صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
ساتویں قطب: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سید مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید ابوالحسین احمد نورؔی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

نور جان و نور قلب و نور قبر و حشر دے
”بوالحسین“ احمد نوری ضیا کے واسطے (آمین)
زیب سجّادہ سجّاد نوری نہاد
احمد نور طینت پہ لاکھوں سلام
آل احمد ہیں مصطفیٰ ﷺ کے چاند
ماہ پارہ ہے احمد نوری
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”ابوالحسین احمد“ ہے، تاریخی نام ”مظہر علی“ الملقب بہ میاں صاحب ہے۔ القاب سراج السالکین، نور العارفین، نوری میاں، سرکارِ نور، مرشدِ حضور مفتئ اعظمِ ہند ہیں۔ تخلص نوریؔ ہے۔ سرکارِ نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سب سے چہیتے پوتے اور حضرت سید شاہ ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں ساتویں قطب ہیں جن کی بشارت قطب الاقطاب شہنشاہِ بغداد سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساداتِ حسینی، زیدی، واسطی، بلگرامی والد ماجد کی جانب سے ہیں نیز والدہ ماجدہ حضرت سید محمد صغریٰ بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیسویں پشت میں ہیں، حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آبائے کرام ہر عہد میں سردار و مقتداء رہے ہیں۔ یہ خاندان آپ کا ؁١٢١٧ء میں بلگرام شریف کو فتح کر کے اس مقام پر رونق افروز ہوا، اور جاگیر و خطابات شاہی سے معزز رہا۔ ؁١٠١٧ھ میں میر عبدالجلیل قدس سرہٗ یعنی آپ کے جد امجد صاحب غوث و قطب مارہرہ مقرر ہو کر رونق افروز مارہرہ مطہرہ ہوئے۔
حلیہ مبارک:
حضور سراج السالکین، نورالعارفین، سیدی شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سراپا اِس طور پر ہے: قد میانہ تھا لیکن باوجود میانہ قد و قامت ہونے کے مجمع میں سب سے بلند نظر آتے، رنگ مبارک گندمی تھا، سر مبارک بڑا اور مملوء، پیشانی خوب بڑی، بھنویں باریک اور یہ حضرات سادات بلگرام میں عموماً ہے۔ پلیکیں دراز، آنکھیں بڑی اور روشن، سپیدی اور سیاہی تیز سرخی کے ڈورے پڑے، شغل محمودہ میں سیاہی مطلق نظر نہ آتی اور شغل بروز میں دونوں پتلیاں ایک ساعت برابر آجاتیں، بینی بلند پتره بینی وسیع، دہانہ فراخ، دندان مبارک نہایت صاف چمکدار اور مضبوط جو غالباً وقت وفات شریف تک سب دانت موجود تھے، کوئی گرا نہ تھا۔ ریش مبارک نہ انبوہ اور نہ کم بلکہ پوری بھری ہوئی مرسلہ، سینہ مبارک چوڑا، ہاتھ لنبے، انگلیاں باریک دراز، شکم مبارک پر ایک باریک سیلی بالوں کی پڑی ہوئی۔ پاؤں کی ایڑیاں چھوٹی اور نہایت خوبصورت، رفتار تیز، ہنسی آپ کی صرف تبسم تھی، بیشتر عمامہ رنگین، کرتہ سفید، نقشبندی پاجامہ، ڈھیلی کلاہ مبارک، دو پلی گوشے کھلے ہوئے، کبھی قادری قمیص بھی پہنتے تھے، جاڑوں میں مرزئی پوری ڈھیلی آستینوں کی، ناف سے نیچے لباس تھا۔ ایک چھوٹا دو پٹہ (پٹکا) جو بشکل لا گلے میں ہوتا، رومال سفید استعمال فرماتے۔ [تذکرۂ نوری]
ولادتِ باسعادت:
سرکارِ نور علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ١٩؍شوال المکرم ؁١٢۵۵ھ مطابق ٢٦؍دسمبر ؁١٨٣٩ء بروز پنج شنبہ مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
گیارہ برس کی ہی عمر شریف میں والد ماجد سیدنا شاہ ظہور حسن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ظاہری ہو گیا اور حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پرورش فرمائی اور باطنی تربیت حضور شمسِ مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درس کا آغاز سید شاہ آل رسول مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسب قاعدہ اقراء شریف کی چند آیات سے فرمایا، بعدۂ سینہ مبارک سے لگایا اور رب يسر و تمم بالخیر کے ساتھ خاص دعائیں دیں اور درگاہ شریف کے مکتب فارسی میں داخل فرما دیا۔ مکتب میں باقاعدہ داخلہ کے بعد حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فارسی، عربی، فقہ، تفسیر، حدیث، لغت، منطق و دیگر علوم و فنون کو حاصل فرمایا۔ حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذۂ کرام کی فہرست حسب ذیل ہے، اگر آپ نے کسی سے کچھ علمی باتیں بھی دریافت فرمائیں تو ان کی بھی تعظیماً اساتذہ کی طرح فرماتے: (۱) حضرت میاں جی رحمت اللہ صاحب، (۲) حضرت جمال روشن صاحب، (۳) حضرت عبداللہ صاحب
