صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اسلام اور رزقِ حلال
اصلاح معاشرہ

اسلام اور رزقِ حلال

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

اسلام اور رزقِ حلال
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اُس نے ہمیں پاک و حق دین اسلام اور مذہبِ حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس نے ہمیں انسان بنایا۔ حضرتِ سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد سے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کا درمیانی زمانہ اس قدر جہالت میں ڈوب چکا تھا کہ انسانوں کو رہنے اور جینے کا سلیقہ بھی نہیں معلوم تھا۔ ناانصافی اور حرام چیزیں عام ہو گئی تھیں۔ صرف دوسروں کا حق چھینا جاتا تھا۔ ایسے میں پوری دنیا کو اللہ پاک نے جہالت کی تاریکی سے نجات بخشی اور اپنے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا۔ سرکارِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لانے کے بعد قرآن و حدیث کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔ قرآن و حدیث سے ہمیں جتنے خزانے حاصل ہوئے اس میں سے ایک خزانہ ”رزق حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت“ بھی ہے۔
یہ زمانہ فتنوں سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن و حدیث سے لوگ اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ عمل کرنا دور فرمان کے مخالف کام کرتے ہیں، یہاں صرف ایک مسئلہ پر یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی والنورانی و خاک پائے حضور تاج شریعہ علیہ الرحمۃ بیان کرے گا اور وہ مسئلہ اسلام اور رزقِ حلال ہے۔ آج لوگ جو کماتے ہیں، جو کھاتے ہیں اس پر غور و فکر کرنا چھوڑ چکے ہیں کہ جو ہم کما رہے ہیں وہ حرام کا ہے یا حلال کا۔ تفصیلی بیان کو شروع کرنے سے پہلے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دو فرامین سے فیض حاصل کر لیتے ہیں تاکہ یہ مسئلہ کتنا پیچیدہ اور ضروری ہے اس کا علم ہو جائے اور اِس کو بغور پڑھ کر سمجھا جا سکے۔
یاد رکھیں! حرام مال کمانے اور کھانے کھلانے سے صرف اسلام نے روکا کسی اور باطل مذہب نے نہیں، کیوں ؟ اسلام ہی حق ہے اور اسلام ہی درس دیتا ہے کہ دوسروں کو اُس کا حق ملے، کسی سے کسی کا حق نہ چھینا جائے، اور آپس میں سب پیار و محبت سے رہیں اور انسانیت برقرار رہے۔ اسلام صرف امن کا پیغام دیتا ہے اور امن ہی سکھاتا ہے۔ اے مسلمانو! اپنے آپ کو جہنم سے دور رکھو! یاد رکھو حرام کمانے اور کھلانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیثِ پاک ہے:
عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِّیَ بِالْحَرَامِ۔
[مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال، الحدیث:٢٧٨٧]
ترجمہ: حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ رحمت علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا: وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کو حرام غذا دی گئی۔
اس حدیثِ پاک میں صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جس نے حلال کمایا اور حلال کھایا اور کھلایا۔
اِس زمانے میں یہ حدیثِ پاک صاف ظاہر نظر آتی ہے:
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِ الْمَرْءُ مَا اَخَذَ مِنْہُ أَ مِنَ الْحَلَالِ اَمْ مِنَ الْحَرَامِ۔
[صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب مَنْ لَمْ یُبَالِ مِنْ حَیْثُ کَسَبَ الْمَالَ، الحدیث:٢٠٥٩، جلد:٢ و مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث: ٢٧٦١]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں علیہ التحیۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی اس بات کی پرواہ نہ کرے گا کہ اُس نے جو مال حاصل کیا وہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اے مسلمانو! غفلت کی نیند سے جاگو اور اپنے مال، کمائی، کھانا، پانی، لباس، مکان، دکان، برتن یہاں تک کہ چپل بھی، سب میں غور کرو کہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اِس مضمون میں تین بیانات ہوں گے: (١) قرآنِ پاک سے رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت کے دلائل (٢) احادیثِ کریمہ سے ثبوت (٣) ہر آیت و حدیث کے بعد مختصر تشریح۔

قرآنِ پاک اور رزقِ حلال:

حلال کمائی کا حکم:
﴿١﴾ مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٧٢]
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
اگر آپ سچ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں تو مولیٰ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ پھر ہماری دی ہوئی ستھری یعنی حلال چیزیں کھاؤ۔ اگر آپ حرام کھانا کھا کر زندگی گزار رہے ہیں تو یہ اللہ پاک کی عبادت نہیں بلکہ شیطان کے بتائے راستے پر چلنا ہے، لہٰذا اس سے خود کو بچائیں۔
﴿٢﴾ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:١٤، سورہ:النحل، آیت:١١٤]
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال یا پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
اگر آپ مسلمان ہو کر بھی کسی کا مال چھین کر، چوری کر کے کھائیں تو گویا آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو ٹھکرا دیا، نعمت کا شکر کرنے کے بجائے حرام کھا کر آپ نے اپنے رب کو ناراض کیا، تو جو رب کو ناراض کر دے اُس کو جنت کیسے مل سکتی ہے ؟ اور پڑھیں!
