صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
تصوف

نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
اسلام میں اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعلق مع اللہ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے، ان میں صحبتِ صالحین، بیعتِ ارشاد، تربیتِ شیخ اور روحانی خلافت کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہی وہ مبارک سلسلہ ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم صرف علمی صورت میں نہیں بلکہ عملی اور روحانی رنگ میں بھی امت تک منتقل ہوتی رہی۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس طرح فقہ، حدیث اور تفسیر میں سند اور تسلسل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح سلوک و احسان کی راہ بھی مشائخِ کرام کی تربیت اور مسلسل روحانی نسبت کے ذریعے محفوظ رہی ہے۔ جب بھی اس تسلسل کو نظر انداز کیا گیا، افراط و تفریط، بے اعتدالی اور ذوقِ شریعت سے دوری نے جنم لیا۔
زیرِ نظر رسالہ نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ درحقیقت امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، فقیہِ اعظم امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمہ اللہ کے تین نہایت اہم فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ ان فتاویٰ میں بیعت، خلافت، سجادہ نشینی، شیخ و مرید کے تعلق، تعددِ بیعت اور خلافتِ عامہ و خاصہ جیسے مسائل کو نہایت محققانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان مباحث کی اہمیت اس اعتبار سے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ محض نظری گفتگو نہیں بلکہ عملی زندگی میں پیش آنے والے سوالات کے جوابات ہیں، جن میں قرآن و سنت، آثارِ سلف، اقوالِ فقہاء و مشائخ سے استدلال کیا گیا ہے۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کی تخریج و تحقیق نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا فرحان رضا قادری ازہری صاحب حفظہ اللہ کی ایک قابلِ قدر علمی خدمت ہے۔ ان کی اس کاوش کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بیعت و خلافت کے تقریباً تمام بنیادی مسائل سے ایک ہی رسالے میں آگاہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا گیا مقدمہ اس موضوع کے اہم اشکالات کو آسان اور عام فہم انداز میں حل کرتا ہے۔ بیعت کی اقسام، پیرِ کامل کی شرائط، بیعت کا شرعی حکم، بچوں کی بیعت، بذریعۂ خط یا قاصد بیعت، اسپیکر کے ذریعے بیعت، تعددِ بیعت، پیر سے فیض حاصل کرنے کے آداب اور بیعت توڑنے کے احکام جیسے مسائل کو اختصار کے باوجود جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ رسالہ عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بن گیا ہے۔
اس رسالے کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں بیعت اور خلافت کو محض رسوم و روایات یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں قرار دیا گیا، بلکہ انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں شریعت کے تابع ایک دینی و روحانی نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ہر اس تصور کی تردید فرمائی ہے جو شریعت سے ہٹ کر تصوف یا بیعت کی کوئی تعبیر پیش کرتا ہو، اور ہر اس اعتراض کا مدلل جواب دیا ہے جو مرشد، بیعت یا روحانی سلاسل کے خلاف کیا جاتا رہا ہے۔
چنانچہ اس رسالے کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اسلام میں بیعت کا مقصد شخصیت پرستی پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت تک پہنچانا ہے، جبکہ خلافت کا مفہوم اقتدار یا وراثت نہیں بلکہ دینی امانت، اصلاحِ امت اور سلسلۂ تربیت کا تسلسل ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر اس پورے رسالے کی علمی عمارت قائم ہے، اور اسی کی وضاحت آئندہ سطور میں سامنے آتی ہے۔
اسلام کا تصورِ بیعت درحقیقت اطاعت، اصلاح اور تزکیۂ نفس کا وہ جامع نظام ہے جس کی بنیاد خود قرآنِ مجید اور سنتِ نبویہ نے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے سب سے پہلے اس بنیادی غلط فہمی کا ازالہ فرمایا کہ بیعت محض ایک رسم یا کسی سلسلے میں داخل ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مومن کے روحانی سفر کا نقطۂ آغاز اور سلوک کی منظم تربیت کا ذریعہ ہے۔ جس طرح شریعت کے احکام کو سمجھنے کے لیے امت ہمیشہ فقہاء اور ائمۂ مجتہدین کی محتاج رہی ہے، اسی طرح باطنی اصلاح اور احسان کے دقائق بھی اہلِ معرفت اور مشائخِ طریقت کی صحبت ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔
اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ نہایت بلیغ انداز میں فرماتے ہیں کہ اگر ائمۂ مجتہدین قرآن و حدیث کے مجمل احکام کی تشریح نہ فرماتے تو علماء بھی ان کے معانی تک رسائی حاصل نہ کر سکتے، اور اگر بعد کے علماء ان تشریحات کی توضیح نہ کرتے تو عام اہلِ علم بھی ان سے استفادہ نہ کر پاتے۔ پھر عوام الناس کے لیے یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ براہِ راست قرآن و حدیث سے ہر مسئلہ اخذ کر لیں؟ اسی لیے آپ یہ فیصلہ کن اصول بیان فرماتے ہیں:
اس لیے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہلِ علم و دین کا دامن تھامیں، اور وہ تصانیفِ علمائے ماہرین کا، اور وہ مشائخِ فتویٰ کا، اور وہ ائمۂ ہدیٰ کا، اور وہ قرآن و حدیث کا۔ جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے، جس نے دامنِ ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل فرمائی گئی ہے:
لو قدر أن أهل كل دور تعدوا من فوقهم إلى الدور الذي قبله لانقطعت صلتهم بالشارع، ولم يهتدوا لإيضاح مشكل ولا تفصيل مجمل...الخ
یعنی اگر ہر زمانے کے لوگ اپنے متصل علماء کو چھوڑ کر براہِ راست پہلے زمانے کی طرف رجوع کریں تو ان کا تعلق شارع علیہ السلام سے منقطع ہو جائے گا، نہ وہ مشکل کو واضح کر سکیں گے نہ مجمل احکام کی تفصیل تک پہنچ سکیں گے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۷، ۲۸)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس اصول کو صرف فقہ تک محدود نہیں رکھتے بلکہ فرماتے ہیں کہ جب شریعت کے ظاہری احکام میں اس درجہ رہنمائی کی ضرورت ہے تو سلوک، معرفت اور تزکیۂ نفس جیسے باریک اور دقیق علوم میں مرشدِ کامل کی حاجت بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں نفس اور شیطان کے دھوکے ہر قدم پر موجود ہیں، اس لیے بغیر رہبر کے اس سفر پر اعتماد کرنا عقل اور شریعت دونوں کے خلاف ہے۔
