صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]
تحقیق و تعاقب

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط یازدہم]
احد عشر کوکبا
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری میں تلاش و جستجو کے باوجود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا فتوی نہیں ملا جس میں انھوں نے اردو میں کہیں لفظ رب کی لغوی تاویل کر کے کسی شعر کو یا کسی قول کو درست قرار دیا ہو مگر ہاں ایک فتوی ایسا ضرور ملا جو نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری کی عبارت
بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔
[نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
کی تائید کرتا ہے۔
حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے بارے میں سوال ہوا کہ
کچھ نو جوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔ بہر حال شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوں گے؟
پھر اس کے بعد اشعار رقم کیے گئے جس میں تیسرا شعر یہ ہے
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
اس کے جواب میں حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ارقام فرماتے ہیں:
جتنے اشعار سوال میں درج کیے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کا فر و مرتد ہو گئے ، ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے ، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں ، ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں، کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں ، اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہو تو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں
پھر اشعار میں کفریہ باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
یہ کہنا کہ رب نے مجھ پرستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بنانا ہے، جو صریح کفر ہے
[فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ ٢٥٧/٢٥٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے شعر مذکور کی تاویل نہیں فرمائی یہ نہیں فرمایا کہ رب کا مجازی لغوی معنی پالنے والا ہے لہذا قائل کی تکفیر نہیں ہوگی،
اس کا مطلب یہی ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اردو میں لفظ رب کو قابل تاویل نہیں گردانا اور جہاں جہاں عربی میں غیر اللہ کے لیے لفظ رب کے استعمال کی بات آئی وہاں وہاں آپ نے فرمایا کہ اس میں تاویل ہو سکتی ہے
اگر اردو میں واقعی تاویل کی گنجائش ہوتی تو ہر گز یہ حکم نہ لگاتے کہ
جو یہ شعر پڑھتا ہے وہ کافر و مرتد ہو گیا اس کے تمام اعمال اکارت گئے کافر بھی ایسا کہ کافر کلامی کیونکہ اعمال کا اکارت ہوجانے کا حکم کفر کلامی میں لگایا جاتا ہے کفر فقہی میں نہیں اور ننانوے ہی نہیں نناونوے ہزار احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال بھی اسلام کا ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسے اسلام پر محمول کرے اور حکم کفر کلامی لگانے میں احتیاط برتے
اگر اردو میں لفظ رب کا لغوی معنی مراد لے کر تاویل کی جا سکتی تھی تو پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے تاویل کیوں نہیں کی؟
فرما دیتے کہ یہاں معنی لغوی سردار یا پالنے والا مراد ہے کفر کا حکم نہیں لگتا کیوں کہ شبہ موجود ہے کسی کو کافر کہنا قتل کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب کافر کلامی کہا تو حاکم اسلام کے لیے وہ شخص مباح الدم ہو گیا اگر وہ رجوع نہ کرے تو حاکم اسلام کو اجازت ہے کہ اسے قتل کر دے
عند المتکلمین ادنی شبہ بھی ہو تو کفر کلامی کا حکم نہیں لگایا جاتا ہے اور حد میں بھی اگر ادنی شبہ پایا جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے
اس کو یوں سمجھیے کہ اگر غیر شادی شدہ شخص نے زنا کیا اور اس نے زنا کا خود اقرار کیا یا پھر اس پر گواہان شرعی گزرے تو حاکم اسلام کو حکم ہے کہ زانی اور زانیہ کو سو کوڑے لگائے جیسا کہ سورۂ نور میں ہے:
اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ [سورۂ آیت ٢]
اور اگر شادی شدہ نے زنا کیا تو اسے سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔
جیسا کہ تلمیذ ابن حجر عسقلانی شمس الدین السخاوی المصری اپنی کتاب المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ میں حدیث نقل کرتے ہیں:
٦١٩ - حديث: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة بما قضيا من اللذة.
