صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی
شخصیات اسلاف واخلاف

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
ساحل گیا کہ دل کا نگینہ چلا گیا
اک تیر چیر کر مرا سینہ چلا گیا
١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ صبح سویرے دل سوز خبر موصول ہوئی کہ سیاح وقت، رونق ممبر و محراب، عندلیب چمنستان رضا، زینت مسند فقہ و افتا، راہ سلوک کے پاسباں، فقیہ دوراں، ادیب و نکتہ داں، خطیب خوش بیاں، قسیم بادۂ عرفاں، عاشق شہ کون و مکاں، مطیع احکام یزداں، معتمد ازہری، منتخب واسطی، منظور نظر مارہروی، صاحب التصانیف الرائقہ والتحقیقات الفائقہ والتدقیقات الشائقہ خلیفۂ تاج الشریعہ و سید اویس مصطفی عامل نبیل ، فاضل، جلیل اتخذہ اللہ الخلیل علامہ فہامہ مفتی ڈاکٹر محمد ارشاد احمد رضوی المعروف بہ ساحل شہسرامی علیگ مصباحی قادری قدس اللہ سرہ و عمم برہ و تمم نورہ و اعظم اجرہ و اکرم نزلہ و انعم منزلہ لذت جام وصال سے شادکام ہو گئے، آنکھیں کھلیں، چھندھیائیں، اشکبار ہو گئیں زباں سے برجستہ نکلا
انا للہ و انا الیہ رٰجعون
اب دل کو قرار نہ جاں کو سکون
غمگین دل ہے دیدۂ پرنم اداس ہے
تم کیا گئے کہ محفل عالم اداس ہے
دل کو قرار ہے نہ سکوں روح کو جسیم
یہ کیا ہوا کہ زندگی یکدم اداس ہے
دل تو ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا لیکن پھر اللہ جل جلالہ کے قضاء و قدر کے آگے سر نیازمند جھکا دیا اور گویا ہوا
کرم اپنا کرے تجھ پر لحد میں
شہ کون و مکاں ارشاد ساحل
محرم کا مہینہ سترہ تاریخ
چلے سوئے جناں ارشاد ساحل
اخلاق کریمانہ________________
٢٠١٤ء کو جب میں جامعہ قادریہ کنز الایمان اندھیری ممبئی میں مفتی صاحب کو دیکھا تو میں ان کے اخلاق کریمانہ اوصاف حمیدہ کا گرویدہ ہو کر رہ گیا ایسے اعلی اخلاق کے حامل شخص کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا میں ان کی ذات ستودہ صفات سے اتنا متاثر ہوا کہ میرا دل کہتا تھا کہ کاش میں حضرت مفتی صاحب قبلہ سے مرید ہوجاتا اور ان کی خدمت میں رہتا لیکن کبھی میں دل کی بات زبان پر نہیں لا سکا پھر قسمت مجھے مرکز محبت بریلی شریف لے آئی اور میں نے اعلم العلماء الربانیین افضل الفضلاء الحقانیین بقیۃ السلف المصلحین حجۃ الخلف المفلحین تاج المحققین سراج المدققین اکمل الفقہاء المحدثین حضرت سیدنا سندنا مولانا ملجانا سرکار تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ و اجزل و اعظم قربہ منہ و اشرق علینا من نورہ التام و افاض علینا من بحرہ الطام و جعلنا من خدمہ فی دار السلام کے دست حق پرست پر بیعت کر لی لیکن مفتی صاحب قبلہ کی محبت میرے دل میں کم نہیں ہوئی
مفتی صاحب کی عنایت مجھ فقیر پر اتنی رہی کہ جب میرے چہرے میں زخم ہو گیا جس سے مواد فاسد بہتا تھا تو اپنے ہاتھ سے اس پر دوا لگا دیتے تھے وہ زمانہ یاد آتا ہے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں
یاد آتی ہے تری کتنی بتائیں کیسے
مہرباں مشفق من حامی ملت ساحل
جلوہ فرمائیے پھر رونق و زینت ہو بحال
سونی سونی سی لگے بزم فقاہت ساحل
روداد جامعہ اشرفیہ ______
ایک ناخدا تھا جو کتنے ڈوبتوں کو ساحل سے لگا گیا ایک دریا تھا جو چلتے چلتے تھم گیا یا خود بخود ساحل سے مل گیا یہ وہ دریا تھا جس کا انتخاب طلباء اشرفیہ کو سیراب کرنے کے لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نے کیا تھا خود ہی فرماتے ہیں:
جب میں بعد تکمیل تحقیق و افتا شعبان المعظم کی تعطیل کے موقع سے گھر جا رہا تھا تو علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے مجھ سے فرمایا اپنا سامان رکھ کر جانا میں گھر چلا گیا جب واپس آیا تو بعض حضرات کی زبان سے میں نے سنا جو کہ رہے تھے اب آپ بھی یہیں پڑھائیں گے تو مجھے لگا یہ حضرات بطور طنز و مزاح کہہ رہے ہوں گے مجھے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا مجھے آنے کے لیے حضرت نے کہا میں آ گیا تھا لیکن دوسرے دن دیکھتا ہوں کہ اساتذہ کی فہرست میں میرا بھی نام اشرفیہ کے بورڈ میں چسپاں ہے اور میرے حق میں جو کتابیں تھیں ان کا بھی انتخاب ہو چکا تھا میں پڑھانے لگا ایک سیکشن میں شرح عقائد میں پڑھاتا تھا دوسرے سیکشن میں کوئی اور پڑھاتے تھے سیکشن دوم کے بعض طلبا نے مجھ سے درخواست کی کہ فلاں سبق سمجھ میں نہیں آ رہا ہے آپ آکے پڑھا دیں تو میں گیا اور پڑھا دیا جس سے طلبا بہت خوش ہوئے کیونکہ سبق سب کو سمجھ میں آگیا انہی طلبا میں ایک طالب علم تھا [جن کا نام راقم الحروف کو حضرت نے بتایا تھا لیکن اب یاد نہیں رہا] جو بعد فراغت جب بھی مجھ سے ملتا تو وہ مسکرا کر کہتا حضرت میں آپ کا شاگرد ہوں لیکن شرح عقائد کے اسی ایک سبق میں جو آپ نے ہم لوگوں کو بطور خاص پڑھایا تھا
علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے انہی کے دم قدم سے میری بحالی ہوئی تھی لیکن کچھ حضرات کی نظر میں میں کھٹکتا رہتا تھا وہ سوچتے تھے اگر یہ یہاں رہا تو میری جگہ یہ لے لیں گے حالانکہ میرے دل میں ایسا کچھ نہیں تھا لیکن وہ میرے متعلق حضور شارح بخاری کے کان بھرتے رہتے تھے بالآخر میں خود ہی وہاں سے نکل گیا اور الہ آباد کی ایک مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دینے لگا
میری تلاش و جستجو کرتے ہوئے سید امین میاں قادری برکاتی دام ظلہ العالی الہ آباد تشریف لائے اور مجھے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی لے گئے ان کا کچھ علمی کام تھا جسے میں نے بخوبی انجام دیا وہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی
راقم الحروف نے حضرت سے پوچھا کہ آپ کہیں مستقل طور پر رہ کر پڑھاتے کیوں نہیں ہیں آپ نے جوابا فرمایا مجھ پر سحر چلایا گیا ہے جو مجھے مستقل طور پر کہیں رہنے نہیں دیتا ہے
میں نے کہا حضرت جامعۃ الرضا آ جائیں آپ نے فرمایا مجھے قائد ملت شہزادۂ تاج الشریعہ بہت دنوں سے کہہ رہے ہیں جامعۃ الرضا میں پڑھانے کے لیے لیکن مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پا رہا ہوں ان شاءاللہ دو چار سال میں آؤں گا لیکن ملازمت کے طور پر نہیں بلکہ فی سبیل اللہ مہینے میں پندرہ بیس دن پڑھایا کروں گا
حقیقت حال یہ کہ حضرت کو سبھی بڑے ادارے کے منتظمین اپنے یہاں دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی زندگی منفرد درویشوں جیسی تھی جو ملتا اسی پر قناعت کر لیتے تھے انھوں نے خود اپنے لیے کبھی کوئی ساحل تلاش نہ کیا
ساحل تخلص کی وجہ ______
آپ فرماتے ہیں میرے ایک ہمعصر تھے جو بہت ذہین و فطین ادیب ذی علم ماہر فن تھے جوانی کے عالم میں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے جس کا صدمہ ارباب علم و ادب کو بہت ہوا ان کا نام ساحل تھا تو ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے میں نے اپنا تخلص ساحل رکھ لیا میں جب گھر گیا تو اپنے چاچا سے کہا کہ میں نے اپنا قلمی نام ساحل رکھ لیا ہے تو چاچا نے کہا تم کو کون پہنچانے گا ساحل نام سے میں نے کہا دھیرے دھیرے لوگ پہچاننے لگیں گے اور ایسا ہی ہوا کہ اب لوگ میرے نام سے زیادہ تخلص ساحل یعنی قلمی نام سے پہچانتے ہیں
لیکن کس کو پتہ تھا آپ بھی جوانی کے عالم میں چلے جائیں گے غم ساحل پھر سے دھرایا جائے گا ارباب علم و ادب پھر سے زخم سے چور چور ہو جائیں گے اب کون ہے جو پھر سے ساحل بن کر دکھائے ہائے خدا خیر فرمائے
کچھ یادیں کچھ باتیں_______
کچھ یادیں کچھ باتیں لوح دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں جو ہر موڑ پر ہر راہ پر دھڑکن بن کر دل میں دھڑکتی رہتی ہیں علامہ ساحل شہسرامی کی ذات ستودہ صفات کی یادیں بھی اسی وادی محبت کی نمایاں مثال ہے
مجھے حضرت کی ذات ستودہ صفات سے ایسی محبت و انسیت تھی کہ میں ان کو اپنا خاص رہنما مانتا تھا ان سے اپنی زیست کی مشکل راہوں میں مدد لیتا تھا جو بھی دل میں علمی فنی اشکال ہوتا ان سے بلا جھجک بیان کر کے تشفی بخش جواب حاصل کرتا تھا جب وہ بریلی شریف سے واپس جاتے تو میری آنکھیں بھیگ جاتیں ایسا کبھی نہ ہوا کہ حضرت جامعۃ الرضا آ کے واپس گئے ہوں اور چشم محبت سے آنسو جاری نہ ہوئے ہوں ہائے وہ مربی و ہمدرد اب ہمیشہ کے لیے چلا گیا، کیا بتاؤں کہ دل پہ کیا گزری، آنسوؤں میں کیسی موجیں آئیں، لیکن یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتا ہوں
تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں
آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد
حضرت مفتی صاحب قبلہ سے بعض دفعہ گھنٹوں علمی گفتگو ہوتی خاص کر علم عقائد پر کبھی کبھی حضرت اپنی روداد بھی سناتے تھے ایک بار جامعۃ الرضا میں حضرت سمینار کے موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے طلبا حضرت سے ملنے کے لیے جاتے تھے راقم الحروف بھی اپنی ادنی کاوش میر قطبی کا ترجمہ و تحشیہ بمطابق نصاب جامعۃ الرضا لے کر حاضر خدمت ہوا حضرت نے میری طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی اور میرے ہاتھ سے مسودہ لے کر دیکھنے لگے کچھ نشاندہی فرمائی اور فرمایا کہ پہلے قطبی کا ترجمہ و تحشیہ کیجیے پھر میر قطبی کا کیجیے تاکہ طلبا کے لیے مزید آسانی ہو لیکن ہنوز یہ کام تشنۂ توجہ ہے اللہ جل جلالہ اسباب مہیا فرمائے آمین
اس مجلس میں محمد ارشاد ثقافی
مولانا ابوالکلام آزاد مرکزی
اور بھی دیگر حضرات موجود تھے کہ
حضرت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی سر گزشت سنانے لگے۔
حکمت عملی اور وسعت مطالعہ ____________
آپ فرماتے ہیں :
جب میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھا تو ہفتہ وار نشست لگتی تھی طلبا مجھ سے سوالات کرتے تھے اور میں ان کے جوابات فراہم کرتا تھا نشست میں ہر طرح کے طلبا سوالات کرنے کے لیے شریک ہوتے تھے خواہ وہ دیوبندی ہو مودودی ہو نیچری ہو جو بھی ہو ایک طالب علم نے مجھ سے سوال کیا۔
