صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ ہفتم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ ہفتم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ ہفتم ]
رات کے کھانے کی وہ ساعتیں
بچپن کی شامیں جیسے جیسے رات کی طرف بڑھتی تھیں، گھر کی رونق بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی تھی۔ دن بھر کی مصروفیات اپنے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہوتیں، کوئی اپنا کام سمیٹ رہا ہوتا، کوئی چیزیں اپنی جگہ رکھ رہا ہوتا، اور باورچی خانے سے آتی ہوئی کھانے کی خوشبو آہستہ آہستہ پورے گھر کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگتی۔
ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اب وہ وقت قریب ہے جس کا شاید ہمیں شعوری طور پر انتظار بھی نہیں ہوتا تھا، مگر جس کے آتے ہی سب کی نظریں گھڑی اور باورچی خانے کی طرف اٹھنے لگتی تھیں۔ رات کا کھانا تیار ہو رہا ہے۔ اور اس ایک خبر میں بھی جانے کتنی خوشیاں چھپی ہوتی تھیں۔
پھر گھر کے لوگ آہستہ آہستہ ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ کوئی پہلے آ کر بیٹھ گیا، کوئی ابھی ہاتھ دھو رہا ہے، کوئی کسی کو آواز دے رہا ہے کہ ”چلو، کھانا لگ گیا،“ کوئی چھوٹے کو ڈھونڈ رہا ہے اور کوئی پہلے ہی اپنی پسندیدہ جگہ پر قبضہ کر چکا ہے۔ کبھی دسترخوان بچھتا، کبھی پلیٹیں رکھی جاتیں، کبھی روٹی ایک طرف، سالن دوسری طرف اور پانی کے گلاس ترتیب سے رکھے جاتے۔ آج کے زمانے میں شاید یہ سب ایک معمولی سا منظر محسوس ہو، مگر بچپن میں دسترخوان صرف کھانا کھانے کی جگہ نہیں تھا، وہ تو گھر کے سب دلوں کے ایک جگہ جمع ہونے کا سبب تھا۔
سب بیٹھ جاتے تو عجیب سی رونق پیدا ہو جاتی۔ کسی کو روٹی چاہیے، کسی کو سالن، کسی نے اچار مانگا، کسی نے پانی، اور کسی کو صرف یہ فکر کہ اس کے حصے کی پسندیدہ چیز کہیں ختم نہ ہو جائے۔ چھوٹے بچوں کی اپنی فرمائشیں ہوتیں اور بڑے کبھی ان کی مدد کرتے، کبھی ان کی شرارت پر ہنستے۔ کبھی کوئی دوسرے کی پلیٹ میں سے اپنی پسند کی چیز اٹھا لیتا اور فوراً شکایت آ جاتی، کبھی کسی کے کھانے پر تبصرہ ہوتا اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا کہ پورا دسترخوان قہقہوں سے گونج اٹھتا۔
امی جان سب کو دیکھتی رہتیں۔ کسی نے کم کھایا تو پوچھا، کسی کو پسند کی چیز نہیں ملی تو وہ ڈھونڈ کر دے دی، کسی بچے نے روٹی چھوڑ دی تو سمجھایا، کسی نے جلدی جلدی کھایا تو آہستہ کھانے کو کہا۔ خود شاید سب سے آخر میں کھاتیں، مگر ہمیں اس وقت اس بات کا احساس کہاں تھا ؟ ہماری توجہ اس بات پر ہوتی کہ پلیٹ میں کیا ہے، کس کے پاس کیا ہے اور کون کس سے کیا کہہ رہا ہے۔ آج سوچتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جو شخص سب کو کھلاتا رہا، اس کے اپنے کھانے کا وقت شاید سب سے آخر میں آتا تھا۔
