صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ دوم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ دوم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط دوم ]
بچپن کی وہ دنیا
بچپن کی یادوں کا سفر شروع ہو تو سب سے پہلے قدم جس جگہ جا کر ٹھہرتے ہیں، وہ گھر ہوتا ہے۔ وہی گھر جس کی دیواریں شاید آج بھی کھڑی ہوں، مگر ان دیواروں کے اندر آباد وہ زمانہ کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہو۔ کبھی کبھی انسان برسوں بعد اپنے پرانے گھر کو دیکھتا ہے تو اسے اینٹیں اور دروازے نظر نہیں آتے، اسے اپنی زندگی کے وہ مَناظر دکھائی دیتے ہیں جن میں وہ خود بھی ایک کردار تھا؛ کبھی دوڑتا ہوا،
کبھی ہنستا ہوا،
کبھی روتا ہوا،
اور کبھی ایسی شرارت کرتے ہوئے کہ آج سوچے تو خود ہی مسکرا دے۔ بچپن کا گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتا تھا، وہ پوری کائنات ہوتا تھا۔ اسی کے ایک کونے میں کھیل کا میدان تھا، دوسرے کونے میں پڑھائی کا مقام، صحن میں دوڑنے کی جگہ، دروازے کے پاس جوتے اتارنے کی جگہ اور کسی نہ کسی کمرے میں ایسی چیز ضرور ہوتی تھی جسے چھونے سے سختی سے منع کیا گیا ہو۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ جس چیز کو سب سے زیادہ منع کیا جاتا، دل بھی اسی کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہوتا!
گھر میں صبح کا آغاز بھی اپنے انداز کا ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے سے پہلے ہی گھر کی آوازیں بتا دیتی تھیں کہ دن شروع ہو چکا ہے۔ کہیں برتنوں کی آواز،
کہیں کسی کے چلنے کی آہٹ،
کہیں دروازہ کھلنے بند ہونے کی آواز،
اور کہیں سے وہ آواز جو ہر بچے کو دنیا کی سب سے زیادہ چبھنے والی تھی: ”اٹھ جاؤ، صبح ہو گئی ہے!“ اور ہم ؟ ہمیں یقین ہوتا تھا کہ ابھی تو رات ہی ہے۔
آنکھیں بند، چادر سر تک، اور دل میں ایک ہی خواہش کہ شاید آواز دینے والا یہ سمجھ کر چلا جائے کہ بچہ جاگ گیا ہے۔ مگر گھر والے بھی آخر گھر والے تھے؛ ہماری خاموشی کو نیند نہیں بلکہ اداکاری سمجھنے لگے تھے۔
کبھی کسی دن مدرسہ/اسکول نہ جانے کا دل ہوا تو بیماری کا بہانہ بھی تیار ہوتا۔ سر درد، پیٹ درد، کمزوری، رات کو نیند نہ آنا۔ بچپن میں بیماریوں کی فہرست بھی ضرورت کے مطابق بدل جاتی تھی۔ مگر والدین کی نگاہ ایسی ہوتی کہ ہمارے چہرے سے ہی معلوم کر لیتے کہ مریض کون ہے اور اداکار کون!
گھر کی سب سے خوب صورت بات یہ تھی کہ وہاں ہمیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ باہر کی دنیا میں آدمی کو بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کیا کرتا ہے، کیسا ہے؛ مگر گھر میں کوئی سوال نہیں ہوتا تھا۔ وہاں ہم صرف ہم تھے۔
غلطی ہو تو ڈانٹ بھی وہیں، آنکھوں میں آنسو ہوں تو تسلی بھی وہیں، کامیابی ملے تو سب سے پہلے خوش ہونے والے بھی وہیں۔ بچپن میں شاید ہمیں والدین کی محبت کی اصل قیمت معلوم نہیں تھی۔ ہمیں لگتا تھا کہ ان کا ڈانٹنا معمول ہے،
بار بار سمجھانا معمول ہے،
کھانے کے لیے آواز دینا معمول ہے،
باہر سے دیر ہو تو پوچھنا معمول ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ سب معمول نہیں، محبت کے وہ طریقے تھے جنہیں سمجھنے کے لیے عمر چاہیے۔