﴿٣﴾ یَآ اَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٦٨]
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
پچھلی جو دو آیتیں ذکر ہوئیں اُس میں تو ایمان والوں کو حلال روزی و حلال کمائی کا حکم تھا اِس آیت میں سبھی سے خدائے تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ حلال روزی کھاؤ، اور جو حرام سے اپنا گھر چلائے اور پیٹ بھرے گویا وہ اپنے کھلے دشمن شیطان کی راہ پر چل رہا ہے۔ کسی سے کسی کی دشمنی ہو جائے تو وہ چہرہ بھی نہیں دیکھتا تو لوگوں نے شیطان جیسے دشمن کو دوست کیوں اور کیسے بنا رکھا ہے ؟
﴿٤)﴾ حلال روزی کا حکم عام لوگوں کو ہی نہیں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی دیا گیا تھا تاکہ لوگ جان لیں کہ حلال روزی و کمائی کی کتنی اہمیت و فضیلت ہے کہ جو حکم انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دیا گیا وہی ہمیں بھی، چنانچہ ہر عیب سے پاک خالقِ کائنات نے پارہ:18، سورہ المؤمنون، آیت:51؍میں ارشاد فرمایا اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے کلام فرمایا:
یٰآَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو مَیں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
گویا حلال رزق اور اعمالِ صالحہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت بھی ہے، سبحان اللہ تعالیٰ۔
حرام کمائی سے ممانعت:
﴿١﴾ پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٨٨؍میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا چاہے وہ لوٹ کر، چھین کر، یا چوری سے یا جھوٹ سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے ہو، یہ سب ممنوع و حرام ہے۔
یہ ہے اسلام کا درس ! کہ کسی بھی غلط طریقے سے کسی دوسرے کا مال نہ کھاؤ، اگر کھاؤ گے گویا جسم کو حرام غذا دو گے اور وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
﴿٢﴾ اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو یہی ایک آیت حرام کمائی سے آپ کو روک دے گی کہ اس میں اللہ جل و علا نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے: پارہ:٥، سورہ:النساء، آیت:٢٩؍میں ہے:
یٰآَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْوَ وَ لَا تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔
یعنی کوئی چیز آپس میں مل کر کے خرید و فروخت کرے تب تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور اگر کسی دوسرے کا مال ظلم کر کے یا چوری کر کےیا کوئی بھی غلط قدم اٹھا کر چھین لے تو وہ مال حرام ہے، حرام مال سے خریدا ہوا کھانا حرام، پانی حرام، کپڑا حرام، گھر حرام بلکہ سب حرام، اور حرام ؛ جسم میں گیا وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان سے ظاہر ہے۔ نیز مسلم شریف کی ٢٣٤٦؍حدیثِ پاک ہے: حرام خور (حرام کھانے والے) کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
رشوت سے ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک پارہ:١٦، سورہ:طه، آیت:٨١؍میں ارشاد فرمایا:
کُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوىٰ۔
ترجمۂ کنزالایمان: کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اُس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترے بے شک وہ گرا (گرا جہنم میں یعنی وہ ہلاک ہوا)
ابوداؤد شریف کی ٣٥٨٠؍حدیثِ پاک: رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ جل و علا و رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
سود کی حرمت:
سود بھی عام ہو چکا ہے۔ اِس حرام چیز سے دور رہیں۔ ﴿١﴾ خدائے تعالیٰ نے پارہ:٤، سورہ: آل عمران، آیت:١٣٠؍میں ارشاد فرمایا:
يٰآَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْكُلُوْا الرِّبوٰٓا أَضْعٰفًا مُّضَٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔
