مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
حضرت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید غلام محی الدین فقیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید اولاد رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضرتِ ”بوالقاسمِ“ خیر الهدیٰ کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اسمٰعیل حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب مجدد برکاتیت، شاہ جی میاں ہے، تخلص وقارؔ ہے، کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ حضرت سید الصادقین شاہ محمد صادق علیہ الرحمۃ بن سید اولاد رسول بن سید آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بڑے شہزادے ہیں۔
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٣؍محرم ١٢٧٢ھ مارہرہ شریف میں ہوئی۔
حضور مجدد برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی بسم اللّٰہ خوانی کی رسم حضور خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادا فرمائی۔ شروعاتی تعلیم والد ماجد سید الصادقین شاہ محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بقیہ اساتذہ بھی اپنے وقت کے ماہرین تھے۔ حافظ ولی دادا خان صاحب مارہروی، حافظ عبدالقادر صاحب لکھنوی، حافظ عبدالکریم صاحب سے قرآن مجید حفظ فرمایا۔ مولوی عبدالشکور صاحب، مولوی عبدالغنی صاحب، مولوی محمد علی صاحب لکھنوی، مولوی حسن صاحب سنبھلی، فضل اللّٰہ صاحب فرنگی محلی، تاج الفحول علامہ فضل رسول بدایونی علیہم الرحمۃ سے درسی تعلیم حاصل کی۔ سلوک و معرفت کے اساتذہ حضور خاتم الاکابر، حضور سرکارِ نور و والد ماجد سید الصادقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ ٣٠؍سال کی عمر میں قرآنِ مجید کو اپنے ذوق و شوق سے حفظ فرمایا۔ علم جفر، رمل و تکسیر میں مہارت حاصل تھی۔
حضرت شاہ اسماعیل حسن علیہ الرحمۃ کا وہ دَور تھا کہ جب خانقاہِ برکاتیہ کی علمی شناخت اور خانقاہی روایتوں کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت تھی۔ خاندانی روایات پر نظرِ عمیق فرمائی، روایات کو یکجا کیا۔ حضرت شاہ قاسم نے اس وقت بڑے تجدیدی کارنامے انجام دیے۔
اپنے فرزندانِ گرامی خاص کر اپنے نواسوں کو علمِ شریعت اور طریقت میں مضبوط تر کیا۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کی بیٹیوں کو بھی حافظہ کرایا، خاندانی علم کو جمع کیا، علماء و مشائخ کی رسائی کو خانقاہ میں بڑھایا، غرض کہ کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو خانقاہ کی پرانی روایتوں اور قدروں کو بحال نہ کر دے، اس لیے آج ان کو ”مجدد برکاتیت“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
گلدستۂ چمنستانِ سنیت اور مفاوضاتِ طیبہ کا تعارف
بول بالے میری سرکاروں کے
دورِ حاضر میں جب فکری انتشار، الحاد، تجدد اور مغربی افکار کے سیلاب نے ملتِ اسلامیہ کے تشخص کو متزلزل کرنے کی کوشش کی، اُس نازک وقت میں اہلِ حق کے کچھ معزز افراد ایسے بھی اٹھے جنہوں نے قلم کو تلوار اور تحریر کو جہاد بنا لیا۔ انہیں عظیم مبارک ہستیوں میں اولادِ رسول کریم ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، شہزادۂ خاتم الاسلاف، حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن حضرت شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کا نام نہایت درخشاں حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی باریک بین نظر اور دردِ دل سے امت کے فکری و عملی زوال پر غور فرمایا اور اصلاحِ امت کے لیے قلم کو وسیلہ بنایا۔
ان ہی اصلاحی تحریروں کا حسین مجموعہ گلدستۂ چمنستانِ سنّیت ہے، جو دراصل حضور مجدد برکاتیت شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے گراں قدر اور مختصر مگر نہایت جامع مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کو اولادِ رسول خدا ﷺ، شہزادۂ حضور مجدد برکاتیت، حضور تاج العلماء، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی نگرانی میں ترتیب و تحشیہ کے ساتھ جمع فرمایا اور یہ مجموعہ مطبع صبحِ صادق سے طبع ہو کر دارالاشاعت برکاتی سے شائع ہوا۔
ان تمام عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت صاحبِ عرسِ قاسمی رحمه اللّٰہ تعالیٰ کی تحریروں کا مقصد امت کے فکری و اعتقادی دفاع کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر خود اعتمادی اور ایمانی غیرت پیدا کرنا تھا۔
موافق بھی دینے لگے اب اذیت
ترتیب و تدوین: آقائی ماوائی ملجائی سیدی و سندی حضور تاج العلماء محمد میاں قادری مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس مجموعے کی ترتیب و اشاعت کے سلسلے میں خود تحریر فرمایا:
ان مضامین کی ترتیب کے سلسلے میں حضرت تاج العلماء تحریر فرماتے ہیں:
