مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
پہلے قطب: امامِ سلسلۂ برکاتیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضور صاحب البرکات شاہ برکت اللّٰہ عشقی علیہ الرحمۃ والرضوان
عشقِ حق دے عشقئؔ عشق انتما کے واسطے (آمین)
شاہِ برکات و برکات پیشینیاں
نَو بَہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان)
آپ کا نام: حضرت سید شاہ ”برکت اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: سلطان المناظرین، سید المتکلمین، شہنشاہِ تقریر و تحریر، مایہ ناز ادیب، سلطان العاشقین، قدوۃ الواصلین، صاحب البرکات اور امامِ سلسلۂ برکاتیہ مشہور ہیں۔ تخلص: اردو و فارسی میں عشقیؔ جبکہ ہندی میں پیمیؔ ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد کا نام سید الراحمین حضرت سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (متوفی: ٢٠؍رجب المرجب ١٠٩٧ھ بمقام بلگرام شریف) ہے اور جد امجد کا اسمِ گرامی مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (ولادت: ٢٠؍رجب المرجب ٩٧٢ھ - متوفی: ٨؍صفر المظفر ١٠٥٧ھ بروز پیر بمقام مارہرہ مطہرہ) ہے۔ حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سند المحققین حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (متوفی: ٣؍رمضان الکریم ١٠١٧ھ) کے سب سے بڑے شہزادے ہیں۔ (مکمل نسب شریف حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ میں مذکور ہے) حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے برادران کا نام حضرت سید شاہ عظمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رحمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رہبر ہے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مبارکہ ٢٦؍جمادی الآخر ١٠٧٠ھ کو بلگرام شریف میں ہوئی۔
مارہرہ مطہرہ میں سب سے پہلے حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ پھر آپ کے بڑے شہزادے سیدنا میر عبدالجلیل رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنی سجادہ نشینی کو ترک فرماکر مارہرہ مطہرہ تشریف لے آئے اور بلگرام شریف میں حضرت سید میر محمد طیب بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ سید میر عبدالجلیل بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے شہزادے سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز بلگرام شریف میں رہے اور وہیں وصالِ ظاہری ہوا۔ پھر سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز کے شہزادے حضرت سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشؔقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضرت اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کے زمانہ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لائے۔ اس وقت چند افغانیوں کی مکان تھے جو قومِ گونڈل کہلاتے تھے۔ ان سب نے حضور صاحب البرکات کو بہت تکلیف دی یہاں تک کہ حضور صاحب البرکات کی دعا سے چند ہی دن میں سب ہلاک ہو گئے۔ حضور صاحب البرکات نے دوبارہ بلگرام شریف جانے کا ارادہ فرمایا تو فرید خان عامل مارہرہ کی اصرار پر ارادہ ترک فرما کر وہیں قیام فرما رہے۔ اس وقت مارہرہ شریف کے قطب حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ تھے۔ بڑے کمال سالک تھے، ”خرؔد“ تخلص فرماتے تھے، ”بوستانِ خرد“ سید جلال کی مشہور تصنیف ہے۔
سب سے پہلے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت اپنے والد ماجد حضور میر اویس رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
فص الکلمات میں ہے: ایک رات حضور صاحب البرکات رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو حضور پیرانِ پیر سیدنا غوث الاعظم دستگیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضور محبوبِ سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت عطا فرمائی کہ آپ پشتہا پشت کے لیے مارہرہ مطہرہ کے قطب مقرر کیے گئے ہیں۔ جلد از جلد کسی مرید کو کلیر بھیجیں تاکہ آپ کو اس ولایت و قطبیت کی سند مع خلعت کے دی جائے۔ صبح حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اطلاع حضرت سید جلال قدس سرہٗ کو دی تو سید جلال علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ”جس جگہ جمال ہو وہاں جلال کی کیا ضرورت ؟ جب عاشق آئے تو عقل کیوں باقی کیسے باقی رہے ؟“ اسی کے ساتھ حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ کا وصال ہوا۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پیم نگر برکاتی نگری آباد فرمائی جو ابھی بستی پیر زادگان کے نام سے مشہور ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سلطان الاولیاء غوث پاک رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے عشق میں سرشار رہتے تھے۔ کبھی سیرابی نہ ملتی۔ اسی عشق میں ڈوب کر کالپی شریف تشریف لے گئے اور شیخ طریقت ولئ نعمت حضور سید شاہ مخدوم فضل اللّٰہ کالپوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ سرکار کالپی نے قطب مارہرہ شریف کا استقبال سینے سے لگا کر کیا اور اپنی ٹوپی عطا فرمائی اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”دریا بہ دریا پیوست“ (دریا دریا سے مل گیا) پھر سلسلۂ قادریہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔ اور پھر اسی کلمے سے ہی حضور فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہمارے حضور سرکار صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرا دی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:
بادشاہِ کالپی ہمہ پیماں نوشتہ اند
عشقؔیا راہش ز شاہِ کالپی پرسید نیست
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکارِ بغداد، سلطانُ الاولیاء، محبوبِ سبحانی، غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بے انتہا عقیدت، محبت اور روحانی نسبت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آپ کو سلاسلِ اربعہ؛ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت حاصل تھی، تاہم آپ خاص طور پر سلسلۂ قادریہ ہی میں بیعت فرمایا کرتے اور اپنے مریدین کو بھی اسی چشمۂ فیض سے سیراب فرماتے تھے۔ آپ کی توجہات کا مرکز بھی زیادہ تر فیضانِ غوثیت ہی رہا۔ بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اور آپ کے مریدین و متوسلین کو ایک عظیم بشارت اور خصوصی سعادت عطا ہوئی۔ روایت ہے کہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کی شفاعت کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کی قسم! میں جنت میں قدم نہیں رکھوں گا جب تک تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کو جنت میں داخل نہ کرا دوں۔“
یہ بشارت درحقیقت اس عظیم روحانی تعلق، قلبی وابستگی اور فیضانِ غوثیت کا روشن مظہر ہے جو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادۂ عالیہ کو بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آل میں سات قطب پیدا ہونے کی بشارت فرماتے ہوئے حضرت بو علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے ذریعے اپنی تسبیح کے سات دانے اس بشارت کی تصدیق میں عطا فرمائے۔ ساتھ ہی سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس پر صبح قیامت تک برکاتی غلام فخر بھی کریں گے اور مطمئن بھی رہیں گے۔ سرکار بغداد نے ارشاد فرمایا: ”برکت اللّٰہ! عبد القادر جب تک تیرے مریدوں کو جنت میں نہ داخل کرادے گا خود جنت میں داخل نہ ہوگا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ آپ نے سلوک و تصوف کی ان تمام منزلوں کو طے فرمایا جس کے بعد مقام محبوبیت اور تاج ولایت حاصل ہوتا ہے۔ عبادتوں کا یہ عالم تھا کہ تاریخ داں لکھتے ہیں کہ 26؍سال مسلسل حالت روزہ میں رہے اور کھجور اور قلیل غذا سے افطار فرماتے ہوئے بیشتر وقت یاد الٰہی میں غرق رہتے اور مدتوں رات بھر بیدار اور مشغول عبادت رہتے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سلسلۂ قادریہ میں مرید فرماتے تھے۔
حضرت سیدنا شاہ اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”آئینِ احمدی“ میں تحریر فرماتے ہیں: شیخ سدو انسانی نسل ہی کا ایک فرد تھا۔ اس کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے، جب برصغیر میں عادل و منصف بادشاہ حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم تھی۔ وہ کلکتہ کے نواحی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک نہایت مؤثر عمل کا عامل مشہور تھا، جو اونٹ کے بالوں پر پڑھا جاتا تھا۔
شیخ سدو نہایت بدخصلت اور نفسانی خواہشات کا غلام تھا۔ گناہوں سے اسے اس قدر پیار ہو چکا تھا کہ دن رات برے افعال اور ناپسندیدہ حرکات میں مشغول رہتا۔ اپنی تسخیری قوت اور موکّلوں کے ذریعے وہ ہر روز کسی نئی عورت کو اپنے پاس بلواتا اور اپنی شہوانی خواہشات پوری کرتا۔ اگرچہ اس کے موکل اس کے ان خلافِ شرع افعال سے خوش نہ تھے، لیکن اس کے زیرِ اثر ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔
اس کا معمول تھا کہ جب کسی گناہ میں مبتلا ہوتا تو اپنے گرد ایک خاص حصار قائم کر لیتا اور احتیاطاً پانی بھی اپنے پاس رکھ لیتا۔ ایک روز اتفاقاً وہ پانی حصار میں رکھنا بھول گیا۔ جب اپنے فعلِ بد سے فارغ ہوا اور پانی طلب کیا تو موکلوں کو پکارا۔ موکل مدت سے اسی موقع کے منتظر تھے کہ کب اسے انجام تک پہنچائیں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً اسے قابو کر لیا اور ایک بلند پہاڑی سے نیچے گرا کر ہلاک کر دیا۔
