صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
فقہ، اصول فقہ

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
امام المجتہدین، شرح من یرد اللہ به خیرا یفقه فی الدین، سند المحدثین، امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ، آسمانِ فقاہت کے اس چمکتے دمکتے سورج کا نام ہے جس کی ضیا پاشیوں سے عالمِ انس و جن منور و تابناک ہے۔ آپ نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط و استخراج کیا، اصول و ضوابط وضع کیے اور منصبِ عظیم مجتہد فی الشرع پر فائز ہوئے۔ آپ نے فقہ کی تدوین فرمائی۔ جن مسائل کا سراغ صراحتاً قرآن و حدیث میں نہیں ملا، ان مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاسِ شرعی کے ذریعے استنباط فرمایا۔
قیاس کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ـــــــــــــ
قیاس لغت میں تقدیر یعنی اندازہ لگانا کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: قست الثوب بالذراع (میں نے گز کے ذریعے کپڑا ناپا) اور قست النعل بالنعل (میں نے جوتے کو جوتے سے ناپا)۔
اور اصطلاح میں ٫٫مساواۃ المسکوت للمنصوص فی علۃ الحکم یعنی حکم کی علت میں مسکوت کا منصوص کے برابر ہونا۔ [مخلصا فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص ٣٠٥]
المنار مع نور الانوار میں ہے: القیاس فی اللغۃ: التقدیر و فی الشرع: تقدیر الفرع بالاصل فی الحکم و العلة۔
یعنی قیاس لغت میں اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور شریعت میں قیاس حکم اور علت میں اصل پر فرع کا اندازہ لگانے کو کہتے ہیں۔ [جلد دوم ص ٢٣٩ دار نور الصباح مکتبہ امیر]
قیاس کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں ــــــــــــــ
اللہ جل و علا کا ارشاد ہے: فَٱعۡتَبِرُوا۟ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَبۡصَـٰرِ [الحشرـ٢]
[تو عبرت لو اے نگاہ والو [کنز الایمان]
قیاس کی دلیل میں صاحب المنار نے مذکورہ بالا آیت کریمہ کو ارقام فرمایا اور المنار کی شرح نور الانوار میں ملا جیون احمد رضی اللہ عنہ نے اسی کی شرح یوں فرمائی؛
لأن الاعتبار رد الشيء إلى نظيره، فكأنه قال : قيسوا الشيء على نظيره، وهو شامل لكل قياس، سواء كان قياس المثلات على المثلات، أو قياس الفروع الشرعية على الأصول، فيكون إثبات حجية القياس به ثابتاً بالنص [جلد دوم ص ٢٤١]
ترجمہ: اس لیے کہ شے کو شے کی نظیر کی طرف پھیرنے کو اعتبار کہتے ہیں، تو گویا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: شے کو اس کی نظیر پر قیاس کرو، اور وہ تمام قیاس کو شامل ہے، خواہ وہ قیاسِ مثلات بر مثلات (یعنی عقوبات کو عقوبات پر قیاس کرنا) ہو یا فروعِ شرعیہ کا قیاس اصولِ شرعیہ پر ہو۔ تو اس طریقے سے حجیتِ قیاس کا اثبات نص سے ثابت ہوا۔
حدیث شریف میں ہے:
عن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمن قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله [مشکوٰۃ المصابیح ٣٦٧٣، سنن أبو داود رقم الحدیث ۳۵۹۲، والبيهقي في الكبرى ١١٤/١٠، والترمذي رقم الحدیث ۱۳۲۷]
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جب یمن (کا والی بنا کر) بھیجا تو ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو کیسے فیصلہ کروگے؟ تو کہا: میں کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ (تو کیا کروگے)؟ کہا: تو میں سنت (حدیث) رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کروں گا۔ فرمایا: اگر سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ ملے تو (کیا کروگے)؟ کہا: تو میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور میں اجتہاد کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں لوں گا۔ راوی نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سینے پر مارا اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد معاذ بن جبل کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہو۔
ایک وہم کا ازالہ ـــــــــــ
وہم: بعض حضرات کو یہ وہم ہوا کہ قیاس کی کیا ضرورت ہے جب کہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے، جیسا کہ اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے: وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡكَ ٱلۡكِتَـٰبَ تِبۡیَـٰنࣰا لِّكُلِّ شَیۡءࣲ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣰ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِینَ [النحل ٨٩]
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔
مَّا فَرَّطۡنَا فِی ٱلۡكِتَـٰبِ مِن شَیۡءࣲۚ [الانعام ٣٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔
ازالۂ وہم: اس وہم کا ازالہ یہ ہے کہ بے شک قرآن مقدس میں سب کچھ ہے لیکن کسی کو قرآن میں کسی مسئلے کا نہ ملنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ قرآن میں نہیں ہے کیونکہ عدم وجدان عدم کون (یعنی نہ پایا جانا نہ ہونے) کو مستلزم نہیں۔ نور الانوار میں ہے: ان عدم الوجدان لا یقتضی عدم کونه فی الکتاب [جلد دوم ص ٢٤٢] یعنی قرآن مجید میں کسی چیز کا نہ پایا جانا اس کے نہ ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ تو جب مسئلہ قرآن و حدیث میں نہ ملے تو پھر انسان کیا کرے؟ کس پر عمل پر؟ اس کی حلت و حرمت کو کیسے پہچانے؟ تو ضروری ہوا کہ وہ قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم پر غور و فکر کر کے قیاس کرے اور پھر اس کے بعد جو نتیجہ نکلے اس پر عمل کرے مثال: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التمر بالتمر، والحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، والملح بالملح، مثلا بمثل، يدا بيد، فمن زاد أو استزاد فقد أربى، إلا ما اختلفت ألوانه [رواه الإمام أحمد و مسلم] ان چھ چیزوں میں زیادتی کے ساتھ بیچنے میں ربا ہونے پر تو نص ہے لیکن جو اشیاء ستہ کے علاوہ ہیں ان پر نص نہیں تو لازم آیا کہ حدیث میں غور و فکر کیا جائے کہ آ خر کیوں ان چیزوں میں فضل حرام ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ بعض مکیلی بعض موزونی چیزیں ہیں اور ہم جنس ہیں اس لیے فضل حرام ہے تو اسی پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا گیا اگر وہ موزونی یا مکیلی ہوں اور ہم جنس ہوں تو ان میں بھی فضل کے ساتھ بیچنا حرام اور برابری کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا جیسے چونے کو چونے سے بیچنا تو اشیاء ستہ میں فضل کی حرمت نص سے ثابت ہوئی اور ان کے علاوہ میں قیاس سے
