صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا
اصلاح معاشرہ

صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا

✍️ Syed suhaib hamdani Markazi

صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
اللہ تعالیٰ کی بے حد حمد و ثنا ہے، جس وحدہٗ لاشریک رب العالمین نے ہم گنہگاروں کو حضورِ سرورِ کائنات، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ یوں تو سبھی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو وہ بلندی عطا فرمائی ہے جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ دینِ اسلام ہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ)
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے۔
اسی مقدس اور پاکیزہ دین کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاے فانی میں انبیائے کرام اور رسلِ عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یہاں تک کہ آقائے دو جہاں، تاجدارِ کائنات، محبوبِ رب العالمین، سید المرسلین، امام الانبیاء، شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کلمۂ حق کو بلند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے ظلمت کو ختم فرمایا اور اپنے مقدس نور سے دنیا کو جِلا بخشی۔
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی تبلیغ کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن کی کوئی حد نہیں۔ اسی مقدس دین کی اشاعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ایک ایسی طیب و طاہر جماعت کو منتخب فرمایا، جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ نسبت حاصل ہوئی جو کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہوئی، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک فرمان کے مصداق بن گئے:
(خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم)
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہم تک یہ دین بغیر قربانیوں کے نہیں پہنچا۔ اس دین کو دنیا بھر میں پہنچانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکینِ مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ دینِ اسلام کی تبلیغ کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی۔
الغرض، بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں دینِ اسلام پوری دنیا میں پھیلا، اور آج الحمد للہ رب العالمین دنیا کے ہر کونے میں مسلمان نظر آتے ہیں۔ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کا فیض ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دین کی اشاعت میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور اسی خالص دین کو من و عن ہم تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں ہم کلمۂ توحید سے بہرہ ور ہوئے۔

دینِ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟

قارئینِ کرام!
مجھے امید ہے کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر اپنے اسلاف کی قربانیوں کو ضرور یاد کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ذرا اس حقیقت پر غور فرمائیے کہ دینِ اسلام ہم تک صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے پہنچا، پھر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وسیلے سے ہوتا ہوا ہم گنہگاروں تک من و عن اپنی اصل صورت میں پہنچا۔ اس پاکیزہ دین کو ہم تک پہنچانے میں اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہایت اہم کردار ادا کیا اور اس راہ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہم جیسے لوگوں کو دینِ اسلام سے آشنا کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کیا، مختلف بلاد میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ فرمائی۔
اس عظیم مقصد کے لیے جگہ جگہ مساجد اور خانقاہوں کا قیام عمل میں لایا، اور ان میں مسلسل عبادت کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا، تاکہ لوگ اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوں اور اپنی آخرت کی نجات کا سامان کریں۔ صدیاں گزر گئیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انہی خانقاہوں کے ذریعے دینِ اسلام دنیا کے ہر گوشے میں سورج کی مانند طلوع ہوا، جس نے ظلمت اور جاہلیت کی جڑیں اکھاڑ کر لوگوں کو صرف ایک معبودِ برحق کی عبادت کی طرف گامزن کیا۔ اگر ہم سابقہ ادوار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ سب سے زیادہ دینی خدمات انہی خانقاہوں سے انجام پائیں۔ لیکن افسوس، صد افسوس! دورِ حاضر میں انہی خانقاہوں کو بعض لوگوں نے مسخروں کے اڈے بنا دیا ہے۔ لوگ ان خانقاہوں میں ٹوٹے ہوئے دل لے کر آتے تھے، اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے حاضر ہوتے تھے، اور جب وہ وہاں کا روحانی ماحول دیکھتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے منور ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے۔
ان کے منور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خانقاہوں کا نظام من و عن دینِ اسلام کی بنیادوں پر قائم تھا۔ لیکن آج انہی خانقاہوں میں تصوف کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر شیطان بھی شرمائے۔
تصوف اور خانقاہی نظام کا اصل مقصد تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن تھا، لیکن دورِ حاضر میں بیشتر صاحبِ سجادہ موروثی اور خاندانی جاگیرداری کا شکار ہو چکے ہیں۔ حقیقی روحانیت کی جگہ بدعات، نام نہاد سجدے، غیر شرعی رسوم اور دنیا پرستی نے لے لی ہے۔ حالانکہ لوگوں کو جب مختلف دینی یا دنیاوی مسائل پیش آتے تھے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق خانقاہوں میں موجود علماء و عارفین سے رجوع کرتے اور اپنے مسائل کے تشفی بخش جوابات حاصل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)
ترجمہ: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ علم والوں سے رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لوگ جانتے تھے کہ خانقاہوں میں بیٹھنے والے ایمان والے بھی ہیں اور علم والے بھی، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری زندگیوں کو منور کر کے ہمیں درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ جو درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کا پروانہ نصیب ہو گیا، اور جو اس در سے محروم رہا وہ ذلیل و خوار ہوا۔ اس مقام پر امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور شعر یاد آتا ہے، جو اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ اگر آج کے اکثر سجادہ نشینوں کو دیکھا جائے (الا ما شاء اللہ) تو وہ دینِ اسلام کی آڑ میں لوگوں کو اسلام سے دور کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں خانقاہ کی گدی وراثت میں ملی ہے، اور اس منصب کو حاصل کرنے کے لیے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑی، بلکہ یہ منصب انہیں اپنے آباء و اجداد سے تیار شدہ صورت میں مل گیا۔
ان کے آباء و اجداد نے تو دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے شریعتِ مطہرہ کو پیشِ نظر رکھا، اور لوگوں کی قال الله وقال الرسول کے مطابق رہنمائی کر کے انہیں صحیح معنوں میں دینِ اسلام کی تعلیم دی؛ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جن خانقاہوں میں داخل ہوتے ہی ربِ ذوالجلال کی ہیبت سے دل پگھل جاتے تھے، آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں، اور لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر آخرت کی نجات کی دعائیں مانگتے تھے، آج انہی خانقاہوں میں دلوں پر خشیتِ الٰہی طاری ہونے کے بجائے ڈھول، باجا، تاشے اور دیگر لہو و لعب کی چیزوں کی رغبت پیدا کی جا رہی ہے، جیسا کہ بعض خانقاہوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہاں جا کر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کیونکہ شیطان نے دلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ سب کچھ دورِ حاضر کے بعض سجادہ نشینوں کی وجہ سے ہے، جنہوں نے اپنے مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے حلوہ اور مٹھائیاں کھانے میں مشغول کر دیا، اور ذکرِ الٰہی کے بجائے انہیں قوالیاں سننے اور رقص کرنے کی عادت ڈال دی۔
بہرحال، ہمارا مقصد اصلاح ہے، اس لیے ہم صرف اتنا کہیں گے:
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
کاش! آپ صحیح معنوں میں دینِ اسلام کو سمجھتے اور لوگوں تک قرآن و حدیث کا پیغام پہنچاتے، لیکن آپ کو تو صرف پیٹ کی فکر رہتی ہے اور بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خواب آتے ہیں۔ کیوں نہ آئیں، جب سب کچھ بغیر کسی محنت کے وراثت میں مل گیا۔
یاد رکھیے! ابھی بھی وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے اسلاف کے طریقے کو من و عن اختیار کر لیجیے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی آپ سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیں، ورنہ اگر اسی روش پر قائم رہے تو آپ کا تذکرہ اس طرح دنیا سے مٹ جائے گا کہ:
تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

