نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اسلام میں اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعلق مع اللہ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے، ان میں صحبتِ صالحین، بیعتِ ارشاد، تربیتِ شیخ اور روحانی خلافت کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہی وہ مبارک سلسلہ ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم صرف علمی صورت میں نہیں بلکہ عملی اور روحانی رنگ میں بھی امت تک منتقل ہوتی رہی۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس طرح فقہ، حدیث اور تفسیر میں سند اور تسلسل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح سلوک و احسان کی راہ بھی مشائخِ کرام کی تربیت اور مسلسل روحانی نسبت کے ذریعے محفوظ رہی ہے۔ جب بھی اس تسلسل کو نظر انداز کیا گیا، افراط و تفریط، بے اعتدالی اور ذوقِ شریعت سے دوری نے جنم لیا۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کی تخریج و تحقیق نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا فرحان رضا قادری ازہری صاحب حفظہ اللہ کی ایک قابلِ قدر علمی خدمت ہے۔ ان کی اس کاوش کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بیعت و خلافت کے تقریباً تمام بنیادی مسائل سے ایک ہی رسالے میں آگاہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا گیا مقدمہ اس موضوع کے اہم اشکالات کو آسان اور عام فہم انداز میں حل کرتا ہے۔ بیعت کی اقسام، پیرِ کامل کی شرائط، بیعت کا شرعی حکم، بچوں کی بیعت، بذریعۂ خط یا قاصد بیعت، اسپیکر کے ذریعے بیعت، تعددِ بیعت، پیر سے فیض حاصل کرنے کے آداب اور بیعت توڑنے کے احکام جیسے مسائل کو اختصار کے باوجود جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ رسالہ عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بن گیا ہے۔
چنانچہ اس رسالے کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اسلام میں بیعت کا مقصد شخصیت پرستی پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت تک پہنچانا ہے، جبکہ خلافت کا مفہوم اقتدار یا وراثت نہیں بلکہ دینی امانت، اصلاحِ امت اور سلسلۂ تربیت کا تسلسل ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر اس پورے رسالے کی علمی عمارت قائم ہے، اور اسی کی وضاحت آئندہ سطور میں سامنے آتی ہے۔
اس لیے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہلِ علم و دین کا دامن تھامیں، اور وہ تصانیفِ علمائے ماہرین کا، اور وہ مشائخِ فتویٰ کا، اور وہ ائمۂ ہدیٰ کا، اور وہ قرآن و حدیث کا۔ جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے، جس نے دامنِ ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل فرمائی گئی ہے:
لو قدر أن أهل كل دور تعدوا من فوقهم إلى الدور الذي قبله لانقطعت صلتهم بالشارع، ولم يهتدوا لإيضاح مشكل ولا تفصيل مجمل...الخ
یعنی اگر ہر زمانے کے لوگ اپنے متصل علماء کو چھوڑ کر براہِ راست پہلے زمانے کی طرف رجوع کریں تو ان کا تعلق شارع علیہ السلام سے منقطع ہو جائے گا، نہ وہ مشکل کو واضح کر سکیں گے نہ مجمل احکام کی تفصیل تک پہنچ سکیں گے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۷، ۲۸)
اسی بنا پر آپ مشائخِ امت کا متفقہ موقف نقل کرتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص علم، زہد اور عبادت میں کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، اگر وہ منازلِ احسان اور مشاہدۂ حقیقت کا طالب ہے تو اسے کسی کامل شیخ کی صحبت اختیار کرنا ہوگی۔ امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فعُلِمَ من جميع ما قررناه وجوب اتخاذ الشيخ لكل عالم طلب الوصول إلى شهود عين الشريعة الكبرى...الخ
یعنی ہماری پوری گفتگو سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہر اس عالم کے لیے جو حقیقتِ شریعت کے مشاہدے کا طالب ہو، کسی شیخ کو اختیار کرنا ضروری ہے، اگرچہ اس کے معاصرین اس کے علم، زہد اور تقویٰ پر متفق ہوں۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۹، ۳۰)
اسی کے ساتھ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اصل مقصود ذاتِ پیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
یعنی اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
