صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
تاریخی حقائق

بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: درّاسہ، نزد مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ نمبر : 9523788434
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

کوفہ ــــــــــــــــ

امیر المؤمنین خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ١٥ ہجری میں شہر کوفہ کو بسایا جیسا کہ تاریخ الخلفاء باب خلافت فاروقی میں ہے: ۱۵ھ‌‌‍ میں مملکت اردن فتح ہوا اور طبریہ ذریعہ صلح اسلامی قبضہ میں آیا۔ اسی سال یرموک و قادسیہ میں زبردست لڑائیاں کی گئیں ۔ ابن جریر کا بیان ہے کہ اسی سال حضرت سعد نے کوفہ کو شہر بنایا۔ اور اسی سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جاگیریں دیں ۔ دفاتر مقرر کیے اور مستحقین کو مزید عطیات سے سرفراز فرمایا۔
[تاریخ الخلفاء ص ١٣٤]

کوفی ـــــــــــــــــ

کوفہ سے کوفی بنا یعنی جو حضرات کوفہ کے رہنے والے ہیں ان کو کوفی کہتے ہیں جیسے بنارس کے رہنے والے کو بنارسی الہ آباد کے رہنے والے کو الہ آبادی پورنیہ کے رہنے والے کو پورنوی کہتے ہیں اور بصرہ کے رہنے والے کو بصری کہتے ہیں جیسے امام حسن بصری رضی اللہ عنہ بصرہ کے رہنے والے ہیں اس لیے ان کو بصری کہتے ہیں امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کو کوفی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کوفہ کے باسی ہیں

بِہارـــــــــــــــــــــــ

بہار ملک ہندوستان کا ایک عظیم صوبہ ہے جو ٦٣٣ ہجری سے پہلے متھلا دیش اور ترہت کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا ابو الفضل نے آئین اکبری میں اسی ترہت کا تذکرے کرتے ہوئے ارقام کیا ہے
از دیر گاہ بن گاہ [مرکز] ہندی دانش
[ج ٢ ص ٦٧]
یعنی آئین اکبری میں (ترہت) بہار کو علم و دانش کا ہندوستانی قدیم مرکز کے نام سے یاد کیا ہے جس کی چمک ہنوز باقی ہے
بہار ٢٢ مارچ ١٩١٢ ء میں بنگال سے الگ ہو کر ایک مستقل صوبہ بنا پھر بہار سے الگ ہو کر جھارکھنڈ صوبہ بنا۔ یہ تاریخی تقسیم ١٥ نومبر ٢٠٠٠ء کو بہار ری آرگنائزیشن ایکٹ (Bihar Reorganisation Act) کے ذریعے عمل میں آئی، جس کے بعد ریاست جھارکھنڈ بھارت کا ٢٨ واں صوبہ بن گیا۔اس سے قبل، ١ اپریل ١٩٣٦ء کو برطانوی راج کے دوران اڑیسہ (موجودہ اوڈیشہ) بھی بہار سے الگ ہو کر ایک نیا صوبہ بنا تھا۔

بِہاری ــــــــــــــــــــ

بِہاری بہار سے بنا یعنی بہار میں رہنے والے حضرات کو بہاری کہتے ہیں جیسے صاحب مسلم الثبوت مدقق بہاری علامہ قاضی محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری بہاری رضی اللہ عنہ

لفظ کوفی کی مظلومیت ـــــــــــــ

صدیوں سے لفظ کوفی ظلم سہ رہا ہے وہ بھی اپنوں کا ظلم بلکہ خواص کا ظلم جہاں کسی کو طعنہ دینا ہوا بس کہ پڑا تم تو کوفی ہو یعنی لفظ کوفی کو گالی کے طور پر عوام استعمال کرنے لگے خاص کر جب کسی سیدھے سادھے بھولے بھالے انسان سے کوئی غلطی صادر ہو گئی تو فورا کہہ دیتے ہیں یہ صوفی ہے یہ تو کوفی ہے یعنی ایسا لگتا ہے کہ موصوف یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ صوفی اور کوفی کے درمیان تباین کی نسبت ہے حالانکہ اہل عقل و شعور پر خوب واضح ہے کہ اس میں تباین کی نسبت ہر گز نہیں ہو سکتی ہے ہاں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے یعنی بعض انسان کوفی ہے بعض انسان صوفی ہے اور بعض انسان صوفی بھی ہے اور کوفی بھی یعنی دو قضیے میں افتراق ہے اور ایک میں دونوں کا اجتماع ہے

سوال ـــــــــــ

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کوفی گالی کے طور پر کیوں نہ کہا جائے جب کہ اہل کوفہ نے نواسۂ رسول ﷺ جگر گوشۂ بتول رضی اللہ عنہا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تین دن تک بے آب و دانہ رکھ کر پیاسا شہید کیا تو کوفی اس لائق کہاں ہے کہ اس کی عزت کی جائے؟ اس کے آداب بجائے لائیں جائیں؟
جواب ـــــــــــــــــــ
ایسے سادہ دل سائلین کو فقیر یہی جواب دیتا ہے کہ آپ کا کہنا بجا ہے کہ جن کوفیوں نے امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ سب سخت فاسق و فاجر لائق ملامت ہیں لیکن ایک دور کے باشندوں کے ظلم و ستم کی بنا پر ہر آنے والے دور کے افراد کو ظالم و جابر فاسق و فاجر نہیں کہا جا سکتا ہے
شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں رقمطراز ہیں:
ضروری نہیں کہ ہر دور میں ، ہر مقام ایک حالت میں رہے
ایک زمانہ تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کوفہ کو کنز الایمان ، راس الاسلام اور راس العرب کہا کرتے تھے
[سیرۃ النعمان ص ٢٨]
ہاں جن لوگوں نے شہید کیا یا شہید کرنے والوں کی ساتھ شریک ہوا وہ ضرور مجرم فاسق و فاجر سخت ظالم و جابر ہیں

لفظ کوفی کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ

ہم نے اپنے عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا ہے کہ کوفہ بے وفاؤں کا شہر ہے کیونکہ اہل کوفہ ہی نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے کوفہ بلایا اور شہید کیا اور اس کو اس طرح سے پیش کیا کہ لوگوں کو لگا سارے کوفی ہی ایسے ہیں اس لیے جب بھی کوفی بولا جاتا ہے فورا تصور میں یہ سارے واقعات تیز رفتار کے ساتھ گردش کر جاتے ہیں اور ظلم و ستم کے تصورات سے ذہن و دماغ میں گہرا اثر پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے لفظ کوفی ہی سے انسان کو نفرت ہونے لگتا ہے
وہیں اگر تھوڑی تشریح کر دی جاتی اور کوفہ کے فضائل بیان کر دیے جاتے تو یہ نوبت کبھی نہ آتی کہ عوام اس قدر بد ظن ہو جاتے عوام کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کوفہ ہی کی وہ سر زمین ہے جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایمان کا خزانہ فرمایا یہ وہی سر زمین ہے جہاں سے امام الائمہ سراج الغمہ امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ نے ہر گوشۂ دنیا میں علم کی روشنی پھیلائی یہ وہی ذات ہے جس کی تقلید دنیائے حنفیت کرتی ہے
یہاں ایک بات اور کہہ دوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کوفی ہیں اور ہم ان کے مقلد ہیں تو ہم جہاں حنفی ہیں وہیں کوفی بھی ہیں جیسے ہم جہاں رضوی ہیں وہیں بریلوی بھی ہیں یہ الگ بات ہے کہ کوئی نسبت بہت مشہور ہوئی کوئی نہیں ہوئی اگر ہم اپنی نسل کو یہ بتاتے تو ہماری نسل لفظ کوفی سے نہیں چڑھتی