ہمارے اسلاف خانقاہوں میں کس طرح دین کی تبلیغ فرماتے تھے؟

ہمارے اسلاف ہمیشہ دینِ اسلام کی آبیاری کرتے رہے، لوگوں کو دین کی طرف رغبت دلاتے رہے اور شریعتِ مطہرہ پر ثابت قدم رہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے اسلاف نے جو خانقاہیں قائم کیں، وہ حقیقت میں دینِ اسلام کے مضبوط پناہ گاہیں تھیں۔ ان خانقاہوں میں رہ کر انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو اس انداز سے عام کیا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے چہروں کو دیکھ کر ہمیں اسلام کے برحق ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟
اس لیے کہ یہ حضرات پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کے سائے میں پروان چڑھے، پھر خانقاہیں قائم کر کے دوسروں کو بھی شریعتِ مطہرہ کے جام سے سیراب کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کے رنگ میں رنگ لیا تھا، اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حقیقی مصداق بن گئے:
(صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘)
ترجمہ: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسلام کے رنگ میں رنگ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ کل بھی ان بزرگوں کی بارگاہوں کی طرف رجوع کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ سب ان کے شریعتِ مطہرہ پر استقامت اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعام ہے۔

دورِ حاضر کے سجادہ نشینوں کی جہالت کا عالم

آج کے دور میں بعض جاہل لوگوں نے دینِ اسلام کو مذاق بنا رکھا ہے۔ لوگوں سے پیسے وصول کرنے کی غرض سے دینِ اسلام کو ذریعہ بناتے ہیں۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ دورِ حاضر کے بعض نام نہاد سجادہ نشینوں نے ان بزرگوں کی خانقاہوں کو ایک کاروبار بنا دیا ہے۔
شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
خود تو کوئی دینی کارنامہ انجام نہ دے سکے، مگر بزرگوں کا سہارا لے کر مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے گمراہی میں دھکیل رہے ہیں۔ جو کام خانقاہوں میں اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہونا چاہیے تھا، اسے جہالت اور تعصب کی بنا پر رافضیت اور تفضیل کے اثرات سے بدل دیا گیا ہے۔ ان کی زبان پر ہر وقت یہی جملہ رہتا ہے کہ ہم فلاں بزرگ کی نسل سے ہیں ، خواہ ان کے اعمال اس دعوے کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بعض سجادہ نشین خانقاہوں میں گدی پر بیٹھ کر تعویذ وغیرہ لکھنے میں مشغول رہتے ہیں۔ جونہی نماز کا وقت قریب آتا ہے اور مؤذن کی آواز گونجتی ہے: (حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح) تو کامیابی کی طرف بڑھنے کے بجائے اپنے کمرے میں جا کر سونے کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔
پھر جب ان سے پوچھا جائے کہ حضرت! آپ نے نماز کہاں ادا کی؟ تو جواب دیتے ہیں: ہم تو حرم میں نماز پڑھ کر آئے ہیں۔
افسوس! اگر خانقاہ سے متصل مسجد تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی تو حرم میں جا کر نماز کیسے ادا کر آئے؟ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، اور ایسی باتیں ان کی جہالت کی دلیل ہیں۔
کاش! تم نے گدی کے ساتھ ساتھ علم کو بھی اپنا رہبر بنایا ہوتا، تو نہ خود ایسی بے بنیاد باتیں کرتے اور نہ اپنے مریدوں کو اس راہ پر ڈالتے۔ خانقاہوں کے موجودہ سجادہ نشین روحانی پیشوا کے طور پر احترام کے مستحق ضرور ہیں، بشرطیکہ وہ شریعتِ مطہرہ کے پابند، علم و تقویٰ میں ممتاز اور سنتِ نبوی کے عامل ہوں۔
لیکن بعض خانقاہوں میں خاندانی جانشینی کے رجحان اور اصلاحِ باطن کے بجائے مادی مفادات کے غلبے نے بدعات، خرافات، شخصیت پرستی اور چندہ خوری کو فروغ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خرافات کی جڑیں یہیں سے جنم لیتی ہیں، اور یہی چیز اہلِ سنت کے عوام میں گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
مجھے تو ان لوگوں کی جہالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ لفظ خانقاہ کے حقیقی مفہوم سے بھی واقف نہیں، ورنہ ایسی خرافات ہرگز پیدا نہ کرتے۔

خانقاہ کیا ہے؟

قارئینِ کرام! اب یہ بھی جان لیجیے کہ خانقاہ کس مقصد کے لیے قائم کی جاتی ہے۔
ذرا غور فرمائیے۔
خانقاہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں انسان بظاہر دنیا سے الگ ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے زندگی بسر کرے، عبادت کرے، اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے۔

دورِ حاضر کے گدی نشینوں کے لیے لمحۂ فکر

خدا کے لیے اپنے آپ کو حقیقت کے آئینے میں دیکھیے، جہالت کا پردہ اپنی آنکھوں سے ہٹائیے اور سنجیدگی کے ساتھ غور کیجیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔
یاد رکھیں!
خانقاہ میں مرشدِ کامل کی صحبت میں حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت انسان کو درویش بنا دیتی ہے، لیکن تمہارے پھیلائے ہوئے خرافات کسی کو درویش بنانا تو دور کی بات، انسان کو دین سے متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تمہارے بعض اعمال ایسے ہیں کہ انہیں دیکھ کر شیطان بھی شرم سے سر جھکا لے۔