ہر شخص کو قیاس سے استدلال کی اجازت کیوں نہیں؟ــــــــــــــــــــــــ
ہر ایک شخص کو اتنا علم نہیں کہ وہ قرآن مجید کے ناسخ و منسوخ، حقیقت و مجاز، مشترک و مؤول، عبارت و دلالت، اقتضاء و اشارت، ظاہر و نص، مفسر و محکم، خفی و مشکل، مجمل و متشابہ، قرآن کے دیگر معانی و مفاہیم پر مطلع ہو سکے، اسلوب قرآن مجید سمجھ سکے اور اس سے اپنا مسئلہ حل کر سکے۔ ایسے ہی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناسخ و منسوخ، علل خفیہ، غوامض دقیقہ پر نظر کر سکے۔ صحاح و سنن، مسانید و جوامع و معاجم و اجزاء وغیرہا کتب احادیث میں اس کے طرق مختلفہ و الفاظ متنوعہ، احوال رواۃ پر نظر تام کر پائے۔
قیاس تو دور کی بات ہے امام کے قیاس کیے ہوئے مسئلے کے خلاف کوئی حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرنے کے لیے کیسے کیسے قواعد و ضوابط قیود و شرائط ہیں ان کا اندازہ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی کتاب مستطاب 'الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی" سے لگا سکتے ہیں جس میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف کوئی حدیث صحیح مل جائے تو اس پر عمل کب روا ہے؟ اور کس کے لیے روا ہے؟ اس پر نفیس تحقیق کی گئی ہے۔ اس میں امام اہل سنت نے چار منزلوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ہر ایک دوسری سے سخت تر ہے۔ ان میں سے پہلی منزل کا اقتباس قارئین ملاحظہ فرمائیں اور حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں۔
فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٠ میں مرقوم ہے:
نقد رجال کہ اُن کے مراتب ثقہ و صدق و حفظ و ضبط اور اُن کے بارے میں ائمہ شان کےاقوال و وجوه طعن و مراتب توثیق و مواضع تقدیم، جرح و تعدیل و حوامل طعن و مناشی توثیق و مواضع تحامل و تساهل و تحقیق پر مطلع ہو، استخراج مرتبہ اتقان راوی بنقد روایات وضبط مخالفات و اوہام و خطیات وغیرہا پر قادر ہو، ان کے اسامی و القاب و کنی و انساب و وجوه مختلفه تعبیر رواة خصوصا اصحابه تدلیس شیوخ و تعیین مهمات و متفق و متفرق و مختلف موتلف سے ماہر ہو۔ ان کے موالید و وفیات و بلدان و رحلات و لقاء و سماعات و اساتذه و تلامذہ و طرق تحمل و وجوه ادا و تدلیس و تسویه و تغیر و اختلاط آخذین من قبل و آخذين من بعد و سامعین حالین و غیر هما تمام امور ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ اُن سب کے بعد صرف سند حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔
جب ایک حدیث کو حسن، صحیح، یا معطل یا ساقط یا مرسل کہنے کے لیے اتنے قیود و شرائط ہیں تو پھر قرآن و حدیث سے استدلال کے لیے کتنے علوم و فنون کی ضرورت ہے ؟ جب پہلی منزل میں نہیں پہنچ سکے تو چاروں منزل کیسے عبور کر سکتے ہیں ؟ جب چاروں منزلیں عبور نہیں کر سکتے تو قول امام کے خلاف رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں ؟ جب اس بارگاہ میں یہ بے مائیگی ہے تو پھر از خود قرآن و حدیث سے کیسے مسائل نکال سکتے ہیں؟ اسی لیے امام اہل سنت نے منزل سوم میں فرمایا: علل خفیہ غوامض دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧١] اسی لیے لازم آیا کہ کسی نہ کسی امام کی تقلید کی جائے اور ان کے نقش قدم پر چل کر زندگی بسر کی جائے کیونکہ
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
نیز امام اجل سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: الحدیث مضلة الا للفقهاء یعنی حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو۔ علامہ ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
يريد ان غيرهم قد يحمل الشيئ على ظاهره ولد تأويل من حديث غيره او دليل يخفى عليه او متروک اوجب ترکه غیر شیئ مما لا يقوم به الا من ستبحر و تفقه [المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر النعوت دار الکتب العربی بیروت جلد ١ ص ١٢٢]
ترجمہ: امام سفیان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کو کبھی ظاہر حدیث سے جو معنی سمجھ میں آتے ہیں، اُن پر جم جاتا ہے۔ حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے، یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعدد اسباب ایسے ہیں، جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصب اجتہاد تک پہنچا۔
امام اعظم پر بے بنیاد اعتراض کا تحقیقی جواب ـــــــــــــــ
بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کو حدیثیں یاد نہیں تھیں، وہ تو فقط قیاس آرائیاں کرتے تھے اور اپنے قیاس کے ذریعے مسائل کا استنباط کرتے تھے۔ بعض نے کہا صرف سات حدیثیں یاد تھیں۔ لیکن اگر اس امر کو حقائق کے تناظر میں پرکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ بخاری و مسلم و ترمذی وغیرھم سب امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مرہون منت ہیں امام اعظم کو لاکھوں حدیثیں ضبط و اتقان، لوازمات حدیث کے ساتھ یاد تھیں جن سے آپ مسائل کا استنباط فرماتے تھے۔ امام بخاری جیسے محدث آپ کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ 'انوار المنان فی توحید القرآن" میں رقمطراز ہیں:
أما البخاري فتلمیذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ الإمام الأعظم. لأنه:
(۱) تلمذ على إمام السنة عصام الإسلام في المحنة أحمد بن حنبل.