لفظ بہاری کی مظلومیت ـــــــــــــ

جو ستم کوفی پر لوگوں نے ڈھائے وہی ستم بہاری پر بھی ڈھائے آپس میں بہاری کو لوگوں نے انپڑھ، گنوار، جاہل، غریب، لاچار، بے وفا باور کرانے کوشش کی اب لوگوں نے اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیا جو بہاری ہوگا اسے بولنے کی تمیز نہیں ہوگی، جو بہاری ہوگا بے تکی حرکتیں کرے گا وغیرہ وغیرہ جس کے نتیجے میں بہت سارے ایسے بہاری حضرات ہیں جو ممبئی وغیرہ میں خود کو بہاری نہیں بتاتے ہیں
ہماری قوم نے لوگوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا ہے اگر ہم اس طرح بھید بھاؤ نہیں کرتے تو لوگ اس طرح کی جھوٹی باتیں نہیں بولتے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہیں نہ کہیں ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جس کی وجہ سے انسانیت شرمندہ ہے

لفظ بہاری کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ

لوگوں کی ذہن سازی اس قدر ہو چکی ہے جب کوئی بہاری بولتا ہے تو فورا ذہن میں طرح طرح کے منفی تصورات کا ہجوم لگ جاتا ہے کیونکہ ہم نے لوگوں کے سامنے بہار کا برا چہرہ پیش کیا ہے اچھا چہرہ پیش نہیں کیا اگر اچھا چہرہ پیش کیے ہوتے تو آج یہ حالات نہیں ہوتے اگر ہم نے اپنی قوم کے سامنے بہار کا تعارف یوں کرایا ہوتا تو آج منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ مثلا
بہار اصفیا، اولیا، علما، صلحا، ادبا بادشاہوں کا مسکن ہے یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے علمی فیض سے ایک جہاں فیضیاب ہے جہاں علما کی کثرت اس قدر ہے کہ جب علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنھما کو اپنے خاندانی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بہار کا ذکر کرنا ہوا تو فرماتے ہیں
بلدہ بہار کہ مجمع علما بود [انفاس العارفین ماخوذ از محی الملۃ والدین ص ٢٢]
بہار کی سرزمین ایسی زرخیز علمی زمین ہے جہاں علماء دین کا ہجوم رہتا ہے

کوفی لا یوفی ــــــــــــــــــــــــــــــ

کوفی لا یوفی [کوفی بے وفا ہوتے ہیں] یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو چلا کر انسان انسان کے جذبات کا خون کر دیتا ہے کوفی نام سے انسان کے دل و دماغ افکار و خیالات میں نفرت پیدا کر دیتا ہے۔
حالانکہ کوفی لایوفی مسلمانوں کا نہیں شیعوں کا دیا ہوا سازشی جملہ ہے تاکہ عوام کوفی علما سے بد ظن ہو جائیں اور امام اعظم جیسی شخصیت سے بیزار ہو جائیں اور کچھ حد تک اس پر کامیاب بھی ہوئے لیکن افسوس یہ ہے شیعوں کو یہ کامیابی اپنوں سے ملی اور آج شیعوں کی اس سازش کو عوام سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور کوفی جو وفادرای کی سند ہے اسے غداری کے لباس میں ملبوس کر دیا
ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ کوفہ کے ہر دور کے لوگ اچھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں جس دور کے لوگ ظالم ہیں وہ ظالم ہی کہلائیں گے لیکن ان کی وجہ سے ہر دور کے لوگوں کو برا نہیں کہا جائے گا کیونکہ ہر شہر میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں کچھ اچھے کچھ برے
یہ شبہ کہ کوفی، لایوفی ہوتے ہیں پہلے کے بعض اکابر کے ذہنوں میں بھی گزرا لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو ان کا یہ شبہ ختم ہوا
جیسا کہ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی میں ہے:
منقول ہے کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے لوگوں سے دریافت کیا شہر کا جید عالم کون ہے؟
بتایا گیا حضرت ابو عبد اللہ مالک بن انس الاصجی رضی اللہ عنہ، امام اعظم رضی اللہ عنہ ان سے ملنے گئے حسب روایت تعارف کے دوران آپ نے بتایا کہ میں عراق سے آیا ہوں حضرت امام مالک نے یہ سن کر نا گواری کے عالم میں کہا وہ عراق جو شہر نفاق ہے؟ حضرت امام مالک کا اشارہ نواسہ رسول ﷺ کے ساتھ اہل کوفہ کے سلوک کی طرف تھا۔ یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے نہایت تحمل کے ساتھ کہا میں عجمی ہوں اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں تا کہ قرآن کی قرآت میں کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کروا لوں کیونکہ آپ اس مقدس شہر کے باسی ہیں جہاں قرآن نازل ہوا تھا۔ امام مالک رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرأت کرنے کی اجازت دی امام اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ پڑھا
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡعراق
تمہارے آس پاس دیہات میں رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور عراق کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔
یہ سن کر امام مالک نے نہایت ناراضگی کے عالم میں کہا خدا کے بندے قرآن کی آیت تو درست پڑھو ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا درست آیت کیا ہے؟ امام مالک نے کہا درست آیت یوں ہے
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
(اے رسول ﷺ) تمہارے آس پاس کے دیہات کے رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔ (سورۃ توبہ، آیت نمبر (١٠١)
یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ منافقوں کے شہر میں کون رہ رہا ہے؟
بعد میں تفصیلی متعارف ہوا اور شاید امام اعظم رضی اللہ عنہ کے اسی طرح کے جوابات سن کر امام مالک نے نے تبصرہ کیا تھا وہ ایک ایسے بزرگ ہیں کہ اگر لکڑی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔
( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی بحوالہ کوفی لایوفی ٢٢)
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
اس آیت کریمہ سے یہ صاف معلوم ہوا کہ مدینہ شریف میں بعض لوگ منافق ہیں تو کیا اس کی وجہ سے معاذ اللہ مدینہ جیسے مقدس شہر کو کوئی شہر منافق کہ سکتا ہے؟ صد بار معاذ اللہ ہر گز نہیں
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہر میں لوگ کچھ منافق بے وفا بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے پورے شہر کو بدنام نہیں کیا جا سکتا ہے اگر بدنام کیا جانا صحیح ہو بعض لوگوں کی وجہ سے پورے شہر کو تو پھر ایسی ذہنیت کے لوگ مدینہ شریف جیسے مقدس شہر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس پر تو نص قرآنی ثابت ہے۔
معلوم ہوا کہ حق یہی ہے کہ شہر کو اچھے لوگوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اچھی چیزیں بالا تفاق بری چیزوں پر فوقیت رکھتی ہیں

