صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات
تحقیق و تعاقب

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات
تحریر: الدکتور عبد الدائم الجندی المصری
الامین العام لمجمع البحوث الاسلامیہ
ترجمہ: محمد جسیم أکرم المرکزی
جامعۃ الازہر، القاہرة، مصر
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا و مولانا محمد كريم الآباء والأمهات.
أما بعد :
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بعض سوالات نوجوان نسل کو شش و پنج میں ڈال میں دیا ہے تو میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر امید لگاتے ہوئے مناسب سمجھا کہ چار سوالات کے جوابات دے دوں [تاکہ ان کے قلوب و اذہان میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت جاگزیں ہو جائے]
پہلا سوال :
کیا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت مذمومہ/ سیئہ ہے
جواب:
یہ بدعت سیئہ/ مذمومہ نہیں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں :
بدعت لغوی: اسے احکام خمسہ [فرض، واجب، مستحب، مکروہ، حرام] لاحق ہوتے ہیں،
اور بدعت شرعیہ سیئہ، پس پہلی قسم یعنی بدعت لغوی سے مراد ہر نئی چیز ہے خواہ وہ عادت سے متعلق ہو یا عبادت سے،
اور دوسری قسم سے مراد وہ چیز ہے جو تین زمانے کے گزر جانے کے بعد بطور اطاعت شریعت پر بڑھائی گئی ہو جس کی شارع نے اجازت نہ قول کے ذریعے دی ہو، نہ فعل سے، نہ تصریح سے، نہ اشارہ سے یہی وہ بدعت ہے جس پر گمراہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔
اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک امر حسن ہے جو اصولِ شریعت کے تحت داخل ہوتا ہے اس لیے کہ ہر وہ عمل جو اسلامی معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہو اور وہ کسی نص صریح یا ایسی معلوم و مسلم بات کے خلاف نہ ہو جو ضروریات دین میں سے ہو تو اسلام اسے منع نہیں کرتا ہے۔
اور ہم نے دیکھا ہے جن قوموں کی تاریخ یادگار واقعات اور عبقری شخصیات سے خالی ہوتی ہے وہ اپنے لیے اپنی فرضی یادگاریں اور شخصیات گڑھ لیتی ہیں تاکہ ان فرضی یادگار اور شخصیات پر فخر کر کے اپنی فطری خواہش پوری کر سکے۔
حضرت شیخ ابراہیم جارم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جو یہ طریقہ معروف و مشہور ہے کہ اس رات تلاوت و ذکر و اذکار کرتے ہیں غریبوں، فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ان [کے صحیح ہونے] پر دو دلیلیں دو صحیح حدیثیں ہیں۔
اول:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے بلال بن ابو رباح ! پیر کے روز روزہ رکھنا مت چھوڑو کیونکہ اسی دن میری ولادت ہوئی اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، اور اسی دن میں نے ہجرت کی۔
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو کسی خاص دن میں کوئی نعمت حاصل ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کے ذریعے اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرے اور اسی طرح ہر ہفتے، ہر مہینے، ہر سال میں اسی کے نظیر و مماثل دن یا مہینہ یا سال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور شکر الہی کا بجا لانا کسی بھی طاعت سے حاصل ہو جاتا ہے۔
دوم:
دوسری دلیل عاشورہ کے دن روزہ رکھنے والی حدیث پاک ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اسی دن نجات ملی، فرعون اور اس کی قوم اسی دن دریائے نیل میں غرقاب ہوئی،
تو اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ جس دن اللہ جل جلالہ نے نعمت عطا فرما کر یا آفت و مصیبت کو دور فرماکر احسان فرمایا اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ شکر اس دن کے نظیر میں دوبارہ ادا کیا جائے [یعنی ہفتے یا مہینے یا سال میں جب وہ دن دوبارہ آئے تو دوبارہ اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے]
تو اسی لیے زیادہ مناسب ہے کہ اس بابرکت رات کو ذکر و اذکار صدقۂ و خیرات فقیروں اور غریبوں کو کھانا کھلا کر ان کے ساتھ بھلائی کر کے زندہ رکھا جائے ۔
محدث و فقیہ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بایں طور کہ لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے بعثت کے متعلق وارد ہونے والی آیات کریمہ اور ظاہر ہونے والی نشانیوں کو بیان کرتے ہیں پھر دسترخوان بچھاتے ہیں انھیں کھانا کھلاتے ہیں اور پھر سب واپس چلے جاتے ہیں بغیر اس پر زیادتی کیے، تو اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اور بدعت حسنہ وہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور حضور کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہے۔