اس وقت کبھی امی جان کی آواز سے جان چھڑانے کو دل چاہتا تھا، آج وہی آواز یاد آ جائے تو دل چاہتا ہے کہ بس ایک بار پھر کوئی اسی انداز میں پکار دے۔
گھر میں بہن بھائی ہوں تو بچپن کی دنیا اور بھی رنگین ہو جاتی تھی۔ کبھی ایک چیز پر جھگڑا، کبھی دوسری چیز پر مقابلہ، کبھی شکایت، کبھی سازش اور کبھی ایسی متحدہ قوت کہ باہر والا کوئی ایک بھائی کو کچھ کہہ دے تو سب ایک ہو جائیں۔ کبھی ایک دوسرے کی چیز چھپا دینا سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا، پھر جب دوسرا ڈھونڈتا پھرتا تو دل ہی دل میں بڑی خوشی ہوتی۔ لیکن اگر وہ چیز واقعی نہ ملے تو پھر خود ہی چپکے سے واپس رکھ دینا پڑتی تھی، ورنہ معاملہ والدین تک پہنچ جاتا۔
اور گھر کے بڑے ؟
ان کی اپنی ہی دنیا تھی۔ ان کی باتیں ہمیں کبھی لمبی لگتی تھیں، ان کی نصیحتیں کبھی غیر ضروری معلوم ہوتی تھیں، اور کبھی ایسا لگتا تھا کہ انہیں ہر وقت ہمیں سمجھانے کی ہی پڑی ہے۔ لیکن آج جب زندگی نے خود کچھ سبق سکھا دیے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتیں کتنی سچی تھیں۔ کاش! ہم اس وقت سمجھ پاتے کہ جس بزرگ کی بات ہمیں اُس وقت بوجھ لگتی تھی، وہ دراصل ہمارے آنے والے زمانے کو ہم سے بہتر دیکھ رہا تھا۔
گھر کی راتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔
دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب سورج ڈھلنے لگتا تو گھر کا ماحول بدل جاتا۔ کوئی کام سے واپس آ رہا ہے، کوئی کھانے کی تیاری میں ہے، بچے کھیل سے واپس آنے کا نام نہیں لے رہے، اور کسی ایک کو بار بار آواز دی جا رہی ہے: ”بس اب اندر آ جاؤ!“ مگر بچپن کو شام کہاں دکھائی دیتی تھی ؟ اسے تو صرف کھیل نظر آتا تھا۔
اگر پانچ منٹ اور مل جائیں تو ایسا لگتا جیسے آج کی پوری دنیا بچ جائے گی۔ اور جب بالآخر گھر آنا پڑتا تو دل کھیل کے میدان میں ہی رہ جاتا تھا۔
رات میں بستر پر لیٹ کر اگلے دن کے منصوبے بنانا بھی کسی بڑے اجلاس سے کم نہ تھا۔
کل کس کے گھر جانا ہے ؟
کس کھیل میں کون کس کے ساتھ ہوگا ؟
کس سے کل والی لڑائی کا بدلہ لینا ہے ؟
اور اگر کل چھٹی ہو تو صبح کتنی دیر تک سویا جائے گا ؟ یہ منصوبے اکثر اتنے سنجیدہ ہوتے تھے کہ اگر کوئی اس وقت ہماری مجلس سن لیتا تو شاید اسے لگتا کہ ملک کا مستقبل طے کیا جا رہا ہے۔
پھر چھٹی اور جشن کے دن آتے، مہمان آتے، گھر میں رونق بڑھتی، کھانے بنتے، نئے کپڑے آتے اور بچوں کی خوشی کا کوئی حساب نہ رہتا۔ کسی چیز کا نیا ہونا ہی کافی تھا؛ اس کی قیمت کیا ہے، کتنی اچھی ہے، کس برانڈ کی ہے۔ یہ سب ہماری لغت میں شامل نہیں تھا۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا: ”یہ میری ہے!“ اور یہی جملہ بعض اوقات بھائی بہنوں کے درمیان ایک مکمل جنگ شروع کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
پھر وقت گزرتا گیا۔
وہ گھر وہی رہا، مگر ہم بڑے ہوتے گئے۔ جن کمروں میں کبھی کھیلتے تھے، وہاں خاموشی بڑھنے لگی۔ جن آوازوں سے کبھی جان چھڑانے کو دل چاہتا تھا، وہی آوازیں کم ہونے لگیں۔ جن لوگوں کی موجودگی کو ہم زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے، ان میں سے کچھ دور ہو گئے، کچھ مصروف، اور کچھ صرف یادوں میں رہ گئے۔
