صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

(اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے)
​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقا پہلی بار چارلس ڈارون نے پیش کیا تھا اور اس کی بنیاد سائنسی شواہد، مشاہدات اور تجربات پر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ڈارون اس نظریے کا بانی تھا اور نہ ہی یہ نظریہ سائنسی ثبوتوں پر ٹکا ہوا ہے۔ یہ نظریہ دراصل قدیم مادہ پرستانہ فلسفے (Materialist Philosophy) کے ایک عقیدے کو فطرت کے لبادے میں ڈھال کر پیش کرنے کا نام ہے۔ اگرچہ اسے سائنسی دریافتوں کی حمایت حاصل نہیں، لیکن مادہ پرستانہ فلسفے کے نام پر اس نظریے کی اندھی حمایت کی جاتی ہے۔
​اس جنون اور تعصب نے ہر طرح کی تباہی اور آفات کو جنم دیا ہے۔ ڈارون ازم اور اس کے زیرِ اثر مادہ پرستانہ فلسفے کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اس سوال کا جواب بھی بدل گیا کہ انسان کیا ہے؟ وہ لوگ جو پہلے یہ جواب دیا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں اس کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاق کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ انسان محض اتفاق سے وجود میں آیا ہے اور وہ ایک ایسا جانور ہے جس نے بقا کی جنگ (Fight for Survival) کے ذریعے ترقی کی ہے۔
​اس دھوکے کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ نسل پرستی، فاشزم، کمیونزم جیسے متشدد نظریات اور تصادم پر مبنی بہت سے دوسرے وحشیانہ عالمی نظریات نے اسی دھوکے سے طاقت حاصل کی ہے۔

#ڈارونی فریب: زندگی ایک تصادم ہے
​ڈارون نے اپنے نظریے کی بنیاد اس ایک بنیادی مفروضے پر رکھی:
جانداروں کی ترقی کا تمام تر انحصار بقا کی جنگ پر ہے۔ اس کشمکش میں صرف طاقتور ہی جیتتا ہے، جبکہ کمزور شکست اور فنا کے گھاٹ اترنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
​ڈارون کے بقول، فطرت میں جینے کے لیے ایک بے رحم جدوجہد اور دائمی تصادم پایا جاتا ہے۔ طاقتور ہمیشہ کمزور کو دبا دیتا ہے، اور یہی وہ عمل ہے جس سے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کی مشہورِ زمانہ کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کا ذیلی عنوان ہی اس کے اس نقطہ نظر کا لبِ لباب ہے: قدرتی انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور، یا زندگی کی جدوجہد میں پسندیدہ نسلوں کا تحفظ۔
​مزید برآں، ڈارون نے یہ تجویز پیش کی کہ بقا کی جنگ کا یہ اصول انسانی نسلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس کے خیالی دعوے کے مطابق، اس جنگ میں پسندیدہ نسلیں ہی فتح یاب ہوتی ہیں۔ ڈارون کی نظر میں یہ پسندیدہ اور برتر نسلیں سفید فام یورپی تھے۔ اس کے برعکس افریقی یا ایشیائی نسلیں بقا کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی تھیں۔ ڈارون نے یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل قریب میں یہ نسلیں بقا کی جنگ پوری طرح ہار کر دنیا سے مٹ جائیں گی:
آنے والے وقت میں، جس کا فاصلہ صدیوں کے حساب سے زیادہ دور نہیں، مہذب انسانی نسلیں پوری دنیا میں وحشی نسلوں کو نیست و نابود کر کے ان کی جگہ لے لیں گی۔ اسی وقت بن مانسوں جیسی نسلیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ تب انسان اور اس کے قریب ترین جانوروں کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ ایک طرف (یورپی) سفید فاموں سے بھی زیادہ مہذب انسان ہوں گے اور دوسری طرف لنگوروں کی طرح کا کوئی پست جانور ہوگا، بجائے اس کے کہ جیسا اب ہے کہ ایک طرف حبشی یا آسٹریلوی باشندہ ہے اور دوسری طرف گوریلا۔ (The Descent of Man, Part 01, Chapter 03, Page No 156)
​ہندوستانی ماہرِ بشریات للیتا ودیارتھی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح ڈارون کے نظریے نے سماجی علوم پر نسل پرستی کو مسلط کیا:
ڈارون کے طاقتور کی بقا کے نظریے کو اس دور کے سماجی ماہرین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسانیت ارتقا کے مختلف مراحل طے کر چکی ہے جس کا عروج سفید فام انسان کی تہذیب ہے۔ انیسویں صدی کے نصف تک، مغربی سائنسدانوں کی اکثریت نے نسل پرستی کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ (Racism Science and Pseudo-Science, Page No 54)

ڈارون کے الہام کا ذریعہ: مالتھس کا سفاکانہ نظریہ

​اس موضوع پر ڈارون کے الہام کا ذریعہ برطانوی ماہرِ معاشیات تھامس مالتھس کی کتاب آبادی کے اصول پر ایک مضمون (An Essay on the Principle of Population) بنی۔ مالتھس کا حساب تھا کہ انسانی آبادی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس کی نظر میں آبادی کو قابو میں رکھنے والے بنیادی عوامل جنگ، قحط اور بیماری جیسی آفات تھیں۔ مختصراً یہ کہ اس بے رحم دعوے کے مطابق: کچھ لوگوں کو مرنا چاہیے تاکہ دوسرے زندہ رہ سکیں۔
​یوں وجود کا مطلب مستقل جنگ بن کر رہ گیا۔ انیسویں صدی میں مالتھس کے خیالات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ خاص طور پر یورپ کے اشرافیہ اور دانشوروں نے ان ظالمانہ خیالات کی حمایت کی۔ نازیوں کے نسلی پاکیزگی کے پروگرام کے سائنسی پس منظر پر لکھے گئے ایک مضمون میں اس دور کے یورپ کی مالتھس پسندی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
​انیسویں صدی کے نصف اول میں، پورے یورپ میں حکمران طبقے کے افراد آبادی کے مسئلے پر بحث کرنے اور مالتھس کے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے جمع ہوئے کہ غریبوں کی شرحِ اموات میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ وہ کہتے تھے: غریبوں کو صفائی ستھرائی کی ترغیب دینے کے بجائے، ہمیں ان میں گندی عادات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے شہروں کی گلیوں کو تنگ بنانا چاہیے، گھروں میں زیادہ سے زیادہ لوگ ٹھونس دینے چاہئیں، اور طاعون کی واپسی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ دیہات میں ہمیں اپنے گاؤں تعفن زدہ تالابوں کے قریب بسانے چاہئیں اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر آباد کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دلدلی ہوں اور صحت کے لیے مضر ہوں۔
(The Scientific Background of the Nazi Race Purification Program)
​اس سنگدلانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلتا کہ کمزور اور بقا کی جنگ ہارنے والے افراد ختم کر دیے جاتے، اور یوں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی متوازن ہو جاتی۔ غریبوں پر ظلم کی یہ پالیسی انیسویں صدی کے برطانیہ میں عملی طور پر اپنائی گئی۔ ایک ایسا صنعتی نظام وضع کیا گیا جس میں آٹھ نو سال کے بچوں سے کوئلے کی کانوں میں سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا اور ہزاروں بچے ان ہولناک حالات کی نذر ہو گئے۔ مالتھس کے نظریے کی مانگی گئی اس بقا کی جنگ نے لاکھوں برطانوی شہریوں کی زندگیوں کو مصائب سے بھر دیا۔
​ان خیالات سے متاثر ہو کر ڈارون نے تصادم کے اس تصور کو پوری فطرت پر لاگو کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس وجود کی جنگ میں صرف طاقتور اور موزوں ترین ہی فاتح بن کر ابھرتا ہے۔ مزید برآں، اس نے دعویٰ کیا کہ بقا کی یہ نام نہاد جنگ فطرت کا ایک برحق اور ناقابلِ تبدیل قانون ہے۔ دوسری طرف، اس نے تخلیقِ خداوندی کا انکار کر کے لوگوں کو اپنے مذہبی عقائد چھوڑنے کی دعوت دی، اور یوں ان تمام اخلاقی اقدار کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا جو بقا کی اس بے رحم جنگ میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔
​انسانیت نے بیسویں صدی میں ان بے حس نظریات کی تشہیر کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے، جنہوں نے انسانوں کو بے رحمی اور ظلم و ستم کی راہ پر ڈالا۔