ابو جان بھی سب کے ساتھ بیٹھتے تو دسترخوان کی محفل میں ایک خاص اطمینان آ جاتا۔ کبھی دن بھر کی کوئی بات پوچھتے، کبھی بچوں سے گفتگو کرتے، کبھی کسی کی پڑھائی کا ذکر ہوتا، کبھی کسی کے کام کی بات، کبھی کسی رشتہ دار کا تذکرہ۔ کبھی کوئی بچہ اپنی کامیابی سناتا تو سب اسے شاباشی دیتے، کبھی کوئی اپنی شکایت لے کر بیٹھ جاتا اور پھر سب کی توجہ اس طرف ہو جاتی۔ دسترخوان پر صرف کھانا نہیں کھایا جاتا تھا بلکہ وہاں گھر کی خبریں بھی بانٹی جاتی تھیں، خوشیاں بھی اور چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی۔
بڑے بہن بھائیوں کی اپنی باتیں ہوتیں۔ کوئی کالج کا قصہ سناتا، کوئی استاد کا ذکر کرتا، کوئی کسی دوست کی بات بتاتا۔ چھوٹے بچے بڑی دلچسپی سے سنتے، اگر کچھ سمجھ نہ آئے تب بھی چہرے پر پوری سنجیدگی رکھتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات سن کر فوراً سوال کر دیتے اور پھر سوالوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا کہ کھانا کھانے سے زیادہ گفتگو اہم معلوم ہونے لگتی۔
اور چھوٹوں کی دنیا بھی اپنی جگہ مکمل تھی۔ کسی کو روٹی گول چاہیے تھی، کسی کو چھوٹی، کسی کو سالن کم چاہیے، کسی کو زیادہ۔ کوئی سبزی سے بچنے کی کوشش کرتا، کوئی پسند کی چیز دیکھتے ہی اپنی پلیٹ آگے کر دیتا۔ کبھی امی جان کہتیں: ”پہلے یہ کھاؤ، پھر وہ ملے گا۔“ اور بچہ ایسی خاموشی اختیار کر لیتا جیسے اس سے زندگی کا سب سے بڑا مطالبہ کر دیا گیا ہو۔ کبھی کوئی نوالہ بڑا بنا لیا، پھر خود ہی حیران کہ اسے منہ تک کیسے پہنچایا جائے۔
کبھی دسترخوان پر سب ہنس رہے ہوتے اور ہمیں وجہ بھی معلوم نہ ہوتی۔ بس کسی بڑے نے کوئی پرانی بات چھیڑی اور پھر ایک ایک کرکے سب کو یاد آنے لگا کہ فلاں نے بچپن میں کیا کیا تھا۔ جس کا قصہ ہوتا وہ شرمندہ ہونے کی کوشش کرتا، مگر باقی سب کے لیے وہی سب سے دلچسپ حصہ ہوتا۔ بچپن کی شرارتیں بھی عجیب ہوتی ہیں، اُس وقت ڈانٹ ملتی ہے اور برسوں بعد وہی قصہ بن کر سب کو ہنساتی ہیں۔
کھانے کے بعد بھی محفل فوراً ختم نہیں ہوتی تھی۔ کوئی وہیں بیٹھا رہتا، کوئی پانی پیتا، کوئی بات آگے بڑھاتا، کوئی چھوٹا بچہ ابھی بھی اپنی کہانی مکمل کرنے پر بضد ہوتا۔ کبھی کسی نے کوئی لطیفہ سنایا، کبھی کوئی پرانی یاد تازہ ہوئی، کبھی اگلے دن کا پروگرام بنا۔ اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز بنی ہو تو اس پر سب کی رائے بھی لی جاتی۔ کسی نے کہا بہت اچھی بنی، کسی نے نمک کا ذکر کیا، کسی نے مسالوں کی تعریف کی اور کسی بچے نے شاید صرف اتنا کہا: ”مجھے یہ بہت پسند ہے! “ اور اس ایک جملے سے معلوم ہو جاتا کہ کھانا کامیاب ہو گیا۔
آج کبھی رات کو کھانا اکیلے یا خاموشی سے کھاتے ہوئے اچانک وہ زمانہ یاد آ جائے تو دل کو عجیب سا دکھ ہوتا ہے۔ پلیٹ سامنے ہوتی ہے، کھانا بھی اچھا ہوتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں ہوتیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ”اور لو گے ؟“ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ”آج تم نے بہت کم کھایا“، کوئی چھوٹا بچہ اپنی ضد نہیں کرتا، کوئی بہن بھائی ایک دوسرے کی بات نہیں کاٹتے۔