جاہل پیر اور جاہل مرید

قارئین کرام!
ذرا متوجہ ہوں۔
آج کے دور میں جاہل گدی نشین جو کچھ کرتا ہے، جاہل مرید بھی بعینہٖ وہی کرتا ہے تاکہ پیر صاحب اس سے خوش رہیں۔
یوں خرافات دیکھ دیکھ کر جاہل مرید بھی نئی نئی فرضی خانقاہیں قائم کرتا ہے اور کاروبار کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ یہ سب موجودہ بعض سجادہ نشینوں کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو اپنے پاس جمع کر کے ان کے دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا کرنے کے بجائے جہالت، تعصب اور بعض مواقع پر توہینِ صحابہ کے بیج بوتے ہیں، اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دینِ اسلام کے خیر خواہ ہیں۔ اگر کوئی عالمِ دین ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو بڑی جاہلانہ شان سے کہتے ہیں:
ہمیں مت سکھاؤ، ہم سیکھے ہوئے ہیں۔
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے؟

شریعتِ مطہرہ کو مقدم رکھو

سنی صحیح العقیدہ مسلمانو!
بیدار ہو جاؤ۔
ایسے جاہل گدی نشینوں کے پاس جا کر اپنے ایمان کا سودا نہ کرو۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا خاندان رکھتا ہو، شریعتِ مطہرہ کو ہر حال میں مقدم رکھو۔
یہ لوگ یہی کہیں گے کہ:
ہم فلاں بزرگ کی اولاد میں سے ہیں۔
لیکن یاد رکھو!
کوئی شخص کتنا ہی اعلیٰ حسب و نسب کا مالک کیوں نہ ہو، جب معاملہ شریعتِ مطہرہ کا ہو تو شریعت مقدم ہوگی، اور ہر شخصیت اس کے تابع ہوگی۔

مریدوں کی غلطیاں

دورِ حاضر کے بعض مرید بھی جاہل گدی نشینوں کی باتوں میں آکر نہ جانے انہیں کیا سے کیا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جن خانقاہوں میں کبھی روحانیت، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کا سلسلہ جاری و ساری تھا، انہی خانقاہوں کو بعض لوگوں نے کاروبار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تاہم اس میں مریدوں کی بھی کوتاہی ہے، کیونکہ وہ اپنے پیر صاحب کے ہر قول و فعل کو بلا تحقیق درست سمجھتے ہیں اور ان کی ہر حرکت کو ولی اللہ کی ادا تصور کرتے ہیں، خواہ وہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
عوام میں یہ تصور بھی عام ہو گیا ہے کہ جس طرح ایک جاگیردار کا بیٹا اس کی جاگیر کا وارث ہوتا ہے، اسی طرح ہر پیر کا بیٹا لازماً پیر اور روحانی پیشوا بھی ہوگا، حالانکہ یہ تصور شریعت اور حقیقتِ تصوف دونوں کے خلاف ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی ان اشعار میں ہے:
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
یہ اشعار موجودہ حالات کی بڑی مؤثر تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں کبھی اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ معرفت لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے، وہاں آج بعض مقامات پر نااہل افراد قابض ہو چکے ہیں۔

یہ منصب کن کے لیے تھا اور کون وارث بن بیٹھے؟

مسندِ تلقین و ارشاد کوئی دنیاوی منصب نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی امانت ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اولیائے کاملین اپنے وصال سے قبل اپنے روحانی وارث کے سپرد کرتے تھے، تاکہ وہ مخلوقِ خدا کی صحیح رہنمائی کر سکے۔
یہ وہی شاہینوں کے نشیمن تھے، جہاں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی جاتی تھی، لیکن افسوس کہ آج بہت سے مقامات پر وہی نشیمن زاغوں (کوؤں) کے قبضے میں آ گئے ہیں، جن کا مقصد صرف مال و دولت جمع کرنا رہ گیا ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد نے مسندِ تلقین و ارشاد کو وراثت سمجھ لیا، حالانکہ یہ منصب وراثت سے زیادہ اہلیت، علم، تقویٰ اور اصلاحِ باطن کا متقاضی ہے۔

کیا اولاد ولایت کی حق دار ہوتی ہے؟

جی ہاں، قارئینِ کرام!
اولاد ولایت کی حق دار ہو سکتی ہے، لیکن ہر اولاد نہیں، بلکہ وہ اولاد جو اپنے صالح والد کی حقیقی جانشین ہو، شریعتِ مطہرہ کی پابند ہو، علم، عمل، تقویٰ اور اخلاق میں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے والی ہو۔
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی باپ کو ولایت سے سرفراز فرمایا ہو، اور اس کا بیٹا بھی حقیقتاً اپنے والد کی طرح شریعتِ مطہرہ کا پابند، علم و عمل کا جامع اور تقویٰ و طہارت کا پیکر ہو، تو بلاشبہ وہ اس منصب کا حق دار ہو سکتا ہے، بلکہ بعض اوقات دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق بھی ہوتا ہے۔
لیکن محض نسب، خاندان یا وراثت کسی شخص کو ولی یا مرشد نہیں بنا دیتی، جب تک اس میں اس منصب کی شرائط موجود نہ ہوں۔

