صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]
اصلاح معاشرہ

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط ہشتم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: الجامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ
۔۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی اسی عرف کی وجہ سے ہمارے بلاد میں لفظ رب اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہو گیا اب یہ سوائے اللہ کے کسی کے لیے نہیں بولا جاتا نہ کسی کا ذہن سوائے خدا کے کسی کی طرف جاتا ہے تو لہذا اردو میں رب بول کر لغت کے معنی نہیں لیے جائیں گے جیسے خدا بول کر لغت کے معانی نہیں لیے جاتے ہیں اور یہ سب پر واضح ہے مبحوث عنہ مصرع ہمارے بلاد میں اردو میں پڑھا گیا ہے اسی لیے وہاں کے عرف کا ضرور اعتبار کیا جائے گا اور عرف کا اعتبار شریعت میں کس قدر ضروری ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے!
قارئین کرام ! مثال کو آسانی سے سمجھنا چند تمہیدی باتوں کے سمجھنے پر موقوف ہے اس لیے پہلے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں پھر مثال کی طرف بڑھتے ہیں ،
اصول فقہ میں نص کی چار قسمیں ہیں :
١) عبارۃ النص، ٢) اشارۃ النص، ٣) دلالۃ النص، ٤) اقتضاء النص
١) عبارۃ النص:
عبارۃ النص وہ ہے جس کی وجہ سے کلام کو لایا گیا ہو اور قصدا اس کلام سے وہی حکم مراد ہو۔
٢) اشارۃ النص:
اشارۃ النص وہ ہے جو نص کے الفاظ سے ثابت ہو نص پر زیادتی کیے بغیر، اور وہ من کل وجہ ظاہر نہ ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا قول:
لِلۡفُقَرَاۤءِ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ ٱلَّذِینَ أُخۡرِجُوا۟ مِن دِیَـٰرِهِمۡ و اموالھم [الحشر ٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے
آیت کریمہ اس بات کو بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کہ مہاجرین فقرا مال غنیمت کے مستحق ہیں یہ عبارۃ النص سے ثابت ہوا اور الفاظِ آیت سے مہاجرین کا فقیر ہونا معلوم ہوا یہ اشارۃ النص سے ثابت ہوا
٢) دلالۃ النص:
دلالۃ النص یہ ہے کہ حکمِ منصوص علیہ کی علت استنباط و اجتہاد کے بغیر فقط لغت کے ذریعے ہی معلوم ہو جائے
جیسے اللہ جل جلالہ کا فرمان عالی شان ہے:
فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا [الإسراء ٢٣]
ترجمہ: تو ان سے اف نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا
اہل لغت اول سماع سے ہی جان لیں گے کہ یہاں اف کہنے کی تحریم والدین سے اذیت و تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے ۔
اقتضاء النص :
اقتضاء النص وہ نص پر زیادتی کرنا ہے کیونکہ بغیر زیادتی کے نص کا معنی متحقق نہیں ہوگا تو گویا نص اس کا اقتضا کرتا ہے کہ اس پر کوئی کلمہ زیادہ کیا جائے تا کہ فی نفسہ اس کا معنی صحیح ہو جائے
جیسے شوہر نے بیوی سے کہا: انتِ طالق یہ عورت کی صفت ہے مگر صفت مصدر کا تقاضا کرتی ہے تو گویا مصدر بطریق اقتضا موجود ہے یعنی یہ انت طالق طلاقا ہے
قارئین جب آپ نے اس کو سمجھ لیا تو اب آتے ہیں مثال کی طرف، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنًاۚ إِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَاۤ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا [الإسراء ٢٣]
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں [یعنی اف] نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا
اف کا معنی معجم الغنی میں ہے:
اف: أُفٍّ مِنْ هَذَا العَمَلِ : اِسْمُ فِعْلٍ يُسْتَعْمَلُ بِمَعْنَى التَّضَجُّرِ والتَّكَرُّهِ، وَيُقَالُ: أُفُّ وَأُفَّ وَأُفِّ بالضَّمِ والفَتْحِ والكَسْرِ.
اف من ھذا العمل یعنی اس کام سے اف، اف اسم فعل ہے جو تنگ آنے اور بیزاری کے معنی میں مستعمل ہے
غریب القرآن میں ہے :
كَلِمَةُ تَضَجُّرٍ وَتَبَرُّمٍ.