مذکورہ بالا اساتذۂ کرام کے علاوہ اور بھی دیگر اساتذۂ کرام کے اسماء یہ ہیں۔ (۴) حضرت شیر باز خان مارہروی (۵) حضرت اشرف علی مارہروی (۶) حضرت امانت علی مارہروی (۷) حضرت امام بخش مارہروی (۸) حضرت سید اولاد علی مارہروی (۹) حضرت احمد خان جلسیری (۱۰) حضرت مولوی محمد سعید عثمانی بدایونی (11) حضرت الٰہی خیر مارہروی (۱۲) حضرت حافظ عبد الکریم پنجابی (۱۳) حضرت قاری محمد فیاض رامپوری (۱۴) حضرت مولوی فضل الله جالیسری (۱۵) حضرت مولانا نور احمد عثمانی بدایونی (۱۶) حضرت مولانا مفتی حسن خان عثمانی بریلوی (۱۷) حضرت حکیم محمد سعید بن حکیم امداد حسین مارہروی (۱۸) حضرت مولوی ہدایت علی بریلوی (۱۹) حضرت مولوی محمد تراب علی امروہوی (۲۰) حضرت مولوی محمد حسین شاه ولایتی (۲۱) حضرت مولوی محمد حسین بخاری کشمیری (۲۲) حضرت مولانا محمد عبد القادر بدایونی قدس سرہم۔
اسناد علوم باطنیہ: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن سے علوم باطنی کا اکتساب فرمایا اس میں سر فہرست حضرت سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہٗ ہیں، جن کی بارگاہِ عالی وقار میں حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدرجہ اتم فیض روحانی و اسناد روحانی حاصل فرمایا۔ حضرت کے علاوہ جن اساتذہ کرام سے اذکار و اوراد و سلوک کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) حضرت سید غلام محی الدین (۲) حضرت مفتی سید عین الحسن بلگرامی (۳) حضرت شاہ شمس الحق عرف تنکا شاه (۴) حضرت مولوی احمد حسن مراد آبادی (۵) حضرت حافظ شاہ علی حسین مراد آبادی قدس سرہم۔
اجازت و خلافت: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت و اجازت اپنے شیخ طریقت حضرت سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی، چنانچہ راہ معرفت کی تکمیل کے بعد حضور ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازتِ عام مرحمت فرمائی۔
روحانی اکتساب فیض:
حضور نور العارفین سید شاہ ابوالحسین احمد نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روحانی اکتساب فیض انبیائے کرام و اولیائے عظام سے حاصل فرمایا: (۱) حضور نبئ مکرم رسول محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ و مصافحہ و معانقہ و بیعت اخذ فیض کی اور آغوش رحمت میں بیٹھے۔ (۲) حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام (۳) حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام (۴) حضرت سیدنا سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت فرمائی اور ان حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی اخذ فیض فرمایا۔ (۵) حضرت امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم و سید الشہدا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت فرمائی اور اخذ فیض فرمایا۔ (۶) حضور غوث الثقلین، قطب الکونین سیدنا شیخ محی الدین ابومحمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۷) حضرت خواجۂ خواجگان شہنشاہِ ہند غریب نواز حضرت شیخ خواجه معین الدین چشتی سنجری اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۸) حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۹) حضرت خواجہ عثمان ہارونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اولیائے کبار کی بھی زیارت فرمائی اور ان حضرات سے بھی اکتساب فیض فرمایا، نیز اپنے اکابر اقطاب مارہرہ قدست اسرارهم (از حضرت سیدنا میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ تا حضور خاتم الاکابر قدس سرہم) کی زیارتوں و خاص توجہ سے بہرہ مند ہوئے۔ [تذکرۂ نوری]
عشقِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ یہاں تک کہ کوئی غم کا مارا بارگاہ نوری میں حاضر ہوتا تو حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو شمسِ مارہرہ حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ شعر سنا کر سکون بخشتے:
غلامِ غوثِ اعظم بے کس و مضطر نمی مانَد
اگر مانَد شبے مانَد شبے دیگر نمی مانَد
(حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام بے سہارا اور پریشان حال نہیں رہتا اور اگر کبھی بے سہارا اور پریشان حال رہتا ہے تو ایک رات رہتا ہے دوسری رات پریشان نہیں رہتا)
عبادت و ریاضت :
عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ فرائض و نوافل کثرت سے ادا فرماتے۔ نمازِ تہجد سے لے کر آرام فرمانے تک اعمال و وظائف اور قرآنِ مجید کی تلاوت میں مصروف رہتے۔