﴿٢﴾ نیز پارہ:٣، سورہ: البقرہ، آیت:٢٧٥؍میں خدائے پاک کا مقدس فرمان ہے کہ سود والوں کا حشر کیا ہوگا، فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا. وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑے ہوتے ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مضبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انھوں (کافروں) نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود۔
بیع یعنی: خرید و فروخت سے، ایمانداری سے کما کر اپنا گھر چلائیں۔ سود سے اور غضبِ الٰہی سے خود کو اور اہلِ خانہ کو بچائیں۔
فرامینِ خدائے ذوالجلال کے بعد فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بیان کیا جاتا ہے۔
احادیثِ کریمہ اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ حلال روزی ہر فرض کے بعد فرض ہے: شعب الایمان للبیہقی، الحدیث:٨٤٤١؍اور مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٨١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلْبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال روزی کی طلب (حلال رزق حاصل کرنا شریعت کے دیگر) فرائض کے بعد فرض ہے۔
﴿٢﴾ آپ کی ایمانداری سے کمایا ہوا ہی حلال اور آپ کا ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧٠؍میں فرمانِ مصطفیٰ صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ وَ اِنْ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ
ترجمہ: حضرتِ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ تمہاری اپنی کمائی، اور تمہاری اپنی اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے۔
﴿٣﴾ حرام کمائی سے کچھ فائدہ نہیں صرف خسارہ اور سببِ غضبِ الٰہی اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧١؍میں ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَکْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامَ فَتَیَصْدِقُ مِنْہُ فَیُقْبَلُ مِنْہُ لَایُنْفِقُ مِنْہُ قُبَا بَارَکَ لَهٗ وَ لَایَتْرُکُهٗ خَلْفَ ظَھْرِہٖ اِلَّا کَانَ زَادَہٗ اِلَی النَّارِ اِنَّ اللہَ لَا یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالسَّیِّئِ وَ لٰکِنْ یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ اِنَّ الْخَبِیْثَ لَایَمْحُوْا الْخَبِیْثَ۔
ترجمہ: حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پیارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات (زکوٰۃ و صدقات) کرے تو وہ قبول ہو جائے اور نہ یہ کہ اُس (حرام مال) سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو، اور اس حرام مال کو اپنے موت کے بعد کے لیے نہ چھوڑے ورنہ یہ اس کا آگ کا توشہ ہے، بے شک اللہ تعالیٰ برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے، یقینا پلید پلید کو نہیں مٹاتا ہے۔
جو اپنے رزق اور اپنی کمائی میں غور و فکر نہیں کرتے وہ اس حدیثِ پاک سے اپنے آپ میں غور و فکر کریں۔ ہر کوئی اپنی کمائی میں نظر کرے کہ جو ان کے پاس آیا کہاں سے آیا ؟ کتنے کا خرید رہے تھے ؟ کتنا ملا؟ زیادہ تو نہیں ؟ وغیرہ۔ اگر حرام لقمہ جسم میں گیا تو جنت سے دور ہو جائیں گے، برکت ختم ہو جائے گی، لہٰذا اپنے رزق میں غور و فکر کریں!
﴿٤﴾ حلال رزق و کمائی کے لیے کوشش انبیاء بھی کرتے تھے؛ مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٥٩، جلد:١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعَدِیْ کَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَکَلَ اَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ خَیْراً مِنْ اَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ.
