صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ

✍️ Amir Fuzail Markazi

منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
اس عالمِ ناسوت میں اہلِ حق کے بالمقابل بےشمار فرقہاۓ باطلہ نے جنم لیاہے، ہر ایک اپنے باطل افکار و فاسد نظریات پر نازاں ہیں، گویا قرآنِ کریم کے اس فرمانِ عالیشان کی عملی تصویر ہے: كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُون ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ عجب تماشہ یہ ہے کہ ہر باطل گروہ اپنے عقائدِ فاسدہ کے اثبات میں دلیل آوری کا مدعی بھی ہے۔ یہ طرزِ باطل کوئی نئی ایجاد نہیں،کیونکہ اولین گمراہ ابلیسِ ملعون نے حکمِ سجودآدم سے سرِکش ہوکر اپنی نام نہاد افضیلت پریہ دلیل پیش کی تھی:
قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ، خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
کہ میں آدم سے بہتر ہوں، کیونکہ وہ مٹی سے پیدا ہوا اور میں آگ سے۔
مگر اس ملعون کی یہ دلیل، افضلیت کے باب میں، تارِ عنکبوت سے بھی ضعیف تر تھی چنانچہ وہ ابد الآباد تک مردود و مطرود قرار پایا۔
بعینہٖ یہی کیفیت آج کے روافض کی ہےوہی جن کا شیوہ خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انکار اور افضلیتِ شیخین پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ یہ بھی اپنے زعمِ باطل میں دلائل کے انبار لگاتے پھرتے ہیں، مگر ان ساری دلیل کا مجموعہ بھی جالِ عنکبوت سے زیادہ وقعت اور دلیلِ ابلیس سے زیادہ وزن نہیں رکھتا۔جس کا اندازہ قارئین کو مندرجہ ذیل سطور سے ہوجاۓگا ۔

حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر پر رافضی دلائل اور ان کارد

دلیل اول;
خلفاء ثلاثہ علیھم الرضوان کی خلافت خلافت غاصبہ ہے ،اورحضرت علی کا خلیفہ بلا فصل ہونا آیت قرآنی اور احادیث متواترہ میں منصوص ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے;
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ ءَامَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمْ رَ كِعُونَ (المائدة : 55.)
ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں،اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ۔
اهل سنت کے بزرگ علماء نے مجاهد سے یہ روایت نقل کی ہے :
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ نَزَلَتْ فِي عَلي بن أبي طالب تَصَدَّقَ وَهُوَ راكِعٌ.جس وقت علی ابن ابی طالب حالت رکوع میں تھے اور آپ نے حالت رکوع میں صدقہ دیا تو یہ آیت آپ کی شان میں نازل ہوئی۔( تفسير الطبري ج 6 ص 390 )ولی کا معنی حاکم ،خلیفہ ہوتا لہذا اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہے اس کی تائید حدیث غدیر خم سے بھی ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :من کنت مولاہ فعلی مولاہ "یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہے۔
تجزیۂ دلیل :
مقام افسوس ہے روافض کے فہم پر کہ بغض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ سیاق وسباق سے کاٹ کر قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہیں,اور اپنے مدعا کے اثبات کےدرپے ہوتےہیں اس پر میں فقط اتنا کہوں گا کہ !
الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے
دے موت آدمی کو مگر یہ ادا نہ دے
اور ولی کا معنی خلیفہ کرنا یہ عربی لغات سے جہالت کا بین ثبوت ہے کیونکہ کسی عربی لغت میں ولی کا معنی خلیفہ نہیں ہے ،اگر رافضیوں کی بات مان لی جاۓ کہ آیت مذکورہ میں والذین آمنوا سے مراد حضرت علی ہے اور ولی بمعنی خلیفہ، تو انما ولیکم اللہ تو اللہ تمہارا ولی ہے تو بتاۓ اللہ تعالیٰ کس کا خلیفہ ہے؟ اور مزید رافضیوں کے اس استدلال کا بطلان اگلی آیت سے ظاہر ہے کیونکہ فرمان خدا ہے:
مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ
جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بے شک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے(سورہ مائدہ56 کنزالایمان)
اس آیت میں
یتول دوست بنانے کے معنی میں ہے اور اس کے آگے پیچھے کی تمام آیات اس پر دال ہیں۔ اور تفسیری طبری کے حوالے سے یہ نقل کرنا کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ،ظاہرالبطلان ہے کیونکہ اس میں ایک راوی غالب بن عبید اللہ العقیلی ہے، جس کے متعلق اسی کے حاشیہ میں ہے :
غالب بن عبید اللہ العقیلی الجزری منکر الحدیث متروک *
غالب بن عبید اللہ العقیلی الجزری منکر الحدیث متروک ہے ۔
صحیح یہ ہیکہ یہ آیت کریمہ حضرت عبداللہ ابن صامت کے متعلق نازل ہوئی جیسا کہ تفسیر طبری کےہی جلد 8میں ہے :
إن هذه الآية نزلت في عبادة بن الصامت، في تبرُّئه من ولاية يهود بني قينقاع وحِلفهم، إلى رسول الله ﷺ والمؤمنين"
معلوم ہوا کہ صحیح یہی ہے کہ یہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی, تو رافضیوں کا اس آیت سے استدلال کرنا حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر کسی جہت سے درست نہیں ہے !
پر وہی گر پڑا کبوتر کا
جس پر نام لکھا تھا دلبر کا

