صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہشتم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہشتم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ہشتم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فروعیات کی آڑ میں عقائد پر حملہ ـــــــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات ایسے ہیں جو عقائد پر حملہ کرتے ہیں اور جب ان کی گرفت ہوتی ہے تو کہتے ہیں اگر ہم نے اختلاف کر لیا تو کیا ہوا امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی بعض جگہ اپنی رائے قائم فرمائی ہے اگر انھیں حق حاصل ہے تو ہمیں کیوں نہیں؟ وہ اختلاف کر کے امام اہل سنت کے مقام پر فائز ہوئے اور ہم اہل سنت سے ہی ہٹ گئے؟
پھر جب یہ کوئی بھولا بھالا انسان سنتا ہے تو کہتا ہے صحیح بات تو ہے جب اختلاف کرنا روا ہے تو پھر تفریق کیسی ؟ جیسے امام اہل سنت نے بعض جگہوں پر اختلاف کیا ایسے ہی یہاں پر بھی بعض حضرات اختلاف کر لیتے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
پہلی بات تو یہ کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے جو اختلاف کیا وہ فروعیات میں ہے اور امام اہل سنت حضور اعلی حضرت مجتھد فی المسائل ہیں اس لیے ان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے درجے کے علما سے یا نیچلے درجے کے علما سے اختلاف کریں
لیکن المیہ یہ ہے کہ لوگ اختلاف عقائد پر کرتے ہیں ضروریات دین، ضروریات اہل سنت کا انکار کرتے ہیں اور مثال فروعیات سے لاتے ہیں کہتے ہیں اعلی حضرت نے بھی اختلاف کیا ہم کہتے ہیں کہ جب تم عقائد میں اختلاف کیے ہو تو یہ دکھاؤ کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے عقائد میں کہاں اختلاف کیا ہے ؟ ہر گز نہیں دکھا سکتے کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے معاذ اللہ کہیں عقائد میں اختلاف کیا ہو
بد مذہب اس طرح بھولے بھالے سنی مسلمانوں کو بہکانے کی کوشش میں لگے رہتے اور آج کے دور میں اس کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اس لیے اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو سب پہلے یہ دیکھیے یہ اختلاف کس نوعیت کا ہے اور اس پر دلیل کہاں سے لا رہا ہے کہیں ایسا تو نہیں اختلاف عقائد کے باب میں کر رہا ہے اور دلیل فروعیات کے باب سے لا رہا ہے مثلا:
فرقۂ منہاجیہ:ــــــــــــــــــ
فرقۂ منہاجیہ کا امیر یہود و نصاری کو مومنوں میں شمار کیا جب کہ قرآن نے یہود و نصاری کی تکفیر کی اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
[المائدة ١٧-١٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔
نیز فرقۂ منہاجیہ کے امیر نے طواغیت اربعہ کی تکفیر کا بھی انکار کیا جب اس کی گرفت ہوئی تو یہ بر سر منبر بولا کہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی بہت مسائل میں اختلاف کیا ان کے اپنے کثیر تفردات ہیں باجود اس کے وہ امام اہل سنت رہے اور ہم اہل سنت سے بھی خارج کر دیے گئے
میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو کسی نے مسلک سے خارج نہیں کیا بلکہ اپنے عقائد کفریہ کی وجہ سے خود ہی مسلک سے خارج ہو گئے یہود و نصاری کافر قطعی ہیں ان دونوں کو کافر ماننا جاننا ضروریات دین سے ہے یہودو و نصاری کے کافر ہونے میں ادنی شک کرنا بھی کفر ہے لیکن یہاں تو امیر منہاجیہ نے یہود ونصاریٰ کو مومنوں میں شمار کر دیا طواغیت اربعہ کو مسلمان کہا تو یہ اختلاف فروعیات میں نہیں بلکہ معتقدات ضروریات دین میں اختلاف ہے ضروریات دین کا انکار ہے، جن کے انکار یا ان میں ادنی شک لانے سے انسان کافر و مرتد ہو جاتا ہے تو اسے فروعیات کے باب سے تشبیہ دے کر خود کو صحیح ثابت کرنا بھولے بھالے عوام کو صریح مغالطے میں ڈالنا ہے کہاں امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کا اختلاف فروعیات میں اور کہاں امیر منہاجیہ کا اختلاف معتقدات میں اسی لیے امیر منہاجیہ خود اپنی کفریات کی وجہ سے مسلک و دین و مذہب سے خارج ہو گیا ہے
فرقۂ سراویہ ــــــــــــــــــــ
فرقۂ سراویہ کا بھی یہی حال ہے کہ اختلاف عقائد میں کرتا ہے اور مثال فروعیات سے لاتا ہے یہی وہ فرقہ ہے جس نے طواغیت اربعہ یعنی اشرف علی تھانوی، قاسم نانوتوی، خلیل احمد انبیٹھوی، رشید احمد گنگوہی کی تکفیر سے انکار کیا جب کہ طواغیت اربعہ کا کفر آفتاب سے زیادہ روشن ہے باوجود اس کے تاج انکار اپنے سر پر سجایا اور خود قعر مذلت میں جا گرا