شیخ سدو اپنی تسخیری قوتوں اور شعبدہ بازیوں کے باعث عوام کے دلوں پر گہرا اثر جما چکا تھا۔ بہت سے لوگ اس کے معتقد بن گئے تھے۔ وہ اپنی عقیدت مندی کا اظہار اس کی نذر و نیاز، چڑھاووں اور مختلف رسموں کے ذریعے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کا اثر مارہرہ مطہرہ تک پہنچ گیا، کیونکہ وہاں کے بعض لوگوں کے رشتہ دار اس کے علاقوں میں آباد تھے اور انہی کے ذریعے یہ رسمیں وہاں رائج ہو گئی تھیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان:
جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ مارہرہ شریف تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ شیخ سدو کے نام کی نیازیں دلا رہے ہیں، کڑھائیاں چڑھا رہے ہیں اور طرح طرح کی رسمیں ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے فوراً انہیں شریعتِ مطہرہ کا حکم بتایا اور سمجھایا کہ ایک بدکردار اور گمراہ شخص کے ساتھ عقیدت وابستہ رکھنا جائز نہیں۔ آپ کے مخلصانہ اور پراثر کلمات لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے اور رفتہ رفتہ وہ اس باطل رسم سے باز آنے لگے۔
شیخ سدو کا مقابلہ:
لوگوں کا رجحان اپنی طرف سے ہٹتا دیکھ کر شیخ سدو سخت پریشان ہوا۔ ایک دن وہ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”تم نہ خود میرے معتقد ہوئے ہو اور نہ دوسروں کو میرے پاس آنے دیتے ہو، لہٰذا میں تم سے مقابلہ کروں گا۔“ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلال بھرے انداز میں اسے ڈانٹا تو وہ خوف زدہ ہو کر فوراً بھاگ گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ سال میں دو مرتبہ ایک مخصوص مقام پر جا کر اربعین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ اسی مقام پر تشریف فرما تھے کہ غسل کی ضرورت پیش آئی۔ آپ دریا کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شیخ سدو آ پہنچا اور نہایت غضب ناک لہجے میں کہنے لگا: ”تم نے مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے، آج میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا اور تمہیں جلا کر خاک کر دوں گا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے نرمی سے سمجھایا اور فرمایا: ”فقیروں سے الجھنا تیرے حق میں بہتر نہیں۔“ لیکن جب وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اچھا! تو مجھے جلانا چاہتا ہے، پہلے اپنا انجام دیکھ لے۔“ یہ فرما کر آپ نے غسل فرمایا اور اپنی روحانی قوت سے اس پر ایک مضبوط حصار قائم کر فرمائی۔ پھر حصار کو بتدریج تنگ کرتے گئے، یہاں تک کہ وہ بے بس ہو گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میں چاہوں تو اسی وقت تجھے نیست و نابود کر سکتا ہوں۔“ یہ سن کر وہ چیخنے چلانے لگا، عاجزی و زاری کرنے لگا اور رہائی کی بھیک مانگنے لگا۔ آخرکار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے عہد لیا کہ: (١) وہ کبھی آپ کے مریدوں اور متوسلین کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (٢) جہاں آپ یا آپ کی اولاد موجود ہوگی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ (٣) اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد کسی مقام پر تشریف لے جائے گا تو وہ وہاں سے اپنا اثر اور عمل دخل ختم کر دے گا۔
شیخ سدو نے یہ تمام شرائط قبول کر لیں۔ روایت ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہا اور آج تک اس کی نسبت یہی مشہور ہے کہ وہ حضرت صاحب البرکات اور ان کے خاندان کے زیرِ نسبت مقامات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
جب مارہرہ مطہرہ کی روحانی قیادت اور قطبیت کا تاج حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرِ اقدس پر جلوہ گر ہوا اور آپ اس مقدس سرزمین میں تشریف لائے تو اپنے جدِ امجد حضرت سید عبدالجلیل قدس سرہٗ کی خانقاہِ مبارکہ میں قیام فرمایا۔ اس زمانے میں خانقاہ کے اطراف قومِ گونڈل کے مکانات آباد تھے اور پورا علاقہ ہنود سے بھرا ہوا تھا۔
قومِ گونڈل اپنی فطری شرارت، فساد پسندی اور بداعمالیوں کے باعث مشہور تھی۔ خصوصاً فسق و فجور اور بے راہ روی اس قوم میں اس قدر عام ہو چکی تھی کہ نصیحت و تنبیہ کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ آئے دن طرح طرح کی شرارتیں کرتے اور خفیہ انداز میں اہلِ خانقاہ کو تکلیف پہنچاتے۔ جب ان سے باز پرس کی جاتی تو صاف انکار کر جاتے اور اپنی حرکتوں سے مکر جاتے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدت تک ان کی ایذاؤں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت فرمایا اور کبھی قصبے کے رؤساء و زعماء سے شکایت نہ کی۔ مگر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی اور انہوں نے ایک روز عین اس وقت، جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں مشغول تھے، خانقاہِ معلیٰ کے اندر سَفَل (بھنگ) پھینک دی، تو آپ پر جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ اپنی شرارتوں سے کسی طرح باز نہیں آتے!“ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کی زبانِ فیض ترجمان سے یہ کلمات ادا ہونا تھے کہ قومِ گونڈل پر آفات و مصائب کے دروازے کھل گئے۔ بلاؤں اور آزمائشوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ برسوں تک ان کی حالت زار قابلِ عبرت بنی رہی۔ یہاں تک کہ ان میں سے جس شخص کی عمر تیس برس کے قریب پہنچتی، وہ موت کا شکار ہو جاتا۔ بہت سے خاندان بالکل نیست و نابود ہو گئے اور بعض گھرانے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا، یہاں تک کہ آخرکار قومِ گونڈل کے بعض افراد نے رجوع کیا اور نور العارفین حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گئے اور اپنے آپ کو ان کی نذر کر دیا۔
