صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی
اصلاح معاشرہ

یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی

✍️ Muhammad Shahzad Jaami

یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی
روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسین کا
ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے
ہے عشق اپنی جاں سے زیادہ آلِ رسولﷺ سے
یوں سرِ عام ہم ان کا تماشا نہیں کرتے۔

عاشوراءکے دن کا تقدس اور انبیاء و صالحین سےاسکا تعلق

عاشوراء کے دن کا تعلق انبیاء و صالحین سے بڑا گہرا ہے، چنانچہ اسی دن ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوئی، اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کے واسطے آتشِ نمرود کو گلزار کیا، اسی دن کشتی نوح قہرِ خدا کی بپھری ہوئی موجوں سے نجات پا کر کوہِ جودی کے کنارے پر لگی، اسی دن اللہ رب العزت نے ظلم و جبر کا مجسمہ، ستم شعار فرعون کو دریائے عذاب کے سپرد کر کے اپنے کلیم اور ان کی قوم کو فرعونی فتنہ و فساد سے سرمدی نجات دی، اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام قید و بند کی تاریکیوں سے آزاد ہوئے، اسی دن بطنِ حوت کی تاریکیوں میں محصور یونسِ ذو النون علیہ السلام فضلِ الٰہی سے دنیائے رنگ و بو کی طرف واپس نکلے، اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو جاہ و جلال کی بے مثال سلطنت عطا ہوئی، اسی دن چمنِ نبوت کے دو گلِ رعنا، خلیل و مسیح علیہما السلام کی ولادتِ باسعادت ہوئی،
چنانچہ تاجدارِ اقلیمِ ﷺ کائنات کا ارشادِ پاک ہے;
إنَّ نوحًا هبط من السفينة على الجودي، يوم عاشوراء، فصام نوح، وأمر من معه بصيامه شكرًا لله - عز وجل -، وفي يوم عاشوراء، تاب الله على آدم وعلى مدينة يونس، وفيه فلق البحر لبني إسرائيل، وفيه ولد إبراهيم الخليل، وابن مريم عليهم السلام (مسند الفردوس، ج ١، رقم الحديث ٨٥٥)
اسی دن چمنِ نبوت کے نونہالوں نے اپنے خونِ جگر سے چمنستانِ اسلام کو لالہ زار کرکے وفا و ایثار کے ایسے گل کھلائے کہ رہتی دنیا تک اہلِ وفا اس کی نظیر لانے سے عاجز ہیں۔ سب سے پہلے زمین پر آسمان کا بارانِ کرم اسی دن ہوا، اسی دن کا روزہ امتوں میں مشہور تھا، حتیٰ کہ یہ بھی بیان آیا ہے کہ صیامِ رمضان کی فرضیت سے پہلے اسی روز کا روزہ فرض تھا، پھر منسوخ کر دیا گیا۔(مکاشفۃ القلوب)
الغرض، یومِ عاشورا کا دامن انبیاء و صالحین کی مبارک نسبتوں سے لبریز ہے، اور دنیائے الفت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے منسوبات کو بھی نہایت عقیدت و تقدیس کے ساتھ گوشۂ دل میں جگہ دیتی ہے،تو چراغِ سخن کا حاصل یہی ہوا کہ عاشوراء ان مبارک نسبتوں کے سبب بڑا ہی مقدس و مبارک دن ہے۔

عاشوراءکے دن صبر و شکر کا حکم

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو حکم کیا: ذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ انہیں (یعنی اپنی قوم کو) اللہ کے دن یاد دلاؤ،
أيام الله (اللہ کے دن) مفسرین نے اس کی تین تفسیر کی ہے،
۱) حضرت ابن عباس، ابی بن کعب، امام مجاہد اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ اللہ کے دن سے مراد اللہ کی نعمتیں ہیں،
۲) ابن زید، ابن السائب اور مقاتل کا قول ہے کہ ایام اللہ سے مراد وہ بڑے بڑے واقعات ہیں جو بحکمِ الٰہی ہوئے،
۳) زجاج کا قول ہے کہ ایام اللہ سے مراد صالحین پر انعام و اکرام اور سرکشوں پر عذاب کے دن ہیں،
تینوں قول میں قدرِ مشترک کے طور پر یہ حکم ہے کہ انعام و اکرام یا انعام کے دن کو یاد کرکے اس کا شکر کرو اور عذاب و آزمائش یا اس کے دن کو یاد کرکے عبرت لو، آزمائش اور طاعتِ خداوندی پر صبر کروجیسا کہ آیت کا اگلا جز بتلا رہا ہے: ان في ذلك لآيات لكل صبار شكور (بیشک اس میں ہر بڑے صبر کرنے والے، شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں)
ما سبق کی گفتگو سے واضح ہو چکا ہے کہ یومِ عاشوراء بھی انہیں ایام میں سے ہے کہ یہ بھی بے شمار انعام و اکرام اور آزمائش کا دن رہا ہے، لہٰذا اس آیت سے عاشوراء کے دن صبر و شکر کا حکم مستفاد ہوگا۔