الطبراني وابن منده في المعرفة عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف، عن خالته العجماء، قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: فذكره۔
[٣ - ص٣٤٧ - المقاصد الحسنة]
واضح ہوا کہ شریعت کا حکم ہے کہ شادی شدہ اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے لیکن اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے زنا کر لیا تو اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کسی پر حد قائم کرنا بہت بڑی سزا ہے تو اس کے تمام شبہات کا ارتفاع بھی ضروری ہے لیکن یہاں شبہ ہے ایک حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انت و مالك لابيك
کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے،
اس سے باندی کا مال میں شمار ہونے کا شبہ ہوا اور اسی شبہ کی وجہ سے لڑکے کے باپ سے حد ساقط ہو گئی
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
(لَا حَدَّ) بِلَازِمٍ (بِشُبْهَةِ الْمَحِلِّ) أَيْ الْمِلْكِ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً أَيْ الثَّابِتُ حُكْمُ الشَّرْعِ بِحِلِّهِ (وَإِنْ ظَنَّ حُرْمَتَهُ كَوَطْءِ أَمَةِ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ) وَإِنْ سَفَلَ وَلَوْ وَلَدُهُ حَيًّا فَتْحٌ، لِحَدِيثِ «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيك» (وَمُعْتَدَّةِ الْكِنَايَاتِ) وَلَوْ خُلْعًا خَلَا عَنْ مَالٍ
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤- الصفحة ١٩ - جامع الكتب الإسلامية]
بہار شریعت میں ہے:
جس عورت سے وطی کی گئی اُس میں مِلک کا شبہہ ہو تو حد قائم نہ ہوگی اگرچہ اوس کو حرام ہونے کا گمان ہو، جیسے اپنی اولاد کی باندی۔ [حصہ نہم صفحہ ٣٧٨]
ایسے ہی کسی پر حکم کفر کلامی لگانے کے لیے احتمال فی الکلام، احتمال فی التکلم، احتمال فی المتکلم تینوں احتمالات کا ارتفاع ضروری ہے ورنہ حکم کفر کلامی لگانا ہر گز صحیح نہیں ہوگا
اور اگر اردو میں رب کا لغوی معنی لینا درست ہو تو ظاہر ہے کہ شعر مذکور کا مصرع اول
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
اس میں احتمال فی الکلام ہوگا کیونکہ رب کئی معنوں میں مشترک ہے لیکن حضور شارح بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں فرمایا کہ لغوی معنی سے شعر درست ہو جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں یہاں اس کا احتمال ہی نہیں ہے اس لیے کہ عرف نے معنی پروردگار کی تعیین کر دی اس لیے کہ عرف میں رب سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہوتی ہے اور المعتقد المنتقد میں ہے کہ قرائن خارجیہ سے معنی کی تعیین ہو جاتی ہے۔
امام المتکلمین اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی المستند المعتمد میں فرماتے ہیں:
فان القرائن السابقة واللاحقة ربما تعين على تعين المراد - (ص: ۱۵۷)
یعنی بسا اوقات قرائن سابقه و لاحقہ معنی مراد کی تعیین پر معین ہوتے ہیں۔
مسلم الثبوت مع فواتح الرحموت میں مدقق بہاری علامہ محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان القرينة قد تفيد القطع ( ج: ۲ص: ۲۱۳) یعنی کبھی قرینہ بھی یقین کا افادہ کرتا ہے ۔
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں ہے :
و انت لا يذهب عليك ان القرائن الخارجية ربما تفيد العلم عادة ۔ ( ج: ۲ص:۲۶۸)
یعنی تم سے یہ بات مخفی نہیں کہ بسا اوقات قرائن خارجیہ سے بھی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔
اور یہاں عرف قرائن خارجیہ میں سے ہے جو اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ شعر مذکور میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہی ہے
تو اس فتوی سے معلوم ہوا کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ اردو میں لفظ رب کا استعمال غیر خدا کے لیے روا نہیں رکھتے ہیں اسی لیے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے رب الارباب والے فتویٰ سے استدلال کرنا اور لغت کے حوالے سے تاویل کر کے لفظ رب سے معنی دیگر مراد لینا صحیح نہیں ہے
رب بمعنی مجازی ــــــــــــــــ
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش کر سکتا ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے رب الارباب والے فتویٰ میں فرمایا ہے کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجازی معنی میں رب کا استعمال ہو سکتا ہے اگر چہ حقیقی معنی میں نہ ہو؟
اقول:
قارئین حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے فتوی پر غور فرمائیں کہ انھوں نے پہلے سورۂ یوسف کی آیتیں پیش کی ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہاں یعنی جو سورۂ یوسف میں اذکر عند رب انه ربی احسن مثوای ربه خمرا مذکور ہے تو یہاں رب بمعنی مجازی ہے
اور مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے لغت پر نہیں جیسا کہ اس کی تعریف سے ہی معلوم ہوتا ہے
اصول الشاشی میں ہے:
کل لفظ وضعه واضع اللغۃ بازاء شیئ فہو حقیقۃ له و لو استعمل فی غیرہ یکون مجازاً لا حقیقۃ [اصول الشاشی ص : ٣٢]
ہر وہ لفظ جس کو واضع لغت نے کسی شی کے مقابلے میں وضع کیا ہو تو وہ حقیقت ہے اور اگر معنی حقیقی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگ جائے تو مجاز ہے حقیقت نہیں
جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اب اگر اس نے زید کے گھر میں دائیں یا بائیں قدم رکھا اور پھر باہر کر لیا یا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر رکھا اور اس نے اپنے دونوں قدم گھر کے اندر رکھے پھر باہر کر لیے تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی حالانکہ قسم ٹوٹ جانا چاہیے کیونکہ اس نے اپنا قدم گھر کے اندر رکھا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہاں قدم رکھنے سے مراد داخل ہونا ہے تو جب تک گھر کے اندر داخل نہیں ہوگا تب تک فقط قدم کے رکھ دینے سے حانث نہیں ہوگا جب داخل ہوگا تبھی حانث ہوگا
اسی کے بارے میں اصول الشاشی میں ہے:
وضع القدم صار مجازا عن الدخول بحکم العرف
[اصول الشاشی ص : ٣٥]
باعتبار عرف قدم رکھنا داخل ہونے سے مجاز ہو گیا
قارئین آپ نے جب یہ جان لیا مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے اور آپ نے گزشتہ تحریر میں امام نووی رضی اللہ عنہ کی کتاب الاذکار من کلام سید الابرار کے حوالے سے یہ بھی جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے یہاں یہ عرف تھا کہ بادشاہ کو رب کہتے تھے تو لہذا ان کے یہاں رب بمعنی مجازی ہوا اسی کو شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اور ہمارے زمانے میں اردو میں رب بمعنی مجازی کا عرف نہیں ہے تو یہاں رب کا معنی حقیقی یعنی اللہ جل جلالہ کی ذات متعین ہوگی
نیز آگے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں یہ نہیں فرمایا کہ اردو میں رب کہنے میں کوئی حرج نہیں فتدبر!