شیخ محمد قش الغرقی فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ولادت با سعادت پر خاص طور پر فرحت و مسرت کا اظہار کرنا بہت ہی نفیس اور عمدہ کام ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا اس کے نیک عمل کی وجہ سے خاص کر قرآن پاک کی تلاوت نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے اور کھانا کھلانے صدقات دینے کی وجہ سے اگر چہ اس کا عمل سلف صالحین سے منقول نہ ہو پھر بھی ثواب دیا جائے گا کیونکہ یہ بدعت حسنہ ہے۔
دوسرا سوال: ـــــــــــــ
فرمانِ نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کل بدعة ضلالة کیا جشن ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے؟
جواب: ــــــــــــــــ
کل بدعة ضلالة جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ کلیہ ان امور میں مخصوص ہے جن سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل نہ ہو
لیکن جن امور سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل ہوتی ہو وہ بدعت حسنہ ہیں اور بدعت حسنہ ہر وہ اچھا کام ہے جس سے کسی امر ممنوع یا حرام کا قصد نہ کیا گیا ہو۔
حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کے برابر اجر ملے گا ۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
من سن فی الاسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء... رواه الإمام مسلم وأحمد والترمذي۔
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کا بھی اجر ملے گا جو اس پر اس کے بعد عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ کمی کی جائے۔
اس حدیث کو امام مسلم و احمد و ترمذی نے روایت کیا
شیخ ابراہیم السمنودی اس بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رہی یہ حدیث:
ایاکم ومُحْدَثَاتِ الأمور؛ فإنَّ كُلَّ بدعة ضلالة
یعنی نئے نئے کاموں سے بچو! کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے
تو اس میں بدعت سے مراد وہ نیا کام ہے جو قرآن، سنت، اجماع یا کسی اثر کے خلاف ہو، نہ کہ وہ اچھا کام جو ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو۔
امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محافل میلاد ان اچھے اعمال میں سے ہیں جو مذکورہ چیزوں کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ اس میں فقرا غربا کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں اور بھائیوں کی خبر گیری، اور مختلف قسم کے ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے جس سے انبیاء علیھم السلام، اولیاء عظام اور صالحین کی محبت اور ان کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے ان (انبیاء، اولیاء اور صالحین) کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر وجود بخشا، خصوصاً ان کے سب سے بڑے سردار، ہمارے سب سے مکرم نبی ﷺ کو۔
تیسرا سوال:ـــــــــ
ہم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے سے لوگوں کو کیوں نہیں روکتے ہیں جب کہ اس میں بعض مخالف شرع کام دیکھتے ہیں؟
جواب:ــــــــــــ
اگر تم کسی شخص کو کعبہ شریف کے پاس حرام کام کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھو گے تو کیا کعبہ شریف کا طواف ہی روک دوگے؟
جس راستے سے تم کام کرنے جاتے ہو اس میں کوئی بری چیز دیکھو گے تو کیا اپنے گھر میں بیٹھ جاؤگے اور کام کرنے نہیں جاؤگے؟
[بتاؤ! ان دونوں سوالوں کا جواب کیا ہوگا یہی نا کہ طواف نہیں روکا جائے گا بلکہ جو حرام کام کر رہا ہے اسے روکا جائے گا اس کی وجہ سے طواف کو ہی روک دینا سراسر شریعت نبوی پر انگشت نمائی کرنا ہوگا ایسے ہی کام چھوڑ کر گھر میں نہیں بیٹھا جائے گا بلکہ اپنے راستے سے اس بری چیز کو دور کر کے کام میں جایا جائے گا]
بے شک اسی طرح جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی صورتوں میں سے کسی صوت میں اگر کوئی بری چیز داخل ہو جائے تو اس کی وجہ سے نفس جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل قرار نہیں دیا جائے [بلکہ اس بری چیز کو دور کی جائے گی]
دوسری بات یہ ہے کہ یہ بہت کم ہے بنسبت خیر خالص کے کہ وہ بہت زیادہ ہے لہذا اس کی طرف وہی توجہ دے گا جو صرف برائی تلاش کرنے کے درپے ہو کیونکہ اس خرابی کا کوئی اعتبار نہیں [کہ اس کی وجہ سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو باطل قرار دیا جائے] اور شرعی دلائل و براہین سے یہ بات ثابت ہے کہ نجاست کی تھوڑی سی مقدار زیادہ پانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے۔
چوتھا سوال: ــــــــ
کیا ازہری علما نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں ہیں؟
جواب: ـــــــــــــ
ازہری علما کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ساتھ خاص توجہ رہی ہے ذیل میں اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتابوں کا ذکر کرتا ہوں اور یہ تمام کتب المکتبۃ الازھریہ میں موجود ہیں۔
١- غاية السول في مولد الرسول، شمس الدين محمد بن علي بن جعفر العجلوني البلالي القاهري (ت ۸۲۰ هـ).
٢۔ عَرْفُ التعريف بالمولد الشريف، لشمس الدین محمد بن محمد الجزري (ت ۸۳۳ هـ).