اسی بنا پر آپ مشائخِ امت کا متفقہ موقف نقل کرتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص علم، زہد اور عبادت میں کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، اگر وہ منازلِ احسان اور مشاہدۂ حقیقت کا طالب ہے تو اسے کسی کامل شیخ کی صحبت اختیار کرنا ہوگی۔ امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فعُلِمَ من جميع ما قررناه وجوب اتخاذ الشيخ لكل عالم طلب الوصول إلى شهود عين الشريعة الكبرى...الخ
یعنی ہماری پوری گفتگو سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہر اس عالم کے لیے جو حقیقتِ شریعت کے مشاہدے کا طالب ہو، کسی شیخ کو اختیار کرنا ضروری ہے، اگرچہ اس کے معاصرین اس کے علم، زہد اور تقویٰ پر متفق ہوں۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۹، ۳۰)
البتہ رسالہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ بیعت کا دروازہ ہر شخص کے لیے نہیں کھولا جا سکتا۔ مرشد وہی بن سکتا ہے جو صحیح العقیدہ سنی ہو، شریعت کا پابند ہو، کسی مستند سلسلۂ طریقت سے متصل ہو، فسقِ علانیہ سے محفوظ ہو اور اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروری دینی رہنمائی کتاب و سنت سے اخذ کر سکے۔ اس طرح رسالہ ان تمام خود ساختہ پیروں اور مدعیانِ تصوف کی نفی کرتا ہے جو نہ علم رکھتے ہیں، نہ عمل، اور نہ کسی معتبر روحانی سند سے وابستہ ہیں۔
اسی کے ساتھ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اصل مقصود ذاتِ پیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
یعنی اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
اس آیت کی روشنی میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کا سب سے بڑا وسیلہ رسول اللہ ﷺ ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے فیوض و برکات تک پہنچنے میں مشائخِ کاملین واسطہ بنتے ہیں۔ اس لیے بیعت کا تعلق کسی نئی شریعت یا مستقل اطاعت سے نہیں بلکہ اسی سلسلۂ ہدایت سے وابستگی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے شروع ہو کر ہر دور کے صالحین کے ذریعے امت تک پہنچا ہے۔
یوں رسالہ نہایت متوازن انداز میں یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ بیعت نہ تو دین سے ہٹ کر کوئی اضافی رسم ہے اور نہ ہی ایمان کا مستقل رکن۔ بلکہ یہ اصلاحِ باطن، تربیتِ نفس اور اتباعِ سنت کا ایک آزمودہ، مشروع اور امت کے تعامل سے ثابت شدہ طریقۂ تربیت ہے، جس کی حفاظت ہمیشہ اہلِ علم اور اہلِ سلوک نے مل کر کی ہے۔
بیعت کے تصور کو واضح کرنے کے بعد امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اس شبہے کا ازالہ فرماتے ہیں جو ہر دور میں بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا ہے کہ جب قرآن و حدیث موجود ہیں، انسان مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے، عقائدِ اہلِ سنت پر قائم ہے اور شریعت کے احکام سے واقف بھی ہے، تو پھر کسی پیر سے بیعت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ اس اعتراض کا جواب محض جذباتی انداز میں نہیں دیتے بلکہ دلائل سے ثابت کرتے ہیں کہ علم کا ہونا اور تربیت یافتہ ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔ بہت سے لوگ احکام جانتے ہیں مگر ان پر استقامت، اخلاص اور حسنِ عمل کی دولت کسی مربی کی نگرانی اور صحبت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
اسی ضمن میں آپ واضح فرماتے ہیں کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جداگانہ راستے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف مراتب ہیں۔ جو شخص ان میں تفریق پیدا کرتا ہے، وہ دراصل دین کے جامع مزاج سے ناواقف ہے۔ شریعت ظاہر کی اصلاح کرتی ہے، طریقت باطن کو سنوارتی ہے اور حقیقت بندے کو مقامِ معرفت تک پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ تصوف نے ہمیشہ شریعت کو بنیاد اور طریقت کو اس کی روح قرار دیا ہے۔ اس رسالے میں بار بار اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ ہر وہ طریقت جو شریعت سے جدا ہو، ناقابلِ قبول ہے، اور ہر وہ شریعت جو تزکیۂ نفس سے خالی ہو، اپنی مطلوبہ تاثیر پیدا نہیں کر سکتی۔
اسی سلسلے میں امام احمد رضا رحمہ اللہ توسل اور تعلقِ مشائخ کے شرعی جواز پر بھی مدلل گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یہ تعلق عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
﴿أَلَيْسَ اللہُ بِكَافٍ عَبْدَهُ﴾ (الزمر: 36)
اور اسی قرآن میں فرمایا:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
امام احمد رضا رحمہ اللہ ان دونوں آیات کے درمیان نہایت لطیف تطبیق بیان کرتے ہیں کہ بے شک حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن اسی نے اپنے فضل سے بندوں کو اسباب اور وسائل اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جس طرح علم حاصل کرنے کے لیے استاد، علاج کے لیے طبیب اور حدیث کے لیے سند اختیار کی جاتی ہے، اسی طرح اصلاحِ باطن کے لیے شیخِ کامل کی صحبت بھی اسی نظامِ اسباب کا حصہ ہے۔
رسالے میں اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اولیائے کرام کا فیضان صرف ان کی ظاہری زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو وفات کے بعد بھی اپنے فضل سے ایسے تصرفات عطا فرماتا ہے جن کا تعلق ان کے متوسلین اور مریدین کی اعانت سے ہوتا ہے۔ اسی ضمن میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے:
ان أئمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم، ويلاحظون أحدهم عند طلوع روحه، وعند سؤال منكر ونكير له، وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط...الخ
یعنی فقہاء اور صوفیہ ائمہ اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے اور ان کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان پر توجہ فرمائیں گے۔
اسی مضمون کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے:
استكثروا من الإخوان فإن لكل مؤمن شفاعة يوم القيامة.