اس کے بعد ان پر سے یہ مصیبت ٹل گئی اور بلا کا زور کم ہو گیا، لیکن اس واقعہ نے اس مفسد قوم کو ایسا سبق دیا کہ ان کی سابقہ شوکت، قوت اور سرکشی ہمیشہ کے لیے ماند پڑ گئی اور ان کی شرارتوں کا باب بڑی حد تک بند ہو گیا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ادب، شعر و سخن اور فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنے عہد کی ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھے۔ آپ کی علمی وسعت اور ادبی عظمت کا یہ عالم تھا کہ عربی، فارسی اور اردو کے علاوہ ہندی اور سنسکرت زبانوں پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔ مختلف زبانوں کے علوم و فنون میں آپ کی مہارت اہلِ علم سے مسلم تھی اور آپ کی تصانیف و منظومات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔ آپ کی شاعرانہ عظمت اور ادبی مقام کا اعتراف بڑے بڑے محققین اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔ حضرت علامہ آزاد بلگرامی اپنی مشہور و معروف کتاب مآثر الکرام میں لکھتے ہیں کہ: ”شاہ برکت اللہ پیمی نے پیامی شاعری کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کر لی۔“
شاعری کے میدان میں آپ فارسی و عربی کلام میں ”عشؔقی“ اور ہندی شاعری میں ”پیؔمی“ تخلص استعمال فرماتے تھے۔ آپ کا کلام عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، تصوف اور اخلاقی تعلیمات کا حسین مرقع ہے۔ عربی میں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
یا نبی الهدیٰ سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
سید الاصفیاء سلام علیک
اعظم الخلق اشرف الشفا
افضل الاذکیاء سلام علیک
ھذا قول غلامک عشؔقی
منه یا مصطفیٰ ﷺ سلام علیک
ست، نیتی اور لاج اتی بدیا بوجھ سبحان
مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرن کی چھین
ایک تو چاہیں ادھک کے ایک تو دیکھیں این
چند مشہور خلفاء کے نام یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل محمد، شاہ مشتاق البرکات، شاہ من اللّٰه (علی شیر خان)، شاہ راجو، شاہ صادق رحمۃ اللّٰه تعالیٰ علیہم۔
چند مشہور کارنامے یہ ہیں: ہندوستان میں سلسلۂ قادریہ کا فروغ، تصوف کی تعلیمات کو شاعری میں عام کرنا، سلسلۂ برکاتیہ کی بنیاد، لوگوں کو گمراہی سے بچانا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٠؍محرم الحرام ١١٤٢ھ ٧٢؍سال کی عمر شریف میں ہوا اور جنت الفردوس تشریف لے گئے۔ نواب محمد خان بنگش مظفر جنگ والی فرخ آباد نے باہتمام شجاعت خان ١١٤٢ھ میں گنبد شریف تعمیر کیا۔
مزار اقدس: مارہرہ مطہرہ میں حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی قبر شریف کے ٹھیک اوپر خوبصورت سفید گنبد ہے۔
حضور سلطان العاشقین، صاحب البرکات سرکار امام سلسلۂ برکاتیہ سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشقی و پیمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ وافیہ بیگم قدس سرہا بنت حضرت سید مودود بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادے (١) حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور (٢) حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ اور تین شہزادیاں (١) بی بی بدھن (٢) ننھی بی (٣) نام معلوم نہیں۔
jamiaturrazastudents.com
بارک اللہ اے مبارک بادشاہ امداد کن
عشقی اے مقتولِ عشق اے خوں بہایت عین ذات
اے زِ جاں بگزشتہ جاناں واصلا امداد کن
بے خدا و با خدا آلِ محمد مصطفٰی
سیدا حق واجدا اے مقتدا امداد کن
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
پہلے قطب: امامِ سلسلۂ برکاتیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضور صاحب البرکات شاہ برکت اللّٰہ عشقی علیہ الرحمۃ والرضوان
عشقِ حق دے عشقئؔ عشق انتما کے واسطے (آمین)
شاہِ برکات و برکات پیشینیاں
نَو بَہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان)