٣۔ مولد النبي ، لوجيه الدين عبد الرحمن ابن علي الشيباني الزبيدي الشافعي المعروف بابن الديبع (ت ٩٤٤ هـ).
٤۔ مولد النبي ، شمس الدین محمد بن أحمد الشافعي المعروف بالخطيب الشربيني ت ۹۷۷ هـ)۔
٥ _ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الأولين والآخرين، لأبي المواهب نجم الدين محمد بن أحمد بن علي السكندري الغيطي الشافعي (ت: ۹۸۱ هـ).
٦- مولد النبي ، لشهاب الدين أحمد ابن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري (ت: ٩٧٤ هـ).
٧- حاشية الطهوائي على مولد النبي ، ليوسف ابن محمد الطهوائي المالكي (ت: ١٠٦٠هـ).
٨_ حاشية عبادة على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن عبادة الصعيدي العدوي المالكي (ت: ۱۱۹۳ هـ).
٩- حاشية محمد قش على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن يوسف بن إبراهيم الشافعي المعروف بمحمد قش الزكي الغرقي (ت: ۱۲۳۲ هـ)، له حاشيتان.
١٠ - حاشية الدمليجي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعبد الله بن علي سويدان الشافعي (ت: ١٢٣٤هـ).
۱۱- حاشية العدوي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعلي بن أحمد بن مكرم الصعيدي العدوي المالكي (ت ۱۱۸۹ هـ).
۱۲ - تقرير البيلي على المولد النبوي لابن حجر لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳هـ).
۱۳ - تحفة البشير على مولد ابن حجر، لإبراهيم الباجوري الشافعي شيخ الأزهر (ت ۱۲۷۷ هـ).
١٤ - حاشية الخفاجي على حاشية الباجوري على المولد النبوي لابن حجر ، لعلي الخفاجي الدمياطي. ١٥ - فوائد الغرر وفرائد الدرر على مولد ابن حجر، لمحمد بن محمد بن عبد المتعال
١٦ - حسن المقصد في عمل المولد لجلال الدين السيوطي.
۱۷- ترويح الفؤاد بمولد خير العباد، لعبد السلام بن إبراهيم اللقاني المالكي (ت ۱۰۷۸ هـ).
۱۸ - الجمع الزاهر المنير في ذكر مولد البشير النذير، لمحمد زين العابدين بن عبد الله العباسي الخليفتي (ت ۱۱۳۰ هـ)
۱۹- إظهار السرور بمولد النبي المسرور لشمس الدين محمد بن محمد البديري الدمياطي الشاذلي النقشبندي المعروف بابن الميت (ت: ١١٤٠ هـ).
۲۰ - مولد النبي ، لأبي المواهب مصطفى ابن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۱ - فتح المبين القوي في ورد ليلة المولد النبوي؛ لأبي المواهب مصطفى بن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۲- تلخيص المولد الشريف، لحسن بن علي المدابغي الشافعي.
۲۳- تقرير الأجهوري على المولد النبوي للمدابغي لعطية الأجهوري الشافعي البرهاني (ت: ۱۱۹۰هـ).
٢٤- حاشية السجاعي على مختصر المولد النبوي الشريف للمدابغي، لشهاب الدين أحمد ابن أحمد البدراوي السجاعي الشافعي الأحمدي (ت: ۱۱۹۷هـ).
٢٥- تقريرات البيلي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳ هـ).
٢٦- حاشية الجربي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي حفص عمر بن رمضان الجربي الثلاثي (ت بعد: ١١٦٤ هـ).
۲۷- شرح المنشليلي على المولد النبوي للمدابغي، لعلي المنشليلي المالكي.
۲۸- حاشية الشناوي على مختصر المولد النبوي للمدابغي لعلي الشناوي الشرقاوي (ت بعد سنة ١٢٠٨هـ).
۲۹ الكنوز الوهبية على مولد خير البرية (حاشية على مختصر المولد النبوي للمدابغي) لإبراهيم بن سويلم بن موسى بن عبد العزيز الشهير بالطلياوي (ت بعد سنة ١٢٩٤هـ)
٣٠ - مولد النبي ، لأبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردير العدوي المالكي (ت: ١٢٠١هـ).
٣١- حاشية الأبطحي على المولد النبوي للدردير، لحسن الأبطحي المالكي.
٣٢- حاشية بشارة على مولد النبي ﷺ للدردير، لأحمد بشارة الدمياطي (ت بعد سنة ۱۲۳۱ هـ).
٣٣- حاشية الباجوري على المولد النبوي للدردير، لإبراهيم الباجوري شيخ الأزهر (ت: ۱۲۷۷ هـ).
٣٤- شرح مولد الشيخ الدردير، لأحمد الضاولجي (ت بعد سنة ١٢٦٥هـ).
٣٥- الروض الندي في المولد المحمدي لشهاب الدين أحمد سلام الرشيدي المالكي (ت بعد سنة ١١٦٨هـ).