اور یہ فرقہ جو دلیل میں اسمعیل دہلوی کو پیش کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ نے تکفیر کی لیکن حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے نہیں کی لہذا اختلاف ہو گیا
میں کہتا ہوں حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ کے خلاف فتویٰ نہیں دیا بلکہ جو فتوی علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ نے دیا وہی فتوی حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے دیا اس لیے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ کا فتوی کفر فقہی کا ہے اور حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی فتاوی رضویہ جلد نم صفحہ ٩٠ میں فرمایا کہ نمبر دو والا دہلوی [یعنی اسماعیل دہلوی] کافر فقہی تھا ۔
نیز الکوکبۃ الشھابیہ میں اخیر میں فرمایا کہ عند الفقہاء اسمعیل دہلوی قطعا یقینا اجماعا کافر و مرتد ہے
ہاں عند المتکلمین کافر کہنے سے منع فرمایا ہے اور حضور اعلی حضرت کا پسندیدہ مذہب متکلمین کا مذہب ہے
لہذا اس میں کوئی اختلاف نہیں مزید تفصیل کے لیے علامہ طارق انور مصباحی حفظہ اللہ القوی کے رسائل کا مطالعہ فرمائیں خاص کر
کفر وضلالت اور قتل وعقوبت
کافر فقہی اور بدعتی کے لئے حکم قتل کی صورتیں اور اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی میں حکم قتل کا بیان
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
فرقۂ صلح کلی ـــــــــــــــــــــــــــــ
ایک فرقہ ایسا ہے جس کے بارے علامہ عبد المبین امروہی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ وہ گلابی وہابی ہے انھیں لوگوں کو اب زمانہ صلح کلی کہتا ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بریلوی اور دیوبندی دونوں جماعت کے علما کا احترام کرتے ہیں اور ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں جب ایسے لوگوں کی گرفت ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم مسلک سے کیسے نکلے ہم بھی تو جلسہ، فاتحہ، میلاد سب کرتے ہیں
یہی صلح کلیوں کی پہچان ہے کہ سب سے میل جول کر رہنا چاہتا ہے حق کو حق باطل کو باطل نہیں کہتا اسی لیے سرکار تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
صلح کلی نبی کا نہیں سنیوں
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لیے
فرقۂ مولائیہ ـــــــــــــــــ
یہ فرقہ ضروریات اہل سنت میں شب خون مارتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرات شیخین کریمین سے افضل ہیں اور صحابہ کرام میں سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر زبان لعن طعن دراز کرتا ہے اور جب ایسے لوگوں کی گرفت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ گرفت کرنے والے متشددین ہیں اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کرنے دیتے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اختلاف امتی رحمۃ تو کیا ہوا اگر ہم نے بھی اختلاف کر لیا
دیکھیے قارئین کیسے مغالطہ دیا جا رہا ہے جو حدیث باب فروعیات میں سے ہے اس کو باب العقائد میں منطبق کر کے باب العقائد میں اختلاف کا دروازہ کھولنے کی جرأت کی یہ فرقہ ضروریات اہل سنت کا منکر گمراہ بد دین ہے
یہ چار فرقے بھی خود کو اہل سنت تو کہتے ہیں لیکن عقائد اہل سنت کے یک لخت منکر ہیں ایسے ہی بد مذہبوں سے خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم ہوئی
اسی لیے دین علماء مسلک اعلی حضرت سے سیکھیں تاکہ آپ کو بھولا بھالا سنی دیکھ کر کوئی بہکا نہ دے اور آپ اس کی بہکی باتوں پر مطلع بھی نہ ہو پائیں اسی لیے حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذون دینکم
[مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر ٢٧٣]
بے شک یہ علم دین ہے تو دیکھو کہ تم کس سے دین حاصل کر رہے ہو
