صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد – اسباب و علاج
احوال وطن

نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد – اسباب و علاج

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد - اسباب و علاج
از__محمد جسیم اکرم مرکزی
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف
اللہ وحدہ لاشریک نے ہمیں جن نعمتوں سے نوزا ان میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے
اسی لیے مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی محبوب جان کو بھی جان آفریں کو سپرد کرتے ہوئے دیر نہیں لگاتے - بقول شاعر یہ کہتے ہوے موت کو گلے لگاتے ہیں
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
لیکن اس پر فتن ، پر آشوب دور میں نو جوانان اسلام کے قلوب و اذہان سے اسلام و ایمان کی قدر و منزلت کم ہوتی جا رہی ہے جو کہ افسوسناک بات ہے -
کیوں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اسی فضائے خوش گوار میں پروان چڑھے، دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے لیے نہ کوئی مشقت اٹھانی پڑی اور نہ کبھی پریشان ہوئے، بقول سرکار اعلی حضرت ارضاہ عنا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں ہاے نکما تیرا
نہ ہمارے ساتھ سلمان فارسی بلال حبشی صہیب رومی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے حادثات پیش آئے اور نہ ہی کوئی بڑی مصیبت، شاید بایں سبب حکومت ہند کے ٹکڑوں میں پلنے والے بھگوائیوں کے دام فریب میں جا پھنستے ہیں اور اسلام جیسی نعمت عظمی خود اپنے ہاتھ گنوا کر قعر مذلت میں جا گرتے ہیں
اللہ جل و علا نے مسلمان مرد و عورت کے مشرک مرد و عورت سے نکاح کے سلسلے میں فرمایا:
﴿وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكَـٰتِ حَتَّىٰ یُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةࣱ مُّؤۡمِنَةٌ خَیۡرࣱ مِّن مُّشۡرِكَةࣲ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكِینَ حَتَّىٰ یُؤۡمِنُوا۟ۚ وَلَعَبۡدࣱ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرࣱ مِّن مُّشۡرِكࣲ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ یَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ یَدۡعُوۤا۟ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَیُبَیِّنُ ءَایَـٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ یَتَذَكَّرُونَ﴾ [البقرة ٢٢١]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہو جائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی اگر چہ وہ تمہیں بھاتی ہو، اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، اور بے شک مسلمان غلام مشرک سے اچھا اگر چہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
پھر بھی اگر کوئی نصیحت بھلا کر مشرک مرد و عورت سے شادی کر کے اس کا دین قبول کر لے تو وہ کافر مرتد ہو جائے گا اور اس کے لیے جہنم کا دائمی درد ناک عذاب ہے ،
اللہ جل و علا کا فرمان عالی شان ہے:
[وَمَن یَرۡتَدِدۡ مِنكُمۡ عَن دِینِهِۦ فَیَمُتۡ وَهُوَ كَافِرࣱ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَـٰلُهُمۡ فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـَٔاخِرَةِۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِیهَا خَـٰلِدُونَ﴾ [البقرة ٢١٧]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔
بھگوائیوں کی سازشیں _
یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ اسلام اور اہل اسلام پر مخالفین کی نگاہیں ہمیشہ مرکوز رہی ہیں شاید و باید ہی کوئی ایسا شہر یا قریہ ہو جہاں مسلمانوں کو مخالفین سے اپنے تحفظ و بقا کے لیے جنگ نہ لڑنی پڑی ہو ، خصوصا ہندوستان میں ایسا صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور یہ سلسلہ اب دراز ہوتا جارہا ہے ،
وقتا فوقتاً فتنے مختلف شکلوں میں رو نما ہوتے رہے حتی کہ دور حاضر میں ایک نیا فتنہ، فتنۂ ارتداد نے سر اٹھایا جس کا پس منظر خود ایک ہندو لڑکی کی ٹویٹ کی شکل میں ملاحظہ فرمائیں :
ٹویٹر میں پونم کماری نام کی آئی ڈی ہے جس سے ٢٦ اپریل ٢٠٢٣ میں یہ ٹویٹ کی گئی :
مسلم لڑکیوں سے شادی کرو اسے سرکاری پراپرٹی سمجھ کر استعمال کرو خود بھی مزہ لو دوسروں کو بھی دلاؤ سب کا ساتھ سب کا وکاس تبھی ہوگا -
اس کے بعد بھگوائیوں کے لیے مزید پانچ ہدایات لکھی ہوئی ہیں من و عن آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں:
١) مسلم لڑکی کے سامنے اس کے مذہب کی تعظیم کرو
٢) اسلامی اسٹیٹس لگاؤ اور دکھاؤ تم بھی اسلام سے پیار کرتے ہو
٣) جب جنسی تعلقات قائم ہو جائیں تو اسے Oyo پہ لے کر بہت ساری تصویریں کھنچوا کر اپنے پاس رکھ لو
٤) بجرنگ دَل میں شامل کرو
٥) لڑکی کو بھگا لے جار شادی کرو بجرنگ دل سے پانچ یا چھ لاکھ روپے مل جائے گا اس روپے سے لڑکی کے ساتھ دو تین سال تک چل جائے گا پھر اس کے بعد اپنا رنگ دکھا دینا ۔ سمجھ گئے نا آگے!
بھگوائی سازشیں کیوں؟ _______
# آخر یہ سازشیں رچنے رچانے کی ضرورت کیا ہے ؟
اس کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیں:
پہلی ہدایت___اس میں کہا گیا کہ مسلم لڑکی کے سامنے اس کے مذہب کی تعظیم کرو ایسا کرنے سے وہ تم سے متاثر ہونے لگے گی وہ تمہارے افعال کو دیکھ کر سوچے گی کہ یہ تو ہماری عزت کرتا ہے ہمارے مذہب کو اچھا جانتا ہے شاید اگر میں اسے سمجھاؤں گی تو یہ بھی اسلام کو ماننے لگے گا ثواب بھی ملے گا تو کیونکر اس موقع کو ہاتھ سے جانے دوں جب تم ایسا کروگے تو پھر وہ دھیرے دھیرے تمہارے قریب آنے لگے گی اور تم اپنے ہدف میں بآسانی کامیابی حاصل کر سکوگے
دوسری ہدایت____ اس میں اسلامی اسٹیٹس لگانے کی ترغیب دلائی گئی ہے تاکہ اس کے رابطے میں جتنی مسلم لڑکیاں ہوں گی وہ سب دیکھیں گی یہ ہندو ہو کر بھی ہمارے اسلام کو بہت پسند کرتا ہے تو وہ اپنی اس سہیلی کو جو اس ہندو لڑکے کے دام فریب میں پھسنے کو ہے اس کی طرف جانے سے بھی نہیں روکے گی بلکہ مزید اس کی ترغیب دے گی
تیسری ہدایت____اس میں جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد پارک وغیرہ میں گھمانے اور تصویریں کھیچوانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اگر بعد میں گھر والے کو پتہ چلے کہ میری بیٹی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ عشق لڑا رہی ہے اور والدین اسے اس ناپاک رشتے کو توڑنے کے لیے کہیں تو لڑکی کے پاس سوائے اس ہندو لڑکے کو اپنانے کے کوئی راستہ نظر نہ آئے کیونکہ اگر وہ چھوڑ دے گی تو لڑکا تمام تصویریں شوشل میڈیا میں شئر کر دے گا جس سے لڑکی کی بے عزتی تو ہوگی ہی ہوگی لیکن اس سانحہ کے بعد کوئی غیرت مند مسلم لڑکا اس سے شادی کرنا بھی نہیں چاہے گا، اس لیے کہ اس کے پاس اپنے ہندو عاشق کو اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا -
چوتھی ہدایت____اس میں کہا گیا کہ لڑکی کو بجرنگ دَل میں شامل کرو
بجرنگ دل کیا ہے؟
بجرنگ دل سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کا یوتھ ونگ ہے،
بجرنگیوں کا یہ گروپ شری رام کے کام کے لیے ’بجرنگ دل‘ کی شکل میں کام کرتا ہے۔‘
بجرنگ دل تنظیم کا قیام ہندوؤں کو سماج دشمن عناصر سے بچانے کے لیے ہے۔ اس وقت صرف مقامی نوجوانوں کو ہی ذمہ داری دی گئی ہے جو شری رام جنم بھومی تحریک کے کام میں سرگرم رہتے ہیں۔
اس تنظیم کو اس کے سخت گیر اور ’مسلم اور مسیحی مخالف‘ نظریات کے لیے ابتدا سے ہی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ (ماخوذ از گوگل)
مذکورہ اقتباس کو پڑھیے اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بجرنگ دل کی ذمہ داری نوجوان ہندو سنبھال رہے ہیں تاکہ بجرنگ دل میں مسلم لڑکیوں کو شامل کرایا جائے اور ان کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ اسلام سے بد ظن ہو کر بھگوائیوں کے نرغے میں آجائیں -
پانچویں ہدایت____اس میں تو آسائش و آرام کی تمام سہولتوں کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ مسلم لڑکی کو بھگا کر لے جانے والے کو پانچ سے چھ لاکھ روپے ملے گا جس سے وہ دو تین سال تک خوب عیش کریں گے پھر جب من بھر جائے اور اس کی طرف رغبت نہ رہے تو اپنا رنگ دکھا دیں، جس کی ترغیب ان الفاظ کے ذریعے دی گئی
اپنا رنگ دکھا دینا سمجھ گئے نا آگے
یعنی آگے کیا کرنا ہے یہ سارا نظام جو بجرنگ دل میں بتایا گیا اسی کی طرف اشارہ ہے لہذا وہ تمام باتیں اپنے ذہن میں رکھ کر سارا کام انجام دینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،
آئیے مذکورہ اقتباس میں جو کہا گیا ہے کہ اپنا رنگ دکھا دینا وہ کونسا رنگ ہے آپ کو واقعات کے تناظر میں دکھاتے ہیں

اپنا رنگ دکھا دینا" واقعات کے تناظر میں___

پہلا رنگ:
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے ہندو لڑکے سے شادی کرنے والی نعیمہ کا عبرتناک انجام
١٧ مارچ ٢٠٢٣ء کو ایک خوبصورت حسین و جمیل لڑکی نعیمہ ہندو لڑکا آشو کے ساتھ گھر سے فرار ہو گئی
عاشق آشو کے لیے نعیمہ نے ماں باپ دھن دولت نعمت بلکہ سب سے بڑی نعمت ایمان و اسلام تک چھوڑ دی، لیکن اتنا سب کچھ کرنے با وجود آشو بجرنگ دل کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اپنا رنگ دکھا ہی دیا جب اس کا من بھر گیا تو اس نے نعیمیہ کو قتل کر دیا ظلم بالائے ظلم یہ کہ قتل کر کے نلکوپ کے کنویں میں ڈال دیا بلکہ اس سے بھی جی نہیں بھرا تو لاش کو گلنے کے لیے کنویں میں نمک بھی ڈال دیا تاکہ جلدی سے لاش گل جائے اور اس کا مقصد تمام ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا -
شاملی بابری تھانہ چھیتر میں ٣ اپریل بنتی کھیڑا میں نلکوپ کنویں سے نعش بر آمد ہو گئی اور آشو کے خلاف لڑکی کے گھر والوں نے رپورٹ درج کروائی ،
لیکن اب یہ کاروائی کرنے سے کیا ہوگا؟ آشو نے تو اپنا رنگ دکھا دیا!
