صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت راشدہ کے صبح اشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام افتاب کی طرف چمکتا ہے، ایک ذات مہتاب کی طرح جھلملاتی ہے اور ایک شخصیت گلزار خلافت میں خوشبو بن کر بسی ہوتی ہے۔ وہ نام مقدس یارِ غارِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، رفیقِ مزار، افضل الخلق بعد الانبیاء، عتیق و صدیق اکبر حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ یہ وہ عظیم ذات ہے جس کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ پورا عہد خلافت دین حق کی تقویت، امت کی وحدت اور شریعت کی سربلندی کا عملی نمونہ بن گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا ہر لمحہ دین کے استحکام کا مثبت و مظہر بن گیا۔
یہ دور در اصل ثبات کا دور بھی ہے، فضل آزمائش کا دور بھی ہے، باطل کے انہدام کا موسم بھی ہے۔ وہ دور جس میں اسلام عرب سے کائناتی ریاست کی بنیادوں تک پہنچ گیا۔
اضطراب صحابہ
حبیب کبریا ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد کے لمحات قیامت سے کم نہ تھے، دل لرز گئے، زبانیں خاموش ہو گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے میں خلیفۂ اول، یارِ غار و مزار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ نے صحابہ کرام کو سنبھالا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جملہ امت کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا، ارشاد فرمایا: ”مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّداً فَاِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ“ (جو محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو محمد مصطفیٰ ﷺ کا وصالِ ظاہری ہو گیا اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی) یہ اعلان دراصل امت کے ہوش و حواس کی واپسی تھا۔ بعد اس اعلان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حقیقت کو قبول فرمایا اور دوسری ضروریات کی طرف توجہ فرمائی۔
اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
حضرات انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے تب بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک نے ان کو راہ دکھائی۔ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سب سے اہم معاملہ خلافت کا تھا۔ حضرات انصار، حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ وہاں خلیفۂ اول، سیدنا فاروق اعظم و سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ (امام خاندانِ قریش سے ہی ہوں گے) پس حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: آپ ہاتھ دراز فرمائیں اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت فرمائی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیعت فرمائی اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنے۔ [اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج٤، ص٤٠٥]

مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ

سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ واللہِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: ”اللہ کی قسم! میں ضرور اُن لوگوں سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ لوگ مجھ سے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیتے، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے لڑتا۔ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: فَوَاللہِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ [أیضاً] ترجمہ: پس اللہ کی قسم! یہ (فیصلہ) صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ علمائے اہل سنت فرماتے ہیں: اگر اس مرحلے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نرمی فرماتے تو اسلام کی بنیادیں ہل جاتیں اور ہر حکم شرعی کے مقابلے گروہ اپنی اپنی تعبیرات نکال لیتے۔ [البدایہ والنہایہ]
مانعینِ زکوٰۃ سے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کا ارادہ فرمایا تو اس پر سیدنا فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مشورہ پیش کیا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں، توقف کریں! اس پر سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ [صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، ح١٣٩٩ و ١٤٠٠، تاریخ الخلفاء، ص٧٥] حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اٹھتے ہوئے اس فتنہ کو روکا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی رہنمائی فرمائی۔

مدعیانِ نبوت کا خاتمہ

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں چند خبیثوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کے فتنے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