در بہاری بوئے وفا نیست ــــــــــــــــ

در بہاری بوئے وفا نیست اور کوفی لایوفی دونوں میں وفا کی نفی کی گئی ہے پہلے میں بہاریوں سے وفا کی نفی ہے دوسرے میں کوفیوں سے وفا کی نفی ہے لیکن دونوں میں قدرے فرق ہے پہلا شیعوں کا دیا ہوا تمغہ ہے دوسرا شیخ المشائخ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے لوگ کہتے ہیں اس کے ماخذ تک میری رسائی نہیں میں نے بھی فقط لوگوں سے سنا ہے کہ مخدوم بہاری شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے
در بہاری بوئے وفا نیست گر چہ من بہاری است اگر یہ صحیح بھی ہو کہ واقعی مخدوم بہاری نے ایسا فرمایا ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا انھیں بہاریوں پر جنھوں نے مخدوم بہاری کے دور میں مخدوم بہاری سے بے وفائی کی نہ کہ تمام بہاریوں پر محمول کر دیا جائے کیا ہماری نظر میں اس کی مثال یہ نہیں
کہ حضرت امام حسین کو کوفیوں نے شہید کیا لیکن اس کی وجہ سے سارے کوفی، لایوفی میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ حضرت حر بھی کوفی تھے لیکن اپنی جان امام عالی مقام کے قدموں میں قربان کر دیے اس سے بڑی وفا کی مثال کیا ہو سکتی ہے
مخدوم بہاری کی بارگاہ ناز میں آج بھی فرزندان بہار اہلیان تاج و کلاہ سر بخم نظر آتے ہیں کیا یہ وفا کی مثال نہیں ہے ؟
جس طرح اہلیان مدینہ میں بعض حضرات کے منافق ہونے کی وجہ سے مدینہ مقدسہ کو شہر منافق نہیں کہا جا سکتا ہے ایسے ہی دوسرے ممالک یا صوبہ جات یا اضلاع میں بعض باشندوں کی نا اہلی، جہالت، منافقت، نفرت، بے وفائی غداری کی وجہ سے پورے ملک یا صوبہ یا شہر کے سر پر بے وفائی کا تاج نہیں سجایا جا سکتا ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ خالص عقلی دیوالیہ پن ہے
در بہاری بوئے نیست اگر چہ من بہاری است کی دوسری تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر مخدوم بہاری نے یہ فرمایا ہے تو اپنے علاقۂ بہار کے لوگوں کے لیے فرمایا کیونکہ صوبہ بہار ہی میں بہار شریف کے نام سے ایک الگ شہر ہے جہاں حضور مخدوم بہاری رضی اللہ عنہ آرام فرما ہیں یہ تو بطور تنزل ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر چہ صوبہ بہار نہیں شہر بہار ہی ہو پھر بھی ایک شہر بعض اشخاص کی حماقت کی وجہ سے تمام اشخاص کو بے وفائی سے موسوم نہیں کر سکتے ہیں

بہار جنت نشان ـــــــــــــــــــ

بہار کے بوسیدہ رخ کو ہم نے لوگوں کے سامنے تو پیش کیا لیکن درخشندہ رخ کو چھپا کر رکھا کہ کہیں لوگ اسے دیکھ کر فریفتہ نہ ہو جائیں اسیر بہار و فرزندان بہار نہ ہو جائیں
متعصبین نے در بہاری بوئے وفا نیست کو ہر بہاری پر لاحق کر دیا لیکن ہم انھیں متعصبین سے عرض کرنا چاہتے ہیں اگر ایک بری چیز کو آپ ہر ہر بہاری پر لاحق کر رہے ہیں تو عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اچھی چیز کو بھی ہر ہر بہاری پر برابر لاحق کریں
برادر اعلی حضرت استاذ زمن حامی سنن علامہ حسن قدس سرہ فرماتے ہیں:
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
پہلے تو یہ جان لیں کہ قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت کی نظر میں کیسی عظیم ذات ہے جب حضور اعلی حضرت المستند المعتمد حاشیہ المعتقد المنتقد تحریر فرماتے ہوئے قاضی عبد الوحید فردوسی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو یوں ارقام فرماتے ہیں:
و من اشد القائمین بالحق في هذه الفتنة العميا ، والبلية الصماء اعاذنا الله تعالي منها و من كل بلاء ، وحيد الزمن، حامي السنن ، ماحي الفتن ، صديقنا القاضي عبد الوحيد الحنفي الفردوسي العظيم آبادي خفظه الله ذو الايادي الذي بامره وقع طبع هذا المتن الشريف، و تاليف هذا التعليق اللطيف فاحتفل احتفالا، و صرف اموالا و نصر الحق و قھر الضلالا، فجزاہ اللہ الحسنی بدأ و مآلا
[المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد، خاتمه]
ترجمہ:کے
اور اس اندھے فتنے اور بہری بلا میں بہت زیادہ سختی سے حق پر قائم رہنے والوں میں (اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اور ہر بلا سے اپنی پناہ میں رکھے) یکتائے زمن حامی سنن ماحی فتن ہمارے دست قاضی عبد الوحید حنفی فردوسی عظیم آبادی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے احسانات میں رکھے جن کے حکم سے اس متن شریف کی طباعت اور اس حاشیہ کی تالیف ہوئی تو انھوں نے جشن مسرت کیا اور مال خرچ کیا اور حق کی مدد کی اور گمراہی کو مقہور کیا اللہ تعالیٰ آغاز و انجام میں اچھی جزا دے
اقتباس مذکور سے قارئین کے ذہن و دماغ میں قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات کا اندازہ ہوگیا ہوگا
اب استاذ زمن علامہ حسن کے شعر کو دوبارہ پڑھیں
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
یعنی حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی کوشش سے پٹنہ {عظیم آباد} نویں جنت بن گیا ہے
قارئین خوب جانتے ہیں جنت آٹھ ہیں لیکن بہار سے دین کی اشاعت و تبلیغ اس حسن و خوبی کے ساتھ ہوئی کہ بریلی نے اسے نویں جنت تسلیم کیا اور بتایا کہ دین کی خدمت کرنے والوں کو فراموش نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
تو اب متعصبین معترضین سے میرا سوال یہ ہے کیا استاذ زمن علامہ حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کو ہر ہر بہاری پر لاحق کریں گے اور کہیں گے کہ فلاں جنت نشان بہار سے آئے ہیں فلاں جنت البلاد بہار میں رہتے ہیں فلاں مجمع العلما کے باشندے ہیں نہیں کہیں گے کیونکہ یہاں آپ کا نفس امارہ اس بات کی اجازت ہی نہیں دے گا
اگر ایک دور کے ایک علاقے کے لوگوں کو کہا گیا کہ ان لوگوں میں وفا کی بو نہیں تو اس لاحقے کو ہر آنے والے کے لیے نافذ کر دیا یہاں تو بہار کی راجدھانی پٹنہ کو نویں جنت کہا گیا تو کیا اس کی وجہ سے بہار کی ہر بستی ہر گاؤں بلکہ ہر گاؤں کی گلیوں کو جنت نہیں کہ سکتے ہیں ؟ اگر بوئے وفا نیست میں وسعت ہو سکتی ہے تو خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید میں وسعت کیوں نہیں ہو سکتی؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا

تعصب کی آندھی ــــــــــــــ

کچھ دن قبل ایک طالب علم جامعہ امجدیہ سے ٹرینی سفر سے آسام چلا گیا اور اپنے گھر والوں کو یہ بتایا کہ ٹرین میں کسی سے میری لڑائی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پورا ہندوستان حرکت میں آ گیا خاص کر علماء کرام نے اپنا اہم رول ادا کیا مگر طالب علم کے ملنے کے بعد ایک بڑا خلاصہ یہ ہوا کہ اس نے پڑھائی نہ کرنے کے لیے یہ سازش رچی تمام خیر خواہوں کو بڑا افسوس ہوا مگر وہیں پر متعصبین نے اس مسئلے کو علاقائی رنگ دینے کی انتہائی گھنونی کوشش کی اور لکھا :
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا بہاری ہے یا غیر بہاری ہے اگر بہاری ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا بہاریوں کی فطرت میں شامل ہے

یک از متعصبین بہار

اس فیسبکی کمینٹ سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرزندان بہار کے لیے ان حضرات کے ذہن و دماغ میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے
لیکن میں موصوف سے پوچھنا چاہوں گا اگر اسی کی طرح کوئی عقلی دیوالیہ پن کا اظہار کرتے ہوئے یہ لکھ مارے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا امجدی ہے یا غیر امجدی ہے اگر امجدی ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا امجدیوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ]
کیا اس کو جامعہ امجدیہ سے جوڑ کر اس طرح لکھنا صحیح ہوگا کبھی نہیں ہر گز نہیں اچھا صحیح کیوں نہیں ہوگا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس میں جامعہ امجدیہ کی کیا غلطی؟ غلطی تو اس طالب علم کی ہے جس نے یہ حرکت شنیعہ قبیحہ کی ہے اور ایک قدم آگے بڑھ کر کوئی بد بخت یہ لکھ دے کہ
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے اگر مسلم ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا مسلمانوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ ہزار بار معاذ اللہ]
یہ بولی نہیں ہوگی مگر کافروں کی ایسے ہی وہ بولی نہیں ہوگی مگر متعصبین کی جن کی گردنوں میں تکبر حسد اور انانیت کا پٹہ پڑا ہے وہی ایسا لکھ سکتا ہے بول سکتا ہے اور جس کے ذہن و دماغ میں اچھائیاں ہوتی ہیں وہ پھر یہی کہتا ہے
بلدہ بہار کہ مجمع علما بود ۔۔۔۔
۔۔۔۔خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید
لکھتے لکھتے ازہار العرب کی ایک حکایت یاد آ گئی مناسب ہے کہ باصر نواز کر دوں
مر حكيم بقوم فقالوا له شرا فقال خيرا فقيل له ذالك فقال كل ينفق مما عنده
مفہومی ترجمہ: ایک حکیم صاحب ایک قوم کے پاس سے گزرے لوگوں نے انھیں برا بھلا کہا حکیم صاحب نے انھیں اچھا کہا ان سے کہا گیا کہ یہ کیا؟ یہ لوگ آپ کو برا کہتے ہیں اور آپ کو ان کو اچھا کہتے ہیں تو حکیم نے بڑا پیارا جواب دیا کل ینفق مما عندہ جس کے پاس جو ہوتا ہے وہ وہی خرچ کرتا ہے
اور یہ بھی سب جانتے کل اناء یترشح بما فیہ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے
موصوف کے پاس تعصب کے سوا کچھ نہیں تھا اس لیے اپنا تعصب خرچ کیا اور اپنے برتن سے حسد کے قطرے ٹپکائے اور دونوں جہان میں اپنی عزت افزائی کا سامان مہیا کر لیا ایسے ہی لوگوں کے لیے کسی نے کہا ہے:
اپنے دامن میں لگے داغ نے دیکھے تم نے
کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے

ہم اور نظام اسلام ــــــــــــــــــــ

آج ہم نظام اسلام سے دور ہو رہے ہیں اسی لیے ہمارے ذہن و دماغ میں تعصب پرستی شخصیت پرستی جیسے جراثیم نے گھر بنا لیے ہیں حالانکہ نظام اسلام تو اتنا صاف و شفاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کسی کالے پر کسی گورے کو کسی عجمی پر کسی عربی کو کوئی فضیلت نہیں
کیا اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوا کہ کسی دہلوی کو کسی بہاری پر کسی پنڈوی کو کسی بنارسی پر بر بنائے جگہ کوئی فضیلت نہیں
کیا یہ بولتے ہوئے دل دہل نہیں گیا کہ بہاریوں کی فطرت میں فراڈ پن ہے معاذ اللہ اس سے کتنے فرزندان بہار کے دل زخمی ہوئے ہوں گے کیا ان حضرات کی نظروں سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نظر سے نہیں گزری
المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں کیا موصوف کی نظر میں بہاری مسلم نہیں ہیں؟
کیا کبھی اس حدیث کا مطالعہ نہیں کیا ؟
من اذی مسلما فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ
خدارا خدارا خود سے خود کی عزتیں پامال نہ کریں یہ بھید بھاؤ کر کے مسلمانوں میں پھوٹ نہ ڈالیں آپ جب مسلمان ہیں تو اسلامی نظام کے پیروکار ہو جائیں اغیار کی طرح باتیں نہ کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب تم بھی زد میں آؤگے اور تمہارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا

خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ

فلاح و نجات اخوت و محبت اسلامی نظام میں ہے دنیاداری کی ذہنیت میں سوائے حسد جلن خرافات کے کچھ نہیں ہے واضح رہے اسلام میں کسی گورے یا عربی کو کسی کالے یا عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ایسے ہی کسی دہلوی کو کسی بہاری بنگالی پر کوئی فضیلت نہیں کسی دور کے بعض اشخاص کے برے ہونے کی وجہ سے وہاں کے تمام باشندوں کو کسی صورت برا نہیں کہا جا سکتا، انسان کو انصاف پسند اخوت و محبت کا درس دینے والا ہونا چاہئے ہر بات میں اسلام کو فوقیت دے نہ کہ اپنی ذات کو اور اسلام میں ہے کہ بڑوں کی عزت کرو چھوٹوں پر شفقت کرو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آج بھی ہو اگر ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
اللہ جل جلالہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: درّاسہ، نزد مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ نمبر : 9523788434
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

