رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
✍️ Mufti Jasim Akram Markazi
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی
"حسب روایت عرس عارفی (2011) کے موقع پر بڑی درگاہ پر غسل سے پہلے محفل سماع منعقد کی گئی اس میں باہر سے آیا ہوا قوال جس کا تعلق خیرآباد شریف (سے) تھا حضرت بیدم شاہ وارثی کا یہ کلام پڑھ رہا تھا ۔
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
سننے کے با وجود محفل میں ابو میاں خاموش رہے اور قوال گنگناتے رہے بلکہ یوں کہیے کہ رقص و سرور کی محفل جمی رہی اور متصوفانہ انداز میں یہ حضرات لطف اندوز ہوتے رہے
لیکن بعض اہل حق، حق پسند، حق شناس، حق آگاہ، حق کے متلاشی کو ابو میاں کی یہ ادا پسند نہ آئی اور وہ اپنے دار العلوم کی طرف رواں دواں ہو گئے ،
ایک قدم آگے بڑھ کر موصوف نے سینۂ قرطاس پر یہ الزام بھی ارقام کیا :
ہماری محفل رقص و سرور کے مالہ و ما علیہ کو دیکھ کر متلاشیان حق کی دینی حمیت ایسی بھڑک اٹھی کہ انھوں نے ہمارے نازک سینے پر بغیر تحقیق و تفتیش کے ضلالت و گمرہی کے گولے داغے اور سینے چاک چاک کر دیے ،
آئیے پھر ایک بار فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اس الزام بلا دلیل باطل و ذلیل کی سر کوبی کرتے ہوئے سینۂ فتنۂ سراویہ پر گولے داغ کر چاک چاک کیے دیتے ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ پہلے جو گولے داغے گئے تھے وہ بلا تحقیق و تفتیش بے محل نہیں بلکہ بالتحقیق و التفتیش بر محل تھے،
مسئلہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
الجواب:
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو اللہ ہی جانتا ہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا لفظ بولنا جائز نہیں رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المعنی، و اللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٨ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
کیا اس کا ظاہر صریح کفر نہیں ؟
کیا اس کے ظاہر پر اعتقاد رکھنے والا قطعا کفر نہیں؟
کیا معنئ احتمالی مراد لینے پر بھی اسے پڑھنا محفل میں حرام قرار نہیں دیا جائے گا؟
موصوف نے کہا :
جو حضرات محفل سے خانۂ اذہان میں خلجان لیے ہوئے چلے گئے انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو میاں سے اس معاملے کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا ،
موصوف نے تو ایک رخ پر عنانِ قلم کو خوب حرکت دی لیکن دوسرے رخ کی طرف خامہ فرسائی سے کیونکر دست بردار ہو گئے
انصاف کا تقاضا تو یہ بھی تھا کہ جس وقت قوال نے یہ شعر پڑھا ابو میاں بر جستہ اسے پڑھنے سے روک دیتے اور کہتے ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے محفل میں ہر طرح کے لوگ بیٹھتے ہیں پتہ نہیں کس کے دل میں کیا گزرے گا؟
اس کا ظاہری معنی کفر و ارتداد پر مشتمل ہے اسے بند کرو اور توبہ کرو آخر ان باتوں سے کیوں خاموش رہے ؟
ایسی صریح غلطی پر موصوف کے داعی اسلام کو لب کشائی کرنے سے کس چیز نے روک دیا ؟
کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ محفل کو ممنوعات و منھیات سے پاک و صاف رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے؟
یا اعمی فی الارادت میں اس شق کو فراموش کر گئے؟
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
(جسیم اکرم)
" تقریباً دو سال کے بعد (2013) بنارس میں ایک سیمینار ہوا جس میں ملک کے مختلف مدارس کے علماء تشریف لائے جس میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ میں سے مولانا مجیب الرحمٰن صاحب اور مولانا محمد ذیشان احمد مصباحی بھی تشریف لے گئے، اس مجلس میں محترم مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے حضرت بیدم شاہ وارثی کے اس کلام کو سامنے رکھتے ہوئے علماء سے سوال کیا کہ اس میں کیا قباحت ہے؟
