صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
عبادات

فلسفہ قربانی

✍️ Md Hassan Raza Misbahi

فلسفہ قربانی
✍️ محمد حسان خان مصباحی
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہﷺ میں پیدا فرمایا اور ہم پر بہت سارے احکام مقرر فرمائے (فرائض و واجبات وغیرہ) انہی احکام میں سے ایک حکم قربانی کا بھی ہے جو نہایت سخاوت و سعادت کا باعث اور رفعت و عظمت کا سبب اور زندہ قوموں کا شعار ہے قربانی قربانی دینے والوں کو پستی کی بجائے بلندی عطا کر دیتی ہے اور دور فرقت میں جلنے والوں کو پیغام وصل سناتی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو قوم مرنا اور قربان ہونا سیکھ لیتی ہے زندگی اسی قوم کو ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تصور ہر قوم اور ہر دور میں مختلف انداز سے رہا ہے اسی طرح قربانی کا تصور اسلام میں بھی تمام ادیان و اقوام سے الگ رہا ہے اور اسلام نے اسے کئی موقع بھی فراہم کیے ہیں ان میں سے ایک موقع ١٠ ذی الحجہ کا مقدس دن بھی ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الہی کے خاطر قربان کر دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت و فرمانبرداری اور جانثاری و رضامندی کا ثبوت دیا اور اپنی گردن اللہ رب العزت کے حضور جھکا دی اور قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا اور اللہ رب العزت نے دونوں کی فرمانبرداری کو شرف قبولیت بخشا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروانہ عطا کیا اور ان کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا اور اسے ذبح عظیم کا لقب عطا کیا
چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وفديناه بذبح عظيم(اور ہم نے اسماعیل کے بدلے میں ایک بڑا ذبیحہ دے دیا)
یعنی اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں (بیضاوی, الصافات, تحت الایة:٢٢/٥,١٠٧)
اور اسی طرح احادیث طیبہ میں بھی قربانی کی بہت زیادہ فضیلت اور اس کا ثواب ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں طلب العلم من اعظم الاعمال التي تقرب الانسان الى ربه وترفع مكانته بين الناس فالعلم نور يهدي العقول الى الحق ويعين صاحبه على فهم امور الدين والدنيا والعمل بما ينفعه في حياته ويعود بالخير على مجتمعه وامته." ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ اللہ رب العزت کی یہاں قبول ہو جاتا ہے (مشکوة)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے
عید کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا یہ ایک ظاہری عمل ہے اور اس کا ایک باطنی عمل بھی ہے اور وہ تقوی ہے یعنی قربانی کا مطلب جانور ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھا لینا اور خون بہا دینا ہی نہیں اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. بلکہ جس خلوص و نیت کے ساتھ وہ جانور ذبح کیا جائے اس خلوص و نیت اور اس تقوے کو قربانی کہا جاتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے لن ينال الله لحومها ولا دمائها ولكن يناله التقوى (اللہ کے یہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے) (ترجمہ کنز العرفان)
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ہر امت ہر طبقے میں تصور قربانی موجود رہا ہے اور انہوں نے اپنے مذہبی عقائد و نظریات کے لحاظ سے قربانی کیا تاریخ کی اولین قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے کی ہے جسے قران عظیم نے یوں بیان کیا
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَٜ (27)لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(28)اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ (29) (المآئدہ,٢٩,٢٨,٢٧)
ترجمہ
اور ( اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کر لی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی تو (وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے) کہا! اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے بے شک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے اوپر ہی پڑ جائیں تو تو دوزخی ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے (ترجمہ کنز العرفان)
اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. اس کے علاوہ تاریخ عالم میں مختلف قربانیوں کا ذکر ہے جیسے قوم نوح کی قربانی, یونانیوں, مجوسیوں, اور ہندوؤں کی قربانی مگر سب پر فائق امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ہے جس کا پس منظر یہ ہے
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ
(الٰہی مجھے لائق اولاد دے تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی سلام ہو ابراہیم پر ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک وہ ہمارے اعلی درجے کے کامل الایمان بندوں میں ہیں (کنز الایمان)
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیه‍ما السلام ہیں لیکن دلائل کی قوت ا یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں اور جنت سے بکری بھیجی گئی تھی فدیہ میں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا (خزائن العرفان)
اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ارض مقدسہ کے مقام پر پہنچے تو اس وقت آپ کے پاس اولاد نہیں تھی تو آپ نے دعا کی اے میرے رب مجھے نیک اولاد عطا فرما جو کہ دین حق کی دعوت دینے میں اور تیری عبادت کرنے پر میری مددگار ہو اور اس سے مجھے پردیس میں انسیت حاصل ہو تو اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند عطا فرمایا وہ پلتے بڑھتے جب اس عمر تک پہنچ گئے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حاجت اور ضروریات میں ان کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئے تو ان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے خواب حق ہوتے ہیں اور ان کے افعال اللہ کے حکم سے ہوا کرتے ہیں اب تو دیکھ لے تیری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ انہیں ذبح ہونے سے وحشت نہ ہو اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کے لیے رغبت کے ساتھ تیار ہوں جائیں چنانچہ اس فرزند ارجمند نے اللہ رب العزت کی رضا پر فدا ہونے کا کمال شوق سے اظہار کیا اور فرمایا اے میرے باپ آپ وہی کریں جس کا آپ کو اللہ رب العزت کی جانب سے حکم دیا جا رہا ہے اگر اللہ رب العزت نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے ذبح پر صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی " اے والد محترم! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کی چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تاکہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لیے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو اس وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہوگی اور وہ رقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دے دیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آجائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے انہیں اچھی طرح باندھ دیا پھر اپنی چھری کو تیز کیا اور اپنے فرزند کو منہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی پھر ان کے حلق پر چھری چلا دی تو اللہ رب العزت نے ان کے ہاتھ میں چھری پلٹ دی اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لیے بے دریغ پیش کر کے اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی بس اب اتنا کافی ہے یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو ( صراط الجنان )
صراط الجنان

