صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
احوال وطن

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے اثرات
اس دنیا میں بہت سے ادیان و مذہب ہیں مگر سب میں سچا دین اسلام ہے اور سچا مذہب مسلکِ اعلیٰ حضرت۔ یہ دنیا کا نظام ہے کہ جو حق ہوتا ہے اس پر خوب حملے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے نئے نئے طریقے سے حملے ہوتے ہیں کہ جس تک کسی کا گمان بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ اس مضمون میں دینِ اسلام پر ہنود و دیگر دشمنانِ اسلام کس کس طریقے سے حملے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا کردار کیا ہے اس پر بیان کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ خیال رہے کہ دین اسلام ہی حق ہے اور بلا شبہ ہر زمانے میں دینِ اسلام پر کسی نہ کسی طریقے سے حملہ ہوتا ہی آ رہا ہے اور ہوتا بھی رہے گا۔ اس زمانے میں اسلام پر حملہ ہونا کوئی نئی بات نہیں سب ویسا ہی ہے نئے نئے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، مگر اِس زمانہ کے حملوں میں ایک فرق نظر آرہا ہے اور وہ فرق غفلت و بیداری، بزدلی و شجاعت کا ہے۔ پہلے جب بھی اسلام پر حملہ ہوا تو مسلمان اسلام کی عزت کے لیے جان تک دینے کو تیار رہتے اور جب دشمنانِ اسلام حملہ کرتے تو مسلمان اُن کو نیست و نابود کر دیتے۔
مگر لاکھ لاکھ افسوس کہ اِس زمانہ میں مسلمان غفلت کی چادر میں بزدلی کی کروٹ لے کر آرام سے سو رہا ہے۔ کوئی فکر ہی نہیں کہ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے تو باہر نکل کر اپنے دین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اگر خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ثابت قدمی کا اظہار کرنا چاہیے، مگر حالات کیا ہیں ؟ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمائے مبارک کو نشانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جا رہی ہے، قرآنِ پاک کی مسجد کے سامنے پولیس والوں کی نگرانی میں بے حرمتی کی جا رہی ہے، علانیہ مسلمانوں کے سامنے آکر جنت و دوزخ، جنت کی نعمتیں اور حوروں کو جھوٹا کہا جا رہا ہے، اسلام کو آتنگ مچانے والا دین بتایا جا رہا ہے، جس جس طرح کے گندے اور بے حیا طریقے کے حملے اور جتنے بھی گندے الزامات ہو سکتے تھے سب اسلام کی شان میں لگائے جا رہے ہیں، بچیوں کو ماں باپ سے دور کر کے ان کا ایمان چھین کر زندگی برباد کر کے قتل کر دیا جا رہا ہے، فتنۂ ارتداد پھیلتا ہی جا رہا ہے وغیرہ۔ دیکھیں حملے اس قدر اس تعداد میں ہو رہے ہیں اور مسلمان ایک ہی حالت میں ہے: غفلت اور بزدلی کی نیند میں۔ اے مسلمانو! بیدار ہو جاؤ اور اپنے رب اللہ تعالیٰ اور اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کے لیے آواز بلند کرو اور اپنے عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دو۔
اس مضمون میں ہم آپ کو ہنود و غیر مسلم کے کچھ حملوں کے بارے میں مطلع کرتے ہیں جس سے آپ ان لٹیروں سے اپنے ایمان کو بچا سکیں اور ہوشیار ہو کر اسلام کی خاطر باہر نکلیں ورنہ یاد رکھیں اگر غفلت ہی میں پڑے رہیں گے تو ایک زمانہ آئے گا کہ ہندوستان سے تو نکالے جائیں گے ہی مسلمانوں کے آتنگوادی ہونے کے نام پر نیز کسی بھی جگہ زندگی نہیں گزار پائیں گے۔
لاک‌ڈاؤن سے قبل:
پوری دنیا میں پھیلی بیماری Coronavirus میں پوری دنیا گھروں میں بند ہو گئی تھی، اس بیماری کے آنے سے پہلے ہندوستان کا کچھ اور ہی ماحول تھا جہاں ہندوستانی مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ یہ ہندوستان میں چالاکی سے گھسے ہیں اور ان سے ہندوستانی ہونے پر آباؤ اجداد کا ثبوت مانگا گیا، مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالا جائے اِس پر بہت کوششیں ہوئیں۔ اس بات پر بہت سی جگہوں میں بالخصوص شاہین باغ، نئی دہلی میں Protest ہوا تھا اس میں تو لوگ باہر نکلے مگر کیوں ؟ اپنے گھر بچانے کی نیت سے (نہ کہ اسلام کی خاطر) لیکن جب Lockdown کے بعد Russia میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کھلم کھلا گندی گستاخی کی گئی تب مسلمانوں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، کیوں ؟ تب سب کہاں تھے ؟ اس سے تو پتہ چل چلا کہ NRC اور CAA میں Protest کرنا اسلام کے لیے نہیں اپنے گھروں کے لیے تھا اور Protest بند ہوا Coronavirus کے آنے کی وجہ سے نہ کہ اس لیے کہ مسلمانوں کا Protest کامیاب ہوا۔
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہندو دھرم کے ایک پنڈت Narsinghanand Saraswati نے اسلام کو مٹانے کی بات کی تھی اور شانِ اقدس میں گندے کلمات بکے (معاذ اللہ تعالیٰ) ا ُس وقت کون کون اپنے سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی دیکھ سن کر باہر نکلا ؟ کوئی نہیں! بس گھروں میں بیٹھے شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی سن رہے تھے مگر اس کے خلاف جس طرح کی کوشش کرنی چاہیے تھی کسی نے نہ کی۔ کیا یہی مسلمان ہونے کی علامت ہے ؟ حضورِ اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں علانیہ گستاخی ہوئی اور مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اُس بدبخت کے خلاف قدم نہیں اٹھایا۔ یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
قرآن شریف کی شان میں گستاخی:
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہی وسیم نامی گستاخِ دین نے قرآنِ مقدس میں سے معاذ اللہ تقریباً ١٤؍آیتیں ہٹانے کو کہا۔ کلامِ پاک کی شان میں گستاخی ہوئی مگر مسلمانوں کو فرق کیسے پڑے گا ؟ جب بات گھر کی آئے گی سب کے قدم باہر آئیں گے مگر جب بات دینِ اسلام کی آئے گی کوئی باہر نہیں آئے گا۔ اپنی سستی کے اثرات اب دیکھے!

