فقہ حنفی کی جامعیت
✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
تدوینِ فقہ کا شورائی (مشاورتی) منہج
ابو حنیفہ نے اپنا مذہب شاگردوں کے مشورے سے مرتب کیا ہے اور اپنی حد وسیع تک دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ جانفشانی کرنے کا جو جذبہ رکھتے تھے اور خدا اور رسول خدا اور اہل ایمان کے لیے جو کمال درجہ کا اخلاص ان کے دل میں تھا اس کی وجہ سے انہوں نے شاگردوں کو چھوڑ کر یہ کام محض اپنی انفرادیت سے کر ڈالنا پسند نہ کیا وہ ایک ایک مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتے تھے اس کے مختلف پہلو ان کے سامنے لاتے تھے، جو کچھ ان کے پاس علم اور خیال ہوتا اسے سنتے اور اپنی رائے بھی بیان کرتے حتی کہ بعض اوقات ایک ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مہینہ مہینہ بھر یا اس سے زیادہ لگ جاتا تھا۔ آخر میں جب ایک رائے قرار پا جاتی اسے قاضی ابو یوسف کتب اصول میں تحریر کرتے۔
فقہ حنفی کے بنیادی اصولِ استنباط اور ان کی وسعت
فقہ حنفی کی بنیاد، دیگر تمام مکاتبِ فقہیہ کی طرح، کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم ہے۔ حنفی فقہاء کا منہج یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے قطعی الثبوت نصوص کو سب سے پہلے اختیار کرتے ہیں اور احکام کے استنباط میں ان سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔ حتی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں: إذا صح الحدیث فهو مذھبی (رد المحتار مقدمۃ الکتاب، دار احیاء التراث العربی، ۴۶/۱)
تاہم، سنت کے معاملے میں، امام ابو حنیفہ کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ احکامِ شرعیہ میں آحاد احادیث کو قبول کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے، خصوصاً جب وہ کسی قیاسِ جلی (واضح قیاس)، مصلحتِ عامہ یا قرآن کے کسی عمومی قاعدے کے خلاف ہوں۔ یہ احتیاط اس لیے تھی تاکہ فقہی احکام صرف مضبوط دلائل پر مبنی ہوں، جن پر عمل کرنا امت کے لیے یقینی ہو۔
اجماع اور قولِ صحابی کا درجہ
قولِ صحابی: حنفی فقہ میں اگر کسی مسئلہ میں کسی صحابی کا قول مل جائے اور اس کے خلاف کوئی دوسرا صحابی کا قول یا قوی قیاس موجود نہ ہو، تو اسے ترجیح دی جاتی ہے۔ صحابہ کرام، بالخصوص فقہاء صحابہ (حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے فتاویٰ کو ایک اہم شرعی دلیل سمجھا گیا ہے۔
قیاس: عقل و نقل کا حسین امتزاج
قیاس کی تعریف: القیاسُ هو إلحاق واقعة لا نص على حكمها بواقعة ورد نص بحكمها، في الحكم الذي ورد به النص، لتساوي الواقعتين في علة هذا الحكم. (ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ جس مسئلے کی شریعت میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اسے ایسے دوسرے مسئلے کے ساتھ ملایا جائے جس کے بارے میں نص وارد ہے، اور اسی حکم کو اس نئے مسئلے کے لیے ثابت کیا جائے، کیونکہ دونوں مسائل اس حکم کی علت میں برابر ہیں۔) (علم اصول الفقہ، از عبد الوھاب خلاف، ص ۵۲)
صاحب المنار فرماتے ہیں:
القیاس۔۔۔۔۔۔تقدیر الفرع با الاصل فی الحکم و العلۃ
(فرع کو اصل کے ساتھ ملانا حکم اور علت میں) (نور الانوار، ص ۲۲۸)
۱۔ الا یکون الاصل مخصوصا بحکمہ بنص آخر، کشھادۃ خزیمۃ وحدہ (نور الانوار، ص ۲۳۲-۲۳۳)
(اصل کا حکم خود اصل کے ساتھ خاص نہ ہو کسی دوسری نص کی وجہ سے، جیسے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی)
۲۔ و الا یکون معدولا بہ عن القیاس، کبقاء الصوم مع الاکل و الشرب ناسیا (ایضا، ۲۳۳)
(اصل کا حکم خلاف قیاس نہ ہو، جیسے بھول کر کھانے پینے کے باوجود روزے کا باقی رہنا)
۳۔ و ان یتعدی الحکم الشرعی الثابت بالنص بعینہ الی فرع ھو نظیرہ ولا نص فیہ (ایضا، ص۲۳۳)
(وہ حکم شرعی جو نص سے ثابت ہے وہ بعینہ ایسی فرع کی طرف متعدی ہو جو اصل کی نظیر ہو اور اس فرع کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو)
۴۔ ان یبقی حکم النص بعد التعلیل علی ما کان قبلہ (ایضا، ۲۳۵)
(تعلیل کے بعد نص کا حکم اپنی پہلی حالت پر باقی رہے)
یہ وہ شرائط ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قیاس کسی کی ذاتی رائے کا مظاہر نہیں بلکہ قرآن و سنت کا مظہر، کاشف و مبین ہے۔
استحسان: فقہ حنفی کا امتیازی اصول
الاستحسان لغة : عد الشيء حسناً، واعتقاده حسناً، يقال: استحسنت كذا؛ أي: اعتقدته حسناً۔
(استحسان کا لغوی معنی: کسی چیز کو اچھا جاننا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا (اعتقاد کرنا)، کہا جاتا ہے: استحسنت کذا یعنی میں نے اسے اچھا سمجھا۔)
انظر المعجم الوسيط (١٧٤/١)، و التعاريف (٥٥/١) ، و التعريفات (۳۲/۱)، و كتاب الكليات (۱/ ۱۰۷)، و دستور العلماء (۷۲/۱).