حدیث غدیرخم کی حقیقت اس کے معنی کی تعین

حدیث غدیرخم کو رافضیوں کا اپنی تائید میں پیش کرنا ہر گز مفید نہیں کیونکہ حدیث غدیرخم میں جو لفظ مولی ہے اس کا معنی خلیفہ بلا فصل کسی لغت میں نہیں ہے بلکہ اس کے کئی معانی آتے ہیں:
مثلاً مالک ،غلام ،صاحب،قریبی چچازادبھائی ،پڑوسی ،حلیف،بیٹا،چچا شریک ،آقا،مددگار ،داماد وغیرہ( تحفہ جعفریہ جلد 1,ص51)
جب لفظ مولی کے اتنے معانی آتے ہیں تو بلا قرینہ کے کوئی ایک معنی کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ اور اگر مان لیا جائے کہ مولی کا معنی خلیفہ بلا فصل ہی ہے توبتاۓ ان آیات کریمہ میں کیا ترجمہ کریں گے روافض؟
انْتَ مَوْلَنَا فَنُصُرْنَا (البقرة: 286)
بَلِ اللهُ مَوْلَكُمْ ( آل عمران :150)
فَاعْلَمُوانَّ اللهَ مَوْلَكُمْ (انفال : 40)
وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَكُمْ ، فَنِعْمَ الْمَوْلِى وَنِعْمَ النَّصِيرِ (ان :78)
ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا ( سورة محمد :(11)
وَاللهُ مَوْلَكُمْ (تحريم : (2)
إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا ، هُوَ مَوْلَانَا (توب (51)
ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلَهُمُ الْحَقِّ ( انعام (62)
کیا اللہ تعالیٰ کسی کا خلیفہ ہے ؟معاذ اللہ، بلکہ ان سب آیت میں مولی بمعنی دوست ہے جیسا کہ علامہ محب اللہ طبری علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے:
یکون المولی بمعنی الولی ضد العدو یعنی مولی کا معنی دوست ہوتا ہے جو دشمن کی ضد ہے۔(الریاض النضرہ جلد 1,ص227)
جس طریقہ سے ان آیات مولی بمعنی دوست ہے اسی طرح حدیث غدیر خم میں بھی, اس پر قرینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا فرمان ہے: اللہم وال من والاہ وعاد من عاداہ اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ،جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔(ابن ماجہ شریف ص12)
دوسری دلیل :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی(ابن ماجہ ص12)
اے علی !تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسا کہ ہارون علیہ السلام موسی علیہ السلام کے نزدیک تھے ۔
حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے چنانچہ حضرت علی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوۓ۔
تجزیہ دلیل :
یہ دلیل بھی قابل اعتنا نہیں، اور یہ قیاس مع الفارق ہے، کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پاگۓ تھے ،جیسا کہ حاشیہ ابن ماجہ ص12 پر ہے:
لم یکن خلیفۃ بعد موسی بل توفی حیات موسی قبل وفاتہ بنحو اربعین سنۃ انما استخلفہ حین ذھب لمیقات ربہ للمناجات
ترجمہ:حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ کے بعد اس کے خلیفہ نہیں تھے کیونکہ اس کی وفات موسی علیہ السلام کے وفات سے چالیس سال پہلے ہوگئی تھی، ہاں وہ اس کی زندگی میں ہی اس کے خلیفہ بنے تھے جب حضرت موسیٰ کوہ طور پر اپنے رب سے مناجات کے لیے تشریف لے گئے تھے
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت ہارون خلیفہ بلا فصل نہیں تھے، بلکہ خاص موقع پر خلیفہ تھے اور اس حدیث میں اسی سے تشبیہ ہے، کیونکہ حضرت علی کو بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ نے جنگ تبوک کے موقع پر اپنا خلیفہ بنا کر مدینہ میں رہنے کا حکم دیا تھا ،جیسا کہ البدایہ والنہایہ جلدپنجم ص7پرہے :
قَالَ أَبُو دَاودُ الطَّيَا لَسی فِي مَسْنَدِهِ حَدَّثَنَا شُعْبَهُ
عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خلفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اتُخَلِفُنِي فِي النِّسَاءِ وَ الصَّبْيَانِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَتَزَلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِي بَعْدِي .