المحیط میں ہے:
أَفَّ يَؤُفُّ أُفَّ أو اُؤْفُفْ أَفَّاً : قال أُفٍّ تعبيراً عن ضجر أو حزن؛ أَفَّ من حماقة محدِّثه۔
یعنی لفظ اف تنگ کرنے اور بیزاری و حزن و ملال کے معنی میں لغت میں مستعمل ہے تو جب اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ فلا تقل لھما اف تو اہل لغت فورا سمجھ گئے کہ یہاں اللہ جل جلالہ نے اف کہنے کو اس لیے حرام فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف نہ ہو کیونکہ جب کسی سے اف کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اس سے تنگ آ چکا ہے بیزار ہو چکا ہے اور اس سے والدین کو تکلیف ہوگی اور یہ معنی بآسانی لغت سے معلوم ہو گیا اس میں کسی اجتہاد یا استنباط کی ضرورت نہیں پڑی اسی کو دلالۃ النص کہتے ہیں ۔
لیکن اگر کوئی ایسا علاقہ ہو کوئی شہر ہو یا کوئی ایسا ملک ہو جہاں اف بعمنی تعظیم، عزت و تکریم کے لیے مستعمل ہو تو وہاں اف کہنے کی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ اف کہنے کا حکم ہوگا کہ یہ برائے تعظیم و تکریم ہے
اب اس پر سوال یہ ہوگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اف کہنے کو اللہ جل جلالہ نے منع فرمایا ہے، تو اس کا جواب یہی ہوگا جہاں لوگ اف برائے توہین و تذلیل، تکلیف و اذیت پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہوں وہاں اس کی حرمت کا قول ہوگا اور جہاں لوگ اس کو تعظیم و تکریم کے لیے استعمال کرتے ہوں جہاں کا عرف عزت و احترام کے لیے ہو تو وہاں اس کا استعمال بالکل جائز و مستحسن ہوگا
اصول الشاشی میں ہے:
قال الامام القاضی ابو زید رحمہ اللہ : لو ان قوما یعدون التأفیف کرامۃ لایحرم علیھم تأفیف الابوین
ترجمہ: امام قاضی ابو زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کوئی قوم اف کو کلمۂ تعظیم سمجھتی ہو تو ان پر والدین کو اف کہنا حرام نہیں ہوگا
[اصول الشاشی فصل فی متعلقات النصوص، ص: ٧٤]
دیکھیے مفتی صاحب یہاں آیت کریمہ میں اللہ جل جلالہ نے اف بولنے سے منع فرمایا جو کہ عبارت النص سے ثابت ہے مگر عرف کے بدلنے کی وجہ سے قاضی ابو زید فرماتے ہیں کہ جن کے یہاں برائے تعظیم مستعمل ہے تو ان کے یہاں اف بولنا حرام بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے جب تعظیم ہے تو اف بولنے میں اب یہاں ثواب ہوگا
کیونکہ آیت کریمہ کو لایا گیا ہے والدین کی عزت و حرمت اور احسان کی عظمت کو بتانے اور اذیت کو دور کرنے کے لیے
اب دیکھیے کلمہ ایک ہے اف لیکن ایک قوم کے لیے یہ بولنا حرام ہے اور دوسری قوم کے لیے اف بولنا ثواب ہے آخر ایسا کیوں ہوا ؟
تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ قومِ ثانی کا عرف لفظ اف میں تعظیم کا ہے اس لیے ان کے یہاں اف بولنے میں کوئی حرج نہیں
اب اسی تناظر میں لفظ رب کو دیکھیے کہ رب عرب کے یہاں خالق و مخلوق دونوں کو بولا جاتا ہے
لیکن ہمارے بلاد میں میں رب صرف اور صرف خدا عز و جل کو ہی بولا جاتا ہے کیونکہ ہمارے بلاد کے عرف میں لفظ رب خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ
لفظ رب اور اف بیان کرنے میں یہاں فرق یہ ہے کہ قرآن میں مخلوق کو رب کہنے کی دلیل ہے اور لفظ اف میں نھیِ اف ہے کہ قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ اف مت بولو حرام ہے
لیکن عرف پڑ جائے اف سے تعظیم کا تو اف بول سکتے ہیں اور یہ ثابت ہوا عبارۃ النص سے کیونکہ آیت کو لایا ہی گیا ہے والدین کی تعظیم و تکریم بتانے کے لیے اور ان سے اذیت کو دور کرنے کے لیے اور اس قوم کے عرف کے مطابق اذیت دور کرنے کے اسباب میں سے اف ایک سبب ہے