11؍مارچ 2022ء

11؍مارچ ٢٠٢٢ء؁ یہ وہ دن ہے جس دن دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں پر بہت گندا الزام لگایا اور اسلام کو قاتل دین ثابت کرنے کی گندی کوشش کی گئی۔ اس گندے حملے کا نام The Kashmiri Files ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 1990ء؁ اور 1992ء؁میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو ان کے گھروں سے ظلم کر کے نکال دیا اور مسلمانوں نے کہا یا تو کشمیر چھوڑ کر جاؤ یا اسلام قبول کرو، اگر کشمیر چھوڑو گے تو اپنی عورتوں کو ہمارے لیے چھوڑ کر جاؤ، معاذ اللہ!
نیز اس میں دکھایا کہ مسلمانوں کو اپنے بھائی حتیٰ کہ ماں کو بھی ناحق مارنا ہو تو مسلمان مار ڈالیں گے۔ بس فلم میں اسلام کو دوسروں کا قتل کرنے والا مذہب بتایا گیا ہے اور بھی اس میں کتنے گندے حملے ہوئے۔
اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کو ظالم بتا کر ہر مذہب میں فساد پھیلانے والا کون ہے ؟ یعنی اس فلم کی کہانی میں اسلام کے فرمان اور طریقے بتانے والا کون ہے ؟ اس خبیث کا نام Vivek Agnihotri ہے۔ ایک ہندو لکھ کر دکھائے گا ؟ کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی فسادی فلموں پر آواز اٹھانے کے بجائے سب سے زیادہ مسلمانوں نے یہ فلم دیکھی اور دشمنوں کے مقصد کو کامیاب کیا، نیز اسے سچ مان کر کچھ مسلمان ہونے پر صرف افسوس کیے اور بہتوں نے اسلام سے ہٹ کر دوسرا دین اختیار کر لیا اور مرتد ہو گئے، معاذ اللہ!
1990ء؁ میں کشمیر پر جس حملے کو دکھایا گیا ہے سب جھوٹ اور اسلام کی خاطر گندی سازش ہے۔ اصل میں دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دی جس سے مسلمان ہی آپس میں لڑنے لگے، اس موقع پر فائدہ اٹھا کر آتنک وادیوں یعنی Terrorists نے مسلمانوں کے لباس میں ہندوؤں پر حملہ کیا اور دشمنوں نے بڑی آسانی سے یہ الزام مسلمانوں پر لگا دیا کہ سبھی ہندو کو ناحق مارنے والے مسلمان ہیں۔
میرا یہ پیغام سب کے لیے ہے کہ فلموں اور کہانیوں پر نہیں بلکہ کتابوں اور حقیقت پر یقین رکھیں۔ اٹھاؤ تاریخ کی کتاب اور دکھاؤ کیا حقیقت میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو گھر سے نکالا ؟ اور ناحق قتل کیا ؟ افسوس صد افسوس کئی مسلمان یہ فلم دیکھ کر دین بدل رہے ہیں، کیا اسلام پر اتنا کمزور ایمان ہے کہ کوئی بھی آ کر اسلام کے خلاف کچھ کہے گا اور مان لیا جائے گا ؟ اس فلم میں دکھایا کہ علماء ہندو پنڈتوں سے اپنی عورتیں مسلمانوں کے لیے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں (معاذ اللہ) یاد رکھیں دنیا میں عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی، زندہ دفن ہوتی تھیں اور ہوتی رہتیں، برہنہ بازار میں بیچی جا رہی تھیں اور یہی حال آج بھی رہتا، جوتے کی نوک تک ہی عورتوں کے عزت تھی۔ اگر کسی نے عورتوں کی گرتی عزت کو بلند کیا ہے تو وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، زندہ دفن ہونے سے بچایا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، عورتوں کا مقام بتایا ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، اِسی دینِ اسلام نے عورتوں اور بچیوں کو بے عزت سے باعزت بنایا اور خوب عزت سے نوازا، اسی اسلام پر قائم مسلمان اتنی گندی بات کہہ سکتے ہیں وہ بھی مساجد کے اندر ؟ ہرگز نہیں!
پھر اس فلم میں مسلمانوں کو بھائی اور ماں کو بھی قتل کرنے ملے تو وہ کریں گے ایسا دکھایا، یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ناحق مارے جانے والوں کے قصاص کا حکم فرمایا اور رب تعالیٰ نے کسی کا بھی مسلم، ہنود، عیسائی وغیرہ کسی کا بھی مال ناحق کھانے کو حرام فرمایا، اللہ پاک نے ماں باپ کے لیے اف تک کہنا حرام فرمایا اور میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی انہیں عورتوں کو عزت سے نوازا، یہ ہے اسلام کی تعلیم۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے حق دینا سکھایا اور چھیننے سے منع کیا۔ وہ اسلام ایسی گندی تعلیم دے سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں!
