صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اصلاح معاشرہ

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔

دعوت و تبلیغ کی اہمیت

دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔
۱. امتِ محمدیہ کی خصوصیت اور فلاح کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)

تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
دوسری جگہ اس فریضے کی انجام دہی کو فلاح و کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے:
وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
۲. انبیاء و رسل کا ورثہ اور مشن
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)

ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔

دعوت و تبلیغ کی افادیت

دعوت و تبلیغ کے اثرات صرف مدعو (جسے دعوت دی جا رہی ہے) پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ داعی (دعوت دینے والے) اور پورے معاشرے کے لیے بھی اس کی بے شمار افادیتیں ہیں۔
۱. انفرادی افادیت
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔  [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
. سدا جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ: اگر داعی کی محنت سے کوئی شخص راہِ راست پر آ جائے تو وہ جب تک نیک اعمال کرتا رہے گا، داعی کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
ایمان میں پختگی اور علم میں اضافہ: جب داعی دوسروں کو دین کی تعلیم دیتا ہے، تو اس کا اپنا ایمان اور علم مزید پختہ ہوتا ہے۔ حقائق اور دلائل کی تکرار اس کے یقین کو مضبوط کرتی ہے۔
۲. اجتماعی افادیت
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔

داعی و مبلغ کے اوصاف

دعوت کا کام بڑا نازک اور ذمہ داری کا حامل ہے، جس کے لیے داعی میں بلند اخلاقی اور عملی اوصاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی بات دلوں میں اتر سکے۔
۱. اخلاصِ نیت
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)

تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
۲. سیرت و عمل کی مطابقت
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
قرآن کریم میں اہلِ کتاب پر تنبیہ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
۳. علمِ شریعت اور بصیرت
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
۴. حکمت اور موعظۂ حسنہ
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
۵. نرمی اور تحمل (اسوۂ نبوی ﷺ)
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪- 
(آل عمران، 3: 159)

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
۶. صبر و استقامت
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ درحقیقت ہر مسلمان کا فرضِ منصبی اور دین کی روح ہے۔ اس کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ انفرادی اجر کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کو عذابِ الٰہی سے بچاتی ہے۔
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
از قلم
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
اسلام ایک آفاقی دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے، جس کا مقصد بنی نوع انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی راہ دکھانا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت کے لغوی معنی بلانا، پکارنا اور طلب کرنا وغیرہ ہیں، جبکہ تبلیغ کے معنی پہنچانا اور عام کرنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں، دعوت و تبلیغ سے مراد لوگوں کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلانا، انہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ یہ وہ نبوی طریقہ کار ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری اور امتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کی امتیازی شان ہے۔

دعوت و تبلیغ کی اہمیت

دعوت و تبلیغ محض کوئی نفلی عمل نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔
۱. امتِ محمدیہ کی خصوصیت اور فلاح کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اسی لیے بہترین امت قرار دیا کہ یہ فریضۂ دعوت کو انجام دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ
(آل عمران، 3: 110)

تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
دوسری جگہ اس فریضے کی انجام دہی کو فلاح و کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے:
وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ
(آل عمران، 3: 104)

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔
۲. انبیاء و رسل کا ورثہ اور مشن
دعوت الی اللہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی یہی ذمہ داری عائد کی گئی:
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ
(المائدہ، 5: 67)

ترجمہ اے رسول پہنچادو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔[صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3461]
یہ آیات و حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔

دعوت و تبلیغ کی افادیت

دعوت و تبلیغ کے اثرات صرف مدعو (جسے دعوت دی جا رہی ہے) پر ہی نہیں پڑتے، بلکہ داعی (دعوت دینے والے) اور پورے معاشرے کے لیے بھی اس کی بے شمار افادیتیں ہیں۔
۱. انفرادی افادیت
عظیم اجر و ثواب: دعوت و تبلیغ ایک عظیم عمل ہے، اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا:
فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔  [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
. سدا جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ: اگر داعی کی محنت سے کوئی شخص راہِ راست پر آ جائے تو وہ جب تک نیک اعمال کرتا رہے گا، داعی کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا۔
جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی ہو۔[سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2674]
ایمان میں پختگی اور علم میں اضافہ: جب داعی دوسروں کو دین کی تعلیم دیتا ہے، تو اس کا اپنا ایمان اور علم مزید پختہ ہوتا ہے۔ حقائق اور دلائل کی تکرار اس کے یقین کو مضبوط کرتی ہے۔
۲. اجتماعی افادیت
معاشرتی اصلاح اور بگاڑ کا خاتمہ: دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کر کے اسے ایک صالح معاشرہ بناتی ہے، جہاں خیر و بھلائی عام ہوتی ہے اور شر کا سدِباب ہوتا ہے۔
عذابِ الٰہی سے حفاظت: جب کسی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ختم ہو جاتا ہے، تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ دعوت دراصل عذابِ الٰہی سے نجات کا ذریعہ ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ لَا يُغَيِّرُونَهُ , أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔[سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4005]
دینِ حق کی نشر و اشاعت اور غلبہ: دعوت و تبلیغ کے ذریعے ہی دین اسلام کی تعلیمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اور باطل پر حق کا غلبہ ہوتا ہے۔

داعی و مبلغ کے اوصاف

دعوت کا کام بڑا نازک اور ذمہ داری کا حامل ہے، جس کے لیے داعی میں بلند اخلاقی اور عملی اوصاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی بات دلوں میں اتر سکے۔
۱. اخلاصِ نیت
دعوت کے مؤثر ہونے کی پہلی شرط اخلاص ہے۔ داعی کی نیت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی شہرت، مال و دولت یا کوئی دنیاوی مفاد۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ، عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ
(یوسف، 12: 108)

تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں
۲. سیرت و عمل کی مطابقت
داعی اور مبلغ کا اپنا عمل اس کی دعوت کا عکس ہونا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو جس نیکی کی طرف بلائے، اس کا خود اس پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کی بات بے اثر ہو جائے گی۔
قرآن کریم میں اہلِ کتاب پر تنبیہ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
(البقرہ، 2: 44)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
۳. علمِ شریعت اور بصیرت
داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس دین کی دعوت دے رہا ہے، اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔ جاہل کی دعوت مفید سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ داعی کو مکمل سوجھ بوجھ، علم اور دلائل کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔ اس کے لیے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔
۴. حکمت اور موعظۂ حسنہ
دعوت دینے کا طریقہ انتہائی نرم، دلنشیں اور حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے داعی کے لیے تین اصول بیان فرمائے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
(النحل، 16: 125)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
حکمت (پکی تدبیر): موقع محل اور مدعو کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا، تدریج اور دانائی سے کام لینا۔
موعظۂ حسنہ (اچھی نصیحت): مؤثر اور نرم الفاظ میں نصیحت کرنا جو دل کو چھو لے۔
جدال بالتی ھی احسن : اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو بہترین اور شائستہ طریقے سے ہو۔
۵. نرمی اور تحمل (اسوۂ نبوی ﷺ)
داعی کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور ترش روئی دعوت کو رد کروا دیتی ہے۔ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو اس صفت سے نوازا، جس کا ذکر قرآن میں ہے:
فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪- 
(آل عمران، 3: 159)

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے۔
۶. صبر و استقامت
دعوت کا راستہ مشکلات اور آزمائشوں سے پُر ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ علیھم الصلوٰۃ و السلام کی طرح مصائب پر صبر کرے اور ثابت قدم رہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ درحقیقت ہر مسلمان کا فرضِ منصبی اور دین کی روح ہے۔ اس کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ انفرادی اجر کو صدقۂ جاریہ بنا دیتی ہے اور معاشرے کو عذابِ الٰہی سے بچاتی ہے۔
لیکن یہ عظیم کام تبھی مؤثر ہو سکتا ہے جب داعی اپنے اندر اخلاص، علم، حکمت، اور نرمی (قولاً و عملاً) جیسے اوصاف پیدا کرے۔ داعی کا عمل ہی اس کی دعوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین کے اس اہم فرض کو نبوی اسوۂ حسنہ کے مطابق پورے اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اس کے بہترین اجر سے سرفراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!
از قلم
محمد شعیب خان نجــــــــؔمی رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
83
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 44
Kalam 40
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

لماذا نتعلم اللغة العربية

انتظار

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