صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار
احوال وطن

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
تا ریخ: 15/08/2024
یوم آزادی ہندوستان ہر سال 15 اگست کو آزادی کے دن کی نسبت سے منا یا جاتا ہے ، یہ وہ دن ہے جب 1947 ء میں انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد ہو کر ، ملک ہندوستان میں نئی بہار آئی ۔ غلامیت کی زنجیریں ٹوٹ گئیں کشت در کشت لہلہا اٹھی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع میسر ہوا
تاریخ ہند سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص بخوبی جانتا ہے، کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں ، علمائے اہل سنت اور مشایخ طریقت کا نہایت ہی اہم کردار رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کہ شمالی ہند میں انگریزوں کے خلاف مسلم رائے ہموار کرنے ، اور پورے خطے میں انقلاب برپا کرنے کا بنیادی سہرا، انہی قائدین و بزرگان دین کے سر جاتا ہے۔

ان مجاہدین میں

مولانا امام بخش صہبائی دہلوی (م۱۲۷۳ھ/1857ء)،
مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)،
مولانا تاج الدین مراد آبادی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)،
مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند بطل حریت، علامہ مفتی فضل حق خیر آبادی شہید (م۱۲۷۸ھ/1861ء)،
مفتی عنایت احمد کاکوروی (م ۱۲۷۹ھ / 1863ء)، مفتی صدر الدین خاں آزردہ دہلوی (م ۱۲۸۵ھ/1868ء)،
امام العلما مولانا رضا علی خان بریلوی (اعلیٰ حضرت کے دادا) (م۱۲۸۶ھ/1869ء)،
مولانا ڈاکٹر وزیر خان اکبر آبادی (م ۱۲۸۹ھ / 1873ء)،
رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خان بریلوی (م ۱۲۹۷ھ / 1880ء)،
مولانا رحمت اللہ کیرانوی (م ۱۳۰۸ھ/1891ء)،
حکیم سعید اللہ قادری (م ۱۳۲۵ھ/1909ء) وغیرہم

، ان نفوس قدسیہ کے انقلابی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، اور شہید جنگ آزادی حضرت مولانا مفتی سید کفایت علی کافی مراد آبادی علیہ الرحمہ کا نام تو اس فہرست میں بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔
رئیس المتکلمین حضرت علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ ( والد اعلیٰ حضرت) کو ملک میں انگریز اقتدار سے شدید نفرت تھی، آپ نے تا حین حیات انگریزوں کی سخت مخالفت کی، اور انگریزی اقتدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ وطن عزیز کو انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد کرانے کے لیے ، آپ نے زبردست قلمی ولسانی جہادی خدمات انجام دیں،
اس بارے میں چندہ شاہ حسینی لکھتے ہیں:
مولانا رضا علی خاں انگریزوں کے خلاف، لسانی و قلمی جہاد میں مشہور ہو چکے تھے ، انگریز مولانا کی علمی وجاہت و دبدبہ سے بہت گھبراتا تھا، آپ کے صاحبزادے مولانا نقی علی خاں بھی انگریزوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مولانا نقی علی خاں کا ہند کے علماء میں ، بہت اونچا مقام تھا، انگریزوں کے خلاف آپ کی عظیم قربانیاں ہیں ۔
ملک سے انگریزوں کو باہر نکالنے کے لیے ، علماء ہند نے ایک جہاد کمیٹی بنائی، انگریزوں کے خلاف عملاً جہاد کا آغاز کرنے کے لیے ، جہاد کمیٹی نے جہاد کا فتوی صادر کیا، اس جہاد کمیٹی میں امام العلماء مولانا رضا علی خاں، علامہ فضل حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا احمد اللہ شاہ، مولانا سید احمد بدایونی ثم بریلوی، جنرل بخت خاں وغیرہم کے اسمائے گرامی ، خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
حضرت مولانا نقی علی خاں انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے پہنچایا کرتے۔ آپ نے اپنی انگریز مخالف تقاریر سے ، مسلمانوں میں جہاد کا جوش و ولولہ پیدا کیا، ان کے دلوں میں جہاد اہمیت کو اجاگر کیا بریلی کا جہاد کامیاب ہوا، انگریزوں کو مسلمانوں نے شکست دی، اور ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔
انگریز کی آمد اور برصغیر پر اس کے مکمل قبضہ کے بعد، وقت کے تقاضے نے علماء و مشایخ کو، مسند دعوت وارشاد سے اٹھا کر، رسم شبیری ادا کرنے کے لیے، میدان عمل میں اترنے پر مجبور کر دیا۔ 1857ء کے معرکہ کار زار میں، مذکورہ بالا علماء و مشایخ اہل سنت نے تحریک آزادی کی شمع روشن کی۔
ایک انگریز لکھتا ہےکہ دہلی کے دروازے سے پشاور تک، گرینڈ ٹرنک روڈ کے دونوں طرف شاید کوئی ایسا درخت رہا ہو جس پر علماء کرام کی نعشیں نہ ہوں تقریباً بائیس ہزار علماء کرام کو جام شہادت پلا دیا اور تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کو پھانسی دی گئیں۔
علامہ کفایت علی مراد آبادی رضی اللہ عنہ کو جب تخت دار پر لے جایا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہیں گے تو آپ نے فرمایا
کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا
اطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پر خا کی کفن رہ جائے گا
ہم سفیر و باغ میں ہیں کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر دورود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جا ئیں گے کافی وہ لیکن حشر تک
نعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا
محترم احبا! آج کی نوجوان نسل یوم آزادی مناتی تو ہے ، مگر ان میں وہ جوش و جذبہ نظر نہیں آتا جو ہم سے پہلی نسل میں ہوا کرتا تھا۔ ہماری نوجوان نسل کو یاد رکھنا چاہیے، کہ آج اگر ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں، تو یہ ان شہیدوں کی برکت ہے، جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کیا ! ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے، کہ ہندوستان کی خاک میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے؛ کیونکہ اس ملک کو آزاد کرنے کے لیے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
محترم احبا! چونکہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ؛ اس لیے اس نعمت کی حفاظت بھی ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا ہے، کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے ، اور وقت آنے پر ہندوستان کے لیے اپنی جان دینے کو بھی تیار رہیں گے
اور کہیں گے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بلبل باغ و بہار و باغباں آزاد ہے
اس وطن کا ذرہ ذرہ جاوداں آزاد ہے
ہم ہیں ہندی فخر ہے ہم کو جسیم قادری
ہم وفاداروں سے ہی ہندوستاں آزاد ہے