”ان میں سے بعض مضامین کسی قدر بغیر کمی بیشی کے ساتھ بعض اخباروں میں فقیر کے نام سے شائع شدہ اس وقت بھی فقیر کے پیش نظر ہیں جن کی تاریخ اشاعت و نام اخبار شائع کنندہ کا حوالہ ان کے حاشیہ پر دے دیا ہے اور بعض مضامین کے متعلق فقیر کو یہ پستہ اس وقت نہ ملا کہ یہ اب سے پہلے بھی شائع ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کے ساتھ ان کی تحریر کی کوئی تاریخ بھی لکھی ہوئی نہ ملی۔ لہٰذا فقیر نے تاریخ تحریر کے لحاظ سے جمع و ترتیب میں تقدیم و تاخیر کا چنداں لحاظ نہیں رکھا ہے۔ عنوان میں سے بعض مضامین کے خود حضرت کے قائم فرمائے ہوئے ہیں اور بعض کے یہ مناسبت مضمون فقیر نے قائم کر دیتے ہیں۔ جملہ مضامین جو اس مجموعہ میں مندرج ہیں، فقیر کے ظن غالب میں کوئی بھی ١٣٣١ھ کے بعد کا تحریر فرمودہ نہیں ہے ۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۲)
”مزید یہ کہ اس مجموعے کی ترتیب کا آغاز پنجشنبہ (جمعرات) 3/ربیع الاول شریف ۱۳۵۴ھ کو ہوا، اور تکمیل چہارشنبہ (بدھ) ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۵۴ھ کو ہوئی۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۵۲)
”گلدستۂ چمنستانِ سنّیت“ محض ایک مجموعۂ تحریرات نہیں بلکہ ایک فکری بیداری کی دستاویز ہے۔ اس میں حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قلم سے امتِ مسلمہ کے لیے جو درد، بصیرت اور خیرخواہی ظاہر ہوتی ہے، وہ بلاشبہ دعوتی و اصلاحی تحریکات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ مجموعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت صرف منبر و محراب کی ذمہ داری نہیں بلکہ قلم و قرطاس کا بھی حقِ عظیم ہے۔ حضرت مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تصنیف کا ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ کے قلم میں دردِ امت اور غیرتِ ایمانی یکجا تھی۔ آپ نے اپنے عہد کے فتنوں کا بے باکی سے سامنا کیا اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہر فکری محاذ پر جہاد فرمایا۔
اللہ تعالیٰ حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ اور حضرت تاج العلما قدس سرہٗ کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھے، اور ہمیں بھی اس گلدستے کی خوشبو سے اپنے ایمان و عمل کو معطر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
اہلِ تصوف و علم کی تاریخ میں بزرگانِ طریقت کے مکاتیب ہمیشہ سے رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ ان مکتوبات کے ذریعے نہ صرف باطنی و روحانی تربیت کے اصول واضح ہوتے ہیں بلکہ ان سے ایک ولئ کامل کے اندرونی اوصاف، دینی بصیرت، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد و فکر بھی عیاں ہوتا ہے۔ انہیں زرّیں نقوش میں سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کے مکاتیبِ مبارکہ بھی نمایاں اور عظیم الشان مقام رکھتے ہیں، جنہیں میرے آقا کریم ﷺ کے شہزادے، میرے ماویٰ و ملجیٰ سیدنا تاج العلماء محمد میاں قادری برکاتی قدس سرہٗ نے جمع، ترتیب اور تشریح کے ساتھ ۱۳۵۴ھ میں زیورِ طباعت سے آراستہ فرمایا۔
یہ مجموعہ، جس کا عنوان ”مفاوضاتِ طیبہ“ ہے اور مفاوضاتِ طیبہ واو کے فتحہ کے ساتھ معنیٰ ہوا نیک پاکیزہ گفت و شنید۔ کُل ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) مکاتیب پر مشتمل ہے، اور یہ نہ صرف سلوک و معرفت کے اسرار پر مشتمل ہے بلکہ دینی، اخلاقی، اور معاشرتی رہنمائی کے خزانوں سے بھی لبریز ہے۔
الحب فی اللہ و البغض فی اللہ (اللہ کے لیے محبت و عداوت کا معیار)
دینی احکام و مسائل میں رہنمائی
روحانیت و طریقت کی ترغیب
مرشدانہ تربیت و تلقین
خاندانی و معاشرتی معاملات میں رواداری
اصلاحِ باطن اور صبر و استقامت کی تلقین
علمائے اہل سنت کے ساتھ تعلقِ عقیدت و حمایتِ حق
یوں یہ مکاتیب حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باطنی افکار و صالح داخلی احوال کا آئینہ ہیں، جو سالکینِ راہِ طریقت کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے تعلق و محبت: حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور مجددِ دین و ملت، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مابین عقیدت و اخلاص کا نہایت مضبوط رشتہ تھا۔ اگرچہ دونوں حضرات ہم عصر رہے، مگر حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ ہمیشہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی و اعتقادی مقام کے معترف اور ان کی دینی خدمات کے دل و جان سے حامی رہے۔
جب اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے مسئلے پر سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے سنتِ کریمہ کا احیا فرمایا اور اس کے ثبوت میں مفصل فتاویٰ تحریر فرمائے، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہ صرف اس موقفِ حق کی تائید کی بلکہ عملی طور پر بھی اسے اختیار فرمایا۔ جب ان کے علم میں آیا کہ یہ فتویٰ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا ہے، تو فرمایا:
”یہ بڑے مولانا صاحب کا فتویٰ ہے نا ؟ اب آئندہ جمعہ سے اذان خارجِ مسجد دی جائے۔“
یوں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے ان علماء میں شامل ہوئے جنہوں نے اس سنتِ مبارکہ کی تائید و ترویج میں حصہ لیا۔ یہی محبتِ رضا کے جلوے حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکاتیب میں جا بجا نمایاں ہیں۔
فقیر کو اس حملہ نا مرضیہ کا جو بظاہر آپ پر اور اصل میں دین اسلام پر ہے، نہایت رنج ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی کچھ عرصہ نہیں گذرا ہے اور تقریباً ہزاروں آدمی اس وقت موجود ہیں جنہوں نے حضرت استاذی مولانا مولوی عبد القادر صاحب قدس سرہٗ اور آپ کے مراسم اور محبت کے برتاؤ دیکھے ہیں۔ اب یہ حال ہوا ہے کہ جس سے مسلمان دینداروں کو روحی صدمہ اور بدمذہبوں کو موقعِ شماتت (ایسا موقع جس پر دشمن بدحالی پر خوش ہوں) اور خوشی کا مل گیا ہے۔ اگرچہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہوگا کچھ نہیں! مگر معاندین و مخالفینِ مذہبِ حق کو چند دنوں یہ خوشی کا موقع مل گیا۔ فقیر اگرچہ آپ کی کسی ظاہر اعانت کے لائق نہیں مگر ہر وقت دل سے دعا کر رہا ہے کہ اس مخمصہ (بحث و مقابلہ) سے با حسن وجوہ آپ کو طمانیت حاصل ہو اور آپ کے دست و قلم سے دین حق کی ہر طرح سے اعانت ہوتی رہے اور مخالفینِ دین کو ذلت پہنچتی رہے۔ (مفاوضات طیبہ، ص ۱۴ - ۱۵ ، مکتوب نمبر ۱۸)
یہ مکتوب حضور شاہ جی قدس سرہ العزیز کی دینی حمیت، اخلاص، اور نصرتِ حق کا زندہ ثبوت ہے۔
یہ مکتوب تقریباً چودہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور حضور مجدد برکاتیت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اخلاص، وسعتِ نظر اور تحملِ مزاج کی منہ بولتی تصویر ہے۔
روحانی و اخلاقی تعلیمات: حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے مکاتیب میں دینی راہنمائی اور روحانی تربیت کا عنصر جا بجا موجود ہے۔ مثلاً رحمتِ الٰہی صاحب گورداسپوری کو تحریر فرماتے ہیں: ”تمہارے واسطے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہارے مقاصد پورے کرے۔ نماز پڑھا کرو۔ تلاوت قرآنِ مجید بھی کیا کرو۔ والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ تمہاری والدہ صاحبہ کے مقاصد کے پورے ہونے کے دعا کرتا ہوں (ان کو) اپنی اولاد پر شفقت اور خاوند کی اطاعت ضروری ہے۔ اگر اس میں کوئی تکلیف ہو تو اسے بھی راحت سمجھنا چاہئے۔ ( ایضاً ص ۳۸ ، مکتوب: ۳۱)
اسی طرح ایک دوسرے مکتوب میں آپ کی خودداری اور بے طمعی کا اظہار نہایت صاف الفاظ میں ملتا ہے: ”میں چراغ کندہ نہیں کر سکتا ہے۔ میں اس کی دکانداری نہیں کرتا ہوں۔ نقش البتہ تحریر کر سکتا ہوں آپ کندہ کرائیں۔“ (ایضا، ص ۳۹)
ایک جگہ فرماتے ہیں: ”تمہاری حق کوشی سے بہت خوش ہوا۔ کسی کا ناحق حق لینا اچھا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر مکان عطا فرمائے۔“ (ایضا، ص ۴۰)
الغرض، مفاوضاتِ طیبہ محض خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ روحانیت، علم و حلم، محبتِ اہلِ سنت اور حمایتِ حق کی ایک روشن دستاویز ہے۔ حضور شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے یہ مکاتیب اُن کے پاکیزہ باطن، انکسار، اخلاص، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد کا مظہر ہیں۔ یہ خطوط آج بھی سالکینِ راہِ حقیقت کے لیے چراغِ راہ ہیں، جو قاری کو ایمان، محبت اور استقامت کے درس سے منور کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان مکاتیبِ مبارکہ کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور ہمیں بھی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین یا رب العلمین۔
یہ خاک پائے حضور تاج المشائخ امین ملت مدظلہ العالی محمد انس رضا حامؔی برکاتی تو رب کی بارگاہ میں یہی عرض گزار ہے:
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
حبِ اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ اولادِ رسولِ رہنما کے واسطے (آمین)
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١؍صفر المظفر ١٣٤٧ھ میں ہوا۔ مزار شریف: گنبدِ برکات کے بائیں جانب دوسرے گنبد کے نیچے آگے سے سب سے پہلے کمرے میں ہے۔
سرکار شاہ جی میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ قدس سرہا بنت سید نور المصطفیٰ بن سیدنا غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہما سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید غلام محی الدین فقیر عالم و تاج العلماء سید اولاد رسول فخر عالم محمد میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی۔ چار شہزادیاں زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیراء فاطمہ و اکرام فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہن۔