اسود عنسی: ابہلہ بن کعب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا یہ کہف حنان کا رہنے والا تھا۔ یمن وغیرہ پر قبضہ کیا اور معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ صنعا و طائف پر بھی قابض ہوا۔ عمرو بن معدی کرب، قیس بن عبد، فیروز دیلمی اور داذویہ اس کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ فیروز کی چچازاد بہن سے نکاح کیا اور ایک روز حبیب کبریا ﷺ نے خبر دی کہ اسود کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عرض کی گئی: کس نے ؟ تو غیب داں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: فیروز نے۔ دوسری روایت میں اسود کے قتل کی خبر خلافتِ صدیقی میں ربیع الاول کے آخری ایام میں موصول ہوئی۔ [البدایہ والنہایہ، ج٩، ص٢٢٩-٢٣٦]
مسیلمہ کذاب:
اس بدبخت نے آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے ملاقات کی مگر تابع نہ ہوا اور تقریباً ١٠ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کے اثرات بڑھنے لگے لیکن سرکار دو جہاں ﷺ نے اس پر فوج کشی اس لیے نہیں فرمائی کہ اس وقت ساری توجہ اس طرف تھی کہ روم سے بڑھتے ہوئے اقتدار سے عرب کی حفاظت کیسے کی جائے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر یمامہ روانہ فرمایا۔ کیونکہ یہ لشکر نہ کافی تھا پس شرحبیل بن حسنہ کی قیادت میں ایک اور لشکر روانہ فرمایا۔ حضرت عکرمہ نے یمامہ پہنچ کر شرحبیل کا انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کر دیا اور شکست سے دوچار ہوئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب شکست کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور شرحبیل کو اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا حکم دیا۔ مسیلمہ سے جنگ کرنے کے لیے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ مسیلمہ کے پاس 40؍ہزار کا لشکر موجود تھا۔ شرحبیل نے بھی انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کیا اور ناکام ہوئے۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمامہ پہنچے جہاں قبل از جنگ مدینہ منورہ سے ایک اور لشکر برائے امداد روانہ کر دیا گیا تھا۔ سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کے ساتھ ”عقربا“ پہنچے جہاں مسیلمہ اپنے لشکر جرار کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی فوج ترتیب دی اور دونوں لشکر کا آمنا سامنا ہوا، گھمسان کی جنگ ہوئی، بالآخر مسیلمہ حضرت وحشی بن حرب کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حضرت وحشی وہی ہیں جنہوں نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا۔ یہ جنگ جنگِ یمامہ کے نام سے مشہور ہے۔ [تاریخ الخلفاء، خلفائے راشدین وغیرہ]
طلحہ اسدی: طلحہ اسدی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جو قبیلۂ بنی اسد کا سردار تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بھی شکست فاش فرمایا۔
سجاح بنت حارث: مرد تو مرد عورت بھی کم نہیں۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح بنت حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ مذہباً نصرانی تھی۔ بہت جلدی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اشعب بن قیس اس کا خاص داعی تھا۔ جب مسیلمہ قتل کر دیا گیا تو سجاح میدان سے بھاگ گئی تھی۔ ایک روایت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اسلام لائی تھی مگر اس کے اس وقت کے مکرو فریب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
جھوٹے مدعیان نبوت کو شکست فاش فرما کر خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا نیز نیو کو ایسا مضبوط فرما دیا کہ اسلام کی طرف دشمنوں نے کتنی ہی کوششیں کر لی مگر کچھ نہ کر سکے۔
توسیع ریاست
١٢ھ؁ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا کیونکہ وہاں بھی ارتداد پھیل رہا تھا، جواثی کے مقام پر لڑائی ہوئی اور بالآخر مسلمان فتحیاب ہوئے۔ عمان میں بھی یہی فتنہ سرکشی دکھانے لگا تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔ مہاجربن ابی امیہ کو خطہ اہل بخیر کی طرف، حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھی ایک سرکش گروہ کی بیخ کنی کے لیے روانہ فرمایا۔ یہی ابتدا تھی اسلام کو دور دراز مقام میں پھیلانے کی۔
جب فتنۂ ارتداد کی آگ سرد ہو چکی اور داخلی فتنے اپنی موت آپ مر گئے تو خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیرونی محاذ کی طرف توجہ فرمائی۔ سرکار رفیق مزار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ روانہ فرمایا جہاں سخت معرکہ کے بعد ”ایلہ“ کا شہر فتح ہوا۔ سلسلۂ فتوحات آگے بڑھتا رہا اور کچھ صلح اور کچھ جہاد کے مراحل طے کرتے ہوئے مدائن کسریٰ (عراق) بھی طلوع اسلام کی روشنی سے منور ہو گیا۔ 12؍ہجری میں حضور خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج بیت اللہ کی ادائیگی بھی سعادت کے ساتھ انجام دی۔ واپسی پر مایا ناز جرنیل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک جرار لشکر دے کر سرزمین شام کی طرف بھیجا۔ ملک شام میں جنگ اجنادین سن 13؍ہجری میں برپا ہوئی۔ بفضل اللہ تعالیٰ نصرت الٰہی کا پرچم مسلمانوں کے سر بلند ہوا۔ لیکن اس عظیم فتح کی بشارت رفیق غار و مزار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وقت پہنچی جب سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر علالت پر حالت نزع میں تھے۔ اس معرکہ میں نامور صحابہ میں یہ ہیں؛ حضرت عکرمہ بن ابی جہل و حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