سرکار نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی سیرت کا عطر مجموعہ تھی۔ حضور صاحب البرکات کی برکتیں، آل محمد کی ریاضتیں، شاہ حمزہ کی جلالتیں، شمس ماہرہ کی ولایتیں، ستھرے میاں کی ستھرائیاں، آل رسولی سلوک، غرض کہ ذات مبارکہ ظاہری و باطنی خوش رنگ پھولوں کی حسین گلدستہ تھی۔
صبر: صبر کا عالم یہ کہ بڑے بڑے دکھ میں خدائے ذوالجلال کا شکر ادا فرماتے۔ غمگین نہ ہوتے۔ بیماری کی سخت حالت میں صرف نماز چھوٹ جانے پر غمگین ہوتے۔
علمِ دین سے محبت:
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک زبردست عالم دین تھے۔ شریعت کے مسائل کو عوام کو لکھ کر اور تقریر فرما کر ایسے بتاتے کہ عام آدمی کے ذہن نشین ہو جاتے۔ بدمذہبوں کے بڑے سے بڑے قلعے ڈھا دیے، ان کی گستاخیوں کا مدلل و مفصل جواب عطا فرمایا۔ اہل سنت کو بہت فائدہ پہنچایا۔ دینی معاملے میں اپنے دادا شاہ آل رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق حضور تاج الفحول بدایونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ ضرور کرتے اور ان کے بعد پھر اس مسئلے پر کتابیں نہ دیکھا کرتے تھے۔
غریبوں سے محبت، شہرت سے بعدت: غریبوں، ناداروں، ضرورت مندوں کی صحبت کو پسند فرماتے۔ حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارد گرد ہمیشہ ضرورت مندوں کا مجمع رہتا۔ ہر وقت مسکراتے، خوش مزاج رہتے۔ ضرورتمندوں کی ضروریات پوری فرماتے۔ نرمی اور پیار سے بات کرتے۔کنجوسی سے سخت نفرت تھی۔ فضول باتوں سے ہر حال میں بچتے۔ کاموں میں میانہ روی۔
حضور مفتئ اعظمِ ہند پر نظرِ کرم:
سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کو خلافت عطا فرمائی۔ امام عشق و محبت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے بھائی استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان، حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان کو بیعت فرمایا۔ جب حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی تو سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ مارہرہ مطہرہ میں تھے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکار نوری میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شہزادے کی ولادت کی بشارت دی اور ”آل رحمان محی الدین ابوالبرکات“ نام تجویز فرمایا۔ جب حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ چھ مہینہ کے ہوئے تو حضور سرکارِ نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بذاتِ خود بریلی شریف تشریف لا کر حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مرید فرمایا اور سلاسل کی اجازت عطا فرمائی۔ شاعر نے لکھا:
جنھیں بچپن میں ہی نوری میاں نے دے دیا سب کچھ
ہے وہ احمد رضا خاں کا دلارا مفتئ اعظم
تصنیفات:
تصنیف اور اس کی شہرت سے سرکار نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو خاص دلچسپی نہ تھی۔ لیکن ضرورت پر بہت تفصیل کے ساتھ تصنیف فرماتے۔ ”سراج العوارف“ حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اہل تصوف کے لیے ایک دستور کا درجہ رکھتی ہے۔ رسالہ سوال و جواب، اشتہار نوری، عقیدہ اہل سنت، جنگ جمل و صفین، الجفر، النجوم، تحقيق التراويح، دليل اليقين من کلام سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، صلاة غوثیہ، صلاۃ معینیہ، صلاة نقشبندیہ، صلاة صابریہ، اسرار اکابر برکاتیہ، یہ تمام تصانیف حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ہیں۔
خلفاء: حضرت سید شاہ اسماعیل حسن (صاحبِ عرسِ قاسمی)، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری، اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی، مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا بریلوی، حضرت قاضی غلام قنبر صدیقی بدایونی، حضرت قاضی غلام شبر صدیقی بدایونی (مؤلف تذکرۂ نوری)، حضرت حکیم عبد القیوم شہید بدایونی، مجمع البحرین حضرت قاضی غلام حسنین و غیرہم رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین مشہور خلفاء ہیں۔
وصالِ ظاہری:
حضور نور العارفین سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١١؍رجب المرجب ؁١٢٣٤ھ / ١٣؍اگست ؁١٩٠٦ء کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے چوکھٹِ مبارک پار کرتے ہی بائیں جانب سنہرے خوبصورت گنبد میں مرجعِ خواص و عوام ہے۔