(۲) وأحمد تلمذ على عالم قريش الإمام المطلبي محمد بن إدريس الشافعي.
(۳) والشافعي تلمذ على الإمام الرباني محمد بن الحسن الشيباني.
(٤) ومحمد تلمذ على قاضي الشرق والغرب الإمام أبي يوسف.
(٥) وأبو يوسف تلمذ على إمام دار الهجرة عالم المدينة مالك.
(٦) ومالك تلمذ على إمام الأئمة، فقيه الأمة أبي حنيفة النعمان رضي الله تعالى عنه وعنهم فالبخاري تلميذ إمامنا في الدرجة السادسة.
(۷) والإمام مسلم تلميذه في الدرجة السابعة. لأنه تلمذ على البخاري، وإن لم يرو عنه في صحيحه.
(۸) والإمام الترمذي تلميذه في الثامنة تلمذ على مسلم.
وبالجملة الأئمة الثلاثة وأصحاب الصحاح الستة كلهم من تلاميذه وتلاميذ تلاميذ تلاميذه بدرجات. رحمة الله تعالى عليهم أجمعين.
ترجمہ: رہے بخاری تو وہ تو امام اعظم کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔ اس لیے کہ (۱) انہوں نے امام السنۃ ، زمانۂ شدت میں اسلام کی بولتی زبان احمد بن حنبل کی شاگردی اختیار کی ، اور (۲) احمد بن حنبل عالم قریش امام معلمی امام محمد بن ادریس شافعی کے شاگرد ہیں ، اور (۳) شافعی ، امام ربانی محمد بن حسن شیبانی کے شاگرد ہیں ، اور (۴) امام محمد، قاضی شرق و غرب امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں ، (۵) اور امام ابو یوسف امام عالم مدینہ طیبہ امام مالک کے شاگرد ہیں، اور (۲) امام مالک امام الائمہ فقیہ الامہ ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں۔
تو بخاری تو ہمارے امام کے چھٹے درجہ میں شاگرد ہیں اور امام مسلم ہمارے امام کے ساتویں درجہ میں شاگرد ہیں ؛ اس لیے کہ وہ بخاری کے شاگرد ہیں اگر چہ انہوں نے اپنی صحیح میں ان سے حدیث روایت نہ کی ، اور امام ترمذی امام اعظم کے آٹھویں درجہ میں شاگرد ہیں ، انہوں نے امام مسلم کی شاگردی اختیار کی ، اور مختصر یہ کہ ائمۂ ثلاثہ اور اصحاب صحاح ستہ سب کے سب ہمارے امام کے شاگردوں میں ہیں اور کئی درجوں میں شاگردوں کے شاگردوں کے شاگردوں کے قبیل سے ہیں ۔ رحمة الله عليهم اجمعين [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣ مشمولہ المعتقد المنتقد]
اسی میں ہے :
قال الإمام ابن حجر المكي الشافعي في شرح المشكوة، وعنه نقل لي المرقاة في ترجمة الإمام الأعظم رضي الله تعالى عنه : تلمذ لــه كبـار مـــن الأئمة المجتهدين ، العلماء الراسخين عبد الله بن المبارك، والليث بن سعد، الإمام مالك بن أنس.
امام ابن حجر مکی شافعی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: اور انہی سے۔ مرقاۃ المفاتیح میں علامہ ملا قاری نے امام اعظم کے ترجمہ (تعارف) میں نقل کیا رضی اللہ عنہ۔ ائمۂ مجتہدین اور علماء راسخین میں سے بڑے بڑوں نے ان کی شاگردی اختیار کی جیسے عبد اللہ بن مبارک، لیث بن سعد، امام مالک بن انس۔ [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣-٢٦٤ مشمولہ المعتقد المنتقد]
ان اقتباسات میں واضح طور پر ہے کہ بڑے بڑے محدثین خصوصا امام مالک، امام بخاری اصحاب صحاح ستہ رضوان اللہ علیہم اجمعین واسطہ بلا واسطہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں تو کوئی عاقل یہ گمان کر سکتا ہے کہ امام اعظم قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض اپنی رائے سے مسائل بیان فرماتے تھے؟ ہر گز نہیں! بلکہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاس فرماتے تھے۔ کیونکہ قیاس مظہر کتاب و سنت ہے اور واضح رہے کہ آپ قیاس نص کی عدم موجودگی میں کرتے نہ کہ نص کی موجودگی میں۔
جیسا کہ میزان الاعتدال میں امام ابو جعفر شیزاماری سے منقول ہے: فعلم ان الامام لا يقيس ابدا مع وجود النص كما يزعمه بعض المتعصبين وانما يقيس عند فقد النص.