آپ کا نام: حضرت سید شاہ ”برکت اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: سلطان المناظرین، سید المتکلمین، شہنشاہِ تقریر و تحریر، مایہ ناز ادیب، سلطان العاشقین، قدوۃ الواصلین، صاحب البرکات اور امامِ سلسلۂ برکاتیہ مشہور ہیں۔ تخلص: اردو و فارسی میں عشقیؔ جبکہ ہندی میں پیمیؔ ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد کا نام سید الراحمین حضرت سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (متوفی: ٢٠؍رجب المرجب ١٠٩٧ھ بمقام بلگرام شریف) ہے اور جد امجد کا اسمِ گرامی مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (ولادت: ٢٠؍رجب المرجب ٩٧٢ھ - متوفی: ٨؍صفر المظفر ١٠٥٧ھ بروز پیر بمقام مارہرہ مطہرہ) ہے۔ حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سند المحققین حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (متوفی: ٣؍رمضان الکریم ١٠١٧ھ) کے سب سے بڑے شہزادے ہیں۔ (مکمل نسب شریف حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ میں مذکور ہے) حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے برادران کا نام حضرت سید شاہ عظمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رحمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رہبر ہے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مبارکہ ٢٦؍جمادی الآخر ١٠٧٠ھ کو بلگرام شریف میں ہوئی۔
مارہرہ مطہرہ میں سب سے پہلے حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ پھر آپ کے بڑے شہزادے سیدنا میر عبدالجلیل رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنی سجادہ نشینی کو ترک فرماکر مارہرہ مطہرہ تشریف لے آئے اور بلگرام شریف میں حضرت سید میر محمد طیب بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ سید میر عبدالجلیل بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے شہزادے سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز بلگرام شریف میں رہے اور وہیں وصالِ ظاہری ہوا۔ پھر سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز کے شہزادے حضرت سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشؔقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضرت اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کے زمانہ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لائے۔ اس وقت چند افغانیوں کی مکان تھے جو قومِ گونڈل کہلاتے تھے۔ ان سب نے حضور صاحب البرکات کو بہت تکلیف دی یہاں تک کہ حضور صاحب البرکات کی دعا سے چند ہی دن میں سب ہلاک ہو گئے۔ حضور صاحب البرکات نے دوبارہ بلگرام شریف جانے کا ارادہ فرمایا تو فرید خان عامل مارہرہ کی اصرار پر ارادہ ترک فرما کر وہیں قیام فرما رہے۔ اس وقت مارہرہ شریف کے قطب حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ تھے۔ بڑے کمال سالک تھے، ”خرؔد“ تخلص فرماتے تھے، ”بوستانِ خرد“ سید جلال کی مشہور تصنیف ہے۔
سب سے پہلے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت اپنے والد ماجد حضور میر اویس رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
فص الکلمات میں ہے: ایک رات حضور صاحب البرکات رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو حضور پیرانِ پیر سیدنا غوث الاعظم دستگیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضور محبوبِ سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت عطا فرمائی کہ آپ پشتہا پشت کے لیے مارہرہ مطہرہ کے قطب مقرر کیے گئے ہیں۔ جلد از جلد کسی مرید کو کلیر بھیجیں تاکہ آپ کو اس ولایت و قطبیت کی سند مع خلعت کے دی جائے۔ صبح حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اطلاع حضرت سید جلال قدس سرہٗ کو دی تو سید جلال علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ”جس جگہ جمال ہو وہاں جلال کی کیا ضرورت ؟ جب عاشق آئے تو عقل کیوں باقی کیسے باقی رہے ؟“ اسی کے ساتھ حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ کا وصال ہوا۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پیم نگر برکاتی نگری آباد فرمائی جو ابھی بستی پیر زادگان کے نام سے مشہور ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سلطان الاولیاء غوث پاک رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے عشق میں سرشار رہتے تھے۔ کبھی سیرابی نہ ملتی۔ اسی عشق میں ڈوب کر کالپی شریف تشریف لے گئے اور شیخ طریقت ولئ نعمت حضور سید شاہ مخدوم فضل اللّٰہ کالپوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ سرکار کالپی نے قطب مارہرہ شریف کا استقبال سینے سے لگا کر کیا اور اپنی ٹوپی عطا فرمائی اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”دریا بہ دریا پیوست“ (دریا دریا سے مل گیا) پھر سلسلۂ قادریہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔ اور پھر اسی کلمے سے ہی حضور فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہمارے حضور سرکار صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرا دی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:
بادشاہِ کالپی ہمہ پیماں نوشتہ اند
عشقؔیا راہش ز شاہِ کالپی پرسید نیست
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکارِ بغداد، سلطانُ الاولیاء، محبوبِ سبحانی، غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بے انتہا عقیدت، محبت اور روحانی نسبت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آپ کو سلاسلِ اربعہ؛ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت حاصل تھی، تاہم آپ خاص طور پر سلسلۂ قادریہ ہی میں بیعت فرمایا کرتے اور اپنے مریدین کو بھی اسی چشمۂ فیض سے سیراب فرماتے تھے۔ آپ کی توجہات کا مرکز بھی زیادہ تر فیضانِ غوثیت ہی رہا۔ بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اور آپ کے مریدین و متوسلین کو ایک عظیم بشارت اور خصوصی سعادت عطا ہوئی۔ روایت ہے کہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کی شفاعت کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کی قسم! میں جنت میں قدم نہیں رکھوں گا جب تک تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کو جنت میں داخل نہ کرا دوں۔“
یہ بشارت درحقیقت اس عظیم روحانی تعلق، قلبی وابستگی اور فیضانِ غوثیت کا روشن مظہر ہے جو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادۂ عالیہ کو بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آل میں سات قطب پیدا ہونے کی بشارت فرماتے ہوئے حضرت بو علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے ذریعے اپنی تسبیح کے سات دانے اس بشارت کی تصدیق میں عطا فرمائے۔ ساتھ ہی سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس پر صبح قیامت تک برکاتی غلام فخر بھی کریں گے اور مطمئن بھی رہیں گے۔ سرکار بغداد نے ارشاد فرمایا: ”برکت اللّٰہ! عبد القادر جب تک تیرے مریدوں کو جنت میں نہ داخل کرادے گا خود جنت میں داخل نہ ہوگا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ آپ نے سلوک و تصوف کی ان تمام منزلوں کو طے فرمایا جس کے بعد مقام محبوبیت اور تاج ولایت حاصل ہوتا ہے۔ عبادتوں کا یہ عالم تھا کہ تاریخ داں لکھتے ہیں کہ 26؍سال مسلسل حالت روزہ میں رہے اور کھجور اور قلیل غذا سے افطار فرماتے ہوئے بیشتر وقت یاد الٰہی میں غرق رہتے اور مدتوں رات بھر بیدار اور مشغول عبادت رہتے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سلسلۂ قادریہ میں مرید فرماتے تھے۔
حضرت سیدنا شاہ اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”آئینِ احمدی“ میں تحریر فرماتے ہیں: شیخ سدو انسانی نسل ہی کا ایک فرد تھا۔ اس کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے، جب برصغیر میں عادل و منصف بادشاہ حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم تھی۔ وہ کلکتہ کے نواحی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک نہایت مؤثر عمل کا عامل مشہور تھا، جو اونٹ کے بالوں پر پڑھا جاتا تھا۔
شیخ سدو نہایت بدخصلت اور نفسانی خواہشات کا غلام تھا۔ گناہوں سے اسے اس قدر پیار ہو چکا تھا کہ دن رات برے افعال اور ناپسندیدہ حرکات میں مشغول رہتا۔ اپنی تسخیری قوت اور موکّلوں کے ذریعے وہ ہر روز کسی نئی عورت کو اپنے پاس بلواتا اور اپنی شہوانی خواہشات پوری کرتا۔ اگرچہ اس کے موکل اس کے ان خلافِ شرع افعال سے خوش نہ تھے، لیکن اس کے زیرِ اثر ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔
اس کا معمول تھا کہ جب کسی گناہ میں مبتلا ہوتا تو اپنے گرد ایک خاص حصار قائم کر لیتا اور احتیاطاً پانی بھی اپنے پاس رکھ لیتا۔ ایک روز اتفاقاً وہ پانی حصار میں رکھنا بھول گیا۔ جب اپنے فعلِ بد سے فارغ ہوا اور پانی طلب کیا تو موکلوں کو پکارا۔ موکل مدت سے اسی موقع کے منتظر تھے کہ کب اسے انجام تک پہنچائیں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً اسے قابو کر لیا اور ایک بلند پہاڑی سے نیچے گرا کر ہلاک کر دیا۔
شیخ سدو اپنی تسخیری قوتوں اور شعبدہ بازیوں کے باعث عوام کے دلوں پر گہرا اثر جما چکا تھا۔ بہت سے لوگ اس کے معتقد بن گئے تھے۔ وہ اپنی عقیدت مندی کا اظہار اس کی نذر و نیاز، چڑھاووں اور مختلف رسموں کے ذریعے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کا اثر مارہرہ مطہرہ تک پہنچ گیا، کیونکہ وہاں کے بعض لوگوں کے رشتہ دار اس کے علاقوں میں آباد تھے اور انہی کے ذریعے یہ رسمیں وہاں رائج ہو گئی تھیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان:
جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ مارہرہ شریف تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ شیخ سدو کے نام کی نیازیں دلا رہے ہیں، کڑھائیاں چڑھا رہے ہیں اور طرح طرح کی رسمیں ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے فوراً انہیں شریعتِ مطہرہ کا حکم بتایا اور سمجھایا کہ ایک بدکردار اور گمراہ شخص کے ساتھ عقیدت وابستہ رکھنا جائز نہیں۔ آپ کے مخلصانہ اور پراثر کلمات لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے اور رفتہ رفتہ وہ اس باطل رسم سے باز آنے لگے۔