دورِ حاضر کے صاحبِ سجادہ

اس موضوع پر ذرا غور فرمائیے تاکہ موجودہ حالات کی حقیقت واضح ہو جائے۔
آج کے دور میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ نااہل افراد ہی گدی نشین بن بیٹھے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف ڈاکٹر محمد اقبال نے اشارہ کیا:
ش قُم بِاِذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
اس شعر میں ڈاکٹر اقبال قُم بِاِذنِ اللہ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اولیائے کاملین اور فقیرانِ حق، جو مردہ دلوں کو ایمان اور معرفت کی روشنی سے زندہ کر دیتے تھے، اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
ان کے بعد بہت سی خانقاہوں میں ایسے لوگ گدی نشین بن گئے ہیں، جنہیں یہ منصب یا تو اپنے آباء و اجداد کی نسبت سے ملا، یا محض وراثت کے طور پر حاصل ہو گیا، حالانکہ انہوں نے اس کے لیے نہ علمی محنت کی، نہ روحانی ریاضت اور نہ اصلاحِ نفس کی کوئی منزل طے کی۔ ان میں سے بعض نے خانقاہوں اور مزارات کو ذریعۂ معاش بنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے مقامات پر اصل روحانیت ماند پڑ گئی ہے۔ اسی سبب آج معاشرہ روحانی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ حقیقی سکون روحانیت ہی میں ہے، اور روحانیت کے بغیر اخلاق، کردار اور انسانیت اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
آج بعض جگہوں پر یہ صورتِ حال بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ اگر باپ سجادہ نشین ہے تو وہ اپنے بعد محض خاندانی نسبت کی بنیاد پر اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کر دیتا ہے، خواہ وہ علمی اور عملی اعتبار سے اس منصب کا اہل ہو یا نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اسلاف کی تعلیمات کو فراموش کر دیتے ہیں اور جہالت کی بنا پر ایسے اقوال و اعمال اختیار کر لیتے ہیں جو اہلِ سنت کے مسلک کے خلاف ہوتے ہیں۔
بعض لوگوں نے سجادگی کے نام پر ایسے ایسے طریقے اپنا لیے ہیں جن کا فقر، سلوک اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً مختلف قسم کی مالائیں، بے شمار رنگوں کی انگوٹھیاں، ننگے پاؤں دھمال ڈالنا، اور بعض کا حال تو یہ ہے کہ لباسِ شرعی کا بھی پورا اہتمام نہیں کرتے۔
ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ شریعت کے خلاف ہو تو اس کا دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ سب بعض موجودہ گدی نشینوں کی علمی کمزوری کا نتیجہ ہے۔
اگر ان کے پاس صحیح علم ہوتا تو وہ اپنے اسلاف ہی کا طریقہ اختیار کرتے، شیخینِ کریمین کی افضلیت کو تسلیم کرتے، تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب کرتے، کسی صحابی کی شان میں بے ادبی نہ کرتے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیتے۔
اگر وہ اسی تعلیم پر قائم رہتے تو یقیناً اہلِ سنت کی نگاہ میں معزز ہوتے اور اولیائے کرام کے حقیقی وارث کہلانے کے مستحق بنتے۔

صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو یہ منصب عطا فرمایا ہے تو یقیناً اس میں اس کی عظیم حکمت پوشیدہ ہے۔ اس منصب کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعے دینِ اسلام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جائے، اور اسی طریقے سے خدمتِ دین انجام دی جائے جس طرح ہمارے اسلاف انجام دیتے آئے ہیں۔
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ:
قرآن و سنت کی صحیح تعلیم دے۔
خود شریعتِ مطہرہ کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔
لوگوں کے لیے اصلاحِ اخلاق اور تربیتِ نفس کا اہتمام کرے۔
ذکرِ الٰہی، دعا اور اعمالِ صالحہ کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرے۔
عدل، دیانت، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائے۔
خانقاہ یا ادارے کے اوقاف اور دیگر وسائل کی امانت داری کے ساتھ حفاظت کرے۔
لوگوں کی جائز دینی اور سماجی رہنمائی کرے۔
عقائدِ اہلِ سنت و جماعت کی صحیح تعلیم دے اور ان کی حفاظت کرے۔
قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم کو عام کرے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر شرعی احکام کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کی ترغیب دے۔
محبتِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور محبتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فروغ دے۔
بدعاتِ سیئہ، گمراہی اور باطل نظریات سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرے۔
علماءِ اہلِ سنت کے ساتھ رابطہ رکھے اور دینی خدمات میں ان سے تعاون کرے۔
خدمتِ خلق، عدل، دیانت اور حسنِ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔
غرض یہ کہ اس کا کردار، علم، تقویٰ اور اخلاق ایسے ہوں کہ لوگ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی طرف راغب ہوں، اور شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی ترغیب حاصل کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خانقاہوں سے وابستہ ہوں اور وہاں سے عشقِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا فیض حاصل کریں۔

خانقاہوں سے خرافات کا سدِ باب کیسے کیا جائے؟

قارئینِ کرام!
اگر خانقاہوں کو خرافات سے محفوظ رکھنا ہے تو ان کا نظام مکمل طور پر شریعتِ مطہرہ کے مطابق چلانا ہوگا، تاکہ کوئی باطل عقائد رکھنے والا شخص ان پر اعتراض کرنے کا موقع نہ پا سکے۔
اس مقصد کے لیے درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی جائے:
قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی تعلیم کو مضبوط کیا جائے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کی صحیح تعلیمات اور عقائد کو عام کیا جائے۔
خانقاہی نظام مستند علماء اور باعمل مشائخ کی نگرانی میں چلایا جائے۔
بیعت کا مقصد اصلاحِ نفس، تقویٰ اور اتباعِ شریعت ہو، محض رسم یا خاندانی روایت نہ ہو۔
نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، درود شریف اور اخلاقی تربیت کو خانقاہ کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔
ایسی رسومات اور اعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے جنہیں مستند علماءِ اہلِ سنت غیر شرعی یا خرافات قرار دیتے ہوں۔
مالی معاملات میں دیانت، امانت اور شفافیت کو اختیار کیا جائے۔
لوگوں میں محبت، اتحاد، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیا جائے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ:
شریعت کے بغیر طریقت معتبر نہیں، اور طریقت ہر حال میں شریعت کی پابند ہے۔
لہٰذا خانقاہ کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہاں شریعت کی پیروی، سنت کی تعلیم اور لوگوں کی دینی و اخلاقی اصلاح کو بنیادی حیثیت دی جائے۔

اختتامی گزارش

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخر میں میری یہی مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا! اپنے آپ کو شریعتِ مطہرہ کے رنگ میں اس طرح رنگ لیجیے کہ آج کے دور میں بھی لوگ آپ کو دیکھ کر یہی کہیں کہ یقیناً یہ خانقاہیں حق پر قائم ہیں، اور ان میں وہی تعلیم، وہی روحانیت اور وہی اصلاحِ نفس کا سلسلہ جاری ہے جو ہمارے اکابر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں تھا۔
اگر خانقاہیں اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آئیں، علم و عمل کو شعار بنا لیں، اور شریعت و طریقت کو ایک دوسرے کا لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تو یقیناً وہ دوبارہ دینِ اسلام کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے عظیم مراکز بن سکتی ہیں، اور یہی ہمارے اسلاف کا حقیقی طریقہ اور ان کی روشن میراث ہے۔
از قلم
سید محمد صہیب الہمدانی الکشمیری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف

صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا

مضمون نگار: Syed suhaib hamdani Markazi

صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
اللہ تعالیٰ کی بے حد حمد و ثنا ہے، جس وحدہٗ لاشریک رب العالمین نے ہم گنہگاروں کو حضورِ سرورِ کائنات، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ یوں تو سبھی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو وہ بلندی عطا فرمائی ہے جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ دینِ اسلام ہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ)
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے۔
اسی مقدس اور پاکیزہ دین کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاے فانی میں انبیائے کرام اور رسلِ عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یہاں تک کہ آقائے دو جہاں، تاجدارِ کائنات، محبوبِ رب العالمین، سید المرسلین، امام الانبیاء، شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کلمۂ حق کو بلند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے ظلمت کو ختم فرمایا اور اپنے مقدس نور سے دنیا کو جِلا بخشی۔
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی تبلیغ کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن کی کوئی حد نہیں۔ اسی مقدس دین کی اشاعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ایک ایسی طیب و طاہر جماعت کو منتخب فرمایا، جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ نسبت حاصل ہوئی جو کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہوئی، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک فرمان کے مصداق بن گئے:
(خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم)
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہم تک یہ دین بغیر قربانیوں کے نہیں پہنچا۔ اس دین کو دنیا بھر میں پہنچانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکینِ مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ دینِ اسلام کی تبلیغ کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی۔
الغرض، بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں دینِ اسلام پوری دنیا میں پھیلا، اور آج الحمد للہ رب العالمین دنیا کے ہر کونے میں مسلمان نظر آتے ہیں۔ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کا فیض ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دین کی اشاعت میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور اسی خالص دین کو من و عن ہم تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں ہم کلمۂ توحید سے بہرہ ور ہوئے۔

دینِ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟

قارئینِ کرام!
مجھے امید ہے کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر اپنے اسلاف کی قربانیوں کو ضرور یاد کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ذرا اس حقیقت پر غور فرمائیے کہ دینِ اسلام ہم تک صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے پہنچا، پھر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وسیلے سے ہوتا ہوا ہم گنہگاروں تک من و عن اپنی اصل صورت میں پہنچا۔ اس پاکیزہ دین کو ہم تک پہنچانے میں اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہایت اہم کردار ادا کیا اور اس راہ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہم جیسے لوگوں کو دینِ اسلام سے آشنا کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کیا، مختلف بلاد میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ فرمائی۔
اس عظیم مقصد کے لیے جگہ جگہ مساجد اور خانقاہوں کا قیام عمل میں لایا، اور ان میں مسلسل عبادت کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا، تاکہ لوگ اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوں اور اپنی آخرت کی نجات کا سامان کریں۔ صدیاں گزر گئیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انہی خانقاہوں کے ذریعے دینِ اسلام دنیا کے ہر گوشے میں سورج کی مانند طلوع ہوا، جس نے ظلمت اور جاہلیت کی جڑیں اکھاڑ کر لوگوں کو صرف ایک معبودِ برحق کی عبادت کی طرف گامزن کیا۔ اگر ہم سابقہ ادوار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ سب سے زیادہ دینی خدمات انہی خانقاہوں سے انجام پائیں۔ لیکن افسوس، صد افسوس! دورِ حاضر میں انہی خانقاہوں کو بعض لوگوں نے مسخروں کے اڈے بنا دیا ہے۔ لوگ ان خانقاہوں میں ٹوٹے ہوئے دل لے کر آتے تھے، اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے حاضر ہوتے تھے، اور جب وہ وہاں کا روحانی ماحول دیکھتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے منور ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے۔
ان کے منور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خانقاہوں کا نظام من و عن دینِ اسلام کی بنیادوں پر قائم تھا۔ لیکن آج انہی خانقاہوں میں تصوف کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر شیطان بھی شرمائے۔
تصوف اور خانقاہی نظام کا اصل مقصد تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن تھا، لیکن دورِ حاضر میں بیشتر صاحبِ سجادہ موروثی اور خاندانی جاگیرداری کا شکار ہو چکے ہیں۔ حقیقی روحانیت کی جگہ بدعات، نام نہاد سجدے، غیر شرعی رسوم اور دنیا پرستی نے لے لی ہے۔ حالانکہ لوگوں کو جب مختلف دینی یا دنیاوی مسائل پیش آتے تھے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق خانقاہوں میں موجود علماء و عارفین سے رجوع کرتے اور اپنے مسائل کے تشفی بخش جوابات حاصل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)
ترجمہ: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ علم والوں سے رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لوگ جانتے تھے کہ خانقاہوں میں بیٹھنے والے ایمان والے بھی ہیں اور علم والے بھی، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری زندگیوں کو منور کر کے ہمیں درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ جو درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کا پروانہ نصیب ہو گیا، اور جو اس در سے محروم رہا وہ ذلیل و خوار ہوا۔ اس مقام پر امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور شعر یاد آتا ہے، جو اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ اگر آج کے اکثر سجادہ نشینوں کو دیکھا جائے (الا ما شاء اللہ) تو وہ دینِ اسلام کی آڑ میں لوگوں کو اسلام سے دور کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں خانقاہ کی گدی وراثت میں ملی ہے، اور اس منصب کو حاصل کرنے کے لیے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑی، بلکہ یہ منصب انہیں اپنے آباء و اجداد سے تیار شدہ صورت میں مل گیا۔
ان کے آباء و اجداد نے تو دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے شریعتِ مطہرہ کو پیشِ نظر رکھا، اور لوگوں کی قال الله وقال الرسول کے مطابق رہنمائی کر کے انہیں صحیح معنوں میں دینِ اسلام کی تعلیم دی؛ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جن خانقاہوں میں داخل ہوتے ہی ربِ ذوالجلال کی ہیبت سے دل پگھل جاتے تھے، آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں، اور لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر آخرت کی نجات کی دعائیں مانگتے تھے، آج انہی خانقاہوں میں دلوں پر خشیتِ الٰہی طاری ہونے کے بجائے ڈھول، باجا، تاشے اور دیگر لہو و لعب کی چیزوں کی رغبت پیدا کی جا رہی ہے، جیسا کہ بعض خانقاہوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہاں جا کر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کیونکہ شیطان نے دلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ سب کچھ دورِ حاضر کے بعض سجادہ نشینوں کی وجہ سے ہے، جنہوں نے اپنے مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے حلوہ اور مٹھائیاں کھانے میں مشغول کر دیا، اور ذکرِ الٰہی کے بجائے انہیں قوالیاں سننے اور رقص کرنے کی عادت ڈال دی۔
بہرحال، ہمارا مقصد اصلاح ہے، اس لیے ہم صرف اتنا کہیں گے:
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
کاش! آپ صحیح معنوں میں دینِ اسلام کو سمجھتے اور لوگوں تک قرآن و حدیث کا پیغام پہنچاتے، لیکن آپ کو تو صرف پیٹ کی فکر رہتی ہے اور بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خواب آتے ہیں۔ کیوں نہ آئیں، جب سب کچھ بغیر کسی محنت کے وراثت میں مل گیا۔
یاد رکھیے! ابھی بھی وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے اسلاف کے طریقے کو من و عن اختیار کر لیجیے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی آپ سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیں، ورنہ اگر اسی روش پر قائم رہے تو آپ کا تذکرہ اس طرح دنیا سے مٹ جائے گا کہ:
تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