آج مسلمان ان گھٹیا فلموں کی وجہ سے اپنا ایمان بدل رہے ہیں وہ ان دلائل سے ہوش میں آئیں، اور سبھی لوگ ان کے فریب کو سمجھیں اور ان دشمنوں کے فریب میں نہ آئیں بلکہ اپنے دین کے لیے ان کے خلاف آواز اٹھائیں، ان فلموں کی کہانی مسلم غیر مسلم کے درمیان لڑائی پیدا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے بیچ جنگ کرانے کے لیے کہانی دکھائی جا رہی ہے۔ بھولے بھالے لوگ بہک جا رہے ہیں۔ مسلمان تو معاذ اللہ ایمان ہی بدل دے رہے ہیں اور غیر مسلم بھی جھوٹ میں پھنس کر مسلمانوں سے قتال کرنے کو تیار ہیں۔ اگر یہ کہانی سچ ہے تو ثابت کیا جائے، سچی History دکھائی جائے ورنہ ایسی فلموں پر روک لگائی جائے اور فساد مچانے والوں کو سزا دی جائے۔
شانِ رسول میں گستاخی:
ایک اور ہنود نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گندے الفاظ بکے جس کا نام Nupoor Sharma ہے، اس کے خلاف بھی ملک میں کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں مسلمان ان کے کسی بڑے پر انگلی اٹھائے تو جیل تو ہونی ہی ہے سیدھے جان سے مارنے کی سزا دی جائے گی، مگر غیر مسلم میں جس کا دل چاہے اسلام اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے اور سزا کچھ نہیں دی جاتی۔ مگر مسلمان صرف آواز بلند کر دے تو فسادی اور قانون توڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اب عقلمند خود فیصلہ کر لیں کہ فسادی مسلمان ہوئے ؟ جن پر ہر قسم کے قانون لگائے جاتے ہیں کہ ہمیں جینے نہ ملے یا غیر مسلم جو کسی کے مذہب پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ؟ اے مسلمانو! ان حالات کو بدلو۔

5 مئی 2023

پھر سے فلم جیسی گندی چیز کے ذریعے ہندو و مسلمان کے درمیان فساد مچانے کی کوشش کی گئی اور اسلام پر حملہ کیا گیا۔ اِس حملے کا نام The Kerala Story ہے۔ اِس فلم میں سب سے بڑا جھوٹ جو کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ (معاذ اللہ) اسلام لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان ہنود و عیسائی وغیرہ غیر مسلم کی بیٹیوں کو پھنسائیں اور اُن کو ان سے مذہب سے ہٹا دیں اور شادی کرکے فائدہ اٹھا لیں اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر قتل کر دیں۔ اللہ پاک کی لعنت ہو ان دشمنانِ اسلام پر۔
اس فلم سے سب سے زیادہ تین فساد ہوئے: (١) ایک تو یہ کہ سب کے درمیان نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور جھوٹ دکھا کر ہنود و مسلمان کے درمیان فساد پھیلا دیا گیا۔ (٢) اس فلم کو سچ جان کر مسلمان اسلام سے ہٹ جا رہے ہیں۔ (٣) اسلام پر گندے حملے کیے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔ اسلام و قرآن میں صرف تبلیغ کا حکم ہے ظلم کرکے ہرگز اسلام قبول کرانے کا حکم نہیں۔ پھر حضور اکرم رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کو کافروں نے اِس قدر ستانا شروع کیا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں پر حملہ کرنے لگے تو اپنی جان کی حفاظت کے لیے خدائے ذوالجلال نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر جہاں ملیں قتل کردو۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا اور اس کو غلط طریقے سے اِس زمانہ میں دکھا کر فساد پھیلایا جا رہا ہے۔ اگر اُس وقت مسلمانوں کا اپنی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنا غلط تھا یا غلط ہے تو کوئی قیدی جیل سے فرار ہو جائے تو اسے کیوں جان سے مارنے کا Order دیا جاتا ہے ؟ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو ہی اپنے دین و جان کی حفاظت کے لیے لڑنا۔ میرا سوال ہے کہ اگر کوئی آپ کے گھر پر حملہ کرے تو کیا کنارے کھڑے دیکھتے رہیں گے ؟ نہیں! تو کفار بھی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور عورتوں پر حملہ کر رہے تھے تب خدائے پاک نے حکم دیا کہ جہاں ملیں وہاں ان پر حملہ کرو۔ قرآنِ پاک میں ہے: لَآ اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سیدھی راہ دکھانے کا حکم مولیٰ عزوجل نے دیا ظلم کرکے اسلام قبول کروانے کا نہیں اور نہ یہ حکم دیا گیا کہ دوسروں کو ان کے مذہب سے خود کے فائدے کے لیے ہٹاؤ۔
ایک اور بات یہ کہ اس میں مسلمان صرف لڑکیوں کو ان کے دھرم سے ہٹا رہے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ چال ہے اسلام پر گندہ حملہ کرنے کی، اگر سچ میں اسلام دوسروں کو ان کے دھرم سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے تو لڑکا اور لڑکی سب آتے اور جس اسلام نے عورتوں کی عزت بچائی کیسے وہی اسلام ان کی عزت سے کھیلنے کا درس دے گا ؟ ثابت ہو گیا کہ یہ ساری فلمیں جھوٹی اور فساد پھیلانے کے لیے دکھائی جا رہی ہے۔ سرکارِ دو جہاں مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد صحابہ و اولیاء و علماء نے بھی تبلیغ پُرسکون انداز میں فرمائی ہے، نہ کسی کی عزت لوٹی گئی نہ ظلم ہوا۔
اب ایک اور خلاصہ کہ The Kashmiri Files کی طرح اس فلم کی کہانی لکھنے والے بھی مسلمان نہیں۔ Suryapal Singh اور Sudipto Sen اور Vipul Amrutlal Shah نے کہانی لکھی اور جھوٹ دکھایا۔ یہ تینوں ہندو ہو کر ہمارے دین کے بارے میں کچھ بھی دکھائیں اور ہم یقین کر لیں ؟ ہرگز نہیں! اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے امتیو! ان کے فریب میں نہ آؤ اور اپنے حق دین سے نہ پھرو!

