صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!
شخصیات اسلاف واخلاف

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

✍️ Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!
(حافظ)افتخاراحمدقادری
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کے سامنے ہر ذی روح کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی ساری رونقیں، جاہ و حشمت کی تمام جلوہ سامانیاں، اقتدار و اختیار کی تمام رعنائیاں اور علم و فضل کی تمام رفعتیں بالآخر اسی منزلِ فنا پر آکر ختم ہو جاتی ہیں جہاں انسان اپنی ظاہری حیات کے سفر کو مکمل کرکے عالم بقا کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔ تاہم بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام، ایک دبستان کے سکوت اور ایک روشن باب کے بند ہو جانے کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار، صاحبِ علم و قلم، خوش خصال اور باوقار شخصیت حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی تھی جن کے انتقال کی اندوہناک خبر نے علمی و صحافتی اور دینی حلقوں کو سوگوار کردیا۔
* حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی" ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس و تربیت، تصنیف و تالیف اور صحافتی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ کا شمار ان اکابر اہلِ علم میں ہوتا تھا جن کے وجود سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی فضائیں معطر تھیں اور جن کے قلم کی جولانیاں ماہنامہ اشرفیہ کے صفحات کو وقار و اعتبار بخشتی تھیں۔ آپ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب، بالغ نظر صحافی، مدبر مدیر اور با اخلاق مربی بھی تھے۔ آپ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے درسِ نظامی کی تدریس کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھا۔ آپ کی تدریسی نشستیں محض کتابی معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہ تھیں بلکہ وہ علمی بصیرت، فکری بالیدگی اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج ہوتی تھیں۔ آپ کے تلامذہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ آپ درس دیتے ہوئے مشکل ترین مباحث کو بھی اس قدر سہل اور عام فہم انداز میں بیان فرماتے کہ طلبہ کے اذہان میں علمی عقدے ازخود وا ہو جاتے۔ آپ کے لہجے میں وقار، انداز میں متانت اور گفتگو میں علم و حکمت کی چاشنی نمایاں ہوا کرتی تھی۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور برصغیر کی ان عظیم دینی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہزاروں علماء، فضلاء اور مبلغین تیار کرکے ملتِ اسلامیہ کی علمی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔ اس عظیم علمی مرکز میں علامہ مبارک حسین مصباحی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ نے نہایت خاموشی مگر انتہائی مؤثر انداز میں تدریسی میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اگر آپ کی تدریسی خدمات قابلِ رشک تھیں تو صحافتی میدان میں آپ کی عظمت بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ نے صحافت کے جس معیار کو برقرار رکھا وہ موجودہ دور میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جبکہ صحافت کا ایک بڑا حصہ سطحیت، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ اظہار کا شکار نظر آتا ہے علامہ مبارک حسین مصباحی نے ہمیشہ سنجیدہ، متوازن اور علمی صحافت کی روایت کو فروغ دیا۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ صرف ایک رسالہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری و تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اس کے صفحات میں علم و تحقیق کی گہرائی، ادب و انشا کی لطافت اور دینی شعور کی روشنی بیک وقت جلوہ گر نظر آتی تھی۔ خصوصاً سیدین نمبر جیسا شاہکار دیکھ کر آپ کی صحافتی مہارت، تحقیقی بصیرت اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے خصوصی شمارے کسی ایک شخص کی محنت، مطالعے اور فکری وسعت کے بغیر ممکن نہیں ہوتے اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سلسلے میں علامہ مبارک حسین مصباحی کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش تھا۔
آپ کی شخصیت کا ایک تابناک پہلو اخلاقِ حسنہ تھا۔
علم بعض اوقات انسان کو متکبر بنادیتا ہے، شہرت بعض اوقات طبیعت میں خودنمائی پیدا کر دیتی ہے اور منصب بعض اوقات انسان کے مزاج میں سختی پیدا کر دیتا ہے لیکن علامہ مبارک حسین مصباحی ان تمام کمزوریوں سے پاک تھے۔ آپ جتنے بڑے عالم تھے اتنے ہی منکسر المزاج بھی تھے۔ جتنے ممتاز صحافی تھے اتنے ہی خوش اخلاق بھی تھے۔ جتنے باوقار استاد تھے اتنے ہی مشفق مربی بھی تھے۔ طلبہ سے آپ کا تعلق محض استاد و شاگرد کا نہ تھا بلکہ ایک شفیق باپ اور مہربان سرپرست کا تھا۔ آپ طلبہ کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت اور فکری اصلاح کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد صرف آپ کی علمی قابلیت کے معترف نہیں بلکہ آپ کے اخلاقی کردار کے بھی مداح ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا ایک واقعہ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ جب میرے مضامین کا مجموعہ فکری مقالات شائع ہوا تو میں نے حضرت کو فون کیا۔ حضرت نے نہایت شفقت و محبت اور خلوص کے ساتھ گفتگو فرمائی اور دوسرے ہی دن اپنے گرانقدر تاثرات بذریعہ واٹس ایپ ارسال فرما دیے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی معلوم ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ آپ کی وسعتِ قلبی، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور علمی حوصلہ افزائی کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ دور میں ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنی مصروفیات کے باوجود نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوں۔
علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بلاشبہ آسانی سے پر نہیں ہوسکے گا۔ ان کا وجود علم و تحقیق کا ایک مرکز، ادب و صحافت کا ایک معتبر حوالہ اور اخلاق و شرافت کا ایک حسین نمونہ تھا۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے یادوں، خدمات اور نقوش کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں جو مدتوں اہلِ علم کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ آج جب ان کے وصال کی خبر دل کو ملال اور آنکھوں کو نم کرتی ہے تو ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی کو کس قدر بامقصد بنایا تھا۔
انہوں نے شہرت کی تمنا نہیں کی، نمود و نمائش کی راہوں پر قدم نہیں رکھا بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے انتقال پر ہزاروں دل رنجیدہ، بے شمار آنکھیں اشکبار اور علمی حلقوں میں سوگواری کی کیفیت طاری ہے۔ آپ کا انتقال دراصل ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس کی روشنی سے بہت سے ذہن منور ہو رہے تھے۔ ایک ایسے قلم کا رک جانا ہے جس سے علم و ادب کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ ایک ایسے معلم کا خاموش ہو جانا ہے جس کی آواز میں علم کی حرارت اور اخلاص کی تاثیر تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک ایسے مدیر کا رخصت ہو جانا جس نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ اصلاحِ امت کا ذریعہ بنایا۔ الله تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، قبر کو انوارِ رحمت سے معمور فرمائے اور جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے، اپنے مقرب بندوں، صالحین، صدیقین، شہداء اور انبیائے کرام علیہم السلام کے مبارک قافلے میں جگہ عطا فرمائے۔ الله تعالیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ماہنامہ اشرفیہ کے اربابِ انتظام، آپ کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین، محبین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ بلاشبہ آپ کی رحلت ایک عظیم علمی و صحافتی خسارہ ہے لیکن ان کی یادیں، خدمات، علمی آثار اور آپ کے تربیت یافتہ شاگرد ہمیشہ آپ کے لیے صدق جاریہ بنے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ اخلاص، علم، محنت اور حسنِ اخلاق ہی انسان کی اصل کامیابی کا سرمایہ ہیں۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