حضرت حکم مصعب بن سعد سے روایت کرتے ہے وہ اپنے والد ماجدسے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ تبوک کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو گھر پر ہی ٹھہرنے کا حکم دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا یارسول اللہ!آپ ہمیں عورتوں اور بچے میں چھوڑیں گے (جو بوجہ بچے اور عورت ہونے کے جہاد سے مستثنیٰ ہے) یہ سن کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا تو پسند نہیں کرتا کہ تیری حیثیت میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے ہارون علیہ السلام کی موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی،لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ اس سے خلیفہ بلا فصل ثابت کرنا محض مغالطہ اور تاریخ سے جہالت ہے۔!
نہ پڑھا ہے نہ لکھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
تیسری دلیل
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک پر بیعت تو کی، مگر وہ بیعت مجبوری کے باعث تھی۔ آپ نے چند روز توقف اس لیے کیا کہ خلافت اصل میں آپ ہی کا حق تھا۔ لیکن جب تمام لوگوں نے حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو آپ نے تقیہ کرتے ہوئے مجبوراً بیعت کر لی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ آپ خلافت کے زیادہ حقدار تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بعد آپ ہی سب سے افضل ہے ۔الأفضل هو الأحق بالخلافة‘‘
تجزیہ دلیل :
نہ پڑھا ہے نہ لکھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
رافضیوں کی یہ بہت بڑی جسارتِ ہے کہ حضرتِ علی مرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ جیسی حق گو، شجاع، بے باک شخصیت کو ’’تقیّہ باز‘‘ ٹھہرا رہے ہیں ،حالانکہ حدیثِ نبوی ہے:
السَّاكِتُ عَنِ الحَقِّ شَيْطَانٌ أَخْرَس»(نور الانوار ص223باب الاجماع)
حق کے معاملہ میں خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے۔
کیا یہ وصفِ مذموم اسدُ اللہِ الغالب، فاتحِ خیبر، امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جیسی جلیل القدر ہستی پر صادق آسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
یہ کہنا کہ بیعت سے توقف خلافت کو اپنا حق سمجھنے کی وجہ سے تھا باطلِ محض ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق کے مقابل علمِ جنگ بلند کرتے، جیسا کہ بعد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔
بلکہ بیعت میں تاخیر کی حقیقی وجہ وہ ہےجو کتبِ معتبرہ میں مذکور ہے یعنی حضورِ اقدس ﷺ کے وصال کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا علیل تھیں اور مولیٰ علی انہی کی تیمارداری میں مشغول تھے۔
چنانچہ حاشیہ شرح عقائد نسفی ص 148 پر واضح طور پر ہے:
إنه كان مشغولًا بخدمة فاطمة رضي الله عنها فإنها لم تزل مريضة بعد وفاة رسول الله ﷺ
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت فاطمہ زہرا کی خدمت میں مصروف تھے جو وفاتِ رسول ﷺ کے بعد برابر علیل رہیں۔
یہ قول کہ انہوں نے ’’مجبوراً‘‘ بیعت کی یہ بھی مردود و باطل ہے؛ کیونکہ شیعہ متکلم قاضی نور اللہ نےاپنی مشہور کتاب احقاق الحق ص 7 پر حضرت علی ہی کا فرمان نقل کیا ہے:
هُمَا إِمَامَانِ عَادِلانِ قاسِطَانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَداعَلَيْهِ فَعَلَيْهِمَا رَحْمَهُ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ -
ابو بکر و عمر دونوں عادل و منصف امام تھے، ہمیشہ حق پر قائم رہے، اور حق پر جان دی۔ قیامت کے دن اللہ کی رحمت ان دونوں پر ہو۔‘
پس شیعہ ہی کی معتبر کتاب اور حضرتِ علی ہی کے قولِ مبارک سے شیخینِ کریمین کی خلافتِ حقّہ آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہوگئی اور رافضیوں کادعوی کہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت خلافت غاصبہ تھی باطل ہوگیا فللہ الحمد
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
پھر یہ کہنا کہ چونکہ حضرت علی افضل تھے لہٰذا خلافت کے حقدار بھی وہی تھےیہ بھی فاسد و مردود ہے۔حدیثِ صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے:
كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللهِ ﷺ حَيٌّ أَفْضَلُ هذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَر، ثُمَّ عُثْمَان (مشکوٰۃ ص 563)
ہم حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری ہی میں کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان ہیں۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ تمام صحابۂ کرام کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق نوع انسانی میں انبیا کے بعد سب سے افضل ہیں اور اسی پر اہل سنت کا اجماع ہے جیساکہ امام قسطلانی فرماتے ہیں:
إجماع أهل السُّنَّة والجماعة على أفضليتہ ھو قطعيّ، فلا يُعارضه ظنيّ(افضلیت شیخین اور تفضیلی فتنہ ص34 بحوالہ ارشاد الساری )
اہلِ سنت کا حضرت صدیق کی افضلیت پر اجماع قطعی ہے، لہٰذا کوئی ظنی دلیل اس کے معارض نہیں ہوسکتی۔
یوں یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہوگیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیا کے بعد سب سے افضل ہے۔اوراس کے خلاف جو خبراحاد اور ظنی دلیلیں روافض پیش کرتے ہیں وہ قابل التفات نہیں ۔اورجب افضلیت ثابت تورافضیوں کے اقراری اصول’’الأفضل هو الأحق بالخلافة‘‘ کے تحت بھی خلافتِ صدیقِ اکبر کی حقّانیت ثابت ہوگئی اور اسی دلیل سے ان کا اپنا دعویٰ از خود باطل ہوگیا۔واقعۃً:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حق وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اہلِ سنت والجماعت کے عقائدِ حقّہ پر قائم و دائم رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