٧٢؍حوریں

یہ بھی ایک فسادی فلم ہے جو ٧؍جولائی 2023ء؁ کو دکھائی گئی۔ The Kashmiri Files کے 13/مہینہ 24/دن بعد ہی اتنی کم مدت میں The Kerala Story بن گئی اور دکھائی گئی اور پھر دو مہینہ دو دن بعد ایک اور حملہ کیا گیا 72 Hooren کے نام سے۔ جو بھی فلم بنائی جاتی ہے کم سے کم تین سے چار سال لگتا ہے مگر دشمنوں نے کیا چال چلی کہ صرف ایک سال یا دو مہینہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ یعنی: سارے حملے پہلے سے تیار ہیں۔ کیا اتنی دلیل کافی نہیں یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ سب جھوٹ، نفرت اور فساد مچانے کے لیے بنایا اور دکھایا گیا ہے ؟ ان دو فلموں کو مسلم و غیر مسلم کے درمیان سخت نفرت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے مگر 72 حوریں میں صاف اور سیدھے اسلام پر حملہ ہوا۔ اس میں دکھایا گیا کہ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ ہندوؤں کو ناحق قتل کر دو تم کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی معاذ اللہ! پہلی بات جب اسلام اس دنیا میں پھیل رہا تھا تو ہندوؤں کا وجود آیا کہاں سے ؟ اور کفار کو قتل کرنے کا حکم تو قرآنِ پاک میں آیا تو وہ اُس وقت کے لیے تھا اور اپنی جان بچانے کے لیے۔ یہ سب آیتیں حق ہیں اور حکم ایک وقت کے لیے تھا۔ خود اللہ پاک نے ناحق قتل کرنے والوں کی سزا مقرر فرمائی ہے، اے دشمنو! تم اپنے جال میں خود پھنس گئے! میرے رحیم و کریم رب تعالیٰ کی قدرت تم کیا جانو ؟
دوسری بات اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے انسانیت سکھائی ہے تو اسلام ایسا درس کیونکر دے گا ؟ اس فلم میں دکھایا گیا کہ مسلمان جنت اور حوروں کے لالچ میں ہندوؤں کو قتل کر رہے ہیں۔
قرآن و حدیث سے علمائے کرام نے فرمایا: اے لوگو! یاد رکھنا جب تک دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہیں ہوگا عشقِ انبیاء و صحابہ و اولیاء نہیں ہوگا تب تک جنت قطعی نہیں ملے گی یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اے دشمنو! تم پھر سے پھنس گئے، ہم مسلمانوں کو جنت کی نہیں اللہ و رسول ﷺ کی خواہش رہتی ہے! ہمارے دین نے کہیں کبھی ہندو کو جنت کے لیے مارنا نہیں بتایا یہ بھی ہندوؤں کی سازشیں ہیں جن میں لوگ (معاذ اللہ) پھنس بھی جا رہے ہیں۔ اس فلم کی کہانی لکھنے اور دکھا کر نفرت پھیلانے والا Anil Pandey ہے۔ میرا ایک سوال ہے کہ وہ ہندو جس کو یہ بھی نامعلوم ہو کے ”ب“ میں نقطہ کہاں رہے گا وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ دینِ اسلام کیا کیا حکم دیتا ہے ؟ ہاں یہ سب دشمنانِ اسلام اور مرتدین ضرور کچھ ادھوری باتوں کو جان کر فسادی بنا کر سب کے سامنے لا کر اسلام پر حملہ کرتے ہیں، جو کہ ہر اہلِ عقل کے نزدیک برا اور کارِ لائقِ سزا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پیغامِ برکات: اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے سرکارِ دو جہاں ﷺ کے امتیو! ابھی وقت ہے جاگو اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے باہر نکلو۔ غور کرو کیسے اور کتنی تیزی سے کتنے نئے اور گندے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے۔ ابھی وقت ہے بیدار ہو جاؤ تاکہ ایسی فلمیں نام نہ بنیں اور نفرت نہ پھیلے، اور اسلام پر اور حملے نہ ہوں ورنہ دور نہیں تم ایسی فلموں ہی کے ذریعے اپنے ہی گھروں سے باہر پھینک دیے جاؤ گے اور اپنے وطن ہندوستان کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے گا۔ اتنا اشارہ کافی ہے بات سمجھانے کے لیے کہ یہ بات کتنی پیچیدہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان سب فلموں پر اور پوری تحقیق کر کے ان کا پردہ سب کے سامنے فاش کیا جائے گا۔ اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، دشمنانِ اسلام سے ہمارے مذہب مہذب کی حفاظت فرمائے، ہمیں دینِ اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
٢٦؍محرم الحرام ؁١٤٤٥ھ

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے اثرات
اس دنیا میں بہت سے ادیان و مذہب ہیں مگر سب میں سچا دین اسلام ہے اور سچا مذہب مسلکِ اعلیٰ حضرت۔ یہ دنیا کا نظام ہے کہ جو حق ہوتا ہے اس پر خوب حملے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے نئے نئے طریقے سے حملے ہوتے ہیں کہ جس تک کسی کا گمان بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ اس مضمون میں دینِ اسلام پر ہنود و دیگر دشمنانِ اسلام کس کس طریقے سے حملے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا کردار کیا ہے اس پر بیان کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ خیال رہے کہ دین اسلام ہی حق ہے اور بلا شبہ ہر زمانے میں دینِ اسلام پر کسی نہ کسی طریقے سے حملہ ہوتا ہی آ رہا ہے اور ہوتا بھی رہے گا۔ اس زمانے میں اسلام پر حملہ ہونا کوئی نئی بات نہیں سب ویسا ہی ہے نئے نئے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، مگر اِس زمانہ کے حملوں میں ایک فرق نظر آرہا ہے اور وہ فرق غفلت و بیداری، بزدلی و شجاعت کا ہے۔ پہلے جب بھی اسلام پر حملہ ہوا تو مسلمان اسلام کی عزت کے لیے جان تک دینے کو تیار رہتے اور جب دشمنانِ اسلام حملہ کرتے تو مسلمان اُن کو نیست و نابود کر دیتے۔