ترجمہ: اللہ کے بکثرت نیک بندوں سے رشتہ و علاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۳۱، ۳۲)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس حدیث سے یہ نکتہ اخذ فرماتے ہیں کہ جب عام صالح مومن کی شفاعت امید کا سبب ہے تو اولیائے کاملین سے محبت، تعلق اور بیعت کی برکتیں بدرجۂ اولیٰ امید افزا ہوں گی۔
پھر آپ سلسلۂ قادریہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے حضور پرنور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وہ مشہور ارشادات بھی نقل فرماتے ہیں جن میں آپ نے اپنے مریدین کے حق میں خصوصی توجہ اور اعانت کا ذکر فرمایا ہے۔ ان ارشادات کا مقصد غلو پیدا کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اپنے اولیاء پر خصوصی عنایت کو واضح کرنا ہے، اس لیے امام احمد رضا رحمہ اللہ انہیں بھی اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد کے دائرے میں بیان کرتے ہیں۔
ان تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ بیعت کا مقصد صرف ایک رسمی تعلق قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی روحانی نسبت پیدا کرنا ہے جو انسان کو اتباعِ رسول ﷺ، تزکیۂ نفس، حسنِ اخلاق اور استقامت علی الشریعہ کی منزل تک پہنچائے۔ اسی لیے رسالہ بار بار اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اصل اعتماد شخصیت پر نہیں بلکہ اس نسبت پر ہے جو شیخ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ اور بالآخر اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔ یہی نسبت درحقیقت تصوف کی روح، سلاسلِ طریقت کی بنیاد اور بیعت کی حقیقی غایت ہے۔
رسالے کا دوسرا بنیادی محور خلافت اور سجادہ نشینی ہے، جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے نہایت دقیق فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح فرمایا ہے۔ آپ کے نزدیک خلافت کا مفہوم محض کسی خانقاہ یا درگاہ کا انتظام سنبھال لینا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی امانت ہے جس کا تعلق تربیتِ خلق، اشاعتِ دین اور سلسلۂ ارشاد کے تسلسل سے ہے۔ اسی لیے آپ نے خلافت کو دو مستقل شعبوں میں تقسیم کیا ہے: خلافتِ عامہ اور خلافتِ خاصہ۔
خلافتِ عامہ سے مراد وہ اجازت و نیابت ہے جس کے ذریعے کوئی شیخ اپنے کسی مرید کو بیعت لینے، اذکار و اوراد کی تلقین کرنے، طالبانِ حق کی تربیت کرنے اور سلسلۂ طریقت کی اشاعت کا مجاز بناتا ہے۔ یہ محض انتظامی منصب نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری ہے، اور اس میں ایک سے زیادہ خلفاء مقرر کرنا نہ صرف جائز بلکہ سلفِ امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ اسی معنی میں رسولِ اکرم ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے خلفاء تھے، کیونکہ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرۂ عمل میں دین کی تبلیغ، تعلیم اور اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے برخلاف خلافتِ خاصہ یا سجادہ نشینی ایک مخصوص منصب ہے، جس میں کسی شیخ کے وصال یا گوشہ نشینی کے بعد اس کی خانقاہ، تربیتی نظام، اوقاف، خدام اور متعلقہ دینی مصالح کی ذمہ داری ایک شخص کے سپرد کی جاتی ہے۔
امام احمد رضا رحمہ اللہ نے نہایت صراحت کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ اس منصب کا اصل مدار شیخ کی صریح وصیت پر ہے، کیونکہ وہی اپنے خلفاء کی صلاحیت، اخلاص اور آئندہ ضروریات سے سب سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اگر اس نے کسی شخص کو واضح طور پر اپنا جانشین مقرر کر دیا ہو تو اس کے بعد کسی عرف، قیاس یا عمومی رائے کو اس کے مقابلے میں ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
اسی اصول کی تائید میں آپ نے فقہِ حنفی کے دو مسلمہ قاعدے ذکر فرمائے:
لا يُنسب إلى ساكتٍ قول، والصريح يفوق الدلالة.
یعنی خاموش شخص کی طرف کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور صریح تصریح، دلالت اور قرائن پر مقدم ہوتی ہے۔
اسی بنا پر آپ یہ اصول بھی بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ کی متعدد وصیتیں ثابت ہوں اور ان میں باہمی تعارض نہ ہو تو سب پر عمل کیا جائے گا، البتہ اگر بعد والی وصیت پہلی کو منسوخ کرتی ہو تو متاخر وصیت ہی معتبر ہوگی۔ اس پوری بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے خلافت و سجادہ نشینی کو محض جذباتی وابستگی یا خاندانی وراثت کا مسئلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے فقہ، اصول اور شرعی قواعد کی بنیاد پر متعین فرمایا ہے۔
اس کے ساتھ آپ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ نے اپنے بعد کسی کو صراحتاً خلیفہ مقرر نہ کیا ہو تو اس صورت میں خانقاہ کے قدیم دستور یا اہلِ حل و عقد کے اتفاق کو اختیار کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی شرط ہر حال میں باقی رہے گی، اور وہ یہ کہ جس شخص کو سجادہ نشین بنایا جا رہا ہے، اسے پہلے سے مرشد کی طرف سے خلافتِ عامہ حاصل ہو۔ اگر اس کے پاس یہ بنیادی اہلیت ہی موجود نہ ہو تو محض وراثت، خاندان یا عوامی مقبولیت اسے حقیقی سجادہ نشین نہیں بنا سکتی۔
یہاں امام احمد رضا رحمہ اللہ حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہ کی تحقیق نقل کرتے ہوئے خلافت کی مختلف صورتوں کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مشائخ کے نزدیک اصل خلافت وہی ہے جو شیخ کی اجازت اور رضا سے حاصل ہو۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت کسی شخصی دعوے یا محض موروثی استحقاق کا نام نہیں، بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی اہلیت کے ساتھ شیخ کی اجازت کا مجموعہ ہے۔
اسی بحث کے ضمن میں امام احمد رضا رحمہ اللہ نہایت بصیرت افروز انداز میں یہ نکتہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایک شیخ اپنی مصلحتِ نظر کے تحت دو افراد کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دیتا ہے۔ ایک شخص دینی تربیت اور روحانی قیادت میں ممتاز ہوتا ہے، جبکہ دوسرا انتظامی اور مالی معاملات میں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں کو مختلف دائرۂ کار دینا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ اس کا مقصد منصب کی تقسیم نہیں بلکہ مصالحِ دین کی بہتر حفاظت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تصورِ خلافت محض نظری نہیں بلکہ عملی اور انتظامی تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