سید غلام محی الدین فقیر عالم علیہ الرحمۃ
حضور تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
شاہ ”اولادِ رسولِ“ رہنما کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
آپ کا نام سید ”اولاد رسول“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب فخر عالم، تاج العلماء، سراج العرفاء اور محمد میاں ہے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔
٢٣؍رمضان المبارک میں ولادت ہوئی۔
قرآن مجید، حدیث شریف، تفسیر، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم والد ماجد حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور حضور ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل۔ بہترین عالم دین، لائق تحسین مفتی، محدث و مفسر تھے۔ آپ کا امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اپنے بھانجے سیدین مارہرہ یعنی سید العلماء و احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تربیت فرمائی جس وجہ سے آج بھی پوری دنیا میں مشائخ برکات کا فیضان جاری و ساری ہے۔
تقسیم ہند کے وقت جماعت اہل سنت نامی تنظیم شروع فرمائی علاوہ ازیں جماعت انصار المسلمین اور جماعت رضائے مصطفیٰ کی سرپرستی فرماتے، اسی دوران سرکار تاج العلماء نے ”اہل سنت کی آواز“ کا آغاز فرمایا۔
ایک مرتبہ حضرت کے مرید خاص مولانا مظہر صاحب بدایوانی مرحوم نے حضرت کو پنکھا کرنا چاہا تو فرمایا: آئندہ بنا اجازت ایسا نہ کرنا، قدرت نے ہمیں دو ہاتھ اپنا کام کرنے کو عطا فرمائے۔ حضرت والا کی ایک خاص عادت تھی کسی کی برائی سنتے، نہ کرتے، کوئی غیبت کرتا تو اس کو فوراً منع کرتے۔ حضرت تاج العلماء ایک ایسے مہربان مرشد تھے جو اپنے احباب کی بیکسی اور پریشانی میں بہت مددگار اور فریاد سن کر فوراً حاجت روائی فرماتے۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کے تعلقات بہت گہرے اور محبت والے تھے۔ حالاں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان عمر میں حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت بڑے تھے، لیکن پیر زادگی کی نسبت سے فاضل بریلوی حضرت تاج العلماء کا بہت احترام فرماتے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان آپ کو وارث الاکابر الاسیاد بالااستحقاق والانفراد جیسے القاب سے مخاطب کرتے اور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ان پر ان کی دینی خدمات کی وجہ سے جاں نثار کرتے۔ حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ فقیر ان کو اپنے بیشتر استادوں سے بہتر مانتا ہے، ان کی تحریر اور تقریر دونوں ہی سے فقیر نے طالب علم کی طرح فائدہ اُٹھایا ہے۔ لہٰذا فقیر اپنی وسعت کے مطابق ان کے طریقے کی پیروی کرتا ہے۔
سرکار تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٢٤؍جمادی الآخر ١٣٧٥ھ مطابق ٧؍فروری ١٩٥٦ء میں ہوا۔
مزار شریف: مارہرہ شریف میں ہے۔ جب بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں تب بائیں جانب خالی جگہ ہے، اس کے بعد پھر بزرگانِ دین کی بارگاہوں کا آغاز ہے۔ وہیں سب سے آگے پہلے کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس کے بعد والے کمرے میں حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔
سرکار تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح منظور فاطمہ علیہا الرحمۃ سے نو محلے سادات بریلی شریف میں ہوا۔ ایک صاحبزادے کی ولادت ہوئی مگر بچپن میں ہی وصال ہو گیا۔
jamiaturrazastudents.com
حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین حقیقی بھانجے، سب سے چھوٹی بہن سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا کے شہزادے سیدنا و مولانا و ملجانا پدرِ مرشد، حضور احسن العلماء سید الاصفیاء حضرت سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
(متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف)
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
حضرت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید غلام محی الدین فقیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید اولاد رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضرتِ ”بوالقاسمِ“ خیر الهدیٰ کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اسمٰعیل حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب مجدد برکاتیت، شاہ جی میاں ہے، تخلص وقارؔ ہے، کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ حضرت سید الصادقین شاہ محمد صادق علیہ الرحمۃ بن سید اولاد رسول بن سید آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بڑے شہزادے ہیں۔
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٣؍محرم ١٢٧٢ھ مارہرہ شریف میں ہوئی۔