لوگوں کو پریشانی تو ہمارے مسلمان ہونے میں بھی ہے ہمارے کلمہ پڑھنے پر بھی ہے تو کیا کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟
واقعی یہ پروفیسرانہ اعتراض ذیشان مصباحی اور دگر اساتذۂ عارفیہ کے سامنے جو پیش کیا گیا کمال کا ہے
پروفیسر صاحب سے پوچھا جائے کیا ایسے اشعار کو پڑھنے سے فقہا نے منع نہیں فرمایا جن سے عوام کا ذہن خلفشار کا شکار ہو جائے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کے نظم یا نثر پڑھتے ہیں
(اس کے بعد چھ سوالات اور ہیں جن کو بخوف طوالت نقل نہیں کیا ہوں میرا مستدل یہی سوال ہے اسی لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں ما بقی کے لیے اصل کتاب کی طرف مراجعت فرمائیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا ایسے مضامین کا پڑھنا اور سننا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے ؟
١) اگر آیا کی ضمیر حضرت عز جلالہ کہ طرف ہے تو بے شک عوام کا ایسا بکنا صریح کلمۂ کفر ہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تو حضور بے شک احد و احمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے ، اگر میم کہ طوق و کمر پرستش ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے، پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق توجیہ کی طرف نہ جائے گا اور ان کے فساد کا عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں،
ایاک و ما یتعذر منہ فان الخیر لا یتعذر منہ
{المستدرک للحاکم کتاب الرقاق دار الفکر بیروت ٤/٣٢٧ }
ترجمہ :
ہر اس شئ سے بچو جس میں معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی
دوسری حدیث میں ہے
ایاک و ما یسوء الاذن {مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابو العادیہ دار الفکر بیروت ٤/٧٦}
ترجمہ: ہر اس شی سے بچو جسے کان برا جانیں
تیسری حدیث میں ہے
حدثوا الناس بما یعرفون {کنز العمال حدیث نمبر ٢٩٣١٨ موسسة الرسالة بيروت ١٠/ ٢٤٧}
ترجمہ: لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لیے معروف ہے ،
ما انت بمحدث قوم حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ {صحیح مسلم باب النھی عنہ الروایہ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کرانچی ٩/١}
ترجمہ : جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تک ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فتنہ کا سبب بنے گا ،
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٦ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
حاشا للہ ہر گز نہیں بلکہ یہ اپنی بات منوانے کے لیے سامنے والے کو وقتی طور چپ تو کرا سکتے ہیں لیکن حق کو دبا نہیں سکتے حق تو سر چڑھ کر بولتا ہے
کہیں حق بات کہنے سے پشیمانی نہیں ہوتی
سب کو سننے دیکھنے کے بعد
حضرت مفتی عبید الرحمان رشیدی مصباحی صاحب قبلہ نے جو جواب دیا وہ قابل غور بھی ہے قابل توجہ بھی ہے قابل ذکر بھی ہے اور زندگی بھر یاد رکھنے اور سبق حاصل کرنے کے قابل بھی، آپ نے فرمایا کہ
جن کو یہ شعر سمجھ میں نہیں آ رہا ہے یا اعتراض کر رہے ہیں وہ مجھے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ سمجھا دیں :
ھوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ (سورة الحديد ٣) وہی اول ہے اور وہی آخر ، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہی ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے ۔
اول سمجھ میں آتا ہے آخر سمجھ میں آتا ہے باطن سمجھ میں آتا ہے لیکن اللہ ظاہر کہاں ہے ؟ سمجھاؤ مجھکو ذرا ! چلو ٹھیک ہے !