ترجمہ: حضرت مقداد ابن مادیکرب سے روایت ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے، اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے تھے۔
حضرتِ سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام بادشاہ تھے مگر پھر بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کماتے اور تناول فرماتے، کبھی خزانہ سے خود پر خرچ نہ فرمایا، روزانہ ایک زرّہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت فرماتے۔ ایک ہزار اپنے اہلِ خانہ پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقرائے بنی اسرائیل پر صَرف فرماتے تھے۔
غور کریں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام رزقِ حلال اور حلال و جائز کمائی کے لیے اتنی محنت فرماتے تو ہماری کیا اوقات کہ ہم ان پاکیزہ حضرات کے طریقے کی خلاف ورزی کر سکیں ؟
خاتمہ میں مندرجہ ذیل چند مفید باتیں ذکر کی جاتی ہیں جن پر عمل لازم جانیں!
[١] جو بھی کمائی ہو رہی ہو خوب غور و فکر کریں کہ کہاں سے آیا ؟کیسے آیا ؟ اور کتنا آیا ؟ [٢] جو حلال کما کر گھر لائیں حساب سے خرچ بھی کریں، جمع کرنے کی نیت رکھ کر اہلِ خانہ پر بخیل نہ بنیں۔ [٣)] کسی کا مال غصب نہ کریں کہ وہ بھی مال حرام کا ہوگا۔ [٤] چوری اور ظلم سے مال حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ [٥] اپنی محنت کی کمائی سے کھائیں اور زندگی گزاریں۔ [٦] وہ Job جس میں نماز و جملہ عبادات کے لیے بھی وقت نہ دیا جائے وہ بھی حرام ہے۔ [٧] نشہ اور خراب چیزیں جیسے سیگریٹ، بیڑی، گٹکھا، تمباکو وغیرہ پر مال خرچ کرنا فقط مال کو ضائع کرنا ہے، جو جائز نہیں!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
٭ پیغامِ برکات: اپنے رزق اور اپنی کمائی پر خوب غور کریں اور حرام مال و لقمہ پیٹ میں اور گھر میں قطعی نہ جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پر زندگی گزارنے اور حلال کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

اسلام اور رزقِ حلال

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

اسلام اور رزقِ حلال
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اُس نے ہمیں پاک و حق دین اسلام اور مذہبِ حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس نے ہمیں انسان بنایا۔ حضرتِ سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد سے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کا درمیانی زمانہ اس قدر جہالت میں ڈوب چکا تھا کہ انسانوں کو رہنے اور جینے کا سلیقہ بھی نہیں معلوم تھا۔ ناانصافی اور حرام چیزیں عام ہو گئی تھیں۔ صرف دوسروں کا حق چھینا جاتا تھا۔ ایسے میں پوری دنیا کو اللہ پاک نے جہالت کی تاریکی سے نجات بخشی اور اپنے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا۔ سرکارِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لانے کے بعد قرآن و حدیث کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔ قرآن و حدیث سے ہمیں جتنے خزانے حاصل ہوئے اس میں سے ایک خزانہ ”رزق حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت“ بھی ہے۔
یہ زمانہ فتنوں سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن و حدیث سے لوگ اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ عمل کرنا دور فرمان کے مخالف کام کرتے ہیں، یہاں صرف ایک مسئلہ پر یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی والنورانی و خاک پائے حضور تاج شریعہ علیہ الرحمۃ بیان کرے گا اور وہ مسئلہ اسلام اور رزقِ حلال ہے۔ آج لوگ جو کماتے ہیں، جو کھاتے ہیں اس پر غور و فکر کرنا چھوڑ چکے ہیں کہ جو ہم کما رہے ہیں وہ حرام کا ہے یا حلال کا۔ تفصیلی بیان کو شروع کرنے سے پہلے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دو فرامین سے فیض حاصل کر لیتے ہیں تاکہ یہ مسئلہ کتنا پیچیدہ اور ضروری ہے اس کا علم ہو جائے اور اِس کو بغور پڑھ کر سمجھا جا سکے۔
یاد رکھیں! حرام مال کمانے اور کھانے کھلانے سے صرف اسلام نے روکا کسی اور باطل مذہب نے نہیں، کیوں ؟ اسلام ہی حق ہے اور اسلام ہی درس دیتا ہے کہ دوسروں کو اُس کا حق ملے، کسی سے کسی کا حق نہ چھینا جائے، اور آپس میں سب پیار و محبت سے رہیں اور انسانیت برقرار رہے۔ اسلام صرف امن کا پیغام دیتا ہے اور امن ہی سکھاتا ہے۔ اے مسلمانو! اپنے آپ کو جہنم سے دور رکھو! یاد رکھو حرام کمانے اور کھلانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیثِ پاک ہے:
عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِّیَ بِالْحَرَامِ۔
[مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال، الحدیث:٢٧٨٧]
ترجمہ: حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ رحمت علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا: وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کو حرام غذا دی گئی۔
اس حدیثِ پاک میں صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جس نے حلال کمایا اور حلال کھایا اور کھلایا۔
اِس زمانے میں یہ حدیثِ پاک صاف ظاہر نظر آتی ہے:
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِ الْمَرْءُ مَا اَخَذَ مِنْہُ أَ مِنَ الْحَلَالِ اَمْ مِنَ الْحَرَامِ۔
[صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب مَنْ لَمْ یُبَالِ مِنْ حَیْثُ کَسَبَ الْمَالَ، الحدیث:٢٠٥٩، جلد:٢ و مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث: ٢٧٦١]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں علیہ التحیۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی اس بات کی پرواہ نہ کرے گا کہ اُس نے جو مال حاصل کیا وہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اے مسلمانو! غفلت کی نیند سے جاگو اور اپنے مال، کمائی، کھانا، پانی، لباس، مکان، دکان، برتن یہاں تک کہ چپل بھی، سب میں غور کرو کہ حلال کا ہے یا حرام کا۔
اِس مضمون میں تین بیانات ہوں گے: (١) قرآنِ پاک سے رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کی حرمت کے دلائل (٢) احادیثِ کریمہ سے ثبوت (٣) ہر آیت و حدیث کے بعد مختصر تشریح۔

قرآنِ پاک اور رزقِ حلال:

حلال کمائی کا حکم:
﴿١﴾ مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٧٢]
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔
اگر آپ سچ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں تو مولیٰ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ پھر ہماری دی ہوئی ستھری یعنی حلال چیزیں کھاؤ۔ اگر آپ حرام کھانا کھا کر زندگی گزار رہے ہیں تو یہ اللہ پاک کی عبادت نہیں بلکہ شیطان کے بتائے راستے پر چلنا ہے، لہٰذا اس سے خود کو بچائیں۔
﴿٢﴾ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔
[پارہ:١٤، سورہ:النحل، آیت:١١٤]
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال یا پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
اگر آپ مسلمان ہو کر بھی کسی کا مال چھین کر، چوری کر کے کھائیں تو گویا آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو ٹھکرا دیا، نعمت کا شکر کرنے کے بجائے حرام کھا کر آپ نے اپنے رب کو ناراض کیا، تو جو رب کو ناراض کر دے اُس کو جنت کیسے مل سکتی ہے ؟ اور پڑھیں!
﴿٣﴾ یَآ اَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
[پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٦٨]
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
پچھلی جو دو آیتیں ذکر ہوئیں اُس میں تو ایمان والوں کو حلال روزی و حلال کمائی کا حکم تھا اِس آیت میں سبھی سے خدائے تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ حلال روزی کھاؤ، اور جو حرام سے اپنا گھر چلائے اور پیٹ بھرے گویا وہ اپنے کھلے دشمن شیطان کی راہ پر چل رہا ہے۔ کسی سے کسی کی دشمنی ہو جائے تو وہ چہرہ بھی نہیں دیکھتا تو لوگوں نے شیطان جیسے دشمن کو دوست کیوں اور کیسے بنا رکھا ہے ؟
﴿٤)﴾ حلال روزی کا حکم عام لوگوں کو ہی نہیں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی دیا گیا تھا تاکہ لوگ جان لیں کہ حلال روزی و کمائی کی کتنی اہمیت و فضیلت ہے کہ جو حکم انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دیا گیا وہی ہمیں بھی، چنانچہ ہر عیب سے پاک خالقِ کائنات نے پارہ:18، سورہ المؤمنون، آیت:51؍میں ارشاد فرمایا اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے کلام فرمایا:
یٰآَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو مَیں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
گویا حلال رزق اور اعمالِ صالحہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت بھی ہے، سبحان اللہ تعالیٰ۔