مضمون نگار: Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!
(حافظ)افتخاراحمدقادری
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کے سامنے ہر ذی روح کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی ساری رونقیں، جاہ و حشمت کی تمام جلوہ سامانیاں، اقتدار و اختیار کی تمام رعنائیاں اور علم و فضل کی تمام رفعتیں بالآخر اسی منزلِ فنا پر آکر ختم ہو جاتی ہیں جہاں انسان اپنی ظاہری حیات کے سفر کو مکمل کرکے عالم بقا کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔ تاہم بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام، ایک دبستان کے سکوت اور ایک روشن باب کے بند ہو جانے کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار، صاحبِ علم و قلم، خوش خصال اور باوقار شخصیت حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی تھی جن کے انتقال کی اندوہناک خبر نے علمی و صحافتی اور دینی حلقوں کو سوگوار کردیا۔
* حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی" ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس و تربیت، تصنیف و تالیف اور صحافتی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ کا شمار ان اکابر اہلِ علم میں ہوتا تھا جن کے وجود سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی فضائیں معطر تھیں اور جن کے قلم کی جولانیاں ماہنامہ اشرفیہ کے صفحات کو وقار و اعتبار بخشتی تھیں۔ آپ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب، بالغ نظر صحافی، مدبر مدیر اور با اخلاق مربی بھی تھے۔ آپ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے درسِ نظامی کی تدریس کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھا۔ آپ کی تدریسی نشستیں محض کتابی معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہ تھیں بلکہ وہ علمی بصیرت، فکری بالیدگی اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج ہوتی تھیں۔ آپ کے تلامذہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ آپ درس دیتے ہوئے مشکل ترین مباحث کو بھی اس قدر سہل اور عام فہم انداز میں بیان فرماتے کہ طلبہ کے اذہان میں علمی عقدے ازخود وا ہو جاتے۔ آپ کے لہجے میں وقار، انداز میں متانت اور گفتگو میں علم و حکمت کی چاشنی نمایاں ہوا کرتی تھی۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور برصغیر کی ان عظیم دینی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہزاروں علماء، فضلاء اور مبلغین تیار کرکے ملتِ اسلامیہ کی علمی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔ اس عظیم علمی مرکز میں علامہ مبارک حسین مصباحی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ نے نہایت خاموشی مگر انتہائی مؤثر انداز میں تدریسی میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اگر آپ کی تدریسی خدمات قابلِ رشک تھیں تو صحافتی میدان میں آپ کی عظمت بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ نے صحافت کے جس معیار کو برقرار رکھا وہ موجودہ دور میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جبکہ صحافت کا ایک بڑا حصہ سطحیت، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ اظہار کا شکار نظر آتا ہے علامہ مبارک حسین مصباحی نے ہمیشہ سنجیدہ، متوازن اور علمی صحافت کی روایت کو فروغ دیا۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ صرف ایک رسالہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری و تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اس کے صفحات میں علم و تحقیق کی گہرائی، ادب و انشا کی لطافت اور دینی شعور کی روشنی بیک وقت جلوہ گر نظر آتی تھی۔ خصوصاً سیدین نمبر جیسا شاہکار دیکھ کر آپ کی صحافتی مہارت، تحقیقی بصیرت اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے خصوصی شمارے کسی ایک شخص کی محنت، مطالعے اور فکری وسعت کے بغیر ممکن نہیں ہوتے اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سلسلے میں علامہ مبارک حسین مصباحی کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش تھا۔
آپ کی شخصیت کا ایک تابناک پہلو اخلاقِ حسنہ تھا۔