تب معلوم ہوا کہ گھر کی اصل خوب صورتی اس کی دیواروں میں نہیں، ان لوگوں میں تھی جو ان دیواروں کے اندر ہمارے لیے موجود تھے۔
آج اگر کبھی پرانا گھر یاد آتا ہے تو ہمیں اس کا فرش، دروازہ یا کھڑکی اتنی یاد نہیں آتی جتنی وہ آوازیں یاد آتی ہیں جو کبھی وہاں گونجا کرتی تھیں۔
امی جان کی پکار، ابو جان کی آواز، بہن بھائیوں کی لڑائی، بڑوں کی نصیحت، بچوں کی ہنسی، برتنوں کی کھنک، دروازے کی آہٹ اور شام کے وقت گھر لوٹنے کی جلدی۔ یہ سب مل کر بچپن کا گھر بناتے تھے۔ اور شاید اسی لیے بچپن گزر جانے کے بعد بھی گھر ہماری یادوں میں سب سے پہلے آتا ہے۔
کیونکہ
گھر وہ جگہ تھی جہاں ہم نے پہلی بار دنیا کو دیکھا، پہلی بار گر کر اٹھنا سیکھا، پہلی بار کسی سے محبت پائی، پہلی بار ڈانٹ کھائی، پہلی بار اپنی شرارت پر پکڑے گئے، اور پہلی بار یہ محسوس کیا کہ دنیا چاہے جیسی بھی ہو، گھر واپس آنے کے لیے ایک جگہ ضرور ہوتی ہے۔
مگر بچپن کا گھر بھی ایک دن یاد بن جاتا ہے۔ اور پھر انسان کے پاس رہ جاتی ہیں کچھ تصویریں، کچھ آوازیں، کچھ خوشبوئیں، کچھ ہنسی، کچھ ڈانٹ اور ایک ایسی دنیا جس میں واپس جانے کا راستہ تو ہے، مگر واپس جانے کا وقت نہیں۔ شاید اسی لیے بچپن کی یادیں صرف خوش نہیں کرتیں، وہ کبھی کبھی دل سے یہ بھی کہتی ہیں: ”جس گھر کو تم نے کبھی معمولی سمجھا تھا، وہ تمہاری زندگی کا سب سے قیمتی باب تھا۔“
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور اس باب کے بعد بچپن کی دنیا ہمیں اپنے اگلے دروازے کی طرف بلاتی ہے
وہ گلی، جہاں قدم رکھتے ہی شام تک دنیا کی ہر فکر بھول جایا کرتے تھے.................جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

بچپن کا سفر [قسطِ دوم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط دوم ]
بچپن کی وہ دنیا
بچپن کی یادوں کا سفر شروع ہو تو سب سے پہلے قدم جس جگہ جا کر ٹھہرتے ہیں، وہ گھر ہوتا ہے۔ وہی گھر جس کی دیواریں شاید آج بھی کھڑی ہوں، مگر ان دیواروں کے اندر آباد وہ زمانہ کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہو۔ کبھی کبھی انسان برسوں بعد اپنے پرانے گھر کو دیکھتا ہے تو اسے اینٹیں اور دروازے نظر نہیں آتے، اسے اپنی زندگی کے وہ مَناظر دکھائی دیتے ہیں جن میں وہ خود بھی ایک کردار تھا؛ کبھی دوڑتا ہوا،
کبھی ہنستا ہوا،
کبھی روتا ہوا،
اور کبھی ایسی شرارت کرتے ہوئے کہ آج سوچے تو خود ہی مسکرا دے۔ بچپن کا گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتا تھا، وہ پوری کائنات ہوتا تھا۔ اسی کے ایک کونے میں کھیل کا میدان تھا، دوسرے کونے میں پڑھائی کا مقام، صحن میں دوڑنے کی جگہ، دروازے کے پاس جوتے اتارنے کی جگہ اور کسی نہ کسی کمرے میں ایسی چیز ضرور ہوتی تھی جسے چھونے سے سختی سے منع کیا گیا ہو۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ جس چیز کو سب سے زیادہ منع کیا جاتا، دل بھی اسی کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہوتا!