ترجمہ: مذکورہ عبارت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نص کی موجودگی میں حضرت امام کبھی بھی قیاس نہیں کرتےتھے، جیسا کہ بعض تعصب پرستوں کا خیال ہے۔ ہاں نص کی عدم موجودگی میں قیاس کرتے تھے۔ [ بحوالہ غرائب البیان ص ٥٩ ]
امام اعظم اور قیاس ـــــــــــــــــــــــــ
امام اعظم رضی اللہ عنہ جب قرآن و حدیث میں صراحۃ مسئلہ نہ پاتے پھر قیاس فرماتے اسی کو امام عارف عبد الوہاب شعرانی کی کتاب المیزان کے حوالے سے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرمایا:
امام اجل سیدنا جعفر صادق وامام سفیان ثوری ومقاتل بن حیان وحماد بن سلمہ وغیرھم ائمۂ مجتہدین پیش امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم آمدہ گفتند بمارسیدہ است کہ تو در مسائل قیاس بکثرت میکنی امام با ایشاں مناظرہ کرد و مذہب خود پیش نمود و گفت کہ پیش از ہمہ عمل بقرآن عظیم میکنم باز بحدیث باز باجماع باز باقوال صحابہ وچوں دریں ہمہ نیابم آں گاہ براہ قیاس شتابم ایں مناظرہ درمسجد جامع کوفہ روز جمعہ از آغاز نہار تا وقت زوال جاری بود آخر ہا ہمہ ائمۂ مذکورین برخاستند و بوسہ بر سر و زانوئے امام اعظم دادند وگفتند تو سردار علمائے پیش از یں انچہ نادانستہ بحق تو گفتہ بودیم بما عفو کن امام گفت حق جل وعلا ما و شما ہمہ را مغفرت کند الامام العارف الشعرانی قدس سرہ فی المیزان کان ابومطیع یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری و مقاتل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام ابا حنیفۃ و قالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانا نخاف علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین انتھی [فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٩ ص ٦٦-٦٧]
ترجمہ: امام کبیر سیدنا امام جعفر صادق،امام سفیان ثوری، مقاتل بن حیان اور حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمۂ مجتہدین امام اعظم سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں گئے اور امام صاحب سے فرمانے لگے کہ ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے آپ مسائل شرعیہ میں بہت زیادہ قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔ امام صاحب نے ان سے مناظرہ کیا اور وضاحت سے اپنا مذہب(نظریہ)پیش کیا اور فرمایا: میں تو سب سے پہلے قرآن پر عمل کرتاہوں، اس کے بعد حدیث، پھر اجماع امت، پھر اقوال صحابہ کرام پر،جب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ ملے، تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوں۔ یہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کر زوال کے وقت تک جاری رہا۔ بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پر بوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سردار ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا: ﷲ تعالٰی بزرگ و برتر مجھے اورآپ سب کو معاف فرمائے۔
فتاوی رضویہ شریف رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی میں ہے:
امام ابن حجر مکی شافعی کتاب الخیرات الحسان میں فرماتے ہیں: جلیل القدر تابعی، امام المحدثین حضرت سلیمان اعمش رضی اللہ عنہ؛ کہ اجلہ ائمہ تابعین و شاگردانِ حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ سے کسی نے کچھ مسائل پوچھے، اس وقت ہمارے امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی حاضر مجلس تھے، امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام سے پوچھے۔ امام نے فورًا جواب دیا۔امام اعمش نے کہا: یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے؟ فرمایا۔ اُن حدیثوں سے جو میں نے خود آپ سے سنی ہیں۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرما دیں۔ امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا:
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انّك تعمل بھٰذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایّھاالرجل اخذت بکلا الطرفین۔
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کو سنائیں آپ گھڑی بھر میں مجھے سنائے دیتے ہیں۔مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کر دیتے ہیں۔ اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور محدث لوگ عطار ہیں، یعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم مجتہدین جانتے ہو۔اور اے ابوحنیفہ ! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کنارے لیے۔ [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٤]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان اقتباسات سے امام اعظم رضی اللہ عنہ کی بلندی فکر، حزم و احتیاط، وفور معلومات، ژرف نگاہی، عمیق نظری، وسعت ذہنی، قوت حافظہ، جودت طبع، نکتہ رسی، اجتہادی ملکہ اظہر من الشمس ہے
خلاصۂ کلام ـــــــــــــــــــــ
بعد تتبع و تفحص جب قرآن و حدیث میں کوئی مسئلہ صراحۃ نہ ملتا تو امام اعظم رضی اللہ عنہ اپنے علم و دانائی سے قرآن و حدیث میں قیاس کر کے مسائل کا استنباط و استخراج فرماتے تاکہ امت مسلمہ کو صحیح راہ مل سکے۔
قیاس کن ز گلستان او بہارش را ـــع
امت مسلمہ پر امام اعظم کا احسان عظیم ہے کہ انھوں نے فقہ کی تدوین فرما کر سب کے لیے ایک راہ ہموار فرمائی اور اللہ جل جلالہ نے ان کو دنیا میں یہ انعام عطا فرمایا کہ آج امت محمدیہ ان کی تقلید کر رہی ہے۔ اللہ جل جلالہ ہمیں صحیح طریقے سے ان کی تقلید کی توفیق مرحمت فرمائے۔ رَبَّنَا ٱفۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَ قَوۡمِنَا بِٱلۡحَقِّ وَأَنتَ خَیۡرُ ٱلۡفَـٰتِحِینَ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و صحبہ اجمعین

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