واصطلاحاً : هو أن يعدل الإنسان عن أن يحكم في المسألة بمثل ما حكم في نظائرها إلى خلافه؛ لوجه أقوى يقتضي العدول عن الأول۔
اصطلاحی معنی: یہ ہے کہ انسان کسی مسئلے میں اس کے نظائر (مشابہ مسائل) کے مطابق حکم دینے کے بجائے کسی زیادہ مضبوط وجہ کی بنا پر اس کے خلاف حکم دے، جو پہلی وجہ سے اقویٰ ہو اور اس سے عدول کا تقاضا کرے۔
وعرفه الكاكي : اسم لدليل يعارض القياس الجلي.
اور کاکی نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
یہ اُس دلیل کا نام ہے جو قیاسِ جلی کے معارض ہو۔
انظر المحصول (١٦٩/٦)، وشرح التلويح على التوضيح (۱۷۲/۲)، و جامع الأسرار (١٠٥٤/٤).
صاحب المنار فرماتے ہیں:
والاستحسان يكون بالأثر، والإجماع، والضرورة، والقياس الخفي
استحسان اثر، اجماع، ضرورت اور قیاس خفی کے ذریعے ہوتا ہے۔
علامہ احمد جیون جونپوری نور الانوار میں فرماتے ہیں:
يعني : أن القياس الجلي يقتضي شيئاً، والأثر والإجماع والضرورة والقياس الخفي يقتضي ما يضاده، فيترك العمل بالقياس، ويصار إلى الاستحسان۔
(نور الانوار، ص ۲۴۷)
یعنی قیاس جلی ایک حکم کا تقاضا کر رہا ہے اور اثر، اجماع، ضرورت یا قیاس خفی اس کے متضاد حکم کا تقاضا کر رہے ہیں، تو قیاس جلی کو چھوڑ دیا جائے گا اور استحسان پر عمل کیا جائے گا۔
استحسان کی مثالوں سے افہام و تفہیم
مثال ۱: بیع سلم: (Salam Contract)
قیاس کا تقاضا: قیاس کہتا ہے کہ یہ بیع جائز نہ ہو کیونکہ معدوم کی بیع ہے، اور معدوم کی بیع جائز نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: احناف نے اسے استحسان بالأثر کی بنا پر جائز قرار دیا، اثر یہ ہے: من أسلم منكم فليسلم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل معلوم (اخرجہ البخاری ۲۱۳۵)
مثال ۲: بیعِ استصناع (Manufacture Contract)
قیاس کا تقاضا: اگر کوئی شخص کسی کاریگر سے کہے کہ میرے لیے یہ مخصوص چیز بنا دو (مثلاً جوتے، برتن یا جہاز)، صفت و مقدار بیان کر دی، لیکن اس کی مدت بیان نہیں کی، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاہدہ باطل ہو، کیونکہ جس چیز کی بیع ہو رہی ہے وہ معاہدہ کے وقت موجود نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے اور اس کے بغیر صنعت و تجارت کا پہیہ نہیں چل سکتا، لہٰذا فقہ حنفی نے عرف اور مصلحتِ عامہ کی بنا پر بالإجماع اسے جائز قرار دیا۔ یہ اصول آج کے جدید Construction Contracts کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قیاس کا تقاضا: کنواں میں اگر نجاست گر جائے تو قیاس چاہتا ہے کہ وہ کبھی پاک نہ ہو کیونکہ کنویں پر اس طور سے پانی بہانا کہ وہ پاک ہو جائے، ممکن نہیں۔ پھر جب ڈول سے پانی نکالا تو ماء نجس کی ملاقات سے ڈول بھی ناپاک۔ اب جب تک اس ڈول سے پانی نکالیں گے، پانی ناپاک ہوتا رہے گا، اس لیے کہ نجس برتن سے مل رہا ہے، لہٰذا کنواں کبھی پاک ہی نہ ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: ضرورت کے سبب موجب قیاس پر عمل متروک ہوگا، کیونکہ اس میں حرج ہے، اور حرج بنصِ قرآنی مدفوع، کما قال اللہ تعالی: و ما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)
قیاس کا تقاضا: قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نجس ہو، جیسے کہ گوشت خور چوپائے کا جوٹھا کہ وہ نجس ہے، کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے اور جوٹھا گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ گوشت خور پرندے کا گوشت بھی حرام ہے، لہٰذا اس کا بھی جوٹھا نجس ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ پرندہ اپنی چونچ سے کھاتا ہے، اور وہ پاک ہڈی ہے، بر خلاف چوپائے کے کہ وہ منہ سے کھاتا ہے، اور اس کا نجس لعاب اس شیئ سے مل جاتا ہے۔ لہٰذا قیاس خفی کو ترجیح دی اور گوشت خور پرندے کے جوٹھے کو پاک قرار دیا۔