اس آیت کی روشنی میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کا سب سے بڑا وسیلہ رسول اللہ ﷺ ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے فیوض و برکات تک پہنچنے میں مشائخِ کاملین واسطہ بنتے ہیں۔ اس لیے بیعت کا تعلق کسی نئی شریعت یا مستقل اطاعت سے نہیں بلکہ اسی سلسلۂ ہدایت سے وابستگی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے شروع ہو کر ہر دور کے صالحین کے ذریعے امت تک پہنچا ہے۔
یوں رسالہ نہایت متوازن انداز میں یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ بیعت نہ تو دین سے ہٹ کر کوئی اضافی رسم ہے اور نہ ہی ایمان کا مستقل رکن۔ بلکہ یہ اصلاحِ باطن، تربیتِ نفس اور اتباعِ سنت کا ایک آزمودہ، مشروع اور امت کے تعامل سے ثابت شدہ طریقۂ تربیت ہے، جس کی حفاظت ہمیشہ اہلِ علم اور اہلِ سلوک نے مل کر کی ہے۔
اسی سلسلے میں امام احمد رضا رحمہ اللہ توسل اور تعلقِ مشائخ کے شرعی جواز پر بھی مدلل گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یہ تعلق عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
﴿أَلَيْسَ اللہُ بِكَافٍ عَبْدَهُ﴾ (الزمر: 36)
اور اسی قرآن میں فرمایا:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
امام احمد رضا رحمہ اللہ ان دونوں آیات کے درمیان نہایت لطیف تطبیق بیان کرتے ہیں کہ بے شک حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن اسی نے اپنے فضل سے بندوں کو اسباب اور وسائل اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جس طرح علم حاصل کرنے کے لیے استاد، علاج کے لیے طبیب اور حدیث کے لیے سند اختیار کی جاتی ہے، اسی طرح اصلاحِ باطن کے لیے شیخِ کامل کی صحبت بھی اسی نظامِ اسباب کا حصہ ہے۔
ان أئمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم، ويلاحظون أحدهم عند طلوع روحه، وعند سؤال منكر ونكير له، وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط...الخ
یعنی فقہاء اور صوفیہ ائمہ اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے اور ان کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان پر توجہ فرمائیں گے۔
اسی مضمون کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے:
استكثروا من الإخوان فإن لكل مؤمن شفاعة يوم القيامة.
ترجمہ: اللہ کے بکثرت نیک بندوں سے رشتہ و علاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۳۱، ۳۲)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس حدیث سے یہ نکتہ اخذ فرماتے ہیں کہ جب عام صالح مومن کی شفاعت امید کا سبب ہے تو اولیائے کاملین سے محبت، تعلق اور بیعت کی برکتیں بدرجۂ اولیٰ امید افزا ہوں گی۔
ان تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ بیعت کا مقصد صرف ایک رسمی تعلق قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی روحانی نسبت پیدا کرنا ہے جو انسان کو اتباعِ رسول ﷺ، تزکیۂ نفس، حسنِ اخلاق اور استقامت علی الشریعہ کی منزل تک پہنچائے۔ اسی لیے رسالہ بار بار اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اصل اعتماد شخصیت پر نہیں بلکہ اس نسبت پر ہے جو شیخ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ اور بالآخر اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔ یہی نسبت درحقیقت تصوف کی روح، سلاسلِ طریقت کی بنیاد اور بیعت کی حقیقی غایت ہے۔
خلافتِ عامہ سے مراد وہ اجازت و نیابت ہے جس کے ذریعے کوئی شیخ اپنے کسی مرید کو بیعت لینے، اذکار و اوراد کی تلقین کرنے، طالبانِ حق کی تربیت کرنے اور سلسلۂ طریقت کی اشاعت کا مجاز بناتا ہے۔ یہ محض انتظامی منصب نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری ہے، اور اس میں ایک سے زیادہ خلفاء مقرر کرنا نہ صرف جائز بلکہ سلفِ امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ اسی معنی میں رسولِ اکرم ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے خلفاء تھے، کیونکہ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرۂ عمل میں دین کی تبلیغ، تعلیم اور اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے برخلاف خلافتِ خاصہ یا سجادہ نشینی ایک مخصوص منصب ہے، جس میں کسی شیخ کے وصال یا گوشہ نشینی کے بعد اس کی خانقاہ، تربیتی نظام، اوقاف، خدام اور متعلقہ دینی مصالح کی ذمہ داری ایک شخص کے سپرد کی جاتی ہے۔
اسی اصول کی تائید میں آپ نے فقہِ حنفی کے دو مسلمہ قاعدے ذکر فرمائے:
لا يُنسب إلى ساكتٍ قول، والصريح يفوق الدلالة.