٣٦- الزهر الفائق في مولد أشرف الخلائق لأحمد بن محمد الحسني السحيمي القلعاوي الشافعي (ت: ۱۱۷۸ هـ)
٣٧- الجواهر الثمينة على مولد ساكن المدينة، لمحمد البيومي بركات الشافعي (ت بعد سنة ١٢٥٠هـ).
۳۸- مختصر الكوكب المنير في مولد البشير النذير، لمحمد أسعد بن أرسلان الجركسي.
٣٩- عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷هـ)
٤٠ - الكوكب الأنور على عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷ هـ).
٤١ - الكواكب الدرية بشرح الجواهر البرزنجية، لعلي بن علي الشافعي الأزهري المصري (ت بعد سنة ١٢٧٥ هـ).
٤٢ - القول المنجي على مولد البرزنجي لمحمد بن أحمد بن محمد عليش المالكي (ت ۱۲۹۹ هـ).
٤٣ - مدارج الصعود إلى اكتساء البرود (شرحمولد البرزنجي)، لمحمد بن عمر نووي الجاوي الشافعي (ت: ١٣١٦ هـ).
٤٤ - منهل الواردين لمولد سيد الأولين والآخرين، لعبد المعطي بن إبراهيم البرنسي المالكي (ت بعد سنة ١١٨٠هـ).
٤٥ - الدر الثمين في مولد سيد المرسلين سيد الأولين والآخرين، لمحمد المنير السمنودي الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۱۹۹هـ).
٤٦ - مورد الظمآن إلى مولد خير ولد عدنان لأبي الحسن علي بن عبد البر الونائي الشافعي (ت: ۱۲۱۲ هـ).
٤٧ - الجواهر السنية في مولد خير البرية لمحمد بن علي بن منصور الشنواني الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۲۳۳ هـ).
٤٨ - مولد الرسول ﷺ، لأبي إسحاق إبراهيم ابن عبد القادر بن أحمد بن إبراهيم الطرابلسي المالكي (ت: ١٢٦٦ هـ ).
٤٩ - مولد النبي ، لمحمد عثمان بن محمد أبي بكر بن عبد الله الميرغني المحجوب الحسيني الحنفي (ت: ١٢٦٨ هـ).
٥٠ مجلس في مولد صاحب الأخلاق والمكارم، لإبراهيم الجارم الحسني الإدريسي الشافعي (ت بعد سنة ١٢٧١ هـ).
٥١ - مولد إنسان الكمال، لمحمد بن المختار ابن أحمد بن أبي بكر الكنتي الشنقيطي المالكي ت ۱۲۷۰ هـ).
٥٢- الثمار الجنية من مولد خير البرية ليوسف أبي جمالة الشافعي الشاذلي الحسني ت بعد سنة ١٢٧٦هـ).
٥٣ - حاشية الخضري على مولد النبي ﷺ المحمد الخضري الدمياطي الشافعي (ت: ۱۲۸۷ هـ).
٥٤ - نفائس الأضواء البدرية في مولد خير البرية، لمحمد بن أحمد بن جعفر الدمياطي القاضي الشافعي.
٥٥ - مولد النبي ، لأبي المحاسن محمد ابن خليل القاوقجي الشاذلي (ت ١٣٠٥هـ).
٥٦ - مولد الرسول ، لعبد الهادي نجا بن رضوان نجا الأبياري المصري (ت في حدود سنة ١٣٠٥هـ).
٥٧ المنظر البهي في طالع مولد النبي لأبي الفتوح محمد بن خليل الهجرسي الشافعي (ت ۱۳۲۸ هـ).
٥٨- الترياق المسلسل في مولد النبي المرسل، لمحمد البهائي الشافعي
٥٩- منهل الصفا بمولد المصطفى، لأبي عمران موسى بن محمد بن موسى القليبي العمري المالكي.
٦٠ - التجليات الخفية في مولد خير البرية لمحمد المغربي المراكشي.
٦١ - مولد النبي ﷺ ، لشهاب الدين أحمد بن حجازي بن بدير الفشني الشافعي.
٦٢ - مولد النبي ، لأحمد بن قاسم النجاري.
٦٣ - المولد والمعراج، لحسن الحنفي.
٦٤ - بغية الظمآن في مولد سيد ولد عدنان
لمحمد بن علي بن يوسف بن أحمد الشافعي.
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
٦٥ - مولد النبي ، لعبد الوهاب بن محمد الشبراوي الشافعي.
والحمد لله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه و سلم

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

میلاد النبی ﷺ کے متعلق سوالات و جوابات
تحریر: الدکتور عبد الدائم الجندی المصری
الامین العام لمجمع البحوث الاسلامیہ
ترجمہ: محمد جسیم أکرم المرکزی
جامعۃ الازہر، القاہرة، مصر
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا و مولانا محمد كريم الآباء والأمهات.