عرف و عادت کو شرعی حیثیت
مشہور فقہی قاعدہ ہے: المعروفُ عرفاً كالمشروطِ شرطاً. (ترجمہ: جو چیز عرف میں معروف ہو، وہ ایسی ہے جیسے شرط لگا دی گئی ہو۔)
فقہ حنفی کی عملی وسعت: معاملات اور قانون سازی
فقہ حنفی کا ایک بڑا وصف مالیاتی اور تجارتی قوانین (فقہ المعاملات) میں اس کی بے مثال گہرائی اور تفصیل ہے۔ امام ابو حنیفہ کے تجارتی پس منظر نے اس مکتبِ فکر کو معاشی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کی ترغیب دی۔
عقودِ شرکت (Partnerships): حنفی فقہ میں شراکت کی مختلف شکلیں اتنی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ آج کے جدید کارپوریٹ قانون کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ جیسے:
شرکت المفاوضہ: جس میں تمام شرکاء کے حقوق اور ذمہ داریاں ہر لحاظ سے برابر ہوتی ہیں۔
شرکت العِنان: جس میں شرکاء کا سرمایہ، کام، یا منافع کا حصہ مختلف ہوتا ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الشرکۃ)
المضاربة: جدید Venture Capital کی طرح کی شراکت، جہاں ایک فریق سرمایہ (رب المال) فراہم کرتا ہے اور دوسرا (مضارب) اپنی محنت۔ (مختصر القدوری، دار الكتب العلمية، ص ۱۱۳)
امام محمد کی خدمات: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف الکسب (معیشت و کمائی کے مسائل پر) اس میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
فقہ حنفی صرف افراد کے ذاتی معاملات تک محدود نہیں رہی، بلکہ قانونِ ریاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مکمل اصول وضع کیے۔ اس شعبے کو حنفی اصطلاح میں السِیَر کہا جاتا ہے۔
کتاب السِیَر: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف السِیَر الکبیر اس موضوع پر پہلی اور منظم ترین دستاویز ہے جو جنگ و امن کے قوانین، معاہدات، سفارتی تعلقات، اور دارالاسلام و دارالحرب کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب موجودہ بین الاقوامی قانون (Public International Law) سے صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔
قضاء و عدل (عدالتی نظام) پر اثرات
امام ابو یوسف، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بنے اور اسلامی دنیا کے عدالتی نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔
قانونِ شہادت (Law of Evidence): حنفی فقہ میں گواہی کی شرائط (تزکیۃ الشہود)، قاضی کے آداب، اور عدالتی فیصلوں کے طریقۂ کار پر وہ تفصیلی قوانین موجود ہیں جو اس کی عملی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ: ان تینوں شعبوں میں تفصیلی کام یہ ثابت کرتا ہے کہ فقہ حنفی محض مخصوص مذہبی رہنمائی کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ قانون ہے جو ریاست، معیشت اور معاشرت کے ہر پہلو کو محیط ہے۔
فقہ حنفی کے تمدنی اثرات اور امتیازات
فقہ حنفی کا ایک بنیادی وصف تسہیل اور تنگی دور کرنے (رفعِ حرج) کا رجحان ہے۔ اجتماعی تدوین اور استحسان کے اصولوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ احکامِ شرعیہ عام مسلمانوں کے لیے بوجھ نہ بنیں بلکہ آسانی کا باعث ہوں۔
نبوی اصول: فقہ حنفی کا یہ رجحان دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس حکم کی پیروی ہے: يسِّروا ولا تعسِّروا، وبشِّروا ولا تُنفِّروا. (ترجمہ: آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)