کوفہ ــــــــــــــــ

امیر المؤمنین خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ١٥ ہجری میں شہر کوفہ کو بسایا جیسا کہ تاریخ الخلفاء باب خلافت فاروقی میں ہے: ۱۵ھ‌‌‍ میں مملکت اردن فتح ہوا اور طبریہ ذریعہ صلح اسلامی قبضہ میں آیا۔ اسی سال یرموک و قادسیہ میں زبردست لڑائیاں کی گئیں ۔ ابن جریر کا بیان ہے کہ اسی سال حضرت سعد نے کوفہ کو شہر بنایا۔ اور اسی سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جاگیریں دیں ۔ دفاتر مقرر کیے اور مستحقین کو مزید عطیات سے سرفراز فرمایا۔
[تاریخ الخلفاء ص ١٣٤]

کوفی ـــــــــــــــــ

کوفہ سے کوفی بنا یعنی جو حضرات کوفہ کے رہنے والے ہیں ان کو کوفی کہتے ہیں جیسے بنارس کے رہنے والے کو بنارسی الہ آباد کے رہنے والے کو الہ آبادی پورنیہ کے رہنے والے کو پورنوی کہتے ہیں اور بصرہ کے رہنے والے کو بصری کہتے ہیں جیسے امام حسن بصری رضی اللہ عنہ بصرہ کے رہنے والے ہیں اس لیے ان کو بصری کہتے ہیں امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کو کوفی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کوفہ کے باسی ہیں

بِہارـــــــــــــــــــــــ

بہار ملک ہندوستان کا ایک عظیم صوبہ ہے جو ٦٣٣ ہجری سے پہلے متھلا دیش اور ترہت کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا ابو الفضل نے آئین اکبری میں اسی ترہت کا تذکرے کرتے ہوئے ارقام کیا ہے
از دیر گاہ بن گاہ [مرکز] ہندی دانش
[ج ٢ ص ٦٧]
یعنی آئین اکبری میں (ترہت) بہار کو علم و دانش کا ہندوستانی قدیم مرکز کے نام سے یاد کیا ہے جس کی چمک ہنوز باقی ہے
بہار ٢٢ مارچ ١٩١٢ ء میں بنگال سے الگ ہو کر ایک مستقل صوبہ بنا پھر بہار سے الگ ہو کر جھارکھنڈ صوبہ بنا۔ یہ تاریخی تقسیم ١٥ نومبر ٢٠٠٠ء کو بہار ری آرگنائزیشن ایکٹ (Bihar Reorganisation Act) کے ذریعے عمل میں آئی، جس کے بعد ریاست جھارکھنڈ بھارت کا ٢٨ واں صوبہ بن گیا۔اس سے قبل، ١ اپریل ١٩٣٦ء کو برطانوی راج کے دوران اڑیسہ (موجودہ اوڈیشہ) بھی بہار سے الگ ہو کر ایک نیا صوبہ بنا تھا۔

بِہاری ــــــــــــــــــــ

بِہاری بہار سے بنا یعنی بہار میں رہنے والے حضرات کو بہاری کہتے ہیں جیسے صاحب مسلم الثبوت مدقق بہاری علامہ قاضی محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری بہاری رضی اللہ عنہ

لفظ کوفی کی مظلومیت ـــــــــــــ

صدیوں سے لفظ کوفی ظلم سہ رہا ہے وہ بھی اپنوں کا ظلم بلکہ خواص کا ظلم جہاں کسی کو طعنہ دینا ہوا بس کہ پڑا تم تو کوفی ہو یعنی لفظ کوفی کو گالی کے طور پر عوام استعمال کرنے لگے خاص کر جب کسی سیدھے سادھے بھولے بھالے انسان سے کوئی غلطی صادر ہو گئی تو فورا کہہ دیتے ہیں یہ صوفی ہے یہ تو کوفی ہے یعنی ایسا لگتا ہے کہ موصوف یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ صوفی اور کوفی کے درمیان تباین کی نسبت ہے حالانکہ اہل عقل و شعور پر خوب واضح ہے کہ اس میں تباین کی نسبت ہر گز نہیں ہو سکتی ہے ہاں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے یعنی بعض انسان کوفی ہے بعض انسان صوفی ہے اور بعض انسان صوفی بھی ہے اور کوفی بھی یعنی دو قضیے میں افتراق ہے اور ایک میں دونوں کا اجتماع ہے

سوال ـــــــــــ

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کوفی گالی کے طور پر کیوں نہ کہا جائے جب کہ اہل کوفہ نے نواسۂ رسول ﷺ جگر گوشۂ بتول رضی اللہ عنہا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تین دن تک بے آب و دانہ رکھ کر پیاسا شہید کیا تو کوفی اس لائق کہاں ہے کہ اس کی عزت کی جائے؟ اس کے آداب بجائے لائیں جائیں؟
جواب ـــــــــــــــــــ
ایسے سادہ دل سائلین کو فقیر یہی جواب دیتا ہے کہ آپ کا کہنا بجا ہے کہ جن کوفیوں نے امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ سب سخت فاسق و فاجر لائق ملامت ہیں لیکن ایک دور کے باشندوں کے ظلم و ستم کی بنا پر ہر آنے والے دور کے افراد کو ظالم و جابر فاسق و فاجر نہیں کہا جا سکتا ہے
شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں رقمطراز ہیں:
ضروری نہیں کہ ہر دور میں ، ہر مقام ایک حالت میں رہے
ایک زمانہ تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کوفہ کو کنز الایمان ، راس الاسلام اور راس العرب کہا کرتے تھے
[سیرۃ النعمان ص ٢٨]
ہاں جن لوگوں نے شہید کیا یا شہید کرنے والوں کی ساتھ شریک ہوا وہ ضرور مجرم فاسق و فاجر سخت ظالم و جابر ہیں

لفظ کوفی کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ

ہم نے اپنے عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا ہے کہ کوفہ بے وفاؤں کا شہر ہے کیونکہ اہل کوفہ ہی نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے کوفہ بلایا اور شہید کیا اور اس کو اس طرح سے پیش کیا کہ لوگوں کو لگا سارے کوفی ہی ایسے ہیں اس لیے جب بھی کوفی بولا جاتا ہے فورا تصور میں یہ سارے واقعات تیز رفتار کے ساتھ گردش کر جاتے ہیں اور ظلم و ستم کے تصورات سے ذہن و دماغ میں گہرا اثر پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے لفظ کوفی ہی سے انسان کو نفرت ہونے لگتا ہے
وہیں اگر تھوڑی تشریح کر دی جاتی اور کوفہ کے فضائل بیان کر دیے جاتے تو یہ نوبت کبھی نہ آتی کہ عوام اس قدر بد ظن ہو جاتے عوام کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کوفہ ہی کی وہ سر زمین ہے جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایمان کا خزانہ فرمایا یہ وہی سر زمین ہے جہاں سے امام الائمہ سراج الغمہ امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ نے ہر گوشۂ دنیا میں علم کی روشنی پھیلائی یہ وہی ذات ہے جس کی تقلید دنیائے حنفیت کرتی ہے
یہاں ایک بات اور کہہ دوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کوفی ہیں اور ہم ان کے مقلد ہیں تو ہم جہاں حنفی ہیں وہیں کوفی بھی ہیں جیسے ہم جہاں رضوی ہیں وہیں بریلوی بھی ہیں یہ الگ بات ہے کہ کوئی نسبت بہت مشہور ہوئی کوئی نہیں ہوئی اگر ہم اپنی نسل کو یہ بتاتے تو ہماری نسل لفظ کوفی سے نہیں چڑھتی

