صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
میلادِ مصطفیٰ ﷺ۔ ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب
تحقیق و تعاقب

میلادِ مصطفیٰ ﷺ۔ ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

میلادِ مصطفیٰ ﷺ: ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب
حسن تبریز مدنی کی نادانی کو دوسرا جواب
میلادِ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم پر گفتگو کرتے ہوئے عموماً چند مخصوص آیات و احادیث پیش کی جاتی ہیں جس سے چند چندہ خور بدبخت بصورتِ علماء جہلاء بول پڑتے ہیں کہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ جشنِ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت ہے۔ کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ قرآنِ مجید سمجھنے والے آ گئے ؟ جیسے نام نہاد مفتی حسن تبریز مدنی بول پڑا۔ اس کے چہرے اور ہیئت سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت اور تذکرۂ ولادت سے کس قدر تکلیف ہو رہی ہے۔ اس کو یہ خادمِ علمائے اہل سنت مختصر سا جواب دیتا ہے کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ذکرِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام، تعظیمِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، تذکیرِ ایام، شکر، اجتماع علی الخیر اور سیرت کے بیان کے متعدد اصول موجود ہیں۔
اس لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میلاد کا اصل مقصد رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، شمائل، سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمانہ، معجزات اور رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عطا کردہ ہدایت کا ذکر کر کے دلوں میں محبت و تعظیم پیدا کرنا ہے۔
قرآنِ مجید میں محبوب بندوں کا ذکر: اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کے واقعات قرآنِ مجید میں بار بار بیان فرمائے۔ ارشاد ہے: وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ [ہود-١٢٠] اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہا را دل ٹھہرائیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کو پند و نصیحت۔
یہ آیت نہایت بنیادی حقیقت بیان کرتی ہے:
اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے حالات بیان فرماتا ہے، اور ان کے واقعات سنانے کا مقصد دلوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اب اگر انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات کا بیان قرآنِ کریم کا طریقہ ہے، تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت، سیرت اور شمائل کا بیان کس طرح محض ایک غیر ضروری چیز قرار دیا جا سکتا ہے ؟ بلکہ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔
ہاں! ہاں! سمجھ رہا ہوں کہ بدبخت دشمنانِ دین جب پڑھیں گے تو بول پڑیں گے کہ ہم مطالبہ کر رہے ہیں عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دلائل کا اور جلوس کا اور بیان کیا کیا جب رہا ہے ؟ تو جواباً کہوں گا کہ یہاں عالم کو جاہل کے منزلے میں بھی نہیں اتارا جا رہا ہے بلکہ جاہل کو جاہل سمجھ کر نئے سرے سے سمجھانے کی کوشش ہے، اس لیے آگے پڑھتے اور بڑھتے رہیں اور رب تعالیٰ کی فرمان ”وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ“ کا دامن تھام لیں، پھر جا کر ہدایت ملے گی۔
قرآنِ حکیم نے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات خود بیان فرمائے ہیں:
ذرا غور کیجیے!
قرآنِ حکیم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے حالات، رضاعت، بعثت، ہجرت، غزوات، معراج، اخلاق، ازواج، اہلِ بیت، صحابہ، اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مختلف اوصاف کا ذکر فرمایا۔ مثلاً ولادت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ [المائدۃ] لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [التوبۃ-١٢٨] اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت و حالات کو امت کے سامنے بیان کیا تاکہ امت اپنے نبی کو پہچانے، حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قدر جانے اور سید کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تعلق مضبوط کرے۔ پس ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بذاتِ خود ایک قرآنی اسلوب ہے۔
کیا قرآن نے نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے اوصاف بیان نہیں کیے ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيْمٍ [القلم-٤] اور بیشک تمہاری خوبیاں بڑی شان کی ہے۔
یہ ایک مکمل جملہ ہے، مگر اس میں پوری امت کے لیے ایک عظیم سبق ہے:
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق بیان کرو، انہیں پہچانو، ان سے محبت کرو اور ان کو اپنی زندگی میں اختیار کرو۔
میلاد النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محافل میں اگر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق، رحم، عفو، سخاوت، عدل اور حسنِ معاشرت کا بیان ہوتا ہے تو یہ دراصل قرآنی موضوعِ سیرت ہی کو عام کرنا ہے۔