یہ تو بجرنگ دل کا پہلا رنگ ہے دل کو تھامیے اور دوسرا رنگ ملاحظہ فرمائیے
دوسرا رنگ_________
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے :
بیچا: سمستی پور میں یوتی نے درج کروائی ایف، آئی ، آر، کہا لڑکوں نے چھ مہینے ریپ کر کے پھر دلی میں بیچ دیا،
واقعہ کا پس منظر________
ہندو لڑکے وکاس نے سازش کر کے مسلم لڑکی کو پیار کے جال میں پھنسایا،
پھر اس سے بھاگ کر شادی کی، وکاس نے کچھ دن اس نئی نویلی گڑیا سے کھیلا جب دل بھر گیا تو اس نے اس کو بنگلور میں چار لڑکوں کے ہاتھ بیچ دیا، چھ مہینے تک ان چار لڑکوں نے بھی گینگ ریپ کیا، اس کے جسم کو خوب نوچا پھر انھوں نے لڑکی کو دلی میں لا کر بیچ دیا،
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے با وجود مسلم لڑکیوں کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں کہتی ہیں میرا والا ایسا نہیں کرے گا یہ بالکل فریب ہے غلط ہے کیونکہ وہ اپنے دام فریب میں پھنساتا ہی اس لیے ہے کہ اپنا رنگ دکھا سکے -
اللہ سمجھ کی توفیق مرحمت فرمائے-
یہ تو دوسرا رنگ تھا جس کو دیکھنے کے بعد ضرور دل دہل گیا ہوگا
آئیے لگے ہاتھ تیسرا رنگ بھی ملاحظہ فرمائیے اور اس پر بھی غور کیجیے کہ کس طرح سے مسلم لڑکیوں پر بھگوائیوں کا رنگ چڑھتا جا رہا ہے
تیسرا رنگ____________
نویڈا - انسٹاگرام پر ریل بنانے والی سائبہ خان کو جیتندر سے پیار ہو گیا تو دونوں نے شادی کر لی ،
جیتیندر نے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کے بعد ١٥ مئی ٢٠٢٣ کو سائبہ کو شراب پلا کر اس کے ہاتھ کی نس کاٹ دی ، جب وہ بے ہوش ہو گئی تو گھبرا کر گلا گھونٹ کر مار دیا اور پاس ہی کے ایک گندی نالی میں پھینک دیا، کتے لاش کو نوچ رہے تھے تو کسی نے ١٨ مئی کو پولیس کو خبر دی ، لاش کے ہاتھ پر سائبہ خان لکھا تھا،
جیتیندر نے تو حد ہی کر دیا بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس نے انتہائی درجے کا رنگ دکھایا -
اسلام چھوڑنے پر کیا ملا؟ یہی کہ ذلت کی موت مرنے کے بعد لاش تک کو کتے نوچ نوچ کر کھانے لگے، دل پھٹا جاتا ہے ایسے واقعات کو پڑھ کر سن کر لیکن اب بھی قوم مسلم اور ہماری بچیاں بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں
کاش اگر سائبہ کسی مسلم سے شادی کرتی تو ملکہ بن کر ایک گھر میں راج کرتی اور ملکہ جیسی شان و شوکت کے ساتھ اپنی آخری آرام گاہ تک جاتی لیکن اس نے عزت پر ذلت کو فوقیت دی،
چوتھا رنگ________
حیدرآباد ٢٣ جون ٢٠٢٣ء کو تعلیم یافتہ مسلم لڑکی ثنا نے فیس بک میں لائو آکر خود کشی کر لی جس کی خبر بجلی کی طرح ہر طرف پھیل گئی ،
ہندو شوہر ہیمنت پاٹیل نے اسلام قبول کرنے کا ناٹک کر کے ثنا کو بھگوا لو ٹرپ میں پھنسایا
جب ثنا کی جوانی کو نوچ لیا من بھر گیا تو پھر ثنا کو دھوکا دے کر دوسری مسلم لڑکی صوفیہ کو اپنے دام فریب میں پھنسایا اور اس کے ساتھ مل کر ثنا کو چھیڑنے اور پریشان کرنے لگا، ثنا نے ہیمنت پاٹیل کی ان دل خراش باتوں سے پریشان و مجبور ہو کر خود کشی کر لی
دیکھیے بغور دیکھیے کہ اس ہندو لڑکے نے کیا رنگ دکھایا پہلے تو مسلمان ہونے کا ناٹک کیا لڑکی سمجھی کہ میں اس سے شادی کر لوں گی تو مجھے بھی ثواب ملے گا تو شادی کر لی،
لیکن اس غدار نفس کے شکار نے اپنا رنگ دکھایا اور ثنا کو تکمیل خواہشات نفس کے بعد بے یار و مددگار چھوڑ دیا،