علم بعض اوقات انسان کو متکبر بنادیتا ہے، شہرت بعض اوقات طبیعت میں خودنمائی پیدا کر دیتی ہے اور منصب بعض اوقات انسان کے مزاج میں سختی پیدا کر دیتا ہے لیکن علامہ مبارک حسین مصباحی ان تمام کمزوریوں سے پاک تھے۔ آپ جتنے بڑے عالم تھے اتنے ہی منکسر المزاج بھی تھے۔ جتنے ممتاز صحافی تھے اتنے ہی خوش اخلاق بھی تھے۔ جتنے باوقار استاد تھے اتنے ہی مشفق مربی بھی تھے۔ طلبہ سے آپ کا تعلق محض استاد و شاگرد کا نہ تھا بلکہ ایک شفیق باپ اور مہربان سرپرست کا تھا۔ آپ طلبہ کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت اور فکری اصلاح کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد صرف آپ کی علمی قابلیت کے معترف نہیں بلکہ آپ کے اخلاقی کردار کے بھی مداح ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کا ایک واقعہ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ جب میرے مضامین کا مجموعہ فکری مقالات شائع ہوا تو میں نے حضرت کو فون کیا۔ حضرت نے نہایت شفقت و محبت اور خلوص کے ساتھ گفتگو فرمائی اور دوسرے ہی دن اپنے گرانقدر تاثرات بذریعہ واٹس ایپ ارسال فرما دیے۔ یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی معلوم ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ آپ کی وسعتِ قلبی، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور علمی حوصلہ افزائی کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ دور میں ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنی مصروفیات کے باوجود نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوں۔
علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ بلاشبہ آسانی سے پر نہیں ہوسکے گا۔ ان کا وجود علم و تحقیق کا ایک مرکز، ادب و صحافت کا ایک معتبر حوالہ اور اخلاق و شرافت کا ایک حسین نمونہ تھا۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے یادوں، خدمات اور نقوش کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں جو مدتوں اہلِ علم کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ آج جب ان کے وصال کی خبر دل کو ملال اور آنکھوں کو نم کرتی ہے تو ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی کو کس قدر بامقصد بنایا تھا۔
انہوں نے شہرت کی تمنا نہیں کی، نمود و نمائش کی راہوں پر قدم نہیں رکھا بلکہ خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے انتقال پر ہزاروں دل رنجیدہ، بے شمار آنکھیں اشکبار اور علمی حلقوں میں سوگواری کی کیفیت طاری ہے۔ آپ کا انتقال دراصل ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس کی روشنی سے بہت سے ذہن منور ہو رہے تھے۔ ایک ایسے قلم کا رک جانا ہے جس سے علم و ادب کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ ایک ایسے معلم کا خاموش ہو جانا ہے جس کی آواز میں علم کی حرارت اور اخلاص کی تاثیر تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک ایسے مدیر کا رخصت ہو جانا جس نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ اصلاحِ امت کا ذریعہ بنایا۔ الله تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، قبر کو انوارِ رحمت سے معمور فرمائے اور جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے، اپنے مقرب بندوں، صالحین، صدیقین، شہداء اور انبیائے کرام علیہم السلام کے مبارک قافلے میں جگہ عطا فرمائے۔ الله تعالیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ماہنامہ اشرفیہ کے اربابِ انتظام، آپ کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین، محبین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ بلاشبہ آپ کی رحلت ایک عظیم علمی و صحافتی خسارہ ہے لیکن ان کی یادیں، خدمات، علمی آثار اور آپ کے تربیت یافتہ شاگرد ہمیشہ آپ کے لیے صدق جاریہ بنے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ اخلاص، علم، محنت اور حسنِ اخلاق ہی انسان کی اصل کامیابی کا سرمایہ ہیں۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
75
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Hafiz Md Iftikhar Ahmad Qadri
زمرہ جات

امتِ اور نئے اسلامی سال کے تقاضے

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