صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ چہارم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ چہارم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ چہارم ]
کھیل سے کتاب تک
بچپن کی گلیوں میں شام کا اپنا ایک وقت ہوتا تھا۔ سورج ڈوبتے ڈوبتے جیسے پورے محلے کو خبر دے دیتا کہ اب دن کی آزادی اپنے آخری لمحوں میں ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک گلی میں شور تھا، کہیں گیند اچھل رہی تھی، کہیں بچے دوڑ رہے تھے، کہیں کسی کی آواز بلند ہو رہی تھی اور کہیں کھیل کے کسی فیصلے پر ایسی بحث جاری تھی جیسے دنیا کا سب سے اہم مسئلہ اسی وقت حل ہونا ہو۔ پھر اچانک مغرب کی اذان کی آواز بلند ہوتی اور ماحول کا رنگ بدلنے لگتا۔ ایک ایک کرکے بچے اپنے اپنے گھروں کی طرف جانے لگتے۔ کسی کو نماز کے لیے جانا ہوتا، کسی کو گھر پہنچ کر کپڑے بدلنے ہوتے، اور کسی کے ذہن میں پہلے ہی یہ خیال آ چکا ہوتا کہ آج کا سبق بھی یاد کرنا ہے اور کل کا کام بھی باقی ہے۔
یہی تو بچپن کی زندگی تھی؛ ایک طرف گلی کی آزادی، دوسری طرف کتابوں کی دنیا۔
مغرب سے پہلے تک ہم کھیل کے میدان کے بادشاہ ہوتے تھے، مگر مغرب کے بعد کتاب کھلتے ہی اچانک معلوم ہوتا کہ دنیا میں ایک اور حکومت بھی ہے: سبق کی حکومت! اور اس حکومت کا حکم ماننا ضروری تھا۔
مدرسے کے طلبہ کے لیے تو مغرب کے بعد کا وقت ایک الگ ہی کیفیت رکھتا تھا۔ وضو، نماز اور پھر کتابیں کھولنے کا مرحلہ۔ ابھی دل پوری طرح کھیل سے واپس نہیں آیا ہوتا تھا، جسم تھکا ہوا ہوتا، آنکھوں کے سامنے ابھی بھی وہی گلی اور دوستوں کے چہرے گھوم رہے ہوتے، مگر سامنے کتاب کھلی ہوتی اور سبق اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ منتظر ہوتا کہ اب اسے یاد کیا جائے۔
کتاب کھولتے ہی کبھی ایسا لگتا جیسے سبق آج پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ جو عبارت مدرسے میں استاد نے سمجھائی تھی، اس وقت سب کچھ بہت آسان محسوس ہوا تھا، مگر گھر آ کر وہی عبارت دیکھتے تو اچانک ہر لفظ ایک دوسرے سے مشورہ کرتا ہوا معلوم ہوتا۔ ایک سطر یاد ہوتی تو اگلی سطر بھول جاتے، اگلی یاد ہوتی تو پہلی کہیں چلی جاتی۔ پھر کتاب بند کرکے آنکھیں بند کرتے اور سبق دہرانے کی کوشش کرتے؛ اگر آدھا یاد آ گیا تو دل میں اطمینان ہوتا کہ آج تو بڑی کامیابی حاصل ہو گئی، اور اگر کہیں رک گئے تو فوراً دوبارہ کتاب کھول لی جاتی۔
کبھی سبق یاد کرتے ہوئے زبان چل رہی ہوتی اور ہاتھ سے کوئی اور کام بھی جاری ہوتا۔ کبھی کتاب سامنے، کبھی پنسل ہاتھ میں، کبھی پانی کا گلاس، کبھی کھڑکی کی طرف نظر۔ اور اگر باہر سے دوست کی آواز آ جائے تو سبق کی پوری توجہ چند لمحوں کے لیے خطرے میں پڑ جاتی۔ دل کہتا: ”بس ایک بار دیکھ آؤں کہ کون آیا ہے۔“ عقل کہتی: ”پہلے سبق یاد کر لو۔“ اور بچپن کا دل اکثر عقل سے زیادہ طاقتور ہوتا تھا۔