جنگل کے قانون کا انجام: فاشزم (Fascism)

​جس طرح انیسویں صدی میں ڈارون ازم نے نسل پرستی کی آبیاری کی، اسی طرح اس نے ایک ایسے نظریے کی بنیاد رکھی جس نے پروان چڑھ کر بیسویں صدی میں دنیا کو خون میں نہلا دیا: یعنی نازی ازم (Nazism)۔
​نازی نظریہ سازوں پر ڈارون ازم کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب ہم اس نظریے کا جائزہ لیتے ہیں جسے ایڈولف ہٹلر اور الفریڈ روزنبرگ نے تشکیل دیا، تو ہمیں قدرتی انتخاب (Natural Selection)، انتخابی ملاپ (Selective Mating or Breeding) اور نسلوں کے درمیان بقا کی جنگ (The struggle for survival between the races) جیسے تصورات ملتے ہیں، جن کا ذکر ڈارون کی تصانیف میں درجنوں بار آیا ہے۔ ہٹلر نے جب اپنی کتاب کا نام میرا سنگھرش یا میری جدوجہد (Mein Kampf) رکھا، تو وہ دراصل ڈارون کے بقا کی جنگ والے تصور اور اس اصول سے متاثر تھا کہ کامیابی صرف طاقتور اور موزوں ترین کا مقدر بنتی ہے۔ وہ خاص طور پر نسلوں کے درمیان تصادم کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے:
تاریخ کا اختتام ایک ایسی ہزار سالہ عظیم سلطنت پر ہوگا جس کی شان و شوکت بے مثال ہوگی، اور اس کی بنیاد قدرت کے اپنے طے کردہ ایک نئے نسلی نظام (Racial Hierarchy) پر ہوگی۔
(Adolf Hitler, The Complete Totalitarian by L. H. Gann)
​1933 کی نیورمبرگ ریلی میں ہٹلر نے کھلے عام اعلان کیا کہ ایک برتر نسل، کم تر نسل کو اپنے تابع کر لیتی ہے... یہ ایک ایسا حق ہے جو ہمیں فطرت میں نظر آتا ہے اور اسے ہی واحد قابلِ فہم حق قرار دیا جا سکتا ہے۔
​نازیوں کا ڈارون ازم سے متاثر ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے اس موضوع کے تقریباً تمام ماہر مورخین تسلیم کرتے ہیں۔ مورخ ہک مین (Hickman) ہٹلر پر ڈارون ازم کے اثرات کو یوں بیان کرتا ہے:
​(ہٹلر) ارتقا پر پختہ یقین رکھتا تھا اور اس کی تبلیغ کرتا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت کی پیچیدگیاں اپنی جگہ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کے نزدیک جدوجہد کا تصور بہت اہم تھا... کیونکہ اس کی کتاب میری جدوجہد میں واضح طور پر کئی ارتقائی خیالات ملتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بقا کی جنگ، طاقتور کی جیت اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کمزوروں کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
(Islam Denounces Terrorism by Harun Yahya, Page No 134)
​ان نظریات کے ساتھ ابھرنے والے ہٹلر نے دنیا کو اس تشدد کی آگ میں جھونک دیا جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی تھی۔ نازیوں کے عقوبت خانوں (Concentration Camps) میں کئی نسلی اور سیاسی گروہوں، بالخصوص یہودیوں کو ہولناک مظالم اور قتلِ عام کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم، جس کا آغاز نازی جارحیت سے ہوا، ساڑھے پانچ کروڑ (55 ملین) جانوں کے ضیاع کا باعث بنی۔ عالمی تاریخ کے اس سب سے بڑے المیے کے پیچھے دراصل ڈارون ازم کا وہی بقا کی جنگ والا تصور کارفرما تھا۔

خونیں اتحاد: ڈارون ازم اور کمیونزم

​جہاں فاشسٹ نظریات سوشل ڈارون ازم کے دائیں بازو (Right Wing) کی نمائندگی کرتے ہیں، وہیں بائیں بازو (Left Wing) پر کمیونسٹ قابض ہیں۔ کمیونسٹ ہمیشہ سے ڈارون کے نظریے کے سخت ترین حامیوں اور محافظوں میں شامل رہے ہیں۔
​ڈارون ازم اور کمیونزم کے درمیان یہ رشتہ ان دونوں نظریوں کے بانیوں کے دور سے ہی قائم ہے۔ کمیونزم کے بانی مارکس (Marx) اور اینگلز (Friedrich Engels) نے ڈارون کی کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کے منظرِ عام پر آتے ہی اسے پڑھا اور وہ اس کے جدلیاتی مادی (Dialectical Materialist) رویے سے دنگ رہ گئے۔ مارکس اور اینگلز کی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈارون کے نظریے کو کمیونزم کے لیے فطری تاریخ کی بنیاد کے طور پر دیکھتے تھے۔ اینگلز نے ڈارون کے زیرِ اثر لکھی گئی اپنی کتاب فطرت کی جدلیات (The Dialectics of Nature) میں ڈارون کی جی بھر کر تعریف کی اور اپنی طرف سے اس نظریے میں ایک باب بندر سے انسان بننے کے عمل میں محنت کا کردار لکھ کر حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔
​مارکس اور اینگلز کے نقشِ قدم پر چلنے والے روسی کمیونسٹ رہنماؤں، جیسے پلیخانوف، لینن، ٹراٹسکی اور اسٹالن، نے بھی ڈارون کے نظریہ ارتقا سے مکمل اتفاق کیا۔ روسی کمیونزم کے بانی سمجھے جانے والے پلیخانوف کے مطابق مارکس ازم دراصل سماجی علوم پر ڈارون ازم کا اطلاق ہے۔ ٹراٹسکی نے کہا کہ ڈارون کی دریافت نامیاتی مادے کے پورے میدان میں جدلیات کی سب سے بڑی فتح ہے۔ کمیونسٹ کارکنوں کی تربیت میں ڈارونی تعلیم کا کلیدی کردار رہا۔ مثال کے طور پر، مورخین اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسٹالن اپنی جوانی میں مذہبی تھا، لیکن وہ ڈارون کی کتابوں کے اثر سے ہی ملحد (Atheist) بنا۔ چین میں کمیونسٹ اقتدار قائم کرنے والے اور لاکھوں لوگوں کے قاتل ماؤزے تنگ نے کھل کر تسلیم کیا کہ چینی سوشلزم کی بنیاد ڈارون اور نظریہ ارتقا پر ہے۔
​مختصراً یہ کہ نظریہ ارتقا اور کمیونزم کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ جاندار اتفاق کی پیداوار ہیں، اور یوں الحاد کو ایک نام نہاد سائنسی سہارا فراہم کرتا ہے۔ کمیونزم، جو کہ ایک ملحدانہ نظریہ ہے، اسی لیے ڈارون ازم سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا یہ تجویز کرتا ہے کہ فطرت میں ترقی تصادم (بقا کی جنگ) کی بدولت ممکن ہے، جو کمیونزم کے بنیادی فلسفے جدلیات (Dialectics) کی تائید کرتا ہے۔ اگر ہم کمیونزم کے جدلیاتی تصادم کے تصور کو، جس نے بیسویں صدی میں تقریباً 12 کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، ایک قتل کرنے والی مشین تصور کریں، تو ہم اس تباہی کی وسعت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ڈارون ازم نے اس سیارے پر نازل کی۔

