ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
✍️ Amir Fuzail Markazi
میں آج اس سوال کے جواب کے درپے ہوں جو ان دنوں دیوبندیوں کے طوفانِ بدتمیزی کا موضوعِ خاص بنا ہوا ہے۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے، اس کا آخر کیا ثبوت ہے؟ یہ فتویٰ کہاں ہے؟ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں:
1. یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :
پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔ جوممبی وغیرہ میں بارہا مع ردکے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سجنہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اسلئے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تادیل میں خطا کی.
(حسام الحرمین مع تمہید ایمان ص 15)
ما قولكم رحمكم الله - دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دیگا۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا - الخ لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔آپ کے استدلال سے وقوع کذب باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے۔اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولی ہیں۔ نہ فقط تو ریہ - آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنےکذب باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا۔الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں)اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہئے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف و عید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو، سووہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہو یگا لہذا وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا۔ انا مومن انشا اللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہئے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية - فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه
نشان مہر ۔رشید احمد
عکس فتوی گنگوھی
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
# فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں
ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد)کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہوچکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے
اعتراض 3
# فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئ
شہادت 1
( فتاوی رشیدیه حصه 1 صفحه 10 سطر 19 مطبوعه رحیمیه (دہلی )
یہی فتاوی رشیدیہ کودیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔
شہادت2
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کاہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل القادری فرماتے ہیں :
اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجئے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمرو ااور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308ھ ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا۔ ۔ ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرافتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے۔
(رد الشهاب الثاقب 250، رضا اکیدمی ممبئ)
اعتراض 4
مفتی کا خط مع مہر حجت ہے
يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا
(ترجمہ )اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کریگا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث
الخط یشبه الخط کامحل
jamiaturrazastudents.com
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف
ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi
میں آج اس سوال کے جواب کے درپے ہوں جو ان دنوں دیوبندیوں کے طوفانِ بدتمیزی کا موضوعِ خاص بنا ہوا ہے۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے، اس کا آخر کیا ثبوت ہے؟ یہ فتویٰ کہاں ہے؟ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں:
1. یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے؟
یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :
پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔ جوممبی وغیرہ میں بارہا مع ردکے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سجنہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اسلئے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تادیل میں خطا کی.
(حسام الحرمین مع تمہید ایمان ص 15)
ما قولكم رحمكم الله - دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دیگا۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا - الخ لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔آپ کے استدلال سے وقوع کذب باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے۔اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولی ہیں۔ نہ فقط تو ریہ - آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنےکذب باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا۔الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں)اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہئے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف و عید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو، سووہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہو یگا لہذا وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا۔ انا مومن انشا اللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہئے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية - فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه
نشان مہر ۔رشید احمد
عکس فتوی گنگوھی
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ “فتاویٰ رشیدیہ” میں ضرور ہوتا۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے۔
# فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں
ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد)کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہوچکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے
اعتراض 3
# فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئ
شہادت 1
( فتاوی رشیدیه حصه 1 صفحه 10 سطر 19 مطبوعه رحیمیه (دہلی )
یہی فتاوی رشیدیہ کودیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔
شہادت2
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کاہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل القادری فرماتے ہیں :
اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجئے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمرو ااور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308ھ ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا۔ ۔ ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرافتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے۔
(رد الشهاب الثاقب 250، رضا اکیدمی ممبئ)
اعتراض 4
مفتی کا خط مع مہر حجت ہے
يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا
(ترجمہ )اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کریگا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث
الخط یشبه الخط کامحل
jamiaturrazastudents.com
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا بریلی شریف
- 1 واقعات رضویہ” رضوی لٹریچر کاایک درخشاں باب
- 2 خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت
- 3 مسلک اعلیٰ حضرت ضروری کیوں ؟
- 4 بدگمانی کی مذمت قرآن و احادیث کی روشنی میں ایک اصلاحی کتاب
- 5 مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل
- 6 تارکین نماز کا انجام قرآن وحدیث کی روشنی میں
- 7 علم ایک لازوال دولت ہے
- 8 دیوبندی یعنی چیٹ جی پی ٹی کی غلام
- 9 ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
- 10 سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں
- 11 اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری
- 12 تاثر بر کتاب القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون ؟
- 13 مسئلہ علم غیب پر ایک اعتراض کا الزامی جواب
- 14 مفتی شہزاد عالم مصباحی کے خلاف عمیر قاسمی دیوبندی کی بکواس کا جواب
- 15 منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ
- 16 کیا اسلام میں بغیر شادی کے عورت سے تعلق رکھنا جائز ہے ؟
- 17 بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح
- 18 دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
- 19 دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی
- 20 اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
- 21 کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
- 22 تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب
- 23 مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت
عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات @از: محمد جسیم اکرم مرکزی فاضل بریلی تخصص فی الفقہ جامعۃالرضا بریلی شریف 9523788434 ہر سال کی طرح امسال بھی 17 جمادی الاولی 1446ھ بمطابق 20 نومبر 2024ء بروز...
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط] تیسرے قطب: شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ # شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ @حُبِّ اہل...
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us