حضور مجدد برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی بسم اللّٰہ خوانی کی رسم حضور خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادا فرمائی۔ شروعاتی تعلیم والد ماجد سید الصادقین شاہ محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بقیہ اساتذہ بھی اپنے وقت کے ماہرین تھے۔ حافظ ولی دادا خان صاحب مارہروی، حافظ عبدالقادر صاحب لکھنوی، حافظ عبدالکریم صاحب سے قرآن مجید حفظ فرمایا۔ مولوی عبدالشکور صاحب، مولوی عبدالغنی صاحب، مولوی محمد علی صاحب لکھنوی، مولوی حسن صاحب سنبھلی، فضل اللّٰہ صاحب فرنگی محلی، تاج الفحول علامہ فضل رسول بدایونی علیہم الرحمۃ سے درسی تعلیم حاصل کی۔ سلوک و معرفت کے اساتذہ حضور خاتم الاکابر، حضور سرکارِ نور و والد ماجد سید الصادقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ ٣٠؍سال کی عمر میں قرآنِ مجید کو اپنے ذوق و شوق سے حفظ فرمایا۔ علم جفر، رمل و تکسیر میں مہارت حاصل تھی۔
حضرت شاہ اسماعیل حسن علیہ الرحمۃ کا وہ دَور تھا کہ جب خانقاہِ برکاتیہ کی علمی شناخت اور خانقاہی روایتوں کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت تھی۔ خاندانی روایات پر نظرِ عمیق فرمائی، روایات کو یکجا کیا۔ حضرت شاہ قاسم نے اس وقت بڑے تجدیدی کارنامے انجام دیے۔
اپنے فرزندانِ گرامی خاص کر اپنے نواسوں کو علمِ شریعت اور طریقت میں مضبوط تر کیا۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کی بیٹیوں کو بھی حافظہ کرایا، خاندانی علم کو جمع کیا، علماء و مشائخ کی رسائی کو خانقاہ میں بڑھایا، غرض کہ کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو خانقاہ کی پرانی روایتوں اور قدروں کو بحال نہ کر دے، اس لیے آج ان کو ”مجدد برکاتیت“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
گلدستۂ چمنستانِ سنیت اور مفاوضاتِ طیبہ کا تعارف
بول بالے میری سرکاروں کے
دورِ حاضر میں جب فکری انتشار، الحاد، تجدد اور مغربی افکار کے سیلاب نے ملتِ اسلامیہ کے تشخص کو متزلزل کرنے کی کوشش کی، اُس نازک وقت میں اہلِ حق کے کچھ معزز افراد ایسے بھی اٹھے جنہوں نے قلم کو تلوار اور تحریر کو جہاد بنا لیا۔ انہیں عظیم مبارک ہستیوں میں اولادِ رسول کریم ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، شہزادۂ خاتم الاسلاف، حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن حضرت شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کا نام نہایت درخشاں حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی باریک بین نظر اور دردِ دل سے امت کے فکری و عملی زوال پر غور فرمایا اور اصلاحِ امت کے لیے قلم کو وسیلہ بنایا۔
ان ہی اصلاحی تحریروں کا حسین مجموعہ گلدستۂ چمنستانِ سنّیت ہے، جو دراصل حضور مجدد برکاتیت شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے گراں قدر اور مختصر مگر نہایت جامع مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کو اولادِ رسول خدا ﷺ، شہزادۂ حضور مجدد برکاتیت، حضور تاج العلماء، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی نگرانی میں ترتیب و تحشیہ کے ساتھ جمع فرمایا اور یہ مجموعہ مطبع صبحِ صادق سے طبع ہو کر دارالاشاعت برکاتی سے شائع ہوا۔
ان تمام عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت صاحبِ عرسِ قاسمی رحمه اللّٰہ تعالیٰ کی تحریروں کا مقصد امت کے فکری و اعتقادی دفاع کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر خود اعتمادی اور ایمانی غیرت پیدا کرنا تھا۔
موافق بھی دینے لگے اب اذیت
ترتیب و تدوین: آقائی ماوائی ملجائی سیدی و سندی حضور تاج العلماء محمد میاں قادری مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس مجموعے کی ترتیب و اشاعت کے سلسلے میں خود تحریر فرمایا:
ان مضامین کی ترتیب کے سلسلے میں حضرت تاج العلماء تحریر فرماتے ہیں:
”ان میں سے بعض مضامین کسی قدر بغیر کمی بیشی کے ساتھ بعض اخباروں میں فقیر کے نام سے شائع شدہ اس وقت بھی فقیر کے پیش نظر ہیں جن کی تاریخ اشاعت و نام اخبار شائع کنندہ کا حوالہ ان کے حاشیہ پر دے دیا ہے اور بعض مضامین کے متعلق فقیر کو یہ پستہ اس وقت نہ ملا کہ یہ اب سے پہلے بھی شائع ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کے ساتھ ان کی تحریر کی کوئی تاریخ بھی لکھی ہوئی نہ ملی۔ لہٰذا فقیر نے تاریخ تحریر کے لحاظ سے جمع و ترتیب میں تقدیم و تاخیر کا چنداں لحاظ نہیں رکھا ہے۔ عنوان میں سے بعض مضامین کے خود حضرت کے قائم فرمائے ہوئے ہیں اور بعض کے یہ مناسبت مضمون فقیر نے قائم کر دیتے ہیں۔ جملہ مضامین جو اس مجموعہ میں مندرج ہیں، فقیر کے ظن غالب میں کوئی بھی ١٣٣١ھ کے بعد کا تحریر فرمودہ نہیں ہے ۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۲)