اور اذکر عند ربك اور انه ربی احسن مثوای اس میں یہ ہے کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے جس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کے مخلوق کو رب کہنا جائز ہے
لیکن فقہا نے فرمایا جہاں عرف پڑ جائے کہ وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے علاوہ کسی کے لیے رب کا استعمال نہیں کرتے ہوں صرف اللہ ہی کے لیے کرتے ہوں تو وہاں اللہ کے علاوہ کسی غیر کو رب کہنا گناہ بلکہ کفر ہوگا جیسا کہ نزہۃ القاری اور تفسیر نعیمی کے حوالے سے گزرا۔
بتائیے مفتی صاحب کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ہمارے بلاد میں کسی کو رب کہنا جائز نہیں ہوگا بلکہ کفر ہوگا دیکھیے آیت اف میں لغت کو چھوڑ دیا گیا عرف کی وجہ سے تو مفتی صاحب کیا ہمارے بلاد میں عرف کی وجہ سے لغت کو نہیں چھوڑا جائے گا ؟
اگر ہاں تو آپ اپنے فتوی کی تصحیح فرما لیں اور لغت کے معانی سے تاویل کر کے کسی کو کفر پر جری ہونے کا شوشہ نہ چھوڑیں- معاذ اللہ -
اور اگر مفتی صاحب آپ فرمائیں کہ نہیں، تو آپ پر لازم ہے کہ اسے دلائل سے ثابت کریں کہ کیوں نہیں؟ یہاں عرف پر عمل کرنے سے کونسی شئی مانع ہے؟
عرف کی دوسری مثال ــــــــــــــــــــ
دیکھیے مفتی صاحب لفظ خدا فارسی زبان کا لفظ ہے جب فارس میں اسلام پھیلا اللہ جل جلالہ کے لیے اہل فارس نے لفظ خدا کا استعمال کیا پھر اس کا عرف پڑ گیا کہ خدا صرف اللہ کو ہی کہا جانے لگا حالانکہ پہلے یہ لفظ مالک، صاحب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا پھر اس کو اہل اردو وغیرہ نے بھی استعمال کیا ہزاروں فتاوی فقہا کے ایسے موجود ہیں جس میں صاف صراحت ہے کہ کسی نے اگر غیر خدا کو خدا کہا تو کافر ہو جائے گا خاص کر فتاوی رضویہ شریف، فتاوی مفتی اعظم، فتاوی تاج الشریعہ وغیرھم میں اس کی مثالیں کثیر ہیں
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب جہاں کا یہ عرف نہیں ہے یعنی وہ اللہ جل جلالہ کو خدا نہیں کہتے بلکہ بعض ایسی جگہیں جہاں کے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ خدا کس کو کہا جاتا ہے جیسے مصر میں یہاں عوام سے ہم نے پوچھا من ھو خدا خدا کون ہے؟ تو وہ نہیں بتا سکے پھر ہم نے کہا ھل تعرف خدا کیا تم خدا کو جانتے ہو اس نے کہا نہیں
ایک دکان میں گیا اس سے پوچھا کیا تم خدا کو جانتے ہو ھل تعرف خدا تو اس کو لگا شاید ہم کسی سامان کے نام کو جاننے کے بارے میں بول رہے ہیں تو اس نے ہمیں ایک مٹر پنیر کی تھیلی نکال کر دی جس میں خضارۃ مشکل مجمد لکھا تھا ہم نے کہا لا ہم یہ نہیں کہ رہے ہیں بلکہ ہم کہ رہے ہیں کہ خدا کو جانتے ہو پھر ہم نے اس کو ہر لفظ کو توڑ توڑ کر بتایا خا دال الف یعنی خدا آپ جانتے ہو خدا کو اس نے کہا نہیں میں نہیں جانتا ہوں ہم نے کہا خدا ہمارے یہاں اللہ جل جلالہ کو کہتے ہیں وہ چونک گیا اور اس کے چہرے میں خوشی کی لکیر کھنچ گئی پھر اس نے پوچھا یہ کس زبان میں ہے تو ہم نے بتایا یہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن اردو، ہندی وغیرہ میں بھی مستعمل ہے تو اس نے کہا قد علمت منك میں نے یہ آپ سے جانا پھر ہم نے پوچھا کیا یہاں اللہ جل جلالہ کو خدا کوئی نہیں کہتا تو وہ بولا کہ نہیں پھر کہا عربی زبان میں قرآن نازل ہوا ہم لوگ عربی میں رب، اللہ بولتے ہیں
