صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
سیرت النبی ﷺ

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین حق اسلام میں پیدا فرمایا اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔
اسلام سے پہلے کا دور ”جاہلیت“ کہلاتا ہے۔ اس دور میں عورت کو نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے زندگی کا بوجھ، معاشرتی ذلت اور گناہ کا سبب سمجھا جاتا۔ بعض اقوام بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، بیواؤں سے بدسلوکی کی جاتی اور خواتین کو وراثت سے بھی محروم رکھا جاتا۔ مگر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو عزت، مقام، شناخت اور تحفظ عطا فرمایا۔ سیرتِ نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مطالعہ ہمیں عورت کے حقوق کے حوالے سے ایک ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو ہر دور کے لیے مشعل راہ ہے۔
عورت کی حیثیت کا تعارف اور اس کا مقام:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إنما النساء شقائق الرجال
[سنن ابی داؤد، حدیث: 236]
ترجمہ: عورتیں مردوں کی ہم جنس (نصف) ہیں۔
یہ حدیث عورت کے مساوی انسانی مقام کی دلیل ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے عورت کو انسانیت کے معیار پر جانچا، نہ کہ جنس یا صنف کے اعتبار سے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر رشتے میں عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی – بیٹی، بیوی، ماں یا بہن۔
بچیوں کے ساتھ حسن سلوک:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
[صحیح مسلم، ح٢٦٣١]
ترجمہ: حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔ اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو باعث شرم سمجھا جاتا تھا، مگر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو عزت بخشی اور مقام بلند فرمایا، سبحان اللہ تعالیٰ! محبوبِ رب العٰلمین علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے بچیوں کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا، جو کہ اُس معاشرے میں انقلابی بات تھی۔
ماں کا بلند مقام:
نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو اس طرح بیان فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ
[صحیح بخاری، حدیث: 5971]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوائے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“۔ انہوں نے عرض کی پھر کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری ماں۔ تیسری بار عرض کی: پھر کون ہے ؟ مالکِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“ اس نے کہا: پھر کون ؟ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تمہارا باپ ہے۔“
یہ تین بار ماں کو مقدم رکھنا عورت کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے، جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال سے معلوم ہوا۔
بیوی کے حقوق کا تحفظ:
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا:
خَيرُكُم خَيرُكُم لأهلِه وأنا خَيرُكُم لأهلي
[سنن ترمذی، حدیث: 3895]
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ (بیوی بچوں) کے ساتھ بہتر ہو، اور میں تم میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم اپنی ازواج کے ساتھ مشورہ کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے کاموں میں شریک ہوتے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مشورہ ماننا اس کی روشن مثال ہے۔
عورت کی وراثت کا حق:
نبی کریم ﷺ کہ وسیلے سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہمیں فرمان ملا جس میں عورتوں کو وراثت کا حق عطا فرمایا گیا:
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا
[سورۃ النساء: 7]
مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔ [کنزالایمان]
یہ آیت عورت کو مالی خودمختاری عطا کرتی ہے، جو اُس دور میں انقلاب سے کم نہ تھی۔
عورت کا حقِ تعلیم:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
طلب العلم فريضة على كل مسلم
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 224]
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں کچھ ایسے مذاہب ہیں جن میں عورتوں کو تعلیم دینا گناہ سمجھا جاتا ہے مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک ذات نے عورتوں کو تعلیم دینے کا حکم ارشاد فرمایا اور ان کو ان کا حق عطا فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا علم، فتویٰ اور تعلیم کے میدان میں نمایاں تھیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اُن سے آ کر سیکھتے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے الگ دن مقرر کیا تاکہ وہ دین سیکھ سکیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم عورتوں کی تعلیم کے سدا حامی رہے۔
عورت کی عزت و عفت کا تحفظ:
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة
[صحیح مسلم، حدیث: 1467]
ترجمہ: دنیا ایک فائدے کی چیز ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو حیا، عفت، اور پردے کے ساتھ معاشرے کا معزز فرد بنایا۔ سرورِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
استوصوا بالنساء خيراً
[صحیح بخاری، حدیث: 3331]
یعنی: عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو اُس سے قبل دنیا نے کبھی نہیں دیا تھا۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کے ہر حق کو واضح فرمایا: زندگی، عزت، تعلیم، وراثت، رائے، ازدواجی حقوق اور ماں ہونے کا مقام۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آج بھی ان مظلوم عورتوں کے لیے راہِ نجات ہے جنہیں مختلف تہذیبیں خودساختہ حقوق کے نام پر دھوکہ دیتی ہیں۔ اسلامی معاشرے کی فلاح کا راز اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تعلیمات کو اپنائیں اور خواتین کو وہی حقوق دیں جو حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دینے کا حکم فرمایا ہے۔
میرے پیارے آقا رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ اقدس ہے جس کے وسیلے سے اسلام نے عورت کو:
پستی سے بلندی، ذلت سے عزت، گمنامی سے پہچان، گھٹن سے آزادی، خوف سے تحفظ، کمتری سے برتری، نادانی سے دانائی، جہالت سے علم، بے کسی سے سہارا، محرومی سے وراثت، رنج سے سکون، بے قدری سے وقار، مجبوری سے اختیار، ظلم سے عدل، زحمت سے نعمت اور اندھیرے سے نور عطا فرمایا!
