صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حضور حجۃ الاسلام کا علمی مقام
شخصیات اسلاف واخلاف

حضور حجۃ الاسلام کا علمی مقام

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علمی مقام
شہزادۂ امامِ اہلِ سنت، حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار علوم و فنون میں مہارت عطا فرمائی۔ مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنے والدِ گرامی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور اصلاحِ امت میں صرف فرمائی۔ علمی عظمت، روحانی وجاہت اور دینی خدمات کے اعتراف میں اہلِ علم نے آپ کو سلطان العلماء والمحققین، تاج العرفاء والکاملین اور حجۃ الاسلام جیسے جلیل القدر القاب سے نوازا۔ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بحرِ علم کی وسعت کا اندازہ درج ذیل چند جھلکیوں سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
درس و تدریس:
حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابتدائی علمی استفادہ اپنے والدِ گرامی، سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا۔ دورانِ درس آپ کے بعض علمی سوالات ایسے دقیق اور دل نشین ہوتے کہ حضور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے جواب تحریر فرماتے ہوئے ”قال الولد الأعز“ کے الفاظ لکھ کر سوال و جواب کو محفوظ فرما دیتے۔ مدینہ منورہ میں علامہ عبد القادر طرابلسی شامی سے ہونے والی علمی گفتگو کا ذکر بھی سرکار اعلیٰ حضرت نے اپنے ملفوظات میں خود فرمایا ہے۔
سن ؁١٣٢٣ھ میں حضور اعلیٰ حضرت کے دوسرے تاریخی حج کے موقع پر جب حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی مرتبہ ان کے ہمراہ حرمین شریفین کی حاضری سے مشرف ہوئے تو مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں شیخ العُلیٰ علامہ محمد سعید اور علامہ سید احمد برزنجی کے حلقۂ درس میں شریک رہے۔ اس سفر کے دوران متعدد اکابر علماء نے انہیں اسنادِ علم سے نوازا، جبکہ علامہ خلیل خربوطی نے فقہِ حنفی کی وہ سند عطا فرمائی جو انہیں علامہ سید طحطاوی سے صرف دو واسطوں کے ذریعے حاصل ہوئی تھی، سبحان اللہ تعالیٰ! بعد ازاں حجۃ الاسلام کے تلامذہ کو خود سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسناد عطا فرمائیں۔ آپ نے دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف میں صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ بالخصوص تفسیرِ بیضاوی شریف کے درس میں آپ کو ایسا امتیاز حاصل تھا کہ اس فن میں آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا تھا۔
حضور حجۃ الاسلام بحیثیتِ معلم
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان کو تدریس کے میدان میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ درس و تدریس کے طریقوں پر آپ کی گہری گرفت اور مختلف علوم پر کامل عبور نے آپ کو ایک ممتاز معلم کی حیثیت عطا کی تھی۔ ایک موقع پر دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف کے چند اہم اساتذہ نے تدریسی خدمات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس صورتِ حال میں حضور حجۃ الاسلام نے کسی پریشانی کا اظہار کرنے کے بجائے خود تمام اہم فنون و علوم کی کتابوں کا درس اپنے ذمہ لے لیا۔
آپ کی علمی وسعت اور تدریسی صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ ہر کتاب نہایت عمدہ انداز میں پڑھائی، جس کے نتیجے میں یہ تأثر خود بخود ختم ہو گیا کہ ان اساتذہ کے بغیر ادارہ اپنی علمی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا یا طلبہ منتشر ہو جائیں گے۔ بلکہ اس کے برعکس، آپ کی تدریسی قابلیت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی، جس کے اثر سے متعدد باصلاحیت طلبہ نے دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخلہ لے کر اس کے علمی حلقے کو مزید وسیع کیا۔
حق کے معاملے میں غیر متزلزل استقامت
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے دینی اصولوں پر کبھی مصلحت کو ترجیح نہیں دی۔ جب مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی بعض سیاسی سرگرمیوں اور تحریروں کے باعث سیدنا امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے متعلق شرعی فتویٰ صادر فرمایا، تو سیدی حجۃ الاسلام نے بھی اس فیصلے کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ اختیار کیے رکھا۔
پھر حرمین شریفین کے قبہ جات کی مسماری اور وہاں ہونے والی بے حرمتی کے خلاف لکھنؤ میں ایک عظیم اجتماع منعقد کیا گیا۔ جس کا اہتمام مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے کیا تھا۔ اس موقع پر جماعت رضائے مصطفیٰ کی نمائندگی کرتے ہوئے سیدی حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چند ممتاز علماء کے ہمراہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔
کانفرنس کے شرکاء نے نہایت گرمجوشی سے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا عبد الباری بھی احتراماً مصافحہ کے لیے آگے بڑھے، مگر سیدی حجۃ الاسلام نے نہایت وضاحت کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب تک سیدی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ برقرار ہے اور اس کے مطابق رجوع و توبہ نہیں کی جاتی، اس وقت تک مصافحہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔
اس بے لاگ طرزِ عمل نے مولانا عبد الباری کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ، جنہیں ”صوت الایمان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، بالآخر برملا اپنی سابقہ روش سے رجوع کر گئے۔ انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی ہی اصل حقیقت ہے، اس لیے وہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرتے ہیں، اور یہ بھی اعلان کیا کہ سیدی امام احمد رضا خان (علیہ الرحمۃ والرضوان) نے ان کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، وہ حق اور درست ہے۔
علمی مقام کا ایک روشن پہلو
حضور حجۃ الاسلام مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمی رسوخ کا اعتراف برصغیر کے بڑے علمی مراکز بھی کرتے تھے۔ اسی بنا پر دارالعلوم معینیہ، اجمیر معلیٰ کی انتظامیہ نے آپ کو طلبہ کے امتحان لینے اور ادارے کے تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔
امتحان اور معائنہ مکمل ہونے کے بعد دارالعلوم کے مہتمم مولانا معین الدین اجمیری نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے تأثرات تحریری صورت میں بھی قلم بند فرما دیں۔ اس پر سیدنا سرکار حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں لکھ سکتے ہیں، اس لیے جس زبان میں مناسب سمجھا جائے، اسی میں رپورٹ تحریر کر دیں گے۔ مولانا معین الدین نے عربی زبان کا انتخاب کیا، حالانکہ اس وقت تک وہ سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی مرتبے سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ یہ سنتے ہی حضور حجۃ الاسلام نے بارگاہِ سلطان الہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کسی تیاری یا مسودے کے بغیر نہایت فصیح و بلیغ عربی میں کئی صفحات پر مشتمل معائنہ تحریر فرما دیا۔ اس دوران مولانا معین الدین حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے۔ انہیں اپنی عربی پر خاص اعتماد تھا، لیکن یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس تحریر میں کس درجے کی علمی و ادبی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں جب اس تحریر کا مفہوم سمجھنے کے لیے اسے پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی عبارت عام عربی سے کہیں زیادہ دقیق ہے۔ لغات میں معانی کی جستجو جاری رہی۔ بہت بعد میں عربی علماء کی تصانیف اور ان کی زبان سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد ان مشکل تعبیرات کی حقیقت واضح ہوئی، جس سے حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عربی دانی اور غیر معمولی علمی استعداد کا اندازہ ہوتا ہے۔
سیاسی جلسے میں علمی برتری کا مظاہرہ
بریلی شریف میں ایک موقع پر خلافتی تحریک سے وابستہ افراد اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایک بڑا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کو بھی مدعو کیا گیا۔ چند علمائے اہلِ سنت بھی اس اجتماع میں شریک تھے اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔ دورانِ جلسہ علمی مناظرے کی تجویز سامنے آئی۔
مخالف فریق کو ابوالکلام آزاد کی خطابت، حاضر جوابی اور عربی دانی پر غیر معمولی اعتماد تھا، اس لیے اسے اپنی نمائندگی کے لیے پیش کیا گیا۔ دوسری جانب اہلِ سنت کی طرف سے علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات کے سربراہ حضرت علامہ سید سلیمان اشرف بہاری رحمہ اللہ تعالیٰ کو مناظر مقرر کیا گیا، جبکہ حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان پورے وفد کی سرپرستی اور رہنمائی فرما رہے تھے۔
مناظرے کا آغاز ہوتے ہی علامہ سلیمان اشرف نے نہایت مضبوط علمی انداز میں یکے بعد دیگرے سوالات پیش کیے، اور سیدی حجۃ الاسلام وقتاً فوقتاً ان کی رہنمائی بھی فرماتے رہے۔ ان مدلل سوالات کے سامنے ابوالکلام آزاد اور اس کے رفقاء خاموش ہو کر رہ گئے۔ جب حضرت سید سلیمان اشرف نے اپنی تقریر شروع کی تو ابوالکلام آزاد کی جانب سے کوئی مؤثر جواب سامنے نہ آ سکا۔ حاضرین اس غیر متوقع صورتِ حال کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جس شخصیت کی زبان آوری کے بڑے چرچے تھے، وہ اس موقع پر خاموش کیوں ہے۔
اسی سلسلے میں ایک مرتبہ ابوالکلام آزاد نے عربی زبان میں مناظرے کا مطالبہ کیا۔ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے صرف ایک شرط عائد فرمائی کہ مناظرے کے آغاز سے اختتام تک گفتگو اور استدلال مکمل طور پر عربی زبان ہی میں ہوگا اور ایک جگہ یہ بھی آیا ہے کہ عربی کے ساتھ بات نثر نہیں بلکہ نظم کی صورت میں ہوگی۔ یہ شرط سنتے ہی ابوالکلام آزاد نے مناظرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اس معاملے کو آگے نہ بڑھایا۔ اس سے معلوم چلتا ہے کہ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عربی میں کتنی زبردست مہارت حاصل تھی۔
تحفظِ شریعت میں بے باک کردار
مسلمانوں کے عائلی قوانین، خصوصاً نکاح و طلاق سے متعلق مجوزہ قانون پر غور کے لیے لکھنؤ میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ بریلی شریف سے سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ امامِ اہلِ سنت حضور صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور مولانا تقدس علی خان رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس اجتماع میں شرکت فرمائی۔
کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء اور اہلِ علم شریک تھے۔ ان میں شیعہ اور ندوی علماء کے علاوہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سلیمان اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے داماد و بھتیجے عبدالوالی بھی موجود تھے۔ اس علمی نشست میں جب مختلف آراء پیش کی گئیں تو سیدی حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے مضبوط دلائل اور مدلل گفتگو کے ذریعے ہر اعتراض کا جواب دیا۔ آپ کے استدلال کی قوت کے باعث مخالف نقطۂ نظر برقرار نہ رہ سکا، اور آخرکار فیصلہ آپ ہی کے مؤقف کے مطابق ہوا۔
دینِ اسلام، شریعتِ مصطفوی اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کا معاملہ ہو تو شہزادۂ حضور اعلیٰ حضرت سرکار حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے ہمیشہ بے لاگ (بے جھجک) انداز اختیار فرمایا۔ حق بات کہنے میں نہ کسی دباؤ کو خاطر میں لائے اور نہ کسی مصلحت کو اپنے موقف پر غالب آنے دیا۔
عربی زبان پر غیر معمولی دسترس
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز کو عربی زبان و ادب پر ایسی گہری مہارت حاصل تھی کہ عربی علماء بھی اس کے معترف تھے۔ آپ کی فصاحت، بلاغت اور علمی استعداد کا اعتراف صرف برصغیر تک محدود نہ رہا بلکہ حجاز کے اہلِ علم نے بھی کھلے الفاظ میں اس کی تحسین کی۔
سن ؁١٣٤٢ھ میں دوسرے سفرِ حج کے دوران عرب کے ممتاز علماء، شیخ سید حسن دباغ اور سید محمد مالکی ترکی نے آپ کی عربی دانی کو سراہتے ہوئے اظہار کیا کہ انہوں نے پورے ہندوستان میں حضور سیدی حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ عالم نہیں دیکھا، جسے عربی زبان پر اس درجے کا عبور حاصل ہو۔
آپ کی عربی نویسی کا ایک نمایاں واقعہ یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی نے اپنی ایک تصنیف، جو مسئلۂ علمِ غیب پر لکھی گئی تھی، اس پر تقریظ لکھنے کی درخواست کی۔ سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی پیشگی تیاری کے بغیر اسی وقت نہایت جامع اور بلیغ عربی میں ایک مفصل تقریظ قلم بند فرما دی۔ اسی طرح جب سلطانِ شعر و سخن، امامِ علم و فن حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عربی تصانیف ”الدولة المكية“ اور ”كفل الفقيه الفاهم“ کی اشاعت کا مرحلہ آیا تو ان کے ارشاد پر سیدی حجۃ الاسلام نے فوراً عربی زبان میں ان کی تمہیدات تحریر کر دیں۔ ان علمی مقدمات کو دیکھ کر سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے حد مسرور ہوئے، آپ کی علمی صلاحیت کی بھرپور تحسین فرمائی اور اپنے خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