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے
نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ
محترم قارئین کرام آپ مذکورہ بالا سطور مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے حوالے سے پڑھ کر سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اگر نہیں سمجھیں ہیں تو دو بارہ پڑھ لیجیے
مفتی صاحب قبلہ آیت کریمہ میں الظاہر کے بارے میں فرما رہے مجھے سمجھاؤ ذرا۔
تفسیر جلالین میں ہے
و الظاہر (بالادلۃ علیہ)
یعنی : ظاہر سے مراد یہ کہ اللہ جل و علا دلائل و براہین کے ذریعہ ایسا ظاہر ہے کہ ذرے ذرے پر اس کے وجود پر دلالت کرنے والے دلائل موجود ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ظاہر ہونے کے معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے
اور اگر سوال یہ ہے کہ اللہ جل و علا ظاہر ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اللہ جل و علا کو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا جس پر کثیر احادیث دال ہیں اگر اللہ جل و علا ظاہر نہ ہوتا تو پھر حضور کو زیارت کیسے ہوتی؟
اور ان شاءاللہ تعالیٰ تمام مومنین جنت میں اللہ جل و کو دیکھیں گے ،
نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
اس مصرع کے بارے میں مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا :
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے اور حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ،
اب شعر کا مطلب یہ ہوگا
کہ جس نے چاند کے دو ٹکڑے کیے وہ نور وحدت کا پیارا ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
معترض اس توضیح پر یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ جب حضور اعلی حضرت کے شعر مذکور میں ٹکڑا کا معنی پیارا کر کے شعر کے صحیح معنی و مفاہیم کو بیان کیا گیا اسی طرح زیر بحث شعر میں زیر بحث مصرع یعنی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
میں خدا کا معنی آقا کر لیا جائے اور یہیں سے مسئلہ کا تصفیہ کر لیا جائے؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا
کہ زیر بحث میں مصرع میں جو لفظ خدا ہے تو آیا یہ کہ
کیا عرف میں لفظ خدا آقا کے معنی میں مستعمل ہے ؟
کیا کبھی آپ عام بول چال یعنی عرف میں اپنے باپ کو خدا کہتے ہیں جس طرح اپنے بیٹے کو جگر کا ٹکڑا کہتے ہیں؟
کیا عرف میں میں لفظ خدا سننے کے بعد سوائے خدا کے کسی اور طرف ذہن و دماغ متبادر ہوتا ہے ؟
جب ان دونوں شعر میں اتنا بڑا فرق ہے تو کیونکر دونوں کو ایک ہی حکم میں شامل کیا جائے گا ؟
اب میری بات سنو !
رہی بات سید سراواں کی تو نہ یہ شعر سید سراواں سے جڑا ہوا کسی فرد کا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا قوال سید سراواں کا ہے ، یہ شعر بیدم شاہ وارثی صاحب کا ہے اور پڑھنے والا قوال خیرآباد کا ہے۔ لیکن سید سراواں میں صرف ایک بار پڑھا گیا تھا۔
ہاں! ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ
جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
البتہ یہ واضح رہے کہ اس کا جواب ابھی دیا جا چکا ہے کہ اس شعر میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔
وہ یوں کہ لفظ خدا فارسی ہے اور فارسی زبان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے بندہ کو معلوم ہے کہ خدا فارسی میں آقا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
تو اس شعر
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کا مطلب یہ ہوگا کہ
یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و سلم
آپ اللہ کے بندے اور مخلوق خدا کے آقا ہیں
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے"
اس میں تو پہلے یہ کہا گیا کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے
پہلے تو یہ ثابت ہو کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے کیا یہ شعر کلیات بیدم شاہ وارثی میں اگر ہے تو ھاتوا برھانکم
ڈھونڈھ لیجیے پوری کلیات بیدم ڈھونڈتے ڈھونڈتے بے دم تو ہو جائیں گے لیکن سراوی کو مجال دم زدنی نہیں ہوگا
اور اس جواب میں فرمایا :
وہ اس لیے کہ اس شعر میں شرعی کوئی قباحت نہیں