ہمارے اسلاف خانقاہوں میں کس طرح دین کی تبلیغ فرماتے تھے؟

ہمارے اسلاف ہمیشہ دینِ اسلام کی آبیاری کرتے رہے، لوگوں کو دین کی طرف رغبت دلاتے رہے اور شریعتِ مطہرہ پر ثابت قدم رہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے اسلاف نے جو خانقاہیں قائم کیں، وہ حقیقت میں دینِ اسلام کے مضبوط پناہ گاہیں تھیں۔ ان خانقاہوں میں رہ کر انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو اس انداز سے عام کیا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے چہروں کو دیکھ کر ہمیں اسلام کے برحق ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟
اس لیے کہ یہ حضرات پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کے سائے میں پروان چڑھے، پھر خانقاہیں قائم کر کے دوسروں کو بھی شریعتِ مطہرہ کے جام سے سیراب کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کے رنگ میں رنگ لیا تھا، اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حقیقی مصداق بن گئے:
(صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘)
ترجمہ: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسلام کے رنگ میں رنگ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ کل بھی ان بزرگوں کی بارگاہوں کی طرف رجوع کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ سب ان کے شریعتِ مطہرہ پر استقامت اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعام ہے۔

دورِ حاضر کے سجادہ نشینوں کی جہالت کا عالم

آج کے دور میں بعض جاہل لوگوں نے دینِ اسلام کو مذاق بنا رکھا ہے۔ لوگوں سے پیسے وصول کرنے کی غرض سے دینِ اسلام کو ذریعہ بناتے ہیں۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ دورِ حاضر کے بعض نام نہاد سجادہ نشینوں نے ان بزرگوں کی خانقاہوں کو ایک کاروبار بنا دیا ہے۔
شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
خود تو کوئی دینی کارنامہ انجام نہ دے سکے، مگر بزرگوں کا سہارا لے کر مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے گمراہی میں دھکیل رہے ہیں۔ جو کام خانقاہوں میں اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہونا چاہیے تھا، اسے جہالت اور تعصب کی بنا پر رافضیت اور تفضیل کے اثرات سے بدل دیا گیا ہے۔ ان کی زبان پر ہر وقت یہی جملہ رہتا ہے کہ ہم فلاں بزرگ کی نسل سے ہیں ، خواہ ان کے اعمال اس دعوے کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بعض سجادہ نشین خانقاہوں میں گدی پر بیٹھ کر تعویذ وغیرہ لکھنے میں مشغول رہتے ہیں۔ جونہی نماز کا وقت قریب آتا ہے اور مؤذن کی آواز گونجتی ہے: (حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح) تو کامیابی کی طرف بڑھنے کے بجائے اپنے کمرے میں جا کر سونے کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔
پھر جب ان سے پوچھا جائے کہ حضرت! آپ نے نماز کہاں ادا کی؟ تو جواب دیتے ہیں: ہم تو حرم میں نماز پڑھ کر آئے ہیں۔
افسوس! اگر خانقاہ سے متصل مسجد تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی تو حرم میں جا کر نماز کیسے ادا کر آئے؟ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، اور ایسی باتیں ان کی جہالت کی دلیل ہیں۔
کاش! تم نے گدی کے ساتھ ساتھ علم کو بھی اپنا رہبر بنایا ہوتا، تو نہ خود ایسی بے بنیاد باتیں کرتے اور نہ اپنے مریدوں کو اس راہ پر ڈالتے۔ خانقاہوں کے موجودہ سجادہ نشین روحانی پیشوا کے طور پر احترام کے مستحق ضرور ہیں، بشرطیکہ وہ شریعتِ مطہرہ کے پابند، علم و تقویٰ میں ممتاز اور سنتِ نبوی کے عامل ہوں۔
لیکن بعض خانقاہوں میں خاندانی جانشینی کے رجحان اور اصلاحِ باطن کے بجائے مادی مفادات کے غلبے نے بدعات، خرافات، شخصیت پرستی اور چندہ خوری کو فروغ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خرافات کی جڑیں یہیں سے جنم لیتی ہیں، اور یہی چیز اہلِ سنت کے عوام میں گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
مجھے تو ان لوگوں کی جہالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ لفظ خانقاہ کے حقیقی مفہوم سے بھی واقف نہیں، ورنہ ایسی خرافات ہرگز پیدا نہ کرتے۔

خانقاہ کیا ہے؟

قارئینِ کرام! اب یہ بھی جان لیجیے کہ خانقاہ کس مقصد کے لیے قائم کی جاتی ہے۔
ذرا غور فرمائیے۔
خانقاہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں انسان بظاہر دنیا سے الگ ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے زندگی بسر کرے، عبادت کرے، اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے۔

دورِ حاضر کے گدی نشینوں کے لیے لمحۂ فکر

خدا کے لیے اپنے آپ کو حقیقت کے آئینے میں دیکھیے، جہالت کا پردہ اپنی آنکھوں سے ہٹائیے اور سنجیدگی کے ساتھ غور کیجیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔
یاد رکھیں!
خانقاہ میں مرشدِ کامل کی صحبت میں حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت انسان کو درویش بنا دیتی ہے، لیکن تمہارے پھیلائے ہوئے خرافات کسی کو درویش بنانا تو دور کی بات، انسان کو دین سے متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تمہارے بعض اعمال ایسے ہیں کہ انہیں دیکھ کر شیطان بھی شرم سے سر جھکا لے۔

