صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دوم]
دفاع اہل سنت

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دوم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دوم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
ایک مسلک کا دو نام کیوں؟ــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ جب مسلک اہل سنت و جماعت ایک نام ہے تو پھر دوسرا نام مسلک اعلی حضرت رکھنے کی ضرورت کیا ہے؟
کیا اسی ایک نام کا ہونا کافی نہیں ہے ؟
یہ دوسرا نام ہے تو مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی دوسرا مسلک ہے ورنہ دوسرا نام ہی نہیں رکھتے؟
ازالۂ شبہ:
ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ کبھی کچھ بعض اہم وجوہات کے سبب ایک چیز کے کئی نام رکھ دیے جاتے ہیں مثلا کبھی ایک آدمی کے دو تین نام ہوتے ہیں مثلا :
ایک ذات کے تین نام: محمد، اسمعیل، اختر۔
ایک دیش کے تین نام: ہندوستان، بھارت، انڈیا
ایک دیش کے دو نام: ایجیپٹ، مصر، مصر کے پرانے نام: مصرایم، کیمت، تامری،
ایک شہر کے پانچ نام : مکّہ، بکّہ، بلد الحرام، ام القری، بلد الامین
اب اگر کوئی یہ کہے ہند کا نام بھارت کیوں رکھا؟ اس کا مطلب بھارت الگ دیش ہے تو اہل خرد اس کو دماغی توازن درست کرنے کے لیے علاج کا مشورہ دیں گے
یا کہیں گے یہ شخص زمانے کے نشیب و فراز سے ناواقفیت کی بنا پر معذور گردانا جائے گا
بلکہ اور قریب سے سمجھیے ایک ہی ذات کو کبھی ماں، کبھی امی ، ماما، والدہ مختلف نام سے پکارتے ہیں لیکن کبھی کوئی بچہ معترض نہیں ہوتا کہ میری ماں کو امی نہ کہا جائے یا والدہ نہ کہا جائے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ذات ایک ہے نام کئی ہیں
اب غور کیجیے جو بات ایک کمسن بچے کو سمجھ میں آجاتی ہے کیا پچیس یا پچپن سالہ معترض کو سمجھ میں نہیں آتی ہے ؟ آتی ہے اور ضرور آتی ہے لیکن عقل زیر تعصب پروان چڑھنے کی وجہ سے حق قبول کرنے سے عار محسوس کرتی ہے
کوئی کہ سکتا ہے یہ تو عرفی سماجی باتیں ہیں کوئی شرعی بات تو نہیں؟
اور یہ شہر و ذوات کی باتیں ہیں کوئی دینی بات تو نہیں ؟
جیسا زمانہ رہا ویسا نام پڑ گیا اس میں کونسی تعجب کی بات ہے؟
اس پر میں معترض صاحب سے کہنا چاہوں گا کہ یہی تو میرا کہنا ہے کہ جیسا زمانہ رہا ویسا نام پڑ گیا جیسے یہ زمانہ بدعتیوں کا ہے اور اس میں سارے بدعتی خود کو اہل سنت سے شمار کر رہے ہیں تو زمانے کا تقاضا ہے کہ شناخت کے لیے کوئی نام دیا جائے تو مسلک اعلی حضرت کا نام بطور خط امتیاز دیا گیا
رہی بات یہ کہنا کہ یہ شہر و قری، ذوات کی باتیں ہیں تو آئیے اسے قرآن کریم کی آیات سے سمجھتے ہیں تاکہ یہ شبہ بھی زائل ہو،
اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید میں فرمایا
إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلامُۗ [آل عمران ١٩]
بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے
اللہ جل جلالہ کے نزدیک دین ایک ہی دین ہے اور اس کا نام اسلام رکھا لیکن اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام دین قیم بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُۚ و لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ [التوبة ٣٦]
ترجمہ کنزالایمان: یہ سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
وَمَاۤ أُمِرُوۤا۟ إِلَّا لِیَعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخۡلِصِینَ لَهُ ٱلدِّینَ حُنَفَاۤءَ وَیُقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَیُؤۡتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَ ٰ⁠لِكَ دِینُ ٱلۡقَیِّمَةِ [البينة ٥]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ۔
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ [الروم ٤٣]
تو اپنا منہ دین مستقیم کیلئے سیدھا کر
ان آیات سے ثابت ہوا دین ایک ہی دین اسلام ہے اور اسی کا نام دین قیم بھی ہے