(صحیح بخاری، کتاب: العلم، حدیث نمبر: ۶۹)
اس اصول کی وجہ سے، جہاں کہیں اختلافِ رائے پایا گیا، فقہ حنفی نے وہ رائے اختیار کی جو عام لوگوں کی ضروریات اور مصلحتوں سے زیادہ قریب تھی۔
تمدنی، سیاسی اور قانونی اثرات
سلطنتِ عثمانیہ: چھ صدیوں تک عثمانی سلطنت کے تمام عدالتی فیصلوں کی بنیاد فقہ حنفی پر رکھی گئی۔ ان کا مشہور مجموعۂ قوانین مجلۃ الأحکام العدلیۃ بنیادی طور پر حنفی فقہ کی عملی تطبیق تھا۔
برصغیر: مغلیہ سلطنت کے دور میں فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) کو مرتب کیا گیا، جو برسوں تک ہندوستان کا سرکاری قانون رہا۔
وسط ایشیا: سلجوقی، تیموری اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی یہی فقہ نافذ رہی۔
یہ وسیع عملی اطلاق فقہ حنفی کی جامعیت، پائیداری اور ہر زمانے میں قابلِ عمل ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
خلاصۂ کلام
jamiaturrazastudents.com
وسعتِ اصول: قیاس اور استحسان جیسے اصولوں کا استعمال، جس نے اسے نئے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت دی۔
عملی لچک: عرف و عادت کو اہمیت دینا اور ہمیشہ تسہیل کا پہلو اختیار کرنا۔
احاطۂ مسائل: عبادات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات (السِیَر) تک زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہونا۔
بلاشبہ، فقہ حنفی عقل و نقل، روایت و درایت، اور نص و رائے کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرنے والا مکتبِ فکر ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
فقہ حنفی کی جامعیت
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
فقہ حنفی کی اساس رکھنے والی
شخصیت ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی (۸۰ھ تا ۱۵۰ھ) ہیں، جو غیر معمولی فقہی بصیرت، ذہانت اور تقویٰ کے باعث امام اعظم کے لقب سے جانے گئے۔ کوفہ میں ان کی پرورش ایک ایسے علمی اور تجارتی ماحول میں ہوئی جہاں فقہی مجالس عروج پر تھیں۔
امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام اعظم کے علمی مقام کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: الناسُ في الفقهِ عيالٌ على أبي حنيفةَ. (فقہ کے معاملے میں لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)
(تاریخِ بغداد، جلد ۱۳، ص ۳۴۵)
عِيَالٌ فِي الْفَقَاهَةِ كُلُّ قَوْمٍ
عَلَيْكَ، وَأَنْتَ بَحْرٌ لِلرِّوَاءٖ
(نجمیؔ)
تدوینِ فقہ کا شورائی (مشاورتی) منہج
ابو حنیفہ نے اپنا مذہب شاگردوں کے مشورے سے مرتب کیا ہے اور اپنی حد وسیع تک دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ جانفشانی کرنے کا جو جذبہ رکھتے تھے اور خدا اور رسول خدا اور اہل ایمان کے لیے جو کمال درجہ کا اخلاص ان کے دل میں تھا اس کی وجہ سے انہوں نے شاگردوں کو چھوڑ کر یہ کام محض اپنی انفرادیت سے کر ڈالنا پسند نہ کیا وہ ایک ایک مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتے تھے اس کے مختلف پہلو ان کے سامنے لاتے تھے، جو کچھ ان کے پاس علم اور خیال ہوتا اسے سنتے اور اپنی رائے بھی بیان کرتے حتی کہ بعض اوقات ایک ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے مہینہ مہینہ بھر یا اس سے زیادہ لگ جاتا تھا۔ آخر میں جب ایک رائے قرار پا جاتی اسے قاضی ابو یوسف کتب اصول میں تحریر کرتے۔
فقہ حنفی کے بنیادی اصولِ استنباط اور ان کی وسعت