تب معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کھانے کی میز یا دسترخوان یاد نہیں آتا، ہمیں وہ لوگ یاد آتے ہیں جو اس کے گرد بیٹھا کرتے تھے۔
کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ اگر وقت واپس آ جائے تو ہم کیا کریں گے ؟
شاید اس بار ہم جلدی سے کھانا ختم نہیں کریں گے۔
شاید امی جان کے ہاتھ سے ایک نوالہ اور لیں گے۔
شاید ابو جان کی بات پوری توجہ سے سنیں گے۔
شاید بہن بھائی کی بے معنیٰ سی بات پر بھی ہنس دیں گے۔
شاید چھوٹے کی شرارت پر غصہ کرنے کے بجائے اسے گلے لگا لیں گے۔
اور
شاید سب سے آخر میں بس اتنا کہیں گے: ”ذرا اور دیر بیٹھیں… ابھی اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا۔“
مگر بچپن میں ہمیں جلدی ہوتی تھی۔
کبھی کھانے کے بعد کھیلنے کی۔
کبھی کسی دوست سے ملنے کی۔
کبھی کسی نئی شرارت کی۔
ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک دن اسی دسترخوان پر بیٹھنے کے لیے دل ترسے گا۔
ایک دن وہی شور خاموشی سے زیادہ عزیز لگے گا۔
ایک دن وہی معمولی سی ڈانٹ محبت محسوس ہوگی۔
اور ایک دن سبھی کو سمجھ آئے گا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں اکثر اُس وقت ہمارے پاس ہوتی ہیں جب ہمیں ان کی قدر کا شعور نہیں ہوتا۔
رات کے کھانے کا وہ دسترخوان بھی اب ہماری یادوں کی کتاب کا ایک روشن صفحہ ہے۔ اس صفحے پر آج بھی سب موجود ہیں۔ کوئی روٹی توڑ رہا ہے، کوئی سالن لے رہا ہے، کوئی ہنس رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، امی سب کو دیکھ رہی ہیں، ابو سب کی بات سن رہے ہیں، بڑے اپنی دنیا میں مصروف ہیں اور چھوٹے اپنی شرارتوں میں۔ اور ہم...............؟ ہم شاید اسی منظر کے کسی کونے میں بیٹھے ہیں، خاموشی سے سب کو دیکھ رہے ہیں۔
دل میں ایک ہی خواہش ہے:
کاش یہ کھانا کچھ دیر اور چلتا،
کاش یہ محفل کچھ دیر اور رہتی،
کاش اُس وقت ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ صرف رات کا کھانا نہیں، ہماری زندگی کی ایک ایسی شام ہے جسے ہم دوبارہ کبھی نہیں کھا سکیں گے۔
کھانا ختم ہو گیا، دسترخوان اٹھ گیا، لوگ اپنی اپنی جگہ چلے گئے، مگر وہ یادیں آج بھی دل میں بچی ہوئی ہے۔ اور شاید بچپن کی یادوں کا سب سے خوب صورت کمال یہی ہے کہ جو لوگ وقت کے ساتھ دور ہو جاتے ہیں، یادیں انہیں ایک دسترخوان پر پھر سے اکٹھا کر دیتی ہیں۔ مگر رات ابھی باقی ہے، اور بچپن کی رات میں صرف کھانے کی یہ نشست ہی نہیں تھی۔ اس کے بعد بھی کچھ وقت ایسا ہوتا تھا جب گھر آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتا، مگر بچوں کی دنیا ابھی پوری طرح سوئی نہیں ہوتی تھی کیونکہ سونے کے بعد اٹھنے کی بھی تیاری تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے! اب اسی دسترخوان سے اٹھ کر رات کی اگلی یاد کی طرف چلتے ہیں، جہاں نیند سے پہلے بچپن ایک بار پھر اپنی شرارتیں سمیٹنے کے بجائے انہیں بڑھانے میں مصروف ہوتا تھا.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

