ کوئی انسان اسے دیکھ رہا ہے، نہ کوئی روکنے والا ہے۔ وہاں اسے کیا چیز روک سکتی ہے؟ کیا کوئی قانون اس گناہ کو انجام دینے سے مانع ہو سکتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! ایسے حال میں اگر کوئی چیز اسے روک سکتی ہے تو وہ ہے: اللہ کا خوف اور اللہ کی معرفت۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے گناہ کا موقع آیا، دروازے بند تھے، ظاہری طور پر کوئی رکاوٹ نہ تھی، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-
اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کردئیے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں۔
لیکن انہوں نے فرمایا:
مَعَاذَ اللّٰهِ
اللہ کی پناہ۔
(یوسف: 23)

ایمان باللہ انسان کو ریاکاری سے بچاتا ہے

ہم لوگوں کے سامنے بہت کچھ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اچھا نظر آنا چاہتے ہیں۔ لوگ ہمیں نیک سمجھیں، یہ چاہتے ہیں۔ ہماری تعریف ہو، یہ پسند کرتے ہیں۔ لیکن جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اصل فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں، اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ آہستہ آہستہ لوگوں کی نظر سے زیادہ اللہ کی نظر کی فکر کرنے لگتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنما الأعمال بالنيات
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
یعنی اللہ کے نزدیک صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انسان نے کیا کیا۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کیوں کیا۔ اسی لیے ایمان باللہ اخلاص پیدا کرتا ہے۔ انسان اپنے دل سے پوچھتا ہے: میں یہ کام اللہ کے لیے کر رہا ہوں یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟ اور اس طرح وہ ریا سے بچنے کا سامان کرنے لگتا ہے۔

ایمان باللہ انسان کو تکبر سے بچاتا ہے

کبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ مال آیا تو غرور۔ علم آیا تو غرور۔ خوبصورتی آئی تو غرور۔ عہدہ ملا تو غرور۔ لوگوں نے تعریف کردی تو غرور۔ لیکن اگر انسان اپنے رب کو پہچان لے تو اسے اپنی حقیقت یاد رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں کل کچھ نہیں تھا۔ قرآن کہتا ہے:
هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْــٴًـا مَّذْكُوْرًا (الدھر: 1)
بے شک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں ا س کا نام بھی نہ تھا۔
آج جس حسن پر انسان کو اتنا ناز ہے، کچھ دن بعد نہ رہے گا۔آج جس مال پر غرور ہے، کل وہ کسی اور کے پاس ہوگا۔ آج جس عہدے پر فخر ہے، کل اس کا نام بھی باقی نہیں رہے گا۔اور آخرکار انسان کو قبر میں اترنا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
(صحیح مسلم ۲۶۵)
ایمان باللہ انسان کو اس کی اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے اور یہی حقیقت اسے عاجزی سکھاتی ہے۔

ایمان باللہ انسان کو رزق کے معاملے میں مطمئن کرتا ہے

رزق کی فکر آج انسان کی بڑی پریشانیوں میں سے ایک ہے۔
نوکری ملے گی یا نہیں؟ کاروبار چلے گا یا نہیں؟ آمدنی بڑھے گی یا نہیں؟ مستقبل کیسے سنورے گا؟ یہ فکریں اپنی جگہ ہیں، لیکن ایمان انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا اصل مالک اللہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (ھود: 6)
اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ اسلام محنت سے نہیں روکتا، بلکہ حلال محنت کا حکم دیتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مسلمان کوشش کو اپنا فرض سمجھتا ہے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کرتا ہے۔ یہی توکل ہے۔ یہ ایمان باللہ کا ثمر ہے۔ اسی میں خیر دارین ہے۔

ایمان باللہ مصیبت میں انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے

دنیا میں آزمائش ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمایا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ (البلد: 4)
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔
لہٰذا جو شخص یہ سمجھ کر زندگی گزارے گا کہ مجھے کبھی کوئی پریشانی نہیں آنی چاہیے، وہ ہر آزمائش پر حیران اور شکست خوردہ ہوگا۔ لیکن مؤمن جانتا ہے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (البقرۃ: 155)
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔
پھر فرمایا:
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَﭤ (البقرۃ: 156)
کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
یہ صرف تعزیت کے موقع پر پڑھنے والا جملہ نہیں۔ یہ زندگی کا نظریہ ہے: میں اللہ کا ہوں۔ میری جان اللہ کی ہے۔ میرا مال اللہ کا دیا ہوا ہے۔ میری صحت اللہ کی عطا ہے۔ میرے عزیز بھی اللہ کی عطا ہیں۔ اگر اللہ کسی چیز کو واپس لے لے تو میں شکوہ کرنے کے بجائے اس کے فیصلے پر صبر کروں گا۔ اور جو ایسا کرے گا یقینا وہ اللہ کی رحمت سے وافر حصہ بٹور لے گا۔