آپ سر سید احمد کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کیا وہ کافر و مرتد ہیں؟
آپ فرماتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دینا میرے لیے اس وقت مشکل تھا کیونکہ اگر میں سیدھے یہ کہہ دیتا کہ ہاں ان کے عقائد ایسے ایسے ہیں اس لیے وہ کافر و مرتد ہیں تو مجھے وہاں سے نکال دیا جاتا اور مقدمہ بھی دائر ہو سکتا تھا لوگ کہتے یہیں رہ کر سر سید احمد کا خلاف بولتا ہے اور پھر نوجوان طبقہ کو میرے خلاف بھڑکایا جاتا تو میں نے اس وقت حکمت عملی سے کام لیا اور جواب میں نے ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب سے دیا جو پہلے سے میرے مطالعے میں تھی اور سوال کرنے والا بھی مودودی تھا میں نے ان سے کہا مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جو جنت ، دوزخ فرشتے کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور سر سید احمد نے خود اپنی کتاب میں ایسی ایسی باتیں لکھی جس میں انھوں نے جنت دوزخ فرشتے کا انکار کیا ہے تو آپ اس سے نتیجہ خود اخذ کر لیجیے۔
اس جواب سے جہاں حضرت کی حکمت و دانائی کا پتہ چلتا ہے وہیں وسعت مطالعہ کا بھی پتہ چلتا ہے ہم سے تو اپنے مذہب کی کتابوں کا مطالعہ نہیں ہو پاتا ہے لیکن حضرت کا مطالعہ اتنا وسیع تھا ان کے ذہن و دماغ میں دوسرے مذاہب کی کتابیں بھی ازبر تھیں
ایمان افروز حکایت___________
اسی مجلس میں حضرت علامہ ساحل شہسرامی صاحب نے ایک حکایت سنائی جس سے ایمان کو تازگی روح کو خوشنودی ملی اور مسلک اعلی حضرت کی حقانیت پر لیطمئن قلبی کی مہر ثبت ہو گئی آپ فرماتے ہیں :
ایک دیوبندی تھا [جس کا حضرت نے نام اور گھر کا پتہ سب بتایا تھا لیکن راقم الحروف بھول گیا] جو کشف قبور کا عامل تھا وہ اس بات سے پریشان تھا کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بریلوی صحیح ہیں بعض کہتے ہیں کہ دیوبندی صحیح ہیں تو اس نے اس کے تصفیہ کے لیے کشف قبور کے عمل کا سہارا لیا اور اشرف علی تھانوی کی قبر پر چلا گیا وہاں جا کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہو گئے اس نے دیکھا کہ اشرف علی کا جسم آگ میں جھلسا پڑا ہے ہیئت بگڑی ہوئی ہے جس سے وہ حیران و ششدر رہ گیا پھر وہاں سے بریلی شریف آیا اور گنبد رضا کے نیچے بیٹھ کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہوئے تو کیا دیکھا کہ خان صاحب تو بڑے ہی آرام سے سوئے ہوئے ہیں جیسے کوئی دولہا سو رہا ہو وہ اسی وقت دیوبندیت سے تائب ہو کر مسلک اعلی حضرت سے منسلک ہو گیا سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
دور اندیشی__________
جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبی میں ایک بار مفتی صاحب نے اپنی دوا لانے کے لیے مجھے ممبئی کے کسی دواخانے پر بھیجنا چاہا میں اس وقت کم عمر تھا مجھے خود پر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ میں ممبئی کی کسی جگہ میں جاکر دوبارہ واپس آ سکوں بلکہ ایک بار میں ممبئی اندھیری کی کسی گلی میں گم بھی ہو گیا تھا بلکہ اور ایک بار ایسا ہوا کہ میں بوریولی اپنی بہن کے یہاں جا رہا تھا لیکن میں راستہ بھول گیا اور خود سے جا نہ سکا جب کہ میں کئی مرتبہ پہلے جا چکا تھا لیکن اس بار میرے اندر خود اعتمادی تھی مجھے اپنے اوپر پورا یقین تھا کہ میں جاکر دوا لے کر واپس آ جاؤں گا اور یہ اعتماد اپنے تجربے کی بنا پر نہیں تھا بلکہ بھیجنے والی شخصیت کی بنا پر تھا میرا دل کہہ رہا تھا مفتی صاحب بھیج رہے ہیں تو ان کی برکت سے میں جا کر بآسانی واپس آ سکتا ہوں اگر میں اس قابل نہ ہوتا تو مجھے مفتی صاحب ہر گز نہ بھیجتے لیکن اس کے ساتھ میرے پاس اور ایک عذر تھا کہ میرے پاس چپل نہیں تھی میں نے مفتی صاحب سے کہا مجھے مفتی صاحب نے ایک جوڑی چپل نکال کر دی اور روپے دیے میں چلا گیا بحمدہ تعالیٰ بذریعۂ بس منزل مقصود تک پہنچ گیا دوا لینے کے بعد واپس ہوا تو دواخانے کے باہر کچھ عطر فروش تھے میں نے اس سے شباب نام کا ایک عطر خریدا اور واپس مدرسہ پہنچا مفتی صاحب کی خدمت میں میں نے دوا پیش کی اور جو روپے بچ گئے تھے میں نے دینا چاہا تو آپ نے فرمایا تم رکھ لو میں نے کہا حضرت میں نے آپ کے روپے سے ایک عطر خرید لیا ہے تو پھر آپ نے مسکرا کر روپے اپنے پاس رکھ لیا،
میرا جا کر واپس آنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی لیکن میں حضرت کے حکم پر اعتماد کرتے ہوئے چلا بھی گیا اور بسلامت و عافیت واپس بھی آ گیا میں اسے حضرت کی کرامت تو نہیں کہتا ہوں جو بعید بھی نہیں ہے لیکن دور اندیشی ضرور کہتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ آپ مستقبل کی باتوں کو فراست ایمانی سے بھانپنے کی صلاحیت رکھتے تھے
اصاغر نوازی__________