اسلام نے عورت کو ماں کے روپ میں عظمت، بیٹی کے روپ میں رحمت، بہن کے روپ میں شفقت، اور بیوی کے روپ میں محبت اور شراکت کا مقام عطا فرمایا۔
اسلام نے عورت کو انسانیت کی اُس بلند چوٹی پر کھڑا کیا، جہاں سے دنیا کی ہر تہذیب، ہر قانون، ہر نظام کمتر نظر آتا ہے۔ یہ ہے وہ حسنِ اسلام، جو عورت کے وجود کو بوجھ نہیں، بلکہ باعثِ عزت و رحمت قرار دیتا ہے۔ ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت سب کو جو ملا میرے مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے وسیلے سے ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ہے انہیں کے دم قدم سے باغِ عالم میں بَہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
وہ ہے جان جان سے ہے بقا وہی بن ہے بن سے ہی بار ہے
از قلم:- محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
ساکن: شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی-110025
یکم صفر المظفر ؁١٤٤٧ھ

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین حق اسلام میں پیدا فرمایا اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔
اسلام سے پہلے کا دور ”جاہلیت“ کہلاتا ہے۔ اس دور میں عورت کو نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے زندگی کا بوجھ، معاشرتی ذلت اور گناہ کا سبب سمجھا جاتا۔ بعض اقوام بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، بیواؤں سے بدسلوکی کی جاتی اور خواتین کو وراثت سے بھی محروم رکھا جاتا۔ مگر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو عزت، مقام، شناخت اور تحفظ عطا فرمایا۔ سیرتِ نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مطالعہ ہمیں عورت کے حقوق کے حوالے سے ایک ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو ہر دور کے لیے مشعل راہ ہے۔
عورت کی حیثیت کا تعارف اور اس کا مقام:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إنما النساء شقائق الرجال
[سنن ابی داؤد، حدیث: 236]
ترجمہ: عورتیں مردوں کی ہم جنس (نصف) ہیں۔
یہ حدیث عورت کے مساوی انسانی مقام کی دلیل ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے عورت کو انسانیت کے معیار پر جانچا، نہ کہ جنس یا صنف کے اعتبار سے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر رشتے میں عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی – بیٹی، بیوی، ماں یا بہن۔
بچیوں کے ساتھ حسن سلوک:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
[صحیح مسلم، ح٢٦٣١]
ترجمہ: حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔ اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو باعث شرم سمجھا جاتا تھا، مگر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو عزت بخشی اور مقام بلند فرمایا، سبحان اللہ تعالیٰ! محبوبِ رب العٰلمین علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے بچیوں کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا، جو کہ اُس معاشرے میں انقلابی بات تھی۔
ماں کا بلند مقام:
نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو اس طرح بیان فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ
[صحیح بخاری، حدیث: 5971]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوائے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“۔ انہوں نے عرض کی پھر کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری ماں۔ تیسری بار عرض کی: پھر کون ہے ؟ مالکِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“ اس نے کہا: پھر کون ؟ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تمہارا باپ ہے۔“
یہ تین بار ماں کو مقدم رکھنا عورت کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے، جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال سے معلوم ہوا۔
بیوی کے حقوق کا تحفظ:
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا:
خَيرُكُم خَيرُكُم لأهلِه وأنا خَيرُكُم لأهلي
[سنن ترمذی، حدیث: 3895]