أما بعد :
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بعض سوالات نوجوان نسل کو شش و پنج میں ڈال میں دیا ہے تو میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر امید لگاتے ہوئے مناسب سمجھا کہ چار سوالات کے جوابات دے دوں [تاکہ ان کے قلوب و اذہان میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت جاگزیں ہو جائے]
پہلا سوال :
کیا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت مذمومہ/ سیئہ ہے
جواب:
یہ بدعت سیئہ/ مذمومہ نہیں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں :
بدعت لغوی: اسے احکام خمسہ [فرض، واجب، مستحب، مکروہ، حرام] لاحق ہوتے ہیں،
اور بدعت شرعیہ سیئہ، پس پہلی قسم یعنی بدعت لغوی سے مراد ہر نئی چیز ہے خواہ وہ عادت سے متعلق ہو یا عبادت سے،
اور دوسری قسم سے مراد وہ چیز ہے جو تین زمانے کے گزر جانے کے بعد بطور اطاعت شریعت پر بڑھائی گئی ہو جس کی شارع نے اجازت نہ قول کے ذریعے دی ہو، نہ فعل سے، نہ تصریح سے، نہ اشارہ سے یہی وہ بدعت ہے جس پر گمراہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔
اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک امر حسن ہے جو اصولِ شریعت کے تحت داخل ہوتا ہے اس لیے کہ ہر وہ عمل جو اسلامی معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہو اور وہ کسی نص صریح یا ایسی معلوم و مسلم بات کے خلاف نہ ہو جو ضروریات دین میں سے ہو تو اسلام اسے منع نہیں کرتا ہے۔
اور ہم نے دیکھا ہے جن قوموں کی تاریخ یادگار واقعات اور عبقری شخصیات سے خالی ہوتی ہے وہ اپنے لیے اپنی فرضی یادگاریں اور شخصیات گڑھ لیتی ہیں تاکہ ان فرضی یادگار اور شخصیات پر فخر کر کے اپنی فطری خواہش پوری کر سکے۔
حضرت شیخ ابراہیم جارم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جو یہ طریقہ معروف و مشہور ہے کہ اس رات تلاوت و ذکر و اذکار کرتے ہیں غریبوں، فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ان [کے صحیح ہونے] پر دو دلیلیں دو صحیح حدیثیں ہیں۔
اول:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے بلال بن ابو رباح ! پیر کے روز روزہ رکھنا مت چھوڑو کیونکہ اسی دن میری ولادت ہوئی اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، اور اسی دن میں نے ہجرت کی۔
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو کسی خاص دن میں کوئی نعمت حاصل ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کے ذریعے اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرے اور اسی طرح ہر ہفتے، ہر مہینے، ہر سال میں اسی کے نظیر و مماثل دن یا مہینہ یا سال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور شکر الہی کا بجا لانا کسی بھی طاعت سے حاصل ہو جاتا ہے۔
دوم:
دوسری دلیل عاشورہ کے دن روزہ رکھنے والی حدیث پاک ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اسی دن نجات ملی، فرعون اور اس کی قوم اسی دن دریائے نیل میں غرقاب ہوئی،
تو اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ جس دن اللہ جل جلالہ نے نعمت عطا فرما کر یا آفت و مصیبت کو دور فرماکر احسان فرمایا اس دن اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ شکر اس دن کے نظیر میں دوبارہ ادا کیا جائے [یعنی ہفتے یا مہینے یا سال میں جب وہ دن دوبارہ آئے تو دوبارہ اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے]
تو اسی لیے زیادہ مناسب ہے کہ اس بابرکت رات کو ذکر و اذکار صدقۂ و خیرات فقیروں اور غریبوں کو کھانا کھلا کر ان کے ساتھ بھلائی کر کے زندہ رکھا جائے ۔
محدث و فقیہ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بایں طور کہ لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے بعثت کے متعلق وارد ہونے والی آیات کریمہ اور ظاہر ہونے والی نشانیوں کو بیان کرتے ہیں پھر دسترخوان بچھاتے ہیں انھیں کھانا کھلاتے ہیں اور پھر سب واپس چلے جاتے ہیں بغیر اس پر زیادتی کیے، تو اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اور بدعت حسنہ وہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور حضور کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہے۔
شیخ محمد قش الغرقی فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ولادت با سعادت پر خاص طور پر فرحت و مسرت کا اظہار کرنا بہت ہی نفیس اور عمدہ کام ہے جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جائے گا اس کے نیک عمل کی وجہ سے خاص کر قرآن پاک کی تلاوت نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے اور کھانا کھلانے صدقات دینے کی وجہ سے اگر چہ اس کا عمل سلف صالحین سے منقول نہ ہو پھر بھی ثواب دیا جائے گا کیونکہ یہ بدعت حسنہ ہے۔
دوسرا سوال: ـــــــــــــ