نکاح:
سرکار نور سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی دو شادیاں ہوئیں۔ پہلا نکاح چچا جان شاہ ظہور حسین علیہ الرحمۃ کی شہزادی سیدہ رقیہ بیگم قدس سرہا سے ہوا اور دوسرا نکاح پھوپھی کی بیٹی سیدہ الطاف فاطمہ قدس سرہا سے ہوا، مگر دونوں سے اولاد نہ رہی۔
نکتہ: مطلب کہ اقطاب کا سلسلہ و نسب حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پر موقوف ہو گیا۔ حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے دادا جان حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بعد مسند برکاتیہ آل احمدیہ پر رونق افروز ہوئے مگر چونکہ سلسلۂ اولاد موقوف ہوا تو بعد سرکار نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سید شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے حضرت سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (جو حضور نوری میاں رضی اللہ تعالی عنہ کے چچازاد بھائی ہوئے) اس مسند پر بیٹھے مگر اتفاق کہ سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے بھی اولاد نہ ہوئی۔ گویا یہ سلسلہ پوری طرح حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان پر موقوف ہو گیا۔ رہے حضرت ظہور حسین کے بڑے شہزادے اور ان کے شہزادگان تو وہ دوسری جگہ تبلیغ میں مشغول ہوئے۔ بعدہٗ حضور مہدی حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا جانشین منتخب فرمایا ہمارے آقا حضور سید العلماء رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کو۔ (حامی) امامِ اہلسنّت سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابُو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابُو الحسین
وارستہ پائے بستہ دامِ ابُو الحسین آزاد نار سے ہے غلامِ ابُو الحسین
خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں
کیا صبحِ نور بار ہے شام ابو الحسین
ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک
مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابو الحسین
ہاں طالعِ رضاؔ تِری اللہ رے یاوری
اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین

حضرت شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”مہدی حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ سید شاہ مہدی حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے شہزادے کی دوسری زوجہ سیدہ خاتون فاطمہ قدس سرہا سے ہیں۔
ولادت: پیدائش جمادی الاولیٰ ١٢٨٧؍ہجری میں ہوئی۔
بادشاہوں والا مزاج تھا مگر طبیعت بے انتہا سادگی والی تھی۔ اپنی ظاہری حیات میں ہی سرکار مہدی علیہ الرحمۃ والرضوان نے حضور سید العلماء سند الحکماء حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وصی و جانشین مقرر فرمایا۔
وصالِ ظاہری: سرکار مہدی علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصالِ ظاہری ١٨؍ذی قعدہ ١٣٦١؍ہجری میں ہوا۔
نکاح: سرکار مہدی حسن رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا پہلا نکاح سیدہ بنیادی بیگم بنت سید حسین بن سید دلدار حیدر سے ہوا، ان بی بی سے اولاد نہ ہوئی۔ دوسری شادی سجادی بیگم بنت اسماعیل حسن سے ہوئی جن سے کئی اولاد ہوئی مگر کم عمری میں انتقال ہو گیا۔
جانشین: حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

حضرت سید ابوالحسن خرقانی عرف میر صاحب علیہ الرحمۃ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”ابوالحسن“ ہے۔ حضور خاتم الاکابر آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے شہزادے کے شہزادے ہیں۔ حضرت شاہ مہدی حسن علیہ الرحمۃ کے علاتی بھائی ہیں۔
بیعت و خلافت: جد امجد حضور خاتم الاکابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
نکاح: دو نکاح ہوئے، پہلا سید محمد حیدر بن سید محمد دلدار کی شہزادی سے جن سے ایک شہزادے سید علی حسن قدس سرہٗ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی مگر اولاد دونوں سے باقی نہیں رہی۔ دوسری شادی سید محمد صادق کی شہزادی سے ہوا جن سے ایک شہزادے سید شاہ برکات حسن عرف شاہ برکات علیہ الرحمۃ کی ولادت ہوئی۔
وصالِ ظاہری: حضرت میر صاحب علیہ الرحمۃ کا وصال ٩؍رجب ؁١٣١١ھ میں ہوا، مارہرہ شریف میں مزار شریف ہے۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