اب جب بات قرینے کی آگئی تو کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس میں ایسا کوئی قرینہ ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے میں دلالت کرتا ہو
تو وہ جان لے کہ اس شعر میں ایسا تو کوئی قرینہ نہیں ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے پر دلالت کرے لیکن ہاں ایسا قرینہ ضرور ہے جو رب کا معنی حقیقی مراد لینے پر ضرور دلالت کرتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شعر : عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مصرع اول میں لفظ کعبہ قرینہ ہے اس بات پر کہ مصرع ثانی میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے
رہی بات شعر میں تاویل کی گنجائش کیوں ہے جس کی وجہ سے فقط بظاہر کفر کہا گیا ہے تو کہ اس کی وجہ دوسری ہے
لہذا ان تمام دلائل و براہین توضیحات و تشریحات کے پیش نظر مفتی صاحب کا فتوی محل نظر ہے چاہیے کہ اس پر مزید غور و فکر فرما لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط یازدہم]
احد عشر کوکبا
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری میں تلاش و جستجو کے باوجود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا فتوی نہیں ملا جس میں انھوں نے اردو میں کہیں لفظ رب کی لغوی تاویل کر کے کسی شعر کو یا کسی قول کو درست قرار دیا ہو مگر ہاں ایک فتوی ایسا ضرور ملا جو نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری کی عبارت
بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔
[نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
کی تائید کرتا ہے۔
حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ سے بعض اشعار کے بارے میں سوال ہوا کہ
کچھ نو جوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔ بہر حال شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوں گے؟
پھر اس کے بعد اشعار رقم کیے گئے جس میں تیسرا شعر یہ ہے
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
اس کے جواب میں حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ارقام فرماتے ہیں:
جتنے اشعار سوال میں درج کیے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کا فر و مرتد ہو گئے ، ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے ، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں ، ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں، کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں ، اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہو تو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں
پھر اشعار میں کفریہ باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
یہ کہنا کہ رب نے مجھ پرستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بنانا ہے، جو صریح کفر ہے
[فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ ٢٥٧/٢٥٨]
قارئین ملاحظہ فرمائیں فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے شعر مذکور کی تاویل نہیں فرمائی یہ نہیں فرمایا کہ رب کا مجازی لغوی معنی پالنے والا ہے لہذا قائل کی تکفیر نہیں ہوگی،
اس کا مطلب یہی ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اردو میں لفظ رب کو قابل تاویل نہیں گردانا اور جہاں جہاں عربی میں غیر اللہ کے لیے لفظ رب کے استعمال کی بات آئی وہاں وہاں آپ نے فرمایا کہ اس میں تاویل ہو سکتی ہے
اگر اردو میں واقعی تاویل کی گنجائش ہوتی تو ہر گز یہ حکم نہ لگاتے کہ
جو یہ شعر پڑھتا ہے وہ کافر و مرتد ہو گیا اس کے تمام اعمال اکارت گئے کافر بھی ایسا کہ کافر کلامی کیونکہ اعمال کا اکارت ہوجانے کا حکم کفر کلامی میں لگایا جاتا ہے کفر فقہی میں نہیں اور ننانوے ہی نہیں نناونوے ہزار احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال بھی اسلام کا ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اسے اسلام پر محمول کرے اور حکم کفر کلامی لگانے میں احتیاط برتے
اگر اردو میں لفظ رب کا لغوی معنی مراد لے کر تاویل کی جا سکتی تھی تو پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے تاویل کیوں نہیں کی؟
فرما دیتے کہ یہاں معنی لغوی سردار یا پالنے والا مراد ہے کفر کا حکم نہیں لگتا کیوں کہ شبہ موجود ہے کسی کو کافر کہنا قتل کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب کافر کلامی کہا تو حاکم اسلام کے لیے وہ شخص مباح الدم ہو گیا اگر وہ رجوع نہ کرے تو حاکم اسلام کو اجازت ہے کہ اسے قتل کر دے
عند المتکلمین ادنی شبہ بھی ہو تو کفر کلامی کا حکم نہیں لگایا جاتا ہے اور حد میں بھی اگر ادنی شبہ پایا جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے
اس کو یوں سمجھیے کہ اگر غیر شادی شدہ شخص نے زنا کیا اور اس نے زنا کا خود اقرار کیا یا پھر اس پر گواہان شرعی گزرے تو حاکم اسلام کو حکم ہے کہ زانی اور زانیہ کو سو کوڑے لگائے جیسا کہ سورۂ نور میں ہے:
اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ [سورۂ آیت ٢]
اور اگر شادی شدہ نے زنا کیا تو اسے سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔
جیسا کہ تلمیذ ابن حجر عسقلانی شمس الدین السخاوی المصری اپنی کتاب المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ میں حدیث نقل کرتے ہیں:
٦١٩ - حديث: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة بما قضيا من اللذة.