جاہل پیر اور جاہل مرید

قارئین کرام!
ذرا متوجہ ہوں۔
آج کے دور میں جاہل گدی نشین جو کچھ کرتا ہے، جاہل مرید بھی بعینہٖ وہی کرتا ہے تاکہ پیر صاحب اس سے خوش رہیں۔
یوں خرافات دیکھ دیکھ کر جاہل مرید بھی نئی نئی فرضی خانقاہیں قائم کرتا ہے اور کاروبار کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ یہ سب موجودہ بعض سجادہ نشینوں کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو اپنے پاس جمع کر کے ان کے دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا کرنے کے بجائے جہالت، تعصب اور بعض مواقع پر توہینِ صحابہ کے بیج بوتے ہیں، اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دینِ اسلام کے خیر خواہ ہیں۔ اگر کوئی عالمِ دین ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو بڑی جاہلانہ شان سے کہتے ہیں:
ہمیں مت سکھاؤ، ہم سیکھے ہوئے ہیں۔
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے؟

شریعتِ مطہرہ کو مقدم رکھو

سنی صحیح العقیدہ مسلمانو!
بیدار ہو جاؤ۔
ایسے جاہل گدی نشینوں کے پاس جا کر اپنے ایمان کا سودا نہ کرو۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا خاندان رکھتا ہو، شریعتِ مطہرہ کو ہر حال میں مقدم رکھو۔
یہ لوگ یہی کہیں گے کہ:
ہم فلاں بزرگ کی اولاد میں سے ہیں۔
لیکن یاد رکھو!
کوئی شخص کتنا ہی اعلیٰ حسب و نسب کا مالک کیوں نہ ہو، جب معاملہ شریعتِ مطہرہ کا ہو تو شریعت مقدم ہوگی، اور ہر شخصیت اس کے تابع ہوگی۔

مریدوں کی غلطیاں

دورِ حاضر کے بعض مرید بھی جاہل گدی نشینوں کی باتوں میں آکر نہ جانے انہیں کیا سے کیا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جن خانقاہوں میں کبھی روحانیت، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کا سلسلہ جاری و ساری تھا، انہی خانقاہوں کو بعض لوگوں نے کاروبار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تاہم اس میں مریدوں کی بھی کوتاہی ہے، کیونکہ وہ اپنے پیر صاحب کے ہر قول و فعل کو بلا تحقیق درست سمجھتے ہیں اور ان کی ہر حرکت کو ولی اللہ کی ادا تصور کرتے ہیں، خواہ وہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
عوام میں یہ تصور بھی عام ہو گیا ہے کہ جس طرح ایک جاگیردار کا بیٹا اس کی جاگیر کا وارث ہوتا ہے، اسی طرح ہر پیر کا بیٹا لازماً پیر اور روحانی پیشوا بھی ہوگا، حالانکہ یہ تصور شریعت اور حقیقتِ تصوف دونوں کے خلاف ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی ان اشعار میں ہے:
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
یہ اشعار موجودہ حالات کی بڑی مؤثر تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں کبھی اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ معرفت لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے، وہاں آج بعض مقامات پر نااہل افراد قابض ہو چکے ہیں۔

یہ منصب کن کے لیے تھا اور کون وارث بن بیٹھے؟

مسندِ تلقین و ارشاد کوئی دنیاوی منصب نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی امانت ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اولیائے کاملین اپنے وصال سے قبل اپنے روحانی وارث کے سپرد کرتے تھے، تاکہ وہ مخلوقِ خدا کی صحیح رہنمائی کر سکے۔
یہ وہی شاہینوں کے نشیمن تھے، جہاں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی جاتی تھی، لیکن افسوس کہ آج بہت سے مقامات پر وہی نشیمن زاغوں (کوؤں) کے قبضے میں آ گئے ہیں، جن کا مقصد صرف مال و دولت جمع کرنا رہ گیا ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد نے مسندِ تلقین و ارشاد کو وراثت سمجھ لیا، حالانکہ یہ منصب وراثت سے زیادہ اہلیت، علم، تقویٰ اور اصلاحِ باطن کا متقاضی ہے۔

کیا اولاد ولایت کی حق دار ہوتی ہے؟

جی ہاں، قارئینِ کرام!
اولاد ولایت کی حق دار ہو سکتی ہے، لیکن ہر اولاد نہیں، بلکہ وہ اولاد جو اپنے صالح والد کی حقیقی جانشین ہو، شریعتِ مطہرہ کی پابند ہو، علم، عمل، تقویٰ اور اخلاق میں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے والی ہو۔
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی باپ کو ولایت سے سرفراز فرمایا ہو، اور اس کا بیٹا بھی حقیقتاً اپنے والد کی طرح شریعتِ مطہرہ کا پابند، علم و عمل کا جامع اور تقویٰ و طہارت کا پیکر ہو، تو بلاشبہ وہ اس منصب کا حق دار ہو سکتا ہے، بلکہ بعض اوقات دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق بھی ہوتا ہے۔
لیکن محض نسب، خاندان یا وراثت کسی شخص کو ولی یا مرشد نہیں بنا دیتی، جب تک اس میں اس منصب کی شرائط موجود نہ ہوں۔

