صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ ششم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ ششم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ ششم ]
مغرب کے بعد
مغرب کی اذان کے بعد جب دن اپنی آخری روشنی سمیٹنے لگتا تھا تو گھر کے اندر ایک الگ ہی دنیا آباد ہونے لگتی تھی۔ عصر کے بعد کی نشست اور چائے کا وقت گزر چکا ہوتا، باہر کی گہماگہمی بھی کچھ کم ہو جاتی، اور گھر جیسے آہستہ آہستہ اپنے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرنے لگتا۔
کوئی نماز سے فارغ ہو کر آتا،
کوئی اپنا کام سمیٹ کر بیٹھتا،
کوئی باورچی خانے میں مصروف ہو جاتا، اور
کوئی بس اتنا چاہتا کہ آج سب گھر والے ایک جگہ بیٹھیں۔ اس وقت ہمیں شاید اس منظر میں کوئی خاص بات نظر نہیں آتی تھی، کیونکہ گھر کا یوں آباد ہونا ہمارے لیے معمول تھا۔ مگر آج سوچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ معمول نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت تھی۔ جو سمجھدار تھے انہوں نے تو پھر بھی ان لمحات کو جی لیا مگر جو بچے تھے اور بڑے ہونے سے پہلے ہی ان کی دنیا میں ہلچل سی آ گئی ان سے ان اوقات کی اہمیت جاننی چاہیے۔
امی جان کہیں قریب ہی ہوتیں۔
کبھی باورچی خانے میں کھانے کی تیاری کرتیں،
کبھی کسی کو آواز دیتیں،
کبھی کسی بچے سے کوئی کام کہتیں،
کبھی کسی کی بات سننے کے لیے چند لمحوں کو وہیں بیٹھ جاتیں۔ ان کے ہاتھ ایک کام میں مصروف ہوتے اور کان پورے گھر کی خبر رکھتے۔ کون کیا کر رہا ہے، کس نے اپنا کام مکمل کیا، کس کو کسی چیز کی ضرورت ہے، کون خاموش بیٹھا ہے اور کون ضرورت سے زیادہ شور کر رہا ہے۔ جیسے: گھر کا ہر گوشہ ان کی نگاہ میں رہتا تھا۔
ہم بچوں کو شاید یہ سب کچھ بالکل معمولی لگتا تھا، ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک گھر کو گھر بنائے رکھنے کے لیے کسی ایک شخص کو کتنی محبت، کتنی توجہ اور کتنی خاموش محنت دینی پڑتی ہے۔
ابو جان بھی کبھی دن بھر کی مصروفیات سے واپس آ کر کچھ دیر سب کو دیکھتے۔ بچوں سے پوچھتے کہ دن کیسا گزرا ؟ کس کا کام مکمل ہوا، کس نے کیا کیا، کسی نے کوئی نئی بات سیکھی یا نہیں۔ کبھی کسی بچے کی بات پر مسکرا دیتے، کبھی کسی کی حرکت پر ہلکی سی ڈانٹ پڑ جاتی، کبھی کسی بڑے بچے کے کام کے بارے میں پوچھتے اور کبھی چھوٹے کی معمولی سی بات بھی پوری توجہ سے سن لیتے۔ اس وقت شاید ہمیں لگتا تھا کہ ابو جان کا یوں سب سے پوچھنا تو روز کا معمول ہے، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ والدین کا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سن لینا بھی محبت کی ایک ایسی زبان ہے جس کا ترجمہ صرف بڑے ہو کر سمجھ میں آتا ہے۔
گھر میں بڑے بہن بھائی ہوتے تو ان کی اپنی مصروفیات بھی چل رہی ہوتیں۔ کوئی کالج کا کام لے کر بیٹھا ہے،
