صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت
احوال قوم وملت

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

✍️ Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت
(26 ذی الحجہ یوم شہادت پر خصوصی تحریر)
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
خادم التدریس والافتاء
الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
8446974711
دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔ ان عظیم ہستیوں میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ترین ہے۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کے دعووں سے گونج رہی ہے، اقوامِ متحدہ انصاف کے منشور جاری کر رہی ہے، اور عالمی طاقتیں عدل و مساوات کے نعرے بلند کر رہی ہیں، ایسے میں اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چودہ سو سال پہلے مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا حکمران نظر آتا ہے جس نے انصاف کو محض قانون کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی روح بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کا دورِ خلافت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب حکمران خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو تو رعایا سکون، امن اور عزت کی زندگی گزارتی ہے۔ آپ کے نزدیک حکومت اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ ایک امانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
سوچیے! آج کے حکمران اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کی محرومیوں پر بھی بے حس نظر آتے ہیں، جبکہ حضرت عمر ایک جانور کے حق کے بارے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہی وہ احساسِ ذمہ داری تھا جس نے عدلِ فاروقی کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا۔
حضرت عمر کے دور میں قانون امیر و غریب کے لیے یکساں تھا۔ نہ کسی وزیر کو استثنا حاصل تھا اور نہ کسی گورنر کو رعایت۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا تو حضرت عمر نے اسے مدینہ بلوایا اور مظلوم کو حق دیا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ پھر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانی آزادی کا وہ اعلان تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
افسوس کہ آج ہمارے معاشروں میں عدل کا معیار بدل چکا ہے۔ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔ سفارش انصاف پر غالب آ جاتی ہے، دولت حق کو خرید لیتی ہے اور عہدے سچائی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدلِ عمر ایک آئینہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف پسند قوم ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے مستفید ہوتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے بوڑھے، معذور اور ضرورت مند غیر مسلموں کے لیے بھی بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ اس لیے کہ اسلام کا عدل مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ظلم کے خلاف کانفرنسیں ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، لیکن ظلم ختم نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عدل کو نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے عدل کو کردار بنایا، زندگی بنایا اور حکمرانی کا محور بنایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ انہیں یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں کوئی بھوکا نہ سو جائے، کہیں کسی مظلوم کی فریاد ان تک پہنچنے سے پہلے خاموش نہ ہو جائے، کہیں کوئی یتیم محروم نہ رہ جائے۔ آج اگر حکمران، علماء، تاجر، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس احساس کو اپنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
عدلِ عمر دراصل صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ عدل، دیانت اور جواب دہی اسے عظمت عطا کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو محض جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار میں اسے نافذ کریں۔ جب گھروں میں انصاف ہوگا، بازاروں میں انصاف ہوگا، عدالتوں میں انصاف ہوگا اور حکمرانی میں انصاف ہوگا تو پھر وہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو کبھی عدلِ عمرکے سائے میں پروان چڑھا تھا۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے۔

ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن بقا ہمیشہ عدل کو حاصل ہوتی ہے۔ اور جب بھی عدل کا تذکرہ ہوگا، دنیا احترام کے ساتھ ایک نام ضرور لے گی ۔۔۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قاضی یا جج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ باپ اپنی اولاد میں، استاد اپنے طلبہ میں، تاجر اپنے گاہکوں میں اور عالم اپنے ماننے والوں میں انصاف کرے، تبھی معاشرہ عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
آج دنیا انسانی حقوق کے بڑے بڑے ادارے قائم کر چکی ہے، لیکن ظلم، جنگیں، بھوک اور ناانصافیاں ختم نہیں ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر حضرت عمر جیسا کردار اور جواب دہی کا احساس موجود نہیں۔
نوجوان اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ عظمت دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، انصاف اور حق گوئی میں ہے۔ حضرت عمر جوانی میں بھی بے خوف تھے اور خلافت کے منصب پر بھی حق کے سامنے سر جھکانے والے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت عمر نے دنیا کے عظیم علاقے فتح کیے، مگر آپ کی اصل فتح زمینوں کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔ شام، مصر اور عراق کے لوگوں نے مسلمان افواج کا خیر مقدم اس لیے کیا کہ انہوں نے عدلِ فاروقی کے چرچے پہلے ہی سن رکھے تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایک رات حضرت عمر نے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ہانڈی میں صرف پانی ابالا جا رہا تھا تاکہ بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رو پڑے اور خود اپنے کندھے پر آٹا اٹھا کر لائے۔ سوال یہ ہے کہ آج کتنے صاحبِ اقتدار ایسے ہیں جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں؟
یاد رکھیں! قوموں کی عمریں ان کے محلات سے نہیں، ان کے انصاف سے ناپی جاتی ہیں۔ جب عدل زندہ رہتا ہے تو ریاستیں قائم رہتی ہیں، اور جب عدل مر جاتا ہے تو سلطنتیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی زندگی اسی ابدی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔
razamarkazi@gmail.com

