صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں
سیرت النبی ﷺ

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں

✍️ Tauqeer Raza Ashrafi

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں
نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ درس آموز ہے۔ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیے کہ آپ ﷺ بچپن ہی سے صابر و شاکر اور عادل تھے۔ نبی کریم ﷺ دیگر بچوں سے منفرد تھے اور دیگر بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے۔ آپ ﷺ کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ دیگر بچوں کی طرح اپنے کپڑوں میں کبھی بول و براز نہیں فرماتے تھے، بلکہ مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کم سنی میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔

ولادتِ باسعادت

نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل کے واقعے کے پچپن دن بعد سرزمینِ عرب میں ۱۲ ربیع الاول، مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ء میں ہوئی۔ آپ ﷺ ابھی مادرِ شکم میں ہی تھے کہ آپ کے والدِ محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔
آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو گود میں لیا، مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے لیے دعا کی، اور آپ ﷺ کو یتیم پیدا ہونے میں بھی حکمت کی بات تھی۔
سرزمینِ عرب کے معزز ترین لوگوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ماں کی گود میں پلنے کے بجائے صحرا کے قبیلوں کی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بچے دیہات کے خوش گوار ماحول میں پرورش پائیں، وہاں کی خالص غذائیں کھا کر ان کے اعضا اور جسم مضبوط ہوں اور وہاں کی فصیح زبان سیکھیں۔
اسی دستور کے مطابق آپ ﷺ کو لینے کے لیے بھی صحرا کی عورتیں آئیں۔ جب ان عورتوں نے جانا کہ یہ بچہ یتیم ہے تو وہ تمام عورتیں آپ ﷺ کو لینے سے انکار کر بیٹھیں، اس لیے کہ انہیں خیال تھا کہ یتیم بچے کے بدلے انہیں مال و دولت بہت زیادہ نہیں مل پائے گا۔
لیکن حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ بنو سعد سے تھیں، انہیں کوئی بچہ نہیں مل سکا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شوہر حضرت حارث بن عبدالعزیٰ سے کہا کہ میں مناسب سمجھتی ہوں کہ خالی ہاتھ لوٹنے سے بہتر ہے کہ اسی یتیم بچے کو لے لوں۔ ان کے شوہر نے اجازت دے دی۔
چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نبی پاک ﷺ کے گھر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سبز ریشمی کپڑے پر لیٹے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو گود میں لے کر گلے سے لگا لیا۔
پھر آپ ﷺ کو گود میں لیتے ہی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی پستان دودھ سے بھر گئی۔ چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اپنے دائیں جانب سے دودھ پلایا، پھر بائیں جانب سے پلانا چاہا، لیکن آپ ﷺ نے بائیں جانب سے کبھی بھی نوش نہ فرمایا، کیونکہ آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے، اس لیے اپنے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن حارث کے لیے وہ حصہ چھوڑ دیا۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری اونٹنی کا دودھ بھی بھر گیا۔ پھر ہم دونوں نے اسے نوش کیا اور رات بھر چین و سکون سے سوئے۔ اس کے بعد جب ہم اپنے قبیلے کے لیے نکلے تو ہماری اونٹنی بہت ہی تیزی سے راستہ طے کرتی ہوئی ہمیں اپنے قبیلے تک لے گئی۔