پھر اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام دین حنیف بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّینِ حَنِیفࣰاۚ [الروم ٣٠]
ترجمہ کنزالایمان: تو اپنا منہ سیدھا کرو الله کی اطاعت کے لئے۔
دین ایک ہی ہے لیکن اسی دین کا نام ملت ابراہیم بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ {سورۃ آل عمران آیت ٩٥}
ترجمۂ کنز الایمان:
تم فرماؤ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے۔
تفسیر بیضاوی شریف میں اسی آیت کے تحت ہے :
ای ملة الاسلام۔ یعنی ملت ابراہیم سے مراد دین اسلام ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب کیا کوئی معترض یہ کہ سکتا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے دین اسلام کی نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کے دین کی پیروی کا حکم دیا؟ معاذ اللہ
کوئی بھی مسلمان ایسا ہر گز نہیں کہہ سکتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ملت ابراہیم کوئی نئی ملت نہیں بلکہ وہ دین اسلام ہی ہے اور اس کی پیروی کا حکم دیا گیا کیونکہ اس وقت کے لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سچا سمجھتے تھے تو ان کو بتایا گیا کہ دین محمدی کوئی الگ دین نہیں بلکہ وہ ملت ابراہیمی ہی ہے لہذا دین محمدی کی پیروی کرو کیونکہ ملت ابراہیم کو دین محمدی اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور اسی دین محمدی کو بعد میں اہل سنت و جماعت کا نام دیا گیا
تو کیا اس کی روشنی میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت کوئی نیا مسلک نہیں بلکہ وہ مسلک اہل سنت ہی ہے، مسلک اعلی حضرت مسلک اہل سنت کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے تاکہ اس پر کسی بد عیقدے کا وار نہ چل سکے جیسے مان اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے تاکہ کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے۔
آمدم بر سر مطلب! دین ایک ہی دین ہے اور اسی کو قرآن نے صراط مستقیم کہا ہے :
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَ ٰ⁠طَ ٱلۡمُسۡتَقِیمَ [الفاتحة ٦]
دوسری آیت کریمہ میں ہے:
قُلۡ إِنَّنِی هَدَىٰنِی رَبِّیۤ إِلَىٰ صِرَ ٰ⁠طࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ دِینࣰا قِیَمࣰا مِّلَّةَ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ حَنِیفࣰاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ [الأنعام ١٦١]
ترجمۂ کنز الایمان: فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دینِ ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے اور مشرک نہ تھے ۔
قارئین غور کریں دین ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے قرآن میں اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام اسلام ، ملت ابراہیم، دین قیم، صراط مستقیم، دین حنیف رکھا نیز اسی دین کو علما دین نبی، دین محمدی، دین اہل حق و صلاح سے بھی موسوم کرتے ہیں۔
تو کیا معترض یہاں یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ دین ایک ہی دین ہے تو اسلام کے سوا دوسرے نام رکھنے کی ضرورت کیا ہے ؟ معاذ اللہ
دیکھیے اسلام کے پیروکاروں کا نام اللہ جل جلالہ نے مسلمین رکھا اور دوسری جگہ مومنین بھی فرمایا نیز علما کے نزدیک اہل اسلام کو اہل حق و صلاح بھی کہا جاتا رہا یہاں تک کہ جب رافضیت، خارجیت ،معتزلیت، قدریت وغیرھم کا ظہور ہوا تو خط امتیاز کے لیے مسلمانوں کا نام اہل السنن پڑ گیا پھر جب دیوبندیت، قادیانیت، نیچریت، کا فتنہ وجود میں آیا اور ان فتنہ پروروں نے بھی خود کو اہل سنت کہا تو اہل سنت و جماعت کو خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت والا کہا جانے لگا
تو قرآن کریم اور عرف عام سے یہ ثابت ہوا کہ ایک شی کا کئی نام ہونا عقلا نقلا کسی طور غلط نہیں لہذا مسلک اہل سنت کو اگر مسلک اعلی حضرت کے نام سے موسوم کیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے میں واضح فرق ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دوم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دوم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