منکرین خلافت و افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دلائل کا تجزیہ
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند
اس عالمِ ناسوت میں اہلِ حق کے بالمقابل بےشمار فرقہاۓ باطلہ نے جنم لیاہے، ہر ایک اپنے باطل افکار و فاسد نظریات پر نازاں ہیں، گویا قرآنِ کریم کے اس فرمانِ عالیشان کی عملی تصویر ہے: كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُون ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ عجب تماشہ یہ ہے کہ ہر باطل گروہ اپنے عقائدِ فاسدہ کے اثبات میں دلیل آوری کا مدعی بھی ہے۔ یہ طرزِ باطل کوئی نئی ایجاد نہیں،کیونکہ اولین گمراہ ابلیسِ ملعون نے حکمِ سجودآدم سے سرِکش ہوکر اپنی نام نہاد افضیلت پریہ دلیل پیش کی تھی:
قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ، خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
کہ میں آدم سے بہتر ہوں، کیونکہ وہ مٹی سے پیدا ہوا اور میں آگ سے۔
مگر اس ملعون کی یہ دلیل، افضلیت کے باب میں، تارِ عنکبوت سے بھی ضعیف تر تھی چنانچہ وہ ابد الآباد تک مردود و مطرود قرار پایا۔
بعینہٖ یہی کیفیت آج کے روافض کی ہےوہی جن کا شیوہ خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انکار اور افضلیتِ شیخین پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ یہ بھی اپنے زعمِ باطل میں دلائل کے انبار لگاتے پھرتے ہیں، مگر ان ساری دلیل کا مجموعہ بھی جالِ عنکبوت سے زیادہ وقعت اور دلیلِ ابلیس سے زیادہ وزن نہیں رکھتا۔جس کا اندازہ قارئین کو مندرجہ ذیل سطور سے ہوجاۓگا ۔

حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر پر رافضی دلائل اور ان کارد

دلیل اول;
خلفاء ثلاثہ علیھم الرضوان کی خلافت خلافت غاصبہ ہے ،اورحضرت علی کا خلیفہ بلا فصل ہونا آیت قرآنی اور احادیث متواترہ میں منصوص ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے;
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ ءَامَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمْ رَ كِعُونَ (المائدة : 55.)
ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں،اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ۔
اهل سنت کے بزرگ علماء نے مجاهد سے یہ روایت نقل کی ہے :
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ نَزَلَتْ فِي عَلي بن أبي طالب تَصَدَّقَ وَهُوَ راكِعٌ.جس وقت علی ابن ابی طالب حالت رکوع میں تھے اور آپ نے حالت رکوع میں صدقہ دیا تو یہ آیت آپ کی شان میں نازل ہوئی۔( تفسير الطبري ج 6 ص 390 )ولی کا معنی حاکم ،خلیفہ ہوتا لہذا اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہے اس کی تائید حدیث غدیر خم سے بھی ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :من کنت مولاہ فعلی مولاہ "یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہے۔
تجزیۂ دلیل :
مقام افسوس ہے روافض کے فہم پر کہ بغض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ سیاق وسباق سے کاٹ کر قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہیں,اور اپنے مدعا کے اثبات کےدرپے ہوتےہیں اس پر میں فقط اتنا کہوں گا کہ !
الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے
دے موت آدمی کو مگر یہ ادا نہ دے
اور ولی کا معنی خلیفہ کرنا یہ عربی لغات سے جہالت کا بین ثبوت ہے کیونکہ کسی عربی لغت میں ولی کا معنی خلیفہ نہیں ہے ،اگر رافضیوں کی بات مان لی جاۓ کہ آیت مذکورہ میں والذین آمنوا سے مراد حضرت علی ہے اور ولی بمعنی خلیفہ، تو انما ولیکم اللہ تو اللہ تمہارا ولی ہے تو بتاۓ اللہ تعالیٰ کس کا خلیفہ ہے؟ اور مزید رافضیوں کے اس استدلال کا بطلان اگلی آیت سے ظاہر ہے کیونکہ فرمان خدا ہے:
مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ
جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بے شک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے(سورہ مائدہ56 کنزالایمان)
اس آیت میں
یتول دوست بنانے کے معنی میں ہے اور اس کے آگے پیچھے کی تمام آیات اس پر دال ہیں۔ اور تفسیری طبری کے حوالے سے یہ نقل کرنا کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ،ظاہرالبطلان ہے کیونکہ اس میں ایک راوی غالب بن عبید اللہ العقیلی ہے، جس کے متعلق اسی کے حاشیہ میں ہے :
غالب بن عبید اللہ العقیلی الجزری منکر الحدیث متروک *
غالب بن عبید اللہ العقیلی الجزری منکر الحدیث متروک ہے ۔
صحیح یہ ہیکہ یہ آیت کریمہ حضرت عبداللہ ابن صامت کے متعلق نازل ہوئی جیسا کہ تفسیر طبری کےہی جلد 8میں ہے :
إن هذه الآية نزلت في عبادة بن الصامت، في تبرُّئه من ولاية يهود بني قينقاع وحِلفهم، إلى رسول الله ﷺ والمؤمنين"
معلوم ہوا کہ صحیح یہی ہے کہ یہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی, تو رافضیوں کا اس آیت سے استدلال کرنا حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر کسی جہت سے درست نہیں ہے !
پر وہی گر پڑا کبوتر کا
جس پر نام لکھا تھا دلبر کا