مبارک بچپن کے واقعات

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں اس مبارک بچے کو اپنے ساتھ لے کر اپنے قبیلے میں آئی تو قحط سالی دور ہو گئی، جانور موٹے تازے ہو گئے اور ان کی برکت سے میری بکریوں کے تھن دودھ سے لبالب ہو گئے۔ میرے گھر میں رحمت و انوار کی کرنیں چھا گئیں۔میرے پڑوسی کہتے تھے کہ اے حلیمہ! رات بھر تمہارا گھر روشن رہتا ہے، کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہ چراغ کی روشنی نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کے چہرۂ مبارک سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتی ہیں اور اسی کی روشنی سے پورا گھر روشن رہتا ہے۔
میرے پڑوسی اور قبیلے کے لوگ بھی کہتے تھے کہ ہمیں بھی ان کی برکت سے فیض یاب کرو۔ چنانچہ میں نے ایک تالاب میں حضرت محمد ﷺ کا قدمِ مبارک داخل کیا اور کہا کہ ہر کوئی اپنے جانوروں کو اسی سے پانی پلا دے۔ پھر سب کی بکریوں میں برکت ہوئی اور میرے پاس سات بکریوں سے سات سو سے زائد بکریاں ہو گئیں اور جانور موٹے تازے بھی ہو گئے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محمد ﷺ دیگر بچوں سے جداگانہ حیثیت رکھتے تھے۔ محمد ﷺ نے اپنے کپڑوں میں کبھی بھی بول و براز نہیں فرمایا، بلکہ اپنے مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہو جاتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کا ستر کھل جاتا تو آپ ﷺ رونے لگتے، پھر ہم لوگ آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیتے تو آپ ﷺ خاموش ہو جاتے۔ اگر ہمیں تاخیر ہو جاتی تو غیب سے آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیا جاتا۔
محمد ﷺ دو ماہ میں گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیے، تین ماہ میں ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے، چار ماہ کی عمر میں کسی چیز کے سہارے چل پھر لیتے، پانچ ماہ میں آپ ﷺ کے اندر چلنے کی مکمل قوت حاصل ہو چکی تھی، سات ماہ میں آپ ﷺ نے بولنا سیکھ لیا تھا اور آٹھ ماہ میں فصیح زبان میں بولنے لگے تھے، اس طرح آپ ﷺ کی ساری باتیں سمجھ میں آ جاتی تھیں۔
محمد ﷺ چھوٹی عمر میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔ مجھے محمد ﷺ کو پالنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، کیونکہ آپ ﷺ عام بچوں کی طرح نہ روتے تھے اور نہ ہی ضد کرتے تھے۔جب آپ ﷺ کی عمر شریف دو سال کی ہو گئی تو مجھے دستور کے مطابق آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے پاس لے جانا پڑا۔ میں چاہ کر بھی آپ ﷺ کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تھی۔
چنانچہ میں محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئی اور آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے سپرد کر دیا۔ اتفاق سے مکہ مکرمہ میں وبائی امراض پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو وبائی امراض کے متعلق دلاسا دیا اور محمد ﷺ کو دوبارہ اپنے پاس لانے کا شرف حاصل ہوا۔
آپ ﷺ کے دوبارہ میرے گھر تشریف لانے سے میرے گھر میں پھر سے بہار آ گئی اور آپ ﷺ کی آمد سے میرا گھر دوبارہ خوشیوں سے کھل اٹھا۔ آپ ﷺ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے، مگر خود کبھی کھیل کود میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔ اگر کوئی آپ ﷺ سے کھیلنے کے لیے کہتا تو آپ ﷺ فرماتے: میں کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہوں۔
ایک دن محمد ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے بھائی کہاں جاتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاؤں گا۔
میں نے آپ ﷺ کو منع کرتے ہوئے بہت سمجھایا، لیکن پھر آپ ﷺ بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے۔ ایک دن میرے بچے نے مجھ سے کہا کہ محمد ﷺ بہت ہی مبارک بچے ہیں۔ جب وہ جنگل میں پہنچتے ہیں تو ہر طرف ہرا بھرا معلوم ہوتا ہے، ریت پر آپ ﷺ کے قدم کا نشان نہیں پڑتا اور آپ ﷺ کے سر پر ہر وقت سایہ رہتا ہے۔گھر میں بھی جب محمد ﷺ کے قدمِ مبارک پڑتے تو ہر چیز میں خیر و برکت محسوس ہوتی اور آپ ﷺ کے قدموں کے نشان سے بھی برکت ظاہر ہوتی۔

واقعۂ شقِ صدر

ایک دن جب محمد ﷺ اپنے بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرانے گئے تو شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا۔ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ دو سفید لباس والے لوگ آئے، انہوں نے محمد ﷺ کو لٹا دیا اور ان کا سینہ چاک کر دیا۔ میں انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ آیا ہوں۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا گھبرا گئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچیں تو دیکھا کہ محمد ﷺ تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں محمد ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہوا؟
محمد ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ آئے، انہوں نے مجھے لٹایا، میرا سینہ چاک کیا، اس میں سے کچھ نکالا اور پھر دوسری چیز بھر دی، لیکن مجھے ذرا برابر بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا کہ اب انہیں ہمارے پاس رکھنا مناسب نہیں، بہتر ہے کہ انہیں ان کی والدہ کے سپرد کر دیا جائے۔
چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ساری بات سے آگاہ کیا۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے متعلق پہلے کے تمام واقعات سنائے، جس سے حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو اطمینان حاصل ہوا۔
حضرت محمد ﷺ کی عمر شریف چھ سال تھی کہ آپ ﷺ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو بڑے لاڈ پیار سے پالا۔ پھر آٹھ سال کی عمر شریف میں دادا جان کا بھی سایہ سر سے اٹھ گیا تو آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت فرمائی۔ وہ آپ ﷺ کا ہمہ وقت خیال رکھتے تھے اور ایک لمحے کے لیے بھی آپ ﷺ کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کسی کو دھوکا دیا۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے صدق و امانت اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور آپ ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ بہار