ڈارون ازم اور دہشت گردی

​جیسا کہ ہم نے اب تک دیکھا، ڈارون ازم ان تمام متشدد نظریات کی جڑ ہے جنہوں نے بیسویں صدی میں انسانیت کے لیے تباہی کے پیغام لکھے۔ اس طرزِ فکر اور طریقے کے پیچھے بنیادی تصور یہ ہے کہ اس سے لڑو جو ہم میں سے نہیں ہے۔
​اس کی وضاحت ہم اس طرح کر سکتے ہیں: دنیا میں مختلف عقائد، نظریات اور فلسفے موجود ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ ان متنوع خیالات میں ایک دوسرے کے مخالف پہلو ہوں گے۔ تاہم، یہ مختلف موقف ایک دوسرے کو دو میں سے کسی ایک نظر سے دیکھ سکتے ہیں:
​۱۔ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے وجود کا احترام کر سکتے ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہی وہ طریقہ ہے جو قرآن کریم کے اخلاق کے عین مطابق ہے۔
​۲۔ وہ دوسروں کے ساتھ لڑنے کا راستہ منتخب کر سکتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک وحشی جانور جیسا سلوک کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جو مادہ پرستی (یعنی بے دینی) اپناتی ہے۔
​وہ ہولناکی جسے ہم دہشت گردی کہتے ہیں، دراصل اسی دوسری روش کا اظہار ہے۔ جب ہم ان دونوں طریقوں کے فرق پر غور کرتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈارون ازم نے لوگوں کے لاشعور میں انسان ایک لڑنے والا جانور ہے کا جو تصور بٹھایا ہے، وہ کتنا زیادہ بااثر ہے۔ وہ افراد اور گروہ جو تصادم کا راستہ چنتے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے کبھی ڈارون ازم کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن انجام کار وہ اسی نظریے سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں جس کی فلسفیانہ بنیاد ڈارون ازم پر ہے۔ انہیں اس نظریے کی سچائی پر یقین دلانے والی چیزیں دراصل وہ نعرے ہیں جن کی بنیاد ڈارون ازم پر ہے، جیسے: اس دنیا میں صرف طاقتور بچتا ہے ، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے ، جنگ ایک خوبی ہے ، اور انسان جنگ کر کے ہی ترقی کرتا ہے ۔ ڈارون ازم کو ہٹا دیں تو یہ محض کھوکھلے نعرے رہ جاتے ہیں۔
​درحقیقت، جب ڈارون ازم کو نکال دیا جائے تو تصادم کا کوئی فلسفہ باقی نہیں رہتا۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب: اسلام، عیسائیت اور یہودیت جن پر دنیا کی اکثریت یقین رکھتی ہے، اصل کے اعتبار سے سب کے سب تشدد کے مخالف ہیں۔ یہ تینوں مذاہب دنیا میں امن اور ہم آہنگی لانا چاہتے ہیں، اور بے قصور لوگوں کے قتل، ظلم اور تشدد کی مخالفت کرتے ہیں۔ تصادم اور تشدد اس اخلاق کی خلاف ورزی ہے جو اللہ نے انسان کے لیے طے کیا ہے۔ تاہم، ڈارون ازم تشدد اور تصادم کو ایک فطری، جائز اور درست عمل بنا کر پیش کرتا ہے جس کا وجود (اس کے بقول) ضروری ہے۔
​اسی وجہ سے، اگر کچھ لوگ اسلام، عیسائیت یا یہودیت کے نام پر یا ان کے نشانات استعمال کر کے دہشت گردی پھیلاتے ہیں، تو یقین رکھیں کہ وہ لوگ (حقیقی معنوں میں) مسلمان، عیسائی یا یہودی نہیں ہیں۔ وہ دراصل سوشل ڈارونسٹ ہیں۔ وہ مذہب کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن وہ سچے مذہبی نہیں ہیں۔ چاہے وہ مذہب کی خدمت کا کتنا ہی دعویٰ کریں، وہ دراصل مذہب اور مذہبی لوگوں کے دشمن ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے رحمی سے ایک ایسا جرم کر رہے ہیں جس سے مذہب نے منع کیا ہے، اور اس طریقے سے کر رہے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں مذہب کا چہرہ مسخ ہو جائے۔
​خلاصہ یہ کہ اس دہشت گردی کی جڑ، جس نے ہمارے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کوئی الہامی مذہب نہیں بلکہ الحاد ہے، اور ہمارے دور میں الحاد کا اظہار ڈارون ازم اور مادہ پرستی کی صورت میں ہو رہا ہے۔

اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا حل ہے

​کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر کام کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ اپنے مذہب کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہوں یا اس پر غلط طریقے سے عمل پیرا ہوں۔ اسی وجہ سے، ایسے لوگوں کو مثال بنا کر کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنا غلط ہوگا۔ کسی بھی مذہب کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے الہامی ماخذ (Divine Source) کا مطالعہ کیا جائے۔
​اسلام کا مقدس سرچشمہ قرآنِ کریم ہے، اور قرآن میں پیش کردہ اخلاقی نمونہ یعنی اسلام، اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جو کچھ اہل مغرب کے ذہنوں میں بنی ہوئی ہے۔ اسلام کی بنیاد اخلاق، محبت، ہمدردی، شفقت، عاجزی، قربانی، رواداری اور امن کے تصورات پر ہے۔ ایک مسلمان جو حقیقی معنوں میں ان اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی گزارتا ہے، وہ نہایت شائستہ، خیال رکھنے والا، روادار، قابلِ بھروسہ اور ملنسار ہوتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد محبت، احترام، ہم آہنگی اور زندگی کی خوشیاں بکھیرتا ہے۔

اسلام: امن اور سلامتی کا دین

​لفظ اسلام عربی زبان کے اس لفظ سے نکلا ہے جس کے معنی امن (Peace) کے ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کے لیے اس مقصد کے ساتھ نازل کیا گیا ہے کہ ایک پرامن زندگی فراہم کی جائے جس کے ذریعے زمین پر اللہ کی لامحدود شفقت اور رحمت کا ظہور ہو۔ اللہ تمام لوگوں کو اسلامی اخلاق کی دعوت دیتا ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں رحم، ہمدردی، رواداری اور امن کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 208 میں اللہ تعالیٰ مومنین سے یوں مخاطب ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
​ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
​جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے، سلامتی صرف اسلام میں داخل ہونے یعنی قرآن کی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

اللہ نے شر اور فساد کی مذمت کی ہے

​اللہ نے انسانوں کو برائی کے ارتکاب سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے کفر، بداخلاقی، سرکشی، ظلم، جارحیت، قتل و غارت اور خونریزی کو حرام قرار دیا ہے۔ جو لوگ اس حکم کی تعمیل نہیں کرتے، قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور ایک ایسا راستہ اپنا رہے ہیں جسے قرآن نے واضح طور پر گناہ قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر قرآن کی چند آیات درج ذیل ہیں:
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔
​ترجمہ: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔ (سورۃ الرعد: 25)
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔
​ترجمہ: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص: 77)
​جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، اللہ نے دینِ اسلام میں ہر طرح کے فساد انگیز کاموں سے منع کیا ہے اور ایسا کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ ایک مسلمان دنیا میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے اور اسے سنوارتا ہے۔