رسالے کا آخری اہم موضوع تعددِ بیعت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ اس مسئلے میں نہایت متوازن موقف اختیار کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بلا ضرورتِ شرعی اپنے پیر کے ہوتے ہوئے دوسرے شیخ کے ہاتھ پر بیعتِ ارادت سے احتراز تام لازم سمجھے، کیونکہ اس سے قلبی انتشار، روحانی بے ثباتی اور تعلق میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ مرید کے لیے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنے شیخ پر حسنِ ظن رکھے، اس کی صحبت اور تربیت سے وابستہ رہے اور بلا سبب نئے تعلقات قائم کرکے اپنے روحانی سفر کو منتشر نہ کرے۔
اسی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے آپ نہایت لطیف مثالیں، اشعار اور نصوص ذکر فرماتے ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کرتے ہیں کہ جس طرح فقہ میں ایک امام کی تقلید نظمِ عمل کو برقرار رکھتی ہے، اسی طرح سلوک میں ایک شیخ کی صحبت انسان کے باطن کو استقامت عطا کرتی ہے۔ تاہم یہ ممانعت تعصب یا دوسرے مشائخ کی تنقیص پر مبنی نہیں، بلکہ نظمِ تربیت اور وحدتِ توجہ کے اصول پر قائم ہے۔ اسی لیے رسالہ یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ اپنے شیخ سے خصوصی تعلق رکھنے کے باوجود دیگر اولیائے کرام اور مشائخِ عظام کے ساتھ حسنِ عقیدت اور احترام باقی رہنا چاہیے۔
ان تمام مباحث کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ بیعت، خلافت اور سجادہ نشینی جیسے امور کو رسوم، عصبیت یا خاندانی امتیاز کی بنیاد پر نہیں بلکہ شریعت، علم، تقویٰ، اہلیت اور امت کے متوارث علمی و روحانی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے۔ یہی وہ معتدل اور محققانہ فکر ہے جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں پیش فرمایا، اور یہی اس رسالے کی سب سے بڑی علمی خصوصیت ہے۔
الغرض، یہ رسالہ محض چند فقہی سوالات کے جوابات کا مجموعہ نہیں بلکہ بیعت، خلافت اور تصوف کے باب میں اہلِ سنت و جماعت کے متوازن، محققانہ اور معتدل منہج کی بھرپور ترجمانی ہے۔ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے ان مباحث کو نہ جذباتی انداز میں پیش کیا ہے اور نہ محض خانقاہی روایات کے سہارے، بلکہ ہر مسئلے کو قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، اقوالِ ائمہ، قواعدِ فقہیہ اور اکابر صوفیہ کی تصریحات کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ یہی اس رسالے کا وہ امتیاز ہے جو اسے اپنے موضوع پر لکھی جانے والی دیگر مختصر تحریروں سے ممتاز کرتا ہے۔
اس رسالے کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ کے نزدیک بیعت یا خلافت کبھی بھی شریعت سے ماورا کوئی مستقل نظام نہیں۔ بلکہ تصوف کی تمام تر روح شریعت کی کامل پیروی میں مضمر ہے۔ اسی لیے آپ بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص شریعت کا پابند نہیں، وہ طریقت کا بھی اہل نہیں ہو سکتا، اور جو طریقت شریعت کی حدود سے تجاوز کرے، وہ حقیقت میں طریقت نہیں بلکہ گمراہی ہے۔ گویا آپ کے نزدیک شریعت، طریقت اور حقیقت ایک ہی نور کے مختلف مظاہر ہیں۔ شریعت بنیاد ہے، طریقت اس کی عملی تربیت ہے اور حقیقت اس تربیت کا ثمرہ۔
اسی طرح یہ رسالہ پیر و مرید کے تعلق کو بھی افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک طرف مرید کو اپنے شیخ کے ساتھ ادب، حسنِ ظن، استقامت اور وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ شیخ کی اطاعت صرف انہی امور میں معتبر ہے جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہوں۔ یوں اس رسالے میں نہ شخصیت پرستی کی گنجائش ہے اور نہ آزادیِ نفس کے نام پر روحانی بے راہ روی کی۔
خلافت و سجادہ نشینی کے باب میں بھی امام احمد رضا رحمہ اللہ نے اس اصول کو مضبوطی سے قائم فرمایا کہ یہ منصب نہ نسب کی بنیاد پر خود بخود منتقل ہوتا ہے اور نہ محض عوامی مقبولیت یا خاندانی روایت اس کے لیے کافی ہے، بلکہ اصل معیار مرشد کی اجازت، علمی و عملی اہلیت، دیانت، تقویٰ اور خدمتِ دین کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ اوصاف موجود ہوں تو خلافت امت کے لیے رحمت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر یہ مفقود ہو جائیں تو یہی منصب اختلاف، انتشار اور فتنہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے آپ نے اس مسئلے میں فقہی اصولوں اور شرعی ضابطوں کو ہر حال میں مقدم رکھا۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ان شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں تصوف اور بیعت کے خلاف پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ قرآن و حدیث موجود ہیں، لہٰذا مرشد کی ضرورت باقی نہیں، کبھی اولیائے کرام سے توسل اور ان کے فیوض کا انکار کیا گیا، کبھی خلافت و سجادہ نشینی کو محض موروثی حق قرار دیا گیا، اور کبھی تعددِ بیعت کو معمولی مسئلہ سمجھ کر اس کے روحانی نقصانات سے صرفِ نظر کیا گیا۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ان تمام امور پر نہایت مضبوط علمی استدلال کے ساتھ گفتگو فرمائی اور ہر مسئلے میں اہلِ سنت کے مسلک کو واضح کیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مختصراً یہ رسالہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ بیعت، خلافت اور تصوف اسلام کے جداگانہ یا متوازی نظام نہیں، بلکہ شریعتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام ہی کے تربیتی، اخلاقی اور روحانی مظاہر ہیں۔ جب یہ نظام قرآن و سنت، فقہِ اسلامی اور اکابرِ امت کی تعلیمات کے مطابق قائم رہے تو افراد کی اصلاح، معاشرے کی تطہیر، اخلاق کی تعمیر اور امت کے روحانی تسلسل کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ یہی وہ جامع پیغام ہے جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے بصیرت افروز فتاویٰ میں مدلل انداز سے پیش فرمایا، اور یہی اس مختصر مگر نہایت اہم رسالے کا اصل خلاصہ اور مرکزی حاصل ہے۔