کوئی کتاب کے صفحات پلٹ رہا ہے،
کوئی نوٹس بنا رہا ہے،
کوئی کسی مضمون کی تیاری میں مصروف ہے۔ کبھی کسی بڑے بھائی یا بہن کو کسی سوال کا جواب نہ ملتا تو گھر میں ہی کسی سے پوچھ لیتا۔ کبھی کوئی چھوٹا بچہ قریب آ کر بڑی سنجیدگی سے ان کی کتاب دیکھنے لگتا، حالانکہ اسے اس کتاب میں لکھا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آ رہا ہوتا۔ پھر بھی وہ ایسے دیکھتا جیسے چند لمحوں بعد اسی کتاب کا امتحان دینے والا ہو۔
چھوٹے بچوں کی دنیا تو اور بھی الگ تھی۔ کسی کی چھوٹی سی کاپی کھلی ہوئی ہے، کسی کے پاس رنگین پنسلیں ہیں، کوئی اپنی کتاب میں تصویریں دیکھ رہا ہے، کوئی حروف لکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی اس کام سے زیادہ اس بات میں دلچسپی لے رہا ہے کہ بڑے بھائی کی میز پر کیا رکھا ہے۔ کبھی چھوٹا کسی بڑے کے پاس جا بیٹھتا اور کہتا، ”یہ کیا ہے ؟“ بڑے نے جواب دیا، پھر اگلا سوال، پھر اس سے اگلا۔ بڑے کو آخرکار سمجھ آ جاتا کہ آج پڑھائی سے زیادہ سوال و جواب کا دن ہے اور مزاج تھوڑا الگ ہوتا تو بڑا چھوٹے پر برس بھی جاتا۔
کبھی بڑے بہن بھائی چھوٹوں کی مدد بھی کرتے۔ کوئی مشکل لفظ پڑھ کر بتا دیا، کسی کا کام دیکھ لیا، کسی کی پنسل تیز کر دی، کسی کو سمجھا دیا کہ یہ سوال کیسے کرنا ہے۔ کبھی مدد کرتے کرتے خود تنگ بھی آ جاتے اور کہتے: ”اب خود کرو!“ مگر تھوڑی دیر بعد وہی واپس آ کر دیکھ لیتے کہ کام ہوا یا نہیں۔ یہی تو گھر تھا، ناراضی بھی چند لمحوں کی، محبت بھی ہر وقت کی۔
ادھر باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاری شروع ہو جاتی۔ سبزی کٹنے کی آواز، برتنوں کی کھنک، مسالوں کی خوشبو اور چولہے پر پکنے والی کسی چیز کی بھاپ پورے گھر کو ایک ایسی خوشبو سے بھر دیتی جس کا تعلق صرف کھانے سے نہیں، گھر ہونے کے احساس سے تھا۔ کبھی کوئی بچہ باورچی خانے کے دروازے پر کھڑا ہو کر پوچھتا: ”آج کیا بن رہا ہے ؟“ جواب ملتا اور پھر وہی بچہ کچھ دیر بعد دوبارہ آ کر پوچھتا، جیسے اس دوران کھانا بدل گیا ہوگا۔ کبھی کوئی کہتا: ”یہ کب بنے گا ؟“ کبھی کوئی چپکے سے دیکھنے آتا کہ دیگچی میں کیا پک رہا ہے، اور اگر موقع مل جائے تو چکھنے کی کوشش بھی کرتا۔ چھوٹے بچے امی کے روٹی بنانے کے وقت ضرور پہنچتے اور آٹا لے کر اپنی روٹی بناتے۔
کبھی کھانا بناتے بناتے امی کسی پرانی بات کا ذکر کر دیتیں، اور پھر گھر میں گفتگو کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ کسی رشتہ دار کا تذکرہ، کسی پرانے واقعے کی یاد، کسی کی بچپن کی شرارت، کسی کی کامیابی یا کسی کی عجیب عادت۔ اور جب کسی ایک شخص کا بچپن سب کے سامنے آ جاتا تو اس کے لیے سب سے مشکل وقت وہ ہوتا جب گھر کے بڑے اس کی پرانی شرارتیں سنانا شروع کر دیتے۔ وہ بیچ میں روکنے کی کوشش کرتا ”بس بھی کریں!“ مگر جتنا روکتا، اتنا ہی قصہ دلچسپ ہوتا جاتا۔