ساتویں قطب: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سید مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید ابوالحسین احمد نورؔی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

نور جان و نور قلب و نور قبر و حشر دے
”بوالحسین“ احمد نوری ضیا کے واسطے (آمین)
زیب سجّادہ سجّاد نوری نہاد
احمد نور طینت پہ لاکھوں سلام
آل احمد ہیں مصطفیٰ ﷺ کے چاند
ماہ پارہ ہے احمد نوری
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”ابوالحسین احمد“ ہے، تاریخی نام ”مظہر علی“ الملقب بہ میاں صاحب ہے۔ القاب سراج السالکین، نور العارفین، نوری میاں، سرکارِ نور، مرشدِ حضور مفتئ اعظمِ ہند ہیں۔ تخلص نوریؔ ہے۔ سرکارِ نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سب سے چہیتے پوتے اور حضرت سید شاہ ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں ساتویں قطب ہیں جن کی بشارت قطب الاقطاب شہنشاہِ بغداد سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساداتِ حسینی، زیدی، واسطی، بلگرامی والد ماجد کی جانب سے ہیں نیز والدہ ماجدہ حضرت سید محمد صغریٰ بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیسویں پشت میں ہیں، حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آبائے کرام ہر عہد میں سردار و مقتداء رہے ہیں۔ یہ خاندان آپ کا ؁١٢١٧ء میں بلگرام شریف کو فتح کر کے اس مقام پر رونق افروز ہوا، اور جاگیر و خطابات شاہی سے معزز رہا۔ ؁١٠١٧ھ میں میر عبدالجلیل قدس سرہٗ یعنی آپ کے جد امجد صاحب غوث و قطب مارہرہ مقرر ہو کر رونق افروز مارہرہ مطہرہ ہوئے۔
حلیہ مبارک:
حضور سراج السالکین، نورالعارفین، سیدی شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سراپا اِس طور پر ہے: قد میانہ تھا لیکن باوجود میانہ قد و قامت ہونے کے مجمع میں سب سے بلند نظر آتے، رنگ مبارک گندمی تھا، سر مبارک بڑا اور مملوء، پیشانی خوب بڑی، بھنویں باریک اور یہ حضرات سادات بلگرام میں عموماً ہے۔ پلیکیں دراز، آنکھیں بڑی اور روشن، سپیدی اور سیاہی تیز سرخی کے ڈورے پڑے، شغل محمودہ میں سیاہی مطلق نظر نہ آتی اور شغل بروز میں دونوں پتلیاں ایک ساعت برابر آجاتیں، بینی بلند پتره بینی وسیع، دہانہ فراخ، دندان مبارک نہایت صاف چمکدار اور مضبوط جو غالباً وقت وفات شریف تک سب دانت موجود تھے، کوئی گرا نہ تھا۔ ریش مبارک نہ انبوہ اور نہ کم بلکہ پوری بھری ہوئی مرسلہ، سینہ مبارک چوڑا، ہاتھ لنبے، انگلیاں باریک دراز، شکم مبارک پر ایک باریک سیلی بالوں کی پڑی ہوئی۔ پاؤں کی ایڑیاں چھوٹی اور نہایت خوبصورت، رفتار تیز، ہنسی آپ کی صرف تبسم تھی، بیشتر عمامہ رنگین، کرتہ سفید، نقشبندی پاجامہ، ڈھیلی کلاہ مبارک، دو پلی گوشے کھلے ہوئے، کبھی قادری قمیص بھی پہنتے تھے، جاڑوں میں مرزئی پوری ڈھیلی آستینوں کی، ناف سے نیچے لباس تھا۔ ایک چھوٹا دو پٹہ (پٹکا) جو بشکل لا گلے میں ہوتا، رومال سفید استعمال فرماتے۔ [تذکرۂ نوری]
ولادتِ باسعادت:
سرکارِ نور علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ١٩؍شوال المکرم ؁١٢۵۵ھ مطابق ٢٦؍دسمبر ؁١٨٣٩ء بروز پنج شنبہ مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
گیارہ برس کی ہی عمر شریف میں والد ماجد سیدنا شاہ ظہور حسن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ظاہری ہو گیا اور حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پرورش فرمائی اور باطنی تربیت حضور شمسِ مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درس کا آغاز سید شاہ آل رسول مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسب قاعدہ اقراء شریف کی چند آیات سے فرمایا، بعدۂ سینہ مبارک سے لگایا اور رب يسر و تمم بالخیر کے ساتھ خاص دعائیں دیں اور درگاہ شریف کے مکتب فارسی میں داخل فرما دیا۔ مکتب میں باقاعدہ داخلہ کے بعد حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فارسی، عربی، فقہ، تفسیر، حدیث، لغت، منطق و دیگر علوم و فنون کو حاصل فرمایا۔ حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذۂ کرام کی فہرست حسب ذیل ہے، اگر آپ نے کسی سے کچھ علمی باتیں بھی دریافت فرمائیں تو ان کی بھی تعظیماً اساتذہ کی طرح فرماتے: (۱) حضرت میاں جی رحمت اللہ صاحب، (۲) حضرت جمال روشن صاحب، (۳) حضرت عبداللہ صاحب
