صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

✍️ Amir Fuzail Markazi

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں عبادت کا مفہوم اور مرکزِ عقیدت کا دائرۂ کار یکساں نہیں ہوتا۔ اسلام، جس کی بنیاد عقیدۂ توحید پر استوار ہے، بندگی کو صرف اور صرف ذاتِ واحد، خالقِ کائنات، اللہ رب العزت کے لیے خاص قرار دیتا ہے؛ جب کہ دیگر ادیان میں شرک، تعددِ آلہہ اور تجسیمِ معبود کے خرافاتی تصورات پائے جاتے ہیں۔
برصغیر کے مذہبی و سماجی ماحول میں حالیہ کچھ عرصہ سے ایک فکری انحراف اور علمی بے بصری کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے کہ بعض سادہ لوح یا مغرض افراد اسلامی مزارات کو ہندوانہ مندروں کے مماثل ٹھہرا کر سادہ ذہنوں میں تردد پیدا کرنے کی لا حاصل کوشش کرریے ہیں۔ حالاں کہ مزار اور مندر کے مابین زمین و آسمان بلکہ حق و باطل کا فاصلہ ہے۔ ایک مرکزِ دعا، فیضانِ روحانیت اور تربیتِ قلب و باطن ہے، تو دوسرا بت پرستی، شرک اور مجسمہ پرستی کا گڑھ۔
اس مقالے میں ہم مندر اور مزارات پر ہونے والے افعال کے مابین فرق کوواضح کریں گے، تاکہ حقیقت کا ادراک ہو اور مغالطے دور ہوں۔اور اس سلسلے میں دیابنہ و اہل حدیث کے مغالطات کا جواب بھی سپرد قرطاس کرینگے ۔وماتوفیقی الا باللہ

مندر کی حقیقت

مندر سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردومیں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے ۔یہ وہ جگہ ہے جہاں ہندوستان میں ہندو اپنے دیوتاؤں کی مورتیاں رکھتے ہیں اور پوجا پاٹ کرتے ہیں ۔( اردو لغت ملخصا)
اس سے معلوم ہوا کہ ہندؤں کے عبادت خانے کو مندر کہتے ہیں ۔ہندو قوم وہاں جاکر اپنے مختلف دیوی دیوتا کی پرستش کرتی ہے اور اس کو سجدہ کرتی ہے اور اس سے حقیقی حاجت روا سمجھ کر مدد مانگتی ہیں اور انہیں نفع ونقصان کا مالک جانتی ہیں جو کہ اسلامی نقطہ نظر اور عقیدۂ توحید کے بالکل ہی خلاف ہے۔اس لۓ وہاں جانا شرعا ناجائز وحرام ہے۔

مزار کی حقیقت اور وہاں حاضری کا ثبوت شرعی

مزار عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں زیارت کی جگہ۔ اسلامی اصطلاح میں مزار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی ولی، بزرگ، عالمِ دین، شہید یا کسی نیک شخصیت کو دفن کیا گیا ہو۔ اس کو درگاہ، آستانہ یا روضہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں مسلمان آخرت کی یاد تازہ کرنے اورایصال ثواب کرنے کے لۓ،دعاؤں کی قبولیت ،اور روحانی سکون ،اور صاحب مزار کے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں ۔اور شرع مطہرہ میں اس کی اجازت بھی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا(رواہ مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن تم اب اس کی زیارت کیا کرو (کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)
اور خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر ہر سال تشریف لے جاتے تھے جیسا کہ تفسیر در منثور میں ہے:
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عَلَى رَاسِ كُلِّ حَوْلِ فَيَقُولُ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَ الدَّارِ وَالخُلَفَاء الارُبَعَةُ هَكَذَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
حضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کو سلام فرماتے تھے اور چاروں خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اور نیک بندوں کی قبر پر جاکر دعا کرنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اربعہ کی سنت ہے ۔جبکہ مندرمیں جانے سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے بلکہ توڑنے کا حکم نافذ فرمایا ہے ۔تو وہ لوگ عقل سے کام لے جو مندر اور مزار کو ایک کہتے ہیں ،اور اللہ والوں کی بارگاہ سے عوام کو متنفر کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں حالانکہ دونوں میں فرق مثل آفتاب آشکار ہے لیکن پھر بھی اپنی دکان چلانے کے لئے عوام کو دھوکا دیتے ہیں اور اس شعر کے مصداق بنتے ہیں!
س ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی بات چیت
بنتی نہیں ہے خلق کو دھوکا دۓ بغیر