یعنی خاموش شخص کی طرف کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور صریح تصریح، دلالت اور قرائن پر مقدم ہوتی ہے۔
اسی بنا پر آپ یہ اصول بھی بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ کی متعدد وصیتیں ثابت ہوں اور ان میں باہمی تعارض نہ ہو تو سب پر عمل کیا جائے گا، البتہ اگر بعد والی وصیت پہلی کو منسوخ کرتی ہو تو متاخر وصیت ہی معتبر ہوگی۔ اس پوری بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے خلافت و سجادہ نشینی کو محض جذباتی وابستگی یا خاندانی وراثت کا مسئلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے فقہ، اصول اور شرعی قواعد کی بنیاد پر متعین فرمایا ہے۔
یہاں امام احمد رضا رحمہ اللہ حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہ کی تحقیق نقل کرتے ہوئے خلافت کی مختلف صورتوں کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مشائخ کے نزدیک اصل خلافت وہی ہے جو شیخ کی اجازت اور رضا سے حاصل ہو۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت کسی شخصی دعوے یا محض موروثی استحقاق کا نام نہیں، بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی اہلیت کے ساتھ شیخ کی اجازت کا مجموعہ ہے۔
اسی بحث کے ضمن میں امام احمد رضا رحمہ اللہ نہایت بصیرت افروز انداز میں یہ نکتہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایک شیخ اپنی مصلحتِ نظر کے تحت دو افراد کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دیتا ہے۔ ایک شخص دینی تربیت اور روحانی قیادت میں ممتاز ہوتا ہے، جبکہ دوسرا انتظامی اور مالی معاملات میں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں کو مختلف دائرۂ کار دینا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ اس کا مقصد منصب کی تقسیم نہیں بلکہ مصالحِ دین کی بہتر حفاظت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تصورِ خلافت محض نظری نہیں بلکہ عملی اور انتظامی تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
اسی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے آپ نہایت لطیف مثالیں، اشعار اور نصوص ذکر فرماتے ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کرتے ہیں کہ جس طرح فقہ میں ایک امام کی تقلید نظمِ عمل کو برقرار رکھتی ہے، اسی طرح سلوک میں ایک شیخ کی صحبت انسان کے باطن کو استقامت عطا کرتی ہے۔ تاہم یہ ممانعت تعصب یا دوسرے مشائخ کی تنقیص پر مبنی نہیں، بلکہ نظمِ تربیت اور وحدتِ توجہ کے اصول پر قائم ہے۔ اسی لیے رسالہ یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ اپنے شیخ سے خصوصی تعلق رکھنے کے باوجود دیگر اولیائے کرام اور مشائخِ عظام کے ساتھ حسنِ عقیدت اور احترام باقی رہنا چاہیے۔
الغرض، یہ رسالہ محض چند فقہی سوالات کے جوابات کا مجموعہ نہیں بلکہ بیعت، خلافت اور تصوف کے باب میں اہلِ سنت و جماعت کے متوازن، محققانہ اور معتدل منہج کی بھرپور ترجمانی ہے۔ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے ان مباحث کو نہ جذباتی انداز میں پیش کیا ہے اور نہ محض خانقاہی روایات کے سہارے، بلکہ ہر مسئلے کو قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، اقوالِ ائمہ، قواعدِ فقہیہ اور اکابر صوفیہ کی تصریحات کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ یہی اس رسالے کا وہ امتیاز ہے جو اسے اپنے موضوع پر لکھی جانے والی دیگر مختصر تحریروں سے ممتاز کرتا ہے۔
اسی طرح یہ رسالہ پیر و مرید کے تعلق کو بھی افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک طرف مرید کو اپنے شیخ کے ساتھ ادب، حسنِ ظن، استقامت اور وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ شیخ کی اطاعت صرف انہی امور میں معتبر ہے جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہوں۔ یوں اس رسالے میں نہ شخصیت پرستی کی گنجائش ہے اور نہ آزادیِ نفس کے نام پر روحانی بے راہ روی کی۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ان شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں تصوف اور بیعت کے خلاف پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ قرآن و حدیث موجود ہیں، لہٰذا مرشد کی ضرورت باقی نہیں، کبھی اولیائے کرام سے توسل اور ان کے فیوض کا انکار کیا گیا، کبھی خلافت و سجادہ نشینی کو محض موروثی حق قرار دیا گیا، اور کبھی تعددِ بیعت کو معمولی مسئلہ سمجھ کر اس کے روحانی نقصانات سے صرفِ نظر کیا گیا۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ان تمام امور پر نہایت مضبوط علمی استدلال کے ساتھ گفتگو فرمائی اور ہر مسئلے میں اہلِ سنت کے مسلک کو واضح کیا۔