شیخ سدو کا مقابلہ:
لوگوں کا رجحان اپنی طرف سے ہٹتا دیکھ کر شیخ سدو سخت پریشان ہوا۔ ایک دن وہ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”تم نہ خود میرے معتقد ہوئے ہو اور نہ دوسروں کو میرے پاس آنے دیتے ہو، لہٰذا میں تم سے مقابلہ کروں گا۔“ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلال بھرے انداز میں اسے ڈانٹا تو وہ خوف زدہ ہو کر فوراً بھاگ گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ سال میں دو مرتبہ ایک مخصوص مقام پر جا کر اربعین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ اسی مقام پر تشریف فرما تھے کہ غسل کی ضرورت پیش آئی۔ آپ دریا کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شیخ سدو آ پہنچا اور نہایت غضب ناک لہجے میں کہنے لگا: ”تم نے مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے، آج میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا اور تمہیں جلا کر خاک کر دوں گا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے نرمی سے سمجھایا اور فرمایا: ”فقیروں سے الجھنا تیرے حق میں بہتر نہیں۔“ لیکن جب وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اچھا! تو مجھے جلانا چاہتا ہے، پہلے اپنا انجام دیکھ لے۔“ یہ فرما کر آپ نے غسل فرمایا اور اپنی روحانی قوت سے اس پر ایک مضبوط حصار قائم کر فرمائی۔ پھر حصار کو بتدریج تنگ کرتے گئے، یہاں تک کہ وہ بے بس ہو گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میں چاہوں تو اسی وقت تجھے نیست و نابود کر سکتا ہوں۔“ یہ سن کر وہ چیخنے چلانے لگا، عاجزی و زاری کرنے لگا اور رہائی کی بھیک مانگنے لگا۔ آخرکار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے عہد لیا کہ: (١) وہ کبھی آپ کے مریدوں اور متوسلین کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (٢) جہاں آپ یا آپ کی اولاد موجود ہوگی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ (٣) اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد کسی مقام پر تشریف لے جائے گا تو وہ وہاں سے اپنا اثر اور عمل دخل ختم کر دے گا۔
شیخ سدو نے یہ تمام شرائط قبول کر لیں۔ روایت ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہا اور آج تک اس کی نسبت یہی مشہور ہے کہ وہ حضرت صاحب البرکات اور ان کے خاندان کے زیرِ نسبت مقامات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
جب مارہرہ مطہرہ کی روحانی قیادت اور قطبیت کا تاج حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرِ اقدس پر جلوہ گر ہوا اور آپ اس مقدس سرزمین میں تشریف لائے تو اپنے جدِ امجد حضرت سید عبدالجلیل قدس سرہٗ کی خانقاہِ مبارکہ میں قیام فرمایا۔ اس زمانے میں خانقاہ کے اطراف قومِ گونڈل کے مکانات آباد تھے اور پورا علاقہ ہنود سے بھرا ہوا تھا۔
قومِ گونڈل اپنی فطری شرارت، فساد پسندی اور بداعمالیوں کے باعث مشہور تھی۔ خصوصاً فسق و فجور اور بے راہ روی اس قوم میں اس قدر عام ہو چکی تھی کہ نصیحت و تنبیہ کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ آئے دن طرح طرح کی شرارتیں کرتے اور خفیہ انداز میں اہلِ خانقاہ کو تکلیف پہنچاتے۔ جب ان سے باز پرس کی جاتی تو صاف انکار کر جاتے اور اپنی حرکتوں سے مکر جاتے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدت تک ان کی ایذاؤں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت فرمایا اور کبھی قصبے کے رؤساء و زعماء سے شکایت نہ کی۔ مگر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی اور انہوں نے ایک روز عین اس وقت، جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں مشغول تھے، خانقاہِ معلیٰ کے اندر سَفَل (بھنگ) پھینک دی، تو آپ پر جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ اپنی شرارتوں سے کسی طرح باز نہیں آتے!“ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کی زبانِ فیض ترجمان سے یہ کلمات ادا ہونا تھے کہ قومِ گونڈل پر آفات و مصائب کے دروازے کھل گئے۔ بلاؤں اور آزمائشوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ برسوں تک ان کی حالت زار قابلِ عبرت بنی رہی۔ یہاں تک کہ ان میں سے جس شخص کی عمر تیس برس کے قریب پہنچتی، وہ موت کا شکار ہو جاتا۔ بہت سے خاندان بالکل نیست و نابود ہو گئے اور بعض گھرانے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا، یہاں تک کہ آخرکار قومِ گونڈل کے بعض افراد نے رجوع کیا اور نور العارفین حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گئے اور اپنے آپ کو ان کی نذر کر دیا۔