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
تا ریخ: 15/08/2024
یوم آزادی ہندوستان ہر سال 15 اگست کو آزادی کے دن کی نسبت سے منا یا جاتا ہے ، یہ وہ دن ہے جب 1947 ء میں انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد ہو کر ، ملک ہندوستان میں نئی بہار آئی ۔ غلامیت کی زنجیریں ٹوٹ گئیں کشت در کشت لہلہا اٹھی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع میسر ہوا
تاریخ ہند سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص بخوبی جانتا ہے، کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں ، علمائے اہل سنت اور مشایخ طریقت کا نہایت ہی اہم کردار رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کہ شمالی ہند میں انگریزوں کے خلاف مسلم رائے ہموار کرنے ، اور پورے خطے میں انقلاب برپا کرنے کا بنیادی سہرا، انہی قائدین و بزرگان دین کے سر جاتا ہے۔

ان مجاہدین میں

مولانا امام بخش صہبائی دہلوی (م۱۲۷۳ھ/1857ء)،
مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)،
مولانا تاج الدین مراد آبادی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)،
مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند بطل حریت، علامہ مفتی فضل حق خیر آبادی شہید (م۱۲۷۸ھ/1861ء)،
مفتی عنایت احمد کاکوروی (م ۱۲۷۹ھ / 1863ء)، مفتی صدر الدین خاں آزردہ دہلوی (م ۱۲۸۵ھ/1868ء)،
امام العلما مولانا رضا علی خان بریلوی (اعلیٰ حضرت کے دادا) (م۱۲۸۶ھ/1869ء)،
مولانا ڈاکٹر وزیر خان اکبر آبادی (م ۱۲۸۹ھ / 1873ء)،
رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خان بریلوی (م ۱۲۹۷ھ / 1880ء)،
مولانا رحمت اللہ کیرانوی (م ۱۳۰۸ھ/1891ء)،
حکیم سعید اللہ قادری (م ۱۳۲۵ھ/1909ء) وغیرہم