امام المجتہدین، شرح من یرد اللہ به خیرا یفقه فی الدین، سند المحدثین، امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ، آسمانِ فقاہت کے اس چمکتے دمکتے سورج کا نام ہے جس کی ضیا پاشیوں سے عالمِ انس و جن منور و تابناک ہے۔ آپ نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط و استخراج کیا، اصول و ضوابط وضع کیے اور منصبِ عظیم مجتہد فی الشرع پر فائز ہوئے۔ آپ نے فقہ کی تدوین فرمائی۔ جن مسائل کا سراغ صراحتاً قرآن و حدیث میں نہیں ملا، ان مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاسِ شرعی کے ذریعے استنباط فرمایا۔
قیاس کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ـــــــــــــ
قیاس لغت میں تقدیر یعنی اندازہ لگانا کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: قست الثوب بالذراع (میں نے گز کے ذریعے کپڑا ناپا) اور قست النعل بالنعل (میں نے جوتے کو جوتے سے ناپا)۔
اور اصطلاح میں ٫٫مساواۃ المسکوت للمنصوص فی علۃ الحکم یعنی حکم کی علت میں مسکوت کا منصوص کے برابر ہونا۔ [مخلصا فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص ٣٠٥]
المنار مع نور الانوار میں ہے: القیاس فی اللغۃ: التقدیر و فی الشرع: تقدیر الفرع بالاصل فی الحکم و العلة۔
یعنی قیاس لغت میں اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور شریعت میں قیاس حکم اور علت میں اصل پر فرع کا اندازہ لگانے کو کہتے ہیں۔ [جلد دوم ص ٢٣٩ دار نور الصباح مکتبہ امیر]
قیاس کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں ــــــــــــــ
اللہ جل و علا کا ارشاد ہے: فَٱعۡتَبِرُوا۟ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَبۡصَـٰرِ [الحشرـ٢]
[تو عبرت لو اے نگاہ والو [کنز الایمان]
قیاس کی دلیل میں صاحب المنار نے مذکورہ بالا آیت کریمہ کو ارقام فرمایا اور المنار کی شرح نور الانوار میں ملا جیون احمد رضی اللہ عنہ نے اسی کی شرح یوں فرمائی؛
لأن الاعتبار رد الشيء إلى نظيره، فكأنه قال : قيسوا الشيء على نظيره، وهو شامل لكل قياس، سواء كان قياس المثلات على المثلات، أو قياس الفروع الشرعية على الأصول، فيكون إثبات حجية القياس به ثابتاً بالنص [جلد دوم ص ٢٤١]
ترجمہ: اس لیے کہ شے کو شے کی نظیر کی طرف پھیرنے کو اعتبار کہتے ہیں، تو گویا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: شے کو اس کی نظیر پر قیاس کرو، اور وہ تمام قیاس کو شامل ہے، خواہ وہ قیاسِ مثلات بر مثلات (یعنی عقوبات کو عقوبات پر قیاس کرنا) ہو یا فروعِ شرعیہ کا قیاس اصولِ شرعیہ پر ہو۔ تو اس طریقے سے حجیتِ قیاس کا اثبات نص سے ثابت ہوا۔
حدیث شریف میں ہے:
عن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمن قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله [مشکوٰۃ المصابیح ٣٦٧٣، سنن أبو داود رقم الحدیث ۳۵۹۲، والبيهقي في الكبرى ١١٤/١٠، والترمذي رقم الحدیث ۱۳۲۷]
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جب یمن (کا والی بنا کر) بھیجا تو ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو کیسے فیصلہ کروگے؟ تو کہا: میں کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ (تو کیا کروگے)؟ کہا: تو میں سنت (حدیث) رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کروں گا۔ فرمایا: اگر سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ ملے تو (کیا کروگے)؟ کہا: تو میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور میں اجتہاد کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں لوں گا۔ راوی نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سینے پر مارا اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد معاذ بن جبل کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہو۔
ایک وہم کا ازالہ ـــــــــــ
وہم: بعض حضرات کو یہ وہم ہوا کہ قیاس کی کیا ضرورت ہے جب کہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے، جیسا کہ اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے: وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡكَ ٱلۡكِتَـٰبَ تِبۡیَـٰنࣰا لِّكُلِّ شَیۡءࣲ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣰ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِینَ [النحل ٨٩]
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔
مَّا فَرَّطۡنَا فِی ٱلۡكِتَـٰبِ مِن شَیۡءࣲۚ [الانعام ٣٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔
ازالۂ وہم: اس وہم کا ازالہ یہ ہے کہ بے شک قرآن مقدس میں سب کچھ ہے لیکن کسی کو قرآن میں کسی مسئلے کا نہ ملنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ قرآن میں نہیں ہے کیونکہ عدم وجدان عدم کون (یعنی نہ پایا جانا نہ ہونے) کو مستلزم نہیں۔ نور الانوار میں ہے: ان عدم الوجدان لا یقتضی عدم کونه فی الکتاب [جلد دوم ص ٢٤٢] یعنی قرآن مجید میں کسی چیز کا نہ پایا جانا اس کے نہ ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ تو جب مسئلہ قرآن و حدیث میں نہ ملے تو پھر انسان کیا کرے؟ کس پر عمل پر؟ اس کی حلت و حرمت کو کیسے پہچانے؟ تو ضروری ہوا کہ وہ قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم پر غور و فکر کر کے قیاس کرے اور پھر اس کے بعد جو نتیجہ نکلے اس پر عمل کرے مثال: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التمر بالتمر، والحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، والملح بالملح، مثلا بمثل، يدا بيد، فمن زاد أو استزاد فقد أربى، إلا ما اختلفت ألوانه [رواه الإمام أحمد و مسلم] ان چھ چیزوں میں زیادتی کے ساتھ بیچنے میں ربا ہونے پر تو نص ہے لیکن جو اشیاء ستہ کے علاوہ ہیں ان پر نص نہیں تو لازم آیا کہ حدیث میں غور و فکر کیا جائے کہ آ خر کیوں ان چیزوں میں فضل حرام ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ بعض مکیلی بعض موزونی چیزیں ہیں اور ہم جنس ہیں اس لیے فضل حرام ہے تو اسی پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا گیا اگر وہ موزونی یا مکیلی ہوں اور ہم جنس ہوں تو ان میں بھی فضل کے ساتھ بیچنا حرام اور برابری کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا جیسے چونے کو چونے سے بیچنا تو اشیاء ستہ میں فضل کی حرمت نص سے ثابت ہوئی اور ان کے علاوہ میں قیاس سے