راقم السطور
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
اسلام میں اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعلق مع اللہ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے، ان میں صحبتِ صالحین، بیعتِ ارشاد، تربیتِ شیخ اور روحانی خلافت کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہی وہ مبارک سلسلہ ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم صرف علمی صورت میں نہیں بلکہ عملی اور روحانی رنگ میں بھی امت تک منتقل ہوتی رہی۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس طرح فقہ، حدیث اور تفسیر میں سند اور تسلسل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح سلوک و احسان کی راہ بھی مشائخِ کرام کی تربیت اور مسلسل روحانی نسبت کے ذریعے محفوظ رہی ہے۔ جب بھی اس تسلسل کو نظر انداز کیا گیا، افراط و تفریط، بے اعتدالی اور ذوقِ شریعت سے دوری نے جنم لیا۔
زیرِ نظر رسالہ نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ درحقیقت امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، فقیہِ اعظم امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمہ اللہ کے تین نہایت اہم فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ ان فتاویٰ میں بیعت، خلافت، سجادہ نشینی، شیخ و مرید کے تعلق، تعددِ بیعت اور خلافتِ عامہ و خاصہ جیسے مسائل کو نہایت محققانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان مباحث کی اہمیت اس اعتبار سے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ محض نظری گفتگو نہیں بلکہ عملی زندگی میں پیش آنے والے سوالات کے جوابات ہیں، جن میں قرآن و سنت، آثارِ سلف، اقوالِ فقہاء و مشائخ سے استدلال کیا گیا ہے۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کی تخریج و تحقیق نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا فرحان رضا قادری ازہری صاحب حفظہ اللہ کی ایک قابلِ قدر علمی خدمت ہے۔ ان کی اس کاوش کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بیعت و خلافت کے تقریباً تمام بنیادی مسائل سے ایک ہی رسالے میں آگاہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا گیا مقدمہ اس موضوع کے اہم اشکالات کو آسان اور عام فہم انداز میں حل کرتا ہے۔ بیعت کی اقسام، پیرِ کامل کی شرائط، بیعت کا شرعی حکم، بچوں کی بیعت، بذریعۂ خط یا قاصد بیعت، اسپیکر کے ذریعے بیعت، تعددِ بیعت، پیر سے فیض حاصل کرنے کے آداب اور بیعت توڑنے کے احکام جیسے مسائل کو اختصار کے باوجود جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ رسالہ عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بن گیا ہے۔
اس رسالے کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں بیعت اور خلافت کو محض رسوم و روایات یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں قرار دیا گیا، بلکہ انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں شریعت کے تابع ایک دینی و روحانی نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ہر اس تصور کی تردید فرمائی ہے جو شریعت سے ہٹ کر تصوف یا بیعت کی کوئی تعبیر پیش کرتا ہو، اور ہر اس اعتراض کا مدلل جواب دیا ہے جو مرشد، بیعت یا روحانی سلاسل کے خلاف کیا جاتا رہا ہے۔
چنانچہ اس رسالے کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اسلام میں بیعت کا مقصد شخصیت پرستی پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت تک پہنچانا ہے، جبکہ خلافت کا مفہوم اقتدار یا وراثت نہیں بلکہ دینی امانت، اصلاحِ امت اور سلسلۂ تربیت کا تسلسل ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر اس پورے رسالے کی علمی عمارت قائم ہے، اور اسی کی وضاحت آئندہ سطور میں سامنے آتی ہے۔
اسلام کا تصورِ بیعت درحقیقت اطاعت، اصلاح اور تزکیۂ نفس کا وہ جامع نظام ہے جس کی بنیاد خود قرآنِ مجید اور سنتِ نبویہ نے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے سب سے پہلے اس بنیادی غلط فہمی کا ازالہ فرمایا کہ بیعت محض ایک رسم یا کسی سلسلے میں داخل ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مومن کے روحانی سفر کا نقطۂ آغاز اور سلوک کی منظم تربیت کا ذریعہ ہے۔ جس طرح شریعت کے احکام کو سمجھنے کے لیے امت ہمیشہ فقہاء اور ائمۂ مجتہدین کی محتاج رہی ہے، اسی طرح باطنی اصلاح اور احسان کے دقائق بھی اہلِ معرفت اور مشائخِ طریقت کی صحبت ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔
اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ نہایت بلیغ انداز میں فرماتے ہیں کہ اگر ائمۂ مجتہدین قرآن و حدیث کے مجمل احکام کی تشریح نہ فرماتے تو علماء بھی ان کے معانی تک رسائی حاصل نہ کر سکتے، اور اگر بعد کے علماء ان تشریحات کی توضیح نہ کرتے تو عام اہلِ علم بھی ان سے استفادہ نہ کر پاتے۔ پھر عوام الناس کے لیے یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ براہِ راست قرآن و حدیث سے ہر مسئلہ اخذ کر لیں؟ اسی لیے آپ یہ فیصلہ کن اصول بیان فرماتے ہیں:
اس لیے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہلِ علم و دین کا دامن تھامیں، اور وہ تصانیفِ علمائے ماہرین کا، اور وہ مشائخِ فتویٰ کا، اور وہ ائمۂ ہدیٰ کا، اور وہ قرآن و حدیث کا۔ جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے، جس نے دامنِ ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل فرمائی گئی ہے:
لو قدر أن أهل كل دور تعدوا من فوقهم إلى الدور الذي قبله لانقطعت صلتهم بالشارع، ولم يهتدوا لإيضاح مشكل ولا تفصيل مجمل...الخ
یعنی اگر ہر زمانے کے لوگ اپنے متصل علماء کو چھوڑ کر براہِ راست پہلے زمانے کی طرف رجوع کریں تو ان کا تعلق شارع علیہ السلام سے منقطع ہو جائے گا، نہ وہ مشکل کو واضح کر سکیں گے نہ مجمل احکام کی تفصیل تک پہنچ سکیں گے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۷، ۲۸)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس اصول کو صرف فقہ تک محدود نہیں رکھتے بلکہ فرماتے ہیں کہ جب شریعت کے ظاہری احکام میں اس درجہ رہنمائی کی ضرورت ہے تو سلوک، معرفت اور تزکیۂ نفس جیسے باریک اور دقیق علوم میں مرشدِ کامل کی حاجت بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں نفس اور شیطان کے دھوکے ہر قدم پر موجود ہیں، اس لیے بغیر رہبر کے اس سفر پر اعتماد کرنا عقل اور شریعت دونوں کے خلاف ہے۔