کبھی کسی بات پر سب ہنس پڑتے اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ہنسی اتنی بڑی کیوں ہے۔ بس سب ہنس رہے ہیں تو ہم بھی ہنس رہے ہیں۔ کبھی کوئی ایسا واقعہ سامنے آ جاتا جو برسوں پرانا ہوتا، مگر گھر کے کسی بڑے کو اس کی ہر تفصیل یاد ہوتی۔ ہم حیران ہوتے کہ انہیں اتنی پرانی بات کیسے یاد ہے ؟ آج سمجھ آتا ہے کہ محبت جن لمحوں کو چھوتی ہے، یادداشت انہیں آسانی سے بھولنے نہیں دیتی۔
مغرب کے بعد کا گھر اسی طرح چھوٹی چھوٹی آوازوں سے آباد رہتا۔ کوئی کسی کو بلا رہا ہے، کوئی پانی مانگ رہا ہے، کسی کو اپنی چیز نہیں مل رہی، کوئی شکایت کر رہا ہے کہ ”اس نے میری چیز لے لی“، کوئی کسی کی نقل اتار رہا ہے، کوئی اپنی بات منوانے پر بضد ہے۔ کبھی چند لمحوں کے لیے گھر میں شور اتنا بڑھ جاتا کہ لگتا سب اپنی اپنی بات ایک ہی وقت میں کہنا چاہتے ہیں۔ پھر کسی بڑے کی آواز آتی اور سب ذرا خاموش ہو جاتے۔ مگر یہ خاموشی بھی زیادہ دیر قائم نہ رہتی۔
ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کب کون سا کام ختم ہوا اور کب رات گہری ہونے لگی۔ بس اتنا یاد رہتا ہے کہ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ کوئی اکیلا نہیں تھا۔ اگر کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو آواز دے سکتا تھا۔ اگر کسی کو کوئی بات بتانی ہو تو سامنے بیٹھا شخص موجود تھا۔ اگر کوئی خوش ہو تو خوشی بانٹنے والے تھے، اگر کوئی اداس ہو تو پوچھنے والے تھے۔
اور یہ بات آج سب سے زیادہ یاد آتی ہے۔
اب کی زندگی:
آج ایک ہی گھر میں کئی لوگ ہوتے ہیں، مگر کئی بار ہر شخص اپنی اپنی دنیا میں رہتا ہے۔
کسی کے ہاتھ میں فون،
کسی کے سامنے اسکرین،
کسی کے ذہن میں کام،
کسی کو کہیں جانا ہے،
کسی کو کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں۔ گھر کی دیواریں ایک جگہ ہیں، مگر دلوں کی محفل کبھی کبھی دور دور محسوس ہوتی ہے۔
ایسے میں مغرب کے بعد کا وہ گھر یاد آتا ہے جہاں وقت کم نہیں تھا، لوگ زیادہ تھے۔
جہاں بیٹھنے کے لیے کسی خاص موقع کی ضرورت نہیں تھی۔
جہاں بات کرنے کے لیے موضوع تلاش نہیں کرنا پڑتا تھا۔
جہاں امی کا ایک سوال، ابو کی ایک بات، بھائی کی ایک شرارت، بہن کی ایک شکایت اور چھوٹے کی ایک عجیب سی ضد بھی پوری محفل بنا دیتی تھی۔
ا ور سب سے خوب صورت بات یہ تھی کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔
ہم سمجھتے تھے یہ سب ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔
امی ہمیشہ اسی طرح آواز دیں گی۔
ابو ہمیشہ اسی طرح گھر میں بیٹھیں گے۔
بڑے بھائی بہن ہمیشہ قریب ہوں گے۔
چھوٹے ہمیشہ شور کریں گے۔
باورچی خانے سے ہمیشہ کھانے کی خوشبو آئے گی۔