حدیث غدیرخم کی حقیقت اس کے معنی کی تعین

حدیث غدیرخم کو رافضیوں کا اپنی تائید میں پیش کرنا ہر گز مفید نہیں کیونکہ حدیث غدیرخم میں جو لفظ مولی ہے اس کا معنی خلیفہ بلا فصل کسی لغت میں نہیں ہے بلکہ اس کے کئی معانی آتے ہیں:
مثلاً مالک ،غلام ،صاحب،قریبی چچازادبھائی ،پڑوسی ،حلیف،بیٹا،چچا شریک ،آقا،مددگار ،داماد وغیرہ( تحفہ جعفریہ جلد 1,ص51)
جب لفظ مولی کے اتنے معانی آتے ہیں تو بلا قرینہ کے کوئی ایک معنی کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ اور اگر مان لیا جائے کہ مولی کا معنی خلیفہ بلا فصل ہی ہے توبتاۓ ان آیات کریمہ میں کیا ترجمہ کریں گے روافض؟
انْتَ مَوْلَنَا فَنُصُرْنَا (البقرة: 286)
بَلِ اللهُ مَوْلَكُمْ ( آل عمران :150)
فَاعْلَمُوانَّ اللهَ مَوْلَكُمْ (انفال : 40)
وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَكُمْ ، فَنِعْمَ الْمَوْلِى وَنِعْمَ النَّصِيرِ (ان :78)
ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا ( سورة محمد :(11)
وَاللهُ مَوْلَكُمْ (تحريم : (2)
إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا ، هُوَ مَوْلَانَا (توب (51)
ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلَهُمُ الْحَقِّ ( انعام (62)
کیا اللہ تعالیٰ کسی کا خلیفہ ہے ؟معاذ اللہ، بلکہ ان سب آیت میں مولی بمعنی دوست ہے جیسا کہ علامہ محب اللہ طبری علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے:
یکون المولی بمعنی الولی ضد العدو یعنی مولی کا معنی دوست ہوتا ہے جو دشمن کی ضد ہے۔(الریاض النضرہ جلد 1,ص227)
جس طریقہ سے ان آیات مولی بمعنی دوست ہے اسی طرح حدیث غدیر خم میں بھی, اس پر قرینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا فرمان ہے: اللہم وال من والاہ وعاد من عاداہ اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ،جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔(ابن ماجہ شریف ص12)
دوسری دلیل :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی(ابن ماجہ ص12)
اے علی !تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسا کہ ہارون علیہ السلام موسی علیہ السلام کے نزدیک تھے ۔
حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے چنانچہ حضرت علی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوۓ۔
تجزیہ دلیل :
یہ دلیل بھی قابل اعتنا نہیں، اور یہ قیاس مع الفارق ہے، کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پاگۓ تھے ،جیسا کہ حاشیہ ابن ماجہ ص12 پر ہے:
لم یکن خلیفۃ بعد موسی بل توفی حیات موسی قبل وفاتہ بنحو اربعین سنۃ انما استخلفہ حین ذھب لمیقات ربہ للمناجات
ترجمہ:حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ کے بعد اس کے خلیفہ نہیں تھے کیونکہ اس کی وفات موسی علیہ السلام کے وفات سے چالیس سال پہلے ہوگئی تھی، ہاں وہ اس کی زندگی میں ہی اس کے خلیفہ بنے تھے جب حضرت موسیٰ کوہ طور پر اپنے رب سے مناجات کے لیے تشریف لے گئے تھے
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت ہارون خلیفہ بلا فصل نہیں تھے، بلکہ خاص موقع پر خلیفہ تھے اور اس حدیث میں اسی سے تشبیہ ہے، کیونکہ حضرت علی کو بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ نے جنگ تبوک کے موقع پر اپنا خلیفہ بنا کر مدینہ میں رہنے کا حکم دیا تھا ،جیسا کہ البدایہ والنہایہ جلدپنجم ص7پرہے :
قَالَ أَبُو دَاودُ الطَّيَا لَسی فِي مَسْنَدِهِ حَدَّثَنَا شُعْبَهُ
عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خلفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اتُخَلِفُنِي فِي النِّسَاءِ وَ الصَّبْيَانِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَتَزَلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِي بَعْدِي .