اسی بنا پر آپ مشائخِ امت کا متفقہ موقف نقل کرتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص علم، زہد اور عبادت میں کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، اگر وہ منازلِ احسان اور مشاہدۂ حقیقت کا طالب ہے تو اسے کسی کامل شیخ کی صحبت اختیار کرنا ہوگی۔ امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فعُلِمَ من جميع ما قررناه وجوب اتخاذ الشيخ لكل عالم طلب الوصول إلى شهود عين الشريعة الكبرى...الخ
یعنی ہماری پوری گفتگو سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہر اس عالم کے لیے جو حقیقتِ شریعت کے مشاہدے کا طالب ہو، کسی شیخ کو اختیار کرنا ضروری ہے، اگرچہ اس کے معاصرین اس کے علم، زہد اور تقویٰ پر متفق ہوں۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۹، ۳۰)
البتہ رسالہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ بیعت کا دروازہ ہر شخص کے لیے نہیں کھولا جا سکتا۔ مرشد وہی بن سکتا ہے جو صحیح العقیدہ سنی ہو، شریعت کا پابند ہو، کسی مستند سلسلۂ طریقت سے متصل ہو، فسقِ علانیہ سے محفوظ ہو اور اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروری دینی رہنمائی کتاب و سنت سے اخذ کر سکے۔ اس طرح رسالہ ان تمام خود ساختہ پیروں اور مدعیانِ تصوف کی نفی کرتا ہے جو نہ علم رکھتے ہیں، نہ عمل، اور نہ کسی معتبر روحانی سند سے وابستہ ہیں۔
اسی کے ساتھ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اصل مقصود ذاتِ پیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
یعنی اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
اس آیت کی روشنی میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کا سب سے بڑا وسیلہ رسول اللہ ﷺ ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے فیوض و برکات تک پہنچنے میں مشائخِ کاملین واسطہ بنتے ہیں۔ اس لیے بیعت کا تعلق کسی نئی شریعت یا مستقل اطاعت سے نہیں بلکہ اسی سلسلۂ ہدایت سے وابستگی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے شروع ہو کر ہر دور کے صالحین کے ذریعے امت تک پہنچا ہے۔
یوں رسالہ نہایت متوازن انداز میں یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ بیعت نہ تو دین سے ہٹ کر کوئی اضافی رسم ہے اور نہ ہی ایمان کا مستقل رکن۔ بلکہ یہ اصلاحِ باطن، تربیتِ نفس اور اتباعِ سنت کا ایک آزمودہ، مشروع اور امت کے تعامل سے ثابت شدہ طریقۂ تربیت ہے، جس کی حفاظت ہمیشہ اہلِ علم اور اہلِ سلوک نے مل کر کی ہے۔
بیعت کے تصور کو واضح کرنے کے بعد امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اس شبہے کا ازالہ فرماتے ہیں جو ہر دور میں بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا ہے کہ جب قرآن و حدیث موجود ہیں، انسان مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے، عقائدِ اہلِ سنت پر قائم ہے اور شریعت کے احکام سے واقف بھی ہے، تو پھر کسی پیر سے بیعت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ اس اعتراض کا جواب محض جذباتی انداز میں نہیں دیتے بلکہ دلائل سے ثابت کرتے ہیں کہ علم کا ہونا اور تربیت یافتہ ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔ بہت سے لوگ احکام جانتے ہیں مگر ان پر استقامت، اخلاص اور حسنِ عمل کی دولت کسی مربی کی نگرانی اور صحبت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
اسی ضمن میں آپ واضح فرماتے ہیں کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جداگانہ راستے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف مراتب ہیں۔ جو شخص ان میں تفریق پیدا کرتا ہے، وہ دراصل دین کے جامع مزاج سے ناواقف ہے۔ شریعت ظاہر کی اصلاح کرتی ہے، طریقت باطن کو سنوارتی ہے اور حقیقت بندے کو مقامِ معرفت تک پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ تصوف نے ہمیشہ شریعت کو بنیاد اور طریقت کو اس کی روح قرار دیا ہے۔ اس رسالے میں بار بار اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ ہر وہ طریقت جو شریعت سے جدا ہو، ناقابلِ قبول ہے، اور ہر وہ شریعت جو تزکیۂ نفس سے خالی ہو، اپنی مطلوبہ تاثیر پیدا نہیں کر سکتی۔
اسی سلسلے میں امام احمد رضا رحمہ اللہ توسل اور تعلقِ مشائخ کے شرعی جواز پر بھی مدلل گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یہ تعلق عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
﴿أَلَيْسَ اللہُ بِكَافٍ عَبْدَهُ﴾ (الزمر: 36)
اور اسی قرآن میں فرمایا:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
امام احمد رضا رحمہ اللہ ان دونوں آیات کے درمیان نہایت لطیف تطبیق بیان کرتے ہیں کہ بے شک حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن اسی نے اپنے فضل سے بندوں کو اسباب اور وسائل اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جس طرح علم حاصل کرنے کے لیے استاد، علاج کے لیے طبیب اور حدیث کے لیے سند اختیار کی جاتی ہے، اسی طرح اصلاحِ باطن کے لیے شیخِ کامل کی صحبت بھی اسی نظامِ اسباب کا حصہ ہے۔
رسالے میں اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اولیائے کرام کا فیضان صرف ان کی ظاہری زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو وفات کے بعد بھی اپنے فضل سے ایسے تصرفات عطا فرماتا ہے جن کا تعلق ان کے متوسلین اور مریدین کی اعانت سے ہوتا ہے۔ اسی ضمن میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے:
ان أئمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم، ويلاحظون أحدهم عند طلوع روحه، وعند سؤال منكر ونكير له، وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط...الخ
یعنی فقہاء اور صوفیہ ائمہ اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے اور ان کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان پر توجہ فرمائیں گے۔
اسی مضمون کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے:
استكثروا من الإخوان فإن لكل مؤمن شفاعة يوم القيامة.