اور مغرب کے بعد گھر ہمیشہ اسی طرح آباد رہے گا۔
مگر وقت نے آہستہ آہستہ ہمیں سکھا دیا کہ ”ہمیشہ“ نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں۔
بڑے ہوتے گئے۔
کسی نے تعلیم کے لیے گھر سے دور قدم رکھا،
کسی نے روزگار کی راہ اختیار کی،
کسی کی اپنی مصروفیات بڑھ گئیں۔ گھر وہی رہا مگر محفل چھوٹی ہونے لگی۔ وہ آوازیں کم ہونے لگیں جنہیں ہم کبھی شور سمجھتے تھے۔ وہ کرسیاں خالی رہنے لگیں جن پر کبھی کوئی نہ کوئی ضرور بیٹھا ہوتا تھا۔ اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جس گھر کی گہماگہمی سے کبھی تھکن محسوس ہوتی تھی، آج اسی گہماگہمی کے لیے دل ترس رہا ہے۔
پھر کبھی مغرب کے بعد اچانک کوئی پرانی یاد دل پر دستک دیتی ہے۔‌ باورچی خانے سے آتی ہوئی خوشبو کچھ دیر کے لیے ہمیں برسوں پیچھے لے جاتی ہے۔ کسی بزرگ کی آواز یاد آتی ہے۔ کسی بہن کی ہنسی سنائی دیتی ہے۔ کسی بھائی کی شرارت یاد آتی ہے۔ اور امی کی وہ آواز… جو شاید دنیا کی ہزاروں آوازوں میں آج بھی سب سے زیادہ اپنی محسوس ہوتی ہے۔
تب دل چاہتا ہے کہ بس ایک بار پھر وہی شام ہو۔
ہم سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک ہی کمرے میں آ جائیں۔
امی کچھ بنا رہی ہوں۔
ابو سب کو دیکھ رہے ہوں۔
بڑے اپنے کام میں لگے ہوں۔
چھوٹے اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں مصروف ہوں۔
کوئی کسی سے الجھ رہا ہو، کوئی ہنس رہا ہو، کوئی کسی کی شکایت کر رہا ہو۔ اور ہم… بس خاموشی سے ایک طرف بیٹھے ہوں اور اس بار دل میں یہ جانتے ہوں کہ یہ لمحہ بہت قیمتی ہے۔
مگر زندگی میں کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جن کا پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا، ان کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ اور یادیں بھی کبھی کبھی کتنی بے رحم ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں وہ سب دکھا دیتی ہیں جو ہمارے پاس نہیں رہا۔ مگر شاید ان کی یہی مہربانی بھی ہے کہ وہ ہمیں بتاتی ہیں: ہم نے کبھی بہت خوب صورت دن بھی جئے تھے۔
مغرب کے بعد کا وہ گھر آج بھی کہیں نہ کہیں ہماری یادوں میں آباد ہے۔ وہاں ابھی بھی سب لوگ موجود ہیں، باتیں ہو رہی ہیں، کھانے کی خوشبو آ رہی ہے، بچے شور کر رہے ہیں اور امی کسی کو آواز دے رہی ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہ گھر اب حقیقت میں نہیں، ہماری یادوں میں ہے۔ اور اسی یاد کے دروازے سے آگے بڑھیں تو بچپن کی ایک اور دنیا ہمارا انتظار کرتی ہے وہ دنیا جہاں عشاء کے بعد رات کے کھانے پر دوبارہ سب جمع ہو جاتے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے، اب اسی گھر کی روشن شام سے آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کی اگلی یاد ابھی باقی ہے.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