بچپن کا سفر [قسطِ ہفتم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ ہفتم ]
رات کے کھانے کی وہ ساعتیں
بچپن کی شامیں جیسے جیسے رات کی طرف بڑھتی تھیں، گھر کی رونق بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی تھی۔ دن بھر کی مصروفیات اپنے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہوتیں، کوئی اپنا کام سمیٹ رہا ہوتا، کوئی چیزیں اپنی جگہ رکھ رہا ہوتا، اور باورچی خانے سے آتی ہوئی کھانے کی خوشبو آہستہ آہستہ پورے گھر کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگتی۔
ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اب وہ وقت قریب ہے جس کا شاید ہمیں شعوری طور پر انتظار بھی نہیں ہوتا تھا، مگر جس کے آتے ہی سب کی نظریں گھڑی اور باورچی خانے کی طرف اٹھنے لگتی تھیں۔ رات کا کھانا تیار ہو رہا ہے۔ اور اس ایک خبر میں بھی جانے کتنی خوشیاں چھپی ہوتی تھیں۔
پھر گھر کے لوگ آہستہ آہستہ ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ کوئی پہلے آ کر بیٹھ گیا، کوئی ابھی ہاتھ دھو رہا ہے، کوئی کسی کو آواز دے رہا ہے کہ ”چلو، کھانا لگ گیا،“ کوئی چھوٹے کو ڈھونڈ رہا ہے اور کوئی پہلے ہی اپنی پسندیدہ جگہ پر قبضہ کر چکا ہے۔ کبھی دسترخوان بچھتا، کبھی پلیٹیں رکھی جاتیں، کبھی روٹی ایک طرف، سالن دوسری طرف اور پانی کے گلاس ترتیب سے رکھے جاتے۔ آج کے زمانے میں شاید یہ سب ایک معمولی سا منظر محسوس ہو، مگر بچپن میں دسترخوان صرف کھانا کھانے کی جگہ نہیں تھا، وہ تو گھر کے سب دلوں کے ایک جگہ جمع ہونے کا سبب تھا۔
سب بیٹھ جاتے تو عجیب سی رونق پیدا ہو جاتی۔ کسی کو روٹی چاہیے، کسی کو سالن، کسی نے اچار مانگا، کسی نے پانی، اور کسی کو صرف یہ فکر کہ اس کے حصے کی پسندیدہ چیز کہیں ختم نہ ہو جائے۔ چھوٹے بچوں کی اپنی فرمائشیں ہوتیں اور بڑے کبھی ان کی مدد کرتے، کبھی ان کی شرارت پر ہنستے۔ کبھی کوئی دوسرے کی پلیٹ میں سے اپنی پسند کی چیز اٹھا لیتا اور فوراً شکایت آ جاتی، کبھی کسی کے کھانے پر تبصرہ ہوتا اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا کہ پورا دسترخوان قہقہوں سے گونج اٹھتا۔
امی جان سب کو دیکھتی رہتیں۔ کسی نے کم کھایا تو پوچھا، کسی کو پسند کی چیز نہیں ملی تو وہ ڈھونڈ کر دے دی، کسی بچے نے روٹی چھوڑ دی تو سمجھایا، کسی نے جلدی جلدی کھایا تو آہستہ کھانے کو کہا۔ خود شاید سب سے آخر میں کھاتیں، مگر ہمیں اس وقت اس بات کا احساس کہاں تھا ؟ ہماری توجہ اس بات پر ہوتی کہ پلیٹ میں کیا ہے، کس کے پاس کیا ہے اور کون کس سے کیا کہہ رہا ہے۔ آج سوچتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جو شخص سب کو کھلاتا رہا، اس کے اپنے کھانے کا وقت شاید سب سے آخر میں آتا تھا۔
ابو جان بھی سب کے ساتھ بیٹھتے تو دسترخوان کی محفل میں ایک خاص اطمینان آ جاتا۔ کبھی دن بھر کی کوئی بات پوچھتے، کبھی بچوں سے گفتگو کرتے، کبھی کسی کی پڑھائی کا ذکر ہوتا، کبھی کسی کے کام کی بات، کبھی کسی رشتہ دار کا تذکرہ۔ کبھی کوئی بچہ اپنی کامیابی سناتا تو سب اسے شاباشی دیتے، کبھی کوئی اپنی شکایت لے کر بیٹھ جاتا اور پھر سب کی توجہ اس طرف ہو جاتی۔ دسترخوان پر صرف کھانا نہیں کھایا جاتا تھا بلکہ وہاں گھر کی خبریں بھی بانٹی جاتی تھیں، خوشیاں بھی اور چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی۔