حضرت حکم مصعب بن سعد سے روایت کرتے ہے وہ اپنے والد ماجدسے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ تبوک کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو گھر پر ہی ٹھہرنے کا حکم دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا یارسول اللہ!آپ ہمیں عورتوں اور بچے میں چھوڑیں گے (جو بوجہ بچے اور عورت ہونے کے جہاد سے مستثنیٰ ہے) یہ سن کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا تو پسند نہیں کرتا کہ تیری حیثیت میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے ہارون علیہ السلام کی موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی،لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ اس سے خلیفہ بلا فصل ثابت کرنا محض مغالطہ اور تاریخ سے جہالت ہے۔!
نہ پڑھا ہے نہ لکھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
تیسری دلیل
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک پر بیعت تو کی، مگر وہ بیعت مجبوری کے باعث تھی۔ آپ نے چند روز توقف اس لیے کیا کہ خلافت اصل میں آپ ہی کا حق تھا۔ لیکن جب تمام لوگوں نے حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو آپ نے تقیہ کرتے ہوئے مجبوراً بیعت کر لی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ آپ خلافت کے زیادہ حقدار تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بعد آپ ہی سب سے افضل ہے ۔الأفضل هو الأحق بالخلافة‘‘
تجزیہ دلیل :
نہ پڑھا ہے نہ لکھا ہے فقط الزام لے آۓ
یہی انداز دشمن ہے یہی انعام لے آئے
رافضیوں کی یہ بہت بڑی جسارتِ ہے کہ حضرتِ علی مرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ جیسی حق گو، شجاع، بے باک شخصیت کو ’’تقیّہ باز‘‘ ٹھہرا رہے ہیں ،حالانکہ حدیثِ نبوی ہے:
السَّاكِتُ عَنِ الحَقِّ شَيْطَانٌ أَخْرَس»(نور الانوار ص223باب الاجماع)
حق کے معاملہ میں خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے۔
کیا یہ وصفِ مذموم اسدُ اللہِ الغالب، فاتحِ خیبر، امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جیسی جلیل القدر ہستی پر صادق آسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
یہ کہنا کہ بیعت سے توقف خلافت کو اپنا حق سمجھنے کی وجہ سے تھا باطلِ محض ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق کے مقابل علمِ جنگ بلند کرتے، جیسا کہ بعد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔
بلکہ بیعت میں تاخیر کی حقیقی وجہ وہ ہےجو کتبِ معتبرہ میں مذکور ہے یعنی حضورِ اقدس ﷺ کے وصال کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا علیل تھیں اور مولیٰ علی انہی کی تیمارداری میں مشغول تھے۔
چنانچہ حاشیہ شرح عقائد نسفی ص 148 پر واضح طور پر ہے:
إنه كان مشغولًا بخدمة فاطمة رضي الله عنها فإنها لم تزل مريضة بعد وفاة رسول الله ﷺ
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت فاطمہ زہرا کی خدمت میں مصروف تھے جو وفاتِ رسول ﷺ کے بعد برابر علیل رہیں۔