بچپن کا سفر [قسطِ ششم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ ششم ]
مغرب کے بعد
مغرب کی اذان کے بعد جب دن اپنی آخری روشنی سمیٹنے لگتا تھا تو گھر کے اندر ایک الگ ہی دنیا آباد ہونے لگتی تھی۔ عصر کے بعد کی نشست اور چائے کا وقت گزر چکا ہوتا، باہر کی گہماگہمی بھی کچھ کم ہو جاتی، اور گھر جیسے آہستہ آہستہ اپنے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرنے لگتا۔
کوئی نماز سے فارغ ہو کر آتا،
کوئی اپنا کام سمیٹ کر بیٹھتا،
کوئی باورچی خانے میں مصروف ہو جاتا، اور
کوئی بس اتنا چاہتا کہ آج سب گھر والے ایک جگہ بیٹھیں۔ اس وقت ہمیں شاید اس منظر میں کوئی خاص بات نظر نہیں آتی تھی، کیونکہ گھر کا یوں آباد ہونا ہمارے لیے معمول تھا۔ مگر آج سوچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ معمول نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت تھی۔ جو سمجھدار تھے انہوں نے تو پھر بھی ان لمحات کو جی لیا مگر جو بچے تھے اور بڑے ہونے سے پہلے ہی ان کی دنیا میں ہلچل سی آ گئی ان سے ان اوقات کی اہمیت جاننی چاہیے۔
امی جان کہیں قریب ہی ہوتیں۔
کبھی باورچی خانے میں کھانے کی تیاری کرتیں،
کبھی کسی کو آواز دیتیں،
کبھی کسی بچے سے کوئی کام کہتیں،
کبھی کسی کی بات سننے کے لیے چند لمحوں کو وہیں بیٹھ جاتیں۔ ان کے ہاتھ ایک کام میں مصروف ہوتے اور کان پورے گھر کی خبر رکھتے۔ کون کیا کر رہا ہے، کس نے اپنا کام مکمل کیا، کس کو کسی چیز کی ضرورت ہے، کون خاموش بیٹھا ہے اور کون ضرورت سے زیادہ شور کر رہا ہے۔ جیسے: گھر کا ہر گوشہ ان کی نگاہ میں رہتا تھا۔
ہم بچوں کو شاید یہ سب کچھ بالکل معمولی لگتا تھا، ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک گھر کو گھر بنائے رکھنے کے لیے کسی ایک شخص کو کتنی محبت، کتنی توجہ اور کتنی خاموش محنت دینی پڑتی ہے۔
ابو جان بھی کبھی دن بھر کی مصروفیات سے واپس آ کر کچھ دیر سب کو دیکھتے۔ بچوں سے پوچھتے کہ دن کیسا گزرا ؟ کس کا کام مکمل ہوا، کس نے کیا کیا، کسی نے کوئی نئی بات سیکھی یا نہیں۔ کبھی کسی بچے کی بات پر مسکرا دیتے، کبھی کسی کی حرکت پر ہلکی سی ڈانٹ پڑ جاتی، کبھی کسی بڑے بچے کے کام کے بارے میں پوچھتے اور کبھی چھوٹے کی معمولی سی بات بھی پوری توجہ سے سن لیتے۔ اس وقت شاید ہمیں لگتا تھا کہ ابو جان کا یوں سب سے پوچھنا تو روز کا معمول ہے، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ والدین کا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سن لینا بھی محبت کی ایک ایسی زبان ہے جس کا ترجمہ صرف بڑے ہو کر سمجھ میں آتا ہے۔
گھر میں بڑے بہن بھائی ہوتے تو ان کی اپنی مصروفیات بھی چل رہی ہوتیں۔ کوئی کالج کا کام لے کر بیٹھا ہے،
کوئی کتاب کے صفحات پلٹ رہا ہے،
کوئی نوٹس بنا رہا ہے،