مفتی صاحب کا علمی قد جتنا اونچا تھا اس سے کہیں زیادہ آپ کا اخلاقی تعمیری قد اونچا تھا آج کے اس مصروفیت کے دور میں کسی کے پاس جائیں تو ان کا وقت نہیں ملتا ہے کہ ان سے کچھ پوچھ سکیں ان سے کسی کتاب میں تقریظ لکھوا سکیں ہمیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ ہاں واقعی علمی حضرات گوناگوں مصروفیات میں رہتے ہیں لیکن کیا ان کے پاس ہمارے لیے تھوڑا بھی وقت نہیں خیر
لیکن مفتی صاحب کا منہج فکر جداگانہ دیکھا آپ کے پاس جب بھی کچھ لے کے گیا تو خندہ پیشانی سے ملے اور حوصلہ افزائی کی اور اگر بارگاہ میں کوئی عرضی پیش کی تو قبول فرمائی اتنی مصروفیات کے با وجود اپنے در سے محروم نہیں فرمایا
ایک بار میں نے مفتی صاحب کو ایک کتاب بنام بوستان رئیس العلما جو ١٣٤ صفحات پر مشتمل تھی تصحیح کے لیے شام کو دی اور آپ نے تصحیح کر کے صبح مجھے واپس کر دی، میں خود بھی حیران رہ گیا کہ آپ کتنے جفا کش ہیں اس وقت آپ بائسی ہی میں قیام پذیر تھے
علاوہ ازیں ایک کتاب بنام قاش دل جو ٤٥٠ صفحات پر مشتمل ہے تصحیح فرمائی اور اس پر جامع تقریظ بھی تحریر فرمائی جو اوروں کے در پر مہینوں بھٹکنے سے نہیں ہو پاتا تھا وہ مفتی صاحب کچھ دنوں میں کر دیتے تھے اس کا اندازہ اسی کو ہوگا جو اس راستے سے گزرا ہوگا
حوصلہ افزائی________
اس دور میں حوصلہ شکن تو مل جاتے ہیں لیکن حوصلہ افزا بہت کم ملتے ہیں انھیں کمیاب شخصیات میں ایک ذات ستودہ صفات حضرت والا کی ہے جب بھی آپ سے بات ہوتی آپ فرماتے
آپ ہمارے مستقبل ہیں آپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں
یہ جملہ مجھے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے ابھارتا ہے میری حوصلہ افزائی کرتا ہے میں سوچتا ہوں مفتی صاحب کی وہ کونسی امید ہے جو مجھ سے وابستہ ہے؟ مجھے کیا کرنا چاہیے کہ مستقبل بہتر سے بہتر ہو سکے اور ان کی امید پر کھرا اتر سکوں
سید امین میاں مارہروی کی نظر میں___________
راقم الحروف سے امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ نے بیان کیا کہ بیس سال پہلے میں نے حضور سید امین میاں مارہروی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کہتے ہوئے سنا کہ علامہ ساحل شہسرامی کے بدن میں گوشت ہے ہی کہاں ہڈی ہے چمڑی ہے اور اس میں علم ہی علم ہے
علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کی نظر میں____
امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی حفظہ اللہ القوی نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ میں نے علامہ ساحل شہسرامی کے بچپنے کو دیکھا اور جوانی میں بھی میں نے ان کو تمام وقت متقی پرہیز گار تقوی شعار پایا، آپ ذی علم با صلاحیت فقیہ، مفتی، نظم و نثر نگار اردو، فارسی، عربی، انگلش چاروں زبان کے ماہر، علم الانساب کا عالم ہر فن مولی تھے بلکہ مختصر یہ کہ وہ درجۂ ولایت پر فائز تھے
جتنے زمیں کے اوپر اتنے زمیں کے نیچے______
ہمارے ہمدرد مخلص و کریم حضرت مولانا محمد افضل مرکزی دام ظلہ العالی سے حضرت مفتی صاحب قبلہ کے متعلق گفتگو ہوئی تو دوران گفتگو آپ نے ایک بہت ہی اچھی دل چھو لینے والی بات کہی کہ لوگ تو کسی کو طنز کے طور پر کہتے ہیں کہ فلاں جتنا زمیں کے اوپر ہے اتنا زمیں کے نیچے ہے لیکن میں یہ مفتی صاحب قبلہ کی تعریف و توصیف میں کہتا ہوں کہ مفتی صاحب قبلہجتنے زمیں کے اوپر تھے اتنے ہی زمیں کے نیچے بھی تھے یعنی آپ جس طرح زمین کے اوپر والوں سے گفتگو کرتے تھے ایسے ہی آپ زمین کے نیچے آرام فرمانے والے بزرگان دین سے بھی ہمکلام ہوتے تھے کسی مزار شریف میں حاضری دینے کا انداز ایسا جداگانہ تھا کہ لگتا آپ صاحب مزار سے گفتگو کر رہے ہیں آپ کے اندر ایسی روحانیت تھی
موصوف مزید بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار بہت پریشان تھا حضرت نے مجھے دلاسا دیا سمجھایا کچھ اپنی بھی آپ بیتی سنائی جس کی وجہ سے میری جان میں جان آئی تسکین قلب حاصل ہوئی آج بھی وہ باتیں یاد آتی ہیں تو دل کو تسلی ملتی ہے
زندگی بس یہی تو ہے افضل
یاد ماضی خیال مستقبل
آخری آرام گاہ_________
باتیں تو بہت ہیں کیا لکھوں کیا چھوڑوں اب کسے درد غم سناؤں اب کسے حالات دل بتاؤں مرا غمگسار غمخوار ہمدرد مربی و مخلص مہربان و مشفق تہ مزار چلا گیا اب یادیں ہی یادیں ہیں جن سے دل میں ہلچل مچی رہتی ہے، اب وہ باتیں ہی باتیں ہیں جو کانوں میں گونج رہی ہیں لیکن وہ چہرہ سامنے کہاں سے لاؤں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ترا چہرہ کوئی تو سامنے لائے
قتیل جان جاں ارشاد ساحل
کرم اپنا کرے تجھ پر لحد میں
شہ کون و مکاں ارشاد ساحل
کیا ہے دفن ہم نے آج ہائے
زمیں میں آسماں ارشاد ساحل
١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ بوقت شام آپ کی تکفین و تدفین کی گئی اللہ جل جلالہ مربی کریم مفتی صاحب قبلہ کو غریق رحمت فرمائے آمین ہمارا بھی خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
ساحل گیا کہ دل کا نگینہ چلا گیا
اک تیر چیر کر مرا سینہ چلا گیا