مگر لاکھ لاکھ افسوس کہ اِس زمانہ میں مسلمان غفلت کی چادر میں بزدلی کی کروٹ لے کر آرام سے سو رہا ہے۔ کوئی فکر ہی نہیں کہ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے تو باہر نکل کر اپنے دین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اگر خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ثابت قدمی کا اظہار کرنا چاہیے، مگر حالات کیا ہیں ؟ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمائے مبارک کو نشانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جا رہی ہے، قرآنِ پاک کی مسجد کے سامنے پولیس والوں کی نگرانی میں بے حرمتی کی جا رہی ہے، علانیہ مسلمانوں کے سامنے آکر جنت و دوزخ، جنت کی نعمتیں اور حوروں کو جھوٹا کہا جا رہا ہے، اسلام کو آتنگ مچانے والا دین بتایا جا رہا ہے، جس جس طرح کے گندے اور بے حیا طریقے کے حملے اور جتنے بھی گندے الزامات ہو سکتے تھے سب اسلام کی شان میں لگائے جا رہے ہیں، بچیوں کو ماں باپ سے دور کر کے ان کا ایمان چھین کر زندگی برباد کر کے قتل کر دیا جا رہا ہے، فتنۂ ارتداد پھیلتا ہی جا رہا ہے وغیرہ۔ دیکھیں حملے اس قدر اس تعداد میں ہو رہے ہیں اور مسلمان ایک ہی حالت میں ہے: غفلت اور بزدلی کی نیند میں۔ اے مسلمانو! بیدار ہو جاؤ اور اپنے رب اللہ تعالیٰ اور اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کے لیے آواز بلند کرو اور اپنے عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دو۔
اس مضمون میں ہم آپ کو ہنود و غیر مسلم کے کچھ حملوں کے بارے میں مطلع کرتے ہیں جس سے آپ ان لٹیروں سے اپنے ایمان کو بچا سکیں اور ہوشیار ہو کر اسلام کی خاطر باہر نکلیں ورنہ یاد رکھیں اگر غفلت ہی میں پڑے رہیں گے تو ایک زمانہ آئے گا کہ ہندوستان سے تو نکالے جائیں گے ہی مسلمانوں کے آتنگوادی ہونے کے نام پر نیز کسی بھی جگہ زندگی نہیں گزار پائیں گے۔
لاک‌ڈاؤن سے قبل:
پوری دنیا میں پھیلی بیماری Coronavirus میں پوری دنیا گھروں میں بند ہو گئی تھی، اس بیماری کے آنے سے پہلے ہندوستان کا کچھ اور ہی ماحول تھا جہاں ہندوستانی مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ یہ ہندوستان میں چالاکی سے گھسے ہیں اور ان سے ہندوستانی ہونے پر آباؤ اجداد کا ثبوت مانگا گیا، مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالا جائے اِس پر بہت کوششیں ہوئیں۔ اس بات پر بہت سی جگہوں میں بالخصوص شاہین باغ، نئی دہلی میں Protest ہوا تھا اس میں تو لوگ باہر نکلے مگر کیوں ؟ اپنے گھر بچانے کی نیت سے (نہ کہ اسلام کی خاطر) لیکن جب Lockdown کے بعد Russia میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کھلم کھلا گندی گستاخی کی گئی تب مسلمانوں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، کیوں ؟ تب سب کہاں تھے ؟ اس سے تو پتہ چل چلا کہ NRC اور CAA میں Protest کرنا اسلام کے لیے نہیں اپنے گھروں کے لیے تھا اور Protest بند ہوا Coronavirus کے آنے کی وجہ سے نہ کہ اس لیے کہ مسلمانوں کا Protest کامیاب ہوا۔
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہندو دھرم کے ایک پنڈت Narsinghanand Saraswati نے اسلام کو مٹانے کی بات کی تھی اور شانِ اقدس میں گندے کلمات بکے (معاذ اللہ تعالیٰ) ا ُس وقت کون کون اپنے سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی دیکھ سن کر باہر نکلا ؟ کوئی نہیں! بس گھروں میں بیٹھے شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی سن رہے تھے مگر اس کے خلاف جس طرح کی کوشش کرنی چاہیے تھی کسی نے نہ کی۔ کیا یہی مسلمان ہونے کی علامت ہے ؟ حضورِ اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں علانیہ گستاخی ہوئی اور مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اُس بدبخت کے خلاف قدم نہیں اٹھایا۔ یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
قرآن شریف کی شان میں گستاخی:
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہی وسیم نامی گستاخِ دین نے قرآنِ مقدس میں سے معاذ اللہ تقریباً ١٤؍آیتیں ہٹانے کو کہا۔ کلامِ پاک کی شان میں گستاخی ہوئی مگر مسلمانوں کو فرق کیسے پڑے گا ؟ جب بات گھر کی آئے گی سب کے قدم باہر آئیں گے مگر جب بات دینِ اسلام کی آئے گی کوئی باہر نہیں آئے گا۔ اپنی سستی کے اثرات اب دیکھے!