مدرسے کے طلبہ کی اپنی ایک دنیا تھی۔ کسی کو سبق یاد کرنا ہوتا، کسی کو اگلے دن کی عبارت تیار کرنی ہوتی، کسی کو صرف یہ فکر ہوتی کہ صبح استاد کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں اٹک نہ جائے۔ کبھی کبھی سبق کی تیاری اس وقت شروع ہوتی جب سونے کا وقت قریب آ چکا ہوتا۔ پھر کتاب سامنے، آنکھیں نیم بند اور دل میں یہ امید کہ شاید صبح تک خود ہی سب کچھ یاد ہو جائے۔ مگر سبق بھی عجیب چیز ہے، اسے صرف دیکھنے سے وہ دل میں داخل نہیں ہوتا، اسے زبان، ذہن اور صبر تینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
کبھی ایک لفظ پر رک جانا، پھر استاد کا سمجھایا ہوا طریقہ یاد کرنا، کبھی کسی مشکل عبارت کا مطلب گھر کے بڑے سے پوچھنا اور کبھی اگلے دن ساتھی سے کہنا کہ ”تم نے یہ سبق کیسے یاد کیا تھا ؟“ یہ سب بھی اسی زمانے کا حصہ تھا۔ اس وقت شاید یہ معمولی باتیں لگتی تھیں، مگر آج انہی معمولی لمحوں کو یاد کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم صرف کتاب کے صفحات پر نہیں تھی؛ وہ ان چھوٹی چھوٹی کوششوں، محنتوں، ڈانٹوں اور کامیابیوں میں بھی چھپی ہوئی تھی۔
اور دوسری طرف اسکول اور کالج کے طلبہ تھے، جن کے لیے مغرب کے بعد کی دنیا بھی کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ بستہ کھلا، کتابیں نکلیں، کاپیاں سامنے آئیں اور پھر Homework کا وہ مرحلہ شروع ہوتا جس کا خیال دن بھر اسکول میں بھی آتا تھا، مگر گھر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے بھلا دیا جاتا تھا۔ کھیلتے وقت اگر کوئی پوچھتا کہ ”ہوم ورک کر لیا ؟“ تو جواب بہت اعتماد سے آتا: ”ہاں! آج رات کر لیں گے!“ جیسے رات صرف اسی کام کے لیے بنائی گئی ہو۔
پھر رات آتی اور معلوم ہوتا کہ کام واقعی باقی ہے۔
ایک طرف ریاضی کے سوالات، دوسری طرف اردو یا ہندی کا کام، کہیں انگریزی کے جملے، کہیں سائنس کے سوالات، اور کہیں وہ نقشہ یا چارٹ جسے بنانے کے لیے اچانک بہت سے سامان کی ضرورت پڑ جاتی۔ اس وقت ایک ہی خیال آتا: ”یہ کام ہمیں پہلے کیوں یاد نہیں آیا ؟“
لیکن بچپن کی ایک خاص صلاحیت تھی کہ آخری وقت میں بھی امید نہیں ٹوٹتی تھی۔ کبھی دوست سے فون پر پوچھا،
کبھی کسی کی کاپی دیکھی،
کبھی کتاب کے آخر میں جواب تلاش کیا
اور کبھی کسی بڑے بہن بھائی سے مدد لے لی۔ اور اگر کام بہت زیادہ ہو تو پھر لکھنے کی رفتار بھی ایسی بڑھتی کہ قلم شاید خود سوچتا ہو کہ آج میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے!
کبھی ہوم ورک کرتے کرتے آنکھیں گھڑی پر پڑتیں اور حیرت ہوتی کہ اتنا وقت گزر بھی گیا ؟ ابھی تو کھیلنے گئے تھے!