”مزید یہ کہ اس مجموعے کی ترتیب کا آغاز پنجشنبہ (جمعرات) 3/ربیع الاول شریف ۱۳۵۴ھ کو ہوا، اور تکمیل چہارشنبہ (بدھ) ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۵۴ھ کو ہوئی۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۵۲)
”گلدستۂ چمنستانِ سنّیت“ محض ایک مجموعۂ تحریرات نہیں بلکہ ایک فکری بیداری کی دستاویز ہے۔ اس میں حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قلم سے امتِ مسلمہ کے لیے جو درد، بصیرت اور خیرخواہی ظاہر ہوتی ہے، وہ بلاشبہ دعوتی و اصلاحی تحریکات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ مجموعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت صرف منبر و محراب کی ذمہ داری نہیں بلکہ قلم و قرطاس کا بھی حقِ عظیم ہے۔ حضرت مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تصنیف کا ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ کے قلم میں دردِ امت اور غیرتِ ایمانی یکجا تھی۔ آپ نے اپنے عہد کے فتنوں کا بے باکی سے سامنا کیا اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہر فکری محاذ پر جہاد فرمایا۔
اللہ تعالیٰ حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ اور حضرت تاج العلما قدس سرہٗ کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھے، اور ہمیں بھی اس گلدستے کی خوشبو سے اپنے ایمان و عمل کو معطر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
اہلِ تصوف و علم کی تاریخ میں بزرگانِ طریقت کے مکاتیب ہمیشہ سے رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ ان مکتوبات کے ذریعے نہ صرف باطنی و روحانی تربیت کے اصول واضح ہوتے ہیں بلکہ ان سے ایک ولئ کامل کے اندرونی اوصاف، دینی بصیرت، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد و فکر بھی عیاں ہوتا ہے۔ انہیں زرّیں نقوش میں سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کے مکاتیبِ مبارکہ بھی نمایاں اور عظیم الشان مقام رکھتے ہیں، جنہیں میرے آقا کریم ﷺ کے شہزادے، میرے ماویٰ و ملجیٰ سیدنا تاج العلماء محمد میاں قادری برکاتی قدس سرہٗ نے جمع، ترتیب اور تشریح کے ساتھ ۱۳۵۴ھ میں زیورِ طباعت سے آراستہ فرمایا۔
یہ مجموعہ، جس کا عنوان ”مفاوضاتِ طیبہ“ ہے اور مفاوضاتِ طیبہ واو کے فتحہ کے ساتھ معنیٰ ہوا نیک پاکیزہ گفت و شنید۔ کُل ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) مکاتیب پر مشتمل ہے، اور یہ نہ صرف سلوک و معرفت کے اسرار پر مشتمل ہے بلکہ دینی، اخلاقی، اور معاشرتی رہنمائی کے خزانوں سے بھی لبریز ہے۔
الحب فی اللہ و البغض فی اللہ (اللہ کے لیے محبت و عداوت کا معیار)
دینی احکام و مسائل میں رہنمائی
روحانیت و طریقت کی ترغیب
مرشدانہ تربیت و تلقین
خاندانی و معاشرتی معاملات میں رواداری
اصلاحِ باطن اور صبر و استقامت کی تلقین
علمائے اہل سنت کے ساتھ تعلقِ عقیدت و حمایتِ حق
یوں یہ مکاتیب حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باطنی افکار و صالح داخلی احوال کا آئینہ ہیں، جو سالکینِ راہِ طریقت کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے تعلق و محبت: حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور مجددِ دین و ملت، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مابین عقیدت و اخلاص کا نہایت مضبوط رشتہ تھا۔ اگرچہ دونوں حضرات ہم عصر رہے، مگر حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ ہمیشہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی و اعتقادی مقام کے معترف اور ان کی دینی خدمات کے دل و جان سے حامی رہے۔
جب اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے مسئلے پر سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے سنتِ کریمہ کا احیا فرمایا اور اس کے ثبوت میں مفصل فتاویٰ تحریر فرمائے، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہ صرف اس موقفِ حق کی تائید کی بلکہ عملی طور پر بھی اسے اختیار فرمایا۔ جب ان کے علم میں آیا کہ یہ فتویٰ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا ہے، تو فرمایا:
”یہ بڑے مولانا صاحب کا فتویٰ ہے نا ؟ اب آئندہ جمعہ سے اذان خارجِ مسجد دی جائے۔“
یوں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے ان علماء میں شامل ہوئے جنہوں نے اس سنتِ مبارکہ کی تائید و ترویج میں حصہ لیا۔ یہی محبتِ رضا کے جلوے حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکاتیب میں جا بجا نمایاں ہیں۔