jamiaturrazastudents.com
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اسلام میں اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعلق مع اللہ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے، ان میں صحبتِ صالحین، بیعتِ ارشاد، تربیتِ شیخ اور روحانی خلافت کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہی وہ مبارک سلسلہ ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم صرف علمی صورت میں نہیں بلکہ عملی اور روحانی رنگ میں بھی امت تک منتقل ہوتی رہی۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس طرح فقہ، حدیث اور تفسیر میں سند اور تسلسل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح سلوک و احسان کی راہ بھی مشائخِ کرام کی تربیت اور مسلسل روحانی نسبت کے ذریعے محفوظ رہی ہے۔ جب بھی اس تسلسل کو نظر انداز کیا گیا، افراط و تفریط، بے اعتدالی اور ذوقِ شریعت سے دوری نے جنم لیا۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کی تخریج و تحقیق نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا فرحان رضا قادری ازہری صاحب حفظہ اللہ کی ایک قابلِ قدر علمی خدمت ہے۔ ان کی اس کاوش کا فائدہ یہ ہے کہ قاری بیعت و خلافت کے تقریباً تمام بنیادی مسائل سے ایک ہی رسالے میں آگاہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا گیا مقدمہ اس موضوع کے اہم اشکالات کو آسان اور عام فہم انداز میں حل کرتا ہے۔ بیعت کی اقسام، پیرِ کامل کی شرائط، بیعت کا شرعی حکم، بچوں کی بیعت، بذریعۂ خط یا قاصد بیعت، اسپیکر کے ذریعے بیعت، تعددِ بیعت، پیر سے فیض حاصل کرنے کے آداب اور بیعت توڑنے کے احکام جیسے مسائل کو اختصار کے باوجود جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ رسالہ عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بن گیا ہے۔
چنانچہ اس رسالے کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اسلام میں بیعت کا مقصد شخصیت پرستی پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت تک پہنچانا ہے، جبکہ خلافت کا مفہوم اقتدار یا وراثت نہیں بلکہ دینی امانت، اصلاحِ امت اور سلسلۂ تربیت کا تسلسل ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر اس پورے رسالے کی علمی عمارت قائم ہے، اور اسی کی وضاحت آئندہ سطور میں سامنے آتی ہے۔
اس لیے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہلِ علم و دین کا دامن تھامیں، اور وہ تصانیفِ علمائے ماہرین کا، اور وہ مشائخِ فتویٰ کا، اور وہ ائمۂ ہدیٰ کا، اور وہ قرآن و حدیث کا۔ جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے، جس نے دامنِ ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ کی المیزان الکبریٰ سے یہ عبارت نقل فرمائی گئی ہے:
لو قدر أن أهل كل دور تعدوا من فوقهم إلى الدور الذي قبله لانقطعت صلتهم بالشارع، ولم يهتدوا لإيضاح مشكل ولا تفصيل مجمل...الخ
یعنی اگر ہر زمانے کے لوگ اپنے متصل علماء کو چھوڑ کر براہِ راست پہلے زمانے کی طرف رجوع کریں تو ان کا تعلق شارع علیہ السلام سے منقطع ہو جائے گا، نہ وہ مشکل کو واضح کر سکیں گے نہ مجمل احکام کی تفصیل تک پہنچ سکیں گے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۷، ۲۸)
اسی بنا پر آپ مشائخِ امت کا متفقہ موقف نقل کرتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص علم، زہد اور عبادت میں کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، اگر وہ منازلِ احسان اور مشاہدۂ حقیقت کا طالب ہے تو اسے کسی کامل شیخ کی صحبت اختیار کرنا ہوگی۔ امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فعُلِمَ من جميع ما قررناه وجوب اتخاذ الشيخ لكل عالم طلب الوصول إلى شهود عين الشريعة الكبرى...الخ
یعنی ہماری پوری گفتگو سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہر اس عالم کے لیے جو حقیقتِ شریعت کے مشاہدے کا طالب ہو، کسی شیخ کو اختیار کرنا ضروری ہے، اگرچہ اس کے معاصرین اس کے علم، زہد اور تقویٰ پر متفق ہوں۔ (نقاء السلافۃ، ص ۲۹، ۳۰)
اسی کے ساتھ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ یہ بھی واضح فرماتے ہیں کہ اصل مقصود ذاتِ پیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
یعنی اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