صرف یہی نہیں بلکہ اس نے اس کے بعد دوسری مسلم لڑکی کو بھی پھنسایا یہاں سے قارئین سمجھ سکتے ہیں مسلم لڑکیاں کس قدر ان بھگوائیوں سے متاثر اور اسلام سے بد ظن ہو چکی ہیں کہ یہ دیکھنے کے بعد بھی کہ مسلم لڑکی اس درندے کے بھینٹ پہلے ہی چڑھ گئی لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ رہنے میں خود کو محفوظ سمجھ رہی ہے ،
حالانکہ وہ دن دور نہیں کہ یہ بھی بھگوائی رنگ کا اصل چہرہ دیکھے گی اور دین و ایمان سے ہاتھ دھوئے گی ہی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی -
مسلم لڑکیوں کو ثنا کی ماں کی نصیحت _______
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے:
غیر مسلم شوہر کی ہراسانی پر خود کشی کرنے والی ثنا کی والدہ کی مسلم لڑکیوں سے التجا،
حیدرآباد ٢٣ جون : (سیاست نیوز): غیر مسلم شوہر کی ہراسانی کا شکار خود کشی کرنے والی ثنا کی والدہ نے مسلم لڑکیوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بچی جیسی غلطی نہ کریں،
انھوں نے مسلم لڑکیوں سے التجا کرتے ہوئے کہا :
کہ وہ کوئی دوسری مسلم بیٹی کے ساتھ اس طرح درد ناک انجام کو نہیں دیکھ سکتی ۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایسا سبق حاصل ہوا جس کو وہ زندگی بھر کبھی بھلا نہیں سکتی ۔ ثنا کی والدہ نے کہا ان کی بچی کو شادی کے وقت سے ہراسانی کا سامنا تھا۔ لڑکی کا شوہر لڑکی پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا تھا۔ لڑکی بر سر روزگار اور اعلی تعلیم یافتہ تھی۔ ثنا کی والدہ جو بچی کے غم میں صدمہ کا شکار ہے دیگر مسلم لڑکیوں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ ان کی بچی کے انجام کو دیکھیں اور دردمندانہ گزارش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ ثنا کی جیسی غلطی نہ کریں۔
یہاں ثنا کی ماں کے نصیحت کو اس لیے ذکر کیا کیونکہ ایک بیٹی کی جدائی کا درد ماں ہی جان سکتی ہے ہم اور آپ نہیں جان سکتے ۔
پانچواں رنگ________
ان بھگوائیوں کا ایک بہت ہی نا زیبا اور گھناؤنا رنگ دیکھیے اور اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ کیا اب بھی آپ کی اپنی ایمانی غیرت خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھنا چاہتی ہے یا بھگوائیوں سے انتقام پر آپ کو ابھارتی بھی ہے؟
ایم پی میں تقریبا دو مہینے پہلے ایک مسلم لڑکی کو ہندو لڑکے نے بھگوا لو ٹرپ میں پھنسا لیا
پھر اس کے بعد اس کی عزت سے کھلواڑ کیا جب من بھر گیا تو لڑکی کو زد و کوب کرنے لگا حتی کہ جب لڑکی زمین پر بے حس ہو کر گر پڑی تو اس کے چہرے پر ہندو لڑکا پیشاب کرنے لگا اس منظر کو جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی،
کہ آج مسلم بیٹیوں پر اس قدر ظلم و تشدد ہو رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ مصلحت کے ترانے گنگنا رہے ہیں ۔
اگر خاموشی اور تماشائی بنے رہنے کا نام مصلحت ہوتا تو حضرت محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کبھی بھی حجاز سے ایک ننھی جان کو بچانے کی خاطر سندھ نہیں آتے ایک نازک جان کے لیے کئی بہادر جان شہید نہیں کراتے، تاریخ سے واقفیت رکھنے والے حضرات سے یہ بات مخفی نہیں ہے
آخر بات کیا تھی حضرت محمد بن قاسم نے کئی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک جان بچائی، بات غیرت ایمانی کی تھی کہ مسلم سر تو کٹا سکتے ہیں لیکن اپنی غیرت کا سودا کبھی نہیں کر سکتے،