، ان نفوس قدسیہ کے انقلابی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، اور شہید جنگ آزادی حضرت مولانا مفتی سید کفایت علی کافی مراد آبادی علیہ الرحمہ کا نام تو اس فہرست میں بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔
رئیس المتکلمین حضرت علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ ( والد اعلیٰ حضرت) کو ملک میں انگریز اقتدار سے شدید نفرت تھی، آپ نے تا حین حیات انگریزوں کی سخت مخالفت کی، اور انگریزی اقتدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ وطن عزیز کو انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد کرانے کے لیے ، آپ نے زبردست قلمی ولسانی جہادی خدمات انجام دیں،
اس بارے میں چندہ شاہ حسینی لکھتے ہیں:
مولانا رضا علی خاں انگریزوں کے خلاف، لسانی و قلمی جہاد میں مشہور ہو چکے تھے ، انگریز مولانا کی علمی وجاہت و دبدبہ سے بہت گھبراتا تھا، آپ کے صاحبزادے مولانا نقی علی خاں بھی انگریزوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مولانا نقی علی خاں کا ہند کے علماء میں ، بہت اونچا مقام تھا، انگریزوں کے خلاف آپ کی عظیم قربانیاں ہیں ۔
ملک سے انگریزوں کو باہر نکالنے کے لیے ، علماء ہند نے ایک جہاد کمیٹی بنائی، انگریزوں کے خلاف عملاً جہاد کا آغاز کرنے کے لیے ، جہاد کمیٹی نے جہاد کا فتوی صادر کیا، اس جہاد کمیٹی میں امام العلماء مولانا رضا علی خاں، علامہ فضل حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا احمد اللہ شاہ، مولانا سید احمد بدایونی ثم بریلوی، جنرل بخت خاں وغیرہم کے اسمائے گرامی ، خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
حضرت مولانا نقی علی خاں انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے پہنچایا کرتے۔ آپ نے اپنی انگریز مخالف تقاریر سے ، مسلمانوں میں جہاد کا جوش و ولولہ پیدا کیا، ان کے دلوں میں جہاد اہمیت کو اجاگر کیا بریلی کا جہاد کامیاب ہوا، انگریزوں کو مسلمانوں نے شکست دی، اور ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔
انگریز کی آمد اور برصغیر پر اس کے مکمل قبضہ کے بعد، وقت کے تقاضے نے علماء و مشایخ کو، مسند دعوت وارشاد سے اٹھا کر، رسم شبیری ادا کرنے کے لیے، میدان عمل میں اترنے پر مجبور کر دیا۔ 1857ء کے معرکہ کار زار میں، مذکورہ بالا علماء و مشایخ اہل سنت نے تحریک آزادی کی شمع روشن کی۔
ایک انگریز لکھتا ہےکہ دہلی کے دروازے سے پشاور تک، گرینڈ ٹرنک روڈ کے دونوں طرف شاید کوئی ایسا درخت رہا ہو جس پر علماء کرام کی نعشیں نہ ہوں تقریباً بائیس ہزار علماء کرام کو جام شہادت پلا دیا اور تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کو پھانسی دی گئیں۔
علامہ کفایت علی مراد آبادی رضی اللہ عنہ کو جب تخت دار پر لے جایا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہیں گے تو آپ نے فرمایا
کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا
اطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پر خا کی کفن رہ جائے گا
ہم سفیر و باغ میں ہیں کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر دورود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جا ئیں گے کافی وہ لیکن حشر تک
نعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا
محترم احبا! آج کی نوجوان نسل یوم آزادی مناتی تو ہے ، مگر ان میں وہ جوش و جذبہ نظر نہیں آتا جو ہم سے پہلی نسل میں ہوا کرتا تھا۔ ہماری نوجوان نسل کو یاد رکھنا چاہیے، کہ آج اگر ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں، تو یہ ان شہیدوں کی برکت ہے، جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کیا ! ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے، کہ ہندوستان کی خاک میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے؛ کیونکہ اس ملک کو آزاد کرنے کے لیے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
محترم احبا! چونکہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ؛ اس لیے اس نعمت کی حفاظت بھی ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا ہے، کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے ، اور وقت آنے پر ہندوستان کے لیے اپنی جان دینے کو بھی تیار رہیں گے
اور کہیں گے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بلبل باغ و بہار و باغباں آزاد ہے
اس وطن کا ذرہ ذرہ جاوداں آزاد ہے
ہم ہیں ہندی فخر ہے ہم کو جسیم قادری
ہم وفاداروں سے ہی ہندوستاں آزاد ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
56
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی

کتاب بہترین ہمنشیں ہے

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