اس آیت کی روشنی میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کا سب سے بڑا وسیلہ رسول اللہ ﷺ ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے فیوض و برکات تک پہنچنے میں مشائخِ کاملین واسطہ بنتے ہیں۔ اس لیے بیعت کا تعلق کسی نئی شریعت یا مستقل اطاعت سے نہیں بلکہ اسی سلسلۂ ہدایت سے وابستگی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے شروع ہو کر ہر دور کے صالحین کے ذریعے امت تک پہنچا ہے۔
یوں رسالہ نہایت متوازن انداز میں یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ بیعت نہ تو دین سے ہٹ کر کوئی اضافی رسم ہے اور نہ ہی ایمان کا مستقل رکن۔ بلکہ یہ اصلاحِ باطن، تربیتِ نفس اور اتباعِ سنت کا ایک آزمودہ، مشروع اور امت کے تعامل سے ثابت شدہ طریقۂ تربیت ہے، جس کی حفاظت ہمیشہ اہلِ علم اور اہلِ سلوک نے مل کر کی ہے۔
اسی سلسلے میں امام احمد رضا رحمہ اللہ توسل اور تعلقِ مشائخ کے شرعی جواز پر بھی مدلل گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یہ تعلق عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کا مشروع وسیلہ ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
﴿أَلَيْسَ اللہُ بِكَافٍ عَبْدَهُ﴾ (الزمر: 36)
اور اسی قرآن میں فرمایا:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدۃ: 35)
امام احمد رضا رحمہ اللہ ان دونوں آیات کے درمیان نہایت لطیف تطبیق بیان کرتے ہیں کہ بے شک حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن اسی نے اپنے فضل سے بندوں کو اسباب اور وسائل اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جس طرح علم حاصل کرنے کے لیے استاد، علاج کے لیے طبیب اور حدیث کے لیے سند اختیار کی جاتی ہے، اسی طرح اصلاحِ باطن کے لیے شیخِ کامل کی صحبت بھی اسی نظامِ اسباب کا حصہ ہے۔
ان أئمة الفقهاء والصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم، ويلاحظون أحدهم عند طلوع روحه، وعند سؤال منكر ونكير له، وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط...الخ
یعنی فقہاء اور صوفیہ ائمہ اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے اور ان کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان پر توجہ فرمائیں گے۔
اسی مضمون کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے:
استكثروا من الإخوان فإن لكل مؤمن شفاعة يوم القيامة.
ترجمہ: اللہ کے بکثرت نیک بندوں سے رشتہ و علاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے۔ (نقاء السلافۃ، ص ۳۱، ۳۲)
امام احمد رضا رحمہ اللہ اس حدیث سے یہ نکتہ اخذ فرماتے ہیں کہ جب عام صالح مومن کی شفاعت امید کا سبب ہے تو اولیائے کاملین سے محبت، تعلق اور بیعت کی برکتیں بدرجۂ اولیٰ امید افزا ہوں گی۔
ان تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ بیعت کا مقصد صرف ایک رسمی تعلق قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی روحانی نسبت پیدا کرنا ہے جو انسان کو اتباعِ رسول ﷺ، تزکیۂ نفس، حسنِ اخلاق اور استقامت علی الشریعہ کی منزل تک پہنچائے۔ اسی لیے رسالہ بار بار اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اصل اعتماد شخصیت پر نہیں بلکہ اس نسبت پر ہے جو شیخ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ اور بالآخر اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔ یہی نسبت درحقیقت تصوف کی روح، سلاسلِ طریقت کی بنیاد اور بیعت کی حقیقی غایت ہے۔
خلافتِ عامہ سے مراد وہ اجازت و نیابت ہے جس کے ذریعے کوئی شیخ اپنے کسی مرید کو بیعت لینے، اذکار و اوراد کی تلقین کرنے، طالبانِ حق کی تربیت کرنے اور سلسلۂ طریقت کی اشاعت کا مجاز بناتا ہے۔ یہ محض انتظامی منصب نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری ہے، اور اس میں ایک سے زیادہ خلفاء مقرر کرنا نہ صرف جائز بلکہ سلفِ امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ اسی معنی میں رسولِ اکرم ﷺ کے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے خلفاء تھے، کیونکہ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرۂ عمل میں دین کی تبلیغ، تعلیم اور اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے برخلاف خلافتِ خاصہ یا سجادہ نشینی ایک مخصوص منصب ہے، جس میں کسی شیخ کے وصال یا گوشہ نشینی کے بعد اس کی خانقاہ، تربیتی نظام، اوقاف، خدام اور متعلقہ دینی مصالح کی ذمہ داری ایک شخص کے سپرد کی جاتی ہے۔
اسی اصول کی تائید میں آپ نے فقہِ حنفی کے دو مسلمہ قاعدے ذکر فرمائے:
لا يُنسب إلى ساكتٍ قول، والصريح يفوق الدلالة.