الطبراني وابن منده في المعرفة عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف، عن خالته العجماء، قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: فذكره۔
[٣ - ص٣٤٧ - المقاصد الحسنة]
واضح ہوا کہ شریعت کا حکم ہے کہ شادی شدہ اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے لیکن اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے زنا کر لیا تو اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کسی پر حد قائم کرنا بہت بڑی سزا ہے تو اس کے تمام شبہات کا ارتفاع بھی ضروری ہے لیکن یہاں شبہ ہے ایک حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انت و مالك لابيك
کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے،
اس سے باندی کا مال میں شمار ہونے کا شبہ ہوا اور اسی شبہ کی وجہ سے لڑکے کے باپ سے حد ساقط ہو گئی
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
(لَا حَدَّ) بِلَازِمٍ (بِشُبْهَةِ الْمَحِلِّ) أَيْ الْمِلْكِ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً أَيْ الثَّابِتُ حُكْمُ الشَّرْعِ بِحِلِّهِ (وَإِنْ ظَنَّ حُرْمَتَهُ كَوَطْءِ أَمَةِ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ) وَإِنْ سَفَلَ وَلَوْ وَلَدُهُ حَيًّا فَتْحٌ، لِحَدِيثِ «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيك» (وَمُعْتَدَّةِ الْكِنَايَاتِ) وَلَوْ خُلْعًا خَلَا عَنْ مَالٍ
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤- الصفحة ١٩ - جامع الكتب الإسلامية]
بہار شریعت میں ہے:
جس عورت سے وطی کی گئی اُس میں مِلک کا شبہہ ہو تو حد قائم نہ ہوگی اگرچہ اوس کو حرام ہونے کا گمان ہو، جیسے اپنی اولاد کی باندی۔ [حصہ نہم صفحہ ٣٧٨]
ایسے ہی کسی پر حکم کفر کلامی لگانے کے لیے احتمال فی الکلام، احتمال فی التکلم، احتمال فی المتکلم تینوں احتمالات کا ارتفاع ضروری ہے ورنہ حکم کفر کلامی لگانا ہر گز صحیح نہیں ہوگا
اور اگر اردو میں رب کا لغوی معنی لینا درست ہو تو ظاہر ہے کہ شعر مذکور کا مصرع اول
رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے
اس میں احتمال فی الکلام ہوگا کیونکہ رب کئی معنوں میں مشترک ہے لیکن حضور شارح بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں فرمایا کہ لغوی معنی سے شعر درست ہو جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں یہاں اس کا احتمال ہی نہیں ہے اس لیے کہ عرف نے معنی پروردگار کی تعیین کر دی اس لیے کہ عرف میں رب سے اللہ جل جلالہ کی ذات مراد ہوتی ہے اور المعتقد المنتقد میں ہے کہ قرائن خارجیہ سے معنی کی تعیین ہو جاتی ہے۔
امام المتکلمین اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی المستند المعتمد میں فرماتے ہیں:
فان القرائن السابقة واللاحقة ربما تعين على تعين المراد - (ص: ۱۵۷)
یعنی بسا اوقات قرائن سابقه و لاحقہ معنی مراد کی تعیین پر معین ہوتے ہیں۔
مسلم الثبوت مع فواتح الرحموت میں مدقق بہاری علامہ محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان القرينة قد تفيد القطع ( ج: ۲ص: ۲۱۳) یعنی کبھی قرینہ بھی یقین کا افادہ کرتا ہے ۔
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں ہے :
و انت لا يذهب عليك ان القرائن الخارجية ربما تفيد العلم عادة ۔ ( ج: ۲ص:۲۶۸)
یعنی تم سے یہ بات مخفی نہیں کہ بسا اوقات قرائن خارجیہ سے بھی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔
اور یہاں عرف قرائن خارجیہ میں سے ہے جو اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ شعر مذکور میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہی ہے
تو اس فتوی سے معلوم ہوا کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ اردو میں لفظ رب کا استعمال غیر خدا کے لیے روا نہیں رکھتے ہیں اسی لیے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے رب الارباب والے فتویٰ سے استدلال کرنا اور لغت کے حوالے سے تاویل کر کے لفظ رب سے معنی دیگر مراد لینا صحیح نہیں ہے