فقیر کو اس حملہ نا مرضیہ کا جو بظاہر آپ پر اور اصل میں دین اسلام پر ہے، نہایت رنج ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی کچھ عرصہ نہیں گذرا ہے اور تقریباً ہزاروں آدمی اس وقت موجود ہیں جنہوں نے حضرت استاذی مولانا مولوی عبد القادر صاحب قدس سرہٗ اور آپ کے مراسم اور محبت کے برتاؤ دیکھے ہیں۔ اب یہ حال ہوا ہے کہ جس سے مسلمان دینداروں کو روحی صدمہ اور بدمذہبوں کو موقعِ شماتت (ایسا موقع جس پر دشمن بدحالی پر خوش ہوں) اور خوشی کا مل گیا ہے۔ اگرچہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہوگا کچھ نہیں! مگر معاندین و مخالفینِ مذہبِ حق کو چند دنوں یہ خوشی کا موقع مل گیا۔ فقیر اگرچہ آپ کی کسی ظاہر اعانت کے لائق نہیں مگر ہر وقت دل سے دعا کر رہا ہے کہ اس مخمصہ (بحث و مقابلہ) سے با حسن وجوہ آپ کو طمانیت حاصل ہو اور آپ کے دست و قلم سے دین حق کی ہر طرح سے اعانت ہوتی رہے اور مخالفینِ دین کو ذلت پہنچتی رہے۔ (مفاوضات طیبہ، ص ۱۴ - ۱۵ ، مکتوب نمبر ۱۸)
یہ مکتوب حضور شاہ جی قدس سرہ العزیز کی دینی حمیت، اخلاص، اور نصرتِ حق کا زندہ ثبوت ہے۔
یہ مکتوب تقریباً چودہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور حضور مجدد برکاتیت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اخلاص، وسعتِ نظر اور تحملِ مزاج کی منہ بولتی تصویر ہے۔
روحانی و اخلاقی تعلیمات: حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے مکاتیب میں دینی راہنمائی اور روحانی تربیت کا عنصر جا بجا موجود ہے۔ مثلاً رحمتِ الٰہی صاحب گورداسپوری کو تحریر فرماتے ہیں: ”تمہارے واسطے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہارے مقاصد پورے کرے۔ نماز پڑھا کرو۔ تلاوت قرآنِ مجید بھی کیا کرو۔ والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ تمہاری والدہ صاحبہ کے مقاصد کے پورے ہونے کے دعا کرتا ہوں (ان کو) اپنی اولاد پر شفقت اور خاوند کی اطاعت ضروری ہے۔ اگر اس میں کوئی تکلیف ہو تو اسے بھی راحت سمجھنا چاہئے۔ ( ایضاً ص ۳۸ ، مکتوب: ۳۱)
اسی طرح ایک دوسرے مکتوب میں آپ کی خودداری اور بے طمعی کا اظہار نہایت صاف الفاظ میں ملتا ہے: ”میں چراغ کندہ نہیں کر سکتا ہے۔ میں اس کی دکانداری نہیں کرتا ہوں۔ نقش البتہ تحریر کر سکتا ہوں آپ کندہ کرائیں۔“ (ایضا، ص ۳۹)
ایک جگہ فرماتے ہیں: ”تمہاری حق کوشی سے بہت خوش ہوا۔ کسی کا ناحق حق لینا اچھا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر مکان عطا فرمائے۔“ (ایضا، ص ۴۰)
الغرض، مفاوضاتِ طیبہ محض خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ روحانیت، علم و حلم، محبتِ اہلِ سنت اور حمایتِ حق کی ایک روشن دستاویز ہے۔ حضور شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے یہ مکاتیب اُن کے پاکیزہ باطن، انکسار، اخلاص، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد کا مظہر ہیں۔ یہ خطوط آج بھی سالکینِ راہِ حقیقت کے لیے چراغِ راہ ہیں، جو قاری کو ایمان، محبت اور استقامت کے درس سے منور کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان مکاتیبِ مبارکہ کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور ہمیں بھی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین یا رب العلمین۔
یہ خاک پائے حضور تاج المشائخ امین ملت مدظلہ العالی محمد انس رضا حامؔی برکاتی تو رب کی بارگاہ میں یہی عرض گزار ہے:
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
حبِ اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ اولادِ رسولِ رہنما کے واسطے (آمین)
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١؍صفر المظفر ١٣٤٧ھ میں ہوا۔ مزار شریف: گنبدِ برکات کے بائیں جانب دوسرے گنبد کے نیچے آگے سے سب سے پہلے کمرے میں ہے۔
سرکار شاہ جی میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ قدس سرہا بنت سید نور المصطفیٰ بن سیدنا غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہما سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید غلام محی الدین فقیر عالم و تاج العلماء سید اولاد رسول فخر عالم محمد میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی۔ چار شہزادیاں زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیراء فاطمہ و اکرام فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہن۔
سید غلام محی الدین فقیر عالم علیہ الرحمۃ
حضور تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
شاہ ”اولادِ رسولِ“ رہنما کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
آپ کا نام سید ”اولاد رسول“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب فخر عالم، تاج العلماء، سراج العرفاء اور محمد میاں ہے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔
٢٣؍رمضان المبارک میں ولادت ہوئی۔