کوئی کسی مضمون کی تیاری میں مصروف ہے۔ کبھی کسی بڑے بھائی یا بہن کو کسی سوال کا جواب نہ ملتا تو گھر میں ہی کسی سے پوچھ لیتا۔ کبھی کوئی چھوٹا بچہ قریب آ کر بڑی سنجیدگی سے ان کی کتاب دیکھنے لگتا، حالانکہ اسے اس کتاب میں لکھا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آ رہا ہوتا۔ پھر بھی وہ ایسے دیکھتا جیسے چند لمحوں بعد اسی کتاب کا امتحان دینے والا ہو۔
چھوٹے بچوں کی دنیا تو اور بھی الگ تھی۔ کسی کی چھوٹی سی کاپی کھلی ہوئی ہے، کسی کے پاس رنگین پنسلیں ہیں، کوئی اپنی کتاب میں تصویریں دیکھ رہا ہے، کوئی حروف لکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی اس کام سے زیادہ اس بات میں دلچسپی لے رہا ہے کہ بڑے بھائی کی میز پر کیا رکھا ہے۔ کبھی چھوٹا کسی بڑے کے پاس جا بیٹھتا اور کہتا، ”یہ کیا ہے ؟“ بڑے نے جواب دیا، پھر اگلا سوال، پھر اس سے اگلا۔ بڑے کو آخرکار سمجھ آ جاتا کہ آج پڑھائی سے زیادہ سوال و جواب کا دن ہے اور مزاج تھوڑا الگ ہوتا تو بڑا چھوٹے پر برس بھی جاتا۔
کبھی بڑے بہن بھائی چھوٹوں کی مدد بھی کرتے۔ کوئی مشکل لفظ پڑھ کر بتا دیا، کسی کا کام دیکھ لیا، کسی کی پنسل تیز کر دی، کسی کو سمجھا دیا کہ یہ سوال کیسے کرنا ہے۔ کبھی مدد کرتے کرتے خود تنگ بھی آ جاتے اور کہتے: ”اب خود کرو!“ مگر تھوڑی دیر بعد وہی واپس آ کر دیکھ لیتے کہ کام ہوا یا نہیں۔ یہی تو گھر تھا، ناراضی بھی چند لمحوں کی، محبت بھی ہر وقت کی۔
ادھر باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاری شروع ہو جاتی۔ سبزی کٹنے کی آواز، برتنوں کی کھنک، مسالوں کی خوشبو اور چولہے پر پکنے والی کسی چیز کی بھاپ پورے گھر کو ایک ایسی خوشبو سے بھر دیتی جس کا تعلق صرف کھانے سے نہیں، گھر ہونے کے احساس سے تھا۔ کبھی کوئی بچہ باورچی خانے کے دروازے پر کھڑا ہو کر پوچھتا: ”آج کیا بن رہا ہے ؟“ جواب ملتا اور پھر وہی بچہ کچھ دیر بعد دوبارہ آ کر پوچھتا، جیسے اس دوران کھانا بدل گیا ہوگا۔ کبھی کوئی کہتا: ”یہ کب بنے گا ؟“ کبھی کوئی چپکے سے دیکھنے آتا کہ دیگچی میں کیا پک رہا ہے، اور اگر موقع مل جائے تو چکھنے کی کوشش بھی کرتا۔ چھوٹے بچے امی کے روٹی بنانے کے وقت ضرور پہنچتے اور آٹا لے کر اپنی روٹی بناتے۔
کبھی کھانا بناتے بناتے امی کسی پرانی بات کا ذکر کر دیتیں، اور پھر گھر میں گفتگو کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ کسی رشتہ دار کا تذکرہ، کسی پرانے واقعے کی یاد، کسی کی بچپن کی شرارت، کسی کی کامیابی یا کسی کی عجیب عادت۔ اور جب کسی ایک شخص کا بچپن سب کے سامنے آ جاتا تو اس کے لیے سب سے مشکل وقت وہ ہوتا جب گھر کے بڑے اس کی پرانی شرارتیں سنانا شروع کر دیتے۔ وہ بیچ میں روکنے کی کوشش کرتا ”بس بھی کریں!“ مگر جتنا روکتا، اتنا ہی قصہ دلچسپ ہوتا جاتا۔