[ماخوذ از حجۃ الاسلام، فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں وغیرہ]
تصانیف
کسی ذات کا علمی مقام اس کی لکھی کتابوں سے بھی ہوتا ہے۔ حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان نے بھی اپنا مبارک قلم چلایا اور دینِ حق کی خدمات انجام دیں۔ کہیں اس قلم سے ایسے فتاویٰ تحریر فرمائے کہ دشمنانِ اسلام کفار و بدمذہباں کے درمیان زلزلہ آ گیا، کبھی اپنے قلم سے دقیق مسائل کو بھی بخوبی حل فرمایا۔ چند مشہور تصانیف و تالیفات یہ ہیں:
[١] مجموعہ فتاویٰ [٢] الصارم الربانی علی اسراف القادیانی (۱۳۱۵ھ) [٣] نعتیہ دیوان (بیاضِ پاک) [٤] تمہید اور ترجمہ الدولیۃ المکیۃ ۱۳۲۳ھ /۱۹۰۵ [٥] تمہید الاجازت المتینہ لعلماء بکۃ و المدینۃ ۱۳۴۰ھ / ۱۹۰۶ء [٦] تمہید کفل الفقیہ الفاہم ۱۳۴۰ ھ [٧] تاریخی نام ، خطبہ الوظیفۃ الکریمہ ۱۳۳٨ [٨] سد الفرار [٩] سلامۃ اللہ لاہل السنۃ من سبیل العناد و الفتنۃ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۱۳ [١٠] حاشیہ ملا جلال [١١] کنز المصلی پرحاشیہ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۰۵ [١٢] اجلی انوار الرضا ۱۳۳۴ھ / ۱۹۱۵ء [١٣] آثار المبتدعین لہدم حبل اللہ المتین [١٤] وقایہ اہل سنت۔
الصارم الربانی علی اسراف القادیانی: قادیانیت کے فتنہ کے خلاف ابتدائی اور مؤثر علمی اقدام میں حضور حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ فتویٰ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اُس وقت مرزا غلام احمد قادیانی زندہ تھا اور اپنے باطل دعووں کی اشاعت میں مصروف تھا، مگر صرف ۲۳؍برس کی عمر میں حضور حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے گمراہ کن نظریات کا مدلل رد فرمایا۔ ایک سوال کے جواب میں دیا گیا فتویٰ ”الصارم الربانی علی إسراف القادیانی“ کے نام سے کتابی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔
یہ فتویٰ علمی تحقیق اور قوتِ استدلال کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کی قدر و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے خود سیدی اعلیٰ حضرت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”فقیر کو بھی اس دعویٰ سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثلِ مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مسیح کلمہ اللہ علیہ صلوٰۃ اللہ بلکہ مسیح دجال علیه اللعن والنکال، پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظه اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنام تاریخی ”الصارم الربانی علی اسراف القادیانی“ مسمٰی کیا، یہ رسالہ حامئ سنن، ماحئ فتن، ندوه شکن، ندوی فگن۔ [فتاویٰ رضویہ]
ظلمتِ جہل میں روشن ہوا فتویٰ تیرا
برق کے مثل چلا کفر پہ خامہ تیرا
تشنگی علم کی ہر پیاسا بجھا لیتا ہے
علم و حکمت کا سدا جاری ہے دریا تیرا
(انس حاؔمی)

فنِ شاعری میں امتیاز

حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس طرح مختلف علوم و فنون میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی، اسی طرح فنِ شاعری میں بھی آپ کا ایک منفرد مقام تھا۔ آپ نے نہایت دقیق اور مشکل بحور میں ایسا پُرمعارف کلام تحریر فرمایا کہ اہلِ ذوق آج بھی اس کی فکری گہرائی اور فنی لطافت پر حیران رہ جاتے ہیں۔ آپ کے ہر شعر میں معانی کی وسعت، فکر کی بلندی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی حرارت اور اخلاص و للہیت کی ایسی شان نمایاں ہوتی ہے جو آپ کے کلام کو منفرد بنا دیتی ہے۔
آپ کا شعری سرمایہ ایک حادثے میں جل کر ضائع ہو گیا۔ کسی نے افسوس کے ساتھ عرض کیا: ”حضور! آپ کا دیوان جل گیا۔“ آپ نے نہایت بے نیازی سے فرمایا: ”جس ذات کی رضا کے لیے یہ اشعار لکھے تھے، اگر اس کی بارگاہ میں مقبول ہوگئے تو یہی میری کامیابی ہے، اور اگر قبول نہ ہوئے تو پھر ان کا جل جانا ہی بہتر ہے۔“
یہ جواب آپ کے اخلاص، بے نفسی اور رضائے الٰہی کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا روشن ثبوت ہے۔
چند کلام جو محفوظ رہے ان کا مجموعہ بنام ”بیاضِ پاک“ امت کو ملا۔ چند اشعار کی معنوی گہرائی ملاحظہ ہو: [١]
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
پہلے مصرع کی معنوی جہت:
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
یہ مصرع اللہ تعالیٰ کی اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کی طرف نہایت لطیف اشارہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
نیز خالقِ دو جہاں عزوجل نے ارشاد فرمایا: أَطِيْعُوا اللہَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ
حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو معراج کی رات ایسا قرب عطا فرمایا کہ درمیان کسی حجاب کا تصور بھی باقی نہ رہا۔
اسی محبت کی ایک جھلک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ادب میں بھی نمایاں ہوتی ہے کہ انہوں نے وجہِ تخلیقِ کائنات، فخر موجودات حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس انگوٹھی پر اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک کو اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمِ اقدس سے جدا کرکے لکھنا پسند نہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یارِ غار کے مبارک نام کو پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام سے جدا نہیں فرمایا۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کس قدر محبت فرماتا ہے۔ البتہ آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کو ”خدا“ کہنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک اور معبودِ برحق ہے۔ تاہم محبت کا یہ عالم ہے کہ جہاں ربِ کریم کا ذکر آتا ہے، وہاں عاشق کا دل بے اختیار حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر کی طرف بھی مائل ہو جاتا ہے۔ پس خدا کہا نہیں جا سکتا اور جدا کیا نہیں جا سکتا۔
دوسرے مصرع کی معنوی جہت:
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
اس مصرع میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ رسولِ اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حقیقی مقام و مرتبہ کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مخلوق تاجدارِ کون و مکاں،‌ نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا کامل احاطہ نہیں کر سکتی۔