کیا مزارات پر صرف شرک ہوتا ہے؟

چند مہینے ہوۓ کہ رفیق محترم مولانا قاسم مرکزی صاحب نے ایک پو سٹر بھیجا جو دیوبندیوں کی جانب سے شائع ہوا تھا جس میں لکھا ہوا تھا :
آج لوگ کہتے ہیں مزار پر حاضری دو کہ وہاں فیض ملتا ہے لیکن میں کہتا ہوں آج وہاں صرف کھل عام شرک ہی ہوتا ہے بوسہ دینا ایک شرک، سجدہ کرنا دوسرا شرک,غیراللہ سے مانگنا تیسرا شرک کیوں کہ قرآن مجید میں صراحتاً ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(سورہ اعراف 194)
ترجمہ:
بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا مدد کیلئے پکارتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ- (سورہ حج)
ترجمہ:
بیشک اللہ کے سوا جن کو تم مدد کیلئے پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکیں گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں گے۔

جواب

معترض دیوبندی نے اس پوسٹر میں چار باتیں کہیں ہیں جو قابل غور اور تردید ہیں:
اول:مزار پر کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ۔
دوم :مزار کو بوسہ دینا شرک۔
سوم :مزار کو سجدہ کرنا شرک۔
چہارم :اولیاء اللہ سے مدد مانگنا شرک اور بطور دلیل دو آیات کریمہ پیش کی ہیں ۔
اول :معترض کو چاہۓتھاکہ وہ اپنے دعوی کو(جبکہ وہاں کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ) دلیل سے مزین کرتے لیکن معترض کے پاس کوئ دلیل نہیں بس زبانی دعویٰ کردیا جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں ۔
س نہ دیکھا ہے نہ پڑھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے

کیا مزار کو بوسہ دینااور سجدہ کرنا شرک ہے؟

دوم ،سوم :اور مزار کو بوسہ دینے کوشرک سے تعبیر کرنایہ ان کے جہالت کا بین ثبوت ہے ۔
اولا فتاوی عالمگیری جلد 5صفحہ 351میں ہےولاباس بتقبیل قبر والدیہوالدین کے قبر کو بوسہ دینے میں حرج نہیں (فرط محبت میں )
اور فتاوی دارالعلوم دیوبندآن لائن جواب نمبر 35942 میں ہے;
ہاں اگر کوئ تنہائی میں فرط محبت وعقیدت کی بناپروالدین کے قبر کو بوسہ لےتوغریب روایت کی بنا پر گنجائش ہے اس سے ثابت ہوا کہ قبر کو بوسہ دینا شرک نہیں،اور اگر معترض شرک مانتا ہے تو بتاےتنہای میں گنجائش کیوں؟ جیساکہ فتاوی دیوبند میں ہے حالانکہ شرک کا حکم تنہائی اور مجمع میں یکساں ہے ۔
ثانیا حفظ الایمان صفحہ6پر درمختار کے حوالے سے منقول ہے:
وكذاما يفعلونه من تقبیل الارض بين يدى العلماء والعظماء فحرام والفاعل و الراضی به آثمان لا نہ یشبه عبادة الوثن وهل يكفر ان على وجد العبادة والتعظيم كفر ان على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا لكبيرة۔
(ترجمہ) اوراسی طرح جو لوگ زمین بوسی کرتے ہیں علماء اور سرداروں کے سامنے حرام ہےکرنے والاراضی ہونے والا دونوں گنہگار ہوتےہیں کیونکہ یہ عبادت بت کے مشابہ ہےاورایاوہ کافر ہوجائے گا یانہیں سواگر بطریق عبادت اور تعظیم ہوتب تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیۃوسلام کے ہو تو کافر نہ ہوگا
اس میں صاف ہیکہ بوسہ دینے والا کافر نہ ہوگا جبکہ بطور تحیۃوسلام کے ہو اس کو شرک کہنا جہالت اور اصول دین سے نا واقفیت ہے ۔
کوئی بھی مسلمان بزرگان دین کے قبر کو سجدہ بطور عبادت نہیں کرتا اور یہ ان سے متصور بھی نہیں ہے۔
اہلسنت والجماعت بریلوی کا موقف وہی ہے جو در مختار سے منقول ہوا اس کی پوری تفصیل اعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی رحمۃاللہ علیہ کے رسالہ الزبدۃالزکیۃ فی حرمۃ السجدہ والتحیۃمیں مسطور ہے۔جس کاجی چاہے مطالعہ کرلیں ۔
چہارم :غیر اللہ سے مدد مانگنے کو شرک کہنا یہ بھی اصول شرع کے خلاف ہے کیونکہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرعا جائز قرآن واحادیث میں اس کی صراحت موجود ہے :
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (التوبہ (1)
دوسری جگہ فرماتا ہے: نَحْنُ أَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ. (فصلت (۲)
معلوم ہوا کہ رب تعالٰی بھی مددگار ہے اور مسلمان بھی آپس میں ایک دوسرے کے ،مگررب تعالی بالذات مددگار اور یہ بالعرض۔
رہی بات اولیاء اللہ کے مزارات پر جاکر مانگنا جائز ہے یا نہیں اس کے سلسلے میں مشکوٰۃ شریف(باب زیارۃ القبور) کے حاشیہ میں ہے:
وَأَمَّا الْإِسْتِمْدَادُ بِأَهْلِ الْقُبُورِ فِي غَيْرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدْ أَنْكَرَهُ كَثِيرٌ مِّنَ الْفُقَهَاءِ وَاثبتہ الْمَشَائِحُ الصُّوفِيَّةُ وَبَعْضُ الْفُقَهَاءِ قَالَ الْإِمَام الشَّافِعِيُّ قَبُرُ مُوسَى الْكَاظِمِ تِرْيَاقَ مُجرب لاجَابَةِ الدُّعَاءِ وَقَالَ الْإِمَامُ الْغَزَالِيُّ مَنْ يُسْتَمْدُ فِي حَيَاتِهِ يَسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
(ترجمہ) نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہاء نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لئے ازمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیائے کرام سے مدد مانگنے میں تو کسی کا اختلاف نہیں۔ قبور اولیاء اللہ سے مدد مانگنے میں اختلاف ہے، علمائے ظاہرین نے انکار کیا ہےلیکن صوفیاء کرام اور فقہاء اہل کشف نے جائز فرمایا۔ حصن حصین صفحہ ۲۰۲ میں ہے:
وَإِنْ أَرَادَ عَوْنًا فَلْيَقُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي يَا عِبَادَ الله أَعْيُنُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي.
جب مدد لینا چاہے تو کہہ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو،اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو۔
مزید برآں ہمارے بزرگان دین کا اس پر عمل بھی ہے کہ وہ مشائخ کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور ان سے استعانت کرتے ہیں اور ان کے وسیلے سے رب تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں جیسا کی در مختار کے حوالے سے بہار شریعت جلد3 ص 1045پر ہے:
امام شافعی علیہ الرحمہ کا بارگاہ امام ابوحنیفہ (علیہ الرحمہ) میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور آپ کی قبر پر حاضری دیتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کے قریب آکر اس کے حل کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔
کیا معترض دیوبندی امام شافعی اور دیگر مشائخ جو اس کو جائز سمجھتے ہیں مشرک کہنے کی جسارت کرینگے نہیں ہر گز نہیں تو !
س دو رنگی چھوڑ دیں یک رنگ ہوجا
سراسر موم ہوجا یا پھر سنگ ہوجا
اور معترض نے جن دو آیت کو غیر اللہ سے استعانت کے شرک ہونے پر بطور استدلال پیش کیا ہے ۔اس کا صاحب مزار اور اللہ والوں سے استعانت کرنے سے کوئ تعلق نہیں بلکہ وہ بت بنانے اور بت پرستی کی مزمت میں ہے۔ہندؤں کا مندر جاکر اپنے معبودانِ باطلہ سے مدد مانگنا اور مسلمانوں کا مزار شریف پر حاضر ہوکر صاحب مزارکے واسطے سے رب تعالیٰ سے دعا مانگنے میں بہت فرق ہے کیونکہ ہندؤ اپنے معبودانِ باطلہ کو حقیقی مدد کرنے والا سمجھ کر مانگتے ہیں جبکہ مسلمان صاحب مزار کواللہ تعالیٰ کا مظہر اتم اور اللہ کا خاص بندہ سمجھ کر اس کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں ۔مذکورہ سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ مزارات اور مندر میں ہونے والے افعال میں بون بعید ہیں ۔جواہل حق پر آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہے ۔اور اس میں تساوی کا قول کرنا جنون وجہالت ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ہم سبھوں کو حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟
روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں عبادت کا مفہوم اور مرکزِ عقیدت کا دائرۂ کار یکساں نہیں ہوتا۔ اسلام، جس کی بنیاد عقیدۂ توحید پر استوار ہے، بندگی کو صرف اور صرف ذاتِ واحد، خالقِ کائنات، اللہ رب العزت کے لیے خاص قرار دیتا ہے؛ جب کہ دیگر ادیان میں شرک، تعددِ آلہہ اور تجسیمِ معبود کے خرافاتی تصورات پائے جاتے ہیں۔
برصغیر کے مذہبی و سماجی ماحول میں حالیہ کچھ عرصہ سے ایک فکری انحراف اور علمی بے بصری کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے کہ بعض سادہ لوح یا مغرض افراد اسلامی مزارات کو ہندوانہ مندروں کے مماثل ٹھہرا کر سادہ ذہنوں میں تردد پیدا کرنے کی لا حاصل کوشش کرریے ہیں۔ حالاں کہ مزار اور مندر کے مابین زمین و آسمان بلکہ حق و باطل کا فاصلہ ہے۔ ایک مرکزِ دعا، فیضانِ روحانیت اور تربیتِ قلب و باطن ہے، تو دوسرا بت پرستی، شرک اور مجسمہ پرستی کا گڑھ۔
اس مقالے میں ہم مندر اور مزارات پر ہونے والے افعال کے مابین فرق کوواضح کریں گے، تاکہ حقیقت کا ادراک ہو اور مغالطے دور ہوں۔اور اس سلسلے میں دیابنہ و اہل حدیث کے مغالطات کا جواب بھی سپرد قرطاس کرینگے ۔وماتوفیقی الا باللہ