١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ صبح سویرے دل سوز خبر موصول ہوئی کہ سیاح وقت، رونق ممبر و محراب، عندلیب چمنستان رضا، زینت مسند فقہ و افتا، راہ سلوک کے پاسباں، فقیہ دوراں، ادیب و نکتہ داں، خطیب خوش بیاں، قسیم بادۂ عرفاں، عاشق شہ کون و مکاں، مطیع احکام یزداں، معتمد ازہری، منتخب واسطی، منظور نظر مارہروی، صاحب التصانیف الرائقہ والتحقیقات الفائقہ والتدقیقات الشائقہ خلیفۂ تاج الشریعہ و سید اویس مصطفی عامل نبیل ، فاضل، جلیل اتخذہ اللہ الخلیل علامہ فہامہ مفتی ڈاکٹر محمد ارشاد احمد رضوی المعروف بہ ساحل شہسرامی علیگ مصباحی قادری قدس اللہ سرہ و عمم برہ و تمم نورہ و اعظم اجرہ و اکرم نزلہ و انعم منزلہ لذت جام وصال سے شادکام ہو گئے، آنکھیں کھلیں، چھندھیائیں، اشکبار ہو گئیں زباں سے برجستہ نکلا
انا للہ و انا الیہ رٰجعون
اب دل کو قرار نہ جاں کو سکون
غمگین دل ہے دیدۂ پرنم اداس ہے
تم کیا گئے کہ محفل عالم اداس ہے
دل کو قرار ہے نہ سکوں روح کو جسیم
یہ کیا ہوا کہ زندگی یکدم اداس ہے
دل تو ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا لیکن پھر اللہ جل جلالہ کے قضاء و قدر کے آگے سر نیازمند جھکا دیا اور گویا ہوا
کرم اپنا کرے تجھ پر لحد میں
شہ کون و مکاں ارشاد ساحل
محرم کا مہینہ سترہ تاریخ
چلے سوئے جناں ارشاد ساحل
اخلاق کریمانہ________________
٢٠١٤ء کو جب میں جامعہ قادریہ کنز الایمان اندھیری ممبئی میں مفتی صاحب کو دیکھا تو میں ان کے اخلاق کریمانہ اوصاف حمیدہ کا گرویدہ ہو کر رہ گیا ایسے اعلی اخلاق کے حامل شخص کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا میں ان کی ذات ستودہ صفات سے اتنا متاثر ہوا کہ میرا دل کہتا تھا کہ کاش میں حضرت مفتی صاحب قبلہ سے مرید ہوجاتا اور ان کی خدمت میں رہتا لیکن کبھی میں دل کی بات زبان پر نہیں لا سکا پھر قسمت مجھے مرکز محبت بریلی شریف لے آئی اور میں نے اعلم العلماء الربانیین افضل الفضلاء الحقانیین بقیۃ السلف المصلحین حجۃ الخلف المفلحین تاج المحققین سراج المدققین اکمل الفقہاء المحدثین حضرت سیدنا سندنا مولانا ملجانا سرکار تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ و اجزل و اعظم قربہ منہ و اشرق علینا من نورہ التام و افاض علینا من بحرہ الطام و جعلنا من خدمہ فی دار السلام کے دست حق پرست پر بیعت کر لی لیکن مفتی صاحب قبلہ کی محبت میرے دل میں کم نہیں ہوئی
مفتی صاحب کی عنایت مجھ فقیر پر اتنی رہی کہ جب میرے چہرے میں زخم ہو گیا جس سے مواد فاسد بہتا تھا تو اپنے ہاتھ سے اس پر دوا لگا دیتے تھے وہ زمانہ یاد آتا ہے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں
یاد آتی ہے تری کتنی بتائیں کیسے
مہرباں مشفق من حامی ملت ساحل
جلوہ فرمائیے پھر رونق و زینت ہو بحال
سونی سونی سی لگے بزم فقاہت ساحل
روداد جامعہ اشرفیہ ______
ایک ناخدا تھا جو کتنے ڈوبتوں کو ساحل سے لگا گیا ایک دریا تھا جو چلتے چلتے تھم گیا یا خود بخود ساحل سے مل گیا یہ وہ دریا تھا جس کا انتخاب طلباء اشرفیہ کو سیراب کرنے کے لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نے کیا تھا خود ہی فرماتے ہیں:
جب میں بعد تکمیل تحقیق و افتا شعبان المعظم کی تعطیل کے موقع سے گھر جا رہا تھا تو علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے مجھ سے فرمایا اپنا سامان رکھ کر جانا میں گھر چلا گیا جب واپس آیا تو بعض حضرات کی زبان سے میں نے سنا جو کہ رہے تھے اب آپ بھی یہیں پڑھائیں گے تو مجھے لگا یہ حضرات بطور طنز و مزاح کہہ رہے ہوں گے مجھے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا مجھے آنے کے لیے حضرت نے کہا میں آ گیا تھا لیکن دوسرے دن دیکھتا ہوں کہ اساتذہ کی فہرست میں میرا بھی نام اشرفیہ کے بورڈ میں چسپاں ہے اور میرے حق میں جو کتابیں تھیں ان کا بھی انتخاب ہو چکا تھا میں پڑھانے لگا ایک سیکشن میں شرح عقائد میں پڑھاتا تھا دوسرے سیکشن میں کوئی اور پڑھاتے تھے سیکشن دوم کے بعض طلبا نے مجھ سے درخواست کی کہ فلاں سبق سمجھ میں نہیں آ رہا ہے آپ آکے پڑھا دیں تو میں گیا اور پڑھا دیا جس سے طلبا بہت خوش ہوئے کیونکہ سبق سب کو سمجھ میں آگیا انہی طلبا میں ایک طالب علم تھا [جن کا نام راقم الحروف کو حضرت نے بتایا تھا لیکن اب یاد نہیں رہا] جو بعد فراغت جب بھی مجھ سے ملتا تو وہ مسکرا کر کہتا حضرت میں آپ کا شاگرد ہوں لیکن شرح عقائد کے اسی ایک سبق میں جو آپ نے ہم لوگوں کو بطور خاص پڑھایا تھا
علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے انہی کے دم قدم سے میری بحالی ہوئی تھی لیکن کچھ حضرات کی نظر میں میں کھٹکتا رہتا تھا وہ سوچتے تھے اگر یہ یہاں رہا تو میری جگہ یہ لے لیں گے حالانکہ میرے دل میں ایسا کچھ نہیں تھا لیکن وہ میرے متعلق حضور شارح بخاری کے کان بھرتے رہتے تھے بالآخر میں خود ہی وہاں سے نکل گیا اور الہ آباد کی ایک مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دینے لگا