بڑے بہن بھائیوں کی اپنی باتیں ہوتیں۔ کوئی کالج کا قصہ سناتا، کوئی استاد کا ذکر کرتا، کوئی کسی دوست کی بات بتاتا۔ چھوٹے بچے بڑی دلچسپی سے سنتے، اگر کچھ سمجھ نہ آئے تب بھی چہرے پر پوری سنجیدگی رکھتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات سن کر فوراً سوال کر دیتے اور پھر سوالوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا کہ کھانا کھانے سے زیادہ گفتگو اہم معلوم ہونے لگتی۔
اور چھوٹوں کی دنیا بھی اپنی جگہ مکمل تھی۔ کسی کو روٹی گول چاہیے تھی، کسی کو چھوٹی، کسی کو سالن کم چاہیے، کسی کو زیادہ۔ کوئی سبزی سے بچنے کی کوشش کرتا، کوئی پسند کی چیز دیکھتے ہی اپنی پلیٹ آگے کر دیتا۔ کبھی امی جان کہتیں: ”پہلے یہ کھاؤ، پھر وہ ملے گا۔“ اور بچہ ایسی خاموشی اختیار کر لیتا جیسے اس سے زندگی کا سب سے بڑا مطالبہ کر دیا گیا ہو۔ کبھی کوئی نوالہ بڑا بنا لیا، پھر خود ہی حیران کہ اسے منہ تک کیسے پہنچایا جائے۔
کبھی دسترخوان پر سب ہنس رہے ہوتے اور ہمیں وجہ بھی معلوم نہ ہوتی۔ بس کسی بڑے نے کوئی پرانی بات چھیڑی اور پھر ایک ایک کرکے سب کو یاد آنے لگا کہ فلاں نے بچپن میں کیا کیا تھا۔ جس کا قصہ ہوتا وہ شرمندہ ہونے کی کوشش کرتا، مگر باقی سب کے لیے وہی سب سے دلچسپ حصہ ہوتا۔ بچپن کی شرارتیں بھی عجیب ہوتی ہیں، اُس وقت ڈانٹ ملتی ہے اور برسوں بعد وہی قصہ بن کر سب کو ہنساتی ہیں۔
کھانے کے بعد بھی محفل فوراً ختم نہیں ہوتی تھی۔ کوئی وہیں بیٹھا رہتا، کوئی پانی پیتا، کوئی بات آگے بڑھاتا، کوئی چھوٹا بچہ ابھی بھی اپنی کہانی مکمل کرنے پر بضد ہوتا۔ کبھی کسی نے کوئی لطیفہ سنایا، کبھی کوئی پرانی یاد تازہ ہوئی، کبھی اگلے دن کا پروگرام بنا۔ اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز بنی ہو تو اس پر سب کی رائے بھی لی جاتی۔ کسی نے کہا بہت اچھی بنی، کسی نے نمک کا ذکر کیا، کسی نے مسالوں کی تعریف کی اور کسی بچے نے شاید صرف اتنا کہا: ”مجھے یہ بہت پسند ہے! “ اور اس ایک جملے سے معلوم ہو جاتا کہ کھانا کامیاب ہو گیا۔
آج کبھی رات کو کھانا اکیلے یا خاموشی سے کھاتے ہوئے اچانک وہ زمانہ یاد آ جائے تو دل کو عجیب سا دکھ ہوتا ہے۔ پلیٹ سامنے ہوتی ہے، کھانا بھی اچھا ہوتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں ہوتیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ”اور لو گے ؟“ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ”آج تم نے بہت کم کھایا“، کوئی چھوٹا بچہ اپنی ضد نہیں کرتا، کوئی بہن بھائی ایک دوسرے کی بات نہیں کاٹتے۔
تب معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کھانے کی میز یا دسترخوان یاد نہیں آتا، ہمیں وہ لوگ یاد آتے ہیں جو اس کے گرد بیٹھا کرتے تھے۔
کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ اگر وقت واپس آ جائے تو ہم کیا کریں گے ؟
شاید اس بار ہم جلدی سے کھانا ختم نہیں کریں گے۔
شاید امی جان کے ہاتھ سے ایک نوالہ اور لیں گے۔
شاید ابو جان کی بات پوری توجہ سے سنیں گے۔
شاید بہن بھائی کی بے معنیٰ سی بات پر بھی ہنس دیں گے۔
شاید چھوٹے کی شرارت پر غصہ کرنے کے بجائے اسے گلے لگا لیں گے۔
اور
شاید سب سے آخر میں بس اتنا کہیں گے: ”ذرا اور دیر بیٹھیں… ابھی اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا۔“
مگر بچپن میں ہمیں جلدی ہوتی تھی۔
کبھی کھانے کے بعد کھیلنے کی۔
کبھی کسی دوست سے ملنے کی۔
کبھی کسی نئی شرارت کی۔
ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک دن اسی دسترخوان پر بیٹھنے کے لیے دل ترسے گا۔
ایک دن وہی شور خاموشی سے زیادہ عزیز لگے گا۔
ایک دن وہی معمولی سی ڈانٹ محبت محسوس ہوگی۔
اور ایک دن سبھی کو سمجھ آئے گا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں اکثر اُس وقت ہمارے پاس ہوتی ہیں جب ہمیں ان کی قدر کا شعور نہیں ہوتا۔
رات کے کھانے کا وہ دسترخوان بھی اب ہماری یادوں کی کتاب کا ایک روشن صفحہ ہے۔ اس صفحے پر آج بھی سب موجود ہیں۔ کوئی روٹی توڑ رہا ہے، کوئی سالن لے رہا ہے، کوئی ہنس رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، امی سب کو دیکھ رہی ہیں، ابو سب کی بات سن رہے ہیں، بڑے اپنی دنیا میں مصروف ہیں اور چھوٹے اپنی شرارتوں میں۔ اور ہم...............؟ ہم شاید اسی منظر کے کسی کونے میں بیٹھے ہیں، خاموشی سے سب کو دیکھ رہے ہیں۔
دل میں ایک ہی خواہش ہے:
کاش یہ کھانا کچھ دیر اور چلتا،
کاش یہ محفل کچھ دیر اور رہتی،
کاش اُس وقت ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ صرف رات کا کھانا نہیں، ہماری زندگی کی ایک ایسی شام ہے جسے ہم دوبارہ کبھی نہیں کھا سکیں گے۔
کھانا ختم ہو گیا، دسترخوان اٹھ گیا، لوگ اپنی اپنی جگہ چلے گئے، مگر وہ یادیں آج بھی دل میں بچی ہوئی ہے۔ اور شاید بچپن کی یادوں کا سب سے خوب صورت کمال یہی ہے کہ جو لوگ وقت کے ساتھ دور ہو جاتے ہیں، یادیں انہیں ایک دسترخوان پر پھر سے اکٹھا کر دیتی ہیں۔ مگر رات ابھی باقی ہے، اور بچپن کی رات میں صرف کھانے کی یہ نشست ہی نہیں تھی۔ اس کے بعد بھی کچھ وقت ایسا ہوتا تھا جب گھر آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتا، مگر بچوں کی دنیا ابھی پوری طرح سوئی نہیں ہوتی تھی کیونکہ سونے کے بعد اٹھنے کی بھی تیاری تھی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے! اب اسی دسترخوان سے اٹھ کر رات کی اگلی یاد کی طرف چلتے ہیں، جہاں نیند سے پہلے بچپن ایک بار پھر اپنی شرارتیں سمیٹنے کے بجائے انہیں بڑھانے میں مصروف ہوتا تھا.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
20
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

اسلام کا پیغام محض عبادت تک محدود نہیں

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