محبت کا ایک نہایت واضح قرآنی معیار

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَلنَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [الاحزاب-٦]
یہ آیت حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کی اعلیٰ نوعیت واضح کرتی ہے۔
مومن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تعلق محض ایک تاریخی شخصیت سے نہیں، بلکہ آقا کریم سلطانِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں۔ تو جس نبی کو قرآن مومن کی جان سے زیادہ قریب اور حق دار قرار دے، اس کی ولادت اور سیرت کا ذکر محبت و تعظیم کے ساتھ کرنا کوئی معمولی معاملہ نہیں۔
ایک اور عظیم آیت: رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا - لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا [الفتح-٨ و ٩] بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔ تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
یہاں دو الفاظ خاص طور پر قابلِ غور ہیں:
”تُعَزِّرُوْهُ“ اور ”تُوَقِّرُوْهُ“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نصرت اور تعظیم و توقیر۔ میلاد شریف کا ایک اہم مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت پیدا ہو، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل بیان ہوں اور نئی نسل کو بھی بتایا جائے کہ
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ
ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دلوں کو فائدہ ہوتا ہے
حبیبِ خدا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ [صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ]
جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ جب اللہ عز و جل کے ذکر سے دل زندہ ہوتا ہے تو حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمانہ اور شمائلِ حسنہ کا بیان بھی ایمان و محبت کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ البتہ یہاں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے کہ ذکرِ رسول ﷺ، ذکرِ الٰہی کا بدل نہیں؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وہ ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور عبادت سکھایا، پس
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب ﷺ
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح صحابہ سے ثابت ہے۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اشعار عرض کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پسند فرماتے، صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین خوش ہوتے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوصاف و فضائل بیان کرنا اور آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح کرنا صحابۂ کرام کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ لہٰذا نعت، سیرت اور فضائلِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بیان کوئی ایسا اجنبی طریقہ نہیں جس کی کوئی اصل نہ ہو۔ یہیں سے ثابت ہوا کہ ”فَلْیَفَرَحُوْا“ سے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرنا ہم نے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے سیکھا ہے۔
مجلسِ خیر کی فضیلت
دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ [صحیح مسلم] جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر اللہ کی کتاب پڑھتے اور آپس میں اس کا درس کرتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ یہ حدیث اجتماع علی الخیر کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ لہٰذا جب کسی اجتماع میں قرآنِ کریم، درود شریف، سیرت، فضائلِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور نصیحت بیان کی جائے تو اس میں موجود ہر عمل کا حکم اس کی اپنی شرعی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے گا۔

جلوس:

جلوس کے بھی بے شمار دلائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ صرف یہ کہنا کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جلوس نہیں نکالا تو تم کیوں ؟ کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ کو سمجھ رہے ہو ؟ تو جواباً کہوں گا کہ ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ سمجھنے کا دعویٰ نہ کبھی کرتے ہیں نہ کریں گے۔ زیادہ سمجھنے والا بڑا ہوتا ہے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بڑے ہیں اسی لیے وہی سمجھتے ہیں۔ ان کی مبارک و مقدس ہستیاں تو ہمارے لیے نجومِ ہدایت ہیں۔ ہاں! کوئی چیز کرنا جو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نہیں فرمایا گیا حرام و نا جائز و مکروہ ہے ؟ ایسے تو تمہارا انسٹاگرام پر آ کر بکواس کرنا سب سے پہلے حرام، مائیک کے ذریعے غلط عقائد بتانا بدرجۂ اولیٰ حرام، دارالعلوم دیوبند و ندوہ کو بم سے اڑا ڈالو۔
جلوس بھی ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے ثابت ہے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عمل سے بھی۔ کیسے ؟ تو ایک جواب: جب دو جہاں کے مالک و مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے تو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر خوشیاں منائی کی نہیں ؟ بلا شک و شبہ منائیں۔ صحابیات نے اشعار پڑھے یا نہیں ؟ بلا شک و شبہ پڑھے۔ گلی گلی میں صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین گھوم گھوم کر اللہ تعالیٰ کے فرمانِ عالیشان ”فَلْیَفْرَحُوْا“ پر عمل کر رہے ہیں، خوشیاں منا رہے ہیں، مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے زمین متعین کر رہے ہیں، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہاں تشریف فرما ہوں گے آپس میں مشورے کر رہے ہیں۔ اور ہم عاشقانِ صحابہ کیا کرتے ہیں ؟ ہر جگہ آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں، بزرگانِ دین کی اشعار پڑھتے ہیں، لوگوں کو سیرتِ طیبہ و فرامینِ مبارکہ سناتے ہیں، کیسے یہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے ثابت نہیں ہوتا ؟

سورۂ والضحیٰ کی آیتِ کریمہ ١١؍سے میلاد شریف کا صحابۂ کرام سے ثواب

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَخَطِ نِعْمَةِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ تعالیٰ علیہ وسلم وَمَا ذَاكَ قَالَ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا قَالَ فَلَمْ نَرُدَّ السَّلَامَ عَلَى أَحَدٍ يَوْمَئِذٍ [مسند امامِ اعظم، کتاب الصلوٰۃ، ص٢٣٧] حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ سر زمینِ حبشہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حالتِ نماز میں سلام کیا، لیکن حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کے سلام کا جواب نہ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں نعمتِ عظمیٰ کے غضب و ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا: کیا بات ہے ؟ عرض کیا: میں نے سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا تھا، لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے جواب نہیں دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں آدمی ایک خاص مشغولیت میں ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اس دن کے بعد ہم نے حالتِ نماز میں کسی کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
حدیثِ مبارکہ میں ”نعمۃ اللہ“ سے مراد کون ہیں ؟ بلا شک و شبہ آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم ہیں۔ جب صحابۂ کرام نے نعمت اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس انداز میں یاد فرمایا اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نفی نہیں فرمائی معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقیناً نعمت اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
و اما بنعمۃ ربک فحدث
لہٰذا اس آیتِ کریمہ میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہی ذکر کرنے کا حکم ملا ہے۔ پس ہم نے ذکر کرنا کس سے سیکھا ؟ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے۔

دن متعین کرنا:

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُمَيْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ قَالَ إِنَّهُمْ طَعِمُوْا قَالَ وَإِنْ كَانُوا قَدْ طَعِمُوا [مسند امامِ اعظم، کتاب الصوم] حضرت حمید بن عبدالرحمٰن حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اپنی قوم کو حکم دیں کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں۔ انہوں نے عرض کیا: وہ تو کھانا کھا چکے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ کھانا کھا چکے ہوں۔
جملہ ”وَإِنْ كَانُوا قَدْ طَعِمُوْا“ اس دن کی تعظیم نہیں تو کیا ہے ؟ کسی دن کو مخصوص کرکے اس کی تعظیم میں ایسے جملے ارشاد فرمانا یہ اشارہ ہے کہ مخصوص دن میں بہت سی فضیلتیں ہوتی ہیں، جیسے شب قدر وغیرہ۔ اس دن کی تعظیم کیوں ؟ حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یاد میں تو افضل الانبیاء و سید الانبیاء و امام الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے لیے ہم کوئی دن کیوں نہ خاص کریں ؟ یہ بھی پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معمولات سے ثابت ہے۔

ایک اور مقصد: نئی نسل کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عاشق بنانا۔

آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل کے سامنے دنیا کی مختلف شخصیات، کھلاڑی، فن کار اور سوشل میڈیا کے کردار تو مسلسل موجود ہیں، لیکن ان کے سامنے اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی سیرتِ طیبہ کا تذکرہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں میلاد کی محفل اگر قرآنِ مجید، سیرت، اخلاق، درود، نعت اور سنت کا ذریعہ بن جائے تو وہ ایک نہایت مؤثر تربیتی وسیلہ بن سکتی ہے۔ سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً [صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء] میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ پس آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیمات کو آگے پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے۔

میلاد کا اصل حسن

میلاد کا حسن صرف یہ نہیں کہ ایک دن چراغاں ہو جائے، جھنڈے لگ جائیں یا محفل سج جائے۔ بلکہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ: محفل میں سیرت سنیں، دل میں محبت پیدا ہو، محبت سے اتباع آئے، اتباع سے کردار بدلے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [آل عمران-٣١]
میلادِ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کو محض ایک سالانہ رسم سمجھنا اس کے حقیقی مقصد کو محدود کرنا ہے۔ قرآنِ حکیم نے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حالات بیان کیے، حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کیے، آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ حق دار قرار دیا۔ احادیث نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح، نعت، فضائل کے بیان اور خیر کی مجالس کی فضیلت واضح کی۔ لہٰذا میلاد کا اصل پیغام یہ ہے: اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہچانو، ان کی سیرت سنو، ان کی محبت دل میں بساؤ، ان کی تعظیم کرو اور ان کی سنت کو زندگی کا دستور بناؤ۔ اگر میلاد کی محفل کے بعد ہماری زبان پر درود، آنکھوں میں محبت، کردار میں سنت اور زندگی میں اتباعِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیدا ہو جائے تو یہی اس تذکرے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے تو کتنے ہی دشمن پریشان کریں مگر ہم تو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
مثلِ فارس زلزلے ہو نجد میں
ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے
از قلم: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف

میلادِ مصطفیٰ ﷺ۔ ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

میلادِ مصطفیٰ ﷺ: ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب
حسن تبریز مدنی کی نادانی کو دوسرا جواب
میلادِ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم پر گفتگو کرتے ہوئے عموماً چند مخصوص آیات و احادیث پیش کی جاتی ہیں جس سے چند چندہ خور بدبخت بصورتِ علماء جہلاء بول پڑتے ہیں کہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ جشنِ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت ہے۔ کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ قرآنِ مجید سمجھنے والے آ گئے ؟ جیسے نام نہاد مفتی حسن تبریز مدنی بول پڑا۔ اس کے چہرے اور ہیئت سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت اور تذکرۂ ولادت سے کس قدر تکلیف ہو رہی ہے۔ اس کو یہ خادمِ علمائے اہل سنت مختصر سا جواب دیتا ہے کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ذکرِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام، تعظیمِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، تذکیرِ ایام، شکر، اجتماع علی الخیر اور سیرت کے بیان کے متعدد اصول موجود ہیں۔
اس لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میلاد کا اصل مقصد رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، شمائل، سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمانہ، معجزات اور رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عطا کردہ ہدایت کا ذکر کر کے دلوں میں محبت و تعظیم پیدا کرنا ہے۔
قرآنِ مجید میں محبوب بندوں کا ذکر: اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کے واقعات قرآنِ مجید میں بار بار بیان فرمائے۔ ارشاد ہے: وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ [ہود-١٢٠] اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہا را دل ٹھہرائیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کو پند و نصیحت۔
یہ آیت نہایت بنیادی حقیقت بیان کرتی ہے:
اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے حالات بیان فرماتا ہے، اور ان کے واقعات سنانے کا مقصد دلوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اب اگر انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات کا بیان قرآنِ کریم کا طریقہ ہے، تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت، سیرت اور شمائل کا بیان کس طرح محض ایک غیر ضروری چیز قرار دیا جا سکتا ہے ؟ بلکہ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔
ہاں! ہاں! سمجھ رہا ہوں کہ بدبخت دشمنانِ دین جب پڑھیں گے تو بول پڑیں گے کہ ہم مطالبہ کر رہے ہیں عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دلائل کا اور جلوس کا اور بیان کیا کیا جب رہا ہے ؟ تو جواباً کہوں گا کہ یہاں عالم کو جاہل کے منزلے میں بھی نہیں اتارا جا رہا ہے بلکہ جاہل کو جاہل سمجھ کر نئے سرے سے سمجھانے کی کوشش ہے، اس لیے آگے پڑھتے اور بڑھتے رہیں اور رب تعالیٰ کی فرمان ”وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ“ کا دامن تھام لیں، پھر جا کر ہدایت ملے گی۔
قرآنِ حکیم نے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات خود بیان فرمائے ہیں:
ذرا غور کیجیے!
قرآنِ حکیم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے حالات، رضاعت، بعثت، ہجرت، غزوات، معراج، اخلاق، ازواج، اہلِ بیت، صحابہ، اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مختلف اوصاف کا ذکر فرمایا۔ مثلاً ولادت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ [المائدۃ] لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [التوبۃ-١٢٨] اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت و حالات کو امت کے سامنے بیان کیا تاکہ امت اپنے نبی کو پہچانے، حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قدر جانے اور سید کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تعلق مضبوط کرے۔ پس ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بذاتِ خود ایک قرآنی اسلوب ہے۔
کیا قرآن نے نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے اوصاف بیان نہیں کیے ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيْمٍ [القلم-٤] اور بیشک تمہاری خوبیاں بڑی شان کی ہے۔
یہ ایک مکمل جملہ ہے، مگر اس میں پوری امت کے لیے ایک عظیم سبق ہے:
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق بیان کرو، انہیں پہچانو، ان سے محبت کرو اور ان کو اپنی زندگی میں اختیار کرو۔
میلاد النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محافل میں اگر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق، رحم، عفو، سخاوت، عدل اور حسنِ معاشرت کا بیان ہوتا ہے تو یہ دراصل قرآنی موضوعِ سیرت ہی کو عام کرنا ہے۔

محبت کا ایک نہایت واضح قرآنی معیار

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَلنَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [الاحزاب-٦]
یہ آیت حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کی اعلیٰ نوعیت واضح کرتی ہے۔
مومن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تعلق محض ایک تاریخی شخصیت سے نہیں، بلکہ آقا کریم سلطانِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں۔ تو جس نبی کو قرآن مومن کی جان سے زیادہ قریب اور حق دار قرار دے، اس کی ولادت اور سیرت کا ذکر محبت و تعظیم کے ساتھ کرنا کوئی معمولی معاملہ نہیں۔
ایک اور عظیم آیت: رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا - لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا [الفتح-٨ و ٩] بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔ تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔
یہاں دو الفاظ خاص طور پر قابلِ غور ہیں:
”تُعَزِّرُوْهُ“ اور ”تُوَقِّرُوْهُ“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نصرت اور تعظیم و توقیر۔ میلاد شریف کا ایک اہم مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت پیدا ہو، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل بیان ہوں اور نئی نسل کو بھی بتایا جائے کہ
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ
ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دلوں کو فائدہ ہوتا ہے
حبیبِ خدا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ [صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ]
جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ جب اللہ عز و جل کے ذکر سے دل زندہ ہوتا ہے تو حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمانہ اور شمائلِ حسنہ کا بیان بھی ایمان و محبت کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ البتہ یہاں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے کہ ذکرِ رسول ﷺ، ذکرِ الٰہی کا بدل نہیں؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وہ ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور عبادت سکھایا، پس
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب ﷺ
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح صحابہ سے ثابت ہے۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اشعار عرض کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پسند فرماتے، صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین خوش ہوتے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوصاف و فضائل بیان کرنا اور آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح کرنا صحابۂ کرام کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ لہٰذا نعت، سیرت اور فضائلِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بیان کوئی ایسا اجنبی طریقہ نہیں جس کی کوئی اصل نہ ہو۔ یہیں سے ثابت ہوا کہ ”فَلْیَفَرَحُوْا“ سے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرنا ہم نے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے سیکھا ہے۔
مجلسِ خیر کی فضیلت
دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ [صحیح مسلم] جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر اللہ کی کتاب پڑھتے اور آپس میں اس کا درس کرتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ یہ حدیث اجتماع علی الخیر کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ لہٰذا جب کسی اجتماع میں قرآنِ کریم، درود شریف، سیرت، فضائلِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور نصیحت بیان کی جائے تو اس میں موجود ہر عمل کا حکم اس کی اپنی شرعی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے گا۔