اس سال جنگ مرج الصفر بھی ہوئی جس میں کافروں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معرکہ میں حضرت فضل بن عباس بھی صفِ مجاہدین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ [فتوح الشام]
الحاصل: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں دین حق جزیرۂ عرب سے باہر نکلا۔
عراق کا محاذ:
حضرت مثنی بن حارثہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعے ابلا، عین تمر، باروسما، ولایت فرات فتح ہوئیں۔
شام کا محاذ: یہ وہ سرزمین تھی جو رومی تہذیب کا گہوارہ، جنگی قوت کا محور اور تجارتی سامان کا مرکز تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص، یزید بن ابی سفیان اور حضرت ابو عبیدہ نیز سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جوڑ کر ایک حربی وحدت قائم فرمائی۔ یہ تدبیر تاریخ جنگ میں ایسی مثال ہے جو حکمت عملی اور بصیرت عمارت دونوں پر دلالت کرتی ہے۔ [طبری]
جمعِ قرآن مجید
حضرت ابو یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن عظیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے گا کہ سب سے اول آپ ہی نے اسے کتابی شکل میں جمع فرمایا۔ [تاریخ الخلفاء، ص٥٩]
قرآنِ مقدس کو حفظ فرمانے والے صحابہ بکثرت شہید ہو رہے تھے تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا چاہیے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ مگر جب حقیقت واضح ہوئی کہ منفعت عامہ اسی میں ہے تو ارشاد فرمایا: ھُوَ وَاللہِ خَیْرٌ [صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن] اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ عظیم ذمہ داری عطا فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کارنامہ امت کو تحریف سے محفوظ کرنے، تلاوت کو معیار پر رکھنے، تعلیم کو متحد کرنے، فقہ و تفسیر کی بنیاد رکھنے میں بنیاد ترین کردار رکھتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: جَمْعُ الْقُرْآنِ فِیْ مَصْحَفٍ وَاحِدٍ اَعْظَمُ اَعْمَالِ اَبِیْ بَکْرٍ وَ بِہٖ حِفْظُ الدِّیْنِ [الاتقان ١/١٠٥] ترجمہ: قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم ترین اعمال میں سے ہے، اور اسی کے ذریعے دین کی حفاظت ہوئی۔

فتنۂ ارتداد اور صدیق اکبر کا سیفِ فیصل

حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد عرب کے گوشے گوشے میں فتنۂ ارتداد بھڑک اٹھا۔ کسی نے زکوٰۃ کا انکار کیا، کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، کسی نے بیعت توڑی، کسی نے حدود کو معطل کرنے کی سعی کی، لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان آج تک آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: وَاللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰۃِ [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی قسم میں ضرور اس سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ یعنی: یہ کہے گا کہ نماز تو فرض ہے زکوۃ فرض نہیں۔ زکوٰۃ کے انکار سے بھی لوگ مرتد ہو رہے تھے۔ فتنۂ ارتداد کا خاتمہ صرف ایک سیاسی کارنامہ نہ تھا، بلکہ یہ حفظ دین کے فریضے کی عظیم ترین مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں قبائل عرب دوبارہ متحد ہو گئے، اسلام کا نظم واپس قائم ہوا، بیت المال مضبوط ہوا، حکومتی اختیار بحال ہوا، دینی شعائر محفوظ ہو گئے۔
نظام عدل و حکومت
خلافت قائم کرتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خطبہ دیا جسے علماء نے حکمرانی کا دستور کہا۔ أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ فِيكُمْ فَإِنْ عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ۔ ترجمہ: تم میری اطاعت کرو، جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں۔
یہ جملہ 3؍اصولوں کا مجموعہ ہے۔
(١) حکمران کی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کے تابع ہے۔
(٢) حکومت کا معیار عدل ہے، شخصی عظمت نہیں۔
(٣) احتساب اقتدار ایک شرعی حق ہے۔
خلافت صدیقی کے فقہی و اصولی نقوش
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے متعدد ضوابط اخذ کیے گئے:
(١) مصلحت مرسلہ کی مشروعیت: جمعِ قرآن عظیم، فوجوں کی تقسیم، فتنۂ ارتداد پر فوج کشی سب مصلحت عامہ پر مبنی اجتہادات تھے۔
(٢) اجماعِ امت کا استقرار: بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اتفاق نے اصول فقہ میں اجماع کی حجیت کو مضبوط کیا۔
(٣) امارت و قضا کی تفریق: اس سے بعد کے خلفاء نے مکمل نظام قضائی بنائی۔