صبر و شکر کی حقیقت اور اس سے عوام کا انحراف

شکر یعنی کیا؟ ڈھول تاشہ بجایا جائے؟ کھیل تماشہ اور میلہ لگایا جائے؟ اور صبر کا مطلب کیا؟ سینہ پیٹا جائے؟ ماتم منایا جائے؟
ہرگز نہیں! شکر منعم کی تعریف و توصیف کا نام ہے، منعم کی نافرمانی کا نہیں
حکم تو یہ تھا کہ خداوندِ قدوس کی عبادت کی جائے، تسبیح و تحلیل کی جائے، روزے رکھے جائیں، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کے ساحل پر لگنے کا شکر ادا کرتے ہوئے عاشوراء کا روزہ رکھا، اور خود ہمارے نبی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کی ترغیب بھی فرماتے۔
اگر یہ بدعات شکر ہیں تو یہ کیسی شترگربگی ہوگی کہ شکر تو ہے لیکن منعم کی تعظیم کا دور دور تک کوئی نشاں نہیں،
اور اگر یہ خرافاتیں صبر ہو جائیں تو یہ کیسی بو العجیبی ہوگی کہ صبر کا نام تو ہے، لیکن نہ تو آزمائشوں پر تحمل کا کوئی اثر ہے، نہ قیامِ مأمورات پر مواظبت اور نہ ترکِ منہیات پر مداومت۔ صبر تو ہزاروں آزمائشوں کے باوجود شکرِ خدا بجا لانے ، عبادتِ خداوندی کرکے نفس کو ماتم کرانے اور ترکِ ممنوعات و منہیات سے دل کی صفائی کرنے کا نام ہے ، انہیں تین چیزوں کو شریعت نے صبر کہا ہے اور یہی وہ صبر ہے جس کے بدل میں عونِ خداوندی کی معیت ملتی ہے، ان سے ہٹ کر کوئی چیز صبر نہیں ہو سکتی ہے ۔
یہ ساری چیزیں تو ایسی خرافاتیں ہیں کہ جس نے اس مبارک دن کے تقدس کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے، اور یہ ایسی بدعات ہیں جن کا تماشا دیکھ شربعت مطہرہ الاماں الاماں کی صدائیں لگانے لگی۔

عوامِ اہلِ سنت سے مخلصانہ گزارش

واسطہ خدا کا، سنی مسلمانوں ہوش میں آؤ، یوں بے دردی سے ان مقدس نسبتوں کا قتل نہ کرو!
یہ وہی دن ہے جس دن اللہ نے تمہارے اور ہمارے والد کی توبہ قبول کی تھی، یہ وہی دن ہے جس دن نواسۂ رسول نے حرمتِ اسلام کی خاطر اپنا اہل و عیال راہِ خدا میں قربان کر دیا تھا، یہ تو صبر و شکر کا دن ہے،
خدارا! یومِ عاشوراء کی ان مقدس نسبتوں کو کھیل تماشہ اور ماتم کی نذر نہ کیجیے، بلکہ اس دن کو صبر، شکر، عبادت اور اتباعِ سنت کا دن بنائیے، یہی انبیاء و شہدائے کربلا کا پیغام ہے اور یہی رضائے الٰہی کا راستہ ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ کی یہ خرافاتیں مسلک و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ گستاخانِ رسول انہی باتوں کو ہتھیار بنا کر عوام کے دلوں میں مسلکِ حق سے بدگمانی پیدا کر رہے ہیں۔ خدارا! اگر اپنی فکر نہیں تو کم از کم سنیت کے وقار اور مفاد کی فکر کریں۔فقط والسلام۔
از قلم : محمد شہزاد جامی متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف( 06299755836)

یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی

مضمون نگار: Muhammad Shahzad Jaami

یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی
روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسین کا
ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے
ہے عشق اپنی جاں سے زیادہ آلِ رسولﷺ سے
یوں سرِ عام ہم ان کا تماشا نہیں کرتے۔

عاشوراءکے دن کا تقدس اور انبیاء و صالحین سےاسکا تعلق

عاشوراء کے دن کا تعلق انبیاء و صالحین سے بڑا گہرا ہے، چنانچہ اسی دن ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوئی، اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کے واسطے آتشِ نمرود کو گلزار کیا، اسی دن کشتی نوح قہرِ خدا کی بپھری ہوئی موجوں سے نجات پا کر کوہِ جودی کے کنارے پر لگی، اسی دن اللہ رب العزت نے ظلم و جبر کا مجسمہ، ستم شعار فرعون کو دریائے عذاب کے سپرد کر کے اپنے کلیم اور ان کی قوم کو فرعونی فتنہ و فساد سے سرمدی نجات دی، اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام قید و بند کی تاریکیوں سے آزاد ہوئے، اسی دن بطنِ حوت کی تاریکیوں میں محصور یونسِ ذو النون علیہ السلام فضلِ الٰہی سے دنیائے رنگ و بو کی طرف واپس نکلے، اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو جاہ و جلال کی بے مثال سلطنت عطا ہوئی، اسی دن چمنِ نبوت کے دو گلِ رعنا، خلیل و مسیح علیہما السلام کی ولادتِ باسعادت ہوئی،
چنانچہ تاجدارِ اقلیمِ ﷺ کائنات کا ارشادِ پاک ہے;
إنَّ نوحًا هبط من السفينة على الجودي، يوم عاشوراء، فصام نوح، وأمر من معه بصيامه شكرًا لله - عز وجل -، وفي يوم عاشوراء، تاب الله على آدم وعلى مدينة يونس، وفيه فلق البحر لبني إسرائيل، وفيه ولد إبراهيم الخليل، وابن مريم عليهم السلام (مسند الفردوس، ج ١، رقم الحديث ٨٥٥)
اسی دن چمنِ نبوت کے نونہالوں نے اپنے خونِ جگر سے چمنستانِ اسلام کو لالہ زار کرکے وفا و ایثار کے ایسے گل کھلائے کہ رہتی دنیا تک اہلِ وفا اس کی نظیر لانے سے عاجز ہیں۔ سب سے پہلے زمین پر آسمان کا بارانِ کرم اسی دن ہوا، اسی دن کا روزہ امتوں میں مشہور تھا، حتیٰ کہ یہ بھی بیان آیا ہے کہ صیامِ رمضان کی فرضیت سے پہلے اسی روز کا روزہ فرض تھا، پھر منسوخ کر دیا گیا۔(مکاشفۃ القلوب)
الغرض، یومِ عاشورا کا دامن انبیاء و صالحین کی مبارک نسبتوں سے لبریز ہے، اور دنیائے الفت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے منسوبات کو بھی نہایت عقیدت و تقدیس کے ساتھ گوشۂ دل میں جگہ دیتی ہے،تو چراغِ سخن کا حاصل یہی ہوا کہ عاشوراء ان مبارک نسبتوں کے سبب بڑا ہی مقدس و مبارک دن ہے۔

عاشوراءکے دن صبر و شکر کا حکم

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو حکم کیا: ذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ انہیں (یعنی اپنی قوم کو) اللہ کے دن یاد دلاؤ،
أيام الله (اللہ کے دن) مفسرین نے اس کی تین تفسیر کی ہے،
۱) حضرت ابن عباس، ابی بن کعب، امام مجاہد اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ اللہ کے دن سے مراد اللہ کی نعمتیں ہیں،
۲) ابن زید، ابن السائب اور مقاتل کا قول ہے کہ ایام اللہ سے مراد وہ بڑے بڑے واقعات ہیں جو بحکمِ الٰہی ہوئے،
۳) زجاج کا قول ہے کہ ایام اللہ سے مراد صالحین پر انعام و اکرام اور سرکشوں پر عذاب کے دن ہیں،
تینوں قول میں قدرِ مشترک کے طور پر یہ حکم ہے کہ انعام و اکرام یا انعام کے دن کو یاد کرکے اس کا شکر کرو اور عذاب و آزمائش یا اس کے دن کو یاد کرکے عبرت لو، آزمائش اور طاعتِ خداوندی پر صبر کروجیسا کہ آیت کا اگلا جز بتلا رہا ہے: ان في ذلك لآيات لكل صبار شكور (بیشک اس میں ہر بڑے صبر کرنے والے، شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں)
ما سبق کی گفتگو سے واضح ہو چکا ہے کہ یومِ عاشوراء بھی انہیں ایام میں سے ہے کہ یہ بھی بے شمار انعام و اکرام اور آزمائش کا دن رہا ہے، لہٰذا اس آیت سے عاشوراء کے دن صبر و شکر کا حکم مستفاد ہوگا۔