یہی تو بچپن کی عجیب ترتیب تھی؛ کھیل کا وقت بہت جلدی گزرتا تھا، پڑھائی کا وقت بہت آہستہ۔ گھڑی کھیل کے وقت شاید دوڑتی تھی اور کتاب کے وقت رینگتی تھی۔ مگر اسی پڑھائی کے دوران کبھی کوئی چھوٹی سی خوشی بھی مل جاتی۔ سبق جلدی یاد ہو گیا تو دل خوش،
استاد نے اگلے دن تعریف کر دی تو سارا دن اچھا،
ہوم ورک مکمل ہو گیا تو ایسا اطمینان جیسے کوئی بڑا امتحان پاس کر لیا ہو۔ اور اگر اگلے دن استاد نے کہا ”شاباش!“ تو وہ ایک لفظ کئی دن تک دل میں محفوظ رہتا۔
ڈانٹ بھی اسی زمانے کی ایک حقیقت تھی۔ کبھی سبق یاد نہ ہونے پر،
کبھی ہوم ورک ادھورا ہونے پر،
کبھی کتاب بھولنے پر،
کبھی کلاس میں باتیں کرنے پر۔ اس وقت استاد کی ڈانٹ بہت بڑی بڑی محسوس ہوتی تھی۔ دل چاہتا تھا زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں، مگر آج انہیں واقعات کو یاد کریں تو شاید ہنسی آ جائے، چشم نم ہو جائیں، آبِ چشم بہنے کے لیے بے قرار ہو جائیں۔ اس وقت ہمیں لگتا تھا کہ استاد ہمیں کیوں نہیں سمجھتے، اور آج سمجھ آتا ہے کہ شاید وہ ہمیں ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔
مغرب کے بعد گھر کا ماحول بھی عجیب ہوتا تھا۔ ایک طرف کسی کے سبق پڑھنے کی آواز، دوسری طرف کسی کے ہوم ورک کی فکر، کہیں والدین کی باتیں، کہیں چھوٹے بچوں کا شور اور کہیں کسی کی شکایت: ”امی! یہ مجھے پڑھنے نہیں دے رہا!“ اور جواب آتا: ”دونوں خاموش ہو کر پڑھو!“
کچھ دیر خاموشی رہتی، پھر چند منٹ بعد کسی نہ کسی طرف سے دوبارہ آواز آ جاتی۔ بچپن میں پڑھائی بھی مکمل خاموشی سے کہاں ہوتی تھی ؟ کبھی کتاب پڑھتے ہوئے اچانک کوئی پرانی بات یاد آ گئی، کبھی پنسل سے میز پر کچھ بنانا شروع کر دیا، کبھی کھڑکی سے باہر دیکھا اور چند لمحوں کے لیے ذہن پھر گلی میں پہنچ گیا۔ کتاب سامنے ہوتی مگر خیال کہیں اور۔ پھر اچانک احساس ہوتا: ”ارے! سبق تو یاد کرنا تھا!“ اور دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ سبق یاد کرنے بیٹھے اور تھوڑی دیر بعد خود کو کتاب کے اوپر جھکا ہوا پایا۔ نیند بڑی خاموشی سے آتی تھی۔ نہ اجازت لیتی، نہ بتاتی کہ کب آئے گی۔ بس چند لمحوں بعد آنکھیں بھاری، سر کتاب پر اور سبق وہیں کا وہیں۔ پھر گھر سے آواز آتی: ”سو گئے ہو یا پڑھ رہے ہو ؟“ اور ہم فوراً سیدھے ہو کر کہتے: ”پڑھ رہے ہیں!“ یہ جواب اس قدر اعتماد سے دیا جاتا کہ جیسے ابھی ابھی نیند کو شکست دے کر واپس آئے ہوں۔
مگر آج جب اس زمانے کو یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ڈانٹ،
وہ سبق،
وہ ہوم ورک،
وہ کاپیاں،
وہ کتابیں اور
وہ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی زندگی کی خوب صورت یادوں کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس وقت ہمیں صرف یہ دکھائی دیتا تھا کہ کھیل ختم ہو گیا اور اب پڑھنا پڑے گا؛ آج معلوم ہوتا ہے کہ انہی دنوں میں کھیل کے ساتھ ذمہ داری بھی آہستہ آہستہ ہمارے اندر جگہ بنا رہی تھی۔ ہم گلیوں سے کتاب تک آنا سیکھ رہے تھے۔
ہم خواہش اور ذمہ داری کے درمیان توازن سیکھ رہے تھے۔
ہم یہ سیکھ رہے تھے کہ ہر وقت کھیل نہیں ہوتا، کچھ وقت محنت کا بھی ہوتا ہے؛ اور شاید یہی بچپن کی تربیت کا ایک خوب صورت حصہ تھا کہ انسان کو آزادی بھی ملتی تھی اور حدود بھی معلوم ہوتی تھیں۔