اسلام کا روحانی و ایمانی عروج
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں صرف سیاست و فتوحات ہی نہیں بلکہ ایمان اپنے اعلیٰ ترین اثبات پر پہنچا، کیونکہ نفاق کمزور ہوا، ایمان صحابہ بالکل کمزور نہ ہوا، دین کے حدود نمایاں ہوئے، باطل کی جڑیں کٹ گئیں، دین کی راہ متعین ہو گئی۔ امام ذہبی لکھتے ہیں: هُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ۔ بِهِ قَامَ الدِّينُ بَعْدَ وَفَاةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ﷺ [سیر اعلام النبلاء] ترجمہ: وہ دو میں دوسرے ہیں (اشارہ غار ثور کی رات کی طرف ہے جہاں فقط میرے آقا ﷺ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلوہ افروز ہوئے، رب قدیر نے ارشاد فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبہ-40]، ترجمہ: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے] اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت کا انکار کفر ہے) اور انہی کے ذریعے رسولِ کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد دین قائم رہا۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ تا قیامت کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ قرآن پاک اور زکوٰۃ کی حفاظت ہونے سے لے کر دوسرے ممالک میں اسلام اسی دور میں پہنچا۔ سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈھائی سال کی مختصر مدت میں وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیے جس کی روشنی تاقیامت امت کی راہوں کو روشن کرے گی۔ مولیٰ عمر فاروق عدل کے شہنشاہ ہیں، مولیٰ عثمان ذوالنورین حیا کے پیکر، مولیٰ علی المرتضیٰ شجاعت کے عَلَم تو مولیٰ صدیق اکبر اسلام کے عروج کا دروازہ ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ میرے امام سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
سایۂ مصطفیٰ مایۂ اصطفیٰ
عز و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام
یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام
اصدق الصادقیں سید المتقیں
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ پاک ہمیں مولیٰ صدیق اکبر خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، ان کے وسیلے سے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت راشدہ کے صبح اشنا افق کو دیکھتے ہیں تو ایک نام افتاب کی طرف چمکتا ہے، ایک ذات مہتاب کی طرح جھلملاتی ہے اور ایک شخصیت گلزار خلافت میں خوشبو بن کر بسی ہوتی ہے۔ وہ نام مقدس یارِ غارِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، رفیقِ مزار، افضل الخلق بعد الانبیاء، عتیق و صدیق اکبر حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ یہ وہ عظیم ذات ہے جس کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ پورا عہد خلافت دین حق کی تقویت، امت کی وحدت اور شریعت کی سربلندی کا عملی نمونہ بن گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا ہر لمحہ دین کے استحکام کا مثبت و مظہر بن گیا۔
یہ دور در اصل ثبات کا دور بھی ہے، فضل آزمائش کا دور بھی ہے، باطل کے انہدام کا موسم بھی ہے۔ وہ دور جس میں اسلام عرب سے کائناتی ریاست کی بنیادوں تک پہنچ گیا۔
اضطراب صحابہ
حبیب کبریا ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد کے لمحات قیامت سے کم نہ تھے، دل لرز گئے، زبانیں خاموش ہو گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے میں خلیفۂ اول، یارِ غار و مزار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ نے صحابہ کرام کو سنبھالا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جملہ امت کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا، ارشاد فرمایا: ”مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّداً فَاِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ“ (جو محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو محمد مصطفیٰ ﷺ کا وصالِ ظاہری ہو گیا اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی) یہ اعلان دراصل امت کے ہوش و حواس کی واپسی تھا۔ بعد اس اعلان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حقیقت کو قبول فرمایا اور دوسری ضروریات کی طرف توجہ فرمائی۔
اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
حضرات انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے تب بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک نے ان کو راہ دکھائی۔ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سب سے اہم معاملہ خلافت کا تھا۔ حضرات انصار، حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ وہاں خلیفۂ اول، سیدنا فاروق اعظم و سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ (امام خاندانِ قریش سے ہی ہوں گے) پس حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: آپ ہاتھ دراز فرمائیں اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت فرمائی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیعت فرمائی اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنے۔ [اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج٤، ص٤٠٥]

مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ

سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے اعلان جنگ فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ واللہِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّوْنَهَا إِلَى رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: ”اللہ کی قسم! میں ضرور اُن لوگوں سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ لوگ مجھ سے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیتے، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے لڑتا۔ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: فَوَاللہِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ [أیضاً] ترجمہ: پس اللہ کی قسم! یہ (فیصلہ) صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ علمائے اہل سنت فرماتے ہیں: اگر اس مرحلے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نرمی فرماتے تو اسلام کی بنیادیں ہل جاتیں اور ہر حکم شرعی کے مقابلے گروہ اپنی اپنی تعبیرات نکال لیتے۔ [البدایہ والنہایہ]
مانعینِ زکوٰۃ سے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کا ارادہ فرمایا تو اس پر سیدنا فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مشورہ پیش کیا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں، توقف کریں! اس پر سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا: واللہِ لَأُقَاتِلَنَّ [صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، ح١٣٩٩ و ١٤٠٠، تاریخ الخلفاء، ص٧٥] حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اٹھتے ہوئے اس فتنہ کو روکا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی رہنمائی فرمائی۔

مدعیانِ نبوت کا خاتمہ

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں چند خبیثوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کے فتنے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
اسود عنسی: ابہلہ بن کعب اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا یہ کہف حنان کا رہنے والا تھا۔ یمن وغیرہ پر قبضہ کیا اور معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ صنعا و طائف پر بھی قابض ہوا۔ عمرو بن معدی کرب، قیس بن عبد، فیروز دیلمی اور داذویہ اس کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ فیروز کی چچازاد بہن سے نکاح کیا اور ایک روز حبیب کبریا ﷺ نے خبر دی کہ اسود کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عرض کی گئی: کس نے ؟ تو غیب داں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: فیروز نے۔ دوسری روایت میں اسود کے قتل کی خبر خلافتِ صدیقی میں ربیع الاول کے آخری ایام میں موصول ہوئی۔ [البدایہ والنہایہ، ج٩، ص٢٢٩-٢٣٦]
مسیلمہ کذاب:
اس بدبخت نے آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے ملاقات کی مگر تابع نہ ہوا اور تقریباً ١٠ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کے اثرات بڑھنے لگے لیکن سرکار دو جہاں ﷺ نے اس پر فوج کشی اس لیے نہیں فرمائی کہ اس وقت ساری توجہ اس طرف تھی کہ روم سے بڑھتے ہوئے اقتدار سے عرب کی حفاظت کیسے کی جائے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر یمامہ روانہ فرمایا۔ کیونکہ یہ لشکر نہ کافی تھا پس شرحبیل بن حسنہ کی قیادت میں ایک اور لشکر روانہ فرمایا۔ حضرت عکرمہ نے یمامہ پہنچ کر شرحبیل کا انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کر دیا اور شکست سے دوچار ہوئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب شکست کی خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور شرحبیل کو اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا حکم دیا۔ مسیلمہ سے جنگ کرنے کے لیے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ مسیلمہ کے پاس 40؍ہزار کا لشکر موجود تھا۔ شرحبیل نے بھی انتظار کیے بغیر مسیلمہ پر حملہ کیا اور ناکام ہوئے۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمامہ پہنچے جہاں قبل از جنگ مدینہ منورہ سے ایک اور لشکر برائے امداد روانہ کر دیا گیا تھا۔ سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کے ساتھ ”عقربا“ پہنچے جہاں مسیلمہ اپنے لشکر جرار کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی فوج ترتیب دی اور دونوں لشکر کا آمنا سامنا ہوا، گھمسان کی جنگ ہوئی، بالآخر مسیلمہ حضرت وحشی بن حرب کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حضرت وحشی وہی ہیں جنہوں نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا۔ یہ جنگ جنگِ یمامہ کے نام سے مشہور ہے۔ [تاریخ الخلفاء، خلفائے راشدین وغیرہ]