ترجمہ: اللہ کے بکثرت نیک بندوں سے رشتہ و علاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۳۱، ۳۲)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس حدیث سے یہ نکتہ اخذ فرماتے ہیں کہ جب عام صالح مومن کی شفاعت امید کا سبب ہے تو اولیائے کاملین سے محبت، تعلق اور بیعت کی برکتیں بدرجۂ اولیٰ امید افزا ہوں گی۔
پھر آپ سلسلۂ قادریہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے حضور پرنور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وہ مشہور ارشادات بھی نقل فرماتے ہیں جن میں آپ نے اپنے مریدین کے حق میں خصوصی توجہ اور اعانت کا ذکر فرمایا ہے۔ ان ارشادات کا مقصد غلو پیدا کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اپنے اولیاء پر خصوصی عنایت کو واضح کرنا ہے، اس لیے امام احمد رضا رحمہ اللہ انہیں بھی اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد کے دائرے میں بیان کرتے ہیں۔
ان تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ بیعت کا مقصد صرف ایک رسمی تعلق قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی روحانی نسبت پیدا کرنا ہے جو انسان کو اتباعِ رسول ﷺ، تزکیۂ نفس، حسنِ اخلاق اور استقامت علی الشریعہ کی منزل تک پہنچائے۔ اسی لیے رسالہ بار بار اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اصل اعتماد شخصیت پر نہیں بلکہ اس نسبت پر ہے جو شیخ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ اور بالآخر اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔ یہی نسبت درحقیقت تصوف کی روح، سلاسلِ طریقت کی بنیاد اور بیعت کی حقیقی غایت ہے۔
رسالے کا دوسرا بنیادی محور خلافت اور سجادہ نشینی ہے، جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے نہایت دقیق فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح فرمایا ہے۔ آپ کے نزدیک خلافت کا مفہوم محض کسی خانقاہ یا درگاہ کا انتظام سنبھال لینا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی امانت ہے جس کا تعلق تربیتِ خلق، اشاعتِ دین اور سلسلۂ ارشاد کے تسلسل سے ہے۔ اسی لیے آپ نے خلافت کو دو مستقل شعبوں میں تقسیم کیا ہے: خلافتِ عامہ اور خلافتِ خاصہ۔
خلافتِ عامہ سے مراد وہ اجازت و نیابت ہے جس کے ذریعے کوئی شیخ اپنے کسی مرید کو بیعت لینے، اذکار و اوراد کی تلقین کرنے، طالبانِ حق کی تربیت کرنے اور سلسلۂ طریقت کی اشاعت کا مجاز بناتا ہے۔ یہ محض انتظامی منصب نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری ہے، اور اس میں ایک سے زیادہ خلفاء مقرر کرنا نہ صرف جائز بلکہ سلفِ امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ اسی معنی میں رسولِ اکرم ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے خلفاء تھے، کیونکہ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرۂ عمل میں دین کی تبلیغ، تعلیم اور اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے برخلاف خلافتِ خاصہ یا سجادہ نشینی ایک مخصوص منصب ہے، جس میں کسی شیخ کے وصال یا گوشہ نشینی کے بعد اس کی خانقاہ، تربیتی نظام، اوقاف، خدام اور متعلقہ دینی مصالح کی ذمہ داری ایک شخص کے سپرد کی جاتی ہے۔
امام احمد رضا رحمہ اللہ نے نہایت صراحت کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ اس منصب کا اصل مدار شیخ کی صریح وصیت پر ہے، کیونکہ وہی اپنے خلفاء کی صلاحیت، اخلاص اور آئندہ ضروریات سے سب سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اگر اس نے کسی شخص کو واضح طور پر اپنا جانشین مقرر کر دیا ہو تو اس کے بعد کسی عرف، قیاس یا عمومی رائے کو اس کے مقابلے میں ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
اسی اصول کی تائید میں آپ نے فقہِ حنفی کے دو مسلمہ قاعدے ذکر فرمائے:
لا يُنسب إلى ساكتٍ قول، والصريح يفوق الدلالة.
یعنی خاموش شخص کی طرف کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور صریح تصریح، دلالت اور قرائن پر مقدم ہوتی ہے۔
اسی بنا پر آپ یہ اصول بھی بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ کی متعدد وصیتیں ثابت ہوں اور ان میں باہمی تعارض نہ ہو تو سب پر عمل کیا جائے گا، البتہ اگر بعد والی وصیت پہلی کو منسوخ کرتی ہو تو متاخر وصیت ہی معتبر ہوگی۔ اس پوری بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے خلافت و سجادہ نشینی کو محض جذباتی وابستگی یا خاندانی وراثت کا مسئلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے فقہ، اصول اور شرعی قواعد کی بنیاد پر متعین فرمایا ہے۔
اس کے ساتھ آپ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ نے اپنے بعد کسی کو صراحتاً خلیفہ مقرر نہ کیا ہو تو اس صورت میں خانقاہ کے قدیم دستور یا اہلِ حل و عقد کے اتفاق کو اختیار کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی شرط ہر حال میں باقی رہے گی، اور وہ یہ کہ جس شخص کو سجادہ نشین بنایا جا رہا ہے، اسے پہلے سے مرشد کی طرف سے خلافتِ عامہ حاصل ہو۔ اگر اس کے پاس یہ بنیادی اہلیت ہی موجود نہ ہو تو محض وراثت، خاندان یا عوامی مقبولیت اسے حقیقی سجادہ نشین نہیں بنا سکتی۔
یہاں امام احمد رضا رحمہ اللہ حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہ کی تحقیق نقل کرتے ہوئے خلافت کی مختلف صورتوں کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مشائخ کے نزدیک اصل خلافت وہی ہے جو شیخ کی اجازت اور رضا سے حاصل ہو۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت کسی شخصی دعوے یا محض موروثی استحقاق کا نام نہیں، بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی اہلیت کے ساتھ شیخ کی اجازت کا مجموعہ ہے۔
اسی بحث کے ضمن میں امام احمد رضا رحمہ اللہ نہایت بصیرت افروز انداز میں یہ نکتہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایک شیخ اپنی مصلحتِ نظر کے تحت دو افراد کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دیتا ہے۔ ایک شخص دینی تربیت اور روحانی قیادت میں ممتاز ہوتا ہے، جبکہ دوسرا انتظامی اور مالی معاملات میں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں کو مختلف دائرۂ کار دینا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ اس کا مقصد منصب کی تقسیم نہیں بلکہ مصالحِ دین کی بہتر حفاظت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تصورِ خلافت محض نظری نہیں بلکہ عملی اور انتظامی تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