میری تلاش و جستجو کرتے ہوئے سید امین میاں قادری برکاتی دام ظلہ العالی الہ آباد تشریف لائے اور مجھے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی لے گئے ان کا کچھ علمی کام تھا جسے میں نے بخوبی انجام دیا وہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی
راقم الحروف نے حضرت سے پوچھا کہ آپ کہیں مستقل طور پر رہ کر پڑھاتے کیوں نہیں ہیں آپ نے جوابا فرمایا مجھ پر سحر چلایا گیا ہے جو مجھے مستقل طور پر کہیں رہنے نہیں دیتا ہے
میں نے کہا حضرت جامعۃ الرضا آ جائیں آپ نے فرمایا مجھے قائد ملت شہزادۂ تاج الشریعہ بہت دنوں سے کہہ رہے ہیں جامعۃ الرضا میں پڑھانے کے لیے لیکن مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پا رہا ہوں ان شاءاللہ دو چار سال میں آؤں گا لیکن ملازمت کے طور پر نہیں بلکہ فی سبیل اللہ مہینے میں پندرہ بیس دن پڑھایا کروں گا
حقیقت حال یہ کہ حضرت کو سبھی بڑے ادارے کے منتظمین اپنے یہاں دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی زندگی منفرد درویشوں جیسی تھی جو ملتا اسی پر قناعت کر لیتے تھے انھوں نے خود اپنے لیے کبھی کوئی ساحل تلاش نہ کیا
ساحل تخلص کی وجہ ______
آپ فرماتے ہیں میرے ایک ہمعصر تھے جو بہت ذہین و فطین ادیب ذی علم ماہر فن تھے جوانی کے عالم میں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے جس کا صدمہ ارباب علم و ادب کو بہت ہوا ان کا نام ساحل تھا تو ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے میں نے اپنا تخلص ساحل رکھ لیا میں جب گھر گیا تو اپنے چاچا سے کہا کہ میں نے اپنا قلمی نام ساحل رکھ لیا ہے تو چاچا نے کہا تم کو کون پہنچانے گا ساحل نام سے میں نے کہا دھیرے دھیرے لوگ پہچاننے لگیں گے اور ایسا ہی ہوا کہ اب لوگ میرے نام سے زیادہ تخلص ساحل یعنی قلمی نام سے پہچانتے ہیں
لیکن کس کو پتہ تھا آپ بھی جوانی کے عالم میں چلے جائیں گے غم ساحل پھر سے دھرایا جائے گا ارباب علم و ادب پھر سے زخم سے چور چور ہو جائیں گے اب کون ہے جو پھر سے ساحل بن کر دکھائے ہائے خدا خیر فرمائے
کچھ یادیں کچھ باتیں_______
کچھ یادیں کچھ باتیں لوح دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں جو ہر موڑ پر ہر راہ پر دھڑکن بن کر دل میں دھڑکتی رہتی ہیں علامہ ساحل شہسرامی کی ذات ستودہ صفات کی یادیں بھی اسی وادی محبت کی نمایاں مثال ہے
مجھے حضرت کی ذات ستودہ صفات سے ایسی محبت و انسیت تھی کہ میں ان کو اپنا خاص رہنما مانتا تھا ان سے اپنی زیست کی مشکل راہوں میں مدد لیتا تھا جو بھی دل میں علمی فنی اشکال ہوتا ان سے بلا جھجک بیان کر کے تشفی بخش جواب حاصل کرتا تھا جب وہ بریلی شریف سے واپس جاتے تو میری آنکھیں بھیگ جاتیں ایسا کبھی نہ ہوا کہ حضرت جامعۃ الرضا آ کے واپس گئے ہوں اور چشم محبت سے آنسو جاری نہ ہوئے ہوں ہائے وہ مربی و ہمدرد اب ہمیشہ کے لیے چلا گیا، کیا بتاؤں کہ دل پہ کیا گزری، آنسوؤں میں کیسی موجیں آئیں، لیکن یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتا ہوں
تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں
آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد
حضرت مفتی صاحب قبلہ سے بعض دفعہ گھنٹوں علمی گفتگو ہوتی خاص کر علم عقائد پر کبھی کبھی حضرت اپنی روداد بھی سناتے تھے ایک بار جامعۃ الرضا میں حضرت سمینار کے موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے طلبا حضرت سے ملنے کے لیے جاتے تھے راقم الحروف بھی اپنی ادنی کاوش میر قطبی کا ترجمہ و تحشیہ بمطابق نصاب جامعۃ الرضا لے کر حاضر خدمت ہوا حضرت نے میری طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی اور میرے ہاتھ سے مسودہ لے کر دیکھنے لگے کچھ نشاندہی فرمائی اور فرمایا کہ پہلے قطبی کا ترجمہ و تحشیہ کیجیے پھر میر قطبی کا کیجیے تاکہ طلبا کے لیے مزید آسانی ہو لیکن ہنوز یہ کام تشنۂ توجہ ہے اللہ جل جلالہ اسباب مہیا فرمائے آمین
اس مجلس میں محمد ارشاد ثقافی
مولانا ابوالکلام آزاد مرکزی
اور بھی دیگر حضرات موجود تھے کہ
حضرت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی سر گزشت سنانے لگے۔
حکمت عملی اور وسعت مطالعہ ____________
آپ فرماتے ہیں :
جب میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھا تو ہفتہ وار نشست لگتی تھی طلبا مجھ سے سوالات کرتے تھے اور میں ان کے جوابات فراہم کرتا تھا نشست میں ہر طرح کے طلبا سوالات کرنے کے لیے شریک ہوتے تھے خواہ وہ دیوبندی ہو مودودی ہو نیچری ہو جو بھی ہو ایک طالب علم نے مجھ سے سوال کیا۔
آپ سر سید احمد کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کیا وہ کافر و مرتد ہیں؟