صبر و شکر کی حقیقت اور اس سے عوام کا انحراف

شکر یعنی کیا؟ ڈھول تاشہ بجایا جائے؟ کھیل تماشہ اور میلہ لگایا جائے؟ اور صبر کا مطلب کیا؟ سینہ پیٹا جائے؟ ماتم منایا جائے؟
ہرگز نہیں! شکر منعم کی تعریف و توصیف کا نام ہے، منعم کی نافرمانی کا نہیں
حکم تو یہ تھا کہ خداوندِ قدوس کی عبادت کی جائے، تسبیح و تحلیل کی جائے، روزے رکھے جائیں، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کے ساحل پر لگنے کا شکر ادا کرتے ہوئے عاشوراء کا روزہ رکھا، اور خود ہمارے نبی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کی ترغیب بھی فرماتے۔
اگر یہ بدعات شکر ہیں تو یہ کیسی شترگربگی ہوگی کہ شکر تو ہے لیکن منعم کی تعظیم کا دور دور تک کوئی نشاں نہیں،
اور اگر یہ خرافاتیں صبر ہو جائیں تو یہ کیسی بو العجیبی ہوگی کہ صبر کا نام تو ہے، لیکن نہ تو آزمائشوں پر تحمل کا کوئی اثر ہے، نہ قیامِ مأمورات پر مواظبت اور نہ ترکِ منہیات پر مداومت۔ صبر تو ہزاروں آزمائشوں کے باوجود شکرِ خدا بجا لانے ، عبادتِ خداوندی کرکے نفس کو ماتم کرانے اور ترکِ ممنوعات و منہیات سے دل کی صفائی کرنے کا نام ہے ، انہیں تین چیزوں کو شریعت نے صبر کہا ہے اور یہی وہ صبر ہے جس کے بدل میں عونِ خداوندی کی معیت ملتی ہے، ان سے ہٹ کر کوئی چیز صبر نہیں ہو سکتی ہے ۔
یہ ساری چیزیں تو ایسی خرافاتیں ہیں کہ جس نے اس مبارک دن کے تقدس کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے، اور یہ ایسی بدعات ہیں جن کا تماشا دیکھ شربعت مطہرہ الاماں الاماں کی صدائیں لگانے لگی۔

عوامِ اہلِ سنت سے مخلصانہ گزارش

واسطہ خدا کا، سنی مسلمانوں ہوش میں آؤ، یوں بے دردی سے ان مقدس نسبتوں کا قتل نہ کرو!
یہ وہی دن ہے جس دن اللہ نے تمہارے اور ہمارے والد کی توبہ قبول کی تھی، یہ وہی دن ہے جس دن نواسۂ رسول نے حرمتِ اسلام کی خاطر اپنا اہل و عیال راہِ خدا میں قربان کر دیا تھا، یہ تو صبر و شکر کا دن ہے،
خدارا! یومِ عاشوراء کی ان مقدس نسبتوں کو کھیل تماشہ اور ماتم کی نذر نہ کیجیے، بلکہ اس دن کو صبر، شکر، عبادت اور اتباعِ سنت کا دن بنائیے، یہی انبیاء و شہدائے کربلا کا پیغام ہے اور یہی رضائے الٰہی کا راستہ ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ کی یہ خرافاتیں مسلک و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ گستاخانِ رسول انہی باتوں کو ہتھیار بنا کر عوام کے دلوں میں مسلکِ حق سے بدگمانی پیدا کر رہے ہیں۔ خدارا! اگر اپنی فکر نہیں تو کم از کم سنیت کے وقار اور مفاد کی فکر کریں۔فقط والسلام۔
از قلم : محمد شہزاد جامی متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف( 06299755836)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shahzad Jaami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
121
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Muhammad Shahzad Jaami
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