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

مضمون نگار: Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت
(26 ذی الحجہ یوم شہادت پر خصوصی تحریر)
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
خادم التدریس والافتاء
الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
8446974711
دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔ ان عظیم ہستیوں میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ترین ہے۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کے دعووں سے گونج رہی ہے، اقوامِ متحدہ انصاف کے منشور جاری کر رہی ہے، اور عالمی طاقتیں عدل و مساوات کے نعرے بلند کر رہی ہیں، ایسے میں اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چودہ سو سال پہلے مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا حکمران نظر آتا ہے جس نے انصاف کو محض قانون کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی روح بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کا دورِ خلافت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب حکمران خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو تو رعایا سکون، امن اور عزت کی زندگی گزارتی ہے۔ آپ کے نزدیک حکومت اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ ایک امانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
سوچیے! آج کے حکمران اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کی محرومیوں پر بھی بے حس نظر آتے ہیں، جبکہ حضرت عمر ایک جانور کے حق کے بارے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہی وہ احساسِ ذمہ داری تھا جس نے عدلِ فاروقی کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا۔
حضرت عمر کے دور میں قانون امیر و غریب کے لیے یکساں تھا۔ نہ کسی وزیر کو استثنا حاصل تھا اور نہ کسی گورنر کو رعایت۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا تو حضرت عمر نے اسے مدینہ بلوایا اور مظلوم کو حق دیا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ پھر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانی آزادی کا وہ اعلان تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
افسوس کہ آج ہمارے معاشروں میں عدل کا معیار بدل چکا ہے۔ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔ سفارش انصاف پر غالب آ جاتی ہے، دولت حق کو خرید لیتی ہے اور عہدے سچائی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدلِ عمر ایک آئینہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف پسند قوم ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے مستفید ہوتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے بوڑھے، معذور اور ضرورت مند غیر مسلموں کے لیے بھی بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ اس لیے کہ اسلام کا عدل مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ظلم کے خلاف کانفرنسیں ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، لیکن ظلم ختم نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عدل کو نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے عدل کو کردار بنایا، زندگی بنایا اور حکمرانی کا محور بنایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ انہیں یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں کوئی بھوکا نہ سو جائے، کہیں کسی مظلوم کی فریاد ان تک پہنچنے سے پہلے خاموش نہ ہو جائے، کہیں کوئی یتیم محروم نہ رہ جائے۔ آج اگر حکمران، علماء، تاجر، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس احساس کو اپنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
عدلِ عمر دراصل صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ عدل، دیانت اور جواب دہی اسے عظمت عطا کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو محض جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار میں اسے نافذ کریں۔ جب گھروں میں انصاف ہوگا، بازاروں میں انصاف ہوگا، عدالتوں میں انصاف ہوگا اور حکمرانی میں انصاف ہوگا تو پھر وہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو کبھی عدلِ عمرکے سائے میں پروان چڑھا تھا۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے۔

ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن بقا ہمیشہ عدل کو حاصل ہوتی ہے۔ اور جب بھی عدل کا تذکرہ ہوگا، دنیا احترام کے ساتھ ایک نام ضرور لے گی ۔۔۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قاضی یا جج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ باپ اپنی اولاد میں، استاد اپنے طلبہ میں، تاجر اپنے گاہکوں میں اور عالم اپنے ماننے والوں میں انصاف کرے، تبھی معاشرہ عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
آج دنیا انسانی حقوق کے بڑے بڑے ادارے قائم کر چکی ہے، لیکن ظلم، جنگیں، بھوک اور ناانصافیاں ختم نہیں ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر حضرت عمر جیسا کردار اور جواب دہی کا احساس موجود نہیں۔
نوجوان اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ عظمت دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، انصاف اور حق گوئی میں ہے۔ حضرت عمر جوانی میں بھی بے خوف تھے اور خلافت کے منصب پر بھی حق کے سامنے سر جھکانے والے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت عمر نے دنیا کے عظیم علاقے فتح کیے، مگر آپ کی اصل فتح زمینوں کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔ شام، مصر اور عراق کے لوگوں نے مسلمان افواج کا خیر مقدم اس لیے کیا کہ انہوں نے عدلِ فاروقی کے چرچے پہلے ہی سن رکھے تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایک رات حضرت عمر نے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ہانڈی میں صرف پانی ابالا جا رہا تھا تاکہ بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رو پڑے اور خود اپنے کندھے پر آٹا اٹھا کر لائے۔ سوال یہ ہے کہ آج کتنے صاحبِ اقتدار ایسے ہیں جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں؟
یاد رکھیں! قوموں کی عمریں ان کے محلات سے نہیں، ان کے انصاف سے ناپی جاتی ہیں۔ جب عدل زندہ رہتا ہے تو ریاستیں قائم رہتی ہیں، اور جب عدل مر جاتا ہے تو سلطنتیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی زندگی اسی ابدی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔
razamarkazi@gmail.com
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

Graduate - 2013 | Jamiatur Raza
68
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 9
Kalam 0
Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
زمرہ جات

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