فرمانِ نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کل بدعة ضلالة کیا جشن ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے؟
جواب: ــــــــــــــــ
کل بدعة ضلالة جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر دلالت نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ کلیہ ان امور میں مخصوص ہے جن سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل نہ ہو
لیکن جن امور سے اللہ جل جلالہ کی قربت حاصل ہوتی ہو وہ بدعت حسنہ ہیں اور بدعت حسنہ ہر وہ اچھا کام ہے جس سے کسی امر ممنوع یا حرام کا قصد نہ کیا گیا ہو۔
حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کے برابر اجر ملے گا ۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
من سن فی الاسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء... رواه الإمام مسلم وأحمد والترمذي۔
ترجمہ:
جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کا بھی اجر ملے گا جو اس پر اس کے بعد عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ کمی کی جائے۔
اس حدیث کو امام مسلم و احمد و ترمذی نے روایت کیا
شیخ ابراہیم السمنودی اس بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رہی یہ حدیث:
ایاکم ومُحْدَثَاتِ الأمور؛ فإنَّ كُلَّ بدعة ضلالة
یعنی نئے نئے کاموں سے بچو! کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے
تو اس میں بدعت سے مراد وہ نیا کام ہے جو قرآن، سنت، اجماع یا کسی اثر کے خلاف ہو، نہ کہ وہ اچھا کام جو ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو۔
امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محافل میلاد ان اچھے اعمال میں سے ہیں جو مذکورہ چیزوں کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ اس میں فقرا غربا کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں اور بھائیوں کی خبر گیری، اور مختلف قسم کے ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے جس سے انبیاء علیھم السلام، اولیاء عظام اور صالحین کی محبت اور ان کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا اس نعمت پر شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے ان (انبیاء، اولیاء اور صالحین) کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر وجود بخشا، خصوصاً ان کے سب سے بڑے سردار، ہمارے سب سے مکرم نبی ﷺ کو۔
تیسرا سوال:ـــــــــ
ہم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے سے لوگوں کو کیوں نہیں روکتے ہیں جب کہ اس میں بعض مخالف شرع کام دیکھتے ہیں؟
جواب:ــــــــــــ
اگر تم کسی شخص کو کعبہ شریف کے پاس حرام کام کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھو گے تو کیا کعبہ شریف کا طواف ہی روک دوگے؟
جس راستے سے تم کام کرنے جاتے ہو اس میں کوئی بری چیز دیکھو گے تو کیا اپنے گھر میں بیٹھ جاؤگے اور کام کرنے نہیں جاؤگے؟
[بتاؤ! ان دونوں سوالوں کا جواب کیا ہوگا یہی نا کہ طواف نہیں روکا جائے گا بلکہ جو حرام کام کر رہا ہے اسے روکا جائے گا اس کی وجہ سے طواف کو ہی روک دینا سراسر شریعت نبوی پر انگشت نمائی کرنا ہوگا ایسے ہی کام چھوڑ کر گھر میں نہیں بیٹھا جائے گا بلکہ اپنے راستے سے اس بری چیز کو دور کر کے کام میں جایا جائے گا]
بے شک اسی طرح جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی صورتوں میں سے کسی صوت میں اگر کوئی بری چیز داخل ہو جائے تو اس کی وجہ سے نفس جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل قرار نہیں دیا جائے [بلکہ اس بری چیز کو دور کی جائے گی]
دوسری بات یہ ہے کہ یہ بہت کم ہے بنسبت خیر خالص کے کہ وہ بہت زیادہ ہے لہذا اس کی طرف وہی توجہ دے گا جو صرف برائی تلاش کرنے کے درپے ہو کیونکہ اس خرابی کا کوئی اعتبار نہیں [کہ اس کی وجہ سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو باطل قرار دیا جائے] اور شرعی دلائل و براہین سے یہ بات ثابت ہے کہ نجاست کی تھوڑی سی مقدار زیادہ پانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے۔
چوتھا سوال: ــــــــ
کیا ازہری علما نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں ہیں؟
جواب: ـــــــــــــ
ازہری علما کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ساتھ خاص توجہ رہی ہے ذیل میں اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتابوں کا ذکر کرتا ہوں اور یہ تمام کتب المکتبۃ الازھریہ میں موجود ہیں۔
١- غاية السول في مولد الرسول، شمس الدين محمد بن علي بن جعفر العجلوني البلالي القاهري (ت ۸۲۰ هـ).
٢۔ عَرْفُ التعريف بالمولد الشريف، لشمس الدین محمد بن محمد الجزري (ت ۸۳۳ هـ).
٣۔ مولد النبي ، لوجيه الدين عبد الرحمن ابن علي الشيباني الزبيدي الشافعي المعروف بابن الديبع (ت ٩٤٤ هـ).