لفظ بہاری کی مظلومیت ـــــــــــــ

جو ستم کوفی پر لوگوں نے ڈھائے وہی ستم بہاری پر بھی ڈھائے آپس میں بہاری کو لوگوں نے انپڑھ، گنوار، جاہل، غریب، لاچار، بے وفا باور کرانے کوشش کی اب لوگوں نے اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیا جو بہاری ہوگا اسے بولنے کی تمیز نہیں ہوگی، جو بہاری ہوگا بے تکی حرکتیں کرے گا وغیرہ وغیرہ جس کے نتیجے میں بہت سارے ایسے بہاری حضرات ہیں جو ممبئی وغیرہ میں خود کو بہاری نہیں بتاتے ہیں
ہماری قوم نے لوگوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا ہے اگر ہم اس طرح بھید بھاؤ نہیں کرتے تو لوگ اس طرح کی جھوٹی باتیں نہیں بولتے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہیں نہ کہیں ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جس کی وجہ سے انسانیت شرمندہ ہے

لفظ بہاری کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ

لوگوں کی ذہن سازی اس قدر ہو چکی ہے جب کوئی بہاری بولتا ہے تو فورا ذہن میں طرح طرح کے منفی تصورات کا ہجوم لگ جاتا ہے کیونکہ ہم نے لوگوں کے سامنے بہار کا برا چہرہ پیش کیا ہے اچھا چہرہ پیش نہیں کیا اگر اچھا چہرہ پیش کیے ہوتے تو آج یہ حالات نہیں ہوتے اگر ہم نے اپنی قوم کے سامنے بہار کا تعارف یوں کرایا ہوتا تو آج منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ مثلا
بہار اصفیا، اولیا، علما، صلحا، ادبا بادشاہوں کا مسکن ہے یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے علمی فیض سے ایک جہاں فیضیاب ہے جہاں علما کی کثرت اس قدر ہے کہ جب علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنھما کو اپنے خاندانی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بہار کا ذکر کرنا ہوا تو فرماتے ہیں
بلدہ بہار کہ مجمع علما بود [انفاس العارفین ماخوذ از محی الملۃ والدین ص ٢٢]
بہار کی سرزمین ایسی زرخیز علمی زمین ہے جہاں علماء دین کا ہجوم رہتا ہے

کوفی لا یوفی ــــــــــــــــــــــــــــــ

کوفی لا یوفی [کوفی بے وفا ہوتے ہیں] یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو چلا کر انسان انسان کے جذبات کا خون کر دیتا ہے کوفی نام سے انسان کے دل و دماغ افکار و خیالات میں نفرت پیدا کر دیتا ہے۔
حالانکہ کوفی لایوفی مسلمانوں کا نہیں شیعوں کا دیا ہوا سازشی جملہ ہے تاکہ عوام کوفی علما سے بد ظن ہو جائیں اور امام اعظم جیسی شخصیت سے بیزار ہو جائیں اور کچھ حد تک اس پر کامیاب بھی ہوئے لیکن افسوس یہ ہے شیعوں کو یہ کامیابی اپنوں سے ملی اور آج شیعوں کی اس سازش کو عوام سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور کوفی جو وفادرای کی سند ہے اسے غداری کے لباس میں ملبوس کر دیا
ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ کوفہ کے ہر دور کے لوگ اچھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں جس دور کے لوگ ظالم ہیں وہ ظالم ہی کہلائیں گے لیکن ان کی وجہ سے ہر دور کے لوگوں کو برا نہیں کہا جائے گا کیونکہ ہر شہر میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں کچھ اچھے کچھ برے
یہ شبہ کہ کوفی، لایوفی ہوتے ہیں پہلے کے بعض اکابر کے ذہنوں میں بھی گزرا لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو ان کا یہ شبہ ختم ہوا
جیسا کہ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی میں ہے:
منقول ہے کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے لوگوں سے دریافت کیا شہر کا جید عالم کون ہے؟
بتایا گیا حضرت ابو عبد اللہ مالک بن انس الاصجی رضی اللہ عنہ، امام اعظم رضی اللہ عنہ ان سے ملنے گئے حسب روایت تعارف کے دوران آپ نے بتایا کہ میں عراق سے آیا ہوں حضرت امام مالک نے یہ سن کر نا گواری کے عالم میں کہا وہ عراق جو شہر نفاق ہے؟ حضرت امام مالک کا اشارہ نواسہ رسول ﷺ کے ساتھ اہل کوفہ کے سلوک کی طرف تھا۔ یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے نہایت تحمل کے ساتھ کہا میں عجمی ہوں اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں تا کہ قرآن کی قرآت میں کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کروا لوں کیونکہ آپ اس مقدس شہر کے باسی ہیں جہاں قرآن نازل ہوا تھا۔ امام مالک رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرأت کرنے کی اجازت دی امام اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ پڑھا
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡعراق
تمہارے آس پاس دیہات میں رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور عراق کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔
یہ سن کر امام مالک نے نہایت ناراضگی کے عالم میں کہا خدا کے بندے قرآن کی آیت تو درست پڑھو ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا درست آیت کیا ہے؟ امام مالک نے کہا درست آیت یوں ہے
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
(اے رسول ﷺ) تمہارے آس پاس کے دیہات کے رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔ (سورۃ توبہ، آیت نمبر (١٠١)
یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ منافقوں کے شہر میں کون رہ رہا ہے؟
بعد میں تفصیلی متعارف ہوا اور شاید امام اعظم رضی اللہ عنہ کے اسی طرح کے جوابات سن کر امام مالک نے نے تبصرہ کیا تھا وہ ایک ایسے بزرگ ہیں کہ اگر لکڑی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔
( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی بحوالہ کوفی لایوفی ٢٢)
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
اس آیت کریمہ سے یہ صاف معلوم ہوا کہ مدینہ شریف میں بعض لوگ منافق ہیں تو کیا اس کی وجہ سے معاذ اللہ مدینہ جیسے مقدس شہر کو کوئی شہر منافق کہ سکتا ہے؟ صد بار معاذ اللہ ہر گز نہیں
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہر میں لوگ کچھ منافق بے وفا بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے پورے شہر کو بدنام نہیں کیا جا سکتا ہے اگر بدنام کیا جانا صحیح ہو بعض لوگوں کی وجہ سے پورے شہر کو تو پھر ایسی ذہنیت کے لوگ مدینہ شریف جیسے مقدس شہر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس پر تو نص قرآنی ثابت ہے۔
معلوم ہوا کہ حق یہی ہے کہ شہر کو اچھے لوگوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اچھی چیزیں بالا تفاق بری چیزوں پر فوقیت رکھتی ہیں