فقہ حنفی کی بنیاد، دیگر تمام مکاتبِ فقہیہ کی طرح، کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم ہے۔ حنفی فقہاء کا منہج یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے قطعی الثبوت نصوص کو سب سے پہلے اختیار کرتے ہیں اور احکام کے استنباط میں ان سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔ حتی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں: إذا صح الحدیث فهو مذھبی (رد المحتار مقدمۃ الکتاب، دار احیاء التراث العربی، ۴۶/۱)
تاہم، سنت کے معاملے میں، امام ابو حنیفہ کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ وہ احکامِ شرعیہ میں آحاد احادیث کو قبول کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے، خصوصاً جب وہ کسی قیاسِ جلی (واضح قیاس)، مصلحتِ عامہ یا قرآن کے کسی عمومی قاعدے کے خلاف ہوں۔ یہ احتیاط اس لیے تھی تاکہ فقہی احکام صرف مضبوط دلائل پر مبنی ہوں، جن پر عمل کرنا امت کے لیے یقینی ہو۔
اجماع اور قولِ صحابی کا درجہ
قولِ صحابی: حنفی فقہ میں اگر کسی مسئلہ میں کسی صحابی کا قول مل جائے اور اس کے خلاف کوئی دوسرا صحابی کا قول یا قوی قیاس موجود نہ ہو، تو اسے ترجیح دی جاتی ہے۔ صحابہ کرام، بالخصوص فقہاء صحابہ (حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے فتاویٰ کو ایک اہم شرعی دلیل سمجھا گیا ہے۔
قیاس: عقل و نقل کا حسین امتزاج
قیاس کی تعریف: القیاسُ هو إلحاق واقعة لا نص على حكمها بواقعة ورد نص بحكمها، في الحكم الذي ورد به النص، لتساوي الواقعتين في علة هذا الحكم. (ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ جس مسئلے کی شریعت میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اسے ایسے دوسرے مسئلے کے ساتھ ملایا جائے جس کے بارے میں نص وارد ہے، اور اسی حکم کو اس نئے مسئلے کے لیے ثابت کیا جائے، کیونکہ دونوں مسائل اس حکم کی علت میں برابر ہیں۔) (علم اصول الفقہ، از عبد الوھاب خلاف، ص ۵۲)
صاحب المنار فرماتے ہیں:
القیاس۔۔۔۔۔۔تقدیر الفرع با الاصل فی الحکم و العلۃ
(فرع کو اصل کے ساتھ ملانا حکم اور علت میں) (نور الانوار، ص ۲۲۸)
۱۔ الا یکون الاصل مخصوصا بحکمہ بنص آخر، کشھادۃ خزیمۃ وحدہ (نور الانوار، ص ۲۳۲-۲۳۳)
(اصل کا حکم خود اصل کے ساتھ خاص نہ ہو کسی دوسری نص کی وجہ سے، جیسے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی)
۲۔ و الا یکون معدولا بہ عن القیاس، کبقاء الصوم مع الاکل و الشرب ناسیا (ایضا، ۲۳۳)
(اصل کا حکم خلاف قیاس نہ ہو، جیسے بھول کر کھانے پینے کے باوجود روزے کا باقی رہنا)
۳۔ و ان یتعدی الحکم الشرعی الثابت بالنص بعینہ الی فرع ھو نظیرہ ولا نص فیہ (ایضا، ص۲۳۳)
(وہ حکم شرعی جو نص سے ثابت ہے وہ بعینہ ایسی فرع کی طرف متعدی ہو جو اصل کی نظیر ہو اور اس فرع کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو)
۴۔ ان یبقی حکم النص بعد التعلیل علی ما کان قبلہ (ایضا، ۲۳۵)
(تعلیل کے بعد نص کا حکم اپنی پہلی حالت پر باقی رہے)
یہ وہ شرائط ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قیاس کسی کی ذاتی رائے کا مظاہر نہیں بلکہ قرآن و سنت کا مظہر، کاشف و مبین ہے۔
استحسان: فقہ حنفی کا امتیازی اصول
الاستحسان لغة : عد الشيء حسناً، واعتقاده حسناً، يقال: استحسنت كذا؛ أي: اعتقدته حسناً۔
(استحسان کا لغوی معنی: کسی چیز کو اچھا جاننا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا (اعتقاد کرنا)، کہا جاتا ہے: استحسنت کذا یعنی میں نے اسے اچھا سمجھا۔)
انظر المعجم الوسيط (١٧٤/١)، و التعاريف (٥٥/١) ، و التعريفات (۳۲/۱)، و كتاب الكليات (۱/ ۱۰۷)، و دستور العلماء (۷۲/۱).