دورِ حاضر کے صاحبِ سجادہ

اس موضوع پر ذرا غور فرمائیے تاکہ موجودہ حالات کی حقیقت واضح ہو جائے۔
آج کے دور میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ نااہل افراد ہی گدی نشین بن بیٹھے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف ڈاکٹر محمد اقبال نے اشارہ کیا:
ش قُم بِاِذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
اس شعر میں ڈاکٹر اقبال قُم بِاِذنِ اللہ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اولیائے کاملین اور فقیرانِ حق، جو مردہ دلوں کو ایمان اور معرفت کی روشنی سے زندہ کر دیتے تھے، اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
ان کے بعد بہت سی خانقاہوں میں ایسے لوگ گدی نشین بن گئے ہیں، جنہیں یہ منصب یا تو اپنے آباء و اجداد کی نسبت سے ملا، یا محض وراثت کے طور پر حاصل ہو گیا، حالانکہ انہوں نے اس کے لیے نہ علمی محنت کی، نہ روحانی ریاضت اور نہ اصلاحِ نفس کی کوئی منزل طے کی۔ ان میں سے بعض نے خانقاہوں اور مزارات کو ذریعۂ معاش بنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے مقامات پر اصل روحانیت ماند پڑ گئی ہے۔ اسی سبب آج معاشرہ روحانی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ حقیقی سکون روحانیت ہی میں ہے، اور روحانیت کے بغیر اخلاق، کردار اور انسانیت اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
آج بعض جگہوں پر یہ صورتِ حال بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ اگر باپ سجادہ نشین ہے تو وہ اپنے بعد محض خاندانی نسبت کی بنیاد پر اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کر دیتا ہے، خواہ وہ علمی اور عملی اعتبار سے اس منصب کا اہل ہو یا نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اسلاف کی تعلیمات کو فراموش کر دیتے ہیں اور جہالت کی بنا پر ایسے اقوال و اعمال اختیار کر لیتے ہیں جو اہلِ سنت کے مسلک کے خلاف ہوتے ہیں۔
بعض لوگوں نے سجادگی کے نام پر ایسے ایسے طریقے اپنا لیے ہیں جن کا فقر، سلوک اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً مختلف قسم کی مالائیں، بے شمار رنگوں کی انگوٹھیاں، ننگے پاؤں دھمال ڈالنا، اور بعض کا حال تو یہ ہے کہ لباسِ شرعی کا بھی پورا اہتمام نہیں کرتے۔
ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ شریعت کے خلاف ہو تو اس کا دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ سب بعض موجودہ گدی نشینوں کی علمی کمزوری کا نتیجہ ہے۔
اگر ان کے پاس صحیح علم ہوتا تو وہ اپنے اسلاف ہی کا طریقہ اختیار کرتے، شیخینِ کریمین کی افضلیت کو تسلیم کرتے، تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب کرتے، کسی صحابی کی شان میں بے ادبی نہ کرتے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیتے۔
اگر وہ اسی تعلیم پر قائم رہتے تو یقیناً اہلِ سنت کی نگاہ میں معزز ہوتے اور اولیائے کرام کے حقیقی وارث کہلانے کے مستحق بنتے۔

صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو یہ منصب عطا فرمایا ہے تو یقیناً اس میں اس کی عظیم حکمت پوشیدہ ہے۔ اس منصب کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعے دینِ اسلام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جائے، اور اسی طریقے سے خدمتِ دین انجام دی جائے جس طرح ہمارے اسلاف انجام دیتے آئے ہیں۔
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ:
قرآن و سنت کی صحیح تعلیم دے۔
خود شریعتِ مطہرہ کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔
لوگوں کے لیے اصلاحِ اخلاق اور تربیتِ نفس کا اہتمام کرے۔
ذکرِ الٰہی، دعا اور اعمالِ صالحہ کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرے۔
عدل، دیانت، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائے۔
خانقاہ یا ادارے کے اوقاف اور دیگر وسائل کی امانت داری کے ساتھ حفاظت کرے۔
لوگوں کی جائز دینی اور سماجی رہنمائی کرے۔
عقائدِ اہلِ سنت و جماعت کی صحیح تعلیم دے اور ان کی حفاظت کرے۔
قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم کو عام کرے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر شرعی احکام کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کی ترغیب دے۔
محبتِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور محبتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فروغ دے۔
بدعاتِ سیئہ، گمراہی اور باطل نظریات سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرے۔
علماءِ اہلِ سنت کے ساتھ رابطہ رکھے اور دینی خدمات میں ان سے تعاون کرے۔
خدمتِ خلق، عدل، دیانت اور حسنِ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔
غرض یہ کہ اس کا کردار، علم، تقویٰ اور اخلاق ایسے ہوں کہ لوگ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی طرف راغب ہوں، اور شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی ترغیب حاصل کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خانقاہوں سے وابستہ ہوں اور وہاں سے عشقِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا فیض حاصل کریں۔

خانقاہوں سے خرافات کا سدِ باب کیسے کیا جائے؟

قارئینِ کرام!
اگر خانقاہوں کو خرافات سے محفوظ رکھنا ہے تو ان کا نظام مکمل طور پر شریعتِ مطہرہ کے مطابق چلانا ہوگا، تاکہ کوئی باطل عقائد رکھنے والا شخص ان پر اعتراض کرنے کا موقع نہ پا سکے۔
اس مقصد کے لیے درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی جائے:
قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی تعلیم کو مضبوط کیا جائے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کی صحیح تعلیمات اور عقائد کو عام کیا جائے۔
خانقاہی نظام مستند علماء اور باعمل مشائخ کی نگرانی میں چلایا جائے۔
بیعت کا مقصد اصلاحِ نفس، تقویٰ اور اتباعِ شریعت ہو، محض رسم یا خاندانی روایت نہ ہو۔
نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، درود شریف اور اخلاقی تربیت کو خانقاہ کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔
ایسی رسومات اور اعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے جنہیں مستند علماءِ اہلِ سنت غیر شرعی یا خرافات قرار دیتے ہوں۔
مالی معاملات میں دیانت، امانت اور شفافیت کو اختیار کیا جائے۔
لوگوں میں محبت، اتحاد، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیا جائے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ:
شریعت کے بغیر طریقت معتبر نہیں، اور طریقت ہر حال میں شریعت کی پابند ہے۔
لہٰذا خانقاہ کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہاں شریعت کی پیروی، سنت کی تعلیم اور لوگوں کی دینی و اخلاقی اصلاح کو بنیادی حیثیت دی جائے۔

اختتامی گزارش

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخر میں میری یہی مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا! اپنے آپ کو شریعتِ مطہرہ کے رنگ میں اس طرح رنگ لیجیے کہ آج کے دور میں بھی لوگ آپ کو دیکھ کر یہی کہیں کہ یقیناً یہ خانقاہیں حق پر قائم ہیں، اور ان میں وہی تعلیم، وہی روحانیت اور وہی اصلاحِ نفس کا سلسلہ جاری ہے جو ہمارے اکابر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں تھا۔
اگر خانقاہیں اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آئیں، علم و عمل کو شعار بنا لیں، اور شریعت و طریقت کو ایک دوسرے کا لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تو یقیناً وہ دوبارہ دینِ اسلام کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے عظیم مراکز بن سکتی ہیں، اور یہی ہمارے اسلاف کا حقیقی طریقہ اور ان کی روشن میراث ہے۔
از قلم
سید محمد صہیب الہمدانی الکشمیری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Syed suhaib hamdani Markazi

Student - Khamesa | Jamiatur Raza
43
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Syed suhaib hamdani Markazi
زمرہ جات

سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)

والدین کے حقوق

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