صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]
تحقیق و تعاقب

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دوازدہم-اخیر قسط]
[اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَیۡنࣰا]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
شعر:
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل
دونوں شعر میں جب لفظ رب سے مراد ذات الہی ہے تو پھر شعر اول متعین فی الکفر اور شعر ثانی متبین فی الکفر کیوں ہے ؟
اقول:
قارئین آپ جان چکے ہیں کہ لفظ رب اردو میں اللہ جل جلالہ کے لیے متعین ہے اور شعر اول میں صریح طور پر رب جل جلالہ کو ظالم کہا گیا ہے اسی لیے یہ شعر ناقابل تاویل متعین فی الکفر ہے
اور شعر ثانی کے مصرع ثانی میں تاویل بعید کی گنجائش یہ ہے کہ رب ہمارا مل گیا سے مراد جلوۂ رب ہمارا مل گیا رب سے مراد اللہ ہی ہے لیکن اس سے پہلے تجلی یا جلوے کو محذوف نکالا گیا ہے تاکہ معنی صحیح ہو جائے کیونکہ انسان ذات الہی کا جلوۂ اتم و اکمل ہے لیکن یہ تاویل کلمہ کو متبین فی الکفر ہونے سے نہیں بچائے گا جیسا کہ امام المتکلمین حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام کے ارتکاب سے
{ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٢٠٧}
بریلی شریف کا فتویٰ ـــــــــــــــ
مفتیِ مرکزی دار الافتاء خلیفۂ تاج الشریعہ ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی سے اسی شعر کے متعلق سوال ہوا:
عاشقوں کے واسطے کعبہ درِ مخدوم ہے
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مذکورہ بالا شعر پر حکم شرع؟
مفتی صاحب قبلہ جوابا رقمطراز ہیں:
اس شعر کے ثانی مصرعے کا ظاہر کفر ہے، گرچہ تاویل بعید (رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے مگر ایسا شعر پڑھنا ضرور حرام سخت حرام اور عوام مسلمین کے لیے گمرہی کے دروازے کھولنا ہے۔ مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
تفصیل کے لیے فتاویٰ رضویہ ششم ص ٢٠٧/٢٠٨دیکھیں
۔
مبحوث عنہ مصرع کے متعلق مفتی صاحب قبلہ نے جو مختصر اور جامع حکم بیان فرمایا فقہاء کرام کی تصریحات و توضیحات خصوصا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے
قارئین: فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مذکور بالا فتوی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے مفتی صاحب قبلہ نے فتوی صادر فرمایا ہے،
فتاوی رضویہ شریف میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت جوابا ارقام فرماتے ہیں:
الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولٰی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع

[فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص: ٢٠٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ مصرع بظاہر صریح کفر ہے کیونکہ محمد کو خدا جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مانے اگر خدا سے ملنا چاہے تو، یہ صریح کفر ہوا اور جو اس کا معتقد ہوگا وہ یقینا کافر ہوگا
مگر اس میں تاویل کی گنجائش یہ ہے کہ مصرع ثانی میں محمد کو خدا جانے سے مراد یہ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا ہی جانے, کوئی کیا جانے, تو یہ بالکل صحیح و صواب ہوگا
اب مبحوث عنہ مصرع اور فتوے میں مذکور مصرع کو ملائیے
ع: صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
پہلا مصرع بظاہر کفر ہے لیکن تاویل کی صورت یہ ہے کہ رب مل گیا سے مراد رب کا جلوہ مل گیا اسی کو مفتی صاحب قبلہ نے اپنے فتوی یوں لکھا:
گرچہ تاویل بعید(رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے
یعنی رب سے مراد تجلی رب
اب مصرع ثانی کو دیکھیے محمد کو خدا جانے سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا جانے
اسی کو امام اہل سنت نے یوں فرمایا :
محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتا ہے
یعنی مرتبۂ محمد کو خدا جانے مطلب یہ ہوا مبحوث عنہ مصرع میں رب کو تجلی رب کر دیا گیا اور فتاوی رضویہ شریف میں مذکور شعر میں محمد کو مرتبۂ محمد ﷺ کر دیا گیا تو ثابت ہوا کہ مضاف کو دونوں جگہ محذوف نکالا گیا تو اب تاویل کے بعد دونوں مصرع کی اصل عبارت یہ ہوگی
ع: صورت اشرف میں ہم کو جلوۂ رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو مرتبۂ محمد کو خدا جانے
تو پتہ چلا رب کو مضاف الیہ اور اس سے پہلے جلوہ یا تجلی کو مضاف بنا کر شعر کی تاویل کرنا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں محمد ﷺ کو مضاف الیہ بنا کر اس سے پہلے مضاف مرتبہ کو محذوف مانا گیا ہے مگر جو دونوں مصرعوں کا ظاہری مفہوم ہے وہ بہت قبیح بلکہ صریح کفر ہے اسی لیے اس کا پڑھنا حرام ہے اور اس کا معتقد کافر ہے۔
ایسے ہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ بعض بظاہر کفریہ اشعار پر حکم شرع بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ، ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ، ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ششم ص ٢٠٧]
قارئین کرام فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مفتی صاحب قبلہ کا بیان کردہ حکم ملاحظہ فرمائیے کہ کتنا واضح اور فقہا کی تصریحات کی ترجمانی ہے
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کیا بظاہر کفر پر احتیاطا تجدید ایمان کا حکم دیا نہیں جائے گا؟
کیا حرام شعر پڑھنے، اور سننے پر حکم توبہ نہیں ہے؟
خاتمۂ تحقیق:
بحمدہ تعالیٰ و تقدس فقہاء کرام کی تصریحات و تشریحات عرف عام کی تنقیحات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مبحوث عنہ مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ قابلِ تاویل ہونے کی وجہ سے قائل کو کافر نہ کہیں گے لیکن اس کا پڑھنا حرام سخت حرام لہذا جس جس نے اس شعر کو پڑھا اور جس جس نے سن کر پسند کیا ان سب پر توبہ لازم اور چاہیے کہ احتیاطا تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرے، واللہ تعالیٰ اعلم