ہم نے بس ایک کی گفتگو پیش کی ورنہ اور بھی کئی لوگوں سے فقیر راقم الحروف نے لفظ خدا کے بارے میں پوچھا الغرض کسی کو نہیں پتہ شاید فصحا حضرات کو پتہ ہو تو ان کو پتہ ہونے سے بھی عرف اپنی جگہ برقرار ہی رہے گا،
تو اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ اگر کوئی مصری یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو کیا اس کی تکفیر ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟
اس کا جواب یہی ہوگا نا کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ خدا کسے کہتے ہیں وہاں کا عرف لفظ خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ہی نہیں تو پھر تکفیر کی کوئی بات ہی نہیں تکفیر تو کجا کراہت بھی نہیں ہاں اگر مصر کا عرف خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہونے کا رہتا تو تکفیر ہوتی اور ضرور ہوتی ؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب ایسے ہی پورا ہندوستان گاؤں گاؤں گھوم لیجیے اور سب سے پوچھیے رب کسے کہتے ہیں سب بنا سوچے سمجھے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو رب کہتے ہیں ان سے اگر آپ پوچھیں گے کہ زید آپ کا باپ آپ کا رب ہے تو وہ فوراً انکار کریں گے اور ولاحول کا ورد کریں گے
اب بتائیے مفتی صاحب عرف اس کے سوا اور کس چڑیا کا نام ہے؟
اور عرف کو چھوڑ کر لغت کے ذریعے تاویل کرنا کیسا ہے؟اور اگر صحیح ہے تو امام قاضی ابو زید کی بات کا جواب کیا ہوگا؟....................جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط ہشتم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: الجامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ
۔۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی اسی عرف کی وجہ سے ہمارے بلاد میں لفظ رب اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہو گیا اب یہ سوائے اللہ کے کسی کے لیے نہیں بولا جاتا نہ کسی کا ذہن سوائے خدا کے کسی کی طرف جاتا ہے تو لہذا اردو میں رب بول کر لغت کے معنی نہیں لیے جائیں گے جیسے خدا بول کر لغت کے معانی نہیں لیے جاتے ہیں اور یہ سب پر واضح ہے مبحوث عنہ مصرع ہمارے بلاد میں اردو میں پڑھا گیا ہے اسی لیے وہاں کے عرف کا ضرور اعتبار کیا جائے گا اور عرف کا اعتبار شریعت میں کس قدر ضروری ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے!
قارئین کرام ! مثال کو آسانی سے سمجھنا چند تمہیدی باتوں کے سمجھنے پر موقوف ہے اس لیے پہلے ان باتوں کو سمجھ لیتے ہیں پھر مثال کی طرف بڑھتے ہیں ،
اصول فقہ میں نص کی چار قسمیں ہیں :
١) عبارۃ النص، ٢) اشارۃ النص، ٣) دلالۃ النص، ٤) اقتضاء النص
١) عبارۃ النص:
عبارۃ النص وہ ہے جس کی وجہ سے کلام کو لایا گیا ہو اور قصدا اس کلام سے وہی حکم مراد ہو۔
٢) اشارۃ النص:
اشارۃ النص وہ ہے جو نص کے الفاظ سے ثابت ہو نص پر زیادتی کیے بغیر، اور وہ من کل وجہ ظاہر نہ ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا قول:
لِلۡفُقَرَاۤءِ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ ٱلَّذِینَ أُخۡرِجُوا۟ مِن دِیَـٰرِهِمۡ و اموالھم [الحشر ٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے
آیت کریمہ اس بات کو بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کہ مہاجرین فقرا مال غنیمت کے مستحق ہیں یہ عبارۃ النص سے ثابت ہوا اور الفاظِ آیت سے مہاجرین کا فقیر ہونا معلوم ہوا یہ اشارۃ النص سے ثابت ہوا