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ (بیوی بچوں) کے ساتھ بہتر ہو، اور میں تم میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم اپنی ازواج کے ساتھ مشورہ کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے کاموں میں شریک ہوتے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مشورہ ماننا اس کی روشن مثال ہے۔
عورت کی وراثت کا حق:
نبی کریم ﷺ کہ وسیلے سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہمیں فرمان ملا جس میں عورتوں کو وراثت کا حق عطا فرمایا گیا:
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا
[سورۃ النساء: 7]
مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔ [کنزالایمان]
یہ آیت عورت کو مالی خودمختاری عطا کرتی ہے، جو اُس دور میں انقلاب سے کم نہ تھی۔
عورت کا حقِ تعلیم:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
طلب العلم فريضة على كل مسلم
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 224]
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں کچھ ایسے مذاہب ہیں جن میں عورتوں کو تعلیم دینا گناہ سمجھا جاتا ہے مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک ذات نے عورتوں کو تعلیم دینے کا حکم ارشاد فرمایا اور ان کو ان کا حق عطا فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا علم، فتویٰ اور تعلیم کے میدان میں نمایاں تھیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اُن سے آ کر سیکھتے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے الگ دن مقرر کیا تاکہ وہ دین سیکھ سکیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم عورتوں کی تعلیم کے سدا حامی رہے۔
عورت کی عزت و عفت کا تحفظ:
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة
[صحیح مسلم، حدیث: 1467]
ترجمہ: دنیا ایک فائدے کی چیز ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو حیا، عفت، اور پردے کے ساتھ معاشرے کا معزز فرد بنایا۔ سرورِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
استوصوا بالنساء خيراً
[صحیح بخاری، حدیث: 3331]
یعنی: عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو اُس سے قبل دنیا نے کبھی نہیں دیا تھا۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کے ہر حق کو واضح فرمایا: زندگی، عزت، تعلیم، وراثت، رائے، ازدواجی حقوق اور ماں ہونے کا مقام۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آج بھی ان مظلوم عورتوں کے لیے راہِ نجات ہے جنہیں مختلف تہذیبیں خودساختہ حقوق کے نام پر دھوکہ دیتی ہیں۔ اسلامی معاشرے کی فلاح کا راز اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تعلیمات کو اپنائیں اور خواتین کو وہی حقوق دیں جو حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دینے کا حکم فرمایا ہے۔
میرے پیارے آقا رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ اقدس ہے جس کے وسیلے سے اسلام نے عورت کو:
پستی سے بلندی، ذلت سے عزت، گمنامی سے پہچان، گھٹن سے آزادی، خوف سے تحفظ، کمتری سے برتری، نادانی سے دانائی، جہالت سے علم، بے کسی سے سہارا، محرومی سے وراثت، رنج سے سکون، بے قدری سے وقار، مجبوری سے اختیار، ظلم سے عدل، زحمت سے نعمت اور اندھیرے سے نور عطا فرمایا!
اسلام نے عورت کو ماں کے روپ میں عظمت، بیٹی کے روپ میں رحمت، بہن کے روپ میں شفقت، اور بیوی کے روپ میں محبت اور شراکت کا مقام عطا فرمایا۔
اسلام نے عورت کو انسانیت کی اُس بلند چوٹی پر کھڑا کیا، جہاں سے دنیا کی ہر تہذیب، ہر قانون، ہر نظام کمتر نظر آتا ہے۔ یہ ہے وہ حسنِ اسلام، جو عورت کے وجود کو بوجھ نہیں، بلکہ باعثِ عزت و رحمت قرار دیتا ہے۔ ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت سب کو جو ملا میرے مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے وسیلے سے ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ہے انہیں کے دم قدم سے باغِ عالم میں بَہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
وہ ہے جان جان سے ہے بقا وہی بن ہے بن سے ہی بار ہے
از قلم:- محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
ساکن: شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی-110025
یکم صفر المظفر ؁١٤٤٧ھ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
4
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