11؍مارچ 2022ء

11؍مارچ ٢٠٢٢ء؁ یہ وہ دن ہے جس دن دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں پر بہت گندا الزام لگایا اور اسلام کو قاتل دین ثابت کرنے کی گندی کوشش کی گئی۔ اس گندے حملے کا نام The Kashmiri Files ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 1990ء؁ اور 1992ء؁میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو ان کے گھروں سے ظلم کر کے نکال دیا اور مسلمانوں نے کہا یا تو کشمیر چھوڑ کر جاؤ یا اسلام قبول کرو، اگر کشمیر چھوڑو گے تو اپنی عورتوں کو ہمارے لیے چھوڑ کر جاؤ، معاذ اللہ!
نیز اس میں دکھایا کہ مسلمانوں کو اپنے بھائی حتیٰ کہ ماں کو بھی ناحق مارنا ہو تو مسلمان مار ڈالیں گے۔ بس فلم میں اسلام کو دوسروں کا قتل کرنے والا مذہب بتایا گیا ہے اور بھی اس میں کتنے گندے حملے ہوئے۔
اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کو ظالم بتا کر ہر مذہب میں فساد پھیلانے والا کون ہے ؟ یعنی اس فلم کی کہانی میں اسلام کے فرمان اور طریقے بتانے والا کون ہے ؟ اس خبیث کا نام Vivek Agnihotri ہے۔ ایک ہندو لکھ کر دکھائے گا ؟ کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی فسادی فلموں پر آواز اٹھانے کے بجائے سب سے زیادہ مسلمانوں نے یہ فلم دیکھی اور دشمنوں کے مقصد کو کامیاب کیا، نیز اسے سچ مان کر کچھ مسلمان ہونے پر صرف افسوس کیے اور بہتوں نے اسلام سے ہٹ کر دوسرا دین اختیار کر لیا اور مرتد ہو گئے، معاذ اللہ!
1990ء؁ میں کشمیر پر جس حملے کو دکھایا گیا ہے سب جھوٹ اور اسلام کی خاطر گندی سازش ہے۔ اصل میں دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دی جس سے مسلمان ہی آپس میں لڑنے لگے، اس موقع پر فائدہ اٹھا کر آتنک وادیوں یعنی Terrorists نے مسلمانوں کے لباس میں ہندوؤں پر حملہ کیا اور دشمنوں نے بڑی آسانی سے یہ الزام مسلمانوں پر لگا دیا کہ سبھی ہندو کو ناحق مارنے والے مسلمان ہیں۔
میرا یہ پیغام سب کے لیے ہے کہ فلموں اور کہانیوں پر نہیں بلکہ کتابوں اور حقیقت پر یقین رکھیں۔ اٹھاؤ تاریخ کی کتاب اور دکھاؤ کیا حقیقت میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو گھر سے نکالا ؟ اور ناحق قتل کیا ؟ افسوس صد افسوس کئی مسلمان یہ فلم دیکھ کر دین بدل رہے ہیں، کیا اسلام پر اتنا کمزور ایمان ہے کہ کوئی بھی آ کر اسلام کے خلاف کچھ کہے گا اور مان لیا جائے گا ؟ اس فلم میں دکھایا کہ علماء ہندو پنڈتوں سے اپنی عورتیں مسلمانوں کے لیے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں (معاذ اللہ) یاد رکھیں دنیا میں عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی، زندہ دفن ہوتی تھیں اور ہوتی رہتیں، برہنہ بازار میں بیچی جا رہی تھیں اور یہی حال آج بھی رہتا، جوتے کی نوک تک ہی عورتوں کے عزت تھی۔ اگر کسی نے عورتوں کی گرتی عزت کو بلند کیا ہے تو وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، زندہ دفن ہونے سے بچایا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، عورتوں کا مقام بتایا ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، اِسی دینِ اسلام نے عورتوں اور بچیوں کو بے عزت سے باعزت بنایا اور خوب عزت سے نوازا، اسی اسلام پر قائم مسلمان اتنی گندی بات کہہ سکتے ہیں وہ بھی مساجد کے اندر ؟ ہرگز نہیں!
پھر اس فلم میں مسلمانوں کو بھائی اور ماں کو بھی قتل کرنے ملے تو وہ کریں گے ایسا دکھایا، یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ناحق مارے جانے والوں کے قصاص کا حکم فرمایا اور رب تعالیٰ نے کسی کا بھی مسلم، ہنود، عیسائی وغیرہ کسی کا بھی مال ناحق کھانے کو حرام فرمایا، اللہ پاک نے ماں باپ کے لیے اف تک کہنا حرام فرمایا اور میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی انہیں عورتوں کو عزت سے نوازا، یہ ہے اسلام کی تعلیم۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے حق دینا سکھایا اور چھیننے سے منع کیا۔ وہ اسلام ایسی گندی تعلیم دے سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں!