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں

مضمون نگار: Tauqeer Raza Ashrafi

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں
نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ درس آموز ہے۔ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیے کہ آپ ﷺ بچپن ہی سے صابر و شاکر اور عادل تھے۔ نبی کریم ﷺ دیگر بچوں سے منفرد تھے اور دیگر بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے۔ آپ ﷺ کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ دیگر بچوں کی طرح اپنے کپڑوں میں کبھی بول و براز نہیں فرماتے تھے، بلکہ مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کم سنی میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔

ولادتِ باسعادت

نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل کے واقعے کے پچپن دن بعد سرزمینِ عرب میں ۱۲ ربیع الاول، مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ء میں ہوئی۔ آپ ﷺ ابھی مادرِ شکم میں ہی تھے کہ آپ کے والدِ محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔
آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو گود میں لیا، مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے لیے دعا کی، اور آپ ﷺ کو یتیم پیدا ہونے میں بھی حکمت کی بات تھی۔
سرزمینِ عرب کے معزز ترین لوگوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ماں کی گود میں پلنے کے بجائے صحرا کے قبیلوں کی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بچے دیہات کے خوش گوار ماحول میں پرورش پائیں، وہاں کی خالص غذائیں کھا کر ان کے اعضا اور جسم مضبوط ہوں اور وہاں کی فصیح زبان سیکھیں۔
اسی دستور کے مطابق آپ ﷺ کو لینے کے لیے بھی صحرا کی عورتیں آئیں۔ جب ان عورتوں نے جانا کہ یہ بچہ یتیم ہے تو وہ تمام عورتیں آپ ﷺ کو لینے سے انکار کر بیٹھیں، اس لیے کہ انہیں خیال تھا کہ یتیم بچے کے بدلے انہیں مال و دولت بہت زیادہ نہیں مل پائے گا۔
لیکن حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ بنو سعد سے تھیں، انہیں کوئی بچہ نہیں مل سکا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شوہر حضرت حارث بن عبدالعزیٰ سے کہا کہ میں مناسب سمجھتی ہوں کہ خالی ہاتھ لوٹنے سے بہتر ہے کہ اسی یتیم بچے کو لے لوں۔ ان کے شوہر نے اجازت دے دی۔
چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نبی پاک ﷺ کے گھر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سبز ریشمی کپڑے پر لیٹے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو گود میں لے کر گلے سے لگا لیا۔
پھر آپ ﷺ کو گود میں لیتے ہی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی پستان دودھ سے بھر گئی۔ چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اپنے دائیں جانب سے دودھ پلایا، پھر بائیں جانب سے پلانا چاہا، لیکن آپ ﷺ نے بائیں جانب سے کبھی بھی نوش نہ فرمایا، کیونکہ آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے، اس لیے اپنے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن حارث کے لیے وہ حصہ چھوڑ دیا۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری اونٹنی کا دودھ بھی بھر گیا۔ پھر ہم دونوں نے اسے نوش کیا اور رات بھر چین و سکون سے سوئے۔ اس کے بعد جب ہم اپنے قبیلے کے لیے نکلے تو ہماری اونٹنی بہت ہی تیزی سے راستہ طے کرتی ہوئی ہمیں اپنے قبیلے تک لے گئی۔