٢) دلالۃ النص:
دلالۃ النص یہ ہے کہ حکمِ منصوص علیہ کی علت استنباط و اجتہاد کے بغیر فقط لغت کے ذریعے ہی معلوم ہو جائے
جیسے اللہ جل جلالہ کا فرمان عالی شان ہے:
فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا [الإسراء ٢٣]
ترجمہ: تو ان سے اف نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا
اہل لغت اول سماع سے ہی جان لیں گے کہ یہاں اف کہنے کی تحریم والدین سے اذیت و تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے ۔
اقتضاء النص :
اقتضاء النص وہ نص پر زیادتی کرنا ہے کیونکہ بغیر زیادتی کے نص کا معنی متحقق نہیں ہوگا تو گویا نص اس کا اقتضا کرتا ہے کہ اس پر کوئی کلمہ زیادہ کیا جائے تا کہ فی نفسہ اس کا معنی صحیح ہو جائے
جیسے شوہر نے بیوی سے کہا: انتِ طالق یہ عورت کی صفت ہے مگر صفت مصدر کا تقاضا کرتی ہے تو گویا مصدر بطریق اقتضا موجود ہے یعنی یہ انت طالق طلاقا ہے
قارئین جب آپ نے اس کو سمجھ لیا تو اب آتے ہیں مثال کی طرف، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُ وَبِٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنًاۚ إِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَاۤ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا [الإسراء ٢٣]
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں [یعنی اف] نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا
اف کا معنی معجم الغنی میں ہے:
اف: أُفٍّ مِنْ هَذَا العَمَلِ : اِسْمُ فِعْلٍ يُسْتَعْمَلُ بِمَعْنَى التَّضَجُّرِ والتَّكَرُّهِ، وَيُقَالُ: أُفُّ وَأُفَّ وَأُفِّ بالضَّمِ والفَتْحِ والكَسْرِ.
اف من ھذا العمل یعنی اس کام سے اف، اف اسم فعل ہے جو تنگ آنے اور بیزاری کے معنی میں مستعمل ہے
غریب القرآن میں ہے :
كَلِمَةُ تَضَجُّرٍ وَتَبَرُّمٍ.
المحیط میں ہے:
أَفَّ يَؤُفُّ أُفَّ أو اُؤْفُفْ أَفَّاً : قال أُفٍّ تعبيراً عن ضجر أو حزن؛ أَفَّ من حماقة محدِّثه۔
یعنی لفظ اف تنگ کرنے اور بیزاری و حزن و ملال کے معنی میں لغت میں مستعمل ہے تو جب اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ فلا تقل لھما اف تو اہل لغت فورا سمجھ گئے کہ یہاں اللہ جل جلالہ نے اف کہنے کو اس لیے حرام فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف نہ ہو کیونکہ جب کسی سے اف کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اس سے تنگ آ چکا ہے بیزار ہو چکا ہے اور اس سے والدین کو تکلیف ہوگی اور یہ معنی بآسانی لغت سے معلوم ہو گیا اس میں کسی اجتہاد یا استنباط کی ضرورت نہیں پڑی اسی کو دلالۃ النص کہتے ہیں ۔
لیکن اگر کوئی ایسا علاقہ ہو کوئی شہر ہو یا کوئی ایسا ملک ہو جہاں اف بعمنی تعظیم، عزت و تکریم کے لیے مستعمل ہو تو وہاں اف کہنے کی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ اف کہنے کا حکم ہوگا کہ یہ برائے تعظیم و تکریم ہے
اب اس پر سوال یہ ہوگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اف کہنے کو اللہ جل جلالہ نے منع فرمایا ہے، تو اس کا جواب یہی ہوگا جہاں لوگ اف برائے توہین و تذلیل، تکلیف و اذیت پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہوں وہاں اس کی حرمت کا قول ہوگا اور جہاں لوگ اس کو تعظیم و تکریم کے لیے استعمال کرتے ہوں جہاں کا عرف عزت و احترام کے لیے ہو تو وہاں اس کا استعمال بالکل جائز و مستحسن ہوگا
اصول الشاشی میں ہے:
قال الامام القاضی ابو زید رحمہ اللہ : لو ان قوما یعدون التأفیف کرامۃ لایحرم علیھم تأفیف الابوین
ترجمہ: امام قاضی ابو زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کوئی قوم اف کو کلمۂ تعظیم سمجھتی ہو تو ان پر والدین کو اف کہنا حرام نہیں ہوگا
[اصول الشاشی فصل فی متعلقات النصوص، ص: ٧٤]
دیکھیے مفتی صاحب یہاں آیت کریمہ میں اللہ جل جلالہ نے اف بولنے سے منع فرمایا جو کہ عبارت النص سے ثابت ہے مگر عرف کے بدلنے کی وجہ سے قاضی ابو زید فرماتے ہیں کہ جن کے یہاں برائے تعظیم مستعمل ہے تو ان کے یہاں اف بولنا حرام بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے جب تعظیم ہے تو اف بولنے میں اب یہاں ثواب ہوگا
کیونکہ آیت کریمہ کو لایا گیا ہے والدین کی عزت و حرمت اور احسان کی عظمت کو بتانے اور اذیت کو دور کرنے کے لیے
اب دیکھیے کلمہ ایک ہے اف لیکن ایک قوم کے لیے یہ بولنا حرام ہے اور دوسری قوم کے لیے اف بولنا ثواب ہے آخر ایسا کیوں ہوا ؟
تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ قومِ ثانی کا عرف لفظ اف میں تعظیم کا ہے اس لیے ان کے یہاں اف بولنے میں کوئی حرج نہیں
اب اسی تناظر میں لفظ رب کو دیکھیے کہ رب عرب کے یہاں خالق و مخلوق دونوں کو بولا جاتا ہے
لیکن ہمارے بلاد میں میں رب صرف اور صرف خدا عز و جل کو ہی بولا جاتا ہے کیونکہ ہمارے بلاد کے عرف میں لفظ رب خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ
لفظ رب اور اف بیان کرنے میں یہاں فرق یہ ہے کہ قرآن میں مخلوق کو رب کہنے کی دلیل ہے اور لفظ اف میں نھیِ اف ہے کہ قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ اف مت بولو حرام ہے
لیکن عرف پڑ جائے اف سے تعظیم کا تو اف بول سکتے ہیں اور یہ ثابت ہوا عبارۃ النص سے کیونکہ آیت کو لایا ہی گیا ہے والدین کی تعظیم و تکریم بتانے کے لیے اور ان سے اذیت کو دور کرنے کے لیے اور اس قوم کے عرف کے مطابق اذیت دور کرنے کے اسباب میں سے اف ایک سبب ہے
اور اذکر عند ربك اور انه ربی احسن مثوای اس میں یہ ہے کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے جس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کے مخلوق کو رب کہنا جائز ہے
لیکن فقہا نے فرمایا جہاں عرف پڑ جائے کہ وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے علاوہ کسی کے لیے رب کا استعمال نہیں کرتے ہوں صرف اللہ ہی کے لیے کرتے ہوں تو وہاں اللہ کے علاوہ کسی غیر کو رب کہنا گناہ بلکہ کفر ہوگا جیسا کہ نزہۃ القاری اور تفسیر نعیمی کے حوالے سے گزرا۔
بتائیے مفتی صاحب کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ہمارے بلاد میں کسی کو رب کہنا جائز نہیں ہوگا بلکہ کفر ہوگا دیکھیے آیت اف میں لغت کو چھوڑ دیا گیا عرف کی وجہ سے تو مفتی صاحب کیا ہمارے بلاد میں عرف کی وجہ سے لغت کو نہیں چھوڑا جائے گا ؟
اگر ہاں تو آپ اپنے فتوی کی تصحیح فرما لیں اور لغت کے معانی سے تاویل کر کے کسی کو کفر پر جری ہونے کا شوشہ نہ چھوڑیں- معاذ اللہ -
اور اگر مفتی صاحب آپ فرمائیں کہ نہیں، تو آپ پر لازم ہے کہ اسے دلائل سے ثابت کریں کہ کیوں نہیں؟ یہاں عرف پر عمل کرنے سے کونسی شئی مانع ہے؟
عرف کی دوسری مثال ــــــــــــــــــــ