رات بڑھتی جاتی، سبق مکمل ہوتا، ہوم ورک ختم ہوتا، کتابیں بند ہوتیں، بستہ تیار ہوتا اور آخرکار وہی تھکا ہوا بچہ بستر پر جا گرتا۔ مگر سونے سے پہلے بھی ایک آخری خیال ضرور ہوتا: ”کل پھر پڑھائی ہوگی، مدرسہ/اسکول جائیں گے، اساتذہ آئیں گے، ساتھیوں کے ملاقات ہوگی، گھر آئیں گے، کھانا کھائیں گے، شام کو پھر دوستوں کے ساتھ کھیلیں گے، اور یہی امید اگلے دن کو خوب صورت بنا دیتی تھی۔
اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کتابیں بھی ایک دن یاد آئیں گی، وہ کاپیاں بھی جنہیں ہم بوجھ سمجھتے تھے، وہ بستہ بھی جسے اٹھاتے ہوئے کندھے تھک جاتے تھے، اور وہ استاد بھی جن کی ڈانٹ سے بچنے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا، مگر ان دنوں کی ایک بات آج بھی ویسی ہی ہے: ہمیں تب بھی اگلے دن کا انتظار رہتا تھا، اور آج بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ تب اگلے دن میں بچپن ہمارا منتظر ہوتا تھا، اور آج اگلے دن میں ہم اپنے بچپن کو تلاش کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور اب اِس یادوں کے سفر میں اگلا مرحلہ ہمارا انتظار کر رہا ہے؛ کتاب و سبق کے تذکرے کے بعد دل چاہتا ہے کہ آپ سے بچپن کے اُن دو پُرسکون اور حسین اوقات کا کچھ تفصیل سے ذکر کروں، جو اُس زمانے کی سب سے خوب صورت یادوں میں سے تھے۔ وہ دو وقت کون سے تھے ؟ اس کا جواب اگلی قسط میں، اِن شاء اللہ تعالیٰ۔
تو آئیے! کتابیں کچھ دیر کے لیے بند کرتے ہیں، بستہ ایک طرف رکھتے ہیں اور بچپن کی اگلی یاد کی طرف چلتے ہیں، جہاں کچھ ایسے یادگار لمحات ہمارا انتظار کر رہے ہیں، جنہیں وقت کی گردش نے ہم سے دور کر دیا، مگر دل میں آج بھی یادیں تازہ ہیں..............جاری
اظہارِ خیال:
سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

بچپن کا سفر [قسطِ چہارم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسطِ چہارم ]
کھیل سے کتاب تک
بچپن کی گلیوں میں شام کا اپنا ایک وقت ہوتا تھا۔ سورج ڈوبتے ڈوبتے جیسے پورے محلے کو خبر دے دیتا کہ اب دن کی آزادی اپنے آخری لمحوں میں ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک گلی میں شور تھا، کہیں گیند اچھل رہی تھی، کہیں بچے دوڑ رہے تھے، کہیں کسی کی آواز بلند ہو رہی تھی اور کہیں کھیل کے کسی فیصلے پر ایسی بحث جاری تھی جیسے دنیا کا سب سے اہم مسئلہ اسی وقت حل ہونا ہو۔ پھر اچانک مغرب کی اذان کی آواز بلند ہوتی اور ماحول کا رنگ بدلنے لگتا۔ ایک ایک کرکے بچے اپنے اپنے گھروں کی طرف جانے لگتے۔ کسی کو نماز کے لیے جانا ہوتا، کسی کو گھر پہنچ کر کپڑے بدلنے ہوتے، اور کسی کے ذہن میں پہلے ہی یہ خیال آ چکا ہوتا کہ آج کا سبق بھی یاد کرنا ہے اور کل کا کام بھی باقی ہے۔
یہی تو بچپن کی زندگی تھی؛ ایک طرف گلی کی آزادی، دوسری طرف کتابوں کی دنیا۔
مغرب سے پہلے تک ہم کھیل کے میدان کے بادشاہ ہوتے تھے، مگر مغرب کے بعد کتاب کھلتے ہی اچانک معلوم ہوتا کہ دنیا میں ایک اور حکومت بھی ہے: سبق کی حکومت! اور اس حکومت کا حکم ماننا ضروری تھا۔
مدرسے کے طلبہ کے لیے تو مغرب کے بعد کا وقت ایک الگ ہی کیفیت رکھتا تھا۔ وضو، نماز اور پھر کتابیں کھولنے کا مرحلہ۔ ابھی دل پوری طرح کھیل سے واپس نہیں آیا ہوتا تھا، جسم تھکا ہوا ہوتا، آنکھوں کے سامنے ابھی بھی وہی گلی اور دوستوں کے چہرے گھوم رہے ہوتے، مگر سامنے کتاب کھلی ہوتی اور سبق اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ منتظر ہوتا کہ اب اسے یاد کیا جائے۔