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دوازدہم-اخیر قسط]
[اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَیۡنࣰا]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
شعر:
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل
دونوں شعر میں جب لفظ رب سے مراد ذات الہی ہے تو پھر شعر اول متعین فی الکفر اور شعر ثانی متبین فی الکفر کیوں ہے ؟
اقول:
قارئین آپ جان چکے ہیں کہ لفظ رب اردو میں اللہ جل جلالہ کے لیے متعین ہے اور شعر اول میں صریح طور پر رب جل جلالہ کو ظالم کہا گیا ہے اسی لیے یہ شعر ناقابل تاویل متعین فی الکفر ہے
اور شعر ثانی کے مصرع ثانی میں تاویل بعید کی گنجائش یہ ہے کہ رب ہمارا مل گیا سے مراد جلوۂ رب ہمارا مل گیا رب سے مراد اللہ ہی ہے لیکن اس سے پہلے تجلی یا جلوے کو محذوف نکالا گیا ہے تاکہ معنی صحیح ہو جائے کیونکہ انسان ذات الہی کا جلوۂ اتم و اکمل ہے لیکن یہ تاویل کلمہ کو متبین فی الکفر ہونے سے نہیں بچائے گا جیسا کہ امام المتکلمین حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
مگر حق یہ ہے کہ ایسی تاویل نہ لفظ کو کلمۂ کفریہ ہونے سے بچائے نہ قائل کو اشد حرام کے ارتکاب سے
{ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٢٠٧}
بریلی شریف کا فتویٰ ـــــــــــــــ
مفتیِ مرکزی دار الافتاء خلیفۂ تاج الشریعہ ابو حنظلہ مفتی محمد بلال انور پلاموی حفظہ اللہ القوی سے اسی شعر کے متعلق سوال ہوا:
عاشقوں کے واسطے کعبہ درِ مخدوم ہے
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مذکورہ بالا شعر پر حکم شرع؟
مفتی صاحب قبلہ جوابا رقمطراز ہیں:
اس شعر کے ثانی مصرعے کا ظاہر کفر ہے، گرچہ تاویل بعید (رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے مگر ایسا شعر پڑھنا ضرور حرام سخت حرام اور عوام مسلمین کے لیے گمرہی کے دروازے کھولنا ہے۔ مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
تفصیل کے لیے فتاویٰ رضویہ ششم ص ٢٠٧/٢٠٨دیکھیں
۔
مبحوث عنہ مصرع کے متعلق مفتی صاحب قبلہ نے جو مختصر اور جامع حکم بیان فرمایا فقہاء کرام کی تصریحات و توضیحات خصوصا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے
قارئین: فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مذکور بالا فتوی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے مفتی صاحب قبلہ نے فتوی صادر فرمایا ہے،
فتاوی رضویہ شریف میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
امام اہل سنت جوابا ارقام فرماتے ہیں:
الجواب :
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے۔ ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولٰی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتاہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا موہم لفظ بولنا جائز نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع

[فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص: ٢٠٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ مصرع بظاہر صریح کفر ہے کیونکہ محمد کو خدا جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مانے اگر خدا سے ملنا چاہے تو، یہ صریح کفر ہوا اور جو اس کا معتقد ہوگا وہ یقینا کافر ہوگا
مگر اس میں تاویل کی گنجائش یہ ہے کہ مصرع ثانی میں محمد کو خدا جانے سے مراد یہ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا ہی جانے, کوئی کیا جانے, تو یہ بالکل صحیح و صواب ہوگا
اب مبحوث عنہ مصرع اور فتوے میں مذکور مصرع کو ملائیے
ع: صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
پہلا مصرع بظاہر کفر ہے لیکن تاویل کی صورت یہ ہے کہ رب مل گیا سے مراد رب کا جلوہ مل گیا اسی کو مفتی صاحب قبلہ نے اپنے فتوی یوں لکھا:
گرچہ تاویل بعید(رب کی تجلی) کی بنا پر قائل کو کافر نہ کہیں گے
یعنی رب سے مراد تجلی رب
اب مصرع ثانی کو دیکھیے محمد کو خدا جانے سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو خدا جانے
اسی کو امام اہل سنت نے یوں فرمایا :
محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرتبہ کو الله ہی جانتا ہے
یعنی مرتبۂ محمد کو خدا جانے مطلب یہ ہوا مبحوث عنہ مصرع میں رب کو تجلی رب کر دیا گیا اور فتاوی رضویہ شریف میں مذکور شعر میں محمد کو مرتبۂ محمد ﷺ کر دیا گیا تو ثابت ہوا کہ مضاف کو دونوں جگہ محذوف نکالا گیا تو اب تاویل کے بعد دونوں مصرع کی اصل عبارت یہ ہوگی
ع: صورت اشرف میں ہم کو جلوۂ رب ہمارا مل گیا
ع: خدا سے ملنا چاہے تو مرتبۂ محمد کو خدا جانے
تو پتہ چلا رب کو مضاف الیہ اور اس سے پہلے جلوہ یا تجلی کو مضاف بنا کر شعر کی تاویل کرنا فتاوی رضویہ شریف کے عین مطابق ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں محمد ﷺ کو مضاف الیہ بنا کر اس سے پہلے مضاف مرتبہ کو محذوف مانا گیا ہے مگر جو دونوں مصرعوں کا ظاہری مفہوم ہے وہ بہت قبیح بلکہ صریح کفر ہے اسی لیے اس کا پڑھنا حرام ہے اور اس کا معتقد کافر ہے۔
ایسے ہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ بعض بظاہر کفریہ اشعار پر حکم شرع بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام سخت حرام ہے ، ان میں بعض کلمہ کفریہ ہیں اگرچہ تاویل کے سبب قائل کوکافر نہ کہیں اور بعض موہم کفر ہیں اور یہ بھی حرام ہے ، ردالمحتار میں ہے :
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ششم ص ٢٠٧]
قارئین کرام فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں مفتی صاحب قبلہ کا بیان کردہ حکم ملاحظہ فرمائیے کہ کتنا واضح اور فقہا کی تصریحات کی ترجمانی ہے
جس کسی نے ایسا شعر پڑھا اس پر توبہ لازم احتیاطا تجدید ایمان بھی کرے۔
جن لوگوں نے سن کر پسند کیا وہ بھی توبہ کریں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کیا بظاہر کفر پر احتیاطا تجدید ایمان کا حکم دیا نہیں جائے گا؟
کیا حرام شعر پڑھنے، اور سننے پر حکم توبہ نہیں ہے؟
خاتمۂ تحقیق:
بحمدہ تعالیٰ و تقدس فقہاء کرام کی تصریحات و تشریحات عرف عام کی تنقیحات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مبحوث عنہ مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا اس کا ظاہر کفر ہے اگر چہ قابلِ تاویل ہونے کی وجہ سے قائل کو کافر نہ کہیں گے لیکن اس کا پڑھنا حرام سخت حرام لہذا جس جس نے اس شعر کو پڑھا اور جس جس نے سن کر پسند کیا ان سب پر توبہ لازم اور چاہیے کہ احتیاطا تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرے، واللہ تعالیٰ اعلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
28
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صحیح البہاری آبروئے حنفیت

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