دیکھیے مفتی صاحب لفظ خدا فارسی زبان کا لفظ ہے جب فارس میں اسلام پھیلا اللہ جل جلالہ کے لیے اہل فارس نے لفظ خدا کا استعمال کیا پھر اس کا عرف پڑ گیا کہ خدا صرف اللہ کو ہی کہا جانے لگا حالانکہ پہلے یہ لفظ مالک، صاحب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا پھر اس کو اہل اردو وغیرہ نے بھی استعمال کیا ہزاروں فتاوی فقہا کے ایسے موجود ہیں جس میں صاف صراحت ہے کہ کسی نے اگر غیر خدا کو خدا کہا تو کافر ہو جائے گا خاص کر فتاوی رضویہ شریف، فتاوی مفتی اعظم، فتاوی تاج الشریعہ وغیرھم میں اس کی مثالیں کثیر ہیں
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب جہاں کا یہ عرف نہیں ہے یعنی وہ اللہ جل جلالہ کو خدا نہیں کہتے بلکہ بعض ایسی جگہیں جہاں کے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ خدا کس کو کہا جاتا ہے جیسے مصر میں یہاں عوام سے ہم نے پوچھا من ھو خدا خدا کون ہے؟ تو وہ نہیں بتا سکے پھر ہم نے کہا ھل تعرف خدا کیا تم خدا کو جانتے ہو اس نے کہا نہیں
ایک دکان میں گیا اس سے پوچھا کیا تم خدا کو جانتے ہو ھل تعرف خدا تو اس کو لگا شاید ہم کسی سامان کے نام کو جاننے کے بارے میں بول رہے ہیں تو اس نے ہمیں ایک مٹر پنیر کی تھیلی نکال کر دی جس میں خضارۃ مشکل مجمد لکھا تھا ہم نے کہا لا ہم یہ نہیں کہ رہے ہیں بلکہ ہم کہ رہے ہیں کہ خدا کو جانتے ہو پھر ہم نے اس کو ہر لفظ کو توڑ توڑ کر بتایا خا دال الف یعنی خدا آپ جانتے ہو خدا کو اس نے کہا نہیں میں نہیں جانتا ہوں ہم نے کہا خدا ہمارے یہاں اللہ جل جلالہ کو کہتے ہیں وہ چونک گیا اور اس کے چہرے میں خوشی کی لکیر کھنچ گئی پھر اس نے پوچھا یہ کس زبان میں ہے تو ہم نے بتایا یہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن اردو، ہندی وغیرہ میں بھی مستعمل ہے تو اس نے کہا قد علمت منك میں نے یہ آپ سے جانا پھر ہم نے پوچھا کیا یہاں اللہ جل جلالہ کو خدا کوئی نہیں کہتا تو وہ بولا کہ نہیں پھر کہا عربی زبان میں قرآن نازل ہوا ہم لوگ عربی میں رب، اللہ بولتے ہیں
ہم نے بس ایک کی گفتگو پیش کی ورنہ اور بھی کئی لوگوں سے فقیر راقم الحروف نے لفظ خدا کے بارے میں پوچھا الغرض کسی کو نہیں پتہ شاید فصحا حضرات کو پتہ ہو تو ان کو پتہ ہونے سے بھی عرف اپنی جگہ برقرار ہی رہے گا،
تو اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ اگر کوئی مصری یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو کیا اس کی تکفیر ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟
اس کا جواب یہی ہوگا نا کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ خدا کسے کہتے ہیں وہاں کا عرف لفظ خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ہی نہیں تو پھر تکفیر کی کوئی بات ہی نہیں تکفیر تو کجا کراہت بھی نہیں ہاں اگر مصر کا عرف خدا سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہونے کا رہتا تو تکفیر ہوتی اور ضرور ہوتی ؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب ایسے ہی پورا ہندوستان گاؤں گاؤں گھوم لیجیے اور سب سے پوچھیے رب کسے کہتے ہیں سب بنا سوچے سمجھے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو رب کہتے ہیں ان سے اگر آپ پوچھیں گے کہ زید آپ کا باپ آپ کا رب ہے تو وہ فوراً انکار کریں گے اور ولاحول کا ورد کریں گے
اب بتائیے مفتی صاحب عرف اس کے سوا اور کس چڑیا کا نام ہے؟
اور عرف کو چھوڑ کر لغت کے ذریعے تاویل کرنا کیسا ہے؟اور اگر صحیح ہے تو امام قاضی ابو زید کی بات کا جواب کیا ہوگا؟....................جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
31
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