طلحہ اسدی: طلحہ اسدی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جو قبیلۂ بنی اسد کا سردار تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بھی شکست فاش فرمایا۔
سجاح بنت حارث: مرد تو مرد عورت بھی کم نہیں۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح بنت حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ مذہباً نصرانی تھی۔ بہت جلدی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اشعب بن قیس اس کا خاص داعی تھا۔ جب مسیلمہ قتل کر دیا گیا تو سجاح میدان سے بھاگ گئی تھی۔ ایک روایت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اسلام لائی تھی مگر اس کے اس وقت کے مکرو فریب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔
جھوٹے مدعیان نبوت کو شکست فاش فرما کر خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا نیز نیو کو ایسا مضبوط فرما دیا کہ اسلام کی طرف دشمنوں نے کتنی ہی کوششیں کر لی مگر کچھ نہ کر سکے۔
توسیع ریاست
١٢ھ؁ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا کیونکہ وہاں بھی ارتداد پھیل رہا تھا، جواثی کے مقام پر لڑائی ہوئی اور بالآخر مسلمان فتحیاب ہوئے۔ عمان میں بھی یہی فتنہ سرکشی دکھانے لگا تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔ مہاجربن ابی امیہ کو خطہ اہل بخیر کی طرف، حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھی ایک سرکش گروہ کی بیخ کنی کے لیے روانہ فرمایا۔ یہی ابتدا تھی اسلام کو دور دراز مقام میں پھیلانے کی۔
جب فتنۂ ارتداد کی آگ سرد ہو چکی اور داخلی فتنے اپنی موت آپ مر گئے تو خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیرونی محاذ کی طرف توجہ فرمائی۔ سرکار رفیق مزار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ روانہ فرمایا جہاں سخت معرکہ کے بعد ”ایلہ“ کا شہر فتح ہوا۔ سلسلۂ فتوحات آگے بڑھتا رہا اور کچھ صلح اور کچھ جہاد کے مراحل طے کرتے ہوئے مدائن کسریٰ (عراق) بھی طلوع اسلام کی روشنی سے منور ہو گیا۔ 12؍ہجری میں حضور خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج بیت اللہ کی ادائیگی بھی سعادت کے ساتھ انجام دی۔ واپسی پر مایا ناز جرنیل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک جرار لشکر دے کر سرزمین شام کی طرف بھیجا۔ ملک شام میں جنگ اجنادین سن 13؍ہجری میں برپا ہوئی۔ بفضل اللہ تعالیٰ نصرت الٰہی کا پرچم مسلمانوں کے سر بلند ہوا۔ لیکن اس عظیم فتح کی بشارت رفیق غار و مزار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وقت پہنچی جب سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر علالت پر حالت نزع میں تھے۔ اس معرکہ میں نامور صحابہ میں یہ ہیں؛ حضرت عکرمہ بن ابی جہل و حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
اس سال جنگ مرج الصفر بھی ہوئی جس میں کافروں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معرکہ میں حضرت فضل بن عباس بھی صفِ مجاہدین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ [فتوح الشام]
الحاصل: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں دین حق جزیرۂ عرب سے باہر نکلا۔
عراق کا محاذ:
حضرت مثنی بن حارثہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعے ابلا، عین تمر، باروسما، ولایت فرات فتح ہوئیں۔
شام کا محاذ: یہ وہ سرزمین تھی جو رومی تہذیب کا گہوارہ، جنگی قوت کا محور اور تجارتی سامان کا مرکز تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص، یزید بن ابی سفیان اور حضرت ابو عبیدہ نیز سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جوڑ کر ایک حربی وحدت قائم فرمائی۔ یہ تدبیر تاریخ جنگ میں ایسی مثال ہے جو حکمت عملی اور بصیرت عمارت دونوں پر دلالت کرتی ہے۔ [طبری]
جمعِ قرآن مجید
حضرت ابو یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن عظیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے گا کہ سب سے اول آپ ہی نے اسے کتابی شکل میں جمع فرمایا۔ [تاریخ الخلفاء، ص٥٩]
قرآنِ مقدس کو حفظ فرمانے والے صحابہ بکثرت شہید ہو رہے تھے تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا چاہیے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ مگر جب حقیقت واضح ہوئی کہ منفعت عامہ اسی میں ہے تو ارشاد فرمایا: ھُوَ وَاللہِ خَیْرٌ [صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن] اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ عظیم ذمہ داری عطا فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کارنامہ امت کو تحریف سے محفوظ کرنے، تلاوت کو معیار پر رکھنے، تعلیم کو متحد کرنے، فقہ و تفسیر کی بنیاد رکھنے میں بنیاد ترین کردار رکھتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: جَمْعُ الْقُرْآنِ فِیْ مَصْحَفٍ وَاحِدٍ اَعْظَمُ اَعْمَالِ اَبِیْ بَکْرٍ وَ بِہٖ حِفْظُ الدِّیْنِ [الاتقان ١/١٠٥] ترجمہ: قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم ترین اعمال میں سے ہے، اور اسی کے ذریعے دین کی حفاظت ہوئی۔