یہ روایت صاف بتا رہی ہے کہ جس سے دین سیکھو اسے دیکھ لو کہ سنی صحیح العقیدہ ہے کہ نہیں ورنہ ایسے ہی ہوگا کہ ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کا انکار کرے گا اختلاف کرے گا اور کہے گا یہ اختلاف رحمت ہے معاذ اللہ رب العالمین اللہ ایمان کے رہزنوں سے بچائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہشتم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ہشتم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فروعیات کی آڑ میں عقائد پر حملہ ـــــــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات ایسے ہیں جو عقائد پر حملہ کرتے ہیں اور جب ان کی گرفت ہوتی ہے تو کہتے ہیں اگر ہم نے اختلاف کر لیا تو کیا ہوا امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی بعض جگہ اپنی رائے قائم فرمائی ہے اگر انھیں حق حاصل ہے تو ہمیں کیوں نہیں؟ وہ اختلاف کر کے امام اہل سنت کے مقام پر فائز ہوئے اور ہم اہل سنت سے ہی ہٹ گئے؟
پھر جب یہ کوئی بھولا بھالا انسان سنتا ہے تو کہتا ہے صحیح بات تو ہے جب اختلاف کرنا روا ہے تو پھر تفریق کیسی ؟ جیسے امام اہل سنت نے بعض جگہوں پر اختلاف کیا ایسے ہی یہاں پر بھی بعض حضرات اختلاف کر لیتے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
پہلی بات تو یہ کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے جو اختلاف کیا وہ فروعیات میں ہے اور امام اہل سنت حضور اعلی حضرت مجتھد فی المسائل ہیں اس لیے ان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے درجے کے علما سے یا نیچلے درجے کے علما سے اختلاف کریں
لیکن المیہ یہ ہے کہ لوگ اختلاف عقائد پر کرتے ہیں ضروریات دین، ضروریات اہل سنت کا انکار کرتے ہیں اور مثال فروعیات سے لاتے ہیں کہتے ہیں اعلی حضرت نے بھی اختلاف کیا ہم کہتے ہیں کہ جب تم عقائد میں اختلاف کیے ہو تو یہ دکھاؤ کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے عقائد میں کہاں اختلاف کیا ہے ؟ ہر گز نہیں دکھا سکتے کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے معاذ اللہ کہیں عقائد میں اختلاف کیا ہو
بد مذہب اس طرح بھولے بھالے سنی مسلمانوں کو بہکانے کی کوشش میں لگے رہتے اور آج کے دور میں اس کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اس لیے اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو سب پہلے یہ دیکھیے یہ اختلاف کس نوعیت کا ہے اور اس پر دلیل کہاں سے لا رہا ہے کہیں ایسا تو نہیں اختلاف عقائد کے باب میں کر رہا ہے اور دلیل فروعیات کے باب سے لا رہا ہے مثلا:
فرقۂ منہاجیہ:ــــــــــــــــــ
فرقۂ منہاجیہ کا امیر یہود و نصاری کو مومنوں میں شمار کیا جب کہ قرآن نے یہود و نصاری کی تکفیر کی اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
[المائدة ١٧-١٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔
نیز فرقۂ منہاجیہ کے امیر نے طواغیت اربعہ کی تکفیر کا بھی انکار کیا جب اس کی گرفت ہوئی تو یہ بر سر منبر بولا کہ امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی بہت مسائل میں اختلاف کیا ان کے اپنے کثیر تفردات ہیں باجود اس کے وہ امام اہل سنت رہے اور ہم اہل سنت سے بھی خارج کر دیے گئے
میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو کسی نے مسلک سے خارج نہیں کیا بلکہ اپنے عقائد کفریہ کی وجہ سے خود ہی مسلک سے خارج ہو گئے یہود و نصاری کافر قطعی ہیں ان دونوں کو کافر ماننا جاننا ضروریات دین سے ہے یہودو و نصاری کے کافر ہونے میں ادنی شک کرنا بھی کفر ہے لیکن یہاں تو امیر منہاجیہ نے یہود ونصاریٰ کو مومنوں میں شمار کر دیا طواغیت اربعہ کو مسلمان کہا تو یہ اختلاف فروعیات میں نہیں بلکہ معتقدات ضروریات دین میں اختلاف ہے ضروریات دین کا انکار ہے، جن کے انکار یا ان میں ادنی شک لانے سے انسان کافر و مرتد ہو جاتا ہے تو اسے فروعیات کے باب سے تشبیہ دے کر خود کو صحیح ثابت کرنا بھولے بھالے عوام کو صریح مغالطے میں ڈالنا ہے کہاں امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کا اختلاف فروعیات میں اور کہاں امیر منہاجیہ کا اختلاف معتقدات میں اسی لیے امیر منہاجیہ خود اپنی کفریات کی وجہ سے مسلک و دین و مذہب سے خارج ہو گیا ہے
فرقۂ سراویہ ــــــــــــــــــــ
فرقۂ سراویہ کا بھی یہی حال ہے کہ اختلاف عقائد میں کرتا ہے اور مثال فروعیات سے لاتا ہے یہی وہ فرقہ ہے جس نے طواغیت اربعہ یعنی اشرف علی تھانوی، قاسم نانوتوی، خلیل احمد انبیٹھوی، رشید احمد گنگوہی کی تکفیر سے انکار کیا جب کہ طواغیت اربعہ کا کفر آفتاب سے زیادہ روشن ہے باوجود اس کے تاج انکار اپنے سر پر سجایا اور خود قعر مذلت میں جا گرا