ہر شخص کو قیاس سے استدلال کی اجازت کیوں نہیں؟ــــــــــــــــــــــــ
ہر ایک شخص کو اتنا علم نہیں کہ وہ قرآن مجید کے ناسخ و منسوخ، حقیقت و مجاز، مشترک و مؤول، عبارت و دلالت، اقتضاء و اشارت، ظاہر و نص، مفسر و محکم، خفی و مشکل، مجمل و متشابہ، قرآن کے دیگر معانی و مفاہیم پر مطلع ہو سکے، اسلوب قرآن مجید سمجھ سکے اور اس سے اپنا مسئلہ حل کر سکے۔ ایسے ہی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناسخ و منسوخ، علل خفیہ، غوامض دقیقہ پر نظر کر سکے۔ صحاح و سنن، مسانید و جوامع و معاجم و اجزاء وغیرہا کتب احادیث میں اس کے طرق مختلفہ و الفاظ متنوعہ، احوال رواۃ پر نظر تام کر پائے۔
قیاس تو دور کی بات ہے امام کے قیاس کیے ہوئے مسئلے کے خلاف کوئی حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرنے کے لیے کیسے کیسے قواعد و ضوابط قیود و شرائط ہیں ان کا اندازہ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی کتاب مستطاب 'الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی" سے لگا سکتے ہیں جس میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف کوئی حدیث صحیح مل جائے تو اس پر عمل کب روا ہے؟ اور کس کے لیے روا ہے؟ اس پر نفیس تحقیق کی گئی ہے۔ اس میں امام اہل سنت نے چار منزلوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ہر ایک دوسری سے سخت تر ہے۔ ان میں سے پہلی منزل کا اقتباس قارئین ملاحظہ فرمائیں اور حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں۔
فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٠ میں مرقوم ہے:
نقد رجال کہ اُن کے مراتب ثقہ و صدق و حفظ و ضبط اور اُن کے بارے میں ائمہ شان کےاقوال و وجوه طعن و مراتب توثیق و مواضع تقدیم، جرح و تعدیل و حوامل طعن و مناشی توثیق و مواضع تحامل و تساهل و تحقیق پر مطلع ہو، استخراج مرتبہ اتقان راوی بنقد روایات وضبط مخالفات و اوہام و خطیات وغیرہا پر قادر ہو، ان کے اسامی و القاب و کنی و انساب و وجوه مختلفه تعبیر رواة خصوصا اصحابه تدلیس شیوخ و تعیین مهمات و متفق و متفرق و مختلف موتلف سے ماہر ہو۔ ان کے موالید و وفیات و بلدان و رحلات و لقاء و سماعات و اساتذه و تلامذہ و طرق تحمل و وجوه ادا و تدلیس و تسویه و تغیر و اختلاط آخذین من قبل و آخذين من بعد و سامعین حالین و غیر هما تمام امور ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ اُن سب کے بعد صرف سند حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔
جب ایک حدیث کو حسن، صحیح، یا معطل یا ساقط یا مرسل کہنے کے لیے اتنے قیود و شرائط ہیں تو پھر قرآن و حدیث سے استدلال کے لیے کتنے علوم و فنون کی ضرورت ہے ؟ جب پہلی منزل میں نہیں پہنچ سکے تو چاروں منزل کیسے عبور کر سکتے ہیں ؟ جب چاروں منزلیں عبور نہیں کر سکتے تو قول امام کے خلاف رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں ؟ جب اس بارگاہ میں یہ بے مائیگی ہے تو پھر از خود قرآن و حدیث سے کیسے مسائل نکال سکتے ہیں؟ اسی لیے امام اہل سنت نے منزل سوم میں فرمایا: علل خفیہ غوامض دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧١] اسی لیے لازم آیا کہ کسی نہ کسی امام کی تقلید کی جائے اور ان کے نقش قدم پر چل کر زندگی بسر کی جائے کیونکہ
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
نیز امام اجل سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: الحدیث مضلة الا للفقهاء یعنی حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو۔ علامہ ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
يريد ان غيرهم قد يحمل الشيئ على ظاهره ولد تأويل من حديث غيره او دليل يخفى عليه او متروک اوجب ترکه غیر شیئ مما لا يقوم به الا من ستبحر و تفقه [المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر النعوت دار الکتب العربی بیروت جلد ١ ص ١٢٢]
ترجمہ: امام سفیان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کو کبھی ظاہر حدیث سے جو معنی سمجھ میں آتے ہیں، اُن پر جم جاتا ہے۔ حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے، یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعدد اسباب ایسے ہیں، جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصب اجتہاد تک پہنچا۔
امام اعظم پر بے بنیاد اعتراض کا تحقیقی جواب ـــــــــــــــ
بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کو حدیثیں یاد نہیں تھیں، وہ تو فقط قیاس آرائیاں کرتے تھے اور اپنے قیاس کے ذریعے مسائل کا استنباط کرتے تھے۔ بعض نے کہا صرف سات حدیثیں یاد تھیں۔ لیکن اگر اس امر کو حقائق کے تناظر میں پرکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ بخاری و مسلم و ترمذی وغیرھم سب امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مرہون منت ہیں امام اعظم کو لاکھوں حدیثیں ضبط و اتقان، لوازمات حدیث کے ساتھ یاد تھیں جن سے آپ مسائل کا استنباط فرماتے تھے۔ امام بخاری جیسے محدث آپ کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ 'انوار المنان فی توحید القرآن" میں رقمطراز ہیں:
أما البخاري فتلمیذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ الإمام الأعظم. لأنه:
(۱) تلمذ على إمام السنة عصام الإسلام في المحنة أحمد بن حنبل.