ایمان باللہ امید پیدا کرتا ہے

دنیا میں کبھی کبھی انسان خود کو بالکل بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب راستے بند ہوگئے۔ لیکن ایمان کہتا ہے: اللہ کی طرف جانے والے راستے کبھی بند نہیں ہوتے۔ قرآن فرماتا ہے:
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر: 53)
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ آیت گناہ گاروں کے لیے امید کا چراغ ہے۔ کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوئے ہوں، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ کی ہوں، اللہ کی رحمت وسیع ہے۔ کتنا ہی انسان دور کیوں نہ چلا گیا ہو، واپس آنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ (صحیح مسلم:6975)
اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے (رحمتیں) قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں۔
ایمان باللہ انسان کو گناہوں پر ڈھیٹ نہیں بناتا، بلکہ اسے امید دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اگر کوئی صدق دلی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں رجوع کرے، توبہ و استغفار بجا لائے، تو اللہ تبارک و تعالی اسے اپنی بارگاہ سے دھتکارتا نہیں، بلکہ اپنی طرف راہ دیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اور بے شک وہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

ایمان باللہ موت کا خوف کم کرتا ہے

موت سے ہر انسان ڈرتا ہے۔ لیکن مؤمن کے لیے موت صرف خاتمہ نہیں، بلکہ ایک دوسرے جہاں کی طرف منتقلی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ (آل عمران: 185)
ہر جان کو موت چکھنی ہے
اور پھر اسی آیت میں فرمایا:
وَ  اِنَّمَا  تُوَفَّوْنَ  اُجُوْرَكُمْ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ
اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے۔
یعنی موت کے بعد حساب ہے۔ اسی لیے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ موت کو بھولتا نہیں، بلکہ اس کے لیے تیاری کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ میں نے دنیا میں کتنی دولت جمع کی، کتنے لوگ مجھے جانتے تھے، کتنی شہرت ملی، کتنے عہدے حاصل کیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ میں اپنے رب کے سامنے کس حال میں پہنچا۔

ایمان باللہ محبتِ الٰہی پیدا کرتا ہے

ایمان صرف خوف کا نام نہیں۔ اللہ سے ڈرنا ضروری ہے، لیکن اللہ سے محبت کرنا بھی ایک ضروری امر ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ (البقرۃ: 165)
اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔
جس نے اللہ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی رحمت کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی بخشش کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی عطا کردہ زندگی کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ اور جب معاملہ ایسا ہو جائے تو پھر عبادت بوجھ نہیں رہتی، بلکہ بندہ اسے اپنے رب کی ملاقات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اپنے خالق و مالک سے تعلق کا سبب تصور کرتا ہے۔ قرآن اسی تعلق کو یوں بیان کرتا ہے:
وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ (آل عمران: 134)
اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ جس رب سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر ہم اس کے محبوب بن جائیں تو کیا عجب شان ہو۔

اللہ کی معرفت عبادت کو زندہ کردیتی ہے

بسا اوقات انسان نماز پڑھتا ہے، لیکن دل حاضر نہیں ہوتا۔ قرآن پڑھتا ہے، لیکن دل پر اثر نہیں ہوتا۔ ذکر کرتا ہے، لیکن زبان چلتی ہے اور دل غافل رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم عبادت کو اللہ سے تعلق کے بجائے صرف ایک معمول سمجھ لیتے ہیں۔ اگر نماز پڑھتے وقت دل میں یہ احساس ہو کہ میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوں۔ اگر قرآن پڑھتے وقت یہ احساس ہو کہ میرے رب کا کلام میرے سامنے ہے۔ اگر دعا کرتے وقت یہ احساس ہو کہ میں اس ذات سے مانگ رہا ہوں جو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو عبادت کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
(صحیح بخاری 50)
یہی احسان ہے، اور یہی معرفت الہی کا بلند ترین اثر ہے۔

ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں

یہ بات بہت اہم ہے کہ ایمان کو صرف ایک زبانی دعویٰ نہ سمجھا جائے۔ کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں، لیکن حلال و حرام کی پروا نہ کرے، نماز کو معمولی سمجھے، ظلم کرے، لوگوں کے حقوق مارے، حرام کمائے اور گناہ پر اصرار کرے، تو اسے اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ایمان کے تقاضے زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ۔ (الانفال: 2)
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔
یہ آیت ہمیں ایمان کی ایک زندہ تصویر دکھاتی ہے۔ ایمان دل میں ہوتا ہے، لیکن اس کے آثار کردار میں ظاہر ہوتے ہیں۔

ایمان کا سب سے خوب صورت اثر: انسان بدل جاتا ہے

اگر ایمان صحیح معنی میں دل میں اتر جائے تو انسان وہی نہیں رہتا جو پہلے تھا۔ اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اس کی زبان بدل جاتی ہے۔ اس کے معاملات بدل جاتے ہیں۔ اس کا غصہ بدل جاتا ہے۔ اس کا مال کمانے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔ اس کے رشتے بدل جاتے ہیں۔ اس کی تنہائی بدل جاتی ہے۔ اس کی محفل بدل جاتی ہے۔ بلکہ اس کا جینا اور مرنا دونوں بدل جاتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (الانعام: 162)
تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔
اور یہ ایمان کا کمال ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے لیے ہوجائے۔