ایک مسلک کا دو نام کیوں؟ــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ جب مسلک اہل سنت و جماعت ایک نام ہے تو پھر دوسرا نام مسلک اعلی حضرت رکھنے کی ضرورت کیا ہے؟
کیا اسی ایک نام کا ہونا کافی نہیں ہے ؟
یہ دوسرا نام ہے تو مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی دوسرا مسلک ہے ورنہ دوسرا نام ہی نہیں رکھتے؟
ازالۂ شبہ:
ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ کبھی کچھ بعض اہم وجوہات کے سبب ایک چیز کے کئی نام رکھ دیے جاتے ہیں مثلا کبھی ایک آدمی کے دو تین نام ہوتے ہیں مثلا :
ایک ذات کے تین نام: محمد، اسمعیل، اختر۔
ایک دیش کے تین نام: ہندوستان، بھارت، انڈیا
ایک دیش کے دو نام: ایجیپٹ، مصر، مصر کے پرانے نام: مصرایم، کیمت، تامری،
ایک شہر کے پانچ نام : مکّہ، بکّہ، بلد الحرام، ام القری، بلد الامین
اب اگر کوئی یہ کہے ہند کا نام بھارت کیوں رکھا؟ اس کا مطلب بھارت الگ دیش ہے تو اہل خرد اس کو دماغی توازن درست کرنے کے لیے علاج کا مشورہ دیں گے
یا کہیں گے یہ شخص زمانے کے نشیب و فراز سے ناواقفیت کی بنا پر معذور گردانا جائے گا
بلکہ اور قریب سے سمجھیے ایک ہی ذات کو کبھی ماں، کبھی امی ، ماما، والدہ مختلف نام سے پکارتے ہیں لیکن کبھی کوئی بچہ معترض نہیں ہوتا کہ میری ماں کو امی نہ کہا جائے یا والدہ نہ کہا جائے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ذات ایک ہے نام کئی ہیں
اب غور کیجیے جو بات ایک کمسن بچے کو سمجھ میں آجاتی ہے کیا پچیس یا پچپن سالہ معترض کو سمجھ میں نہیں آتی ہے ؟ آتی ہے اور ضرور آتی ہے لیکن عقل زیر تعصب پروان چڑھنے کی وجہ سے حق قبول کرنے سے عار محسوس کرتی ہے
کوئی کہ سکتا ہے یہ تو عرفی سماجی باتیں ہیں کوئی شرعی بات تو نہیں؟
اور یہ شہر و ذوات کی باتیں ہیں کوئی دینی بات تو نہیں ؟
جیسا زمانہ رہا ویسا نام پڑ گیا اس میں کونسی تعجب کی بات ہے؟
اس پر میں معترض صاحب سے کہنا چاہوں گا کہ یہی تو میرا کہنا ہے کہ جیسا زمانہ رہا ویسا نام پڑ گیا جیسے یہ زمانہ بدعتیوں کا ہے اور اس میں سارے بدعتی خود کو اہل سنت سے شمار کر رہے ہیں تو زمانے کا تقاضا ہے کہ شناخت کے لیے کوئی نام دیا جائے تو مسلک اعلی حضرت کا نام بطور خط امتیاز دیا گیا
رہی بات یہ کہنا کہ یہ شہر و قری، ذوات کی باتیں ہیں تو آئیے اسے قرآن کریم کی آیات سے سمجھتے ہیں تاکہ یہ شبہ بھی زائل ہو،
اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید میں فرمایا
إِنَّ ٱلدِّینَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلامُۗ [آل عمران ١٩]
بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے
اللہ جل جلالہ کے نزدیک دین ایک ہی دین ہے اور اس کا نام اسلام رکھا لیکن اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام دین قیم بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُۚ و لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ [التوبة ٣٦]
ترجمہ کنزالایمان: یہ سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
وَمَاۤ أُمِرُوۤا۟ إِلَّا لِیَعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخۡلِصِینَ لَهُ ٱلدِّینَ حُنَفَاۤءَ وَیُقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَیُؤۡتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَ ٰ⁠لِكَ دِینُ ٱلۡقَیِّمَةِ [البينة ٥]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ۔
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ [الروم ٤٣]
تو اپنا منہ دین مستقیم کیلئے سیدھا کر
ان آیات سے ثابت ہوا دین ایک ہی دین اسلام ہے اور اسی کا نام دین قیم بھی ہے
پھر اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام دین حنیف بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّینِ حَنِیفࣰاۚ [الروم ٣٠]