کتاب کھولتے ہی کبھی ایسا لگتا جیسے سبق آج پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ جو عبارت مدرسے میں استاد نے سمجھائی تھی، اس وقت سب کچھ بہت آسان محسوس ہوا تھا، مگر گھر آ کر وہی عبارت دیکھتے تو اچانک ہر لفظ ایک دوسرے سے مشورہ کرتا ہوا معلوم ہوتا۔ ایک سطر یاد ہوتی تو اگلی سطر بھول جاتے، اگلی یاد ہوتی تو پہلی کہیں چلی جاتی۔ پھر کتاب بند کرکے آنکھیں بند کرتے اور سبق دہرانے کی کوشش کرتے؛ اگر آدھا یاد آ گیا تو دل میں اطمینان ہوتا کہ آج تو بڑی کامیابی حاصل ہو گئی، اور اگر کہیں رک گئے تو فوراً دوبارہ کتاب کھول لی جاتی۔
کبھی سبق یاد کرتے ہوئے زبان چل رہی ہوتی اور ہاتھ سے کوئی اور کام بھی جاری ہوتا۔ کبھی کتاب سامنے، کبھی پنسل ہاتھ میں، کبھی پانی کا گلاس، کبھی کھڑکی کی طرف نظر۔ اور اگر باہر سے دوست کی آواز آ جائے تو سبق کی پوری توجہ چند لمحوں کے لیے خطرے میں پڑ جاتی۔ دل کہتا: ”بس ایک بار دیکھ آؤں کہ کون آیا ہے۔“ عقل کہتی: ”پہلے سبق یاد کر لو۔“ اور بچپن کا دل اکثر عقل سے زیادہ طاقتور ہوتا تھا۔
مدرسے کے طلبہ کی اپنی ایک دنیا تھی۔ کسی کو سبق یاد کرنا ہوتا، کسی کو اگلے دن کی عبارت تیار کرنی ہوتی، کسی کو صرف یہ فکر ہوتی کہ صبح استاد کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں اٹک نہ جائے۔ کبھی کبھی سبق کی تیاری اس وقت شروع ہوتی جب سونے کا وقت قریب آ چکا ہوتا۔ پھر کتاب سامنے، آنکھیں نیم بند اور دل میں یہ امید کہ شاید صبح تک خود ہی سب کچھ یاد ہو جائے۔ مگر سبق بھی عجیب چیز ہے، اسے صرف دیکھنے سے وہ دل میں داخل نہیں ہوتا، اسے زبان، ذہن اور صبر تینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
کبھی ایک لفظ پر رک جانا، پھر استاد کا سمجھایا ہوا طریقہ یاد کرنا، کبھی کسی مشکل عبارت کا مطلب گھر کے بڑے سے پوچھنا اور کبھی اگلے دن ساتھی سے کہنا کہ ”تم نے یہ سبق کیسے یاد کیا تھا ؟“ یہ سب بھی اسی زمانے کا حصہ تھا۔ اس وقت شاید یہ معمولی باتیں لگتی تھیں، مگر آج انہی معمولی لمحوں کو یاد کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم صرف کتاب کے صفحات پر نہیں تھی؛ وہ ان چھوٹی چھوٹی کوششوں، محنتوں، ڈانٹوں اور کامیابیوں میں بھی چھپی ہوئی تھی۔
اور دوسری طرف اسکول اور کالج کے طلبہ تھے، جن کے لیے مغرب کے بعد کی دنیا بھی کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ بستہ کھلا، کتابیں نکلیں، کاپیاں سامنے آئیں اور پھر Homework کا وہ مرحلہ شروع ہوتا جس کا خیال دن بھر اسکول میں بھی آتا تھا، مگر گھر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے بھلا دیا جاتا تھا۔ کھیلتے وقت اگر کوئی پوچھتا کہ ”ہوم ورک کر لیا ؟“ تو جواب بہت اعتماد سے آتا: ”ہاں! آج رات کر لیں گے!“ جیسے رات صرف اسی کام کے لیے بنائی گئی ہو۔
پھر رات آتی اور معلوم ہوتا کہ کام واقعی باقی ہے۔
ایک طرف ریاضی کے سوالات، دوسری طرف اردو یا ہندی کا کام، کہیں انگریزی کے جملے، کہیں سائنس کے سوالات، اور کہیں وہ نقشہ یا چارٹ جسے بنانے کے لیے اچانک بہت سے سامان کی ضرورت پڑ جاتی۔ اس وقت ایک ہی خیال آتا: ”یہ کام ہمیں پہلے کیوں یاد نہیں آیا ؟“
لیکن بچپن کی ایک خاص صلاحیت تھی کہ آخری وقت میں بھی امید نہیں ٹوٹتی تھی۔ کبھی دوست سے فون پر پوچھا،
کبھی کسی کی کاپی دیکھی،
کبھی کتاب کے آخر میں جواب تلاش کیا
اور کبھی کسی بڑے بہن بھائی سے مدد لے لی۔ اور اگر کام بہت زیادہ ہو تو پھر لکھنے کی رفتار بھی ایسی بڑھتی کہ قلم شاید خود سوچتا ہو کہ آج میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے!