لیکن افسوس مفتی صاحب قبلہ کو اس کے اندر کچھ قباحت بھی نظر نہیں آئی اس پر مزید جرأت یہ کہ اس میں دلیل بھی پیش کی لفظ خدا فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی آقا بھی ہوتا ہے لہذا یہاں آقا کے معنی میں ہے
خدا خیر فرمائے
نبراس میں ہے
واذا ورد الشرع باطلاق اسم بلغۃ کلفظ الله فھو اذن باطلاق مایرادفہ من تلک اللغۃ کالواجب والقدیم او من لغۃ اخری کاسم خدا بالفارسیۃ
(النبراس للعلامۃ محمد عبدالعزیز الفرھاری ص ۲۴۸)
اس عبارت میں علامہ سعد الدین تفتازانی کی متن پر علامہ عبد العزیز فرھاری نے صراحت فرمائی ہے کہ لفظ اللہ اور خدا مترادف ہیں،فرق بس یہ ہےکہ اللہ عربی زبان کا لفظ ہے اور خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔
شرح عقائد کی شرح النبراس کی صراحت کے مطابق اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مطلقاً لفظ خدا لفظ اللہ کا مترادف ہے،
(ماخوذ از تحریر ڈاکٹر اختر مصباحی)
کہاں امام کا شعر جس کو پڑھنے کے بعد انسان کا ایمان تازہ ہو جائے اور کہاں وہ شعر کہ جس کے پڑھنے سے انسان کو ایمان کے لالے پڑ جائے
ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ اصولی ایمان و عقیدہ کے حوالے سے جاہلانہ رقص و سرور کے محافل نہ سجائیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تحقیق کے دینی شرعی تقاضے پورا کریں پھر زبان و قلم سے کوئی خدمت لیں کیونکہ آپ لوگ اپنے ایمان و عمل سے کسی کو مومن اور مسلمان نہیں بنا سکتے تو کسی مومن اور مسلمان کو رقص و سرور کی محفلیں سجا کر بظاہر کفری اشعار بھی نہ سنائیں اور آپ کی مومنانہ غیرت زندہ ہے تو خود بھی یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ بہر حال آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ عوام کو شش و پنج میں ڈال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیں
آپ حضرات سوشل میڈیا میں دجالی مرگھٹ بنا کر مومنوں اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے مضحکہ خیز جنازے نہ نکالیں کیونکہ اسے دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے آستیں میں پلنے والے کس قدر فرصت میں ہیں کہ وہ سب کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے اور اس کے لئے بالکل بھی ان کے پاس فرصت نہیں جو بہر حال کرنا چاہیے تو کیا آپ کو اس افراط و تفریط کا حساب و کتاب نہیں دینا ہوگا؟
میں نہ کہتا تھا کہ صحبت دیو کی اچھی نہیں
jamiaturrazastudents.com
رہنے دیجیے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں
نوٹ__اعمی فی الارادت پیری مریدی میں اندھے شخص کو کہا جاتا ہے
رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی
"حسب روایت عرس عارفی (2011) کے موقع پر بڑی درگاہ پر غسل سے پہلے محفل سماع منعقد کی گئی اس میں باہر سے آیا ہوا قوال جس کا تعلق خیرآباد شریف (سے) تھا حضرت بیدم شاہ وارثی کا یہ کلام پڑھ رہا تھا ۔
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
سننے کے با وجود محفل میں ابو میاں خاموش رہے اور قوال گنگناتے رہے بلکہ یوں کہیے کہ رقص و سرور کی محفل جمی رہی اور متصوفانہ انداز میں یہ حضرات لطف اندوز ہوتے رہے
لیکن بعض اہل حق، حق پسند، حق شناس، حق آگاہ، حق کے متلاشی کو ابو میاں کی یہ ادا پسند نہ آئی اور وہ اپنے دار العلوم کی طرف رواں دواں ہو گئے ،
ایک قدم آگے بڑھ کر موصوف نے سینۂ قرطاس پر یہ الزام بھی ارقام کیا :
ہماری محفل رقص و سرور کے مالہ و ما علیہ کو دیکھ کر متلاشیان حق کی دینی حمیت ایسی بھڑک اٹھی کہ انھوں نے ہمارے نازک سینے پر بغیر تحقیق و تفتیش کے ضلالت و گمرہی کے گولے داغے اور سینے چاک چاک کر دیے ،
آئیے پھر ایک بار فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اس الزام بلا دلیل باطل و ذلیل کی سر کوبی کرتے ہوئے سینۂ فتنۂ سراویہ پر گولے داغ کر چاک چاک کیے دیتے ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ پہلے جو گولے داغے گئے تھے وہ بلا تحقیق و تفتیش بے محل نہیں بلکہ بالتحقیق و التفتیش بر محل تھے،
مسئلہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
الجواب:
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو اللہ ہی جانتا ہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا لفظ بولنا جائز نہیں رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المعنی، و اللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٨ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
کیا اس کا ظاہر صریح کفر نہیں ؟
کیا اس کے ظاہر پر اعتقاد رکھنے والا قطعا کفر نہیں؟
کیا معنئ احتمالی مراد لینے پر بھی اسے پڑھنا محفل میں حرام قرار نہیں دیا جائے گا؟
موصوف نے کہا :
جو حضرات محفل سے خانۂ اذہان میں خلجان لیے ہوئے چلے گئے انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو میاں سے اس معاملے کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا ،
موصوف نے تو ایک رخ پر عنانِ قلم کو خوب حرکت دی لیکن دوسرے رخ کی طرف خامہ فرسائی سے کیونکر دست بردار ہو گئے
انصاف کا تقاضا تو یہ بھی تھا کہ جس وقت قوال نے یہ شعر پڑھا ابو میاں بر جستہ اسے پڑھنے سے روک دیتے اور کہتے ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے محفل میں ہر طرح کے لوگ بیٹھتے ہیں پتہ نہیں کس کے دل میں کیا گزرے گا؟
اس کا ظاہری معنی کفر و ارتداد پر مشتمل ہے اسے بند کرو اور توبہ کرو آخر ان باتوں سے کیوں خاموش رہے ؟
ایسی صریح غلطی پر موصوف کے داعی اسلام کو لب کشائی کرنے سے کس چیز نے روک دیا ؟
کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ محفل کو ممنوعات و منھیات سے پاک و صاف رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے؟
یا اعمی فی الارادت میں اس شق کو فراموش کر گئے؟
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
(جسیم اکرم)
" تقریباً دو سال کے بعد (2013) بنارس میں ایک سیمینار ہوا جس میں ملک کے مختلف مدارس کے علماء تشریف لائے جس میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ میں سے مولانا مجیب الرحمٰن صاحب اور مولانا محمد ذیشان احمد مصباحی بھی تشریف لے گئے، اس مجلس میں محترم مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے حضرت بیدم شاہ وارثی کے اس کلام کو سامنے رکھتے ہوئے علماء سے سوال کیا کہ اس میں کیا قباحت ہے؟
لوگوں کو پریشانی تو ہمارے مسلمان ہونے میں بھی ہے ہمارے کلمہ پڑھنے پر بھی ہے تو کیا کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟
واقعی یہ پروفیسرانہ اعتراض ذیشان مصباحی اور دگر اساتذۂ عارفیہ کے سامنے جو پیش کیا گیا کمال کا ہے
پروفیسر صاحب سے پوچھا جائے کیا ایسے اشعار کو پڑھنے سے فقہا نے منع نہیں فرمایا جن سے عوام کا ذہن خلفشار کا شکار ہو جائے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کے نظم یا نثر پڑھتے ہیں
(اس کے بعد چھ سوالات اور ہیں جن کو بخوف طوالت نقل نہیں کیا ہوں میرا مستدل یہی سوال ہے اسی لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں ما بقی کے لیے اصل کتاب کی طرف مراجعت فرمائیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا ایسے مضامین کا پڑھنا اور سننا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے ؟
١) اگر آیا کی ضمیر حضرت عز جلالہ کہ طرف ہے تو بے شک عوام کا ایسا بکنا صریح کلمۂ کفر ہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تو حضور بے شک احد و احمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے ، اگر میم کہ طوق و کمر پرستش ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے، پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق توجیہ کی طرف نہ جائے گا اور ان کے فساد کا عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں،
ایاک و ما یتعذر منہ فان الخیر لا یتعذر منہ
{المستدرک للحاکم کتاب الرقاق دار الفکر بیروت ٤/٣٢٧ }
ترجمہ :
ہر اس شئ سے بچو جس میں معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی
دوسری حدیث میں ہے
ایاک و ما یسوء الاذن {مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابو العادیہ دار الفکر بیروت ٤/٧٦}
ترجمہ: ہر اس شی سے بچو جسے کان برا جانیں
تیسری حدیث میں ہے
حدثوا الناس بما یعرفون {کنز العمال حدیث نمبر ٢٩٣١٨ موسسة الرسالة بيروت ١٠/ ٢٤٧}