حرام کمائی سے ممانعت:
﴿١﴾ پارہ:٢، سورہ:البقرۃ، آیت:١٨٨؍میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا چاہے وہ لوٹ کر، چھین کر، یا چوری سے یا جھوٹ سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے ہو، یہ سب ممنوع و حرام ہے۔
یہ ہے اسلام کا درس ! کہ کسی بھی غلط طریقے سے کسی دوسرے کا مال نہ کھاؤ، اگر کھاؤ گے گویا جسم کو حرام غذا دو گے اور وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
﴿٢﴾ اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو یہی ایک آیت حرام کمائی سے آپ کو روک دے گی کہ اس میں اللہ جل و علا نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے: پارہ:٥، سورہ:النساء، آیت:٢٩؍میں ہے:
یٰآَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْآ اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْوَ وَ لَا تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔
یعنی کوئی چیز آپس میں مل کر کے خرید و فروخت کرے تب تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور اگر کسی دوسرے کا مال ظلم کر کے یا چوری کر کےیا کوئی بھی غلط قدم اٹھا کر چھین لے تو وہ مال حرام ہے، حرام مال سے خریدا ہوا کھانا حرام، پانی حرام، کپڑا حرام، گھر حرام بلکہ سب حرام، اور حرام ؛ جسم میں گیا وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان سے ظاہر ہے۔ نیز مسلم شریف کی ٢٣٤٦؍حدیثِ پاک ہے: حرام خور (حرام کھانے والے) کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
رشوت سے ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک پارہ:١٦، سورہ:طه، آیت:٨١؍میں ارشاد فرمایا:
کُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوىٰ۔
ترجمۂ کنزالایمان: کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اُس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترے بے شک وہ گرا (گرا جہنم میں یعنی وہ ہلاک ہوا)
ابوداؤد شریف کی ٣٥٨٠؍حدیثِ پاک: رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ جل و علا و رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
سود کی حرمت:
سود بھی عام ہو چکا ہے۔ اِس حرام چیز سے دور رہیں۔ ﴿١﴾ خدائے تعالیٰ نے پارہ:٤، سورہ: آل عمران، آیت:١٣٠؍میں ارشاد فرمایا:
يٰآَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْكُلُوْا الرِّبوٰٓا أَضْعٰفًا مُّضَٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔
﴿٢﴾ نیز پارہ:٣، سورہ: البقرہ، آیت:٢٧٥؍میں خدائے پاک کا مقدس فرمان ہے کہ سود والوں کا حشر کیا ہوگا، فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا. وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑے ہوتے ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مضبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انھوں (کافروں) نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے۔ اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود۔
بیع یعنی: خرید و فروخت سے، ایمانداری سے کما کر اپنا گھر چلائیں۔ سود سے اور غضبِ الٰہی سے خود کو اور اہلِ خانہ کو بچائیں۔
فرامینِ خدائے ذوالجلال کے بعد فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بیان کیا جاتا ہے۔
احادیثِ کریمہ اور رزقِ حلال:
﴿١﴾ حلال روزی ہر فرض کے بعد فرض ہے: شعب الایمان للبیہقی، الحدیث:٨٤٤١؍اور مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٨١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلْبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال روزی کی طلب (حلال رزق حاصل کرنا شریعت کے دیگر) فرائض کے بعد فرض ہے۔
﴿٢﴾ آپ کی ایمانداری سے کمایا ہوا ہی حلال اور آپ کا ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧٠؍میں فرمانِ مصطفیٰ صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ وَ اِنْ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسَبِکُمْ
ترجمہ: حضرتِ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ تمہاری اپنی کمائی، اور تمہاری اپنی اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے۔