فلسفہ قربانی

مضمون نگار: Md Hassan Raza Misbahi

فلسفہ قربانی
✍️ محمد حسان خان مصباحی
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہﷺ میں پیدا فرمایا اور ہم پر بہت سارے احکام مقرر فرمائے (فرائض و واجبات وغیرہ) انہی احکام میں سے ایک حکم قربانی کا بھی ہے جو نہایت سخاوت و سعادت کا باعث اور رفعت و عظمت کا سبب اور زندہ قوموں کا شعار ہے قربانی قربانی دینے والوں کو پستی کی بجائے بلندی عطا کر دیتی ہے اور دور فرقت میں جلنے والوں کو پیغام وصل سناتی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو قوم مرنا اور قربان ہونا سیکھ لیتی ہے زندگی اسی قوم کو ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تصور ہر قوم اور ہر دور میں مختلف انداز سے رہا ہے اسی طرح قربانی کا تصور اسلام میں بھی تمام ادیان و اقوام سے الگ رہا ہے اور اسلام نے اسے کئی موقع بھی فراہم کیے ہیں ان میں سے ایک موقع ١٠ ذی الحجہ کا مقدس دن بھی ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الہی کے خاطر قربان کر دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت و فرمانبرداری اور جانثاری و رضامندی کا ثبوت دیا اور اپنی گردن اللہ رب العزت کے حضور جھکا دی اور قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا اور اللہ رب العزت نے دونوں کی فرمانبرداری کو شرف قبولیت بخشا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروانہ عطا کیا اور ان کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا اور اسے ذبح عظیم کا لقب عطا کیا
چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وفديناه بذبح عظيم(اور ہم نے اسماعیل کے بدلے میں ایک بڑا ذبیحہ دے دیا)
یعنی اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں (بیضاوی, الصافات, تحت الایة:٢٢/٥,١٠٧)
اور اسی طرح احادیث طیبہ میں بھی قربانی کی بہت زیادہ فضیلت اور اس کا ثواب ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں طلب العلم من اعظم الاعمال التي تقرب الانسان الى ربه وترفع مكانته بين الناس فالعلم نور يهدي العقول الى الحق ويعين صاحبه على فهم امور الدين والدنيا والعمل بما ينفعه في حياته ويعود بالخير على مجتمعه وامته." ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ اللہ رب العزت کی یہاں قبول ہو جاتا ہے (مشکوة)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے
عید کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا یہ ایک ظاہری عمل ہے اور اس کا ایک باطنی عمل بھی ہے اور وہ تقوی ہے یعنی قربانی کا مطلب جانور ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھا لینا اور خون بہا دینا ہی نہیں اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. بلکہ جس خلوص و نیت کے ساتھ وہ جانور ذبح کیا جائے اس خلوص و نیت اور اس تقوے کو قربانی کہا جاتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے لن ينال الله لحومها ولا دمائها ولكن يناله التقوى (اللہ کے یہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے) (ترجمہ کنز العرفان)
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ہر امت ہر طبقے میں تصور قربانی موجود رہا ہے اور انہوں نے اپنے مذہبی عقائد و نظریات کے لحاظ سے قربانی کیا تاریخ کی اولین قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے کی ہے جسے قران عظیم نے یوں بیان کیا
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَٜ (27)لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(28)اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ (29) (المآئدہ,٢٩,٢٨,٢٧)
ترجمہ
اور ( اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کر لی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی تو (وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے) کہا! اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے بے شک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے اوپر ہی پڑ جائیں تو تو دوزخی ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے (ترجمہ کنز العرفان)
اَلْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي الْإِنْسَانَ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ وَالْهُدَى، وَيَرْفَعُ مَنْزِلَتَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي طَلَبِهِ، وَيَعْمَلَ بِهِ، وَيَنْشُرَ فَوَائِدَهُ بَيْنَ النَّاسِ لِنَيْلِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى. اس کے علاوہ تاریخ عالم میں مختلف قربانیوں کا ذکر ہے جیسے قوم نوح کی قربانی, یونانیوں, مجوسیوں, اور ہندوؤں کی قربانی مگر سب پر فائق امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ہے جس کا پس منظر یہ ہے
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ
(الٰہی مجھے لائق اولاد دے تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی سلام ہو ابراہیم پر ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بے شک وہ ہمارے اعلی درجے کے کامل الایمان بندوں میں ہیں (کنز الایمان)
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیه‍ما السلام ہیں لیکن دلائل کی قوت ا یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں اور جنت سے بکری بھیجی گئی تھی فدیہ میں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا (خزائن العرفان)
اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ارض مقدسہ کے مقام پر پہنچے تو اس وقت آپ کے پاس اولاد نہیں تھی تو آپ نے دعا کی اے میرے رب مجھے نیک اولاد عطا فرما جو کہ دین حق کی دعوت دینے میں اور تیری عبادت کرنے پر میری مددگار ہو اور اس سے مجھے پردیس میں انسیت حاصل ہو تو اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند عطا فرمایا وہ پلتے بڑھتے جب اس عمر تک پہنچ گئے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حاجت اور ضروریات میں ان کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئے تو ان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے خواب حق ہوتے ہیں اور ان کے افعال اللہ کے حکم سے ہوا کرتے ہیں اب تو دیکھ لے تیری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ انہیں ذبح ہونے سے وحشت نہ ہو اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کے لیے رغبت کے ساتھ تیار ہوں جائیں چنانچہ اس فرزند ارجمند نے اللہ رب العزت کی رضا پر فدا ہونے کا کمال شوق سے اظہار کیا اور فرمایا اے میرے باپ آپ وہی کریں جس کا آپ کو اللہ رب العزت کی جانب سے حکم دیا جا رہا ہے اگر اللہ رب العزت نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے ذبح پر صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی " اے والد محترم! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کی چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تاکہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لیے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو اس وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہوگی اور وہ رقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دے دیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آجائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے انہیں اچھی طرح باندھ دیا پھر اپنی چھری کو تیز کیا اور اپنے فرزند کو منہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی پھر ان کے حلق پر چھری چلا دی تو اللہ رب العزت نے ان کے ہاتھ میں چھری پلٹ دی اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لیے بے دریغ پیش کر کے اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی بس اب اتنا کافی ہے یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو ( صراط الجنان )
صراط الجنان
Author Icon

Md Hassan Raza Misbahi

یہ مضمون Md Hassan Raza Misbahi کی طرف سے گیسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس کاتب کی جملہ مضامین 1

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا - سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔ اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0