ترجمہ: لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لیے معروف ہے ،
ما انت بمحدث قوم حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ {صحیح مسلم باب النھی عنہ الروایہ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کرانچی ٩/١}
ترجمہ : جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تک ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فتنہ کا سبب بنے گا ،
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٦ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
حاشا للہ ہر گز نہیں بلکہ یہ اپنی بات منوانے کے لیے سامنے والے کو وقتی طور چپ تو کرا سکتے ہیں لیکن حق کو دبا نہیں سکتے حق تو سر چڑھ کر بولتا ہے
کہیں حق بات کہنے سے پشیمانی نہیں ہوتی
سب کو سننے دیکھنے کے بعد
حضرت مفتی عبید الرحمان رشیدی مصباحی صاحب قبلہ نے جو جواب دیا وہ قابل غور بھی ہے قابل توجہ بھی ہے قابل ذکر بھی ہے اور زندگی بھر یاد رکھنے اور سبق حاصل کرنے کے قابل بھی، آپ نے فرمایا کہ
جن کو یہ شعر سمجھ میں نہیں آ رہا ہے یا اعتراض کر رہے ہیں وہ مجھے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ سمجھا دیں :
ھوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ (سورة الحديد ٣) وہی اول ہے اور وہی آخر ، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہی ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے ۔
اول سمجھ میں آتا ہے آخر سمجھ میں آتا ہے باطن سمجھ میں آتا ہے لیکن اللہ ظاہر کہاں ہے ؟ سمجھاؤ مجھکو ذرا ! چلو ٹھیک ہے !
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے
نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ
محترم قارئین کرام آپ مذکورہ بالا سطور مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے حوالے سے پڑھ کر سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اگر نہیں سمجھیں ہیں تو دو بارہ پڑھ لیجیے
مفتی صاحب قبلہ آیت کریمہ میں الظاہر کے بارے میں فرما رہے مجھے سمجھاؤ ذرا۔
تفسیر جلالین میں ہے
و الظاہر (بالادلۃ علیہ)
یعنی : ظاہر سے مراد یہ کہ اللہ جل و علا دلائل و براہین کے ذریعہ ایسا ظاہر ہے کہ ذرے ذرے پر اس کے وجود پر دلالت کرنے والے دلائل موجود ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ظاہر ہونے کے معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے
اور اگر سوال یہ ہے کہ اللہ جل و علا ظاہر ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اللہ جل و علا کو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا جس پر کثیر احادیث دال ہیں اگر اللہ جل و علا ظاہر نہ ہوتا تو پھر حضور کو زیارت کیسے ہوتی؟
اور ان شاءاللہ تعالیٰ تمام مومنین جنت میں اللہ جل و کو دیکھیں گے ،
نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
اس مصرع کے بارے میں مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا :
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے اور حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ،
اب شعر کا مطلب یہ ہوگا
کہ جس نے چاند کے دو ٹکڑے کیے وہ نور وحدت کا پیارا ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
معترض اس توضیح پر یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ جب حضور اعلی حضرت کے شعر مذکور میں ٹکڑا کا معنی پیارا کر کے شعر کے صحیح معنی و مفاہیم کو بیان کیا گیا اسی طرح زیر بحث شعر میں زیر بحث مصرع یعنی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
میں خدا کا معنی آقا کر لیا جائے اور یہیں سے مسئلہ کا تصفیہ کر لیا جائے؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا
کہ زیر بحث میں مصرع میں جو لفظ خدا ہے تو آیا یہ کہ
کیا عرف میں لفظ خدا آقا کے معنی میں مستعمل ہے ؟
کیا کبھی آپ عام بول چال یعنی عرف میں اپنے باپ کو خدا کہتے ہیں جس طرح اپنے بیٹے کو جگر کا ٹکڑا کہتے ہیں؟
کیا عرف میں میں لفظ خدا سننے کے بعد سوائے خدا کے کسی اور طرف ذہن و دماغ متبادر ہوتا ہے ؟
جب ان دونوں شعر میں اتنا بڑا فرق ہے تو کیونکر دونوں کو ایک ہی حکم میں شامل کیا جائے گا ؟
اب میری بات سنو !