رسالے کا آخری اہم موضوع تعددِ بیعت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ اس مسئلے میں نہایت متوازن موقف اختیار کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بلا ضرورتِ شرعی اپنے پیر کے ہوتے ہوئے دوسرے شیخ کے ہاتھ پر بیعتِ ارادت سے احتراز تام لازم سمجھے، کیونکہ اس سے قلبی انتشار، روحانی بے ثباتی اور تعلق میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ مرید کے لیے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنے شیخ پر حسنِ ظن رکھے، اس کی صحبت اور تربیت سے وابستہ رہے اور بلا سبب نئے تعلقات قائم کرکے اپنے روحانی سفر کو منتشر نہ کرے۔
اسی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے آپ نہایت لطیف مثالیں، اشعار اور نصوص ذکر فرماتے ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کرتے ہیں کہ جس طرح فقہ میں ایک امام کی تقلید نظمِ عمل کو برقرار رکھتی ہے، اسی طرح سلوک میں ایک شیخ کی صحبت انسان کے باطن کو استقامت عطا کرتی ہے۔ تاہم یہ ممانعت تعصب یا دوسرے مشائخ کی تنقیص پر مبنی نہیں، بلکہ نظمِ تربیت اور وحدتِ توجہ کے اصول پر قائم ہے۔ اسی لیے رسالہ یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ اپنے شیخ سے خصوصی تعلق رکھنے کے باوجود دیگر اولیائے کرام اور مشائخِ عظام کے ساتھ حسنِ عقیدت اور احترام باقی رہنا چاہیے۔
ان تمام مباحث کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ بیعت، خلافت اور سجادہ نشینی جیسے امور کو رسوم، عصبیت یا خاندانی امتیاز کی بنیاد پر نہیں بلکہ شریعت، علم، تقویٰ، اہلیت اور امت کے متوارث علمی و روحانی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے۔ یہی وہ معتدل اور محققانہ فکر ہے جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں پیش فرمایا، اور یہی اس رسالے کی سب سے بڑی علمی خصوصیت ہے۔
الغرض، یہ رسالہ محض چند فقہی سوالات کے جوابات کا مجموعہ نہیں بلکہ بیعت، خلافت اور تصوف کے باب میں اہلِ سنت و جماعت کے متوازن، محققانہ اور معتدل منہج کی بھرپور ترجمانی ہے۔ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے ان مباحث کو نہ جذباتی انداز میں پیش کیا ہے اور نہ محض خانقاہی روایات کے سہارے، بلکہ ہر مسئلے کو قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، اقوالِ ائمہ، قواعدِ فقہیہ اور اکابر صوفیہ کی تصریحات کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ یہی اس رسالے کا وہ امتیاز ہے جو اسے اپنے موضوع پر لکھی جانے والی دیگر مختصر تحریروں سے ممتاز کرتا ہے۔
اس رسالے کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ کے نزدیک بیعت یا خلافت کبھی بھی شریعت سے ماورا کوئی مستقل نظام نہیں۔ بلکہ تصوف کی تمام تر روح شریعت کی کامل پیروی میں مضمر ہے۔ اسی لیے آپ بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص شریعت کا پابند نہیں، وہ طریقت کا بھی اہل نہیں ہو سکتا، اور جو طریقت شریعت کی حدود سے تجاوز کرے، وہ حقیقت میں طریقت نہیں بلکہ گمراہی ہے۔ گویا آپ کے نزدیک شریعت، طریقت اور حقیقت ایک ہی نور کے مختلف مظاہر ہیں۔ شریعت بنیاد ہے، طریقت اس کی عملی تربیت ہے اور حقیقت اس تربیت کا ثمرہ۔
اسی طرح یہ رسالہ پیر و مرید کے تعلق کو بھی افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک طرف مرید کو اپنے شیخ کے ساتھ ادب، حسنِ ظن، استقامت اور وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ شیخ کی اطاعت صرف انہی امور میں معتبر ہے جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہوں۔ یوں اس رسالے میں نہ شخصیت پرستی کی گنجائش ہے اور نہ آزادیِ نفس کے نام پر روحانی بے راہ روی کی۔
خلافت و سجادہ نشینی کے باب میں بھی امام احمد رضا رحمہ اللہ نے اس اصول کو مضبوطی سے قائم فرمایا کہ یہ منصب نہ نسب کی بنیاد پر خود بخود منتقل ہوتا ہے اور نہ محض عوامی مقبولیت یا خاندانی روایت اس کے لیے کافی ہے، بلکہ اصل معیار مرشد کی اجازت، علمی و عملی اہلیت، دیانت، تقویٰ اور خدمتِ دین کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ اوصاف موجود ہوں تو خلافت امت کے لیے رحمت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر یہ مفقود ہو جائیں تو یہی منصب اختلاف، انتشار اور فتنہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے آپ نے اس مسئلے میں فقہی اصولوں اور شرعی ضابطوں کو ہر حال میں مقدم رکھا۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ان شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں تصوف اور بیعت کے خلاف پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ قرآن و حدیث موجود ہیں، لہٰذا مرشد کی ضرورت باقی نہیں، کبھی اولیائے کرام سے توسل اور ان کے فیوض کا انکار کیا گیا، کبھی خلافت و سجادہ نشینی کو محض موروثی حق قرار دیا گیا، اور کبھی تعددِ بیعت کو معمولی مسئلہ سمجھ کر اس کے روحانی نقصانات سے صرفِ نظر کیا گیا۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ان تمام امور پر نہایت مضبوط علمی استدلال کے ساتھ گفتگو فرمائی اور ہر مسئلے میں اہلِ سنت کے مسلک کو واضح کیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مختصراً یہ رسالہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ بیعت، خلافت اور تصوف اسلام کے جداگانہ یا متوازی نظام نہیں، بلکہ شریعتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام ہی کے تربیتی، اخلاقی اور روحانی مظاہر ہیں۔ جب یہ نظام قرآن و سنت، فقہِ اسلامی اور اکابرِ امت کی تعلیمات کے مطابق قائم رہے تو افراد کی اصلاح، معاشرے کی تطہیر، اخلاق کی تعمیر اور امت کے روحانی تسلسل کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ یہی وہ جامع پیغام ہے جسے امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے بصیرت افروز فتاویٰ میں مدلل انداز سے پیش فرمایا، اور یہی اس مختصر مگر نہایت اہم رسالے کا اصل خلاصہ اور مرکزی حاصل ہے۔
راقم السطور
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
48
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 35
Kalam 39
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]

مظلوم مجدد

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