اسلام رواداری اور اظہارِ رائے کی آزادی کا علمبردار ہے

​اسلام ایک ایسا دین ہے جو خیالات، سوچ اور طرزِ زندگی کی آزادی فراہم کرتا ہے اور اس کی ضمانت دیتا ہے۔ اس نے لوگوں کے درمیان تناؤ، جھگڑوں، بہتان تراشی اور یہاں تک کہ منفی سوچ کو روکنے کے احکامات دیے ہیں۔ جس طرح اسلام دہشت گردی اور تشدد کی ہر شکل کے خلاف ہے، اسی طرح اس نے لوگوں پر معمولی سا ذہنی یا نظریاتی دباؤ ڈالنے سے بھی منع کیا ہے:
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ
​ترجمہ: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے۔ (سورۃ البقرہ: 256)
فَذَكِّرْ۫ؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ
​ترجمہ: تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔ تم کچھ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ (سورۃ الغاشیہ: 21-22)
​لوگوں کو کسی مذہب پر یقین لانے پر مجبور کرنا اسلام کی روح اور جوہر کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق سچا ایمان صرف ضمیر کی آزادی سے ہی ممکن ہے۔ بلاشبہ، مسلمان ایک دوسرے کو قرآنی اخلاق کے بارے میں مشورہ اور ترغیب دے سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی جبر، یا کسی بھی قسم کے جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کا سہارا نہیں لیں گے۔ اور نہ ہی وہ کسی کو دین کی طرف مائل کرنے کے لیے کسی دنیاوی رعایت کا استعمال کریں گے۔
​ذرا ایک ایسے معاشرے کا تصور کریں جو اس کے بالکل برعکس ہو، مثلاً ایک ایسی دنیا جہاں لوگوں کو قانون کے ذریعے کسی مذہب کو ماننے پر مجبور کیا جائے۔ ایسا معاشرہ اسلام کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ایمان اور عبادت کی قدر اللہ کے ہاں صرف اسی وقت ہے جب وہ انسان کی اپنی آزاد مرضی سے کی جائے۔ اگر کوئی نظام لوگوں پر عقیدہ مسلط کرتا ہے، تو وہ لوگ صرف اس نظام کے خوف سے مذہبی بنیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مذہب اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسے ماحول میں اختیار کیا جائے جہاں لوگوں کے ضمیر مکمل طور پر آزاد ہوں۔

اللہ نے بے گناہ لوگوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے

​قرآنِ کریم کے مطابق، سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک کسی ایسے انسان کو قتل کرنا ہے جس نے کوئی خطا نہ کی ہو۔
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
​ترجمہ: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (سورۃ المائدہ: 32)
​جیسا کہ آیت سے واضح ہے، جو شخص بلاوجہ بےگناہ کو قتل کرتا ہے اسے بڑے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ ایک فرد کا قتل بھی اتنا ہی برا ہے جتنا پوری انسانیت کا قتل۔ ایک شخص جو اللہ کی حدود کا پاس رکھتا ہو، وہ ایک انسان کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، چہ جائیکہ ہزاروں بےگناہ لوگوں کا قتلِ عام کرے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں انصاف اور سزا سے بچ جائیں گے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ انہیں اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی لیے اہلِ ایمان، جو جانتے ہیں کہ موت کے بعد انہیں جوابدہ ہونا ہے، اللہ کی حدود کا لحاظ رکھنے میں بہت محتاط ہوتے ہیں۔

اللہ کا حکم: شفقت و مہربانی

​قرآنِ کریم میں اسلامی اخلاق کو ایک آیت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ۔
​ترجمہ: پھر ہوا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ دہنی طرف والے ہیں۔ (سورۃ البلد: 17-18)
​جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نجات، رحمت اور جنت کے حصول کے لیے جن اہم ترین اخلاقی اصولوں کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک ایک دوسرے کو صبر اور مہربانی کی وصیت کرنا ہے۔
​قرآن میں بیان کردہ اسلام ایک بہترین، روشن خیال اور ترقی پسند دین ہے۔ ایک مسلمان سب سے بڑھ کر امن پسند ہوتا ہے۔ وہ روادار، سماجی مزاج کا حامل، باذوق، صاحبِ علم، دیانت دار، فنونِ لطیفہ و سائنس سے واقف اور ایک مہذب شہری ہوتا ہے۔
​قرآن کی ان اعلیٰ اخلاقی تعلیمات میں تربیت پانے والا مسلمان ہر ایک کے ساتھ اس محبت سے پیش آتا ہے جس کی اسلام توقع رکھتا ہے۔ وہ ہر خیال اور نظریے کا احترام کرتا ہے اور فن اور جمالیات (Aesthetics) کی قدر کرتا ہے۔ وہ ہر واقعے میں صلح جوئی کا راستہ اپناتا ہے، تناؤ کو کم کرتا ہے اور دوستی و محبت کو بحال کرتا ہے۔ ایسے افراد سے مل کر بننے والے معاشروں میں آج کی جدید ترین اقوام کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ تہذیب، اعلیٰ سماجی اخلاق، خوشی، انصاف، امن اور برکتیں موجود ہوں گی۔

اللہ نے رواداری اور درگزر کا حکم دیا ہے

​درگزر اور رواداری کا تصور، جسے قرآن کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ معاف (درگزر) کرنا اختیار کرو (سورۃ الاعراف: 199)، اسلام کے اصولوں میں سے ایک ہے۔
​جب ہم اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی اس اخلاقی صفت کو کس طرح معاشرتی زندگی میں سمویا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی گئے، وہ اپنے ساتھ آزادی اور رواداری کی فضا لے کر گئے اور انہوں نے غیر قانونی و ظالمانہ رسم و رواج کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو ایک چھت تلے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کا موقع فراہم کیا جن کے مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ، جو کہ ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی تھی، اس کے صدیوں تک قائم رہنے کی سب سے بڑی وجہ وہ رواداری اور مفاہمت کی فضا تھی جو اسلام اپنے ساتھ لایا تھا۔ مسلمان صدیوں سے اپنی روادار اور محبت آمیز فطرت کی وجہ سے مشہور رہے ہیں اور ہمیشہ مہربان اور منصف مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ اس کثیر القومی ڈھانچے (Ottoman Empire) میں تمام نسلی گروہوں کو اپنے اپنے مذاہب اور اپنے قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی تھی۔
​حقیقی رواداری دنیا میں امن اور فلاح صرف اسی صورت میں لا سکتی ہے جب اسے قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق نافذ کیا جائے۔ اس حقیقت کی طرف ایک آیت میں یوں توجہ دلائی گئی ہے:
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔
​ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔ (سورۃ الفصلت: 34)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
​یہ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ وہ اخلاق جو اسلام انسانیت کو سکھاتا ہے، دنیا میں امن، ہم آہنگی اور انصاف کی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔
​وہ درندگی جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے اور جس نے آج پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، درحقیقت ان جاہل اور جنونی لوگوں کا کام ہے جو قرآنی اخلاق سے بالکل ناواقف ہیں اور جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان لوگوں اور گروہوں کا حل، جو مذہب کے لبادے میں اپنی وحشت پھیلاتے ہیں، صرف حقیقی قرآنی اخلاق کی تعلیم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام اور قرآنی اخلاق دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں بلکہ اس ناسور کا واحد حل ہیں۔
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

(اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے)
​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقا پہلی بار چارلس ڈارون نے پیش کیا تھا اور اس کی بنیاد سائنسی شواہد، مشاہدات اور تجربات پر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ڈارون اس نظریے کا بانی تھا اور نہ ہی یہ نظریہ سائنسی ثبوتوں پر ٹکا ہوا ہے۔ یہ نظریہ دراصل قدیم مادہ پرستانہ فلسفے (Materialist Philosophy) کے ایک عقیدے کو فطرت کے لبادے میں ڈھال کر پیش کرنے کا نام ہے۔ اگرچہ اسے سائنسی دریافتوں کی حمایت حاصل نہیں، لیکن مادہ پرستانہ فلسفے کے نام پر اس نظریے کی اندھی حمایت کی جاتی ہے۔
​اس جنون اور تعصب نے ہر طرح کی تباہی اور آفات کو جنم دیا ہے۔ ڈارون ازم اور اس کے زیرِ اثر مادہ پرستانہ فلسفے کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اس سوال کا جواب بھی بدل گیا کہ انسان کیا ہے؟ وہ لوگ جو پہلے یہ جواب دیا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں اس کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاق کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ انسان محض اتفاق سے وجود میں آیا ہے اور وہ ایک ایسا جانور ہے جس نے بقا کی جنگ (Fight for Survival) کے ذریعے ترقی کی ہے۔
​اس دھوکے کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ نسل پرستی، فاشزم، کمیونزم جیسے متشدد نظریات اور تصادم پر مبنی بہت سے دوسرے وحشیانہ عالمی نظریات نے اسی دھوکے سے طاقت حاصل کی ہے۔

#ڈارونی فریب: زندگی ایک تصادم ہے
​ڈارون نے اپنے نظریے کی بنیاد اس ایک بنیادی مفروضے پر رکھی:
جانداروں کی ترقی کا تمام تر انحصار بقا کی جنگ پر ہے۔ اس کشمکش میں صرف طاقتور ہی جیتتا ہے، جبکہ کمزور شکست اور فنا کے گھاٹ اترنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
​ڈارون کے بقول، فطرت میں جینے کے لیے ایک بے رحم جدوجہد اور دائمی تصادم پایا جاتا ہے۔ طاقتور ہمیشہ کمزور کو دبا دیتا ہے، اور یہی وہ عمل ہے جس سے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کی مشہورِ زمانہ کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کا ذیلی عنوان ہی اس کے اس نقطہ نظر کا لبِ لباب ہے: قدرتی انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور، یا زندگی کی جدوجہد میں پسندیدہ نسلوں کا تحفظ۔
​مزید برآں، ڈارون نے یہ تجویز پیش کی کہ بقا کی جنگ کا یہ اصول انسانی نسلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس کے خیالی دعوے کے مطابق، اس جنگ میں پسندیدہ نسلیں ہی فتح یاب ہوتی ہیں۔ ڈارون کی نظر میں یہ پسندیدہ اور برتر نسلیں سفید فام یورپی تھے۔ اس کے برعکس افریقی یا ایشیائی نسلیں بقا کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی تھیں۔ ڈارون نے یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل قریب میں یہ نسلیں بقا کی جنگ پوری طرح ہار کر دنیا سے مٹ جائیں گی:
آنے والے وقت میں، جس کا فاصلہ صدیوں کے حساب سے زیادہ دور نہیں، مہذب انسانی نسلیں پوری دنیا میں وحشی نسلوں کو نیست و نابود کر کے ان کی جگہ لے لیں گی۔ اسی وقت بن مانسوں جیسی نسلیں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ تب انسان اور اس کے قریب ترین جانوروں کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ ایک طرف (یورپی) سفید فاموں سے بھی زیادہ مہذب انسان ہوں گے اور دوسری طرف لنگوروں کی طرح کا کوئی پست جانور ہوگا، بجائے اس کے کہ جیسا اب ہے کہ ایک طرف حبشی یا آسٹریلوی باشندہ ہے اور دوسری طرف گوریلا۔ (The Descent of Man, Part 01, Chapter 03, Page No 156)
​ہندوستانی ماہرِ بشریات للیتا ودیارتھی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح ڈارون کے نظریے نے سماجی علوم پر نسل پرستی کو مسلط کیا:
ڈارون کے طاقتور کی بقا کے نظریے کو اس دور کے سماجی ماہرین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسانیت ارتقا کے مختلف مراحل طے کر چکی ہے جس کا عروج سفید فام انسان کی تہذیب ہے۔ انیسویں صدی کے نصف تک، مغربی سائنسدانوں کی اکثریت نے نسل پرستی کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ (Racism Science and Pseudo-Science, Page No 54)

ڈارون کے الہام کا ذریعہ: مالتھس کا سفاکانہ نظریہ

​اس موضوع پر ڈارون کے الہام کا ذریعہ برطانوی ماہرِ معاشیات تھامس مالتھس کی کتاب آبادی کے اصول پر ایک مضمون (An Essay on the Principle of Population) بنی۔ مالتھس کا حساب تھا کہ انسانی آبادی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس کی نظر میں آبادی کو قابو میں رکھنے والے بنیادی عوامل جنگ، قحط اور بیماری جیسی آفات تھیں۔ مختصراً یہ کہ اس بے رحم دعوے کے مطابق: کچھ لوگوں کو مرنا چاہیے تاکہ دوسرے زندہ رہ سکیں۔
​یوں وجود کا مطلب مستقل جنگ بن کر رہ گیا۔ انیسویں صدی میں مالتھس کے خیالات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا۔ خاص طور پر یورپ کے اشرافیہ اور دانشوروں نے ان ظالمانہ خیالات کی حمایت کی۔ نازیوں کے نسلی پاکیزگی کے پروگرام کے سائنسی پس منظر پر لکھے گئے ایک مضمون میں اس دور کے یورپ کی مالتھس پسندی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
​انیسویں صدی کے نصف اول میں، پورے یورپ میں حکمران طبقے کے افراد آبادی کے مسئلے پر بحث کرنے اور مالتھس کے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے جمع ہوئے کہ غریبوں کی شرحِ اموات میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ وہ کہتے تھے: غریبوں کو صفائی ستھرائی کی ترغیب دینے کے بجائے، ہمیں ان میں گندی عادات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے شہروں کی گلیوں کو تنگ بنانا چاہیے، گھروں میں زیادہ سے زیادہ لوگ ٹھونس دینے چاہئیں، اور طاعون کی واپسی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ دیہات میں ہمیں اپنے گاؤں تعفن زدہ تالابوں کے قریب بسانے چاہئیں اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر آباد کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دلدلی ہوں اور صحت کے لیے مضر ہوں۔
(The Scientific Background of the Nazi Race Purification Program)
​اس سنگدلانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلتا کہ کمزور اور بقا کی جنگ ہارنے والے افراد ختم کر دیے جاتے، اور یوں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی متوازن ہو جاتی۔ غریبوں پر ظلم کی یہ پالیسی انیسویں صدی کے برطانیہ میں عملی طور پر اپنائی گئی۔ ایک ایسا صنعتی نظام وضع کیا گیا جس میں آٹھ نو سال کے بچوں سے کوئلے کی کانوں میں سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا اور ہزاروں بچے ان ہولناک حالات کی نذر ہو گئے۔ مالتھس کے نظریے کی مانگی گئی اس بقا کی جنگ نے لاکھوں برطانوی شہریوں کی زندگیوں کو مصائب سے بھر دیا۔
​ان خیالات سے متاثر ہو کر ڈارون نے تصادم کے اس تصور کو پوری فطرت پر لاگو کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس وجود کی جنگ میں صرف طاقتور اور موزوں ترین ہی فاتح بن کر ابھرتا ہے۔ مزید برآں، اس نے دعویٰ کیا کہ بقا کی یہ نام نہاد جنگ فطرت کا ایک برحق اور ناقابلِ تبدیل قانون ہے۔ دوسری طرف، اس نے تخلیقِ خداوندی کا انکار کر کے لوگوں کو اپنے مذہبی عقائد چھوڑنے کی دعوت دی، اور یوں ان تمام اخلاقی اقدار کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا جو بقا کی اس بے رحم جنگ میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔
​انسانیت نے بیسویں صدی میں ان بے حس نظریات کی تشہیر کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے، جنہوں نے انسانوں کو بے رحمی اور ظلم و ستم کی راہ پر ڈالا۔