صحیح بخاری شریف میں صومِ وصال کے متعلق حدیثِ مبارکہ ہے:
نَهَى رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيْتُ يُطْعِمُنِيْ رَبِّيْ وَيَسْقِيْنِ [صحیح بخاری، کتاب الصوم]
حبیبِ کبریا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلسل کئی دن تک افطار کیے بغیر روزہ رکھنے (صومِ وصال) سے منع فرمایا۔ اس پر ایک صحابی عرض گزار ہوئے: یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! آپ صوم میں وصال فرماتے ہیں۔ نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون میرے مثل ہو سکتا ہے ؟ میں رات اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الصوم)
یہ ایسا مقام ہے جس کی حقیقت انسانی عقل کی رسائی سے باہر ہے۔
صلحِ حدیبیہ میں: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ مَا لَكُمْ قَالُوا لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُوْرُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً (صحیح البخاری، کتاب المناقب)
حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ صلحِ حدیبیہ کے دن لوگوں کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔ رسولِ اکرم نبئ معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن میں تھوڑا سا پانی رکھا تھا۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے اس سے وضو فرمایا۔ پھر لوگ تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا بات ہے ؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! ہمارے پاس نہ وضو کے لیے پانی ہے اور نہ پینے کے لیے، سوائے اس تھوڑے سے پانی کے جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھ دیا، تو سرکار اقدس ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا۔ چنانچہ ہم سب نے اس پانی سے خوب سیر ہو کر پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو یہ پانی ہمارے لیے کافی ہو جاتا، جبکہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
امامِ اہلِ سنت حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
نور کے چشمے لہرائے، دریا بہے
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
مطلب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایسے انعامات و معجزات عطا فرمائے کہ اس کو سمجھ پانا عقل سے ماورا ہے۔
حضور سیدی سرکار مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں جو برادرِ اکبر کے شعر کی تشریح معلوم ہوتی ہے:
حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
کہے تو کیا کہے کوئی چنیں تم ہو چناں تم ہو
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت سیدنا مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا تعظیمِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نمازِ عصر قضا کرنا تو سورج کا بحکمِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واپس آ جانا۔ ایسے ہی عظیم معجزے اور دیگر بے شمار واقعات ہیں جن میں رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت نمایاں ہے، اور ایسی کہ کوئی سمجھ نہیں سکتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔
پس سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں تعلیم دی اور تحریر فرمایا:
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کہ حبیب ﷺ
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے
حضور سیدی سرکار حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجۃ الاسلام کے شعر کا دوسرا مصرع بھی اسی حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ:
خدا پر اس کو چھوڑا ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو
[٢] اپنے والد ماجد حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شعر
حامدٌ منّی وأنا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
اسی مضمون کو حجۃ الاسلام نے نہایت دل نشیں انداز میں یوں پیش کیا:
أنا من حامد و حامد رضا منّی کے جلووں سے
بحمد اللہ رضا حامد ہیں اور حامد! رضا تم ہو
برادرِ عزیز سے محبت:
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز اپنے اہلِ خانہ، خصوصاً اپنے چھوٹے بھائی سے بے حد محبت فرمایا کرتے تھے۔ اپنی دعاؤں میں بھی انہیں ہمیشہ یاد رکھتے، بلکہ جب بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں عرض گزار ہوتے تو اپنے بھائی کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے۔ اسی جذبۂ محبت کا اظہار ان کے اس شعر میں نمایاں ہے:
اب تو مدینے لو بلا گنبدِ سبز دو دکھا
حامد و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
بیعت و خلافت:
تاجُ الاتقیاء، حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان قادری بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کو نور العارفین، سراج السالکین، نبیرۂ حضور خاتم الاکابر، قطبِ مارہرہ مطہرہ حضور سیدنا سرکار سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی مارہروی رضی اللہ تبارک وتعالیٰ عنہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل ہے۔ اور آپ ہی سے خلافت و اجازت بھی عطا ہوئی۔ اس کے علاوہ آپ کے والدِ گرامی، مجددِ اعظم امام احمد رضا خان قادری نوری برکاتی فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ یوں حضور حجۃ الاسلام علامہ محمد حامد رضا خان بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے شیخِ طریقت اور اپنے والدِ ماجد، دونوں بزرگوں سے خلافت و اجازت حاصل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔
حسن و جمال کا عالم:
اللہ تعالیٰ نے حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کو اپنے حضور پیر و مرشد حضور سرکارِ نور سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حسن و جمال عطا فرمایا۔ جس طرح پیر و مرشد حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسن و جمال کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کر لیتا تھا ویسے ہی حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسین و جمیل چہرہ کو بھی دیکھ کر کفار و بدمذہباں ایمان لے آتے۔
کفر و گمراہی کے دلدل سے ہیں کتنے نکلے
جیسے ہی دیکھا چمکتا ہوا چہرہ تیرا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دیکھ کر غم بھی مسرت میں بدل جاتا ہے
نورِ ایماں سے چمکتا ہوا روضہ تیرا
(حاؔمی)
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

حضور حجۃ الاسلام کا علمی مقام

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علمی مقام