اس کے بعد ان پر سے یہ مصیبت ٹل گئی اور بلا کا زور کم ہو گیا، لیکن اس واقعہ نے اس مفسد قوم کو ایسا سبق دیا کہ ان کی سابقہ شوکت، قوت اور سرکشی ہمیشہ کے لیے ماند پڑ گئی اور ان کی شرارتوں کا باب بڑی حد تک بند ہو گیا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ادب، شعر و سخن اور فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنے عہد کی ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھے۔ آپ کی علمی وسعت اور ادبی عظمت کا یہ عالم تھا کہ عربی، فارسی اور اردو کے علاوہ ہندی اور سنسکرت زبانوں پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔ مختلف زبانوں کے علوم و فنون میں آپ کی مہارت اہلِ علم سے مسلم تھی اور آپ کی تصانیف و منظومات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔ آپ کی شاعرانہ عظمت اور ادبی مقام کا اعتراف بڑے بڑے محققین اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔ حضرت علامہ آزاد بلگرامی اپنی مشہور و معروف کتاب مآثر الکرام میں لکھتے ہیں کہ: ”شاہ برکت اللہ پیمی نے پیامی شاعری کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کر لی۔“
شاعری کے میدان میں آپ فارسی و عربی کلام میں ”عشؔقی“ اور ہندی شاعری میں ”پیؔمی“ تخلص استعمال فرماتے تھے۔ آپ کا کلام عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، تصوف اور اخلاقی تعلیمات کا حسین مرقع ہے۔ عربی میں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
یا نبی الهدیٰ سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
سید الاصفیاء سلام علیک
اعظم الخلق اشرف الشفا
افضل الاذکیاء سلام علیک
ھذا قول غلامک عشؔقی
منه یا مصطفیٰ ﷺ سلام علیک
ست، نیتی اور لاج اتی بدیا بوجھ سبحان
مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرن کی چھین
ایک تو چاہیں ادھک کے ایک تو دیکھیں این
چند مشہور خلفاء کے نام یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل محمد، شاہ مشتاق البرکات، شاہ من اللّٰه (علی شیر خان)، شاہ راجو، شاہ صادق رحمۃ اللّٰه تعالیٰ علیہم۔
چند مشہور کارنامے یہ ہیں: ہندوستان میں سلسلۂ قادریہ کا فروغ، تصوف کی تعلیمات کو شاعری میں عام کرنا، سلسلۂ برکاتیہ کی بنیاد، لوگوں کو گمراہی سے بچانا۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٠؍محرم الحرام ١١٤٢ھ ٧٢؍سال کی عمر شریف میں ہوا اور جنت الفردوس تشریف لے گئے۔ نواب محمد خان بنگش مظفر جنگ والی فرخ آباد نے باہتمام شجاعت خان ١١٤٢ھ میں گنبد شریف تعمیر کیا۔
مزار اقدس: مارہرہ مطہرہ میں حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی قبر شریف کے ٹھیک اوپر خوبصورت سفید گنبد ہے۔
حضور سلطان العاشقین، صاحب البرکات سرکار امام سلسلۂ برکاتیہ سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشقی و پیمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ وافیہ بیگم قدس سرہا بنت حضرت سید مودود بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادے (١) حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور (٢) حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ اور تین شہزادیاں (١) بی بی بدھن (٢) ننھی بی (٣) نام معلوم نہیں۔
jamiaturrazastudents.com
بارک اللہ اے مبارک بادشاہ امداد کن
عشقی اے مقتولِ عشق اے خوں بہایت عین ذات
اے زِ جاں بگزشتہ جاناں واصلا امداد کن
بے خدا و با خدا آلِ محمد مصطفٰی
سیدا حق واجدا اے مقتدا امداد کن
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 2 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 3 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 4 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 5 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 6 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 7 اخلاص
- 8 کسی کا انتظار ہے
- 9 انتظار
- 10 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 24 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 26 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 27 اسلام اور رزقِ حلال
- 28 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط] دوسرے قطب: سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ و حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ #برہان الموحدین شاہ آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ...
اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری
اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری آج ایک پرچہ دارالعلوم دیوبند کے ششماہی امتحان کا نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا: * رضاخانیت*۔(یعنی رد مسلک اعلیٰ حضرت...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us