گھر میں صبح کا آغاز بھی اپنے انداز کا ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے سے پہلے ہی گھر کی آوازیں بتا دیتی تھیں کہ دن شروع ہو چکا ہے۔ کہیں برتنوں کی آواز،
کہیں کسی کے چلنے کی آہٹ،
کہیں دروازہ کھلنے بند ہونے کی آواز،
اور کہیں سے وہ آواز جو ہر بچے کو دنیا کی سب سے زیادہ چبھنے والی تھی: ”اٹھ جاؤ، صبح ہو گئی ہے!“ اور ہم ؟ ہمیں یقین ہوتا تھا کہ ابھی تو رات ہی ہے۔
آنکھیں بند، چادر سر تک، اور دل میں ایک ہی خواہش کہ شاید آواز دینے والا یہ سمجھ کر چلا جائے کہ بچہ جاگ گیا ہے۔ مگر گھر والے بھی آخر گھر والے تھے؛ ہماری خاموشی کو نیند نہیں بلکہ اداکاری سمجھنے لگے تھے۔
کبھی کسی دن مدرسہ/اسکول نہ جانے کا دل ہوا تو بیماری کا بہانہ بھی تیار ہوتا۔ سر درد، پیٹ درد، کمزوری، رات کو نیند نہ آنا۔ بچپن میں بیماریوں کی فہرست بھی ضرورت کے مطابق بدل جاتی تھی۔ مگر والدین کی نگاہ ایسی ہوتی کہ ہمارے چہرے سے ہی معلوم کر لیتے کہ مریض کون ہے اور اداکار کون!
گھر کی سب سے خوب صورت بات یہ تھی کہ وہاں ہمیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ باہر کی دنیا میں آدمی کو بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کیا کرتا ہے، کیسا ہے؛ مگر گھر میں کوئی سوال نہیں ہوتا تھا۔ وہاں ہم صرف ہم تھے۔
غلطی ہو تو ڈانٹ بھی وہیں، آنکھوں میں آنسو ہوں تو تسلی بھی وہیں، کامیابی ملے تو سب سے پہلے خوش ہونے والے بھی وہیں۔ بچپن میں شاید ہمیں والدین کی محبت کی اصل قیمت معلوم نہیں تھی۔ ہمیں لگتا تھا کہ ان کا ڈانٹنا معمول ہے،
بار بار سمجھانا معمول ہے،
کھانے کے لیے آواز دینا معمول ہے،
باہر سے دیر ہو تو پوچھنا معمول ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ سب معمول نہیں، محبت کے وہ طریقے تھے جنہیں سمجھنے کے لیے عمر چاہیے۔
اس وقت کبھی امی جان کی آواز سے جان چھڑانے کو دل چاہتا تھا، آج وہی آواز یاد آ جائے تو دل چاہتا ہے کہ بس ایک بار پھر کوئی اسی انداز میں پکار دے۔
گھر میں بہن بھائی ہوں تو بچپن کی دنیا اور بھی رنگین ہو جاتی تھی۔ کبھی ایک چیز پر جھگڑا، کبھی دوسری چیز پر مقابلہ، کبھی شکایت، کبھی سازش اور کبھی ایسی متحدہ قوت کہ باہر والا کوئی ایک بھائی کو کچھ کہہ دے تو سب ایک ہو جائیں۔ کبھی ایک دوسرے کی چیز چھپا دینا سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا، پھر جب دوسرا ڈھونڈتا پھرتا تو دل ہی دل میں بڑی خوشی ہوتی۔ لیکن اگر وہ چیز واقعی نہ ملے تو پھر خود ہی چپکے سے واپس رکھ دینا پڑتی تھی، ورنہ معاملہ والدین تک پہنچ جاتا۔
اور گھر کے بڑے ؟
ان کی اپنی ہی دنیا تھی۔ ان کی باتیں ہمیں کبھی لمبی لگتی تھیں، ان کی نصیحتیں کبھی غیر ضروری معلوم ہوتی تھیں، اور کبھی ایسا لگتا تھا کہ انہیں ہر وقت ہمیں سمجھانے کی ہی پڑی ہے۔ لیکن آج جب زندگی نے خود کچھ سبق سکھا دیے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتیں کتنی سچی تھیں۔ کاش! ہم اس وقت سمجھ پاتے کہ جس بزرگ کی بات ہمیں اُس وقت بوجھ لگتی تھی، وہ دراصل ہمارے آنے والے زمانے کو ہم سے بہتر دیکھ رہا تھا۔
گھر کی راتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔
دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب سورج ڈھلنے لگتا تو گھر کا ماحول بدل جاتا۔ کوئی کام سے واپس آ رہا ہے، کوئی کھانے کی تیاری میں ہے، بچے کھیل سے واپس آنے کا نام نہیں لے رہے، اور کسی ایک کو بار بار آواز دی جا رہی ہے: ”بس اب اندر آ جاؤ!“ مگر بچپن کو شام کہاں دکھائی دیتی تھی ؟ اسے تو صرف کھیل نظر آتا تھا۔