شہزادۂ امامِ اہلِ سنت، حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار علوم و فنون میں مہارت عطا فرمائی۔ مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنے والدِ گرامی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور اصلاحِ امت میں صرف فرمائی۔ علمی عظمت، روحانی وجاہت اور دینی خدمات کے اعتراف میں اہلِ علم نے آپ کو سلطان العلماء والمحققین، تاج العرفاء والکاملین اور حجۃ الاسلام جیسے جلیل القدر القاب سے نوازا۔ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بحرِ علم کی وسعت کا اندازہ درج ذیل چند جھلکیوں سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
درس و تدریس:
حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابتدائی علمی استفادہ اپنے والدِ گرامی، سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا۔ دورانِ درس آپ کے بعض علمی سوالات ایسے دقیق اور دل نشین ہوتے کہ حضور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے جواب تحریر فرماتے ہوئے ”قال الولد الأعز“ کے الفاظ لکھ کر سوال و جواب کو محفوظ فرما دیتے۔ مدینہ منورہ میں علامہ عبد القادر طرابلسی شامی سے ہونے والی علمی گفتگو کا ذکر بھی سرکار اعلیٰ حضرت نے اپنے ملفوظات میں خود فرمایا ہے۔
سن ؁١٣٢٣ھ میں حضور اعلیٰ حضرت کے دوسرے تاریخی حج کے موقع پر جب حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی مرتبہ ان کے ہمراہ حرمین شریفین کی حاضری سے مشرف ہوئے تو مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں شیخ العُلیٰ علامہ محمد سعید اور علامہ سید احمد برزنجی کے حلقۂ درس میں شریک رہے۔ اس سفر کے دوران متعدد اکابر علماء نے انہیں اسنادِ علم سے نوازا، جبکہ علامہ خلیل خربوطی نے فقہِ حنفی کی وہ سند عطا فرمائی جو انہیں علامہ سید طحطاوی سے صرف دو واسطوں کے ذریعے حاصل ہوئی تھی، سبحان اللہ تعالیٰ! بعد ازاں حجۃ الاسلام کے تلامذہ کو خود سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسناد عطا فرمائیں۔ آپ نے دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف میں صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ بالخصوص تفسیرِ بیضاوی شریف کے درس میں آپ کو ایسا امتیاز حاصل تھا کہ اس فن میں آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا تھا۔
حضور حجۃ الاسلام بحیثیتِ معلم
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان کو تدریس کے میدان میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ درس و تدریس کے طریقوں پر آپ کی گہری گرفت اور مختلف علوم پر کامل عبور نے آپ کو ایک ممتاز معلم کی حیثیت عطا کی تھی۔ ایک موقع پر دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف کے چند اہم اساتذہ نے تدریسی خدمات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس صورتِ حال میں حضور حجۃ الاسلام نے کسی پریشانی کا اظہار کرنے کے بجائے خود تمام اہم فنون و علوم کی کتابوں کا درس اپنے ذمہ لے لیا۔
آپ کی علمی وسعت اور تدریسی صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ ہر کتاب نہایت عمدہ انداز میں پڑھائی، جس کے نتیجے میں یہ تأثر خود بخود ختم ہو گیا کہ ان اساتذہ کے بغیر ادارہ اپنی علمی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا یا طلبہ منتشر ہو جائیں گے۔ بلکہ اس کے برعکس، آپ کی تدریسی قابلیت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی، جس کے اثر سے متعدد باصلاحیت طلبہ نے دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخلہ لے کر اس کے علمی حلقے کو مزید وسیع کیا۔
حق کے معاملے میں غیر متزلزل استقامت
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے دینی اصولوں پر کبھی مصلحت کو ترجیح نہیں دی۔ جب مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی بعض سیاسی سرگرمیوں اور تحریروں کے باعث سیدنا امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے متعلق شرعی فتویٰ صادر فرمایا، تو سیدی حجۃ الاسلام نے بھی اس فیصلے کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ اختیار کیے رکھا۔
پھر حرمین شریفین کے قبہ جات کی مسماری اور وہاں ہونے والی بے حرمتی کے خلاف لکھنؤ میں ایک عظیم اجتماع منعقد کیا گیا۔ جس کا اہتمام مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے کیا تھا۔ اس موقع پر جماعت رضائے مصطفیٰ کی نمائندگی کرتے ہوئے سیدی حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چند ممتاز علماء کے ہمراہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔
کانفرنس کے شرکاء نے نہایت گرمجوشی سے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا عبد الباری بھی احتراماً مصافحہ کے لیے آگے بڑھے، مگر سیدی حجۃ الاسلام نے نہایت وضاحت کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب تک سیدی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ برقرار ہے اور اس کے مطابق رجوع و توبہ نہیں کی جاتی، اس وقت تک مصافحہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔
اس بے لاگ طرزِ عمل نے مولانا عبد الباری کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ، جنہیں ”صوت الایمان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، بالآخر برملا اپنی سابقہ روش سے رجوع کر گئے۔ انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی ہی اصل حقیقت ہے، اس لیے وہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرتے ہیں، اور یہ بھی اعلان کیا کہ سیدی امام احمد رضا خان (علیہ الرحمۃ والرضوان) نے ان کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، وہ حق اور درست ہے۔
علمی مقام کا ایک روشن پہلو
حضور حجۃ الاسلام مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمی رسوخ کا اعتراف برصغیر کے بڑے علمی مراکز بھی کرتے تھے۔ اسی بنا پر دارالعلوم معینیہ، اجمیر معلیٰ کی انتظامیہ نے آپ کو طلبہ کے امتحان لینے اور ادارے کے تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔
امتحان اور معائنہ مکمل ہونے کے بعد دارالعلوم کے مہتمم مولانا معین الدین اجمیری نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے تأثرات تحریری صورت میں بھی قلم بند فرما دیں۔ اس پر سیدنا سرکار حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں لکھ سکتے ہیں، اس لیے جس زبان میں مناسب سمجھا جائے، اسی میں رپورٹ تحریر کر دیں گے۔ مولانا معین الدین نے عربی زبان کا انتخاب کیا، حالانکہ اس وقت تک وہ سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی مرتبے سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ یہ سنتے ہی حضور حجۃ الاسلام نے بارگاہِ سلطان الہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کسی تیاری یا مسودے کے بغیر نہایت فصیح و بلیغ عربی میں کئی صفحات پر مشتمل معائنہ تحریر فرما دیا۔ اس دوران مولانا معین الدین حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے۔ انہیں اپنی عربی پر خاص اعتماد تھا، لیکن یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس تحریر میں کس درجے کی علمی و ادبی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں جب اس تحریر کا مفہوم سمجھنے کے لیے اسے پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی عبارت عام عربی سے کہیں زیادہ دقیق ہے۔ لغات میں معانی کی جستجو جاری رہی۔ بہت بعد میں عربی علماء کی تصانیف اور ان کی زبان سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد ان مشکل تعبیرات کی حقیقت واضح ہوئی، جس سے حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عربی دانی اور غیر معمولی علمی استعداد کا اندازہ ہوتا ہے۔
سیاسی جلسے میں علمی برتری کا مظاہرہ
بریلی شریف میں ایک موقع پر خلافتی تحریک سے وابستہ افراد اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایک بڑا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کو بھی مدعو کیا گیا۔ چند علمائے اہلِ سنت بھی اس اجتماع میں شریک تھے اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔ دورانِ جلسہ علمی مناظرے کی تجویز سامنے آئی۔
مخالف فریق کو ابوالکلام آزاد کی خطابت، حاضر جوابی اور عربی دانی پر غیر معمولی اعتماد تھا، اس لیے اسے اپنی نمائندگی کے لیے پیش کیا گیا۔ دوسری جانب اہلِ سنت کی طرف سے علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات کے سربراہ حضرت علامہ سید سلیمان اشرف بہاری رحمہ اللہ تعالیٰ کو مناظر مقرر کیا گیا، جبکہ حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان پورے وفد کی سرپرستی اور رہنمائی فرما رہے تھے۔
مناظرے کا آغاز ہوتے ہی علامہ سلیمان اشرف نے نہایت مضبوط علمی انداز میں یکے بعد دیگرے سوالات پیش کیے، اور سیدی حجۃ الاسلام وقتاً فوقتاً ان کی رہنمائی بھی فرماتے رہے۔ ان مدلل سوالات کے سامنے ابوالکلام آزاد اور اس کے رفقاء خاموش ہو کر رہ گئے۔ جب حضرت سید سلیمان اشرف نے اپنی تقریر شروع کی تو ابوالکلام آزاد کی جانب سے کوئی مؤثر جواب سامنے نہ آ سکا۔ حاضرین اس غیر متوقع صورتِ حال کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جس شخصیت کی زبان آوری کے بڑے چرچے تھے، وہ اس موقع پر خاموش کیوں ہے۔
اسی سلسلے میں ایک مرتبہ ابوالکلام آزاد نے عربی زبان میں مناظرے کا مطالبہ کیا۔ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے صرف ایک شرط عائد فرمائی کہ مناظرے کے آغاز سے اختتام تک گفتگو اور استدلال مکمل طور پر عربی زبان ہی میں ہوگا اور ایک جگہ یہ بھی آیا ہے کہ عربی کے ساتھ بات نثر نہیں بلکہ نظم کی صورت میں ہوگی۔ یہ شرط سنتے ہی ابوالکلام آزاد نے مناظرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اس معاملے کو آگے نہ بڑھایا۔ اس سے معلوم چلتا ہے کہ حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عربی میں کتنی زبردست مہارت حاصل تھی۔
تحفظِ شریعت میں بے باک کردار
مسلمانوں کے عائلی قوانین، خصوصاً نکاح و طلاق سے متعلق مجوزہ قانون پر غور کے لیے لکھنؤ میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ بریلی شریف سے سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ امامِ اہلِ سنت حضور صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور مولانا تقدس علی خان رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس اجتماع میں شرکت فرمائی۔
کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء اور اہلِ علم شریک تھے۔ ان میں شیعہ اور ندوی علماء کے علاوہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سلیمان اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے داماد و بھتیجے عبدالوالی بھی موجود تھے۔ اس علمی نشست میں جب مختلف آراء پیش کی گئیں تو سیدی حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے مضبوط دلائل اور مدلل گفتگو کے ذریعے ہر اعتراض کا جواب دیا۔ آپ کے استدلال کی قوت کے باعث مخالف نقطۂ نظر برقرار نہ رہ سکا، اور آخرکار فیصلہ آپ ہی کے مؤقف کے مطابق ہوا۔
دینِ اسلام، شریعتِ مصطفوی اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کا معاملہ ہو تو شہزادۂ حضور اعلیٰ حضرت سرکار حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز نے ہمیشہ بے لاگ (بے جھجک) انداز اختیار فرمایا۔ حق بات کہنے میں نہ کسی دباؤ کو خاطر میں لائے اور نہ کسی مصلحت کو اپنے موقف پر غالب آنے دیا۔
عربی زبان پر غیر معمولی دسترس
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز کو عربی زبان و ادب پر ایسی گہری مہارت حاصل تھی کہ عربی علماء بھی اس کے معترف تھے۔ آپ کی فصاحت، بلاغت اور علمی استعداد کا اعتراف صرف برصغیر تک محدود نہ رہا بلکہ حجاز کے اہلِ علم نے بھی کھلے الفاظ میں اس کی تحسین کی۔
سن ؁١٣٤٢ھ میں دوسرے سفرِ حج کے دوران عرب کے ممتاز علماء، شیخ سید حسن دباغ اور سید محمد مالکی ترکی نے آپ کی عربی دانی کو سراہتے ہوئے اظہار کیا کہ انہوں نے پورے ہندوستان میں حضور سیدی حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ عالم نہیں دیکھا، جسے عربی زبان پر اس درجے کا عبور حاصل ہو۔
آپ کی عربی نویسی کا ایک نمایاں واقعہ یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی نے اپنی ایک تصنیف، جو مسئلۂ علمِ غیب پر لکھی گئی تھی، اس پر تقریظ لکھنے کی درخواست کی۔ سیدی حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی پیشگی تیاری کے بغیر اسی وقت نہایت جامع اور بلیغ عربی میں ایک مفصل تقریظ قلم بند فرما دی۔ اسی طرح جب سلطانِ شعر و سخن، امامِ علم و فن حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عربی تصانیف ”الدولة المكية“ اور ”كفل الفقيه الفاهم“ کی اشاعت کا مرحلہ آیا تو ان کے ارشاد پر سیدی حجۃ الاسلام نے فوراً عربی زبان میں ان کی تمہیدات تحریر کر دیں۔ ان علمی مقدمات کو دیکھ کر سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے حد مسرور ہوئے، آپ کی علمی صلاحیت کی بھرپور تحسین فرمائی اور اپنے خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