مذکورہ بالا اساتذۂ کرام کے علاوہ اور بھی دیگر اساتذۂ کرام کے اسماء یہ ہیں۔ (۴) حضرت شیر باز خان مارہروی (۵) حضرت اشرف علی مارہروی (۶) حضرت امانت علی مارہروی (۷) حضرت امام بخش مارہروی (۸) حضرت سید اولاد علی مارہروی (۹) حضرت احمد خان جلسیری (۱۰) حضرت مولوی محمد سعید عثمانی بدایونی (11) حضرت الٰہی خیر مارہروی (۱۲) حضرت حافظ عبد الکریم پنجابی (۱۳) حضرت قاری محمد فیاض رامپوری (۱۴) حضرت مولوی فضل الله جالیسری (۱۵) حضرت مولانا نور احمد عثمانی بدایونی (۱۶) حضرت مولانا مفتی حسن خان عثمانی بریلوی (۱۷) حضرت حکیم محمد سعید بن حکیم امداد حسین مارہروی (۱۸) حضرت مولوی ہدایت علی بریلوی (۱۹) حضرت مولوی محمد تراب علی امروہوی (۲۰) حضرت مولوی محمد حسین شاه ولایتی (۲۱) حضرت مولوی محمد حسین بخاری کشمیری (۲۲) حضرت مولانا محمد عبد القادر بدایونی قدس سرہم۔
اسناد علوم باطنیہ: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن سے علوم باطنی کا اکتساب فرمایا اس میں سر فہرست حضرت سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہٗ ہیں، جن کی بارگاہِ عالی وقار میں حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدرجہ اتم فیض روحانی و اسناد روحانی حاصل فرمایا۔ حضرت کے علاوہ جن اساتذہ کرام سے اذکار و اوراد و سلوک کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) حضرت سید غلام محی الدین (۲) حضرت مفتی سید عین الحسن بلگرامی (۳) حضرت شاہ شمس الحق عرف تنکا شاه (۴) حضرت مولوی احمد حسن مراد آبادی (۵) حضرت حافظ شاہ علی حسین مراد آبادی قدس سرہم۔
اجازت و خلافت: حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت و اجازت اپنے شیخ طریقت حضرت سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی، چنانچہ راہ معرفت کی تکمیل کے بعد حضور ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازتِ عام مرحمت فرمائی۔
روحانی اکتساب فیض:
حضور نور العارفین سید شاہ ابوالحسین احمد نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روحانی اکتساب فیض انبیائے کرام و اولیائے عظام سے حاصل فرمایا: (۱) حضور نبئ مکرم رسول محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ و مصافحہ و معانقہ و بیعت اخذ فیض کی اور آغوش رحمت میں بیٹھے۔ (۲) حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام (۳) حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام (۴) حضرت سیدنا سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت فرمائی اور ان حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی اخذ فیض فرمایا۔ (۵) حضرت امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم و سید الشہدا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت فرمائی اور اخذ فیض فرمایا۔ (۶) حضور غوث الثقلین، قطب الکونین سیدنا شیخ محی الدین ابومحمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۷) حضرت خواجۂ خواجگان شہنشاہِ ہند غریب نواز حضرت شیخ خواجه معین الدین چشتی سنجری اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۸) حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۹) حضرت خواجہ عثمان ہارونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اولیائے کبار کی بھی زیارت فرمائی اور ان حضرات سے بھی اکتساب فیض فرمایا، نیز اپنے اکابر اقطاب مارہرہ قدست اسرارهم (از حضرت سیدنا میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ تا حضور خاتم الاکابر قدس سرہم) کی زیارتوں و خاص توجہ سے بہرہ مند ہوئے۔ [تذکرۂ نوری]
عشقِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ یہاں تک کہ کوئی غم کا مارا بارگاہ نوری میں حاضر ہوتا تو حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو شمسِ مارہرہ حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ شعر سنا کر سکون بخشتے:
غلامِ غوثِ اعظم بے کس و مضطر نمی مانَد
اگر مانَد شبے مانَد شبے دیگر نمی مانَد
(حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام بے سہارا اور پریشان حال نہیں رہتا اور اگر کبھی بے سہارا اور پریشان حال رہتا ہے تو ایک رات رہتا ہے دوسری رات پریشان نہیں رہتا)
عبادت و ریاضت :
عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ فرائض و نوافل کثرت سے ادا فرماتے۔ نمازِ تہجد سے لے کر آرام فرمانے تک اعمال و وظائف اور قرآنِ مجید کی تلاوت میں مصروف رہتے۔