رہی بات سید سراواں کی تو نہ یہ شعر سید سراواں سے جڑا ہوا کسی فرد کا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا قوال سید سراواں کا ہے ، یہ شعر بیدم شاہ وارثی صاحب کا ہے اور پڑھنے والا قوال خیرآباد کا ہے۔ لیکن سید سراواں میں صرف ایک بار پڑھا گیا تھا۔
ہاں! ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ
جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
البتہ یہ واضح رہے کہ اس کا جواب ابھی دیا جا چکا ہے کہ اس شعر میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔
وہ یوں کہ لفظ خدا فارسی ہے اور فارسی زبان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے بندہ کو معلوم ہے کہ خدا فارسی میں آقا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
تو اس شعر
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کا مطلب یہ ہوگا کہ
یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و سلم
آپ اللہ کے بندے اور مخلوق خدا کے آقا ہیں
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے"
اس میں تو پہلے یہ کہا گیا کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے
پہلے تو یہ ثابت ہو کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے کیا یہ شعر کلیات بیدم شاہ وارثی میں اگر ہے تو ھاتوا برھانکم
ڈھونڈھ لیجیے پوری کلیات بیدم ڈھونڈتے ڈھونڈتے بے دم تو ہو جائیں گے لیکن سراوی کو مجال دم زدنی نہیں ہوگا
اور اس جواب میں فرمایا :
وہ اس لیے کہ اس شعر میں شرعی کوئی قباحت نہیں
لیکن افسوس مفتی صاحب قبلہ کو اس کے اندر کچھ قباحت بھی نظر نہیں آئی اس پر مزید جرأت یہ کہ اس میں دلیل بھی پیش کی لفظ خدا فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی آقا بھی ہوتا ہے لہذا یہاں آقا کے معنی میں ہے
خدا خیر فرمائے
نبراس میں ہے
واذا ورد الشرع باطلاق اسم بلغۃ کلفظ الله فھو اذن باطلاق مایرادفہ من تلک اللغۃ کالواجب والقدیم او من لغۃ اخری کاسم خدا بالفارسیۃ
(النبراس للعلامۃ محمد عبدالعزیز الفرھاری ص ۲۴۸)
اس عبارت میں علامہ سعد الدین تفتازانی کی متن پر علامہ عبد العزیز فرھاری نے صراحت فرمائی ہے کہ لفظ اللہ اور خدا مترادف ہیں،فرق بس یہ ہےکہ اللہ عربی زبان کا لفظ ہے اور خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔
شرح عقائد کی شرح النبراس کی صراحت کے مطابق اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مطلقاً لفظ خدا لفظ اللہ کا مترادف ہے،
(ماخوذ از تحریر ڈاکٹر اختر مصباحی)
کہاں امام کا شعر جس کو پڑھنے کے بعد انسان کا ایمان تازہ ہو جائے اور کہاں وہ شعر کہ جس کے پڑھنے سے انسان کو ایمان کے لالے پڑ جائے
ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ اصولی ایمان و عقیدہ کے حوالے سے جاہلانہ رقص و سرور کے محافل نہ سجائیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تحقیق کے دینی شرعی تقاضے پورا کریں پھر زبان و قلم سے کوئی خدمت لیں کیونکہ آپ لوگ اپنے ایمان و عمل سے کسی کو مومن اور مسلمان نہیں بنا سکتے تو کسی مومن اور مسلمان کو رقص و سرور کی محفلیں سجا کر بظاہر کفری اشعار بھی نہ سنائیں اور آپ کی مومنانہ غیرت زندہ ہے تو خود بھی یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ بہر حال آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ عوام کو شش و پنج میں ڈال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیں
آپ حضرات سوشل میڈیا میں دجالی مرگھٹ بنا کر مومنوں اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے مضحکہ خیز جنازے نہ نکالیں کیونکہ اسے دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے آستیں میں پلنے والے کس قدر فرصت میں ہیں کہ وہ سب کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے اور اس کے لئے بالکل بھی ان کے پاس فرصت نہیں جو بہر حال کرنا چاہیے تو کیا آپ کو اس افراط و تفریط کا حساب و کتاب نہیں دینا ہوگا؟
میں نہ کہتا تھا کہ صحبت دیو کی اچھی نہیں
jamiaturrazastudents.com
رہنے دیجیے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں
نوٹ__اعمی فی الارادت پیری مریدی میں اندھے شخص کو کہا جاتا ہے
- 1 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]
- 2 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]
- 3 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]
- 4 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]
- 5 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]
- 6 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط دوم]
- 7 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
- 8 خائن کی حقیقت کا انکشاف
- 9 کوہِ طور کا یادگار سفر
- 10 _______کون حضور رئیس العلماء؟_______
- 11 ______کون حضور رئیس الحفاظ؟______
- 12 شیخ جامعۃ الرضا سے ملاقات
- 13 بیان و بدیع کی اہمیت پر حضرت شمس بریلوی لکھتے ہیں
- 14 استاد مکرم مفتی صاحب سے ملاقات
- 15 اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت
- 16 لنگر اور کتاب
- 17 عرس کی آڑ میں شکم پروری
- 18 کیا قوم مَلِک سید ہے؟
- 19 تعلیم یافتہ کتا
- 20 کشور دل پر کڑکتی بجلی
- 21 کائنات حسن
- 22 مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ
- 23 درد درون دل
- 24 استاذنا المکرم خلیفۂ تاج شریعت پیکر خلوص و محبت حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد شاعر رضا رضوی دارجلنگوی حفظہ اللہ القوی کی کتاب مستنیر
- 25 رد مولائیت
- 26 کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______
- 27 فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں
- 28 بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
- 29 گلابی وہابی مولانا عبد القیوم مجیںی (بڑے مولانا صاحب) کی حقیقت
- 30 منطقی اور فقیہ کا دلچسپ لطیفہ
- 31 حضور غوث الاعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں
- 32 ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا [اعتراض اور اس کا جواب]
- 33 جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین
- 34 بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں
- 35 عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
- 36 حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ
- 37 رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
- 38 ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
- 39 آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
- 40 نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
- 41 فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
- 42 اشک فشاں گفت و شنید
- 43 تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں
- 44 اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات
- 45 سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی
- 46 سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
- 47 ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
- 48 نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد – اسباب و علاج
- 49 حب الوطن من الایمان
- 50 رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
- 51 بول بالے مری سرکاروں کے
- 52 زندوں کی قدر
- 53 یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی
- 54 یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار
- 55 کتاب بہترین ہمنشیں ہے
- 56 یاد ساحل میں سفر شہسرام
- 57 فخر اہل سنت ایوارڈ و ناموس صحابہ و اہل بیت ایوارڈ
- 58 یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
- 59 تمرن مناظرہ کی ایک جھلک______
- 60 تاج الشریعہ ایوارڈ بخدمت علامہ شہزاد
- 61 استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
- 62 تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات
- 63 حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
- 64 عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
- 65 امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
- 66 اسلامی خواتین میں بڑھتا ارتداد اور اس کا علاج
- 67 انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
- 68 موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
- 69 بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
- 70 بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
- 71 توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ
- 72 ناموس رسالت جان ایمان ہے
- 73 رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ
- 74 شامِ جدائی آ گئی ٹوٹ گئے سبوئے جام جامعۃ الرضا سلام جامعۃ الرضا سلام
- کوئی کلام شائع نہیں ہوا۔
حب الوطن من الایمان
حب الوطن من الایمان فتاوی رضویہ شریف میں حضور اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے علمائے محدثین کے حوالے سے فرمایا کہ یہ حدیث نہیں ہے اور نہ اس کے یہ معنی ہے جو عام...
بول بالے مری سرکاروں کے
بول بالے مری سرکاروں کے بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٦ جولائی ٢٠٢٤ء کی صبح قسمت کا ستارہ چمکا الفت، محبت ، وارفتگی نے انگڑائی لی کانوں میں صدائے دلنواز گونجی غور کیا تو...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 29

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔
Explore Top Platform Insights & Outstanding Creators
All Authors
Explore the complete directory of our talented scholars and writers.
Top Authors
Learn about famous scholars, writers, and highly active personalities.
All Articles
Read the newest research, articles, and comprehensive scholarly publications.
Featured Articles
Discover the most read and trending topics actively engaging the community.
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













زاد راہ علم
مؤلف: مولانا محمد جاوید رضا مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us