آج ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے

ہمیں خود سے چند سوالات کرنے چاہیے: کیا میں اللہ کو صرف مشکل وقت میں یاد کرتا ہوں؟ کیا خوشی میں مجھے اللہ یاد رہتا ہے؟ کیا میں گناہ کرتے وقت اللہ کو بھول جاتا ہوں؟ کیا مجھے لوگوں کی نظر کا زیادہ خوف ہے یا اللہ کی ناراضی کا؟ کیا میں حلال و حرام کا خیال صرف لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں یا تنہائی میں بھی؟ کیا نماز میرے لیے بوجھ ہے یا اپنے رب سے ملاقات کا ذریعہ؟ کیا مصیبت میں میں اللہ سے قریب ہوتا ہوں یا شکوے میں مبتلا ہوجاتا ہوں؟ کیا نعمت ملنے پر میرا دل اللہ کا شکر ادا کرتا ہے؟ کیا میں رزق کے لیے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے حلال کوشش کرتا ہوں؟ کیا مجھے موت اور آخرت یاد رہتی ہے؟
یہ سوال کسی دوسرے کے لیے نہیں، اپنے لیے ہیں۔
اصلاح ہمیشہ دوسروں سے شروع کرنے کا نام نہیں، کبھی انسان کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے دل کو دیکھنا بھی پڑتا ہے۔

ایمان کو مضبوط کیسے کیا جائے؟

ایمان ایک قیمتی دولت ہے۔ اسے مضبوط رکھنے کے لیے چند چیزوں کا اہتمام ضروری ہے۔
1۔ اللہ کی معرفت حاصل کی جائے
قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کو سمجھا جائے اور کائنات میں اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھی جائیں۔
2۔ قرآن سے تعلق مضبوط کیا جائے
روزانہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔
3۔ نماز کی حفاظت کی جائے
نماز ایمان کو تازہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسے صرف ایک بوجھ سمجھ کر جلدی جلدی ادا نہ کیا جائے، بلکہ اللہ کے سامنے حاضری سمجھ کر پڑھا جائے۔
4۔ گناہوں سے بچا جائے
گناہ دل پر اثر ڈالتے ہیں۔ بار بار گناہ کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے۔ اس لیے گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کی جائے۔
5۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے
انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ ایسی صحبت اختیار کی جائے جس سے اللہ یاد آئے، آخرت یاد آئے اور نیکی کی رغبت بڑھے۔
6۔ موت کو یاد رکھا جائے
موت کی یاد انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھاتی ہے اور آخرت کی تیاری پر ابھارتی ہے۔
7۔ دعا کی جائے
دلوں کا مالک اللہ ہے۔ اسی سے ایمان کی مضبوطی مانگنی چاہیے۔ امام ترمذی نے کتاب الدعوات عن رسول اللہ ﷺ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ایک روایت نقل کی، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا فرماتے:
يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك (ترمذی 3522)
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔
نبی کریم ﷺ تعلیم امت کے لیے کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے اس لیے ہمیں اپنے ایمان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اور آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی بار بار یہ دعا کرنی چاہیے۔