فتنۂ ارتداد اور صدیق اکبر کا سیفِ فیصل

حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد عرب کے گوشے گوشے میں فتنۂ ارتداد بھڑک اٹھا۔ کسی نے زکوٰۃ کا انکار کیا، کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، کسی نے بیعت توڑی، کسی نے حدود کو معطل کرنے کی سعی کی، لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان آج تک آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: وَاللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰۃِ [بخاری شریف، ح١٤٠٠] ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی قسم میں ضرور اس سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ یعنی: یہ کہے گا کہ نماز تو فرض ہے زکوۃ فرض نہیں۔ زکوٰۃ کے انکار سے بھی لوگ مرتد ہو رہے تھے۔ فتنۂ ارتداد کا خاتمہ صرف ایک سیاسی کارنامہ نہ تھا، بلکہ یہ حفظ دین کے فریضے کی عظیم ترین مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں قبائل عرب دوبارہ متحد ہو گئے، اسلام کا نظم واپس قائم ہوا، بیت المال مضبوط ہوا، حکومتی اختیار بحال ہوا، دینی شعائر محفوظ ہو گئے۔
نظام عدل و حکومت
خلافت قائم کرتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خطبہ دیا جسے علماء نے حکمرانی کا دستور کہا۔ أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ فِيكُمْ فَإِنْ عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ۔ ترجمہ: تم میری اطاعت کرو، جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں۔
یہ جملہ 3؍اصولوں کا مجموعہ ہے۔
(١) حکمران کی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کے تابع ہے۔
(٢) حکومت کا معیار عدل ہے، شخصی عظمت نہیں۔
(٣) احتساب اقتدار ایک شرعی حق ہے۔
خلافت صدیقی کے فقہی و اصولی نقوش
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے متعدد ضوابط اخذ کیے گئے:
(١) مصلحت مرسلہ کی مشروعیت: جمعِ قرآن عظیم، فوجوں کی تقسیم، فتنۂ ارتداد پر فوج کشی سب مصلحت عامہ پر مبنی اجتہادات تھے۔
(٢) اجماعِ امت کا استقرار: بیعت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اتفاق نے اصول فقہ میں اجماع کی حجیت کو مضبوط کیا۔
(٣) امارت و قضا کی تفریق: اس سے بعد کے خلفاء نے مکمل نظام قضائی بنائی۔
اسلام کا روحانی و ایمانی عروج
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں صرف سیاست و فتوحات ہی نہیں بلکہ ایمان اپنے اعلیٰ ترین اثبات پر پہنچا، کیونکہ نفاق کمزور ہوا، ایمان صحابہ بالکل کمزور نہ ہوا، دین کے حدود نمایاں ہوئے، باطل کی جڑیں کٹ گئیں، دین کی راہ متعین ہو گئی۔ امام ذہبی لکھتے ہیں: هُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ۔ بِهِ قَامَ الدِّينُ بَعْدَ وَفَاةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ﷺ [سیر اعلام النبلاء] ترجمہ: وہ دو میں دوسرے ہیں (اشارہ غار ثور کی رات کی طرف ہے جہاں فقط میرے آقا ﷺ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلوہ افروز ہوئے، رب قدیر نے ارشاد فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبہ-40]، ترجمہ: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے] اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت کا انکار کفر ہے) اور انہی کے ذریعے رسولِ کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد دین قائم رہا۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ تا قیامت کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ قرآن پاک اور زکوٰۃ کی حفاظت ہونے سے لے کر دوسرے ممالک میں اسلام اسی دور میں پہنچا۔ سرکار صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈھائی سال کی مختصر مدت میں وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیے جس کی روشنی تاقیامت امت کی راہوں کو روشن کرے گی۔ مولیٰ عمر فاروق عدل کے شہنشاہ ہیں، مولیٰ عثمان ذوالنورین حیا کے پیکر، مولیٰ علی المرتضیٰ شجاعت کے عَلَم تو مولیٰ صدیق اکبر اسلام کے عروج کا دروازہ ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ میرے امام سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
سایۂ مصطفیٰ مایۂ اصطفیٰ
عز و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام
یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام
اصدق الصادقیں سید المتقیں
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ پاک ہمیں مولیٰ صدیق اکبر خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، ان کے وسیلے سے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
90
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 41
Kalam 13
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