اگر پانچ منٹ اور مل جائیں تو ایسا لگتا جیسے آج کی پوری دنیا بچ جائے گی۔ اور جب بالآخر گھر آنا پڑتا تو دل کھیل کے میدان میں ہی رہ جاتا تھا۔
رات میں بستر پر لیٹ کر اگلے دن کے منصوبے بنانا بھی کسی بڑے اجلاس سے کم نہ تھا۔
کل کس کے گھر جانا ہے ؟
کس کھیل میں کون کس کے ساتھ ہوگا ؟
کس سے کل والی لڑائی کا بدلہ لینا ہے ؟
اور اگر کل چھٹی ہو تو صبح کتنی دیر تک سویا جائے گا ؟ یہ منصوبے اکثر اتنے سنجیدہ ہوتے تھے کہ اگر کوئی اس وقت ہماری مجلس سن لیتا تو شاید اسے لگتا کہ ملک کا مستقبل طے کیا جا رہا ہے۔
پھر چھٹی اور جشن کے دن آتے، مہمان آتے، گھر میں رونق بڑھتی، کھانے بنتے، نئے کپڑے آتے اور بچوں کی خوشی کا کوئی حساب نہ رہتا۔ کسی چیز کا نیا ہونا ہی کافی تھا؛ اس کی قیمت کیا ہے، کتنی اچھی ہے، کس برانڈ کی ہے۔ یہ سب ہماری لغت میں شامل نہیں تھا۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا: ”یہ میری ہے!“ اور یہی جملہ بعض اوقات بھائی بہنوں کے درمیان ایک مکمل جنگ شروع کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
پھر وقت گزرتا گیا۔
وہ گھر وہی رہا، مگر ہم بڑے ہوتے گئے۔ جن کمروں میں کبھی کھیلتے تھے، وہاں خاموشی بڑھنے لگی۔ جن آوازوں سے کبھی جان چھڑانے کو دل چاہتا تھا، وہی آوازیں کم ہونے لگیں۔ جن لوگوں کی موجودگی کو ہم زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے، ان میں سے کچھ دور ہو گئے، کچھ مصروف، اور کچھ صرف یادوں میں رہ گئے۔
تب معلوم ہوا کہ گھر کی اصل خوب صورتی اس کی دیواروں میں نہیں، ان لوگوں میں تھی جو ان دیواروں کے اندر ہمارے لیے موجود تھے۔
آج اگر کبھی پرانا گھر یاد آتا ہے تو ہمیں اس کا فرش، دروازہ یا کھڑکی اتنی یاد نہیں آتی جتنی وہ آوازیں یاد آتی ہیں جو کبھی وہاں گونجا کرتی تھیں۔
امی جان کی پکار، ابو جان کی آواز، بہن بھائیوں کی لڑائی، بڑوں کی نصیحت، بچوں کی ہنسی، برتنوں کی کھنک، دروازے کی آہٹ اور شام کے وقت گھر لوٹنے کی جلدی۔ یہ سب مل کر بچپن کا گھر بناتے تھے۔ اور شاید اسی لیے بچپن گزر جانے کے بعد بھی گھر ہماری یادوں میں سب سے پہلے آتا ہے۔
کیونکہ
گھر وہ جگہ تھی جہاں ہم نے پہلی بار دنیا کو دیکھا، پہلی بار گر کر اٹھنا سیکھا، پہلی بار کسی سے محبت پائی، پہلی بار ڈانٹ کھائی، پہلی بار اپنی شرارت پر پکڑے گئے، اور پہلی بار یہ محسوس کیا کہ دنیا چاہے جیسی بھی ہو، گھر واپس آنے کے لیے ایک جگہ ضرور ہوتی ہے۔
مگر بچپن کا گھر بھی ایک دن یاد بن جاتا ہے۔ اور پھر انسان کے پاس رہ جاتی ہیں کچھ تصویریں، کچھ آوازیں، کچھ خوشبوئیں، کچھ ہنسی، کچھ ڈانٹ اور ایک ایسی دنیا جس میں واپس جانے کا راستہ تو ہے، مگر واپس جانے کا وقت نہیں۔ شاید اسی لیے بچپن کی یادیں صرف خوش نہیں کرتیں، وہ کبھی کبھی دل سے یہ بھی کہتی ہیں: ”جس گھر کو تم نے کبھی معمولی سمجھا تھا، وہ تمہاری زندگی کا سب سے قیمتی باب تھا۔“
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور اس باب کے بعد بچپن کی دنیا ہمیں اپنے اگلے دروازے کی طرف بلاتی ہے
وہ گلی، جہاں قدم رکھتے ہی شام تک دنیا کی ہر فکر بھول جایا کرتے تھے.................جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
30
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

فقہ و فتاویٰ اور اصول فقہ کی کتب کی فہرست

تواریخ اور سیرت کی معروف کتب

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