جنگل کے قانون کا انجام: فاشزم (Fascism)

​جس طرح انیسویں صدی میں ڈارون ازم نے نسل پرستی کی آبیاری کی، اسی طرح اس نے ایک ایسے نظریے کی بنیاد رکھی جس نے پروان چڑھ کر بیسویں صدی میں دنیا کو خون میں نہلا دیا: یعنی نازی ازم (Nazism)۔
​نازی نظریہ سازوں پر ڈارون ازم کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب ہم اس نظریے کا جائزہ لیتے ہیں جسے ایڈولف ہٹلر اور الفریڈ روزنبرگ نے تشکیل دیا، تو ہمیں قدرتی انتخاب (Natural Selection)، انتخابی ملاپ (Selective Mating or Breeding) اور نسلوں کے درمیان بقا کی جنگ (The struggle for survival between the races) جیسے تصورات ملتے ہیں، جن کا ذکر ڈارون کی تصانیف میں درجنوں بار آیا ہے۔ ہٹلر نے جب اپنی کتاب کا نام میرا سنگھرش یا میری جدوجہد (Mein Kampf) رکھا، تو وہ دراصل ڈارون کے بقا کی جنگ والے تصور اور اس اصول سے متاثر تھا کہ کامیابی صرف طاقتور اور موزوں ترین کا مقدر بنتی ہے۔ وہ خاص طور پر نسلوں کے درمیان تصادم کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے:
تاریخ کا اختتام ایک ایسی ہزار سالہ عظیم سلطنت پر ہوگا جس کی شان و شوکت بے مثال ہوگی، اور اس کی بنیاد قدرت کے اپنے طے کردہ ایک نئے نسلی نظام (Racial Hierarchy) پر ہوگی۔
(Adolf Hitler, The Complete Totalitarian by L. H. Gann)
​1933 کی نیورمبرگ ریلی میں ہٹلر نے کھلے عام اعلان کیا کہ ایک برتر نسل، کم تر نسل کو اپنے تابع کر لیتی ہے... یہ ایک ایسا حق ہے جو ہمیں فطرت میں نظر آتا ہے اور اسے ہی واحد قابلِ فہم حق قرار دیا جا سکتا ہے۔
​نازیوں کا ڈارون ازم سے متاثر ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے اس موضوع کے تقریباً تمام ماہر مورخین تسلیم کرتے ہیں۔ مورخ ہک مین (Hickman) ہٹلر پر ڈارون ازم کے اثرات کو یوں بیان کرتا ہے:
​(ہٹلر) ارتقا پر پختہ یقین رکھتا تھا اور اس کی تبلیغ کرتا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت کی پیچیدگیاں اپنی جگہ، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کے نزدیک جدوجہد کا تصور بہت اہم تھا... کیونکہ اس کی کتاب میری جدوجہد میں واضح طور پر کئی ارتقائی خیالات ملتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بقا کی جنگ، طاقتور کی جیت اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کمزوروں کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
(Islam Denounces Terrorism by Harun Yahya, Page No 134)
​ان نظریات کے ساتھ ابھرنے والے ہٹلر نے دنیا کو اس تشدد کی آگ میں جھونک دیا جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی تھی۔ نازیوں کے عقوبت خانوں (Concentration Camps) میں کئی نسلی اور سیاسی گروہوں، بالخصوص یہودیوں کو ہولناک مظالم اور قتلِ عام کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم، جس کا آغاز نازی جارحیت سے ہوا، ساڑھے پانچ کروڑ (55 ملین) جانوں کے ضیاع کا باعث بنی۔ عالمی تاریخ کے اس سب سے بڑے المیے کے پیچھے دراصل ڈارون ازم کا وہی بقا کی جنگ والا تصور کارفرما تھا۔

خونیں اتحاد: ڈارون ازم اور کمیونزم

​جہاں فاشسٹ نظریات سوشل ڈارون ازم کے دائیں بازو (Right Wing) کی نمائندگی کرتے ہیں، وہیں بائیں بازو (Left Wing) پر کمیونسٹ قابض ہیں۔ کمیونسٹ ہمیشہ سے ڈارون کے نظریے کے سخت ترین حامیوں اور محافظوں میں شامل رہے ہیں۔
​ڈارون ازم اور کمیونزم کے درمیان یہ رشتہ ان دونوں نظریوں کے بانیوں کے دور سے ہی قائم ہے۔ کمیونزم کے بانی مارکس (Marx) اور اینگلز (Friedrich Engels) نے ڈارون کی کتاب اصلِ انواع (The Origin of Species) کے منظرِ عام پر آتے ہی اسے پڑھا اور وہ اس کے جدلیاتی مادی (Dialectical Materialist) رویے سے دنگ رہ گئے۔ مارکس اور اینگلز کی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈارون کے نظریے کو کمیونزم کے لیے فطری تاریخ کی بنیاد کے طور پر دیکھتے تھے۔ اینگلز نے ڈارون کے زیرِ اثر لکھی گئی اپنی کتاب فطرت کی جدلیات (The Dialectics of Nature) میں ڈارون کی جی بھر کر تعریف کی اور اپنی طرف سے اس نظریے میں ایک باب بندر سے انسان بننے کے عمل میں محنت کا کردار لکھ کر حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔
​مارکس اور اینگلز کے نقشِ قدم پر چلنے والے روسی کمیونسٹ رہنماؤں، جیسے پلیخانوف، لینن، ٹراٹسکی اور اسٹالن، نے بھی ڈارون کے نظریہ ارتقا سے مکمل اتفاق کیا۔ روسی کمیونزم کے بانی سمجھے جانے والے پلیخانوف کے مطابق مارکس ازم دراصل سماجی علوم پر ڈارون ازم کا اطلاق ہے۔ ٹراٹسکی نے کہا کہ ڈارون کی دریافت نامیاتی مادے کے پورے میدان میں جدلیات کی سب سے بڑی فتح ہے۔ کمیونسٹ کارکنوں کی تربیت میں ڈارونی تعلیم کا کلیدی کردار رہا۔ مثال کے طور پر، مورخین اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسٹالن اپنی جوانی میں مذہبی تھا، لیکن وہ ڈارون کی کتابوں کے اثر سے ہی ملحد (Atheist) بنا۔ چین میں کمیونسٹ اقتدار قائم کرنے والے اور لاکھوں لوگوں کے قاتل ماؤزے تنگ نے کھل کر تسلیم کیا کہ چینی سوشلزم کی بنیاد ڈارون اور نظریہ ارتقا پر ہے۔
​مختصراً یہ کہ نظریہ ارتقا اور کمیونزم کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ جاندار اتفاق کی پیداوار ہیں، اور یوں الحاد کو ایک نام نہاد سائنسی سہارا فراہم کرتا ہے۔ کمیونزم، جو کہ ایک ملحدانہ نظریہ ہے، اسی لیے ڈارون ازم سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا یہ تجویز کرتا ہے کہ فطرت میں ترقی تصادم (بقا کی جنگ) کی بدولت ممکن ہے، جو کمیونزم کے بنیادی فلسفے جدلیات (Dialectics) کی تائید کرتا ہے۔ اگر ہم کمیونزم کے جدلیاتی تصادم کے تصور کو، جس نے بیسویں صدی میں تقریباً 12 کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، ایک قتل کرنے والی مشین تصور کریں، تو ہم اس تباہی کی وسعت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ڈارون ازم نے اس سیارے پر نازل کی۔