واصطلاحاً : هو أن يعدل الإنسان عن أن يحكم في المسألة بمثل ما حكم في نظائرها إلى خلافه؛ لوجه أقوى يقتضي العدول عن الأول۔
اصطلاحی معنی: یہ ہے کہ انسان کسی مسئلے میں اس کے نظائر (مشابہ مسائل) کے مطابق حکم دینے کے بجائے کسی زیادہ مضبوط وجہ کی بنا پر اس کے خلاف حکم دے، جو پہلی وجہ سے اقویٰ ہو اور اس سے عدول کا تقاضا کرے۔
وعرفه الكاكي : اسم لدليل يعارض القياس الجلي.
اور کاکی نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
یہ اُس دلیل کا نام ہے جو قیاسِ جلی کے معارض ہو۔
انظر المحصول (١٦٩/٦)، وشرح التلويح على التوضيح (۱۷۲/۲)، و جامع الأسرار (١٠٥٤/٤).
صاحب المنار فرماتے ہیں:
والاستحسان يكون بالأثر، والإجماع، والضرورة، والقياس الخفي
استحسان اثر، اجماع، ضرورت اور قیاس خفی کے ذریعے ہوتا ہے۔
علامہ احمد جیون جونپوری نور الانوار میں فرماتے ہیں:
يعني : أن القياس الجلي يقتضي شيئاً، والأثر والإجماع والضرورة والقياس الخفي يقتضي ما يضاده، فيترك العمل بالقياس، ويصار إلى الاستحسان۔
(نور الانوار، ص ۲۴۷)
یعنی قیاس جلی ایک حکم کا تقاضا کر رہا ہے اور اثر، اجماع، ضرورت یا قیاس خفی اس کے متضاد حکم کا تقاضا کر رہے ہیں، تو قیاس جلی کو چھوڑ دیا جائے گا اور استحسان پر عمل کیا جائے گا۔
استحسان کی مثالوں سے افہام و تفہیم
مثال ۱: بیع سلم: (Salam Contract)
قیاس کا تقاضا: قیاس کہتا ہے کہ یہ بیع جائز نہ ہو کیونکہ معدوم کی بیع ہے، اور معدوم کی بیع جائز نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: احناف نے اسے استحسان بالأثر کی بنا پر جائز قرار دیا، اثر یہ ہے: من أسلم منكم فليسلم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل معلوم (اخرجہ البخاری ۲۱۳۵)
مثال ۲: بیعِ استصناع (Manufacture Contract)
قیاس کا تقاضا: اگر کوئی شخص کسی کاریگر سے کہے کہ میرے لیے یہ مخصوص چیز بنا دو (مثلاً جوتے، برتن یا جہاز)، صفت و مقدار بیان کر دی، لیکن اس کی مدت بیان نہیں کی، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاہدہ باطل ہو، کیونکہ جس چیز کی بیع ہو رہی ہے وہ معاہدہ کے وقت موجود نہیں۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے اور اس کے بغیر صنعت و تجارت کا پہیہ نہیں چل سکتا، لہٰذا فقہ حنفی نے عرف اور مصلحتِ عامہ کی بنا پر بالإجماع اسے جائز قرار دیا۔ یہ اصول آج کے جدید Construction Contracts کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قیاس کا تقاضا: کنواں میں اگر نجاست گر جائے تو قیاس چاہتا ہے کہ وہ کبھی پاک نہ ہو کیونکہ کنویں پر اس طور سے پانی بہانا کہ وہ پاک ہو جائے، ممکن نہیں۔ پھر جب ڈول سے پانی نکالا تو ماء نجس کی ملاقات سے ڈول بھی ناپاک۔ اب جب تک اس ڈول سے پانی نکالیں گے، پانی ناپاک ہوتا رہے گا، اس لیے کہ نجس برتن سے مل رہا ہے، لہٰذا کنواں کبھی پاک ہی نہ ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: ضرورت کے سبب موجب قیاس پر عمل متروک ہوگا، کیونکہ اس میں حرج ہے، اور حرج بنصِ قرآنی مدفوع، کما قال اللہ تعالی: و ما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)
قیاس کا تقاضا: قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نجس ہو، جیسے کہ گوشت خور چوپائے کا جوٹھا کہ وہ نجس ہے، کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے اور جوٹھا گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ گوشت خور پرندے کا گوشت بھی حرام ہے، لہٰذا اس کا بھی جوٹھا نجس ہوگا۔
استحسان کا فیصلہ: چونکہ پرندہ اپنی چونچ سے کھاتا ہے، اور وہ پاک ہڈی ہے، بر خلاف چوپائے کے کہ وہ منہ سے کھاتا ہے، اور اس کا نجس لعاب اس شیئ سے مل جاتا ہے۔ لہٰذا قیاس خفی کو ترجیح دی اور گوشت خور پرندے کے جوٹھے کو پاک قرار دیا۔
عرف و عادت کو شرعی حیثیت
مشہور فقہی قاعدہ ہے: المعروفُ عرفاً كالمشروطِ شرطاً. (ترجمہ: جو چیز عرف میں معروف ہو، وہ ایسی ہے جیسے شرط لگا دی گئی ہو۔)
فقہ حنفی کی عملی وسعت: معاملات اور قانون سازی
فقہ حنفی کا ایک بڑا وصف مالیاتی اور تجارتی قوانین (فقہ المعاملات) میں اس کی بے مثال گہرائی اور تفصیل ہے۔ امام ابو حنیفہ کے تجارتی پس منظر نے اس مکتبِ فکر کو معاشی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کی ترغیب دی۔
عقودِ شرکت (Partnerships): حنفی فقہ میں شراکت کی مختلف شکلیں اتنی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ آج کے جدید کارپوریٹ قانون کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ جیسے:
شرکت المفاوضہ: جس میں تمام شرکاء کے حقوق اور ذمہ داریاں ہر لحاظ سے برابر ہوتی ہیں۔
شرکت العِنان: جس میں شرکاء کا سرمایہ، کام، یا منافع کا حصہ مختلف ہوتا ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الشرکۃ)
المضاربة: جدید Venture Capital کی طرح کی شراکت، جہاں ایک فریق سرمایہ (رب المال) فراہم کرتا ہے اور دوسرا (مضارب) اپنی محنت۔ (مختصر القدوری، دار الكتب العلمية، ص ۱۱۳)
امام محمد کی خدمات: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف الکسب (معیشت و کمائی کے مسائل پر) اس میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
فقہ حنفی صرف افراد کے ذاتی معاملات تک محدود نہیں رہی، بلکہ قانونِ ریاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مکمل اصول وضع کیے۔ اس شعبے کو حنفی اصطلاح میں السِیَر کہا جاتا ہے۔
کتاب السِیَر: امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف السِیَر الکبیر اس موضوع پر پہلی اور منظم ترین دستاویز ہے جو جنگ و امن کے قوانین، معاہدات، سفارتی تعلقات، اور دارالاسلام و دارالحرب کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب موجودہ بین الاقوامی قانون (Public International Law) سے صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔
قضاء و عدل (عدالتی نظام) پر اثرات
امام ابو یوسف، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بنے اور اسلامی دنیا کے عدالتی نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔
قانونِ شہادت (Law of Evidence): حنفی فقہ میں گواہی کی شرائط (تزکیۃ الشہود)، قاضی کے آداب، اور عدالتی فیصلوں کے طریقۂ کار پر وہ تفصیلی قوانین موجود ہیں جو اس کی عملی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ: ان تینوں شعبوں میں تفصیلی کام یہ ثابت کرتا ہے کہ فقہ حنفی محض مخصوص مذہبی رہنمائی کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ قانون ہے جو ریاست، معیشت اور معاشرت کے ہر پہلو کو محیط ہے۔
فقہ حنفی کے تمدنی اثرات اور امتیازات
فقہ حنفی کا ایک بنیادی وصف تسہیل اور تنگی دور کرنے (رفعِ حرج) کا رجحان ہے۔ اجتماعی تدوین اور استحسان کے اصولوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ احکامِ شرعیہ عام مسلمانوں کے لیے بوجھ نہ بنیں بلکہ آسانی کا باعث ہوں۔
نبوی اصول: فقہ حنفی کا یہ رجحان دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس حکم کی پیروی ہے: يسِّروا ولا تعسِّروا، وبشِّروا ولا تُنفِّروا. (ترجمہ: آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)
(صحیح بخاری، کتاب: العلم، حدیث نمبر: ۶۹)
اس اصول کی وجہ سے، جہاں کہیں اختلافِ رائے پایا گیا، فقہ حنفی نے وہ رائے اختیار کی جو عام لوگوں کی ضروریات اور مصلحتوں سے زیادہ قریب تھی۔
تمدنی، سیاسی اور قانونی اثرات
سلطنتِ عثمانیہ: چھ صدیوں تک عثمانی سلطنت کے تمام عدالتی فیصلوں کی بنیاد فقہ حنفی پر رکھی گئی۔ ان کا مشہور مجموعۂ قوانین مجلۃ الأحکام العدلیۃ بنیادی طور پر حنفی فقہ کی عملی تطبیق تھا۔
برصغیر: مغلیہ سلطنت کے دور میں فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) کو مرتب کیا گیا، جو برسوں تک ہندوستان کا سرکاری قانون رہا۔
وسط ایشیا: سلجوقی، تیموری اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی یہی فقہ نافذ رہی۔
یہ وسیع عملی اطلاق فقہ حنفی کی جامعیت، پائیداری اور ہر زمانے میں قابلِ عمل ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
خلاصۂ کلام
jamiaturrazastudents.com
وسعتِ اصول: قیاس اور استحسان جیسے اصولوں کا استعمال، جس نے اسے نئے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت دی۔
عملی لچک: عرف و عادت کو اہمیت دینا اور ہمیشہ تسہیل کا پہلو اختیار کرنا۔
احاطۂ مسائل: عبادات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات (السِیَر) تک زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہونا۔
بلاشبہ، فقہ حنفی عقل و نقل، روایت و درایت، اور نص و رائے کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرنے والا مکتبِ فکر ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
- 1 قندِ سمرقند
- 2 پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!