مندر کی حقیقت

مندر سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردومیں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے ۔یہ وہ جگہ ہے جہاں ہندوستان میں ہندو اپنے دیوتاؤں کی مورتیاں رکھتے ہیں اور پوجا پاٹ کرتے ہیں ۔( اردو لغت ملخصا)
اس سے معلوم ہوا کہ ہندؤں کے عبادت خانے کو مندر کہتے ہیں ۔ہندو قوم وہاں جاکر اپنے مختلف دیوی دیوتا کی پرستش کرتی ہے اور اس کو سجدہ کرتی ہے اور اس سے حقیقی حاجت روا سمجھ کر مدد مانگتی ہیں اور انہیں نفع ونقصان کا مالک جانتی ہیں جو کہ اسلامی نقطہ نظر اور عقیدۂ توحید کے بالکل ہی خلاف ہے۔اس لۓ وہاں جانا شرعا ناجائز وحرام ہے۔

مزار کی حقیقت اور وہاں حاضری کا ثبوت شرعی

مزار عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں زیارت کی جگہ۔ اسلامی اصطلاح میں مزار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی ولی، بزرگ، عالمِ دین، شہید یا کسی نیک شخصیت کو دفن کیا گیا ہو۔ اس کو درگاہ، آستانہ یا روضہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں مسلمان آخرت کی یاد تازہ کرنے اورایصال ثواب کرنے کے لۓ،دعاؤں کی قبولیت ،اور روحانی سکون ،اور صاحب مزار کے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں ۔اور شرع مطہرہ میں اس کی اجازت بھی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا(رواہ مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن تم اب اس کی زیارت کیا کرو (کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)
اور خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر ہر سال تشریف لے جاتے تھے جیسا کہ تفسیر در منثور میں ہے:
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عَلَى رَاسِ كُلِّ حَوْلِ فَيَقُولُ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَ الدَّارِ وَالخُلَفَاء الارُبَعَةُ هَكَذَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
حضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کو سلام فرماتے تھے اور چاروں خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اور نیک بندوں کی قبر پر جاکر دعا کرنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اربعہ کی سنت ہے ۔جبکہ مندرمیں جانے سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے بلکہ توڑنے کا حکم نافذ فرمایا ہے ۔تو وہ لوگ عقل سے کام لے جو مندر اور مزار کو ایک کہتے ہیں ،اور اللہ والوں کی بارگاہ سے عوام کو متنفر کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں حالانکہ دونوں میں فرق مثل آفتاب آشکار ہے لیکن پھر بھی اپنی دکان چلانے کے لئے عوام کو دھوکا دیتے ہیں اور اس شعر کے مصداق بنتے ہیں!
س ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی بات چیت
بنتی نہیں ہے خلق کو دھوکا دۓ بغیر