(۲) وأحمد تلمذ على عالم قريش الإمام المطلبي محمد بن إدريس الشافعي.
(۳) والشافعي تلمذ على الإمام الرباني محمد بن الحسن الشيباني.
(٤) ومحمد تلمذ على قاضي الشرق والغرب الإمام أبي يوسف.
(٥) وأبو يوسف تلمذ على إمام دار الهجرة عالم المدينة مالك.
(٦) ومالك تلمذ على إمام الأئمة، فقيه الأمة أبي حنيفة النعمان رضي الله تعالى عنه وعنهم فالبخاري تلميذ إمامنا في الدرجة السادسة.
(۷) والإمام مسلم تلميذه في الدرجة السابعة. لأنه تلمذ على البخاري، وإن لم يرو عنه في صحيحه.
(۸) والإمام الترمذي تلميذه في الثامنة تلمذ على مسلم.
وبالجملة الأئمة الثلاثة وأصحاب الصحاح الستة كلهم من تلاميذه وتلاميذ تلاميذ تلاميذه بدرجات. رحمة الله تعالى عليهم أجمعين.
ترجمہ: رہے بخاری تو وہ تو امام اعظم کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔ اس لیے کہ (۱) انہوں نے امام السنۃ ، زمانۂ شدت میں اسلام کی بولتی زبان احمد بن حنبل کی شاگردی اختیار کی ، اور (۲) احمد بن حنبل عالم قریش امام معلمی امام محمد بن ادریس شافعی کے شاگرد ہیں ، اور (۳) شافعی ، امام ربانی محمد بن حسن شیبانی کے شاگرد ہیں ، اور (۴) امام محمد، قاضی شرق و غرب امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں ، (۵) اور امام ابو یوسف امام عالم مدینہ طیبہ امام مالک کے شاگرد ہیں، اور (۲) امام مالک امام الائمہ فقیہ الامہ ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں۔
تو بخاری تو ہمارے امام کے چھٹے درجہ میں شاگرد ہیں اور امام مسلم ہمارے امام کے ساتویں درجہ میں شاگرد ہیں ؛ اس لیے کہ وہ بخاری کے شاگرد ہیں اگر چہ انہوں نے اپنی صحیح میں ان سے حدیث روایت نہ کی ، اور امام ترمذی امام اعظم کے آٹھویں درجہ میں شاگرد ہیں ، انہوں نے امام مسلم کی شاگردی اختیار کی ، اور مختصر یہ کہ ائمۂ ثلاثہ اور اصحاب صحاح ستہ سب کے سب ہمارے امام کے شاگردوں میں ہیں اور کئی درجوں میں شاگردوں کے شاگردوں کے شاگردوں کے قبیل سے ہیں ۔ رحمة الله عليهم اجمعين [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣ مشمولہ المعتقد المنتقد]
اسی میں ہے :
قال الإمام ابن حجر المكي الشافعي في شرح المشكوة، وعنه نقل لي المرقاة في ترجمة الإمام الأعظم رضي الله تعالى عنه : تلمذ لــه كبـار مـــن الأئمة المجتهدين ، العلماء الراسخين عبد الله بن المبارك، والليث بن سعد، الإمام مالك بن أنس.
امام ابن حجر مکی شافعی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: اور انہی سے۔ مرقاۃ المفاتیح میں علامہ ملا قاری نے امام اعظم کے ترجمہ (تعارف) میں نقل کیا رضی اللہ عنہ۔ ائمۂ مجتہدین اور علماء راسخین میں سے بڑے بڑوں نے ان کی شاگردی اختیار کی جیسے عبد اللہ بن مبارک، لیث بن سعد، امام مالک بن انس۔ [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣-٢٦٤ مشمولہ المعتقد المنتقد]
ان اقتباسات میں واضح طور پر ہے کہ بڑے بڑے محدثین خصوصا امام مالک، امام بخاری اصحاب صحاح ستہ رضوان اللہ علیہم اجمعین واسطہ بلا واسطہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں تو کوئی عاقل یہ گمان کر سکتا ہے کہ امام اعظم قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض اپنی رائے سے مسائل بیان فرماتے تھے؟ ہر گز نہیں! بلکہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاس فرماتے تھے۔ کیونکہ قیاس مظہر کتاب و سنت ہے اور واضح رہے کہ آپ قیاس نص کی عدم موجودگی میں کرتے نہ کہ نص کی موجودگی میں۔
جیسا کہ میزان الاعتدال میں امام ابو جعفر شیزاماری سے منقول ہے: فعلم ان الامام لا يقيس ابدا مع وجود النص كما يزعمه بعض المتعصبين وانما يقيس عند فقد النص.