[ماخوذ از حجۃ الاسلام، فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں وغیرہ]
تصانیف
کسی ذات کا علمی مقام اس کی لکھی کتابوں سے بھی ہوتا ہے۔ حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان نے بھی اپنا مبارک قلم چلایا اور دینِ حق کی خدمات انجام دیں۔ کہیں اس قلم سے ایسے فتاویٰ تحریر فرمائے کہ دشمنانِ اسلام کفار و بدمذہباں کے درمیان زلزلہ آ گیا، کبھی اپنے قلم سے دقیق مسائل کو بھی بخوبی حل فرمایا۔ چند مشہور تصانیف و تالیفات یہ ہیں:
[١] مجموعہ فتاویٰ [٢] الصارم الربانی علی اسراف القادیانی (۱۳۱۵ھ) [٣] نعتیہ دیوان (بیاضِ پاک) [٤] تمہید اور ترجمہ الدولیۃ المکیۃ ۱۳۲۳ھ /۱۹۰۵ [٥] تمہید الاجازت المتینہ لعلماء بکۃ و المدینۃ ۱۳۴۰ھ / ۱۹۰۶ء [٦] تمہید کفل الفقیہ الفاہم ۱۳۴۰ ھ [٧] تاریخی نام ، خطبہ الوظیفۃ الکریمہ ۱۳۳٨ [٨] سد الفرار [٩] سلامۃ اللہ لاہل السنۃ من سبیل العناد و الفتنۃ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۱۳ [١٠] حاشیہ ملا جلال [١١] کنز المصلی پرحاشیہ ۱۳۳۲ھ / ۱۹۰۵ [١٢] اجلی انوار الرضا ۱۳۳۴ھ / ۱۹۱۵ء [١٣] آثار المبتدعین لہدم حبل اللہ المتین [١٤] وقایہ اہل سنت۔
الصارم الربانی علی اسراف القادیانی: قادیانیت کے فتنہ کے خلاف ابتدائی اور مؤثر علمی اقدام میں حضور حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ فتویٰ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اُس وقت مرزا غلام احمد قادیانی زندہ تھا اور اپنے باطل دعووں کی اشاعت میں مصروف تھا، مگر صرف ۲۳؍برس کی عمر میں حضور حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے گمراہ کن نظریات کا مدلل رد فرمایا۔ ایک سوال کے جواب میں دیا گیا فتویٰ ”الصارم الربانی علی إسراف القادیانی“ کے نام سے کتابی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔
یہ فتویٰ علمی تحقیق اور قوتِ استدلال کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کی قدر و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے خود سیدی اعلیٰ حضرت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”فقیر کو بھی اس دعویٰ سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثلِ مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مسیح کلمہ اللہ علیہ صلوٰۃ اللہ بلکہ مسیح دجال علیه اللعن والنکال، پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظه اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنام تاریخی ”الصارم الربانی علی اسراف القادیانی“ مسمٰی کیا، یہ رسالہ حامئ سنن، ماحئ فتن، ندوه شکن، ندوی فگن۔ [فتاویٰ رضویہ]
ظلمتِ جہل میں روشن ہوا فتویٰ تیرا
برق کے مثل چلا کفر پہ خامہ تیرا
تشنگی علم کی ہر پیاسا بجھا لیتا ہے
علم و حکمت کا سدا جاری ہے دریا تیرا
(انس حاؔمی)

فنِ شاعری میں امتیاز

حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس طرح مختلف علوم و فنون میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی، اسی طرح فنِ شاعری میں بھی آپ کا ایک منفرد مقام تھا۔ آپ نے نہایت دقیق اور مشکل بحور میں ایسا پُرمعارف کلام تحریر فرمایا کہ اہلِ ذوق آج بھی اس کی فکری گہرائی اور فنی لطافت پر حیران رہ جاتے ہیں۔ آپ کے ہر شعر میں معانی کی وسعت، فکر کی بلندی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی حرارت اور اخلاص و للہیت کی ایسی شان نمایاں ہوتی ہے جو آپ کے کلام کو منفرد بنا دیتی ہے۔
آپ کا شعری سرمایہ ایک حادثے میں جل کر ضائع ہو گیا۔ کسی نے افسوس کے ساتھ عرض کیا: ”حضور! آپ کا دیوان جل گیا۔“ آپ نے نہایت بے نیازی سے فرمایا: ”جس ذات کی رضا کے لیے یہ اشعار لکھے تھے، اگر اس کی بارگاہ میں مقبول ہوگئے تو یہی میری کامیابی ہے، اور اگر قبول نہ ہوئے تو پھر ان کا جل جانا ہی بہتر ہے۔“
یہ جواب آپ کے اخلاص، بے نفسی اور رضائے الٰہی کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا روشن ثبوت ہے۔
چند کلام جو محفوظ رہے ان کا مجموعہ بنام ”بیاضِ پاک“ امت کو ملا۔ چند اشعار کی معنوی گہرائی ملاحظہ ہو: [١]
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
پہلے مصرع کی معنوی جہت:
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
یہ مصرع اللہ تعالیٰ کی اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کی طرف نہایت لطیف اشارہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
نیز خالقِ دو جہاں عزوجل نے ارشاد فرمایا: أَطِيْعُوا اللہَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ
حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو معراج کی رات ایسا قرب عطا فرمایا کہ درمیان کسی حجاب کا تصور بھی باقی نہ رہا۔
اسی محبت کی ایک جھلک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ادب میں بھی نمایاں ہوتی ہے کہ انہوں نے وجہِ تخلیقِ کائنات، فخر موجودات حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس انگوٹھی پر اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک کو اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمِ اقدس سے جدا کرکے لکھنا پسند نہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یارِ غار کے مبارک نام کو پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام سے جدا نہیں فرمایا۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کس قدر محبت فرماتا ہے۔ البتہ آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کو ”خدا“ کہنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک اور معبودِ برحق ہے۔ تاہم محبت کا یہ عالم ہے کہ جہاں ربِ کریم کا ذکر آتا ہے، وہاں عاشق کا دل بے اختیار حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر کی طرف بھی مائل ہو جاتا ہے۔ پس خدا کہا نہیں جا سکتا اور جدا کیا نہیں جا سکتا۔
دوسرے مصرع کی معنوی جہت:
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
اس مصرع میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ رسولِ اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حقیقی مقام و مرتبہ کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مخلوق تاجدارِ کون و مکاں،‌ نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا کامل احاطہ نہیں کر سکتی۔
صحیح بخاری شریف میں صومِ وصال کے متعلق حدیثِ مبارکہ ہے:
نَهَى رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيْتُ يُطْعِمُنِيْ رَبِّيْ وَيَسْقِيْنِ [صحیح بخاری، کتاب الصوم]