کبھی ہوم ورک کرتے کرتے آنکھیں گھڑی پر پڑتیں اور حیرت ہوتی کہ اتنا وقت گزر بھی گیا ؟ ابھی تو کھیلنے گئے تھے!
یہی تو بچپن کی عجیب ترتیب تھی؛ کھیل کا وقت بہت جلدی گزرتا تھا، پڑھائی کا وقت بہت آہستہ۔ گھڑی کھیل کے وقت شاید دوڑتی تھی اور کتاب کے وقت رینگتی تھی۔ مگر اسی پڑھائی کے دوران کبھی کوئی چھوٹی سی خوشی بھی مل جاتی۔ سبق جلدی یاد ہو گیا تو دل خوش،
استاد نے اگلے دن تعریف کر دی تو سارا دن اچھا،
ہوم ورک مکمل ہو گیا تو ایسا اطمینان جیسے کوئی بڑا امتحان پاس کر لیا ہو۔ اور اگر اگلے دن استاد نے کہا ”شاباش!“ تو وہ ایک لفظ کئی دن تک دل میں محفوظ رہتا۔
ڈانٹ بھی اسی زمانے کی ایک حقیقت تھی۔ کبھی سبق یاد نہ ہونے پر،
کبھی ہوم ورک ادھورا ہونے پر،
کبھی کتاب بھولنے پر،
کبھی کلاس میں باتیں کرنے پر۔ اس وقت استاد کی ڈانٹ بہت بڑی بڑی محسوس ہوتی تھی۔ دل چاہتا تھا زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں، مگر آج انہیں واقعات کو یاد کریں تو شاید ہنسی آ جائے، چشم نم ہو جائیں، آبِ چشم بہنے کے لیے بے قرار ہو جائیں۔ اس وقت ہمیں لگتا تھا کہ استاد ہمیں کیوں نہیں سمجھتے، اور آج سمجھ آتا ہے کہ شاید وہ ہمیں ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔
مغرب کے بعد گھر کا ماحول بھی عجیب ہوتا تھا۔ ایک طرف کسی کے سبق پڑھنے کی آواز، دوسری طرف کسی کے ہوم ورک کی فکر، کہیں والدین کی باتیں، کہیں چھوٹے بچوں کا شور اور کہیں کسی کی شکایت: ”امی! یہ مجھے پڑھنے نہیں دے رہا!“ اور جواب آتا: ”دونوں خاموش ہو کر پڑھو!“
کچھ دیر خاموشی رہتی، پھر چند منٹ بعد کسی نہ کسی طرف سے دوبارہ آواز آ جاتی۔ بچپن میں پڑھائی بھی مکمل خاموشی سے کہاں ہوتی تھی ؟ کبھی کتاب پڑھتے ہوئے اچانک کوئی پرانی بات یاد آ گئی، کبھی پنسل سے میز پر کچھ بنانا شروع کر دیا، کبھی کھڑکی سے باہر دیکھا اور چند لمحوں کے لیے ذہن پھر گلی میں پہنچ گیا۔ کتاب سامنے ہوتی مگر خیال کہیں اور۔ پھر اچانک احساس ہوتا: ”ارے! سبق تو یاد کرنا تھا!“ اور دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ سبق یاد کرنے بیٹھے اور تھوڑی دیر بعد خود کو کتاب کے اوپر جھکا ہوا پایا۔ نیند بڑی خاموشی سے آتی تھی۔ نہ اجازت لیتی، نہ بتاتی کہ کب آئے گی۔ بس چند لمحوں بعد آنکھیں بھاری، سر کتاب پر اور سبق وہیں کا وہیں۔ پھر گھر سے آواز آتی: ”سو گئے ہو یا پڑھ رہے ہو ؟“ اور ہم فوراً سیدھے ہو کر کہتے: ”پڑھ رہے ہیں!“ یہ جواب اس قدر اعتماد سے دیا جاتا کہ جیسے ابھی ابھی نیند کو شکست دے کر واپس آئے ہوں۔
مگر آج جب اس زمانے کو یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ڈانٹ،
وہ سبق،
وہ ہوم ورک،
وہ کاپیاں،