کبھی کسی بات پر سب ہنس پڑتے اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ہنسی اتنی بڑی کیوں ہے۔ بس سب ہنس رہے ہیں تو ہم بھی ہنس رہے ہیں۔ کبھی کوئی ایسا واقعہ سامنے آ جاتا جو برسوں پرانا ہوتا، مگر گھر کے کسی بڑے کو اس کی ہر تفصیل یاد ہوتی۔ ہم حیران ہوتے کہ انہیں اتنی پرانی بات کیسے یاد ہے ؟ آج سمجھ آتا ہے کہ محبت جن لمحوں کو چھوتی ہے، یادداشت انہیں آسانی سے بھولنے نہیں دیتی۔
مغرب کے بعد کا گھر اسی طرح چھوٹی چھوٹی آوازوں سے آباد رہتا۔ کوئی کسی کو بلا رہا ہے، کوئی پانی مانگ رہا ہے، کسی کو اپنی چیز نہیں مل رہی، کوئی شکایت کر رہا ہے کہ ”اس نے میری چیز لے لی“، کوئی کسی کی نقل اتار رہا ہے، کوئی اپنی بات منوانے پر بضد ہے۔ کبھی چند لمحوں کے لیے گھر میں شور اتنا بڑھ جاتا کہ لگتا سب اپنی اپنی بات ایک ہی وقت میں کہنا چاہتے ہیں۔ پھر کسی بڑے کی آواز آتی اور سب ذرا خاموش ہو جاتے۔ مگر یہ خاموشی بھی زیادہ دیر قائم نہ رہتی۔
ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کب کون سا کام ختم ہوا اور کب رات گہری ہونے لگی۔ بس اتنا یاد رہتا ہے کہ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ کوئی اکیلا نہیں تھا۔ اگر کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو آواز دے سکتا تھا۔ اگر کسی کو کوئی بات بتانی ہو تو سامنے بیٹھا شخص موجود تھا۔ اگر کوئی خوش ہو تو خوشی بانٹنے والے تھے، اگر کوئی اداس ہو تو پوچھنے والے تھے۔
اور یہ بات آج سب سے زیادہ یاد آتی ہے۔
اب کی زندگی:
آج ایک ہی گھر میں کئی لوگ ہوتے ہیں، مگر کئی بار ہر شخص اپنی اپنی دنیا میں رہتا ہے۔
کسی کے ہاتھ میں فون،
کسی کے سامنے اسکرین،
کسی کے ذہن میں کام،
کسی کو کہیں جانا ہے،
کسی کو کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں۔ گھر کی دیواریں ایک جگہ ہیں، مگر دلوں کی محفل کبھی کبھی دور دور محسوس ہوتی ہے۔
ایسے میں مغرب کے بعد کا وہ گھر یاد آتا ہے جہاں وقت کم نہیں تھا، لوگ زیادہ تھے۔
جہاں بیٹھنے کے لیے کسی خاص موقع کی ضرورت نہیں تھی۔
جہاں بات کرنے کے لیے موضوع تلاش نہیں کرنا پڑتا تھا۔
جہاں امی کا ایک سوال، ابو کی ایک بات، بھائی کی ایک شرارت، بہن کی ایک شکایت اور چھوٹے کی ایک عجیب سی ضد بھی پوری محفل بنا دیتی تھی۔
ا ور سب سے خوب صورت بات یہ تھی کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔
ہم سمجھتے تھے یہ سب ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔
امی ہمیشہ اسی طرح آواز دیں گی۔
ابو ہمیشہ اسی طرح گھر میں بیٹھیں گے۔
بڑے بھائی بہن ہمیشہ قریب ہوں گے۔
چھوٹے ہمیشہ شور کریں گے۔
باورچی خانے سے ہمیشہ کھانے کی خوشبو آئے گی۔
اور مغرب کے بعد گھر ہمیشہ اسی طرح آباد رہے گا۔