ترجمہ کنزالایمان: تو اپنا منہ سیدھا کرو الله کی اطاعت کے لئے۔
دین ایک ہی ہے لیکن اسی دین کا نام ملت ابراہیم بھی رکھا چنانچہ قرآن میں ہے:
قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ {سورۃ آل عمران آیت ٩٥}
ترجمۂ کنز الایمان:
تم فرماؤ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے۔
تفسیر بیضاوی شریف میں اسی آیت کے تحت ہے :
ای ملة الاسلام۔ یعنی ملت ابراہیم سے مراد دین اسلام ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب کیا کوئی معترض یہ کہ سکتا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے دین اسلام کی نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کے دین کی پیروی کا حکم دیا؟ معاذ اللہ
کوئی بھی مسلمان ایسا ہر گز نہیں کہہ سکتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ملت ابراہیم کوئی نئی ملت نہیں بلکہ وہ دین اسلام ہی ہے اور اس کی پیروی کا حکم دیا گیا کیونکہ اس وقت کے لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سچا سمجھتے تھے تو ان کو بتایا گیا کہ دین محمدی کوئی الگ دین نہیں بلکہ وہ ملت ابراہیمی ہی ہے لہذا دین محمدی کی پیروی کرو کیونکہ ملت ابراہیم کو دین محمدی اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور اسی دین محمدی کو بعد میں اہل سنت و جماعت کا نام دیا گیا
تو کیا اس کی روشنی میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت کوئی نیا مسلک نہیں بلکہ وہ مسلک اہل سنت ہی ہے، مسلک اعلی حضرت مسلک اہل سنت کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے تاکہ اس پر کسی بد عیقدے کا وار نہ چل سکے جیسے مان اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے تاکہ کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے۔
آمدم بر سر مطلب! دین ایک ہی دین ہے اور اسی کو قرآن نے صراط مستقیم کہا ہے :
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَ ٰ⁠طَ ٱلۡمُسۡتَقِیمَ [الفاتحة ٦]
دوسری آیت کریمہ میں ہے:
قُلۡ إِنَّنِی هَدَىٰنِی رَبِّیۤ إِلَىٰ صِرَ ٰ⁠طࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ دِینࣰا قِیَمࣰا مِّلَّةَ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ حَنِیفࣰاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ [الأنعام ١٦١]
ترجمۂ کنز الایمان: فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دینِ ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے اور مشرک نہ تھے ۔
قارئین غور کریں دین ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے قرآن میں اللہ جل جلالہ نے اسی دین کا نام اسلام ، ملت ابراہیم، دین قیم، صراط مستقیم، دین حنیف رکھا نیز اسی دین کو علما دین نبی، دین محمدی، دین اہل حق و صلاح سے بھی موسوم کرتے ہیں۔
تو کیا معترض یہاں یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ دین ایک ہی دین ہے تو اسلام کے سوا دوسرے نام رکھنے کی ضرورت کیا ہے ؟ معاذ اللہ
دیکھیے اسلام کے پیروکاروں کا نام اللہ جل جلالہ نے مسلمین رکھا اور دوسری جگہ مومنین بھی فرمایا نیز علما کے نزدیک اہل اسلام کو اہل حق و صلاح بھی کہا جاتا رہا یہاں تک کہ جب رافضیت، خارجیت ،معتزلیت، قدریت وغیرھم کا ظہور ہوا تو خط امتیاز کے لیے مسلمانوں کا نام اہل السنن پڑ گیا پھر جب دیوبندیت، قادیانیت، نیچریت، کا فتنہ وجود میں آیا اور ان فتنہ پروروں نے بھی خود کو اہل سنت کہا تو اہل سنت و جماعت کو خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت والا کہا جانے لگا
تو قرآن کریم اور عرف عام سے یہ ثابت ہوا کہ ایک شی کا کئی نام ہونا عقلا نقلا کسی طور غلط نہیں لہذا مسلک اہل سنت کو اگر مسلک اعلی حضرت کے نام سے موسوم کیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے میں واضح فرق ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
20
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط اول]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