سرکار نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ پاک مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی سیرت کا عطر مجموعہ تھی۔ حضور صاحب البرکات کی برکتیں، آل محمد کی ریاضتیں، شاہ حمزہ کی جلالتیں، شمس ماہرہ کی ولایتیں، ستھرے میاں کی ستھرائیاں، آل رسولی سلوک، غرض کہ ذات مبارکہ ظاہری و باطنی خوش رنگ پھولوں کی حسین گلدستہ تھی۔
صبر: صبر کا عالم یہ کہ بڑے بڑے دکھ میں خدائے ذوالجلال کا شکر ادا فرماتے۔ غمگین نہ ہوتے۔ بیماری کی سخت حالت میں صرف نماز چھوٹ جانے پر غمگین ہوتے۔
علمِ دین سے محبت:
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک زبردست عالم دین تھے۔ شریعت کے مسائل کو عوام کو لکھ کر اور تقریر فرما کر ایسے بتاتے کہ عام آدمی کے ذہن نشین ہو جاتے۔ بدمذہبوں کے بڑے سے بڑے قلعے ڈھا دیے، ان کی گستاخیوں کا مدلل و مفصل جواب عطا فرمایا۔ اہل سنت کو بہت فائدہ پہنچایا۔ دینی معاملے میں اپنے دادا شاہ آل رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق حضور تاج الفحول بدایونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ ضرور کرتے اور ان کے بعد پھر اس مسئلے پر کتابیں نہ دیکھا کرتے تھے۔
غریبوں سے محبت، شہرت سے بعدت: غریبوں، ناداروں، ضرورت مندوں کی صحبت کو پسند فرماتے۔ حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارد گرد ہمیشہ ضرورت مندوں کا مجمع رہتا۔ ہر وقت مسکراتے، خوش مزاج رہتے۔ ضرورتمندوں کی ضروریات پوری فرماتے۔ نرمی اور پیار سے بات کرتے۔کنجوسی سے سخت نفرت تھی۔ فضول باتوں سے ہر حال میں بچتے۔ کاموں میں میانہ روی۔
حضور مفتئ اعظمِ ہند پر نظرِ کرم:
سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کو خلافت عطا فرمائی۔ امام عشق و محبت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے بھائی استاذ زمن حضرت علامہ حسن رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان، حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان کو بیعت فرمایا۔ جب حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی تو سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ مارہرہ مطہرہ میں تھے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکار نوری میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شہزادے کی ولادت کی بشارت دی اور ”آل رحمان محی الدین ابوالبرکات“ نام تجویز فرمایا۔ جب حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ چھ مہینہ کے ہوئے تو حضور سرکارِ نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بذاتِ خود بریلی شریف تشریف لا کر حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مرید فرمایا اور سلاسل کی اجازت عطا فرمائی۔ شاعر نے لکھا:
جنھیں بچپن میں ہی نوری میاں نے دے دیا سب کچھ
ہے وہ احمد رضا خاں کا دلارا مفتئ اعظم
تصنیفات:
تصنیف اور اس کی شہرت سے سرکار نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو خاص دلچسپی نہ تھی۔ لیکن ضرورت پر بہت تفصیل کے ساتھ تصنیف فرماتے۔ ”سراج العوارف“ حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اہل تصوف کے لیے ایک دستور کا درجہ رکھتی ہے۔ رسالہ سوال و جواب، اشتہار نوری، عقیدہ اہل سنت، جنگ جمل و صفین، الجفر، النجوم، تحقيق التراويح، دليل اليقين من کلام سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، صلاة غوثیہ، صلاۃ معینیہ، صلاة نقشبندیہ، صلاة صابریہ، اسرار اکابر برکاتیہ، یہ تمام تصانیف حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ہیں۔
خلفاء: حضرت سید شاہ اسماعیل حسن (صاحبِ عرسِ قاسمی)، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری، اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی، مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا بریلوی، حضرت قاضی غلام قنبر صدیقی بدایونی، حضرت قاضی غلام شبر صدیقی بدایونی (مؤلف تذکرۂ نوری)، حضرت حکیم عبد القیوم شہید بدایونی، مجمع البحرین حضرت قاضی غلام حسنین و غیرہم رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین مشہور خلفاء ہیں۔
وصالِ ظاہری:
حضور نور العارفین سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١١؍رجب المرجب ؁١٢٣٤ھ / ١٣؍اگست ؁١٩٠٦ء کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے چوکھٹِ مبارک پار کرتے ہی بائیں جانب سنہرے خوبصورت گنبد میں مرجعِ خواص و عوام ہے۔