آپ فرماتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دینا میرے لیے اس وقت مشکل تھا کیونکہ اگر میں سیدھے یہ کہہ دیتا کہ ہاں ان کے عقائد ایسے ایسے ہیں اس لیے وہ کافر و مرتد ہیں تو مجھے وہاں سے نکال دیا جاتا اور مقدمہ بھی دائر ہو سکتا تھا لوگ کہتے یہیں رہ کر سر سید احمد کا خلاف بولتا ہے اور پھر نوجوان طبقہ کو میرے خلاف بھڑکایا جاتا تو میں نے اس وقت حکمت عملی سے کام لیا اور جواب میں نے ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب سے دیا جو پہلے سے میرے مطالعے میں تھی اور سوال کرنے والا بھی مودودی تھا میں نے ان سے کہا مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جو جنت ، دوزخ فرشتے کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور سر سید احمد نے خود اپنی کتاب میں ایسی ایسی باتیں لکھی جس میں انھوں نے جنت دوزخ فرشتے کا انکار کیا ہے تو آپ اس سے نتیجہ خود اخذ کر لیجیے۔
اس جواب سے جہاں حضرت کی حکمت و دانائی کا پتہ چلتا ہے وہیں وسعت مطالعہ کا بھی پتہ چلتا ہے ہم سے تو اپنے مذہب کی کتابوں کا مطالعہ نہیں ہو پاتا ہے لیکن حضرت کا مطالعہ اتنا وسیع تھا ان کے ذہن و دماغ میں دوسرے مذاہب کی کتابیں بھی ازبر تھیں
ایمان افروز حکایت___________
اسی مجلس میں حضرت علامہ ساحل شہسرامی صاحب نے ایک حکایت سنائی جس سے ایمان کو تازگی روح کو خوشنودی ملی اور مسلک اعلی حضرت کی حقانیت پر لیطمئن قلبی کی مہر ثبت ہو گئی آپ فرماتے ہیں :
ایک دیوبندی تھا [جس کا حضرت نے نام اور گھر کا پتہ سب بتایا تھا لیکن راقم الحروف بھول گیا] جو کشف قبور کا عامل تھا وہ اس بات سے پریشان تھا کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بریلوی صحیح ہیں بعض کہتے ہیں کہ دیوبندی صحیح ہیں تو اس نے اس کے تصفیہ کے لیے کشف قبور کے عمل کا سہارا لیا اور اشرف علی تھانوی کی قبر پر چلا گیا وہاں جا کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہو گئے اس نے دیکھا کہ اشرف علی کا جسم آگ میں جھلسا پڑا ہے ہیئت بگڑی ہوئی ہے جس سے وہ حیران و ششدر رہ گیا پھر وہاں سے بریلی شریف آیا اور گنبد رضا کے نیچے بیٹھ کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہوئے تو کیا دیکھا کہ خان صاحب تو بڑے ہی آرام سے سوئے ہوئے ہیں جیسے کوئی دولہا سو رہا ہو وہ اسی وقت دیوبندیت سے تائب ہو کر مسلک اعلی حضرت سے منسلک ہو گیا سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
دور اندیشی__________
جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبی میں ایک بار مفتی صاحب نے اپنی دوا لانے کے لیے مجھے ممبئی کے کسی دواخانے پر بھیجنا چاہا میں اس وقت کم عمر تھا مجھے خود پر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ میں ممبئی کی کسی جگہ میں جاکر دوبارہ واپس آ سکوں بلکہ ایک بار میں ممبئی اندھیری کی کسی گلی میں گم بھی ہو گیا تھا بلکہ اور ایک بار ایسا ہوا کہ میں بوریولی اپنی بہن کے یہاں جا رہا تھا لیکن میں راستہ بھول گیا اور خود سے جا نہ سکا جب کہ میں کئی مرتبہ پہلے جا چکا تھا لیکن اس بار میرے اندر خود اعتمادی تھی مجھے اپنے اوپر پورا یقین تھا کہ میں جاکر دوا لے کر واپس آ جاؤں گا اور یہ اعتماد اپنے تجربے کی بنا پر نہیں تھا بلکہ بھیجنے والی شخصیت کی بنا پر تھا میرا دل کہہ رہا تھا مفتی صاحب بھیج رہے ہیں تو ان کی برکت سے میں جا کر بآسانی واپس آ سکتا ہوں اگر میں اس قابل نہ ہوتا تو مجھے مفتی صاحب ہر گز نہ بھیجتے لیکن اس کے ساتھ میرے پاس اور ایک عذر تھا کہ میرے پاس چپل نہیں تھی میں نے مفتی صاحب سے کہا مجھے مفتی صاحب نے ایک جوڑی چپل نکال کر دی اور روپے دیے میں چلا گیا بحمدہ تعالیٰ بذریعۂ بس منزل مقصود تک پہنچ گیا دوا لینے کے بعد واپس ہوا تو دواخانے کے باہر کچھ عطر فروش تھے میں نے اس سے شباب نام کا ایک عطر خریدا اور واپس مدرسہ پہنچا مفتی صاحب کی خدمت میں میں نے دوا پیش کی اور جو روپے بچ گئے تھے میں نے دینا چاہا تو آپ نے فرمایا تم رکھ لو میں نے کہا حضرت میں نے آپ کے روپے سے ایک عطر خرید لیا ہے تو پھر آپ نے مسکرا کر روپے اپنے پاس رکھ لیا،
میرا جا کر واپس آنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی لیکن میں حضرت کے حکم پر اعتماد کرتے ہوئے چلا بھی گیا اور بسلامت و عافیت واپس بھی آ گیا میں اسے حضرت کی کرامت تو نہیں کہتا ہوں جو بعید بھی نہیں ہے لیکن دور اندیشی ضرور کہتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ آپ مستقبل کی باتوں کو فراست ایمانی سے بھانپنے کی صلاحیت رکھتے تھے
اصاغر نوازی__________
مفتی صاحب کا علمی قد جتنا اونچا تھا اس سے کہیں زیادہ آپ کا اخلاقی تعمیری قد اونچا تھا آج کے اس مصروفیت کے دور میں کسی کے پاس جائیں تو ان کا وقت نہیں ملتا ہے کہ ان سے کچھ پوچھ سکیں ان سے کسی کتاب میں تقریظ لکھوا سکیں ہمیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ ہاں واقعی علمی حضرات گوناگوں مصروفیات میں رہتے ہیں لیکن کیا ان کے پاس ہمارے لیے تھوڑا بھی وقت نہیں خیر
