صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟
تحقیق و تعاقب

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟
یہ اعتراض کیا بدمذہبوں نے کہ
”اگر حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے محبت ہے تو صرف 12؍ربیع الاول شریف یا صرف ایک دن ہی محبت کیوں ؟ کیا باقی سال محبت نہیں ؟“
لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض میں دو الگ چیزوں کو خلط ملط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور دوسری ہے محبت کے کسی خاص موقع پر خصوصی اظہار۔
اہلِ سنت کا موقف یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرے؛ بلکہ مسلمان کی پوری زندگی محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معمور ہونی چاہیے۔ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی اظہار ہے، محبت کی حد بندی نہیں۔
محبت صرف ایک دن کی نہیں: سب سے پہلی بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک میلاد کا مطلب یہ نہیں کہ 12؍ربیع الاول کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے۔ بلکہ قرآنِ مجید تو مؤمن کو ہر وقت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا
پس محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دائرہ پورے سال، بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ نماز میں درود، اذان کے بعد درود، جمعہ میں درود، دعاؤں میں درود، سیرت کا مطالعہ، نعت، ذکر، سنت کی پیروی، یہ سب محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مظاہر ہیں۔ تو پھر میلاد کا ایک دن ہونا اس بات کی دلیل کیسے ہو گیا کہ محبت صرف ایک دن کی ہے ؟ نیز اہل سنت میلاد ایک ہی دن نہیں مناتے بلکہ ہر دن کسی نا کسی عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر میں میلاد شریف کی محفل سجائی جاتی ہے۔
ایک اہم اصول سمجھ لیجیے: دنیا میں کسی عظیم نعمت کی ہمہ وقت قدر کرنا اور کسی خاص دن اس نعمت کی خصوصی یاد منانا دو متضاد چیزیں نہیں۔ مثلاً بلا تمثیل و تشبیہ انسان اپنے والدین سے پورے سال محبت کرتا ہے، ان کی خدمت کرتا ہے، ان کا احترام کرتا ہے، لیکن اگر کسی خاص موقع پر ان کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی دنوں میں والدین سے محبت نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح مسلمان حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر لمحہ محبت کرتا ہے، مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے ذکر کے لیے خصوصی اجتماع منعقد کرنا اس دائمی محبت کے منافی نہیں۔ بلکہ
قرآن مجید نے خوشی منانے کا اصول دیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا [یونس-٥٨]
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔
آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا: ”فَلْيَفْرَحُوْا“ پس چاہیے کہ وہ خوشی منائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی منانا شرعاً ممنوع ہے یا مطلوب ؟ قرآنِ حکیم نے خوشی کا اصول بیان کر دیا۔ اور اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ [الانبیاء-١٠٧]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
تو جس ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین فرمایا، اس رحمت کے ظہور، یعنی ولادتِ باسعادت، پر خوشی کا اظہار فی نفسہٖ ایک معقول اور شرعی اصول کے تحت آنے والی بات ہے۔
لیکن سب سے زبردست دلیل خود حضور ﷺ کا عمل ہے:
اب آئیے اس اعتراض کے ایک نقطے کی جانب:
سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس]
اور نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پیر شریف کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن ہے جب میری ولادت ہوئی اور جس دن مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآنِ مجید) نازل کیا گیا۔
فِيهِ وُلِدْتُ (یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔) اور اسی روایت میں ہے:وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ (اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔)
اب ذرا غور کیجیے! حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ولادتِ مبارکہ کے دن کی نسبت کو خود بیان فرما رہے ہیں۔اگر ولادتِ باسعادت کی نسبت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوتی تو نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیر کے روزے کی علت میں یہ کیوں فرماتے: فِيهِ وُلِدْتُ