٤۔ مولد النبي ، شمس الدین محمد بن أحمد الشافعي المعروف بالخطيب الشربيني ت ۹۷۷ هـ)۔
٥ _ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الأولين والآخرين، لأبي المواهب نجم الدين محمد بن أحمد بن علي السكندري الغيطي الشافعي (ت: ۹۸۱ هـ).
٦- مولد النبي ، لشهاب الدين أحمد ابن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري (ت: ٩٧٤ هـ).
٧- حاشية الطهوائي على مولد النبي ، ليوسف ابن محمد الطهوائي المالكي (ت: ١٠٦٠هـ).
٨_ حاشية عبادة على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن عبادة الصعيدي العدوي المالكي (ت: ۱۱۹۳ هـ).
٩- حاشية محمد قش على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لمحمد بن يوسف بن إبراهيم الشافعي المعروف بمحمد قش الزكي الغرقي (ت: ۱۲۳۲ هـ)، له حاشيتان.
١٠ - حاشية الدمليجي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعبد الله بن علي سويدان الشافعي (ت: ١٢٣٤هـ).
۱۱- حاشية العدوي على المولد النبوي لابن حجر الهيتمي لعلي بن أحمد بن مكرم الصعيدي العدوي المالكي (ت ۱۱۸۹ هـ).
۱۲ - تقرير البيلي على المولد النبوي لابن حجر لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳هـ).
۱۳ - تحفة البشير على مولد ابن حجر، لإبراهيم الباجوري الشافعي شيخ الأزهر (ت ۱۲۷۷ هـ).
١٤ - حاشية الخفاجي على حاشية الباجوري على المولد النبوي لابن حجر ، لعلي الخفاجي الدمياطي. ١٥ - فوائد الغرر وفرائد الدرر على مولد ابن حجر، لمحمد بن محمد بن عبد المتعال
١٦ - حسن المقصد في عمل المولد لجلال الدين السيوطي.
۱۷- ترويح الفؤاد بمولد خير العباد، لعبد السلام بن إبراهيم اللقاني المالكي (ت ۱۰۷۸ هـ).
۱۸ - الجمع الزاهر المنير في ذكر مولد البشير النذير، لمحمد زين العابدين بن عبد الله العباسي الخليفتي (ت ۱۱۳۰ هـ)
۱۹- إظهار السرور بمولد النبي المسرور لشمس الدين محمد بن محمد البديري الدمياطي الشاذلي النقشبندي المعروف بابن الميت (ت: ١١٤٠ هـ).
۲۰ - مولد النبي ، لأبي المواهب مصطفى ابن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۱ - فتح المبين القوي في ورد ليلة المولد النبوي؛ لأبي المواهب مصطفى بن كمال الدين البكري الصديقي الحنفي (ت: ١١٦٢ هـ).
۲۲- تلخيص المولد الشريف، لحسن بن علي المدابغي الشافعي.
۲۳- تقرير الأجهوري على المولد النبوي للمدابغي لعطية الأجهوري الشافعي البرهاني (ت: ۱۱۹۰هـ).
٢٤- حاشية السجاعي على مختصر المولد النبوي الشريف للمدابغي، لشهاب الدين أحمد ابن أحمد البدراوي السجاعي الشافعي الأحمدي (ت: ۱۱۹۷هـ).
٢٥- تقريرات البيلي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي العباس أحمد بن موسى البيلي (ت: ۱۲۱۳ هـ).
٢٦- حاشية الجربي على المولد النبوي للمدابغي، لأبي حفص عمر بن رمضان الجربي الثلاثي (ت بعد: ١١٦٤ هـ).
۲۷- شرح المنشليلي على المولد النبوي للمدابغي، لعلي المنشليلي المالكي.
۲۸- حاشية الشناوي على مختصر المولد النبوي للمدابغي لعلي الشناوي الشرقاوي (ت بعد سنة ١٢٠٨هـ).
۲۹ الكنوز الوهبية على مولد خير البرية (حاشية على مختصر المولد النبوي للمدابغي) لإبراهيم بن سويلم بن موسى بن عبد العزيز الشهير بالطلياوي (ت بعد سنة ١٢٩٤هـ)
٣٠ - مولد النبي ، لأبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردير العدوي المالكي (ت: ١٢٠١هـ).
٣١- حاشية الأبطحي على المولد النبوي للدردير، لحسن الأبطحي المالكي.
٣٢- حاشية بشارة على مولد النبي ﷺ للدردير، لأحمد بشارة الدمياطي (ت بعد سنة ۱۲۳۱ هـ).
٣٣- حاشية الباجوري على المولد النبوي للدردير، لإبراهيم الباجوري شيخ الأزهر (ت: ۱۲۷۷ هـ).
٣٤- شرح مولد الشيخ الدردير، لأحمد الضاولجي (ت بعد سنة ١٢٦٥هـ).