مگر وقت نے آہستہ آہستہ ہمیں سکھا دیا کہ ”ہمیشہ“ نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں۔
بڑے ہوتے گئے۔
کسی نے تعلیم کے لیے گھر سے دور قدم رکھا،
کسی نے روزگار کی راہ اختیار کی،
کسی کی اپنی مصروفیات بڑھ گئیں۔ گھر وہی رہا مگر محفل چھوٹی ہونے لگی۔ وہ آوازیں کم ہونے لگیں جنہیں ہم کبھی شور سمجھتے تھے۔ وہ کرسیاں خالی رہنے لگیں جن پر کبھی کوئی نہ کوئی ضرور بیٹھا ہوتا تھا۔ اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جس گھر کی گہماگہمی سے کبھی تھکن محسوس ہوتی تھی، آج اسی گہماگہمی کے لیے دل ترس رہا ہے۔
پھر کبھی مغرب کے بعد اچانک کوئی پرانی یاد دل پر دستک دیتی ہے۔‌ باورچی خانے سے آتی ہوئی خوشبو کچھ دیر کے لیے ہمیں برسوں پیچھے لے جاتی ہے۔ کسی بزرگ کی آواز یاد آتی ہے۔ کسی بہن کی ہنسی سنائی دیتی ہے۔ کسی بھائی کی شرارت یاد آتی ہے۔ اور امی کی وہ آواز… جو شاید دنیا کی ہزاروں آوازوں میں آج بھی سب سے زیادہ اپنی محسوس ہوتی ہے۔
تب دل چاہتا ہے کہ بس ایک بار پھر وہی شام ہو۔
ہم سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک ہی کمرے میں آ جائیں۔
امی کچھ بنا رہی ہوں۔
ابو سب کو دیکھ رہے ہوں۔
بڑے اپنے کام میں لگے ہوں۔
چھوٹے اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں مصروف ہوں۔
کوئی کسی سے الجھ رہا ہو، کوئی ہنس رہا ہو، کوئی کسی کی شکایت کر رہا ہو۔ اور ہم… بس خاموشی سے ایک طرف بیٹھے ہوں اور اس بار دل میں یہ جانتے ہوں کہ یہ لمحہ بہت قیمتی ہے۔
مگر زندگی میں کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جن کا پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا، ان کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ اور یادیں بھی کبھی کبھی کتنی بے رحم ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں وہ سب دکھا دیتی ہیں جو ہمارے پاس نہیں رہا۔ مگر شاید ان کی یہی مہربانی بھی ہے کہ وہ ہمیں بتاتی ہیں: ہم نے کبھی بہت خوب صورت دن بھی جئے تھے۔
مغرب کے بعد کا وہ گھر آج بھی کہیں نہ کہیں ہماری یادوں میں آباد ہے۔ وہاں ابھی بھی سب لوگ موجود ہیں، باتیں ہو رہی ہیں، کھانے کی خوشبو آ رہی ہے، بچے شور کر رہے ہیں اور امی کسی کو آواز دے رہی ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہ گھر اب حقیقت میں نہیں، ہماری یادوں میں ہے۔ اور اسی یاد کے دروازے سے آگے بڑھیں تو بچپن کی ایک اور دنیا ہمارا انتظار کرتی ہے وہ دنیا جہاں عشاء کے بعد رات کے کھانے پر دوبارہ سب جمع ہو جاتے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے، اب اسی گھر کی روشن شام سے آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کی اگلی یاد ابھی باقی ہے.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
25
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