ڈارون ازم اور دہشت گردی

​جیسا کہ ہم نے اب تک دیکھا، ڈارون ازم ان تمام متشدد نظریات کی جڑ ہے جنہوں نے بیسویں صدی میں انسانیت کے لیے تباہی کے پیغام لکھے۔ اس طرزِ فکر اور طریقے کے پیچھے بنیادی تصور یہ ہے کہ اس سے لڑو جو ہم میں سے نہیں ہے۔
​اس کی وضاحت ہم اس طرح کر سکتے ہیں: دنیا میں مختلف عقائد، نظریات اور فلسفے موجود ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ ان متنوع خیالات میں ایک دوسرے کے مخالف پہلو ہوں گے۔ تاہم، یہ مختلف موقف ایک دوسرے کو دو میں سے کسی ایک نظر سے دیکھ سکتے ہیں:
​۱۔ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے وجود کا احترام کر سکتے ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہی وہ طریقہ ہے جو قرآن کریم کے اخلاق کے عین مطابق ہے۔
​۲۔ وہ دوسروں کے ساتھ لڑنے کا راستہ منتخب کر سکتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک وحشی جانور جیسا سلوک کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جو مادہ پرستی (یعنی بے دینی) اپناتی ہے۔
​وہ ہولناکی جسے ہم دہشت گردی کہتے ہیں، دراصل اسی دوسری روش کا اظہار ہے۔ جب ہم ان دونوں طریقوں کے فرق پر غور کرتے ہیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈارون ازم نے لوگوں کے لاشعور میں انسان ایک لڑنے والا جانور ہے کا جو تصور بٹھایا ہے، وہ کتنا زیادہ بااثر ہے۔ وہ افراد اور گروہ جو تصادم کا راستہ چنتے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے کبھی ڈارون ازم کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن انجام کار وہ اسی نظریے سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں جس کی فلسفیانہ بنیاد ڈارون ازم پر ہے۔ انہیں اس نظریے کی سچائی پر یقین دلانے والی چیزیں دراصل وہ نعرے ہیں جن کی بنیاد ڈارون ازم پر ہے، جیسے: اس دنیا میں صرف طاقتور بچتا ہے ، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے ، جنگ ایک خوبی ہے ، اور انسان جنگ کر کے ہی ترقی کرتا ہے ۔ ڈارون ازم کو ہٹا دیں تو یہ محض کھوکھلے نعرے رہ جاتے ہیں۔
​درحقیقت، جب ڈارون ازم کو نکال دیا جائے تو تصادم کا کوئی فلسفہ باقی نہیں رہتا۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب: اسلام، عیسائیت اور یہودیت جن پر دنیا کی اکثریت یقین رکھتی ہے، اصل کے اعتبار سے سب کے سب تشدد کے مخالف ہیں۔ یہ تینوں مذاہب دنیا میں امن اور ہم آہنگی لانا چاہتے ہیں، اور بے قصور لوگوں کے قتل، ظلم اور تشدد کی مخالفت کرتے ہیں۔ تصادم اور تشدد اس اخلاق کی خلاف ورزی ہے جو اللہ نے انسان کے لیے طے کیا ہے۔ تاہم، ڈارون ازم تشدد اور تصادم کو ایک فطری، جائز اور درست عمل بنا کر پیش کرتا ہے جس کا وجود (اس کے بقول) ضروری ہے۔
​اسی وجہ سے، اگر کچھ لوگ اسلام، عیسائیت یا یہودیت کے نام پر یا ان کے نشانات استعمال کر کے دہشت گردی پھیلاتے ہیں، تو یقین رکھیں کہ وہ لوگ (حقیقی معنوں میں) مسلمان، عیسائی یا یہودی نہیں ہیں۔ وہ دراصل سوشل ڈارونسٹ ہیں۔ وہ مذہب کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن وہ سچے مذہبی نہیں ہیں۔ چاہے وہ مذہب کی خدمت کا کتنا ہی دعویٰ کریں، وہ دراصل مذہب اور مذہبی لوگوں کے دشمن ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے رحمی سے ایک ایسا جرم کر رہے ہیں جس سے مذہب نے منع کیا ہے، اور اس طریقے سے کر رہے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں مذہب کا چہرہ مسخ ہو جائے۔
​خلاصہ یہ کہ اس دہشت گردی کی جڑ، جس نے ہمارے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کوئی الہامی مذہب نہیں بلکہ الحاد ہے، اور ہمارے دور میں الحاد کا اظہار ڈارون ازم اور مادہ پرستی کی صورت میں ہو رہا ہے۔

اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا حل ہے

​کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر کام کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ اپنے مذہب کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہوں یا اس پر غلط طریقے سے عمل پیرا ہوں۔ اسی وجہ سے، ایسے لوگوں کو مثال بنا کر کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنا غلط ہوگا۔ کسی بھی مذہب کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے الہامی ماخذ (Divine Source) کا مطالعہ کیا جائے۔
​اسلام کا مقدس سرچشمہ قرآنِ کریم ہے، اور قرآن میں پیش کردہ اخلاقی نمونہ یعنی اسلام، اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جو کچھ اہل مغرب کے ذہنوں میں بنی ہوئی ہے۔ اسلام کی بنیاد اخلاق، محبت، ہمدردی، شفقت، عاجزی، قربانی، رواداری اور امن کے تصورات پر ہے۔ ایک مسلمان جو حقیقی معنوں میں ان اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی گزارتا ہے، وہ نہایت شائستہ، خیال رکھنے والا، روادار، قابلِ بھروسہ اور ملنسار ہوتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد محبت، احترام، ہم آہنگی اور زندگی کی خوشیاں بکھیرتا ہے۔

اسلام: امن اور سلامتی کا دین

​لفظ اسلام عربی زبان کے اس لفظ سے نکلا ہے جس کے معنی امن (Peace) کے ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کے لیے اس مقصد کے ساتھ نازل کیا گیا ہے کہ ایک پرامن زندگی فراہم کی جائے جس کے ذریعے زمین پر اللہ کی لامحدود شفقت اور رحمت کا ظہور ہو۔ اللہ تمام لوگوں کو اسلامی اخلاق کی دعوت دیتا ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں رحم، ہمدردی، رواداری اور امن کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 208 میں اللہ تعالیٰ مومنین سے یوں مخاطب ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔
​ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
​جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے، سلامتی صرف اسلام میں داخل ہونے یعنی قرآن کی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

اللہ نے شر اور فساد کی مذمت کی ہے

​اللہ نے انسانوں کو برائی کے ارتکاب سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے کفر، بداخلاقی، سرکشی، ظلم، جارحیت، قتل و غارت اور خونریزی کو حرام قرار دیا ہے۔ جو لوگ اس حکم کی تعمیل نہیں کرتے، قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور ایک ایسا راستہ اپنا رہے ہیں جسے قرآن نے واضح طور پر گناہ قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر قرآن کی چند آیات درج ذیل ہیں:
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔
​ترجمہ: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔ (سورۃ الرعد: 25)
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔
​ترجمہ: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص: 77)
​جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، اللہ نے دینِ اسلام میں ہر طرح کے فساد انگیز کاموں سے منع کیا ہے اور ایسا کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ ایک مسلمان دنیا میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے اور اسے سنوارتا ہے۔