مبارک بچپن کے واقعات

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں اس مبارک بچے کو اپنے ساتھ لے کر اپنے قبیلے میں آئی تو قحط سالی دور ہو گئی، جانور موٹے تازے ہو گئے اور ان کی برکت سے میری بکریوں کے تھن دودھ سے لبالب ہو گئے۔ میرے گھر میں رحمت و انوار کی کرنیں چھا گئیں۔میرے پڑوسی کہتے تھے کہ اے حلیمہ! رات بھر تمہارا گھر روشن رہتا ہے، کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہ چراغ کی روشنی نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کے چہرۂ مبارک سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتی ہیں اور اسی کی روشنی سے پورا گھر روشن رہتا ہے۔
میرے پڑوسی اور قبیلے کے لوگ بھی کہتے تھے کہ ہمیں بھی ان کی برکت سے فیض یاب کرو۔ چنانچہ میں نے ایک تالاب میں حضرت محمد ﷺ کا قدمِ مبارک داخل کیا اور کہا کہ ہر کوئی اپنے جانوروں کو اسی سے پانی پلا دے۔ پھر سب کی بکریوں میں برکت ہوئی اور میرے پاس سات بکریوں سے سات سو سے زائد بکریاں ہو گئیں اور جانور موٹے تازے بھی ہو گئے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محمد ﷺ دیگر بچوں سے جداگانہ حیثیت رکھتے تھے۔ محمد ﷺ نے اپنے کپڑوں میں کبھی بھی بول و براز نہیں فرمایا، بلکہ اپنے مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہو جاتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کا ستر کھل جاتا تو آپ ﷺ رونے لگتے، پھر ہم لوگ آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیتے تو آپ ﷺ خاموش ہو جاتے۔ اگر ہمیں تاخیر ہو جاتی تو غیب سے آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیا جاتا۔
محمد ﷺ دو ماہ میں گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیے، تین ماہ میں ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے، چار ماہ کی عمر میں کسی چیز کے سہارے چل پھر لیتے، پانچ ماہ میں آپ ﷺ کے اندر چلنے کی مکمل قوت حاصل ہو چکی تھی، سات ماہ میں آپ ﷺ نے بولنا سیکھ لیا تھا اور آٹھ ماہ میں فصیح زبان میں بولنے لگے تھے، اس طرح آپ ﷺ کی ساری باتیں سمجھ میں آ جاتی تھیں۔
محمد ﷺ چھوٹی عمر میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔ مجھے محمد ﷺ کو پالنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، کیونکہ آپ ﷺ عام بچوں کی طرح نہ روتے تھے اور نہ ہی ضد کرتے تھے۔جب آپ ﷺ کی عمر شریف دو سال کی ہو گئی تو مجھے دستور کے مطابق آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے پاس لے جانا پڑا۔ میں چاہ کر بھی آپ ﷺ کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تھی۔
چنانچہ میں محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئی اور آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے سپرد کر دیا۔ اتفاق سے مکہ مکرمہ میں وبائی امراض پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو وبائی امراض کے متعلق دلاسا دیا اور محمد ﷺ کو دوبارہ اپنے پاس لانے کا شرف حاصل ہوا۔
آپ ﷺ کے دوبارہ میرے گھر تشریف لانے سے میرے گھر میں پھر سے بہار آ گئی اور آپ ﷺ کی آمد سے میرا گھر دوبارہ خوشیوں سے کھل اٹھا۔ آپ ﷺ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے، مگر خود کبھی کھیل کود میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔ اگر کوئی آپ ﷺ سے کھیلنے کے لیے کہتا تو آپ ﷺ فرماتے: میں کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہوں۔
ایک دن محمد ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے بھائی کہاں جاتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاؤں گا۔
میں نے آپ ﷺ کو منع کرتے ہوئے بہت سمجھایا، لیکن پھر آپ ﷺ بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے۔ ایک دن میرے بچے نے مجھ سے کہا کہ محمد ﷺ بہت ہی مبارک بچے ہیں۔ جب وہ جنگل میں پہنچتے ہیں تو ہر طرف ہرا بھرا معلوم ہوتا ہے، ریت پر آپ ﷺ کے قدم کا نشان نہیں پڑتا اور آپ ﷺ کے سر پر ہر وقت سایہ رہتا ہے۔گھر میں بھی جب محمد ﷺ کے قدمِ مبارک پڑتے تو ہر چیز میں خیر و برکت محسوس ہوتی اور آپ ﷺ کے قدموں کے نشان سے بھی برکت ظاہر ہوتی۔

واقعۂ شقِ صدر

ایک دن جب محمد ﷺ اپنے بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرانے گئے تو شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا۔ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ دو سفید لباس والے لوگ آئے، انہوں نے محمد ﷺ کو لٹا دیا اور ان کا سینہ چاک کر دیا۔ میں انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ آیا ہوں۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا گھبرا گئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچیں تو دیکھا کہ محمد ﷺ تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں محمد ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہوا؟
محمد ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ آئے، انہوں نے مجھے لٹایا، میرا سینہ چاک کیا، اس میں سے کچھ نکالا اور پھر دوسری چیز بھر دی، لیکن مجھے ذرا برابر بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا کہ اب انہیں ہمارے پاس رکھنا مناسب نہیں، بہتر ہے کہ انہیں ان کی والدہ کے سپرد کر دیا جائے۔
چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ساری بات سے آگاہ کیا۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے متعلق پہلے کے تمام واقعات سنائے، جس سے حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو اطمینان حاصل ہوا۔
حضرت محمد ﷺ کی عمر شریف چھ سال تھی کہ آپ ﷺ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو بڑے لاڈ پیار سے پالا۔ پھر آٹھ سال کی عمر شریف میں دادا جان کا بھی سایہ سر سے اٹھ گیا تو آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت فرمائی۔ وہ آپ ﷺ کا ہمہ وقت خیال رکھتے تھے اور ایک لمحے کے لیے بھی آپ ﷺ کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کسی کو دھوکا دیا۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے صدق و امانت اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور آپ ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ بہار
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Tauqeer Raza Ashrafi

Student - Sabea | Jamiatur Raza
42
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 2
Kalam 0
Tauqeer Raza Ashrafi
زمرہ جات

امتِ مسلمہ کا مقام و عظمت

میلادِ مصطفیٰ ﷺ۔ ذکرِ محبوب ﷺ کا قرآنی اسلوب

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