٣٥- الروض الندي في المولد المحمدي لشهاب الدين أحمد سلام الرشيدي المالكي (ت بعد سنة ١١٦٨هـ).
٣٦- الزهر الفائق في مولد أشرف الخلائق لأحمد بن محمد الحسني السحيمي القلعاوي الشافعي (ت: ۱۱۷۸ هـ)
٣٧- الجواهر الثمينة على مولد ساكن المدينة، لمحمد البيومي بركات الشافعي (ت بعد سنة ١٢٥٠هـ).
۳۸- مختصر الكوكب المنير في مولد البشير النذير، لمحمد أسعد بن أرسلان الجركسي.
٣٩- عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷هـ)
٤٠ - الكوكب الأنور على عقد الجوهر في مولد النبي الأزهر، لزين العابدين جعفر بن حسن بن عبد الكريم البرزنجي (ت: ۱۱۷۷ هـ).
٤١ - الكواكب الدرية بشرح الجواهر البرزنجية، لعلي بن علي الشافعي الأزهري المصري (ت بعد سنة ١٢٧٥ هـ).
٤٢ - القول المنجي على مولد البرزنجي لمحمد بن أحمد بن محمد عليش المالكي (ت ۱۲۹۹ هـ).
٤٣ - مدارج الصعود إلى اكتساء البرود (شرحمولد البرزنجي)، لمحمد بن عمر نووي الجاوي الشافعي (ت: ١٣١٦ هـ).
٤٤ - منهل الواردين لمولد سيد الأولين والآخرين، لعبد المعطي بن إبراهيم البرنسي المالكي (ت بعد سنة ١١٨٠هـ).
٤٥ - الدر الثمين في مولد سيد المرسلين سيد الأولين والآخرين، لمحمد المنير السمنودي الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۱۹۹هـ).
٤٦ - مورد الظمآن إلى مولد خير ولد عدنان لأبي الحسن علي بن عبد البر الونائي الشافعي (ت: ۱۲۱۲ هـ).
٤٧ - الجواهر السنية في مولد خير البرية لمحمد بن علي بن منصور الشنواني الشافعي شيخ الأزهر (ت: ۱۲۳۳ هـ).
٤٨ - مولد الرسول ﷺ، لأبي إسحاق إبراهيم ابن عبد القادر بن أحمد بن إبراهيم الطرابلسي المالكي (ت: ١٢٦٦ هـ ).
٤٩ - مولد النبي ، لمحمد عثمان بن محمد أبي بكر بن عبد الله الميرغني المحجوب الحسيني الحنفي (ت: ١٢٦٨ هـ).
٥٠ مجلس في مولد صاحب الأخلاق والمكارم، لإبراهيم الجارم الحسني الإدريسي الشافعي (ت بعد سنة ١٢٧١ هـ).
٥١ - مولد إنسان الكمال، لمحمد بن المختار ابن أحمد بن أبي بكر الكنتي الشنقيطي المالكي ت ۱۲۷۰ هـ).
٥٢- الثمار الجنية من مولد خير البرية ليوسف أبي جمالة الشافعي الشاذلي الحسني ت بعد سنة ١٢٧٦هـ).
٥٣ - حاشية الخضري على مولد النبي ﷺ المحمد الخضري الدمياطي الشافعي (ت: ۱۲۸۷ هـ).
٥٤ - نفائس الأضواء البدرية في مولد خير البرية، لمحمد بن أحمد بن جعفر الدمياطي القاضي الشافعي.
٥٥ - مولد النبي ، لأبي المحاسن محمد ابن خليل القاوقجي الشاذلي (ت ١٣٠٥هـ).
٥٦ - مولد الرسول ، لعبد الهادي نجا بن رضوان نجا الأبياري المصري (ت في حدود سنة ١٣٠٥هـ).
٥٧ المنظر البهي في طالع مولد النبي لأبي الفتوح محمد بن خليل الهجرسي الشافعي (ت ۱۳۲۸ هـ).
٥٨- الترياق المسلسل في مولد النبي المرسل، لمحمد البهائي الشافعي
٥٩- منهل الصفا بمولد المصطفى، لأبي عمران موسى بن محمد بن موسى القليبي العمري المالكي.
٦٠ - التجليات الخفية في مولد خير البرية لمحمد المغربي المراكشي.
٦١ - مولد النبي ﷺ ، لشهاب الدين أحمد بن حجازي بن بدير الفشني الشافعي.
٦٢ - مولد النبي ، لأحمد بن قاسم النجاري.
٦٣ - المولد والمعراج، لحسن الحنفي.
٦٤ - بغية الظمآن في مولد سيد ولد عدنان
لمحمد بن علي بن يوسف بن أحمد الشافعي.
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
٦٥ - مولد النبي ، لعبد الوهاب بن محمد الشبراوي الشافعي.
والحمد لله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه و سلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
23
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

[وہابی لوگ ہیں سنت کو جو سنت نہیں کہتے]

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