ایک اور سوال کا جواب
اگر کوئی کہے: پیر کا روزہ تو عبادت ہے، اس سے میلاد کی محفل کیسے ثابت ہوئی ؟
تو جواب یہ ہے: ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیثِ مبارکہ سے موجودہ محفلِ میلاد کی تمام جزئیات براہِ راست ثابت ہوگئیں۔ بلکہ استدلال یہ ہے کہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کو ایک خصوصی نسبت کی وجہ سے یاد کیا اور اس دن روزہ رکھا۔ لہٰذا یومِ ولادت کی خصوصی یاد اور اس پر اظہارِ شکر کی اصل خود سنت سے ثابت ہو گئی۔ اب اگر کوئی مسلمان اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کرے، درود و سلام پڑھے، سیرتِ طیبہ بیان کرے، نعت پڑھے، صدقہ کرے اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرے تو ان اعمال میں سے ہر عمل کا اپنا الگ شرعی حکم دیکھا جائے گا۔ یہی فقہی تفریق ضروری ہے۔
اگر سال بھر محبت ہے تو ایک دن کیوں ؟
یہ اعتراض دراصل اپنے اندر ہی کمزور ہے کیونکہ کسی چیز کو خصوصی طور پر ایک دن یاد کرنا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ باقی دن اسے یاد نہ کیا جائے۔ مثلاً:
شبِ قدر کی فضیلت ہے، مگر رمضان کے ہر دن اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔
جمعہ کا دن خصوصی فضیلت رکھتا ہے، مگر باقی دن نماز اور ذکر ہوتے ہیں۔
عاشورا کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، مگر محرم کے باقی دن بے معنی نہیں۔
حج کے مخصوص ایام ہیں، مگر اللہ پاک کی عبادت پورے سال جاری رہتی ہے۔
لہٰذا خصوصی وقت کی تخصیص، عمومی عمل کی نفی نہیں کرتی۔ یہی بنیادی مغالطہ اس اعتراض میں پایا جاتا ہے۔
اگر سال بھر درود پڑھتے ہیں تو جمعہ کو زیادہ کیوں ؟ یہاں ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔ مسلمان پورے سال درود شریف پڑھتا ہے، مگر جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کی خصوصی ترغیب دی گئی۔ حبیبِ کبریا تاجدارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ [سنن ابی داؤد، ابواب الجمعۃ، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة]
بے شک تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا فرمایا گیا، اسی دن ان کا وصال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے حضور پیش کیا جاتا ہے۔
اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ درودِ پاک تو ہر دن پڑھتے ہو، جمعہ ہی کو زیادہ کیوں ؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عام عمل کے لیے خاص وقت کی فضیلت مقرر ہو سکتی ہے۔ اسی اصول کو میلاد کے مسئلے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”صرف ایک دن“ بھی درست تعبیر نہیں۔
ایک اور اہم بات:
میلاد شریف کو صرف 12؍ربیع الاول شریف تک محدود سمجھنا بھی ضروری نہیں۔ اہلِ سنت کے یہاں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ ربیع الاول شریف کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ہوتا ہے۔ محافلِ میلاد، سیرت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اجتماعات، نعتیہ مجالس، درود و سلام اور ذکرِ ولادت، یہ سب پورے سال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اعتراض کا یہ مفروضہ ہی درست نہیں کہ: میلاد، صرف ایک دن۔ بلکہ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے: ”محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دائمی عمل، اور جشنِ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر۔
کیا میلاد نہ منانے والا محبت سے محروم ہے ؟
نہیں۔
یہ بھی ایک اہم اعتدال ہے۔ کسی شخص نے میلاد کی محفل منعقد نہیں کی تو محض اس وجہ سے اسے بے محبت کہنا درست نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے میلاد مناتا ہے، اسے بھی محض اس وجہ سے محبت سے محروم قرار دینا درست نہیں۔ محبت کے بہت سے مظاہر ہو سکتے ہیں۔ کسی کی محبت کا اظہار نعت شریف سے ہے، کسی کا درود شریف سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت پڑھنے سے، کسی کا سنت پر عمل سے اور کسی کا محفلِ میلاد منعقد کرنے سے۔ اصل بحث ”میلاد“ نہیں، ”طریقۂ میلاد“ ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم اور دقیق نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی میلاد کی محفل میں: فرض نماز ترک کی جائے، فحش یا بے حیائی ہو، مرد و زن کا ناجائز اختلاط ہو، جھوٹے واقعات بیان کیے جائیں، لوگوں کو ایذا دی جائے، اسراف و فضول خرچی ہو، یا کوئی اور شرعی ممانعت پائی جائے، تو ان چیزوں سے بچنا لازم ہے۔ لیکن کسی عمل کے بعض غلط طریقوں کی قباحت سے اصل جائز مقصد کی حرمت لازم نہیں آتی۔ حضور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
" یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ [البقرۃ-٤٠]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا حکمِ قرآنی ہے۔ لہٰذا محفل میلاد شریف بہت مبارک ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا ذکر ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح گیارہویں شریف اور عرسِ بزرگان وغیرہ کہ یہ تمام محفلیں ان بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنے اور ان کی سوانح حیات لوگوں کو سنا کر انہیں عبادتوں کی رغبت دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔ حج، قربانی، روزے، رمضان وغیرہ سب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد ہے، ان یادگاروں کی اصلی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان امورِ خیر میں بدعات، ناچ، گانا وغیرہ شامل کر دیا مگر اس شمول سے اصل عرس حرام نہ ہوگا، جیسے شادیوں میں باجا، گانہ بجانا شامل ہونے سے نکاح حرام نہیں ہے، جیسے کعبہ معظمہ میں بت رکھ دیے گئے تھے تو کعبہ کو نہیں ڈھایا گیا بلکہ بت نکال دیے گئے، ایسے ہی خدا موقع دے تو ان برائیوں کو دور کر دیا جائے گا۔ یادگار نہ ہٹاؤ، مسجد میں کتا گھس جائے تو کتا نکالو مسجد نہ گراؤ۔ [تفسیرِ نعیمی، ج١، ص٢٩١ و ٢٩١]
پھر سوال: کیا ہر سال جشن منانا ضروری ہے ؟ یہ بھی واضح رہے کہ اہلِ سنت کا مدعا یہ نہیں کہ ہر مسلمان پر شرعی فرض یا واجب ہے کہ وہ لازماً ایک مخصوص تاریخ کو جلوس یا محفل منعقد کرے۔ یہاں جواز، استحباب اور وجوب کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی عمل کو جائز یا مستحسن کہنا اور اسے فرض قرار دینا دو الگ دعوے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا: اگر میلاد ضروری نہیں تو پھر کیوں مناتے ہو ؟ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے: نفل صدقہ فرض نہیں، پھر صدقہ کیوں کرتے ہو ؟ ہر نیک کام کے لیے فرض ہونا شرط نہیں۔
اصل محبت کیا ہے ؟
آخر میں سب سے اہم بات: میلاد کی محفل کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن نعتیں پڑھے اور پھر باقی سال سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے غافل رہے۔ بلکہ حقیقی میلاد وہ ہے جو انسان کے اندر سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [احزاب-٢١]
بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔
لہٰذا اگر میلاد کے بعد: نماز کی پابندی بڑھے، درودِ پاک کی کثرت ہو، اخلاق سنوریں، والدین کی خدمت بڑھے، جھوٹ چھوٹے، گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم زندگی میں داخل ہو تو یہ میلاد کے پیغام کا حقیقی ثمر ہے۔
اعتراض کا فیصلہ کن جواب:
لہٰذا یہ کہنا کہ: ”اگر میلاد محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے تو سال میں صرف ایک دن کیوں ؟“ درست اعتراض نہیں۔ اس کا جامع جواب یہ ہے: ہم حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صرف ایک دن محبت نہیں کرتے؛ ہم حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر دن، ہر وقت اور اپنی پوری زندگی محبت کرتے ہیں۔ البتہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے کے لیے ایک خاص وقت مقرر کرکے خوشی، درود، نعت، سیرت اور صدقہ کے ذریعے اس نعمتِ عظمیٰ کو یاد کرنا ہماری دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر ہے، اس محبت کی تحدید نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود نبی کریم ﷺ نے پیر کے دن کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے اپنی ولادت کا ذکر فرمایا: فِيهِ وُلِدْتُ۔ پس ”میلاد صرف ایک دن کی محبت ہے“ کہنا اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے دو الگ چیزوں کو باہم خلط کرنا ہے۔ میلاد ایک دن کا ہوسکتا ہے، مگر محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن کی نہیں وہ تو مؤمن کی پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔ نتیجہ نکلا:
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
[سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ]
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟
یہ اعتراض کیا بدمذہبوں نے کہ
”اگر حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے محبت ہے تو صرف 12؍ربیع الاول شریف یا صرف ایک دن ہی محبت کیوں ؟ کیا باقی سال محبت نہیں ؟“
لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض میں دو الگ چیزوں کو خلط ملط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور دوسری ہے محبت کے کسی خاص موقع پر خصوصی اظہار۔
اہلِ سنت کا موقف یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرے؛ بلکہ مسلمان کی پوری زندگی محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معمور ہونی چاہیے۔ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی اظہار ہے، محبت کی حد بندی نہیں۔
محبت صرف ایک دن کی نہیں: سب سے پہلی بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک میلاد کا مطلب یہ نہیں کہ 12؍ربیع الاول کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے۔ بلکہ قرآنِ مجید تو مؤمن کو ہر وقت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا
پس محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دائرہ پورے سال، بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ نماز میں درود، اذان کے بعد درود، جمعہ میں درود، دعاؤں میں درود، سیرت کا مطالعہ، نعت، ذکر، سنت کی پیروی، یہ سب محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مظاہر ہیں۔ تو پھر میلاد کا ایک دن ہونا اس بات کی دلیل کیسے ہو گیا کہ محبت صرف ایک دن کی ہے ؟ نیز اہل سنت میلاد ایک ہی دن نہیں مناتے بلکہ ہر دن کسی نا کسی عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر میں میلاد شریف کی محفل سجائی جاتی ہے۔
ایک اہم اصول سمجھ لیجیے: دنیا میں کسی عظیم نعمت کی ہمہ وقت قدر کرنا اور کسی خاص دن اس نعمت کی خصوصی یاد منانا دو متضاد چیزیں نہیں۔ مثلاً بلا تمثیل و تشبیہ انسان اپنے والدین سے پورے سال محبت کرتا ہے، ان کی خدمت کرتا ہے، ان کا احترام کرتا ہے، لیکن اگر کسی خاص موقع پر ان کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی دنوں میں والدین سے محبت نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح مسلمان حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر لمحہ محبت کرتا ہے، مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے ذکر کے لیے خصوصی اجتماع منعقد کرنا اس دائمی محبت کے منافی نہیں۔ بلکہ
قرآن مجید نے خوشی منانے کا اصول دیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا [یونس-٥٨]
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔
آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا: ”فَلْيَفْرَحُوْا“ پس چاہیے کہ وہ خوشی منائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی منانا شرعاً ممنوع ہے یا مطلوب ؟ قرآنِ حکیم نے خوشی کا اصول بیان کر دیا۔ اور اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ [الانبیاء-١٠٧]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
تو جس ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین فرمایا، اس رحمت کے ظہور، یعنی ولادتِ باسعادت، پر خوشی کا اظہار فی نفسہٖ ایک معقول اور شرعی اصول کے تحت آنے والی بات ہے۔
لیکن سب سے زبردست دلیل خود حضور ﷺ کا عمل ہے:
اب آئیے اس اعتراض کے ایک نقطے کی جانب:
سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس]
اور نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پیر شریف کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن ہے جب میری ولادت ہوئی اور جس دن مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآنِ مجید) نازل کیا گیا۔
فِيهِ وُلِدْتُ (یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔) اور اسی روایت میں ہے:وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ (اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔)
اب ذرا غور کیجیے! حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ولادتِ مبارکہ کے دن کی نسبت کو خود بیان فرما رہے ہیں۔اگر ولادتِ باسعادت کی نسبت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوتی تو نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیر کے روزے کی علت میں یہ کیوں فرماتے: فِيهِ وُلِدْتُ
ایک اور سوال کا جواب
اگر کوئی کہے: پیر کا روزہ تو عبادت ہے، اس سے میلاد کی محفل کیسے ثابت ہوئی ؟