آج مسلمان ان گھٹیا فلموں کی وجہ سے اپنا ایمان بدل رہے ہیں وہ ان دلائل سے ہوش میں آئیں، اور سبھی لوگ ان کے فریب کو سمجھیں اور ان دشمنوں کے فریب میں نہ آئیں بلکہ اپنے دین کے لیے ان کے خلاف آواز اٹھائیں، ان فلموں کی کہانی مسلم غیر مسلم کے درمیان لڑائی پیدا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے بیچ جنگ کرانے کے لیے کہانی دکھائی جا رہی ہے۔ بھولے بھالے لوگ بہک جا رہے ہیں۔ مسلمان تو معاذ اللہ ایمان ہی بدل دے رہے ہیں اور غیر مسلم بھی جھوٹ میں پھنس کر مسلمانوں سے قتال کرنے کو تیار ہیں۔ اگر یہ کہانی سچ ہے تو ثابت کیا جائے، سچی History دکھائی جائے ورنہ ایسی فلموں پر روک لگائی جائے اور فساد مچانے والوں کو سزا دی جائے۔
شانِ رسول میں گستاخی:
ایک اور ہنود نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گندے الفاظ بکے جس کا نام Nupoor Sharma ہے، اس کے خلاف بھی ملک میں کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں مسلمان ان کے کسی بڑے پر انگلی اٹھائے تو جیل تو ہونی ہی ہے سیدھے جان سے مارنے کی سزا دی جائے گی، مگر غیر مسلم میں جس کا دل چاہے اسلام اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے اور سزا کچھ نہیں دی جاتی۔ مگر مسلمان صرف آواز بلند کر دے تو فسادی اور قانون توڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اب عقلمند خود فیصلہ کر لیں کہ فسادی مسلمان ہوئے ؟ جن پر ہر قسم کے قانون لگائے جاتے ہیں کہ ہمیں جینے نہ ملے یا غیر مسلم جو کسی کے مذہب پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ؟ اے مسلمانو! ان حالات کو بدلو۔

5 مئی 2023

پھر سے فلم جیسی گندی چیز کے ذریعے ہندو و مسلمان کے درمیان فساد مچانے کی کوشش کی گئی اور اسلام پر حملہ کیا گیا۔ اِس حملے کا نام The Kerala Story ہے۔ اِس فلم میں سب سے بڑا جھوٹ جو کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ (معاذ اللہ) اسلام لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان ہنود و عیسائی وغیرہ غیر مسلم کی بیٹیوں کو پھنسائیں اور اُن کو ان سے مذہب سے ہٹا دیں اور شادی کرکے فائدہ اٹھا لیں اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر قتل کر دیں۔ اللہ پاک کی لعنت ہو ان دشمنانِ اسلام پر۔
اس فلم سے سب سے زیادہ تین فساد ہوئے: (١) ایک تو یہ کہ سب کے درمیان نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور جھوٹ دکھا کر ہنود و مسلمان کے درمیان فساد پھیلا دیا گیا۔ (٢) اس فلم کو سچ جان کر مسلمان اسلام سے ہٹ جا رہے ہیں۔ (٣) اسلام پر گندے حملے کیے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔ اسلام و قرآن میں صرف تبلیغ کا حکم ہے ظلم کرکے ہرگز اسلام قبول کرانے کا حکم نہیں۔ پھر حضور اکرم رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کو کافروں نے اِس قدر ستانا شروع کیا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں پر حملہ کرنے لگے تو اپنی جان کی حفاظت کے لیے خدائے ذوالجلال نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر جہاں ملیں قتل کردو۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا اور اس کو غلط طریقے سے اِس زمانہ میں دکھا کر فساد پھیلایا جا رہا ہے۔ اگر اُس وقت مسلمانوں کا اپنی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنا غلط تھا یا غلط ہے تو کوئی قیدی جیل سے فرار ہو جائے تو اسے کیوں جان سے مارنے کا Order دیا جاتا ہے ؟ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو ہی اپنے دین و جان کی حفاظت کے لیے لڑنا۔ میرا سوال ہے کہ اگر کوئی آپ کے گھر پر حملہ کرے تو کیا کنارے کھڑے دیکھتے رہیں گے ؟ نہیں! تو کفار بھی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور عورتوں پر حملہ کر رہے تھے تب خدائے پاک نے حکم دیا کہ جہاں ملیں وہاں ان پر حملہ کرو۔ قرآنِ پاک میں ہے: لَآ اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سیدھی راہ دکھانے کا حکم مولیٰ عزوجل نے دیا ظلم کرکے اسلام قبول کروانے کا نہیں اور نہ یہ حکم دیا گیا کہ دوسروں کو ان کے مذہب سے خود کے فائدے کے لیے ہٹاؤ۔
ایک اور بات یہ کہ اس میں مسلمان صرف لڑکیوں کو ان کے دھرم سے ہٹا رہے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ چال ہے اسلام پر گندہ حملہ کرنے کی، اگر سچ میں اسلام دوسروں کو ان کے دھرم سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے تو لڑکا اور لڑکی سب آتے اور جس اسلام نے عورتوں کی عزت بچائی کیسے وہی اسلام ان کی عزت سے کھیلنے کا درس دے گا ؟ ثابت ہو گیا کہ یہ ساری فلمیں جھوٹی اور فساد پھیلانے کے لیے دکھائی جا رہی ہے۔ سرکارِ دو جہاں مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد صحابہ و اولیاء و علماء نے بھی تبلیغ پُرسکون انداز میں فرمائی ہے، نہ کسی کی عزت لوٹی گئی نہ ظلم ہوا۔
اب ایک اور خلاصہ کہ The Kashmiri Files کی طرح اس فلم کی کہانی لکھنے والے بھی مسلمان نہیں۔ Suryapal Singh اور Sudipto Sen اور Vipul Amrutlal Shah نے کہانی لکھی اور جھوٹ دکھایا۔ یہ تینوں ہندو ہو کر ہمارے دین کے بارے میں کچھ بھی دکھائیں اور ہم یقین کر لیں ؟ ہرگز نہیں! اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے امتیو! ان کے فریب میں نہ آؤ اور اپنے حق دین سے نہ پھرو!