قرآن مجید، حدیث شریف، تفسیر، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم والد ماجد حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور حضور ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل۔ بہترین عالم دین، لائق تحسین مفتی، محدث و مفسر تھے۔ آپ کا امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اپنے بھانجے سیدین مارہرہ یعنی سید العلماء و احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تربیت فرمائی جس وجہ سے آج بھی پوری دنیا میں مشائخ برکات کا فیضان جاری و ساری ہے۔
تقسیم ہند کے وقت جماعت اہل سنت نامی تنظیم شروع فرمائی علاوہ ازیں جماعت انصار المسلمین اور جماعت رضائے مصطفیٰ کی سرپرستی فرماتے، اسی دوران سرکار تاج العلماء نے ”اہل سنت کی آواز“ کا آغاز فرمایا۔
ایک مرتبہ حضرت کے مرید خاص مولانا مظہر صاحب بدایوانی مرحوم نے حضرت کو پنکھا کرنا چاہا تو فرمایا: آئندہ بنا اجازت ایسا نہ کرنا، قدرت نے ہمیں دو ہاتھ اپنا کام کرنے کو عطا فرمائے۔ حضرت والا کی ایک خاص عادت تھی کسی کی برائی سنتے، نہ کرتے، کوئی غیبت کرتا تو اس کو فوراً منع کرتے۔ حضرت تاج العلماء ایک ایسے مہربان مرشد تھے جو اپنے احباب کی بیکسی اور پریشانی میں بہت مددگار اور فریاد سن کر فوراً حاجت روائی فرماتے۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کے تعلقات بہت گہرے اور محبت والے تھے۔ حالاں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان عمر میں حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت بڑے تھے، لیکن پیر زادگی کی نسبت سے فاضل بریلوی حضرت تاج العلماء کا بہت احترام فرماتے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان آپ کو وارث الاکابر الاسیاد بالااستحقاق والانفراد جیسے القاب سے مخاطب کرتے اور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ان پر ان کی دینی خدمات کی وجہ سے جاں نثار کرتے۔ حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ فقیر ان کو اپنے بیشتر استادوں سے بہتر مانتا ہے، ان کی تحریر اور تقریر دونوں ہی سے فقیر نے طالب علم کی طرح فائدہ اُٹھایا ہے۔ لہٰذا فقیر اپنی وسعت کے مطابق ان کے طریقے کی پیروی کرتا ہے۔
سرکار تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٢٤؍جمادی الآخر ١٣٧٥ھ مطابق ٧؍فروری ١٩٥٦ء میں ہوا۔
مزار شریف: مارہرہ شریف میں ہے۔ جب بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں تب بائیں جانب خالی جگہ ہے، اس کے بعد پھر بزرگانِ دین کی بارگاہوں کا آغاز ہے۔ وہیں سب سے آگے پہلے کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس کے بعد والے کمرے میں حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔
سرکار تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح منظور فاطمہ علیہا الرحمۃ سے نو محلے سادات بریلی شریف میں ہوا۔ ایک صاحبزادے کی ولادت ہوئی مگر بچپن میں ہی وصال ہو گیا۔
jamiaturrazastudents.com
حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین حقیقی بھانجے، سب سے چھوٹی بہن سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا کے شہزادے سیدنا و مولانا و ملجانا پدرِ مرشد، حضور احسن العلماء سید الاصفیاء حضرت سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
(متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف)
- 1 کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی
- 2 کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی
- 3 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 4 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 5 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 6 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 7 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 8 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 9 اخلاص
- 10 کسی کا انتظار ہے
- 11 انتظار
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 24 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 25 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 26 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 27 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 28 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 29 اسلام اور رزقِ حلال
- 30 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط] حضرت آل عبا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت احسن العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ #حضرت سید آل عبا قادری علیہ الرحمۃ...
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط] ساتویں قطب: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سید مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سید ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ #حضرت سید ابوالحسین...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us