آخری بات

ایمان باللہ زندگی کی پہلی ضرورت ہے۔ انسان کے پاس دولت ہو، لیکن اللہ کی معرفت نہ ہو تو وہ دولت اسے حقیقی سکون نہیں دے سکتی۔ علم ہو، لیکن اللہ کا خوف نہ ہو تو علم غرور بن سکتا ہے۔ شہرت ہو، لیکن اللہ سے تعلق نہ ہو تو شہرت انسان کو اندر سے خالی کرسکتی ہے۔ اقتدار ہو، لیکن آخرت کا یقین نہ ہو تو اقتدار ظلم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اور اگر انسان کے پاس دنیا کی بہت سی چیزیں نہ بھی ہوں، لیکن دل میں اپنے رب کی معرفت ہو، تو وہ بہت بڑی دولت کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ (التغابن: 11)
اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا۔
یہ آیت گویا پورے مضمون کا خلاصہ ہے۔ ایمان دل کو راستہ دکھاتا ہے۔ جب دنیا الجھائے تو ایمان راستہ دکھاتا ہے۔ جب مصیبت آئے تو ایمان سہارا دیتا ہے۔ جب نعمت ملے تو ایمان شکر سکھاتا ہے۔ جب گناہ کا موقع آئے تو ایمان روکتا ہے۔ جب انسان تنہا ہو تو ایمان بتاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ جب موت سامنے آئے تو ایمان آخرت کی امید دیتا ہے۔ اور جب زندگی کی تمام چیزیں چھن جائیں تو ایمان کہتا ہے: میرا رب ابھی میرے ساتھ ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہٰذا ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں؛ بلکہ یہ کہنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زندگی سے ثابت کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی معرفت جتنی گہری ہوتی ہے، بندے کی زندگی اتنی ہی سنورتی جاتی ہے۔ دل میں اللہ کی عظمت آ جائے تو دنیا کی بہت سی عظمتیں خود بخود چھوٹی ہوجاتی ہیں۔ دل میں اللہ کی محبت آ جائے تو گناہوں کی کشش کم ہونے لگتی ہے۔ دل میں اللہ کا خوف آ جائے تو تنہائی بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ دل میں اللہ پر یقین آ جائے تو مشکلات پہاڑ نہیں رہتیں۔ اور جب دل میں یہ یقین پختہ ہوجائے کہ:
اللہ میرا رب ہے، میں اس کا بندہ ہوں، مجھے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو زندگی بے مقصد نہیں رہتی۔ پھر انسان کا جینا بھی عبادت بننے لگتا ہے، اس کی محنت بھی عبادت، اس کا صبر بھی عبادت، اس کا شکر بھی عبادت، اس کی خاموشی بھی عبادت اور اس کی پوری زندگی اللہ کی رضا کی تلاش بن جاتی ہے۔
اللهم احي قلوبنا بمعرفتك، وعمرها بذكرك، واملأها بمحبتك، وزينها بخشيتك، ووفقنا لطاعة احكامك، وارزقنا الحياة على الايمان، والموت على الايمان، والحضور بين يديك ونحن على الايمان، آمين بجاه سيد المرسلين ﷺ
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات
انسان اس دنیا میں آتا ہے، کچھ دن یہاں رہتا ہے، زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، خوشیاں دیکھتا ہے، غم سہتا ہے، کامیابیاں حاصل کرتا ہے، ناکامیاں برداشت کرتا ہے، لوگوں سے تعلق بناتا ہے، کچھ کو اپنا سمجھتا ہے اور کچھ کو کھو دیتا ہے، پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
لیکن کچھ سوال ایسے ہیں جو پوری زندگی اس کے ساتھ رہتے ہیں:
میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ میں کیوں پیدا کیا گیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میری موت کے بعد کیا ہوگا؟
ان سوالوں کا صحیح جواب انسان کو صرف فلسفہ نہیں دیتا، صرف سائنس نہیں دیتی، صرف دنیا کا تجربہ نہیں دیتا، بلکہ ان سب کے خالق کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت دیتی ہے۔
وہ ہدایت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا ایک رب ہے۔ وہی ہمارا خالق ہے، وہی مالک ہے، وہی رازق ہے، وہی زندگی دینے والا اور موت دینے والا ہے، وہی مصیبت دور کرنے والا ہے، وہی حقیقی مددگار ہے، وہی عبادت کے لائق ہے۔
اسی یقین کا نام ایمان باللہ ہے۔
ایمان باللہ محض زبان سے یہ کہہ دینا نہیں کہ اللہ موجود ہے۔ یہ تو ایک ابتدائی بات ہے۔ ایمان باللہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، مالک، معبود، رازق، حاکم اور حقیقی کارساز مانے، اس کی ذات و صفات پر یقین رکھے، اس کے احکام کے سامنے سر جھکائے، اس سے محبت کرے، اس سے ڈرے، اسی سے امید رکھے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ قرآن کریم نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان کیا:
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـٴُـوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (البقرۃ: 255)
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔

معرفت الہی ہی اصل مقصد حیات ہے

دنیا میں ہم بہت سی چیزوں کو جانتے ہیں۔ ہم اپنے والدین کو جانتے ہیں، دوستوں کو جانتے ہیں، اپنے استاد کو جانتے ہیں، اپنے شہر کو جانتے ہیں، اپنے پیشے کو جانتے ہیں، اپنے جسم کو جانتے ہیں، دنیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ لیکن اگر انسان نے اپنے رب کو نہ پہچانا تو اس کی بہت سی معلومات کے باوجود وہ ناقص رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ (محمد: 19)
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔
غور کیجیے! قرآن نے یہاں جاننے یعنی اس کی معرفت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ جسے انسان صحیح طور پر پہچان لیتا ہے، اس کے ساتھ اس کا تعلق بھی درست ہونے لگتا ہے۔ اللہ کو صرف اتنا جان لینا کہ وہ موجود ہے، کافی نہیں۔ کہ اگر یہ کافی ہوتا تو بڑے بڑے فلاسفہ کفر و ضلالت کی وادیوں میں نہ بھٹکتے۔ بلکہ اس کی عظمت کو پہچاننا، اس کی قدرت کو سمجھنا، اس کی نعمتوں کو محسوس کرنا، اس کے سامنے اپنی بے بسی کو ماننا، اس کی رحمت سے امید رکھنا، اس کے عذاب سے ڈرنا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا معرفتِ الٰہی کے آثار ہیں اور اس زندگی کا اصل مقصد اسی معرفت الہی کا حصول ہے۔

کائنات معرفتِ الٰہی کی ایک کھلی کتاب ہے

اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے وجود پر غور کرے۔ یہ آنکھیں کس نے دیں؟ یہ دل کس نے بنایا؟ یہ سانس کس کے حکم سے چل رہی ہے؟ جب ہم سوتے ہیں تو کون ہماری حفاظت کرتا ہے؟ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو شفا کس کے اختیار میں ہے؟ زمین میں بیج ڈالنے کے بعد اس میں زندگی کون پیدا کرتا ہے؟ بادل کون بناتا ہے؟ بارش کون برساتا ہے؟ دن اور رات کا یہ نظام کس کے حکم سے قائم ہے؟ قرآن کریم بار بار انسان کو کائنات میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ۔ (آل عمران: 190)
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
اور فرمایا:
وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (الذاریات: 21)
اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔
یعنی اللہ کی قدرت کی نشانیاں صرف آسمانوں میں نہیں، فقط زمین میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے وجود میں بھی موجود ہیں۔ انسان ذرا غور کرے تو اس کا اپنا وجود اسے اپنے خالق کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ کون ہے؟

قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کا تعارف نہایت جامع انداز میں سورۂ اخلاص میں فرمایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (1) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (2) لَمْ یَلِدْ، وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (3) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (4)
تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہمیں کھانے کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں نیند کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں آرام کی ضرورت ہے، اسے نہیں۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے، وہ سب کا مددگار ہے۔ ہم پیدا ہوئے ہیں، وہ ازلی و ابدی ہے۔ ہم فنا ہونے والے ہیں، وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے:
كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ (القصص: 88)
ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے۔

اللہ صرف خالق نہیں، رب اور معبود بھی ہے

بہت سے لوگ اللہ کو خالق تو مانتے ہیں، لیکن اللہ کی ربوبیت کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں پوری طرح قبول نہیں کرتے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُۚ (العنکبوت: 61)
اور اگر تم اُن سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرورکہیں گے الله نے۔
لیکن قرآن ہمیں صرف خالق ماننے پر نہیں چھوڑتا۔ وہ کہتا ہے کہ جب وہ خالق ہے تو رب بھی وہی ہے، عبادت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ (البقرۃ: 21)
اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
یہاں ایک بہت اہم بات اور سمجھنے کی ہے کہ جس نے پیدا کیا، حکم اسی کا مانا جائے گا۔ جس نے زندگی دی، اسی کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزاری جائے گی۔ جس نے نعمتیں دیں، اسی کا شکر ادا کیا جائے گا۔ جس کے پاس آخرکار لوٹ کر جانا ہے، اسی کے لیے زندگی میں تیاری کی جائے گی۔

ایمان باللہ کا پہلا اثر: دل کو سہارا ملتا ہے

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حالات سے بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ کاروبار میں نقصان ہوا، پریشان۔ امتحان میں ناکامی ہوئی، پریشان۔ کسی نے برا کہہ دیا، پریشان۔ کسی عزیز نے ساتھ چھوڑ دیا، پریشان۔ بیماری آگئی، پریشان۔ مستقبل کی فکر ہوئی، پریشان۔ لیکن جس دل میں یہ یقین زندہ ہو کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے، وہاں حالات کی سختی کے باوجود ایک اندرونی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: 28)
سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
ظاہری عیش و آرام دنیوی چیزوں سے مل سکتا ہے، لیکن دل کا سکون اللہ سے تعلق کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے کبھی انسان کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، مگر دل بے چین رہتا ہے اور کبھی ظاہری وسائل کم ہوتے ہیں، آدمی فاقہ کشی میں مبتلا ہوتا ہے، مگر دل مطمئن ہوتا ہے۔ اصل فرق حالات کا نہیں، تعلق کا ہوتا ہے۔

ایمان باللہ انسان کو تنہائی میں بھی سنبھالتا ہے

لوگ ہمارے ظاہر کو دیکھتے ہیں، اللہ ظاہر و باطن سب کچھ دیکھتا ہے۔ لوگ ہمارے الفاظ سنتے ہیں، اللہ ہمارے دل کی کیفیت کو بھی جانتا ہے۔ لوگ ہمارے ساتھ چند لمحے رہتے ہیں، اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (الحدید: 4)
اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
یہ آیت جہاں انسان کو ایک نگراں و محافظ کا تصور دیتی ہے وہیں قلبی اطمینان و سکون کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ تنہائی میں گناہ کرنے والا اگر حقیقتاً ایمان رکھتا ہے تو اسے یاد رہتا ہے: کوئی انسان مجھے نہیں دیکھ رہا، لیکن میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ اور جب انسان مصیبت میں اکیلا رہ جاتا ہے تو اسے یاد رہتا ہے: لوگ میرے ساتھ ہوں، نہ ہوں، میرا رب میرے ساتھ ہے۔ یہی ایمان انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

ایمان باللہ گناہوں سے بچنے کی طاقت دیتا ہے

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گناہ سے بچنے کے لیے صرف سخت قانون کافی ہے۔ قانون ضروری ہے، لیکن انسان ہر وقت قانون کی گرفت میں نہیں ہوتا۔ ایک شخص تنہائی میں ہے۔ اس کے سامنے گناہ کا موقع ہے۔ نہ کوئی انسان اسے دیکھ رہا ہے، نہ کوئی روکنے والا ہے۔ وہاں اسے کیا چیز روک سکتی ہے؟ کیا کوئی قانون اس گناہ کو انجام دینے سے مانع ہو سکتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! ایسے حال میں اگر کوئی چیز اسے روک سکتی ہے تو وہ ہے: اللہ کا خوف اور اللہ کی معرفت۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے گناہ کا موقع آیا، دروازے بند تھے، ظاہری طور پر کوئی رکاوٹ نہ تھی، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-
اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کردئیے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں۔
لیکن انہوں نے فرمایا:
مَعَاذَ اللّٰهِ
اللہ کی پناہ۔
(یوسف: 23)