اور یہ فرقہ جو دلیل میں اسمعیل دہلوی کو پیش کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ نے تکفیر کی لیکن حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے نہیں کی لہذا اختلاف ہو گیا
میں کہتا ہوں حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ کے خلاف فتویٰ نہیں دیا بلکہ جو فتوی علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ نے دیا وہی فتوی حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے دیا اس لیے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رضی اللہ عنہ کا فتوی کفر فقہی کا ہے اور حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی فتاوی رضویہ جلد نم صفحہ ٩٠ میں فرمایا کہ نمبر دو والا دہلوی [یعنی اسماعیل دہلوی] کافر فقہی تھا ۔
نیز الکوکبۃ الشھابیہ میں اخیر میں فرمایا کہ عند الفقہاء اسمعیل دہلوی قطعا یقینا اجماعا کافر و مرتد ہے
ہاں عند المتکلمین کافر کہنے سے منع فرمایا ہے اور حضور اعلی حضرت کا پسندیدہ مذہب متکلمین کا مذہب ہے
لہذا اس میں کوئی اختلاف نہیں مزید تفصیل کے لیے علامہ طارق انور مصباحی حفظہ اللہ القوی کے رسائل کا مطالعہ فرمائیں خاص کر
کفر وضلالت اور قتل وعقوبت
کافر فقہی اور بدعتی کے لئے حکم قتل کی صورتیں اور اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی میں حکم قتل کا بیان
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
فرقۂ صلح کلی ـــــــــــــــــــــــــــــ
ایک فرقہ ایسا ہے جس کے بارے علامہ عبد المبین امروہی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ وہ گلابی وہابی ہے انھیں لوگوں کو اب زمانہ صلح کلی کہتا ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بریلوی اور دیوبندی دونوں جماعت کے علما کا احترام کرتے ہیں اور ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں جب ایسے لوگوں کی گرفت ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم مسلک سے کیسے نکلے ہم بھی تو جلسہ، فاتحہ، میلاد سب کرتے ہیں
یہی صلح کلیوں کی پہچان ہے کہ سب سے میل جول کر رہنا چاہتا ہے حق کو حق باطل کو باطل نہیں کہتا اسی لیے سرکار تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
صلح کلی نبی کا نہیں سنیوں
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لیے
فرقۂ مولائیہ ـــــــــــــــــ
یہ فرقہ ضروریات اہل سنت میں شب خون مارتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرات شیخین کریمین سے افضل ہیں اور صحابہ کرام میں سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر زبان لعن طعن دراز کرتا ہے اور جب ایسے لوگوں کی گرفت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ گرفت کرنے والے متشددین ہیں اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کرنے دیتے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اختلاف امتی رحمۃ تو کیا ہوا اگر ہم نے بھی اختلاف کر لیا
دیکھیے قارئین کیسے مغالطہ دیا جا رہا ہے جو حدیث باب فروعیات میں سے ہے اس کو باب العقائد میں منطبق کر کے باب العقائد میں اختلاف کا دروازہ کھولنے کی جرأت کی یہ فرقہ ضروریات اہل سنت کا منکر گمراہ بد دین ہے
یہ چار فرقے بھی خود کو اہل سنت تو کہتے ہیں لیکن عقائد اہل سنت کے یک لخت منکر ہیں ایسے ہی بد مذہبوں سے خط امتیاز کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم ہوئی
اسی لیے دین علماء مسلک اعلی حضرت سے سیکھیں تاکہ آپ کو بھولا بھالا سنی دیکھ کر کوئی بہکا نہ دے اور آپ اس کی بہکی باتوں پر مطلع بھی نہ ہو پائیں اسی لیے حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذون دینکم
[مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر ٢٧٣]
بے شک یہ علم دین ہے تو دیکھو کہ تم کس سے دین حاصل کر رہے ہو
یہ روایت صاف بتا رہی ہے کہ جس سے دین سیکھو اسے دیکھ لو کہ سنی صحیح العقیدہ ہے کہ نہیں ورنہ ایسے ہی ہوگا کہ ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کا انکار کرے گا اختلاف کرے گا اور کہے گا یہ اختلاف رحمت ہے معاذ اللہ رب العالمین اللہ ایمان کے رہزنوں سے بچائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
18
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہفتم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