﴿٣﴾ حرام کمائی سے کچھ فائدہ نہیں صرف خسارہ اور سببِ غضبِ الٰہی اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے: مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٧١؍میں ہے:
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَکْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامَ فَتَیَصْدِقُ مِنْہُ فَیُقْبَلُ مِنْہُ لَایُنْفِقُ مِنْہُ قُبَا بَارَکَ لَهٗ وَ لَایَتْرُکُهٗ خَلْفَ ظَھْرِہٖ اِلَّا کَانَ زَادَہٗ اِلَی النَّارِ اِنَّ اللہَ لَا یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالسَّیِّئِ وَ لٰکِنْ یَمْحُوْا السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ اِنَّ الْخَبِیْثَ لَایَمْحُوْا الْخَبِیْثَ۔
ترجمہ: حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پیارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات (زکوٰۃ و صدقات) کرے تو وہ قبول ہو جائے اور نہ یہ کہ اُس (حرام مال) سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو، اور اس حرام مال کو اپنے موت کے بعد کے لیے نہ چھوڑے ورنہ یہ اس کا آگ کا توشہ ہے، بے شک اللہ تعالیٰ برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے، یقینا پلید پلید کو نہیں مٹاتا ہے۔
جو اپنے رزق اور اپنی کمائی میں غور و فکر نہیں کرتے وہ اس حدیثِ پاک سے اپنے آپ میں غور و فکر کریں۔ ہر کوئی اپنی کمائی میں نظر کرے کہ جو ان کے پاس آیا کہاں سے آیا ؟ کتنے کا خرید رہے تھے ؟ کتنا ملا؟ زیادہ تو نہیں ؟ وغیرہ۔ اگر حرام لقمہ جسم میں گیا تو جنت سے دور ہو جائیں گے، برکت ختم ہو جائے گی، لہٰذا اپنے رزق میں غور و فکر کریں!
﴿٤﴾ حلال رزق و کمائی کے لیے کوشش انبیاء بھی کرتے تھے؛ مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، الحدیث:٢٧٥٩، جلد:١؍کی حدیثِ پاک ہے:
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعَدِیْ کَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَکَلَ اَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ خَیْراً مِنْ اَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ.
ترجمہ: حضرت مقداد ابن مادیکرب سے روایت ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے، اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے تھے۔
حضرتِ سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام بادشاہ تھے مگر پھر بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کماتے اور تناول فرماتے، کبھی خزانہ سے خود پر خرچ نہ فرمایا، روزانہ ایک زرّہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت فرماتے۔ ایک ہزار اپنے اہلِ خانہ پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقرائے بنی اسرائیل پر صَرف فرماتے تھے۔
غور کریں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام رزقِ حلال اور حلال و جائز کمائی کے لیے اتنی محنت فرماتے تو ہماری کیا اوقات کہ ہم ان پاکیزہ حضرات کے طریقے کی خلاف ورزی کر سکیں ؟
خاتمہ میں مندرجہ ذیل چند مفید باتیں ذکر کی جاتی ہیں جن پر عمل لازم جانیں!
[١] جو بھی کمائی ہو رہی ہو خوب غور و فکر کریں کہ کہاں سے آیا ؟کیسے آیا ؟ اور کتنا آیا ؟ [٢] جو حلال کما کر گھر لائیں حساب سے خرچ بھی کریں، جمع کرنے کی نیت رکھ کر اہلِ خانہ پر بخیل نہ بنیں۔ [٣)] کسی کا مال غصب نہ کریں کہ وہ بھی مال حرام کا ہوگا۔ [٤] چوری اور ظلم سے مال حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ [٥] اپنی محنت کی کمائی سے کھائیں اور زندگی گزاریں۔ [٦] وہ Job جس میں نماز و جملہ عبادات کے لیے بھی وقت نہ دیا جائے وہ بھی حرام ہے۔ [٧] نشہ اور خراب چیزیں جیسے سیگریٹ، بیڑی، گٹکھا، تمباکو وغیرہ پر مال خرچ کرنا فقط مال کو ضائع کرنا ہے، جو جائز نہیں!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
٭ پیغامِ برکات: اپنے رزق اور اپنی کمائی پر خوب غور کریں اور حرام مال و لقمہ پیٹ میں اور گھر میں قطعی نہ جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پر زندگی گزارنے اور حلال کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
91
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 41
Kalam 13
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

موقعہ پرست لوگ

سکون کیسے حاصل کریں ؟ (1)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