ایمان باللہ انسان کو ریاکاری سے بچاتا ہے

ہم لوگوں کے سامنے بہت کچھ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اچھا نظر آنا چاہتے ہیں۔ لوگ ہمیں نیک سمجھیں، یہ چاہتے ہیں۔ ہماری تعریف ہو، یہ پسند کرتے ہیں۔ لیکن جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اصل فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں، اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ آہستہ آہستہ لوگوں کی نظر سے زیادہ اللہ کی نظر کی فکر کرنے لگتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنما الأعمال بالنيات
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
یعنی اللہ کے نزدیک صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انسان نے کیا کیا۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کیوں کیا۔ اسی لیے ایمان باللہ اخلاص پیدا کرتا ہے۔ انسان اپنے دل سے پوچھتا ہے: میں یہ کام اللہ کے لیے کر رہا ہوں یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟ اور اس طرح وہ ریا سے بچنے کا سامان کرنے لگتا ہے۔

ایمان باللہ انسان کو تکبر سے بچاتا ہے

کبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ مال آیا تو غرور۔ علم آیا تو غرور۔ خوبصورتی آئی تو غرور۔ عہدہ ملا تو غرور۔ لوگوں نے تعریف کردی تو غرور۔ لیکن اگر انسان اپنے رب کو پہچان لے تو اسے اپنی حقیقت یاد رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں کل کچھ نہیں تھا۔ قرآن کہتا ہے:
هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْــٴًـا مَّذْكُوْرًا (الدھر: 1)
بے شک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں ا س کا نام بھی نہ تھا۔
آج جس حسن پر انسان کو اتنا ناز ہے، کچھ دن بعد نہ رہے گا۔آج جس مال پر غرور ہے، کل وہ کسی اور کے پاس ہوگا۔ آج جس عہدے پر فخر ہے، کل اس کا نام بھی باقی نہیں رہے گا۔اور آخرکار انسان کو قبر میں اترنا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
(صحیح مسلم ۲۶۵)
ایمان باللہ انسان کو اس کی اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے اور یہی حقیقت اسے عاجزی سکھاتی ہے۔

ایمان باللہ انسان کو رزق کے معاملے میں مطمئن کرتا ہے

رزق کی فکر آج انسان کی بڑی پریشانیوں میں سے ایک ہے۔
نوکری ملے گی یا نہیں؟ کاروبار چلے گا یا نہیں؟ آمدنی بڑھے گی یا نہیں؟ مستقبل کیسے سنورے گا؟ یہ فکریں اپنی جگہ ہیں، لیکن ایمان انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا اصل مالک اللہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (ھود: 6)
اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ اسلام محنت سے نہیں روکتا، بلکہ حلال محنت کا حکم دیتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مسلمان کوشش کو اپنا فرض سمجھتا ہے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کرتا ہے۔ یہی توکل ہے۔ یہ ایمان باللہ کا ثمر ہے۔ اسی میں خیر دارین ہے۔

ایمان باللہ مصیبت میں انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے

دنیا میں آزمائش ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمایا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ (البلد: 4)
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔
لہٰذا جو شخص یہ سمجھ کر زندگی گزارے گا کہ مجھے کبھی کوئی پریشانی نہیں آنی چاہیے، وہ ہر آزمائش پر حیران اور شکست خوردہ ہوگا۔ لیکن مؤمن جانتا ہے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (البقرۃ: 155)
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔
پھر فرمایا:
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَﭤ (البقرۃ: 156)
کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
یہ صرف تعزیت کے موقع پر پڑھنے والا جملہ نہیں۔ یہ زندگی کا نظریہ ہے: میں اللہ کا ہوں۔ میری جان اللہ کی ہے۔ میرا مال اللہ کا دیا ہوا ہے۔ میری صحت اللہ کی عطا ہے۔ میرے عزیز بھی اللہ کی عطا ہیں۔ اگر اللہ کسی چیز کو واپس لے لے تو میں شکوہ کرنے کے بجائے اس کے فیصلے پر صبر کروں گا۔ اور جو ایسا کرے گا یقینا وہ اللہ کی رحمت سے وافر حصہ بٹور لے گا۔

ایمان باللہ امید پیدا کرتا ہے

دنیا میں کبھی کبھی انسان خود کو بالکل بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب راستے بند ہوگئے۔ لیکن ایمان کہتا ہے: اللہ کی طرف جانے والے راستے کبھی بند نہیں ہوتے۔ قرآن فرماتا ہے:
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر: 53)
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ آیت گناہ گاروں کے لیے امید کا چراغ ہے۔ کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوئے ہوں، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ کی ہوں، اللہ کی رحمت وسیع ہے۔ کتنا ہی انسان دور کیوں نہ چلا گیا ہو، واپس آنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ (صحیح مسلم:6975)
اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے (رحمتیں) قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں۔
ایمان باللہ انسان کو گناہوں پر ڈھیٹ نہیں بناتا، بلکہ اسے امید دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اگر کوئی صدق دلی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں رجوع کرے، توبہ و استغفار بجا لائے، تو اللہ تبارک و تعالی اسے اپنی بارگاہ سے دھتکارتا نہیں، بلکہ اپنی طرف راہ دیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اور بے شک وہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