٧٢؍حوریں

یہ بھی ایک فسادی فلم ہے جو ٧؍جولائی 2023ء؁ کو دکھائی گئی۔ The Kashmiri Files کے 13/مہینہ 24/دن بعد ہی اتنی کم مدت میں The Kerala Story بن گئی اور دکھائی گئی اور پھر دو مہینہ دو دن بعد ایک اور حملہ کیا گیا 72 Hooren کے نام سے۔ جو بھی فلم بنائی جاتی ہے کم سے کم تین سے چار سال لگتا ہے مگر دشمنوں نے کیا چال چلی کہ صرف ایک سال یا دو مہینہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ یعنی: سارے حملے پہلے سے تیار ہیں۔ کیا اتنی دلیل کافی نہیں یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ سب جھوٹ، نفرت اور فساد مچانے کے لیے بنایا اور دکھایا گیا ہے ؟ ان دو فلموں کو مسلم و غیر مسلم کے درمیان سخت نفرت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے مگر 72 حوریں میں صاف اور سیدھے اسلام پر حملہ ہوا۔ اس میں دکھایا گیا کہ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ ہندوؤں کو ناحق قتل کر دو تم کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی معاذ اللہ! پہلی بات جب اسلام اس دنیا میں پھیل رہا تھا تو ہندوؤں کا وجود آیا کہاں سے ؟ اور کفار کو قتل کرنے کا حکم تو قرآنِ پاک میں آیا تو وہ اُس وقت کے لیے تھا اور اپنی جان بچانے کے لیے۔ یہ سب آیتیں حق ہیں اور حکم ایک وقت کے لیے تھا۔ خود اللہ پاک نے ناحق قتل کرنے والوں کی سزا مقرر فرمائی ہے، اے دشمنو! تم اپنے جال میں خود پھنس گئے! میرے رحیم و کریم رب تعالیٰ کی قدرت تم کیا جانو ؟
دوسری بات اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے انسانیت سکھائی ہے تو اسلام ایسا درس کیونکر دے گا ؟ اس فلم میں دکھایا گیا کہ مسلمان جنت اور حوروں کے لالچ میں ہندوؤں کو قتل کر رہے ہیں۔
قرآن و حدیث سے علمائے کرام نے فرمایا: اے لوگو! یاد رکھنا جب تک دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہیں ہوگا عشقِ انبیاء و صحابہ و اولیاء نہیں ہوگا تب تک جنت قطعی نہیں ملے گی یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اے دشمنو! تم پھر سے پھنس گئے، ہم مسلمانوں کو جنت کی نہیں اللہ و رسول ﷺ کی خواہش رہتی ہے! ہمارے دین نے کہیں کبھی ہندو کو جنت کے لیے مارنا نہیں بتایا یہ بھی ہندوؤں کی سازشیں ہیں جن میں لوگ (معاذ اللہ) پھنس بھی جا رہے ہیں۔ اس فلم کی کہانی لکھنے اور دکھا کر نفرت پھیلانے والا Anil Pandey ہے۔ میرا ایک سوال ہے کہ وہ ہندو جس کو یہ بھی نامعلوم ہو کے ”ب“ میں نقطہ کہاں رہے گا وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ دینِ اسلام کیا کیا حکم دیتا ہے ؟ ہاں یہ سب دشمنانِ اسلام اور مرتدین ضرور کچھ ادھوری باتوں کو جان کر فسادی بنا کر سب کے سامنے لا کر اسلام پر حملہ کرتے ہیں، جو کہ ہر اہلِ عقل کے نزدیک برا اور کارِ لائقِ سزا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پیغامِ برکات: اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے سرکارِ دو جہاں ﷺ کے امتیو! ابھی وقت ہے جاگو اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے باہر نکلو۔ غور کرو کیسے اور کتنی تیزی سے کتنے نئے اور گندے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے۔ ابھی وقت ہے بیدار ہو جاؤ تاکہ ایسی فلمیں نام نہ بنیں اور نفرت نہ پھیلے، اور اسلام پر اور حملے نہ ہوں ورنہ دور نہیں تم ایسی فلموں ہی کے ذریعے اپنے ہی گھروں سے باہر پھینک دیے جاؤ گے اور اپنے وطن ہندوستان کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے گا۔ اتنا اشارہ کافی ہے بات سمجھانے کے لیے کہ یہ بات کتنی پیچیدہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان سب فلموں پر اور پوری تحقیق کر کے ان کا پردہ سب کے سامنے فاش کیا جائے گا۔ اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، دشمنانِ اسلام سے ہمارے مذہب مہذب کی حفاظت فرمائے، ہمیں دینِ اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
٢٦؍محرم الحرام ؁١٤٤٥ھ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
4
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