رب بمعنی مجازی ــــــــــــــــ
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش کر سکتا ہے کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے رب الارباب والے فتویٰ میں فرمایا ہے کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجازی معنی میں رب کا استعمال ہو سکتا ہے اگر چہ حقیقی معنی میں نہ ہو؟
اقول:
قارئین حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کے فتوی پر غور فرمائیں کہ انھوں نے پہلے سورۂ یوسف کی آیتیں پیش کی ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہاں یعنی جو سورۂ یوسف میں اذکر عند رب انه ربی احسن مثوای ربه خمرا مذکور ہے تو یہاں رب بمعنی مجازی ہے
اور مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے لغت پر نہیں جیسا کہ اس کی تعریف سے ہی معلوم ہوتا ہے
اصول الشاشی میں ہے:
کل لفظ وضعه واضع اللغۃ بازاء شیئ فہو حقیقۃ له و لو استعمل فی غیرہ یکون مجازاً لا حقیقۃ [اصول الشاشی ص : ٣٢]
ہر وہ لفظ جس کو واضع لغت نے کسی شی کے مقابلے میں وضع کیا ہو تو وہ حقیقت ہے اور اگر معنی حقیقی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگ جائے تو مجاز ہے حقیقت نہیں
جیسے کسی نے قسم کھائی کہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اب اگر اس نے زید کے گھر میں دائیں یا بائیں قدم رکھا اور پھر باہر کر لیا یا پھر کسی نے اس کو پکڑ کر رکھا اور اس نے اپنے دونوں قدم گھر کے اندر رکھے پھر باہر کر لیے تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی حالانکہ قسم ٹوٹ جانا چاہیے کیونکہ اس نے اپنا قدم گھر کے اندر رکھا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہاں قدم رکھنے سے مراد داخل ہونا ہے تو جب تک گھر کے اندر داخل نہیں ہوگا تب تک فقط قدم کے رکھ دینے سے حانث نہیں ہوگا جب داخل ہوگا تبھی حانث ہوگا
اسی کے بارے میں اصول الشاشی میں ہے:
وضع القدم صار مجازا عن الدخول بحکم العرف
[اصول الشاشی ص : ٣٥]
باعتبار عرف قدم رکھنا داخل ہونے سے مجاز ہو گیا
قارئین آپ نے جب یہ جان لیا مجاز کا دار و مدار عرف یا قرینے پر ہے اور آپ نے گزشتہ تحریر میں امام نووی رضی اللہ عنہ کی کتاب الاذکار من کلام سید الابرار کے حوالے سے یہ بھی جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے یہاں یہ عرف تھا کہ بادشاہ کو رب کہتے تھے تو لہذا ان کے یہاں رب بمعنی مجازی ہوا اسی کو شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہاں رب بمعنی مجازی ہے اور ہمارے زمانے میں اردو میں رب بمعنی مجازی کا عرف نہیں ہے تو یہاں رب کا معنی حقیقی یعنی اللہ جل جلالہ کی ذات متعین ہوگی
نیز آگے حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں یہ نہیں فرمایا کہ اردو میں رب کہنے میں کوئی حرج نہیں فتدبر!
اب جب بات قرینے کی آگئی تو کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس میں ایسا کوئی قرینہ ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے میں دلالت کرتا ہو
تو وہ جان لے کہ اس شعر میں ایسا تو کوئی قرینہ نہیں ہے جو رب کا معنی مجازی مراد لینے پر دلالت کرے لیکن ہاں ایسا قرینہ ضرور ہے جو رب کا معنی حقیقی مراد لینے پر ضرور دلالت کرتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شعر : عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
مصرع اول میں لفظ کعبہ قرینہ ہے اس بات پر کہ مصرع ثانی میں رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے
رہی بات شعر میں تاویل کی گنجائش کیوں ہے جس کی وجہ سے فقط بظاہر کفر کہا گیا ہے تو کہ اس کی وجہ دوسری ہے
لہذا ان تمام دلائل و براہین توضیحات و تشریحات کے پیش نظر مفتی صاحب کا فتوی محل نظر ہے چاہیے کہ اس پر مزید غور و فکر فرما لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
31
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دوازدہم اخیر قسط]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