نکاح:
سرکار نور سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی دو شادیاں ہوئیں۔ پہلا نکاح چچا جان شاہ ظہور حسین علیہ الرحمۃ کی شہزادی سیدہ رقیہ بیگم قدس سرہا سے ہوا اور دوسرا نکاح پھوپھی کی بیٹی سیدہ الطاف فاطمہ قدس سرہا سے ہوا، مگر دونوں سے اولاد نہ رہی۔
نکتہ: مطلب کہ اقطاب کا سلسلہ و نسب حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پر موقوف ہو گیا۔ حضور نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے دادا جان حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بعد مسند برکاتیہ آل احمدیہ پر رونق افروز ہوئے مگر چونکہ سلسلۂ اولاد موقوف ہوا تو بعد سرکار نور رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سید شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے حضرت سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (جو حضور نوری میاں رضی اللہ تعالی عنہ کے چچازاد بھائی ہوئے) اس مسند پر بیٹھے مگر اتفاق کہ سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے بھی اولاد نہ ہوئی۔ گویا یہ سلسلہ پوری طرح حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان پر موقوف ہو گیا۔ رہے حضرت ظہور حسین کے بڑے شہزادے اور ان کے شہزادگان تو وہ دوسری جگہ تبلیغ میں مشغول ہوئے۔ بعدہٗ حضور مہدی حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا جانشین منتخب فرمایا ہمارے آقا حضور سید العلماء رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کو۔ (حامی) امامِ اہلسنّت سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابُو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابُو الحسین
وارستہ پائے بستہ دامِ ابُو الحسین آزاد نار سے ہے غلامِ ابُو الحسین
خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں
کیا صبحِ نور بار ہے شام ابو الحسین
ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک
مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابو الحسین
ہاں طالعِ رضاؔ تِری اللہ رے یاوری
اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین

حضرت شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”مہدی حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ سید شاہ مہدی حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے شہزادے کی دوسری زوجہ سیدہ خاتون فاطمہ قدس سرہا سے ہیں۔
ولادت: پیدائش جمادی الاولیٰ ١٢٨٧؍ہجری میں ہوئی۔
بادشاہوں والا مزاج تھا مگر طبیعت بے انتہا سادگی والی تھی۔ اپنی ظاہری حیات میں ہی سرکار مہدی علیہ الرحمۃ والرضوان نے حضور سید العلماء سند الحکماء حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وصی و جانشین مقرر فرمایا۔
وصالِ ظاہری: سرکار مہدی علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصالِ ظاہری ١٨؍ذی قعدہ ١٣٦١؍ہجری میں ہوا۔
نکاح: سرکار مہدی حسن رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا پہلا نکاح سیدہ بنیادی بیگم بنت سید حسین بن سید دلدار حیدر سے ہوا، ان بی بی سے اولاد نہ ہوئی۔ دوسری شادی سجادی بیگم بنت اسماعیل حسن سے ہوئی جن سے کئی اولاد ہوئی مگر کم عمری میں انتقال ہو گیا۔
جانشین: حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

حضرت سید ابوالحسن خرقانی عرف میر صاحب علیہ الرحمۃ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”ابوالحسن“ ہے۔ حضور خاتم الاکابر آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے شہزادے کے شہزادے ہیں۔ حضرت شاہ مہدی حسن علیہ الرحمۃ کے علاتی بھائی ہیں۔
بیعت و خلافت: جد امجد حضور خاتم الاکابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
نکاح: دو نکاح ہوئے، پہلا سید محمد حیدر بن سید محمد دلدار کی شہزادی سے جن سے ایک شہزادے سید علی حسن قدس سرہٗ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی مگر اولاد دونوں سے باقی نہیں رہی۔ دوسری شادی سید محمد صادق کی شہزادی سے ہوا جن سے ایک شہزادے سید شاہ برکات حسن عرف شاہ برکات علیہ الرحمۃ کی ولادت ہوئی۔
وصالِ ظاہری: حضرت میر صاحب علیہ الرحمۃ کا وصال ٩؍رجب ؁١٣١١ھ میں ہوا، مارہرہ شریف میں مزار شریف ہے۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
26
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