در بہاری بوئے وفا نیست ــــــــــــــــ

در بہاری بوئے وفا نیست اور کوفی لایوفی دونوں میں وفا کی نفی کی گئی ہے پہلے میں بہاریوں سے وفا کی نفی ہے دوسرے میں کوفیوں سے وفا کی نفی ہے لیکن دونوں میں قدرے فرق ہے پہلا شیعوں کا دیا ہوا تمغہ ہے دوسرا شیخ المشائخ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے لوگ کہتے ہیں اس کے ماخذ تک میری رسائی نہیں میں نے بھی فقط لوگوں سے سنا ہے کہ مخدوم بہاری شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے
در بہاری بوئے وفا نیست گر چہ من بہاری است اگر یہ صحیح بھی ہو کہ واقعی مخدوم بہاری نے ایسا فرمایا ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا انھیں بہاریوں پر جنھوں نے مخدوم بہاری کے دور میں مخدوم بہاری سے بے وفائی کی نہ کہ تمام بہاریوں پر محمول کر دیا جائے کیا ہماری نظر میں اس کی مثال یہ نہیں
کہ حضرت امام حسین کو کوفیوں نے شہید کیا لیکن اس کی وجہ سے سارے کوفی، لایوفی میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ حضرت حر بھی کوفی تھے لیکن اپنی جان امام عالی مقام کے قدموں میں قربان کر دیے اس سے بڑی وفا کی مثال کیا ہو سکتی ہے
مخدوم بہاری کی بارگاہ ناز میں آج بھی فرزندان بہار اہلیان تاج و کلاہ سر بخم نظر آتے ہیں کیا یہ وفا کی مثال نہیں ہے ؟
جس طرح اہلیان مدینہ میں بعض حضرات کے منافق ہونے کی وجہ سے مدینہ مقدسہ کو شہر منافق نہیں کہا جا سکتا ہے ایسے ہی دوسرے ممالک یا صوبہ جات یا اضلاع میں بعض باشندوں کی نا اہلی، جہالت، منافقت، نفرت، بے وفائی غداری کی وجہ سے پورے ملک یا صوبہ یا شہر کے سر پر بے وفائی کا تاج نہیں سجایا جا سکتا ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ خالص عقلی دیوالیہ پن ہے
در بہاری بوئے نیست اگر چہ من بہاری است کی دوسری تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر مخدوم بہاری نے یہ فرمایا ہے تو اپنے علاقۂ بہار کے لوگوں کے لیے فرمایا کیونکہ صوبہ بہار ہی میں بہار شریف کے نام سے ایک الگ شہر ہے جہاں حضور مخدوم بہاری رضی اللہ عنہ آرام فرما ہیں یہ تو بطور تنزل ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر چہ صوبہ بہار نہیں شہر بہار ہی ہو پھر بھی ایک شہر بعض اشخاص کی حماقت کی وجہ سے تمام اشخاص کو بے وفائی سے موسوم نہیں کر سکتے ہیں

بہار جنت نشان ـــــــــــــــــــ

بہار کے بوسیدہ رخ کو ہم نے لوگوں کے سامنے تو پیش کیا لیکن درخشندہ رخ کو چھپا کر رکھا کہ کہیں لوگ اسے دیکھ کر فریفتہ نہ ہو جائیں اسیر بہار و فرزندان بہار نہ ہو جائیں
متعصبین نے در بہاری بوئے وفا نیست کو ہر بہاری پر لاحق کر دیا لیکن ہم انھیں متعصبین سے عرض کرنا چاہتے ہیں اگر ایک بری چیز کو آپ ہر ہر بہاری پر لاحق کر رہے ہیں تو عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اچھی چیز کو بھی ہر ہر بہاری پر برابر لاحق کریں
برادر اعلی حضرت استاذ زمن حامی سنن علامہ حسن قدس سرہ فرماتے ہیں:
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
پہلے تو یہ جان لیں کہ قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت کی نظر میں کیسی عظیم ذات ہے جب حضور اعلی حضرت المستند المعتمد حاشیہ المعتقد المنتقد تحریر فرماتے ہوئے قاضی عبد الوحید فردوسی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو یوں ارقام فرماتے ہیں:
و من اشد القائمین بالحق في هذه الفتنة العميا ، والبلية الصماء اعاذنا الله تعالي منها و من كل بلاء ، وحيد الزمن، حامي السنن ، ماحي الفتن ، صديقنا القاضي عبد الوحيد الحنفي الفردوسي العظيم آبادي خفظه الله ذو الايادي الذي بامره وقع طبع هذا المتن الشريف، و تاليف هذا التعليق اللطيف فاحتفل احتفالا، و صرف اموالا و نصر الحق و قھر الضلالا، فجزاہ اللہ الحسنی بدأ و مآلا
[المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد، خاتمه]
ترجمہ:کے
اور اس اندھے فتنے اور بہری بلا میں بہت زیادہ سختی سے حق پر قائم رہنے والوں میں (اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اور ہر بلا سے اپنی پناہ میں رکھے) یکتائے زمن حامی سنن ماحی فتن ہمارے دست قاضی عبد الوحید حنفی فردوسی عظیم آبادی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے احسانات میں رکھے جن کے حکم سے اس متن شریف کی طباعت اور اس حاشیہ کی تالیف ہوئی تو انھوں نے جشن مسرت کیا اور مال خرچ کیا اور حق کی مدد کی اور گمراہی کو مقہور کیا اللہ تعالیٰ آغاز و انجام میں اچھی جزا دے
اقتباس مذکور سے قارئین کے ذہن و دماغ میں قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات کا اندازہ ہوگیا ہوگا
اب استاذ زمن علامہ حسن کے شعر کو دوبارہ پڑھیں
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
یعنی حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی کوشش سے پٹنہ {عظیم آباد} نویں جنت بن گیا ہے
قارئین خوب جانتے ہیں جنت آٹھ ہیں لیکن بہار سے دین کی اشاعت و تبلیغ اس حسن و خوبی کے ساتھ ہوئی کہ بریلی نے اسے نویں جنت تسلیم کیا اور بتایا کہ دین کی خدمت کرنے والوں کو فراموش نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
تو اب متعصبین معترضین سے میرا سوال یہ ہے کیا استاذ زمن علامہ حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کو ہر ہر بہاری پر لاحق کریں گے اور کہیں گے کہ فلاں جنت نشان بہار سے آئے ہیں فلاں جنت البلاد بہار میں رہتے ہیں فلاں مجمع العلما کے باشندے ہیں نہیں کہیں گے کیونکہ یہاں آپ کا نفس امارہ اس بات کی اجازت ہی نہیں دے گا
اگر ایک دور کے ایک علاقے کے لوگوں کو کہا گیا کہ ان لوگوں میں وفا کی بو نہیں تو اس لاحقے کو ہر آنے والے کے لیے نافذ کر دیا یہاں تو بہار کی راجدھانی پٹنہ کو نویں جنت کہا گیا تو کیا اس کی وجہ سے بہار کی ہر بستی ہر گاؤں بلکہ ہر گاؤں کی گلیوں کو جنت نہیں کہ سکتے ہیں ؟ اگر بوئے وفا نیست میں وسعت ہو سکتی ہے تو خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید میں وسعت کیوں نہیں ہو سکتی؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا

تعصب کی آندھی ــــــــــــــ

کچھ دن قبل ایک طالب علم جامعہ امجدیہ سے ٹرینی سفر سے آسام چلا گیا اور اپنے گھر والوں کو یہ بتایا کہ ٹرین میں کسی سے میری لڑائی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پورا ہندوستان حرکت میں آ گیا خاص کر علماء کرام نے اپنا اہم رول ادا کیا مگر طالب علم کے ملنے کے بعد ایک بڑا خلاصہ یہ ہوا کہ اس نے پڑھائی نہ کرنے کے لیے یہ سازش رچی تمام خیر خواہوں کو بڑا افسوس ہوا مگر وہیں پر متعصبین نے اس مسئلے کو علاقائی رنگ دینے کی انتہائی گھنونی کوشش کی اور لکھا :
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا بہاری ہے یا غیر بہاری ہے اگر بہاری ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا بہاریوں کی فطرت میں شامل ہے

یک از متعصبین بہار

اس فیسبکی کمینٹ سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرزندان بہار کے لیے ان حضرات کے ذہن و دماغ میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے
لیکن میں موصوف سے پوچھنا چاہوں گا اگر اسی کی طرح کوئی عقلی دیوالیہ پن کا اظہار کرتے ہوئے یہ لکھ مارے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا امجدی ہے یا غیر امجدی ہے اگر امجدی ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا امجدیوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ]
کیا اس کو جامعہ امجدیہ سے جوڑ کر اس طرح لکھنا صحیح ہوگا کبھی نہیں ہر گز نہیں اچھا صحیح کیوں نہیں ہوگا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس میں جامعہ امجدیہ کی کیا غلطی؟ غلطی تو اس طالب علم کی ہے جس نے یہ حرکت شنیعہ قبیحہ کی ہے اور ایک قدم آگے بڑھ کر کوئی بد بخت یہ لکھ دے کہ
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے اگر مسلم ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا مسلمانوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ ہزار بار معاذ اللہ]
یہ بولی نہیں ہوگی مگر کافروں کی ایسے ہی وہ بولی نہیں ہوگی مگر متعصبین کی جن کی گردنوں میں تکبر حسد اور انانیت کا پٹہ پڑا ہے وہی ایسا لکھ سکتا ہے بول سکتا ہے اور جس کے ذہن و دماغ میں اچھائیاں ہوتی ہیں وہ پھر یہی کہتا ہے
بلدہ بہار کہ مجمع علما بود ۔۔۔۔
۔۔۔۔خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید
لکھتے لکھتے ازہار العرب کی ایک حکایت یاد آ گئی مناسب ہے کہ باصر نواز کر دوں
مر حكيم بقوم فقالوا له شرا فقال خيرا فقيل له ذالك فقال كل ينفق مما عنده
مفہومی ترجمہ: ایک حکیم صاحب ایک قوم کے پاس سے گزرے لوگوں نے انھیں برا بھلا کہا حکیم صاحب نے انھیں اچھا کہا ان سے کہا گیا کہ یہ کیا؟ یہ لوگ آپ کو برا کہتے ہیں اور آپ کو ان کو اچھا کہتے ہیں تو حکیم نے بڑا پیارا جواب دیا کل ینفق مما عندہ جس کے پاس جو ہوتا ہے وہ وہی خرچ کرتا ہے
اور یہ بھی سب جانتے کل اناء یترشح بما فیہ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے
موصوف کے پاس تعصب کے سوا کچھ نہیں تھا اس لیے اپنا تعصب خرچ کیا اور اپنے برتن سے حسد کے قطرے ٹپکائے اور دونوں جہان میں اپنی عزت افزائی کا سامان مہیا کر لیا ایسے ہی لوگوں کے لیے کسی نے کہا ہے:
اپنے دامن میں لگے داغ نے دیکھے تم نے
کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے

ہم اور نظام اسلام ــــــــــــــــــــ

آج ہم نظام اسلام سے دور ہو رہے ہیں اسی لیے ہمارے ذہن و دماغ میں تعصب پرستی شخصیت پرستی جیسے جراثیم نے گھر بنا لیے ہیں حالانکہ نظام اسلام تو اتنا صاف و شفاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کسی کالے پر کسی گورے کو کسی عجمی پر کسی عربی کو کوئی فضیلت نہیں
کیا اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوا کہ کسی دہلوی کو کسی بہاری پر کسی پنڈوی کو کسی بنارسی پر بر بنائے جگہ کوئی فضیلت نہیں
کیا یہ بولتے ہوئے دل دہل نہیں گیا کہ بہاریوں کی فطرت میں فراڈ پن ہے معاذ اللہ اس سے کتنے فرزندان بہار کے دل زخمی ہوئے ہوں گے کیا ان حضرات کی نظروں سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نظر سے نہیں گزری
المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں کیا موصوف کی نظر میں بہاری مسلم نہیں ہیں؟
کیا کبھی اس حدیث کا مطالعہ نہیں کیا ؟
من اذی مسلما فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ
خدارا خدارا خود سے خود کی عزتیں پامال نہ کریں یہ بھید بھاؤ کر کے مسلمانوں میں پھوٹ نہ ڈالیں آپ جب مسلمان ہیں تو اسلامی نظام کے پیروکار ہو جائیں اغیار کی طرح باتیں نہ کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب تم بھی زد میں آؤگے اور تمہارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا

خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ

فلاح و نجات اخوت و محبت اسلامی نظام میں ہے دنیاداری کی ذہنیت میں سوائے حسد جلن خرافات کے کچھ نہیں ہے واضح رہے اسلام میں کسی گورے یا عربی کو کسی کالے یا عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ایسے ہی کسی دہلوی کو کسی بہاری بنگالی پر کوئی فضیلت نہیں کسی دور کے بعض اشخاص کے برے ہونے کی وجہ سے وہاں کے تمام باشندوں کو کسی صورت برا نہیں کہا جا سکتا، انسان کو انصاف پسند اخوت و محبت کا درس دینے والا ہونا چاہئے ہر بات میں اسلام کو فوقیت دے نہ کہ اپنی ذات کو اور اسلام میں ہے کہ بڑوں کی عزت کرو چھوٹوں پر شفقت کرو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آج بھی ہو اگر ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
اللہ جل جلالہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
58
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری

توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