یعنی خاموش شخص کی طرف کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور صریح تصریح، دلالت اور قرائن پر مقدم ہوتی ہے۔
اسی بنا پر آپ یہ اصول بھی بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی شیخ کی متعدد وصیتیں ثابت ہوں اور ان میں باہمی تعارض نہ ہو تو سب پر عمل کیا جائے گا، البتہ اگر بعد والی وصیت پہلی کو منسوخ کرتی ہو تو متاخر وصیت ہی معتبر ہوگی۔ اس پوری بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے خلافت و سجادہ نشینی کو محض جذباتی وابستگی یا خاندانی وراثت کا مسئلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے فقہ، اصول اور شرعی قواعد کی بنیاد پر متعین فرمایا ہے۔
یہاں امام احمد رضا رحمہ اللہ حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہ کی تحقیق نقل کرتے ہوئے خلافت کی مختلف صورتوں کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مشائخ کے نزدیک اصل خلافت وہی ہے جو شیخ کی اجازت اور رضا سے حاصل ہو۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت کسی شخصی دعوے یا محض موروثی استحقاق کا نام نہیں، بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی اہلیت کے ساتھ شیخ کی اجازت کا مجموعہ ہے۔
اسی بحث کے ضمن میں امام احمد رضا رحمہ اللہ نہایت بصیرت افروز انداز میں یہ نکتہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایک شیخ اپنی مصلحتِ نظر کے تحت دو افراد کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دیتا ہے۔ ایک شخص دینی تربیت اور روحانی قیادت میں ممتاز ہوتا ہے، جبکہ دوسرا انتظامی اور مالی معاملات میں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں کو مختلف دائرۂ کار دینا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ اس کا مقصد منصب کی تقسیم نہیں بلکہ مصالحِ دین کی بہتر حفاظت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تصورِ خلافت محض نظری نہیں بلکہ عملی اور انتظامی تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
اسی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے آپ نہایت لطیف مثالیں، اشعار اور نصوص ذکر فرماتے ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کرتے ہیں کہ جس طرح فقہ میں ایک امام کی تقلید نظمِ عمل کو برقرار رکھتی ہے، اسی طرح سلوک میں ایک شیخ کی صحبت انسان کے باطن کو استقامت عطا کرتی ہے۔ تاہم یہ ممانعت تعصب یا دوسرے مشائخ کی تنقیص پر مبنی نہیں، بلکہ نظمِ تربیت اور وحدتِ توجہ کے اصول پر قائم ہے۔ اسی لیے رسالہ یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ اپنے شیخ سے خصوصی تعلق رکھنے کے باوجود دیگر اولیائے کرام اور مشائخِ عظام کے ساتھ حسنِ عقیدت اور احترام باقی رہنا چاہیے۔
الغرض، یہ رسالہ محض چند فقہی سوالات کے جوابات کا مجموعہ نہیں بلکہ بیعت، خلافت اور تصوف کے باب میں اہلِ سنت و جماعت کے متوازن، محققانہ اور معتدل منہج کی بھرپور ترجمانی ہے۔ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے ان مباحث کو نہ جذباتی انداز میں پیش کیا ہے اور نہ محض خانقاہی روایات کے سہارے، بلکہ ہر مسئلے کو قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، اقوالِ ائمہ، قواعدِ فقہیہ اور اکابر صوفیہ کی تصریحات کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ یہی اس رسالے کا وہ امتیاز ہے جو اسے اپنے موضوع پر لکھی جانے والی دیگر مختصر تحریروں سے ممتاز کرتا ہے۔
اسی طرح یہ رسالہ پیر و مرید کے تعلق کو بھی افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک طرف مرید کو اپنے شیخ کے ساتھ ادب، حسنِ ظن، استقامت اور وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ شیخ کی اطاعت صرف انہی امور میں معتبر ہے جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہوں۔ یوں اس رسالے میں نہ شخصیت پرستی کی گنجائش ہے اور نہ آزادیِ نفس کے نام پر روحانی بے راہ روی کی۔
اس مجموعۂ فتاویٰ کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ان شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں تصوف اور بیعت کے خلاف پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ قرآن و حدیث موجود ہیں، لہٰذا مرشد کی ضرورت باقی نہیں، کبھی اولیائے کرام سے توسل اور ان کے فیوض کا انکار کیا گیا، کبھی خلافت و سجادہ نشینی کو محض موروثی حق قرار دیا گیا، اور کبھی تعددِ بیعت کو معمولی مسئلہ سمجھ کر اس کے روحانی نقصانات سے صرفِ نظر کیا گیا۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ نے ان تمام امور پر نہایت مضبوط علمی استدلال کے ساتھ گفتگو فرمائی اور ہر مسئلے میں اہلِ سنت کے مسلک کو واضح کیا۔
jamiaturrazastudents.com
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
- 1 القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی
- 2 حدائقِ بخشش کا گلِ رعنا : مہرِ بخشش
- 3 پھر جھیل اپنا راستہ الگ کیوں نہیں کر لیتی؟
- 4 واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)
- 5 کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟
- 6 خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ
- 7 توقعات کا دھوکہ اور تعلقات کی حد
- 8 ملحد کے ارتقائی مراحل
- 9 سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)
- 10 سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)
- 11 سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)
- 12 سکون کیسے حاصل کریں؟ (7)
- 13 سکون کیسے حاصل کریں ؟(6)
- 14 سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)
- 15 نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
- 16 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۳)
- 17 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۲)
- 18 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)
- 19 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)
- 20 سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)
- 21 ردِ الحاد
- 22 خبر غم
- 23 امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ: عزیمت کے کوہِ ہمالہ
- 24 سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)
- 25 موقعہ پرست لوگ
- 26 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (1)
- 27 سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
- 28 دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
- 29 موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
- 30 فقہ حنفی کی جامعیت
- 31 سخنِ دل
- 32 مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)
- 33 فکر کی روشنی
- 34 لماذا نتعلم اللغة العربية
- 35 دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
- 1 کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے
- 2 دل لگانا بری بلا ہے
- 3 سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو
- 4 دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا
- 5 جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا
- 6 سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے
- 7 چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا
- 8 ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے
- 9 ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے
- 10 جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں
- 11 حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا
- 12 کوئی بات نہیں
- 13 عین شین قاف نہ کر
- 14 کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے
- 15 دردِ دل سے مجھے شفا دے دے
- 16 رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے
- 17 تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا
- 18 حال یہ میری مفلسی کا ہوا
- 19 خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل
- 20 تبسم ریز مثل گل لبوں سے
- 21 آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں
- 22 عشق ہے زہرِ ہلال
- 23 مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں
- 24 صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا
- 25 مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں
- 26 المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ
- 27 سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن
- 28 یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر
- 29 عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں
- 30 میرے مرشد کا عرس آ گیا
- 31 نازشِ اہلِ سنن اختر رضا
- 32 افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر
- 33 حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی
- 34 عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا
- 35 حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا
- 36 حضور ﷺ دیکھیں نا
- 37 العقد الفريد في حمد الرب المجيد
- 38 نعتِ نبیِ کونین ﷺ
- 39 ان ﷺ کے کرم کی بارش
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ پانچویں قسط] چوتھے قطب: حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ #حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ @دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نور کر...
مظلوم مجدد
ہائے رے مظلوم مجدد! صدیاں گزر گئیں، مگر شاید ہی تاریخِ اسلام میں کسی ایسی عظیم علمی و دینی شخصیت پر اتنا ظلم ہوا ہو جتنا امامِ اہلِ سنت، امامِ عشق و محبت، سیدی سرکار...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us