- 3 پھر موسم نے ایک نیا منظر دکھایا۔۔۔۔!
- 4 کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔۔۔۔!
- 5 لوگ جھیل کو سمجھاتے رہے۔۔۔۔!
- 6 جھیل کے نام آنے والے چند پیغامات۔۔۔۔
- 7 پھر ایک دن ایسا بھی آیا۔۔۔۔!
- 8 پھر کسی نے جھیل کو ایک مشورہ دیا۔۔۔۔!
- 9 جھیل کے ملامت گر
- 10 القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی
- 11 حدائقِ بخشش کا گلِ رعنا : مہرِ بخشش
- 12 پھر جھیل اپنا راستہ الگ کیوں نہیں کر لیتی؟
- 13 واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)
- 14 کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟
- 15 خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ
- 16 توقعات کا دھوکہ اور تعلقات کی حد
- 17 ملحد کے ارتقائی مراحل
- 18 سکون کیسے حاصل کریں؟ (10)
- 19 سکون کیسے حاصل کریں؟ (9)
- 20 سکون کیسے حاصل کریں ؟(8)
- 21 سکون کیسے حاصل کریں؟ (7)
- 22 سکون کیسے حاصل کریں ؟(6)
- 23 سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)
- 24 نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
- 25 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۳)
- 26 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۲)
- 27 سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)
- 28 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (4)
- 29 سکون کیسے حاصل کریں ؟(3)
- 30 ردِ الحاد
- 31 خبر غم
- 32 امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ: عزیمت کے کوہِ ہمالہ
- 33 سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)
- 34 موقعہ پرست لوگ
- 35 سکون کیسے حاصل کریں ؟ (1)
- 36 سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات
- 37 دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی
- 38 موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف
- 39 فقہ حنفی کی جامعیت
- 40 سخنِ دل
- 41 مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)
- 42 فکر کی روشنی
- 43 لماذا نتعلم اللغة العربية
- 44 دعوت و تبلیغ کی افادیت اور داعی و مبلغ کے اوصاف
- 1 منقبتِ حضور شیرِ بہار
- 2 کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے
- 3 دل لگانا بری بلا ہے
- 4 سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو
- 5 دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا
- 6 جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا
- 7 سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے
- 8 چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا
- 9 ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے
- 10 ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے
- 11 جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں
- 12 حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا
- 13 کوئی بات نہیں
- 14 عین شین قاف نہ کر
- 15 کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے
- 16 دردِ دل سے مجھے شفا دے دے
- 17 رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے
- 18 تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا
- 19 حال یہ میری مفلسی کا ہوا
- 20 خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل
- 21 تبسم ریز مثل گل لبوں سے
- 22 آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں
- 23 عشق ہے زہرِ ہلال
- 24 مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں
- 25 صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا
- 26 مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں
- 27 المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ
- 28 سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن
- 29 یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر
- 30 عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں
- 31 میرے مرشد کا عرس آ گیا
- 32 نازشِ اہلِ سنن اختر رضا
- 33 افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر
- 34 حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی
- 35 عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا
- 36 حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا
- 37 حضور ﷺ دیکھیں نا
- 38 العقد الفريد في حمد الرب المجيد
- 39 نعتِ نبیِ کونین ﷺ
- 40 ان ﷺ کے کرم کی بارش
حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ
#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] @از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ مقبول ترین...
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ
دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور...
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 29

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔
Explore Top Platform Insights & Outstanding Creators
All Authors
Explore the complete directory of our talented scholars and writers.
Top Authors
Learn about famous scholars, writers, and highly active personalities.
All Articles
Read the newest research, articles, and comprehensive scholarly publications.
Featured Articles
Discover the most read and trending topics actively engaging the community.
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













زاد راہ علم
مؤلف: مولانا محمد جاوید رضا مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us