جلوس:

جلوس کے بھی بے شمار دلائل موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ صرف یہ کہنا کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جلوس نہیں نکالا تو تم کیوں ؟ کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ کو سمجھ رہے ہو ؟ تو جواباً کہوں گا کہ ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ سمجھنے کا دعویٰ نہ کبھی کرتے ہیں نہ کریں گے۔ زیادہ سمجھنے والا بڑا ہوتا ہے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بڑے ہیں اسی لیے وہی سمجھتے ہیں۔ ان کی مبارک و مقدس ہستیاں تو ہمارے لیے نجومِ ہدایت ہیں۔ ہاں! کوئی چیز کرنا جو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نہیں فرمایا گیا حرام و نا جائز و مکروہ ہے ؟ ایسے تو تمہارا انسٹاگرام پر آ کر بکواس کرنا سب سے پہلے حرام، مائیک کے ذریعے غلط عقائد بتانا بدرجۂ اولیٰ حرام، دارالعلوم دیوبند و ندوہ کو بم سے اڑا ڈالو۔
جلوس بھی ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے ثابت ہے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عمل سے بھی۔ کیسے ؟ تو ایک جواب: جب دو جہاں کے مالک و مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے تو صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر خوشیاں منائی کی نہیں ؟ بلا شک و شبہ منائیں۔ صحابیات نے اشعار پڑھے یا نہیں ؟ بلا شک و شبہ پڑھے۔ گلی گلی میں صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین گھوم گھوم کر اللہ تعالیٰ کے فرمانِ عالیشان ”فَلْیَفْرَحُوْا“ پر عمل کر رہے ہیں، خوشیاں منا رہے ہیں، مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے زمین متعین کر رہے ہیں، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہاں تشریف فرما ہوں گے آپس میں مشورے کر رہے ہیں۔ اور ہم عاشقانِ صحابہ کیا کرتے ہیں ؟ ہر جگہ آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں، بزرگانِ دین کی اشعار پڑھتے ہیں، لوگوں کو سیرتِ طیبہ و فرامینِ مبارکہ سناتے ہیں، کیسے یہ ”فَلْیَفْرَحُوْا“ سے ثابت نہیں ہوتا ؟

سورۂ والضحیٰ کی آیتِ کریمہ ١١؍سے میلاد شریف کا صحابۂ کرام سے ثواب

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَخَطِ نِعْمَةِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ تعالیٰ علیہ وسلم وَمَا ذَاكَ قَالَ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا قَالَ فَلَمْ نَرُدَّ السَّلَامَ عَلَى أَحَدٍ يَوْمَئِذٍ [مسند امامِ اعظم، کتاب الصلوٰۃ، ص٢٣٧] حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ سر زمینِ حبشہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حالتِ نماز میں سلام کیا، لیکن حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کے سلام کا جواب نہ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں نعمتِ عظمیٰ کے غضب و ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا: کیا بات ہے ؟ عرض کیا: میں نے سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا تھا، لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے جواب نہیں دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں آدمی ایک خاص مشغولیت میں ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اس دن کے بعد ہم نے حالتِ نماز میں کسی کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
حدیثِ مبارکہ میں ”نعمۃ اللہ“ سے مراد کون ہیں ؟ بلا شک و شبہ آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم ہیں۔ جب صحابۂ کرام نے نعمت اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس انداز میں یاد فرمایا اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نفی نہیں فرمائی معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقیناً نعمت اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
و اما بنعمۃ ربک فحدث
لہٰذا اس آیتِ کریمہ میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہی ذکر کرنے کا حکم ملا ہے۔ پس ہم نے ذکر کرنا کس سے سیکھا ؟ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے۔