کیا مزارات پر صرف شرک ہوتا ہے؟

چند مہینے ہوۓ کہ رفیق محترم مولانا قاسم مرکزی صاحب نے ایک پو سٹر بھیجا جو دیوبندیوں کی جانب سے شائع ہوا تھا جس میں لکھا ہوا تھا :
آج لوگ کہتے ہیں مزار پر حاضری دو کہ وہاں فیض ملتا ہے لیکن میں کہتا ہوں آج وہاں صرف کھل عام شرک ہی ہوتا ہے بوسہ دینا ایک شرک، سجدہ کرنا دوسرا شرک,غیراللہ سے مانگنا تیسرا شرک کیوں کہ قرآن مجید میں صراحتاً ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(سورہ اعراف 194)
ترجمہ:
بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا مدد کیلئے پکارتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ- (سورہ حج)
ترجمہ:
بیشک اللہ کے سوا جن کو تم مدد کیلئے پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکیں گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں گے۔

جواب

معترض دیوبندی نے اس پوسٹر میں چار باتیں کہیں ہیں جو قابل غور اور تردید ہیں:
اول:مزار پر کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ۔
دوم :مزار کو بوسہ دینا شرک۔
سوم :مزار کو سجدہ کرنا شرک۔
چہارم :اولیاء اللہ سے مدد مانگنا شرک اور بطور دلیل دو آیات کریمہ پیش کی ہیں ۔
اول :معترض کو چاہۓتھاکہ وہ اپنے دعوی کو(جبکہ وہاں کھلے عام صرف اور صرف شرک ہی ہوتا ہے ) دلیل سے مزین کرتے لیکن معترض کے پاس کوئ دلیل نہیں بس زبانی دعویٰ کردیا جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں ۔
س نہ دیکھا ہے نہ پڑھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے

کیا مزار کو بوسہ دینااور سجدہ کرنا شرک ہے؟

دوم ،سوم :اور مزار کو بوسہ دینے کوشرک سے تعبیر کرنایہ ان کے جہالت کا بین ثبوت ہے ۔
اولا فتاوی عالمگیری جلد 5صفحہ 351میں ہےولاباس بتقبیل قبر والدیہوالدین کے قبر کو بوسہ دینے میں حرج نہیں (فرط محبت میں )
اور فتاوی دارالعلوم دیوبندآن لائن جواب نمبر 35942 میں ہے;
ہاں اگر کوئ تنہائی میں فرط محبت وعقیدت کی بناپروالدین کے قبر کو بوسہ لےتوغریب روایت کی بنا پر گنجائش ہے اس سے ثابت ہوا کہ قبر کو بوسہ دینا شرک نہیں،اور اگر معترض شرک مانتا ہے تو بتاےتنہای میں گنجائش کیوں؟ جیساکہ فتاوی دیوبند میں ہے حالانکہ شرک کا حکم تنہائی اور مجمع میں یکساں ہے ۔
ثانیا حفظ الایمان صفحہ6پر درمختار کے حوالے سے منقول ہے:
وكذاما يفعلونه من تقبیل الارض بين يدى العلماء والعظماء فحرام والفاعل و الراضی به آثمان لا نہ یشبه عبادة الوثن وهل يكفر ان على وجد العبادة والتعظيم كفر ان على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا لكبيرة۔
(ترجمہ) اوراسی طرح جو لوگ زمین بوسی کرتے ہیں علماء اور سرداروں کے سامنے حرام ہےکرنے والاراضی ہونے والا دونوں گنہگار ہوتےہیں کیونکہ یہ عبادت بت کے مشابہ ہےاورایاوہ کافر ہوجائے گا یانہیں سواگر بطریق عبادت اور تعظیم ہوتب تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیۃوسلام کے ہو تو کافر نہ ہوگا
اس میں صاف ہیکہ بوسہ دینے والا کافر نہ ہوگا جبکہ بطور تحیۃوسلام کے ہو اس کو شرک کہنا جہالت اور اصول دین سے نا واقفیت ہے ۔
کوئی بھی مسلمان بزرگان دین کے قبر کو سجدہ بطور عبادت نہیں کرتا اور یہ ان سے متصور بھی نہیں ہے۔
اہلسنت والجماعت بریلوی کا موقف وہی ہے جو در مختار سے منقول ہوا اس کی پوری تفصیل اعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی رحمۃاللہ علیہ کے رسالہ الزبدۃالزکیۃ فی حرمۃ السجدہ والتحیۃمیں مسطور ہے۔جس کاجی چاہے مطالعہ کرلیں ۔
چہارم :غیر اللہ سے مدد مانگنے کو شرک کہنا یہ بھی اصول شرع کے خلاف ہے کیونکہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرعا جائز قرآن واحادیث میں اس کی صراحت موجود ہے :
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (التوبہ (1)
دوسری جگہ فرماتا ہے: نَحْنُ أَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ. (فصلت (۲)
معلوم ہوا کہ رب تعالٰی بھی مددگار ہے اور مسلمان بھی آپس میں ایک دوسرے کے ،مگررب تعالی بالذات مددگار اور یہ بالعرض۔
رہی بات اولیاء اللہ کے مزارات پر جاکر مانگنا جائز ہے یا نہیں اس کے سلسلے میں مشکوٰۃ شریف(باب زیارۃ القبور) کے حاشیہ میں ہے:
وَأَمَّا الْإِسْتِمْدَادُ بِأَهْلِ الْقُبُورِ فِي غَيْرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدْ أَنْكَرَهُ كَثِيرٌ مِّنَ الْفُقَهَاءِ وَاثبتہ الْمَشَائِحُ الصُّوفِيَّةُ وَبَعْضُ الْفُقَهَاءِ قَالَ الْإِمَام الشَّافِعِيُّ قَبُرُ مُوسَى الْكَاظِمِ تِرْيَاقَ مُجرب لاجَابَةِ الدُّعَاءِ وَقَالَ الْإِمَامُ الْغَزَالِيُّ مَنْ يُسْتَمْدُ فِي حَيَاتِهِ يَسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
(ترجمہ) نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہاء نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لئے ازمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیائے کرام سے مدد مانگنے میں تو کسی کا اختلاف نہیں۔ قبور اولیاء اللہ سے مدد مانگنے میں اختلاف ہے، علمائے ظاہرین نے انکار کیا ہےلیکن صوفیاء کرام اور فقہاء اہل کشف نے جائز فرمایا۔ حصن حصین صفحہ ۲۰۲ میں ہے:
وَإِنْ أَرَادَ عَوْنًا فَلْيَقُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي يَا عِبَادَ الله أَعْيُنُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِيُنُونِي.
جب مدد لینا چاہے تو کہہ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو،اے اللہ کے بندو !میری مدد کرو۔
مزید برآں ہمارے بزرگان دین کا اس پر عمل بھی ہے کہ وہ مشائخ کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور ان سے استعانت کرتے ہیں اور ان کے وسیلے سے رب تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں جیسا کی در مختار کے حوالے سے بہار شریعت جلد3 ص 1045پر ہے:
امام شافعی علیہ الرحمہ کا بارگاہ امام ابوحنیفہ (علیہ الرحمہ) میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور آپ کی قبر پر حاضری دیتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کے قریب آکر اس کے حل کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔
کیا معترض دیوبندی امام شافعی اور دیگر مشائخ جو اس کو جائز سمجھتے ہیں مشرک کہنے کی جسارت کرینگے نہیں ہر گز نہیں تو !
س دو رنگی چھوڑ دیں یک رنگ ہوجا
سراسر موم ہوجا یا پھر سنگ ہوجا
اور معترض نے جن دو آیت کو غیر اللہ سے استعانت کے شرک ہونے پر بطور استدلال پیش کیا ہے ۔اس کا صاحب مزار اور اللہ والوں سے استعانت کرنے سے کوئ تعلق نہیں بلکہ وہ بت بنانے اور بت پرستی کی مزمت میں ہے۔ہندؤں کا مندر جاکر اپنے معبودانِ باطلہ سے مدد مانگنا اور مسلمانوں کا مزار شریف پر حاضر ہوکر صاحب مزارکے واسطے سے رب تعالیٰ سے دعا مانگنے میں بہت فرق ہے کیونکہ ہندؤ اپنے معبودانِ باطلہ کو حقیقی مدد کرنے والا سمجھ کر مانگتے ہیں جبکہ مسلمان صاحب مزار کواللہ تعالیٰ کا مظہر اتم اور اللہ کا خاص بندہ سمجھ کر اس کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں ۔مذکورہ سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ مزارات اور مندر میں ہونے والے افعال میں بون بعید ہیں ۔جواہل حق پر آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہے ۔اور اس میں تساوی کا قول کرنا جنون وجہالت ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ہم سبھوں کو حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
130
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 27
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سخنِ دل

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