یہ تو صرف ماضی قریب کے پانچ رنگ واقعات کی شکل میں قارئین کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں ورنہ ایسے واقعات ہزاروں سے زیادہ ہیں جن کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے ایک دفتر بھی نا کافی لیکن اہل دل چشم بینا کے لیے یہ پانچ رنگ بھی کافی و وافی

اسباب و علاج _________

فتۂ ارتداد کے سد باب کے لیے پانچ اسباب ملاحظہ فرمائیں اور انھیں کو علاج بھی سمجھیں، رہی بات شفا کی تو وہ اللہ جل و علا کے دست قدرت میں ہے،
(١) سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اسلامی ماحول میں پرورش کریں خود بھی گناہوں سے بچتے رہیں اور اپنی اولاد کو بھی بچائیں کیونکہ ماں کی گود اولاد کے لیے پہلی درسگاہ ہے اس میں جو تربیت ہوگی اس کا اثر تا دم اخیر رہے گا
(٢) اسلامی اسکول اور مدرسے کا انتظام کیا جائے جس میں صرف مسلم بچیاں اسلامی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کریں اگر اس کا انتظام نہ کیا گیا تو عوام نہیں مانے گی وہ ضرور اپنی بچیوں کو غیروں کے اسکول میں بھیجیں گے اور ان کے افعال و اقوال شنیعہ قبیحہ سے متاثر ہو کر اسلام سے بد ظن ہو کر بھگوائیوں کو اپنا محافظ سمجھنے لگیں گی اور یہی فتنۂ ارتداد کی جڑ ہے جب بچی بچپن سے ہی ہندوتوا ماحول میں رہے گی تو اس کو کیونکر ہندوانہ رسم و رواج برا معلوم ہوگا بلکہ گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثر وہ ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کو ایک سمجھنے لگی گے
لہذا اسلامی اسکول کا قیام از حد ضروری ہے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم بھی دی جائے خصوصاً عقائد پر خاصی توجہ دی جائے اور یہ بہت مشکل کام نہیں بلکہ بہت آسان ہے بس مسلم قوم ایک دو سال جو روپے جلسے میں خرچ کرتی ہے وہ اسلامی اسکول بنانے اور مدارس کا انتظام و انصرام بہتر بنانے میں خرچ کر دے ،
اگر محاسبہ کیا جائے تو مسلم قوم صرف ایک سال کے جلسے اور خرافاتی ڈارموں میں کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہے یہ فقط ایک صوبے کی بات ہے،
تو اندازہ لگائیں پورے ہندوستان میں ہونے والے جلسوں کو ملا کر کتنا خرچ ہوتا ہوگا ؟
اتنا خرچ ہونے کے باوجو ان جلسوں کا نتیجہ کیا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے ،
میں یہ نہیں کہتا جلسہ نہ کیا جائے، جلسہ کیا جائے لیکن منظم طریقے سے ضلعی سطح پر کیا جائے با رسوخ موقر و معتمد علما کے ذریعے عقائد و نظریات اہل سنت پر ناصحانہ انداز میں تقریر کرائی جائے،
(٣) نکاح آسان کیا جائے جہیز جیسی بلا کو ختم کر دیا جائے نکاح میں تاخیر نہیں تعجیل کی ترغیب دلائی جائے جو غریب بیٹیاں ہیں ان کے نکاح کا انتظام و انصرام کیا جائے ان کی ہر طرح امداد کی جائے نکاح آسان اور عام ہوگا تو زنا کا دروازہ خود بخود بند ہو جائے گا بالخصوص شادیوں میں جو غیر شرعی رسم و رواج ہے اسے ختم کرنے کے لیے حتی الامکان کوشش کی جائے اس کے لیے ہر گاؤں میں ایک جماعت کی تشکیل دی جائے جس کے ماتحتی میں سارا کام سر انجام پائے
(٤) موبائل فون لیپ ٹاپ سے نوجوان نسل کو دور رکھنا ایک امر مشکل ہوتا جا رہا ہے