دن متعین کرنا:

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُمَيْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ قَالَ إِنَّهُمْ طَعِمُوْا قَالَ وَإِنْ كَانُوا قَدْ طَعِمُوا [مسند امامِ اعظم، کتاب الصوم] حضرت حمید بن عبدالرحمٰن حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اپنی قوم کو حکم دیں کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں۔ انہوں نے عرض کیا: وہ تو کھانا کھا چکے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ کھانا کھا چکے ہوں۔
جملہ ”وَإِنْ كَانُوا قَدْ طَعِمُوْا“ اس دن کی تعظیم نہیں تو کیا ہے ؟ کسی دن کو مخصوص کرکے اس کی تعظیم میں ایسے جملے ارشاد فرمانا یہ اشارہ ہے کہ مخصوص دن میں بہت سی فضیلتیں ہوتی ہیں، جیسے شب قدر وغیرہ۔ اس دن کی تعظیم کیوں ؟ حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یاد میں تو افضل الانبیاء و سید الانبیاء و امام الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے لیے ہم کوئی دن کیوں نہ خاص کریں ؟ یہ بھی پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معمولات سے ثابت ہے۔

ایک اور مقصد: نئی نسل کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عاشق بنانا۔

آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل کے سامنے دنیا کی مختلف شخصیات، کھلاڑی، فن کار اور سوشل میڈیا کے کردار تو مسلسل موجود ہیں، لیکن ان کے سامنے اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی سیرتِ طیبہ کا تذکرہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں میلاد کی محفل اگر قرآنِ مجید، سیرت، اخلاق، درود، نعت اور سنت کا ذریعہ بن جائے تو وہ ایک نہایت مؤثر تربیتی وسیلہ بن سکتی ہے۔ سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً [صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء] میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ پس آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیمات کو آگے پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے۔

میلاد کا اصل حسن

میلاد کا حسن صرف یہ نہیں کہ ایک دن چراغاں ہو جائے، جھنڈے لگ جائیں یا محفل سج جائے۔ بلکہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ: محفل میں سیرت سنیں، دل میں محبت پیدا ہو، محبت سے اتباع آئے، اتباع سے کردار بدلے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [آل عمران-٣١]
میلادِ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کو محض ایک سالانہ رسم سمجھنا اس کے حقیقی مقصد کو محدود کرنا ہے۔ قرآنِ حکیم نے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حالات بیان کیے، حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کیے، آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ حق دار قرار دیا۔ احادیث نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح، نعت، فضائل کے بیان اور خیر کی مجالس کی فضیلت واضح کی۔ لہٰذا میلاد کا اصل پیغام یہ ہے: اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہچانو، ان کی سیرت سنو، ان کی محبت دل میں بساؤ، ان کی تعظیم کرو اور ان کی سنت کو زندگی کا دستور بناؤ۔ اگر میلاد کی محفل کے بعد ہماری زبان پر درود، آنکھوں میں محبت، کردار میں سنت اور زندگی میں اتباعِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیدا ہو جائے تو یہی اس تذکرے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے تو کتنے ہی دشمن پریشان کریں مگر ہم تو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
مثلِ فارس زلزلے ہو نجد میں
ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے
از قلم: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
30
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط چہارم)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