حبیبِ کبریا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلسل کئی دن تک افطار کیے بغیر روزہ رکھنے (صومِ وصال) سے منع فرمایا۔ اس پر ایک صحابی عرض گزار ہوئے: یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! آپ صوم میں وصال فرماتے ہیں۔ نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون میرے مثل ہو سکتا ہے ؟ میں رات اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الصوم)
یہ ایسا مقام ہے جس کی حقیقت انسانی عقل کی رسائی سے باہر ہے۔
صلحِ حدیبیہ میں: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ مَا لَكُمْ قَالُوا لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُوْرُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً (صحیح البخاری، کتاب المناقب)
حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ صلحِ حدیبیہ کے دن لوگوں کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔ رسولِ اکرم نبئ معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن میں تھوڑا سا پانی رکھا تھا۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے اس سے وضو فرمایا۔ پھر لوگ تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا بات ہے ؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! ہمارے پاس نہ وضو کے لیے پانی ہے اور نہ پینے کے لیے، سوائے اس تھوڑے سے پانی کے جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھ دیا، تو سرکار اقدس ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا۔ چنانچہ ہم سب نے اس پانی سے خوب سیر ہو کر پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو یہ پانی ہمارے لیے کافی ہو جاتا، جبکہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
امامِ اہلِ سنت حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
نور کے چشمے لہرائے، دریا بہے
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
مطلب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایسے انعامات و معجزات عطا فرمائے کہ اس کو سمجھ پانا عقل سے ماورا ہے۔
حضور سیدی سرکار مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں جو برادرِ اکبر کے شعر کی تشریح معلوم ہوتی ہے:
حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
کہے تو کیا کہے کوئی چنیں تم ہو چناں تم ہو
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت سیدنا مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا تعظیمِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نمازِ عصر قضا کرنا تو سورج کا بحکمِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واپس آ جانا۔ ایسے ہی عظیم معجزے اور دیگر بے شمار واقعات ہیں جن میں رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت نمایاں ہے، اور ایسی کہ کوئی سمجھ نہیں سکتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔
پس سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں تعلیم دی اور تحریر فرمایا:
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کہ حبیب ﷺ
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے
حضور سیدی سرکار حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجۃ الاسلام کے شعر کا دوسرا مصرع بھی اسی حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ:
خدا پر اس کو چھوڑا ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو
[٢] اپنے والد ماجد حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شعر
حامدٌ منّی وأنا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
اسی مضمون کو حجۃ الاسلام نے نہایت دل نشیں انداز میں یوں پیش کیا:
أنا من حامد و حامد رضا منّی کے جلووں سے
بحمد اللہ رضا حامد ہیں اور حامد! رضا تم ہو
برادرِ عزیز سے محبت:
حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز اپنے اہلِ خانہ، خصوصاً اپنے چھوٹے بھائی سے بے حد محبت فرمایا کرتے تھے۔ اپنی دعاؤں میں بھی انہیں ہمیشہ یاد رکھتے، بلکہ جب بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں عرض گزار ہوتے تو اپنے بھائی کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے۔ اسی جذبۂ محبت کا اظہار ان کے اس شعر میں نمایاں ہے:
اب تو مدینے لو بلا گنبدِ سبز دو دکھا
حامد و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
بیعت و خلافت:
تاجُ الاتقیاء، حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد حامد رضا خان قادری بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کو نور العارفین، سراج السالکین، نبیرۂ حضور خاتم الاکابر، قطبِ مارہرہ مطہرہ حضور سیدنا سرکار سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی مارہروی رضی اللہ تبارک وتعالیٰ عنہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل ہے۔ اور آپ ہی سے خلافت و اجازت بھی عطا ہوئی۔ اس کے علاوہ آپ کے والدِ گرامی، مجددِ اعظم امام احمد رضا خان قادری نوری برکاتی فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی حضور سرکارِ نور رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ یوں حضور حجۃ الاسلام علامہ محمد حامد رضا خان بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے شیخِ طریقت اور اپنے والدِ ماجد، دونوں بزرگوں سے خلافت و اجازت حاصل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔
حسن و جمال کا عالم:
اللہ تعالیٰ نے حضور حجۃ الاسلام علامہ مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کو اپنے حضور پیر و مرشد حضور سرکارِ نور سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حسن و جمال عطا فرمایا۔ جس طرح پیر و مرشد حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسن و جمال کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کر لیتا تھا ویسے ہی حضور حجۃ الاسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسین و جمیل چہرہ کو بھی دیکھ کر کفار و بدمذہباں ایمان لے آتے۔
کفر و گمراہی کے دلدل سے ہیں کتنے نکلے
جیسے ہی دیکھا چمکتا ہوا چہرہ تیرا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دیکھ کر غم بھی مسرت میں بدل جاتا ہے
نورِ ایماں سے چمکتا ہوا روضہ تیرا
(حاؔمی)
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
34
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 81
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟ (قسط اول)

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