ترجمہ: مذکورہ عبارت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نص کی موجودگی میں حضرت امام کبھی بھی قیاس نہیں کرتےتھے، جیسا کہ بعض تعصب پرستوں کا خیال ہے۔ ہاں نص کی عدم موجودگی میں قیاس کرتے تھے۔ [ بحوالہ غرائب البیان ص ٥٩ ]
امام اعظم اور قیاس ـــــــــــــــــــــــــ
امام اعظم رضی اللہ عنہ جب قرآن و حدیث میں صراحۃ مسئلہ نہ پاتے پھر قیاس فرماتے اسی کو امام عارف عبد الوہاب شعرانی کی کتاب المیزان کے حوالے سے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرمایا:
امام اجل سیدنا جعفر صادق وامام سفیان ثوری ومقاتل بن حیان وحماد بن سلمہ وغیرھم ائمۂ مجتہدین پیش امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم آمدہ گفتند بمارسیدہ است کہ تو در مسائل قیاس بکثرت میکنی امام با ایشاں مناظرہ کرد و مذہب خود پیش نمود و گفت کہ پیش از ہمہ عمل بقرآن عظیم میکنم باز بحدیث باز باجماع باز باقوال صحابہ وچوں دریں ہمہ نیابم آں گاہ براہ قیاس شتابم ایں مناظرہ درمسجد جامع کوفہ روز جمعہ از آغاز نہار تا وقت زوال جاری بود آخر ہا ہمہ ائمۂ مذکورین برخاستند و بوسہ بر سر و زانوئے امام اعظم دادند وگفتند تو سردار علمائے پیش از یں انچہ نادانستہ بحق تو گفتہ بودیم بما عفو کن امام گفت حق جل وعلا ما و شما ہمہ را مغفرت کند الامام العارف الشعرانی قدس سرہ فی المیزان کان ابومطیع یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری و مقاتل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام ابا حنیفۃ و قالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانا نخاف علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین انتھی [فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٩ ص ٦٦-٦٧]
ترجمہ: امام کبیر سیدنا امام جعفر صادق،امام سفیان ثوری، مقاتل بن حیان اور حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمۂ مجتہدین امام اعظم سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں گئے اور امام صاحب سے فرمانے لگے کہ ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے آپ مسائل شرعیہ میں بہت زیادہ قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔ امام صاحب نے ان سے مناظرہ کیا اور وضاحت سے اپنا مذہب(نظریہ)پیش کیا اور فرمایا: میں تو سب سے پہلے قرآن پر عمل کرتاہوں، اس کے بعد حدیث، پھر اجماع امت، پھر اقوال صحابہ کرام پر،جب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ ملے، تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوں۔ یہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کر زوال کے وقت تک جاری رہا۔ بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پر بوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سردار ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا: ﷲ تعالٰی بزرگ و برتر مجھے اورآپ سب کو معاف فرمائے۔
فتاوی رضویہ شریف رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی میں ہے:
امام ابن حجر مکی شافعی کتاب الخیرات الحسان میں فرماتے ہیں: جلیل القدر تابعی، امام المحدثین حضرت سلیمان اعمش رضی اللہ عنہ؛ کہ اجلہ ائمہ تابعین و شاگردانِ حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ سے کسی نے کچھ مسائل پوچھے، اس وقت ہمارے امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی حاضر مجلس تھے، امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام سے پوچھے۔ امام نے فورًا جواب دیا۔امام اعمش نے کہا: یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے؟ فرمایا۔ اُن حدیثوں سے جو میں نے خود آپ سے سنی ہیں۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرما دیں۔ امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا:
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انّك تعمل بھٰذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایّھاالرجل اخذت بکلا الطرفین۔
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کو سنائیں آپ گھڑی بھر میں مجھے سنائے دیتے ہیں۔مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کر دیتے ہیں۔ اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور محدث لوگ عطار ہیں، یعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم مجتہدین جانتے ہو۔اور اے ابوحنیفہ ! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کنارے لیے۔ [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٤]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان اقتباسات سے امام اعظم رضی اللہ عنہ کی بلندی فکر، حزم و احتیاط، وفور معلومات، ژرف نگاہی، عمیق نظری، وسعت ذہنی، قوت حافظہ، جودت طبع، نکتہ رسی، اجتہادی ملکہ اظہر من الشمس ہے
خلاصۂ کلام ـــــــــــــــــــــ
بعد تتبع و تفحص جب قرآن و حدیث میں کوئی مسئلہ صراحۃ نہ ملتا تو امام اعظم رضی اللہ عنہ اپنے علم و دانائی سے قرآن و حدیث میں قیاس کر کے مسائل کا استنباط و استخراج فرماتے تاکہ امت مسلمہ کو صحیح راہ مل سکے۔
قیاس کن ز گلستان او بہارش را ـــع
امت مسلمہ پر امام اعظم کا احسان عظیم ہے کہ انھوں نے فقہ کی تدوین فرما کر سب کے لیے ایک راہ ہموار فرمائی اور اللہ جل جلالہ نے ان کو دنیا میں یہ انعام عطا فرمایا کہ آج امت محمدیہ ان کی تقلید کر رہی ہے۔ اللہ جل جلالہ ہمیں صحیح طریقے سے ان کی تقلید کی توفیق مرحمت فرمائے۔ رَبَّنَا ٱفۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَ قَوۡمِنَا بِٱلۡحَقِّ وَأَنتَ خَیۡرُ ٱلۡفَـٰتِحِینَ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و صحبہ اجمعین
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
64
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

اسلامی خواتین میں بڑھتا ارتداد اور اس کا علاج

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