تو جواب یہ ہے: ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیثِ مبارکہ سے موجودہ محفلِ میلاد کی تمام جزئیات براہِ راست ثابت ہوگئیں۔ بلکہ استدلال یہ ہے کہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کو ایک خصوصی نسبت کی وجہ سے یاد کیا اور اس دن روزہ رکھا۔ لہٰذا یومِ ولادت کی خصوصی یاد اور اس پر اظہارِ شکر کی اصل خود سنت سے ثابت ہو گئی۔ اب اگر کوئی مسلمان اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کرے، درود و سلام پڑھے، سیرتِ طیبہ بیان کرے، نعت پڑھے، صدقہ کرے اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرے تو ان اعمال میں سے ہر عمل کا اپنا الگ شرعی حکم دیکھا جائے گا۔ یہی فقہی تفریق ضروری ہے۔
اگر سال بھر محبت ہے تو ایک دن کیوں ؟
یہ اعتراض دراصل اپنے اندر ہی کمزور ہے کیونکہ کسی چیز کو خصوصی طور پر ایک دن یاد کرنا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ باقی دن اسے یاد نہ کیا جائے۔ مثلاً:
شبِ قدر کی فضیلت ہے، مگر رمضان کے ہر دن اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔
جمعہ کا دن خصوصی فضیلت رکھتا ہے، مگر باقی دن نماز اور ذکر ہوتے ہیں۔
عاشورا کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، مگر محرم کے باقی دن بے معنی نہیں۔
حج کے مخصوص ایام ہیں، مگر اللہ پاک کی عبادت پورے سال جاری رہتی ہے۔
لہٰذا خصوصی وقت کی تخصیص، عمومی عمل کی نفی نہیں کرتی۔ یہی بنیادی مغالطہ اس اعتراض میں پایا جاتا ہے۔
اگر سال بھر درود پڑھتے ہیں تو جمعہ کو زیادہ کیوں ؟ یہاں ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔ مسلمان پورے سال درود شریف پڑھتا ہے، مگر جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کی خصوصی ترغیب دی گئی۔ حبیبِ کبریا تاجدارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ [سنن ابی داؤد، ابواب الجمعۃ، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة]
بے شک تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا فرمایا گیا، اسی دن ان کا وصال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے حضور پیش کیا جاتا ہے۔
اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ درودِ پاک تو ہر دن پڑھتے ہو، جمعہ ہی کو زیادہ کیوں ؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عام عمل کے لیے خاص وقت کی فضیلت مقرر ہو سکتی ہے۔ اسی اصول کو میلاد کے مسئلے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”صرف ایک دن“ بھی درست تعبیر نہیں۔
ایک اور اہم بات:
میلاد شریف کو صرف 12؍ربیع الاول شریف تک محدود سمجھنا بھی ضروری نہیں۔ اہلِ سنت کے یہاں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ ربیع الاول شریف کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ہوتا ہے۔ محافلِ میلاد، سیرت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اجتماعات، نعتیہ مجالس، درود و سلام اور ذکرِ ولادت، یہ سب پورے سال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اعتراض کا یہ مفروضہ ہی درست نہیں کہ: میلاد، صرف ایک دن۔ بلکہ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے: ”محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دائمی عمل، اور جشنِ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر۔
کیا میلاد نہ منانے والا محبت سے محروم ہے ؟
نہیں۔
یہ بھی ایک اہم اعتدال ہے۔ کسی شخص نے میلاد کی محفل منعقد نہیں کی تو محض اس وجہ سے اسے بے محبت کہنا درست نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے میلاد مناتا ہے، اسے بھی محض اس وجہ سے محبت سے محروم قرار دینا درست نہیں۔ محبت کے بہت سے مظاہر ہو سکتے ہیں۔ کسی کی محبت کا اظہار نعت شریف سے ہے، کسی کا درود شریف سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت پڑھنے سے، کسی کا سنت پر عمل سے اور کسی کا محفلِ میلاد منعقد کرنے سے۔ اصل بحث ”میلاد“ نہیں، ”طریقۂ میلاد“ ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم اور دقیق نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی میلاد کی محفل میں: فرض نماز ترک کی جائے، فحش یا بے حیائی ہو، مرد و زن کا ناجائز اختلاط ہو، جھوٹے واقعات بیان کیے جائیں، لوگوں کو ایذا دی جائے، اسراف و فضول خرچی ہو، یا کوئی اور شرعی ممانعت پائی جائے، تو ان چیزوں سے بچنا لازم ہے۔ لیکن کسی عمل کے بعض غلط طریقوں کی قباحت سے اصل جائز مقصد کی حرمت لازم نہیں آتی۔ حضور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
" یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ [البقرۃ-٤٠]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا حکمِ قرآنی ہے۔ لہٰذا محفل میلاد شریف بہت مبارک ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا ذکر ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح گیارہویں شریف اور عرسِ بزرگان وغیرہ کہ یہ تمام محفلیں ان بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنے اور ان کی سوانح حیات لوگوں کو سنا کر انہیں عبادتوں کی رغبت دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔ حج، قربانی، روزے، رمضان وغیرہ سب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد ہے، ان یادگاروں کی اصلی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان امورِ خیر میں بدعات، ناچ، گانا وغیرہ شامل کر دیا مگر اس شمول سے اصل عرس حرام نہ ہوگا، جیسے شادیوں میں باجا، گانہ بجانا شامل ہونے سے نکاح حرام نہیں ہے، جیسے کعبہ معظمہ میں بت رکھ دیے گئے تھے تو کعبہ کو نہیں ڈھایا گیا بلکہ بت نکال دیے گئے، ایسے ہی خدا موقع دے تو ان برائیوں کو دور کر دیا جائے گا۔ یادگار نہ ہٹاؤ، مسجد میں کتا گھس جائے تو کتا نکالو مسجد نہ گراؤ۔ [تفسیرِ نعیمی، ج١، ص٢٩١ و ٢٩١]
پھر سوال: کیا ہر سال جشن منانا ضروری ہے ؟ یہ بھی واضح رہے کہ اہلِ سنت کا مدعا یہ نہیں کہ ہر مسلمان پر شرعی فرض یا واجب ہے کہ وہ لازماً ایک مخصوص تاریخ کو جلوس یا محفل منعقد کرے۔ یہاں جواز، استحباب اور وجوب کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی عمل کو جائز یا مستحسن کہنا اور اسے فرض قرار دینا دو الگ دعوے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا: اگر میلاد ضروری نہیں تو پھر کیوں مناتے ہو ؟ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے: نفل صدقہ فرض نہیں، پھر صدقہ کیوں کرتے ہو ؟ ہر نیک کام کے لیے فرض ہونا شرط نہیں۔
اصل محبت کیا ہے ؟
آخر میں سب سے اہم بات: میلاد کی محفل کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن نعتیں پڑھے اور پھر باقی سال سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے غافل رہے۔ بلکہ حقیقی میلاد وہ ہے جو انسان کے اندر سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [احزاب-٢١]
بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔
لہٰذا اگر میلاد کے بعد: نماز کی پابندی بڑھے، درودِ پاک کی کثرت ہو، اخلاق سنوریں، والدین کی خدمت بڑھے، جھوٹ چھوٹے، گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم زندگی میں داخل ہو تو یہ میلاد کے پیغام کا حقیقی ثمر ہے۔
اعتراض کا فیصلہ کن جواب:
لہٰذا یہ کہنا کہ: ”اگر میلاد محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے تو سال میں صرف ایک دن کیوں ؟“ درست اعتراض نہیں۔ اس کا جامع جواب یہ ہے: ہم حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صرف ایک دن محبت نہیں کرتے؛ ہم حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر دن، ہر وقت اور اپنی پوری زندگی محبت کرتے ہیں۔ البتہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے کے لیے ایک خاص وقت مقرر کرکے خوشی، درود، نعت، سیرت اور صدقہ کے ذریعے اس نعمتِ عظمیٰ کو یاد کرنا ہماری دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر ہے، اس محبت کی تحدید نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود نبی کریم ﷺ نے پیر کے دن کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے اپنی ولادت کا ذکر فرمایا: فِيهِ وُلِدْتُ۔ پس ”میلاد صرف ایک دن کی محبت ہے“ کہنا اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے دو الگ چیزوں کو باہم خلط کرنا ہے۔ میلاد ایک دن کا ہوسکتا ہے، مگر محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن کی نہیں وہ تو مؤمن کی پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔ نتیجہ نکلا:
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
[سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ]
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
30
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟

Test

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