صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
اصلاح معاشرہ

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ. [صحیح بخاری شریف]
اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین و تنقیص بھی سببِ زوالِ ایمان ہے کفر و ارتداد ہے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت ہر مومن کو جان و مال، آل و اولاد، ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حرمتِ رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو ہر بے ہنگم صورت میں مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی محبتوں کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے زبانِ حال سے کہتے ہیں:
اک جان ہی کیا گر ہوں کررورں شہ طیبہ
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
معاندین کی گھناؤنی سازش ـــــــــــــــــ
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اور مسلمان ــــــــــــــــ
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے، مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت۔ جو شخص جو طریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
دوم: وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم: وہ طریقہ مفید بھی ہو، دقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اور کرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعًا عقلًا کسی طرح مقبول نہیں۔
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
اسے بار بار پڑھیں اور خود سے سوال کریں کیا جو مطالبہ ہم حکومت سے کر رہے ہیں وہ اسے پورا کرے گی؟ ہمارا احتجاج کرنا مفید ہے؟ با اثر ہے؟
اسی کتاب مبارک میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں ہے :
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
حالیہ احتجاج کے نقصانات ـــــــــــــــــــــ
بریلی شریف میں ٢٦ اکتوبر بروز جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے بلا تفریق لاٹھی چارج کیا، کتنے ہی مسلمان زخمی ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے بیان آیا: مولانا کو پتہ نہیں تھا کہ شاسن کس کا ہے۔۔۔۔۔۔ایسی سزا دیں گے جسے سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات صرف بیان تک محدود نہیں، بلکہ اس پر عمل جاری ہے۔ گھر توڑے جا رہے ہیں، رات کے وقت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور تھانے میں لے جا کر بے دردی سے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ مدارس میں چھٹیاں ہو گئی ہیں، بیچ چوراہے سے مسلمانوں کو اٹھا لیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا خسارہ۔۔۔۔۔ جان کا خسارہ۔۔۔۔۔ مال کا خسارہ۔۔۔۔۔ وقت کا خسارہ۔۔۔۔۔ عزت کا خسارہ۔۔۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ لوگوں کے علم میں نہ تھا کہ حکومت کا رد عمل ایسا ہوگا، بلکہ سب کو ظن غالب تھا اور ہے کہ اس وقت مسلمان کچھ بھی کرے فورا انھیں مجرم قرار دے کر کاروائی کی جائے گی، پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے مسلمان لاٹھی اور گولی کھا کر زخمی ہوئے کتنوں کی جان بھی چلی گئی۔
ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے:
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
مسلمان اور عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے ــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعت کے پابند رہیں۔ شریعت ہمیں غیر مفید احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر ہر ایک پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ آج کے حالات میں یہ فریضہ زبان و قلم سے ادا کیا جائے، تلوار و سنان سے نہیں، کیوں کہ ہم اس پر قادر نہیں، اور قتل کی سزا دینا حکام کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں۔۔۔۔۔! تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے اس فریضے کو انجام دیں۔
حسام الحرمین میں ہے: علامہ شیخ حامد احمد محمد الجداوی حفظہ اللہ عن شر کل غبی و غاوی فرماتے ہیں :فان تاب و الا وجب قتلہ و قتالہ و کان فی مستقر سقر مآلہ الا ان القلم احد اللسانین و ان اللسان احد السنانین یعنی پس اگر توبہ کر لے فبہا ورنہ قتل کرے اور قتال کرے اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ص: ١٥٧]
اس کے حاشیہ میں ہے: یہ احکام تو سلطان اسلام کے لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے اور علما و عوام کے لیے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ١٥٧]
اس سے صاف ظاہر ہے کہ علماء کا کام ہے زبان و قلم سے ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، گستاخیوں کی تردید کرنا اور حکام کا کام ہے سزا دینا۔ لیکن جہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں کیا کیا جائے؟
وہاں کے لیے مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ بالکلیہ گستاخ رسول سے مقاطعہ کر لیا جائے، زبان و بیان سے اس کی تردید کی جائے اور ممکن ہو تو حکومت سے اس کی سزا کا مطالبہ کیا جائے خود سے قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے کہ یہ شرعاً بھی جائز نہیں۔
چنانچہ اسی حسام الحرمین میں ہے:
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
احتجاج اور اتحاد ــــــــــــــــــــــــــ
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
راقم الحروف کے استاذ علامہ عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی نے ایک حکایت بیان کی: جنگل میں دو بیل ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا دوسرے کا سفید۔ شیر یہ چاہتا تھا کہ دونوں کا شکار کر لے، لیکن نہیں کر پاتا تھا۔ بارہا کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ پھر اس کو کسی جانور نے مشورہ دیا کہ پہلے دونوں کے اتحاد کو توڑ دو، اس کے بعد ایک کو اپنا ساتھی بنا لو اور دوسرے پر حملہ کر دو۔ شیر نے یہی کیا، پہلے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور کالے بیل کو اپنا ساتھی بنا لیا، پھر اس کے ساتھ مل کر سفید بیل پر حملہ کر کے کھا لیا۔ کچھ دن بعد کالے بیل پر بھی شیر نے حملہ کرنا چاہا تو کالے بیل نے کہا میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن سفید بیل سے الگ ہوا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متحدہ ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ. [صحیح بخاری شریف]
اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین و تنقیص بھی سببِ زوالِ ایمان ہے کفر و ارتداد ہے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت ہر مومن کو جان و مال، آل و اولاد، ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حرمتِ رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو ہر بے ہنگم صورت میں مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی محبتوں کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے زبانِ حال سے کہتے ہیں:
اک جان ہی کیا گر ہوں کررورں شہ طیبہ
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
معاندین کی گھناؤنی سازش ـــــــــــــــــ
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اور مسلمان ــــــــــــــــ
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے، مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت۔ جو شخص جو طریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
دوم: وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم: وہ طریقہ مفید بھی ہو، دقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اور کرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعًا عقلًا کسی طرح مقبول نہیں۔
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
اسے بار بار پڑھیں اور خود سے سوال کریں کیا جو مطالبہ ہم حکومت سے کر رہے ہیں وہ اسے پورا کرے گی؟ ہمارا احتجاج کرنا مفید ہے؟ با اثر ہے؟
اسی کتاب مبارک میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں ہے :
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
حالیہ احتجاج کے نقصانات ـــــــــــــــــــــ
بریلی شریف میں ٢٦ اکتوبر بروز جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے بلا تفریق لاٹھی چارج کیا، کتنے ہی مسلمان زخمی ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے بیان آیا: مولانا کو پتہ نہیں تھا کہ شاسن کس کا ہے۔۔۔۔۔۔ایسی سزا دیں گے جسے سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات صرف بیان تک محدود نہیں، بلکہ اس پر عمل جاری ہے۔ گھر توڑے جا رہے ہیں، رات کے وقت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور تھانے میں لے جا کر بے دردی سے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ مدارس میں چھٹیاں ہو گئی ہیں، بیچ چوراہے سے مسلمانوں کو اٹھا لیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا خسارہ۔۔۔۔۔ جان کا خسارہ۔۔۔۔۔ مال کا خسارہ۔۔۔۔۔ وقت کا خسارہ۔۔۔۔۔ عزت کا خسارہ۔۔۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ لوگوں کے علم میں نہ تھا کہ حکومت کا رد عمل ایسا ہوگا، بلکہ سب کو ظن غالب تھا اور ہے کہ اس وقت مسلمان کچھ بھی کرے فورا انھیں مجرم قرار دے کر کاروائی کی جائے گی، پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے مسلمان لاٹھی اور گولی کھا کر زخمی ہوئے کتنوں کی جان بھی چلی گئی۔
ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے:
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
مسلمان اور عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے ــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعت کے پابند رہیں۔ شریعت ہمیں غیر مفید احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر ہر ایک پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ آج کے حالات میں یہ فریضہ زبان و قلم سے ادا کیا جائے، تلوار و سنان سے نہیں، کیوں کہ ہم اس پر قادر نہیں، اور قتل کی سزا دینا حکام کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں۔۔۔۔۔! تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے اس فریضے کو انجام دیں۔
حسام الحرمین میں ہے: علامہ شیخ حامد احمد محمد الجداوی حفظہ اللہ عن شر کل غبی و غاوی فرماتے ہیں :فان تاب و الا وجب قتلہ و قتالہ و کان فی مستقر سقر مآلہ الا ان القلم احد اللسانین و ان اللسان احد السنانین یعنی پس اگر توبہ کر لے فبہا ورنہ قتل کرے اور قتال کرے اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ص: ١٥٧]
اس کے حاشیہ میں ہے: یہ احکام تو سلطان اسلام کے لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے اور علما و عوام کے لیے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ١٥٧]
اس سے صاف ظاہر ہے کہ علماء کا کام ہے زبان و قلم سے ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، گستاخیوں کی تردید کرنا اور حکام کا کام ہے سزا دینا۔ لیکن جہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں کیا کیا جائے؟
وہاں کے لیے مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ بالکلیہ گستاخ رسول سے مقاطعہ کر لیا جائے، زبان و بیان سے اس کی تردید کی جائے اور ممکن ہو تو حکومت سے اس کی سزا کا مطالبہ کیا جائے خود سے قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے کہ یہ شرعاً بھی جائز نہیں۔
چنانچہ اسی حسام الحرمین میں ہے:
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
احتجاج اور اتحاد ــــــــــــــــــــــــــ
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
راقم الحروف کے استاذ علامہ عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی نے ایک حکایت بیان کی: جنگل میں دو بیل ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا دوسرے کا سفید۔ شیر یہ چاہتا تھا کہ دونوں کا شکار کر لے، لیکن نہیں کر پاتا تھا۔ بارہا کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ پھر اس کو کسی جانور نے مشورہ دیا کہ پہلے دونوں کے اتحاد کو توڑ دو، اس کے بعد ایک کو اپنا ساتھی بنا لو اور دوسرے پر حملہ کر دو۔ شیر نے یہی کیا، پہلے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور کالے بیل کو اپنا ساتھی بنا لیا، پھر اس کے ساتھ مل کر سفید بیل پر حملہ کر کے کھا لیا۔ کچھ دن بعد کالے بیل پر بھی شیر نے حملہ کرنا چاہا تو کالے بیل نے کہا میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن سفید بیل سے الگ ہوا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متحدہ ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
85
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