ایمان باللہ موت کا خوف کم کرتا ہے

موت سے ہر انسان ڈرتا ہے۔ لیکن مؤمن کے لیے موت صرف خاتمہ نہیں، بلکہ ایک دوسرے جہاں کی طرف منتقلی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ (آل عمران: 185)
ہر جان کو موت چکھنی ہے
اور پھر اسی آیت میں فرمایا:
وَ  اِنَّمَا  تُوَفَّوْنَ  اُجُوْرَكُمْ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ
اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے۔
یعنی موت کے بعد حساب ہے۔ اسی لیے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ موت کو بھولتا نہیں، بلکہ اس کے لیے تیاری کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ میں نے دنیا میں کتنی دولت جمع کی، کتنے لوگ مجھے جانتے تھے، کتنی شہرت ملی، کتنے عہدے حاصل کیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ میں اپنے رب کے سامنے کس حال میں پہنچا۔

ایمان باللہ محبتِ الٰہی پیدا کرتا ہے

ایمان صرف خوف کا نام نہیں۔ اللہ سے ڈرنا ضروری ہے، لیکن اللہ سے محبت کرنا بھی ایک ضروری امر ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ (البقرۃ: 165)
اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔
جس نے اللہ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی رحمت کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی بخشش کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ جس نے اللہ کی عطا کردہ زندگی کو پہچان لیا، وہ اللہ سے محبت کرے گا۔ اور جب معاملہ ایسا ہو جائے تو پھر عبادت بوجھ نہیں رہتی، بلکہ بندہ اسے اپنے رب کی ملاقات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اپنے خالق و مالک سے تعلق کا سبب تصور کرتا ہے۔ قرآن اسی تعلق کو یوں بیان کرتا ہے:
وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ (آل عمران: 134)
اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ جس رب سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر ہم اس کے محبوب بن جائیں تو کیا عجب شان ہو۔

اللہ کی معرفت عبادت کو زندہ کردیتی ہے

بسا اوقات انسان نماز پڑھتا ہے، لیکن دل حاضر نہیں ہوتا۔ قرآن پڑھتا ہے، لیکن دل پر اثر نہیں ہوتا۔ ذکر کرتا ہے، لیکن زبان چلتی ہے اور دل غافل رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم عبادت کو اللہ سے تعلق کے بجائے صرف ایک معمول سمجھ لیتے ہیں۔ اگر نماز پڑھتے وقت دل میں یہ احساس ہو کہ میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوں۔ اگر قرآن پڑھتے وقت یہ احساس ہو کہ میرے رب کا کلام میرے سامنے ہے۔ اگر دعا کرتے وقت یہ احساس ہو کہ میں اس ذات سے مانگ رہا ہوں جو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو عبادت کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
(صحیح بخاری 50)
یہی احسان ہے، اور یہی معرفت الہی کا بلند ترین اثر ہے۔

ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں

یہ بات بہت اہم ہے کہ ایمان کو صرف ایک زبانی دعویٰ نہ سمجھا جائے۔ کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں، لیکن حلال و حرام کی پروا نہ کرے، نماز کو معمولی سمجھے، ظلم کرے، لوگوں کے حقوق مارے، حرام کمائے اور گناہ پر اصرار کرے، تو اسے اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ایمان کے تقاضے زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ۔ (الانفال: 2)
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔
یہ آیت ہمیں ایمان کی ایک زندہ تصویر دکھاتی ہے۔ ایمان دل میں ہوتا ہے، لیکن اس کے آثار کردار میں ظاہر ہوتے ہیں۔

ایمان کا سب سے خوب صورت اثر: انسان بدل جاتا ہے

اگر ایمان صحیح معنی میں دل میں اتر جائے تو انسان وہی نہیں رہتا جو پہلے تھا۔ اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اس کی زبان بدل جاتی ہے۔ اس کے معاملات بدل جاتے ہیں۔ اس کا غصہ بدل جاتا ہے۔ اس کا مال کمانے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔ اس کے رشتے بدل جاتے ہیں۔ اس کی تنہائی بدل جاتی ہے۔ اس کی محفل بدل جاتی ہے۔ بلکہ اس کا جینا اور مرنا دونوں بدل جاتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ (الانعام: 162)
تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔
اور یہ ایمان کا کمال ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے لیے ہوجائے۔

آج ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے

ہمیں خود سے چند سوالات کرنے چاہیے: کیا میں اللہ کو صرف مشکل وقت میں یاد کرتا ہوں؟ کیا خوشی میں مجھے اللہ یاد رہتا ہے؟ کیا میں گناہ کرتے وقت اللہ کو بھول جاتا ہوں؟ کیا مجھے لوگوں کی نظر کا زیادہ خوف ہے یا اللہ کی ناراضی کا؟ کیا میں حلال و حرام کا خیال صرف لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں یا تنہائی میں بھی؟ کیا نماز میرے لیے بوجھ ہے یا اپنے رب سے ملاقات کا ذریعہ؟ کیا مصیبت میں میں اللہ سے قریب ہوتا ہوں یا شکوے میں مبتلا ہوجاتا ہوں؟ کیا نعمت ملنے پر میرا دل اللہ کا شکر ادا کرتا ہے؟ کیا میں رزق کے لیے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے حلال کوشش کرتا ہوں؟ کیا مجھے موت اور آخرت یاد رہتی ہے؟
یہ سوال کسی دوسرے کے لیے نہیں، اپنے لیے ہیں۔
اصلاح ہمیشہ دوسروں سے شروع کرنے کا نام نہیں، کبھی انسان کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے دل کو دیکھنا بھی پڑتا ہے۔