اسلام رواداری اور اظہارِ رائے کی آزادی کا علمبردار ہے

​اسلام ایک ایسا دین ہے جو خیالات، سوچ اور طرزِ زندگی کی آزادی فراہم کرتا ہے اور اس کی ضمانت دیتا ہے۔ اس نے لوگوں کے درمیان تناؤ، جھگڑوں، بہتان تراشی اور یہاں تک کہ منفی سوچ کو روکنے کے احکامات دیے ہیں۔ جس طرح اسلام دہشت گردی اور تشدد کی ہر شکل کے خلاف ہے، اسی طرح اس نے لوگوں پر معمولی سا ذہنی یا نظریاتی دباؤ ڈالنے سے بھی منع کیا ہے:
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ
​ترجمہ: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے۔ (سورۃ البقرہ: 256)
فَذَكِّرْ۫ؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ
​ترجمہ: تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔ تم کچھ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ (سورۃ الغاشیہ: 21-22)
​لوگوں کو کسی مذہب پر یقین لانے پر مجبور کرنا اسلام کی روح اور جوہر کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق سچا ایمان صرف ضمیر کی آزادی سے ہی ممکن ہے۔ بلاشبہ، مسلمان ایک دوسرے کو قرآنی اخلاق کے بارے میں مشورہ اور ترغیب دے سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی جبر، یا کسی بھی قسم کے جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کا سہارا نہیں لیں گے۔ اور نہ ہی وہ کسی کو دین کی طرف مائل کرنے کے لیے کسی دنیاوی رعایت کا استعمال کریں گے۔
​ذرا ایک ایسے معاشرے کا تصور کریں جو اس کے بالکل برعکس ہو، مثلاً ایک ایسی دنیا جہاں لوگوں کو قانون کے ذریعے کسی مذہب کو ماننے پر مجبور کیا جائے۔ ایسا معاشرہ اسلام کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ایمان اور عبادت کی قدر اللہ کے ہاں صرف اسی وقت ہے جب وہ انسان کی اپنی آزاد مرضی سے کی جائے۔ اگر کوئی نظام لوگوں پر عقیدہ مسلط کرتا ہے، تو وہ لوگ صرف اس نظام کے خوف سے مذہبی بنیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مذہب اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسے ماحول میں اختیار کیا جائے جہاں لوگوں کے ضمیر مکمل طور پر آزاد ہوں۔

اللہ نے بے گناہ لوگوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے

​قرآنِ کریم کے مطابق، سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک کسی ایسے انسان کو قتل کرنا ہے جس نے کوئی خطا نہ کی ہو۔
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
​ترجمہ: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (سورۃ المائدہ: 32)
​جیسا کہ آیت سے واضح ہے، جو شخص بلاوجہ بےگناہ کو قتل کرتا ہے اسے بڑے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ ایک فرد کا قتل بھی اتنا ہی برا ہے جتنا پوری انسانیت کا قتل۔ ایک شخص جو اللہ کی حدود کا پاس رکھتا ہو، وہ ایک انسان کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، چہ جائیکہ ہزاروں بےگناہ لوگوں کا قتلِ عام کرے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں انصاف اور سزا سے بچ جائیں گے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ انہیں اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی لیے اہلِ ایمان، جو جانتے ہیں کہ موت کے بعد انہیں جوابدہ ہونا ہے، اللہ کی حدود کا لحاظ رکھنے میں بہت محتاط ہوتے ہیں۔

اللہ کا حکم: شفقت و مہربانی

​قرآنِ کریم میں اسلامی اخلاق کو ایک آیت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ۔
​ترجمہ: پھر ہوا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ دہنی طرف والے ہیں۔ (سورۃ البلد: 17-18)
​جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نجات، رحمت اور جنت کے حصول کے لیے جن اہم ترین اخلاقی اصولوں کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک ایک دوسرے کو صبر اور مہربانی کی وصیت کرنا ہے۔
​قرآن میں بیان کردہ اسلام ایک بہترین، روشن خیال اور ترقی پسند دین ہے۔ ایک مسلمان سب سے بڑھ کر امن پسند ہوتا ہے۔ وہ روادار، سماجی مزاج کا حامل، باذوق، صاحبِ علم، دیانت دار، فنونِ لطیفہ و سائنس سے واقف اور ایک مہذب شہری ہوتا ہے۔
​قرآن کی ان اعلیٰ اخلاقی تعلیمات میں تربیت پانے والا مسلمان ہر ایک کے ساتھ اس محبت سے پیش آتا ہے جس کی اسلام توقع رکھتا ہے۔ وہ ہر خیال اور نظریے کا احترام کرتا ہے اور فن اور جمالیات (Aesthetics) کی قدر کرتا ہے۔ وہ ہر واقعے میں صلح جوئی کا راستہ اپناتا ہے، تناؤ کو کم کرتا ہے اور دوستی و محبت کو بحال کرتا ہے۔ ایسے افراد سے مل کر بننے والے معاشروں میں آج کی جدید ترین اقوام کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ تہذیب، اعلیٰ سماجی اخلاق، خوشی، انصاف، امن اور برکتیں موجود ہوں گی۔

اللہ نے رواداری اور درگزر کا حکم دیا ہے

​درگزر اور رواداری کا تصور، جسے قرآن کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ معاف (درگزر) کرنا اختیار کرو (سورۃ الاعراف: 199)، اسلام کے اصولوں میں سے ایک ہے۔
​جب ہم اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی اس اخلاقی صفت کو کس طرح معاشرتی زندگی میں سمویا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی گئے، وہ اپنے ساتھ آزادی اور رواداری کی فضا لے کر گئے اور انہوں نے غیر قانونی و ظالمانہ رسم و رواج کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو ایک چھت تلے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کا موقع فراہم کیا جن کے مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ، جو کہ ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی تھی، اس کے صدیوں تک قائم رہنے کی سب سے بڑی وجہ وہ رواداری اور مفاہمت کی فضا تھی جو اسلام اپنے ساتھ لایا تھا۔ مسلمان صدیوں سے اپنی روادار اور محبت آمیز فطرت کی وجہ سے مشہور رہے ہیں اور ہمیشہ مہربان اور منصف مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ اس کثیر القومی ڈھانچے (Ottoman Empire) میں تمام نسلی گروہوں کو اپنے اپنے مذاہب اور اپنے قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی تھی۔
​حقیقی رواداری دنیا میں امن اور فلاح صرف اسی صورت میں لا سکتی ہے جب اسے قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق نافذ کیا جائے۔ اس حقیقت کی طرف ایک آیت میں یوں توجہ دلائی گئی ہے:
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔
​ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔ (سورۃ الفصلت: 34)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
​یہ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ وہ اخلاق جو اسلام انسانیت کو سکھاتا ہے، دنیا میں امن، ہم آہنگی اور انصاف کی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔
​وہ درندگی جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے اور جس نے آج پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، درحقیقت ان جاہل اور جنونی لوگوں کا کام ہے جو قرآنی اخلاق سے بالکل ناواقف ہیں اور جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان لوگوں اور گروہوں کا حل، جو مذہب کے لبادے میں اپنی وحشت پھیلاتے ہیں، صرف حقیقی قرآنی اخلاق کی تعلیم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام اور قرآنی اخلاق دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں بلکہ اس ناسور کا واحد حل ہیں۔
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
6307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
75
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 44
Kalam 40
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