وہ کتابیں اور
وہ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی زندگی کی خوب صورت یادوں کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس وقت ہمیں صرف یہ دکھائی دیتا تھا کہ کھیل ختم ہو گیا اور اب پڑھنا پڑے گا؛ آج معلوم ہوتا ہے کہ انہی دنوں میں کھیل کے ساتھ ذمہ داری بھی آہستہ آہستہ ہمارے اندر جگہ بنا رہی تھی۔ ہم گلیوں سے کتاب تک آنا سیکھ رہے تھے۔
ہم خواہش اور ذمہ داری کے درمیان توازن سیکھ رہے تھے۔
ہم یہ سیکھ رہے تھے کہ ہر وقت کھیل نہیں ہوتا، کچھ وقت محنت کا بھی ہوتا ہے؛ اور شاید یہی بچپن کی تربیت کا ایک خوب صورت حصہ تھا کہ انسان کو آزادی بھی ملتی تھی اور حدود بھی معلوم ہوتی تھیں۔
رات بڑھتی جاتی، سبق مکمل ہوتا، ہوم ورک ختم ہوتا، کتابیں بند ہوتیں، بستہ تیار ہوتا اور آخرکار وہی تھکا ہوا بچہ بستر پر جا گرتا۔ مگر سونے سے پہلے بھی ایک آخری خیال ضرور ہوتا: ”کل پھر پڑھائی ہوگی، مدرسہ/اسکول جائیں گے، اساتذہ آئیں گے، ساتھیوں کے ملاقات ہوگی، گھر آئیں گے، کھانا کھائیں گے، شام کو پھر دوستوں کے ساتھ کھیلیں گے، اور یہی امید اگلے دن کو خوب صورت بنا دیتی تھی۔
اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کتابیں بھی ایک دن یاد آئیں گی، وہ کاپیاں بھی جنہیں ہم بوجھ سمجھتے تھے، وہ بستہ بھی جسے اٹھاتے ہوئے کندھے تھک جاتے تھے، اور وہ استاد بھی جن کی ڈانٹ سے بچنے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا، مگر ان دنوں کی ایک بات آج بھی ویسی ہی ہے: ہمیں تب بھی اگلے دن کا انتظار رہتا تھا، اور آج بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ تب اگلے دن میں بچپن ہمارا منتظر ہوتا تھا، اور آج اگلے دن میں ہم اپنے بچپن کو تلاش کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور اب اِس یادوں کے سفر میں اگلا مرحلہ ہمارا انتظار کر رہا ہے؛ کتاب و سبق کے تذکرے کے بعد دل چاہتا ہے کہ آپ سے بچپن کے اُن دو پُرسکون اور حسین اوقات کا کچھ تفصیل سے ذکر کروں، جو اُس زمانے کی سب سے خوب صورت یادوں میں سے تھے۔ وہ دو وقت کون سے تھے ؟ اس کا جواب اگلی قسط میں، اِن شاء اللہ تعالیٰ۔
تو آئیے! کتابیں کچھ دیر کے لیے بند کرتے ہیں، بستہ ایک طرف رکھتے ہیں اور بچپن کی اگلی یاد کی طرف چلتے ہیں، جہاں کچھ ایسے یادگار لمحات ہمارا انتظار کر رہے ہیں، جنہیں وقت کی گردش نے ہم سے دور کر دیا، مگر دل میں آج بھی یادیں تازہ ہیں..............جاری
اظہارِ خیال:
سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
27
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

عالمِ دین کے بغیر خاندان

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