لیکن مفتی صاحب کا منہج فکر جداگانہ دیکھا آپ کے پاس جب بھی کچھ لے کے گیا تو خندہ پیشانی سے ملے اور حوصلہ افزائی کی اور اگر بارگاہ میں کوئی عرضی پیش کی تو قبول فرمائی اتنی مصروفیات کے با وجود اپنے در سے محروم نہیں فرمایا
ایک بار میں نے مفتی صاحب کو ایک کتاب بنام بوستان رئیس العلما جو ١٣٤ صفحات پر مشتمل تھی تصحیح کے لیے شام کو دی اور آپ نے تصحیح کر کے صبح مجھے واپس کر دی، میں خود بھی حیران رہ گیا کہ آپ کتنے جفا کش ہیں اس وقت آپ بائسی ہی میں قیام پذیر تھے
علاوہ ازیں ایک کتاب بنام قاش دل جو ٤٥٠ صفحات پر مشتمل ہے تصحیح فرمائی اور اس پر جامع تقریظ بھی تحریر فرمائی جو اوروں کے در پر مہینوں بھٹکنے سے نہیں ہو پاتا تھا وہ مفتی صاحب کچھ دنوں میں کر دیتے تھے اس کا اندازہ اسی کو ہوگا جو اس راستے سے گزرا ہوگا
حوصلہ افزائی________
اس دور میں حوصلہ شکن تو مل جاتے ہیں لیکن حوصلہ افزا بہت کم ملتے ہیں انھیں کمیاب شخصیات میں ایک ذات ستودہ صفات حضرت والا کی ہے جب بھی آپ سے بات ہوتی آپ فرماتے
آپ ہمارے مستقبل ہیں آپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں
یہ جملہ مجھے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے ابھارتا ہے میری حوصلہ افزائی کرتا ہے میں سوچتا ہوں مفتی صاحب کی وہ کونسی امید ہے جو مجھ سے وابستہ ہے؟ مجھے کیا کرنا چاہیے کہ مستقبل بہتر سے بہتر ہو سکے اور ان کی امید پر کھرا اتر سکوں
سید امین میاں مارہروی کی نظر میں___________
راقم الحروف سے امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ نے بیان کیا کہ بیس سال پہلے میں نے حضور سید امین میاں مارہروی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کہتے ہوئے سنا کہ علامہ ساحل شہسرامی کے بدن میں گوشت ہے ہی کہاں ہڈی ہے چمڑی ہے اور اس میں علم ہی علم ہے
علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کی نظر میں____
امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی حفظہ اللہ القوی نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ میں نے علامہ ساحل شہسرامی کے بچپنے کو دیکھا اور جوانی میں بھی میں نے ان کو تمام وقت متقی پرہیز گار تقوی شعار پایا، آپ ذی علم با صلاحیت فقیہ، مفتی، نظم و نثر نگار اردو، فارسی، عربی، انگلش چاروں زبان کے ماہر، علم الانساب کا عالم ہر فن مولی تھے بلکہ مختصر یہ کہ وہ درجۂ ولایت پر فائز تھے
جتنے زمیں کے اوپر اتنے زمیں کے نیچے______
ہمارے ہمدرد مخلص و کریم حضرت مولانا محمد افضل مرکزی دام ظلہ العالی سے حضرت مفتی صاحب قبلہ کے متعلق گفتگو ہوئی تو دوران گفتگو آپ نے ایک بہت ہی اچھی دل چھو لینے والی بات کہی کہ لوگ تو کسی کو طنز کے طور پر کہتے ہیں کہ فلاں جتنا زمیں کے اوپر ہے اتنا زمیں کے نیچے ہے لیکن میں یہ مفتی صاحب قبلہ کی تعریف و توصیف میں کہتا ہوں کہ مفتی صاحب قبلہجتنے زمیں کے اوپر تھے اتنے ہی زمیں کے نیچے بھی تھے یعنی آپ جس طرح زمین کے اوپر والوں سے گفتگو کرتے تھے ایسے ہی آپ زمین کے نیچے آرام فرمانے والے بزرگان دین سے بھی ہمکلام ہوتے تھے کسی مزار شریف میں حاضری دینے کا انداز ایسا جداگانہ تھا کہ لگتا آپ صاحب مزار سے گفتگو کر رہے ہیں آپ کے اندر ایسی روحانیت تھی
موصوف مزید بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار بہت پریشان تھا حضرت نے مجھے دلاسا دیا سمجھایا کچھ اپنی بھی آپ بیتی سنائی جس کی وجہ سے میری جان میں جان آئی تسکین قلب حاصل ہوئی آج بھی وہ باتیں یاد آتی ہیں تو دل کو تسلی ملتی ہے
زندگی بس یہی تو ہے افضل
یاد ماضی خیال مستقبل
آخری آرام گاہ_________
باتیں تو بہت ہیں کیا لکھوں کیا چھوڑوں اب کسے درد غم سناؤں اب کسے حالات دل بتاؤں مرا غمگسار غمخوار ہمدرد مربی و مخلص مہربان و مشفق تہ مزار چلا گیا اب یادیں ہی یادیں ہیں جن سے دل میں ہلچل مچی رہتی ہے، اب وہ باتیں ہی باتیں ہیں جو کانوں میں گونج رہی ہیں لیکن وہ چہرہ سامنے کہاں سے لاؤں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ترا چہرہ کوئی تو سامنے لائے
قتیل جان جاں ارشاد ساحل
کرم اپنا کرے تجھ پر لحد میں
شہ کون و مکاں ارشاد ساحل
کیا ہے دفن ہم نے آج ہائے
زمیں میں آسماں ارشاد ساحل
١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ بوقت شام آپ کی تکفین و تدفین کی گئی اللہ جل جلالہ مربی کریم مفتی صاحب قبلہ کو غریق رحمت فرمائے آمین ہمارا بھی خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
70
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

زندوں کی قدر

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 36 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 32 | Poetry: 11
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 24
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
تاثرات 12
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