ایمان کو مضبوط کیسے کیا جائے؟

ایمان ایک قیمتی دولت ہے۔ اسے مضبوط رکھنے کے لیے چند چیزوں کا اہتمام ضروری ہے۔
1۔ اللہ کی معرفت حاصل کی جائے
قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کو سمجھا جائے اور کائنات میں اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھی جائیں۔
2۔ قرآن سے تعلق مضبوط کیا جائے
روزانہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔
3۔ نماز کی حفاظت کی جائے
نماز ایمان کو تازہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسے صرف ایک بوجھ سمجھ کر جلدی جلدی ادا نہ کیا جائے، بلکہ اللہ کے سامنے حاضری سمجھ کر پڑھا جائے۔
4۔ گناہوں سے بچا جائے
گناہ دل پر اثر ڈالتے ہیں۔ بار بار گناہ کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے۔ اس لیے گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کی جائے۔
5۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے
انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ ایسی صحبت اختیار کی جائے جس سے اللہ یاد آئے، آخرت یاد آئے اور نیکی کی رغبت بڑھے۔
6۔ موت کو یاد رکھا جائے
موت کی یاد انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھاتی ہے اور آخرت کی تیاری پر ابھارتی ہے۔
7۔ دعا کی جائے
دلوں کا مالک اللہ ہے۔ اسی سے ایمان کی مضبوطی مانگنی چاہیے۔ امام ترمذی نے کتاب الدعوات عن رسول اللہ ﷺ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ایک روایت نقل کی، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا فرماتے:
يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك (ترمذی 3522)
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔
نبی کریم ﷺ تعلیم امت کے لیے کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے اس لیے ہمیں اپنے ایمان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اور آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی بار بار یہ دعا کرنی چاہیے۔

آخری بات

ایمان باللہ زندگی کی پہلی ضرورت ہے۔ انسان کے پاس دولت ہو، لیکن اللہ کی معرفت نہ ہو تو وہ دولت اسے حقیقی سکون نہیں دے سکتی۔ علم ہو، لیکن اللہ کا خوف نہ ہو تو علم غرور بن سکتا ہے۔ شہرت ہو، لیکن اللہ سے تعلق نہ ہو تو شہرت انسان کو اندر سے خالی کرسکتی ہے۔ اقتدار ہو، لیکن آخرت کا یقین نہ ہو تو اقتدار ظلم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اور اگر انسان کے پاس دنیا کی بہت سی چیزیں نہ بھی ہوں، لیکن دل میں اپنے رب کی معرفت ہو، تو وہ بہت بڑی دولت کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ (التغابن: 11)
اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا۔
یہ آیت گویا پورے مضمون کا خلاصہ ہے۔ ایمان دل کو راستہ دکھاتا ہے۔ جب دنیا الجھائے تو ایمان راستہ دکھاتا ہے۔ جب مصیبت آئے تو ایمان سہارا دیتا ہے۔ جب نعمت ملے تو ایمان شکر سکھاتا ہے۔ جب گناہ کا موقع آئے تو ایمان روکتا ہے۔ جب انسان تنہا ہو تو ایمان بتاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ جب موت سامنے آئے تو ایمان آخرت کی امید دیتا ہے۔ اور جب زندگی کی تمام چیزیں چھن جائیں تو ایمان کہتا ہے: میرا رب ابھی میرے ساتھ ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہٰذا ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں؛ بلکہ یہ کہنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زندگی سے ثابت کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی معرفت جتنی گہری ہوتی ہے، بندے کی زندگی اتنی ہی سنورتی جاتی ہے۔ دل میں اللہ کی عظمت آ جائے تو دنیا کی بہت سی عظمتیں خود بخود چھوٹی ہوجاتی ہیں۔ دل میں اللہ کی محبت آ جائے تو گناہوں کی کشش کم ہونے لگتی ہے۔ دل میں اللہ کا خوف آ جائے تو تنہائی بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ دل میں اللہ پر یقین آ جائے تو مشکلات پہاڑ نہیں رہتیں۔ اور جب دل میں یہ یقین پختہ ہوجائے کہ:
اللہ میرا رب ہے، میں اس کا بندہ ہوں، مجھے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو زندگی بے مقصد نہیں رہتی۔ پھر انسان کا جینا بھی عبادت بننے لگتا ہے، اس کی محنت بھی عبادت، اس کا صبر بھی عبادت، اس کا شکر بھی عبادت، اس کی خاموشی بھی عبادت اور اس کی پوری زندگی اللہ کی رضا کی تلاش بن جاتی ہے۔
اللهم احي قلوبنا بمعرفتك، وعمرها بذكرك، واملأها بمحبتك، وزينها بخشيتك، ووفقنا لطاعة احكامك، وارزقنا الحياة على الايمان، والموت على الايمان، والحضور بين يديك ونحن على الايمان، آمين بجاه سيد المرسلين ﷺ
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
12
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 49
Kalam 41
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ سوم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