یہ قول کہ انہوں نے ’’مجبوراً‘‘ بیعت کی یہ بھی مردود و باطل ہے؛ کیونکہ شیعہ متکلم قاضی نور اللہ نےاپنی مشہور کتاب احقاق الحق ص 7 پر حضرت علی ہی کا فرمان نقل کیا ہے:
هُمَا إِمَامَانِ عَادِلانِ قاسِطَانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَداعَلَيْهِ فَعَلَيْهِمَا رَحْمَهُ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ -
ابو بکر و عمر دونوں عادل و منصف امام تھے، ہمیشہ حق پر قائم رہے، اور حق پر جان دی۔ قیامت کے دن اللہ کی رحمت ان دونوں پر ہو۔‘
پس شیعہ ہی کی معتبر کتاب اور حضرتِ علی ہی کے قولِ مبارک سے شیخینِ کریمین کی خلافتِ حقّہ آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہوگئی اور رافضیوں کادعوی کہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت خلافت غاصبہ تھی باطل ہوگیا فللہ الحمد
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
پھر یہ کہنا کہ چونکہ حضرت علی افضل تھے لہٰذا خلافت کے حقدار بھی وہی تھےیہ بھی فاسد و مردود ہے۔حدیثِ صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے:
كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللهِ ﷺ حَيٌّ أَفْضَلُ هذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَر، ثُمَّ عُثْمَان (مشکوٰۃ ص 563)
ہم حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری ہی میں کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان ہیں۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ تمام صحابۂ کرام کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق نوع انسانی میں انبیا کے بعد سب سے افضل ہیں اور اسی پر اہل سنت کا اجماع ہے جیساکہ امام قسطلانی فرماتے ہیں:
إجماع أهل السُّنَّة والجماعة على أفضليتہ ھو قطعيّ، فلا يُعارضه ظنيّ(افضلیت شیخین اور تفضیلی فتنہ ص34 بحوالہ ارشاد الساری )
اہلِ سنت کا حضرت صدیق کی افضلیت پر اجماع قطعی ہے، لہٰذا کوئی ظنی دلیل اس کے معارض نہیں ہوسکتی۔
یوں یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہوگیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیا کے بعد سب سے افضل ہے۔اوراس کے خلاف جو خبراحاد اور ظنی دلیلیں روافض پیش کرتے ہیں وہ قابل التفات نہیں ۔اورجب افضلیت ثابت تورافضیوں کے اقراری اصول’’الأفضل هو الأحق بالخلافة‘‘ کے تحت بھی خلافتِ صدیقِ اکبر کی حقّانیت ثابت ہوگئی اور اسی دلیل سے ان کا اپنا دعویٰ از خود باطل ہوگیا۔واقعۃً:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حق وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اہلِ سنت والجماعت کے عقائدِ حقّہ پر قائم و دائم رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
79
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 23
Kalam 1
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

مفتی شہزاد عالم مصباحی کے خلاف عمیر قاسمی دیوبندی کی بکواس کا جواب

کیا اسلام میں بغیر شادی کے عورت سے تعلق رکھنا جائز ہے ؟

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