اگر والدین موبائل استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں تو بچے والدین سے متنفر ہو جاتے ہیں حتی کہ دھیرے دھیرے والدین کے صلاح و مشورہ چھوڑ کر غیروں کے صلاح و مشورہ پر عمل کرنے لگ جاتے ہیں ایسے عالم میں میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنی اولاد کو ان چیزوں کو صحیح استعمال کرنے کی ترغیب دیں اور ان پر اپنی نظر رکھیں،
ہاں سمجھائیں اگر سمجھانے سے سوشل میڈیا سے دور ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن ضد پر نہ اتر آئیں کہ اس کا رد عمل زہر ہلاہل بن کر سینے میں اتر جاتا ہے، ان کے ساتھ اپنا وقت گزاریں ان کو اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اکثر اوقات دینی اور مفید گفتگو کریں بروں کی صحبت سے بالکلیہ دور رکھیں اور اس کے مضر اثرات بھی بتائیں
(٥) طلاق، حلالہ، خلع، پردہ ، عدت، کفو، مقام نسواں، چار شادیاں، بہتر حوریں، جنت، جہنم، جہاد ، حب الوطن وغیرھم جیسے حساس مسائل پر داعیان اسلام کو کھل کر گفتگو کرنی چاہیے ان زیر بحث مسائل کے تمام نکات عوام کے سامنے کھل کر بیان کرنا چاہئیے اگر ہم اسے بیان نہیں کریں گے تو اسی طرح سے مسلم نوجوانوں کو مخالفین اسلام، اسلام سے بدظن کرتے رہیں گے
وہ دن اور تھے جب علما خطبا ان مسائل پر وضاحتا خطاب نہیں کرتے تھے کیونکہ اس وقت اس کی اتنی ضرورت بھی نہیں تھی اشاراۃ بھی کہنے سے بات بن جاتی تھی لیکن دور حاضر میں علما، خطبا، قائدین و داعیین پر فرض ہے کہ عوام کے سامنے اس کی صحیح تفہیم بیان کریں ان کے قلوب و اذہان سے ان تمام اشکال و شبہات کو دور کرنے کی کوشش کریں جو بھگوائیوں نے عوام کے ذہنوں میں ڈال دیے ہیں اگر ایسا نہ ہوا تو کل میدان حشر میں ہم سب کو اس کا جواب دینا پڑے گا میری نظر میں ارتداد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین کی صحیح تفہیم عوام تک نہیں پہنچائی بس انھیں کرامات سنا سنا کر خوش کرتے رہے ،
خلاصۂ کلام ________
ہر دور میں فتنے جنم لیتے رہے اور مسلمانوں کو دبانے کی تمام سازشیں کرتے رہے لیکن مسلمانوں نے شتر بے مہار کی طرح ان فتنوں کو چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہر دور میں ہر فتنے سے جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئے تو ہمیں بھی اسلاف کی تاریخ دھراتے ہوئے فتنۂ ارتداد کی سر کوبی کے لیے مستعد و متحد ہو کر میدان میں اترنا ہوگا۔
جتنے بھگوائیوں کے اعتراضات اسلام کے متعلق ہیں ان تمام کا تشفی بخش جواب دے کر مسلمانوں کو ان کے چنگل سے چھڑانا ہوگا خصوصا طلاق ، حلالہ، خلع جیسے حساس مسائل کی صحیح تفہیم عوام تک پہنچانی ہوگی تاکہ ہماری ذمہ داری پوری ہو جائے اور اللہ جل و علا کے سامنے میدان حشر میں شرمندہ نہ ہونا پڑے
اللہ جل و علا ہمیں حق گوئی کی توفیق مرحمت فرمائے مشرکین کی سازشوں سے بچائے
مالک و مختار عالم رحمت پرور دگار
یک نظر کن سوئے ما اے شافع عصیاں شعار
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ارتدادی فتنہ بڑھتا جا ہے ہے دن بدن
کیجیے چشم عنایت اے رسول ذی وقار
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد – اسباب و علاج

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد - اسباب و علاج
از__محمد جسیم اکرم مرکزی
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف
اللہ وحدہ لاشریک نے ہمیں جن نعمتوں سے نوزا ان میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے
اسی لیے مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی محبوب جان کو بھی جان آفریں کو سپرد کرتے ہوئے دیر نہیں لگاتے - بقول شاعر یہ کہتے ہوے موت کو گلے لگاتے ہیں
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
لیکن اس پر فتن ، پر آشوب دور میں نو جوانان اسلام کے قلوب و اذہان سے اسلام و ایمان کی قدر و منزلت کم ہوتی جا رہی ہے جو کہ افسوسناک بات ہے -
کیوں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اسی فضائے خوش گوار میں پروان چڑھے، دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے لیے نہ کوئی مشقت اٹھانی پڑی اور نہ کبھی پریشان ہوئے، بقول سرکار اعلی حضرت ارضاہ عنا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں ہاے نکما تیرا
نہ ہمارے ساتھ سلمان فارسی بلال حبشی صہیب رومی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے حادثات پیش آئے اور نہ ہی کوئی بڑی مصیبت، شاید بایں سبب حکومت ہند کے ٹکڑوں میں پلنے والے بھگوائیوں کے دام فریب میں جا پھنستے ہیں اور اسلام جیسی نعمت عظمی خود اپنے ہاتھ گنوا کر قعر مذلت میں جا گرتے ہیں
اللہ جل و علا نے مسلمان مرد و عورت کے مشرک مرد و عورت سے نکاح کے سلسلے میں فرمایا:
﴿وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكَـٰتِ حَتَّىٰ یُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةࣱ مُّؤۡمِنَةٌ خَیۡرࣱ مِّن مُّشۡرِكَةࣲ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكِینَ حَتَّىٰ یُؤۡمِنُوا۟ۚ وَلَعَبۡدࣱ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرࣱ مِّن مُّشۡرِكࣲ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ یَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ یَدۡعُوۤا۟ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَیُبَیِّنُ ءَایَـٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ یَتَذَكَّرُونَ﴾ [البقرة ٢٢١]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہو جائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی اگر چہ وہ تمہیں بھاتی ہو، اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، اور بے شک مسلمان غلام مشرک سے اچھا اگر چہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
پھر بھی اگر کوئی نصیحت بھلا کر مشرک مرد و عورت سے شادی کر کے اس کا دین قبول کر لے تو وہ کافر مرتد ہو جائے گا اور اس کے لیے جہنم کا دائمی درد ناک عذاب ہے ،
اللہ جل و علا کا فرمان عالی شان ہے:
[وَمَن یَرۡتَدِدۡ مِنكُمۡ عَن دِینِهِۦ فَیَمُتۡ وَهُوَ كَافِرࣱ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَـٰلُهُمۡ فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـَٔاخِرَةِۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِیهَا خَـٰلِدُونَ﴾ [البقرة ٢١٧]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔
بھگوائیوں کی سازشیں _
یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ اسلام اور اہل اسلام پر مخالفین کی نگاہیں ہمیشہ مرکوز رہی ہیں شاید و باید ہی کوئی ایسا شہر یا قریہ ہو جہاں مسلمانوں کو مخالفین سے اپنے تحفظ و بقا کے لیے جنگ نہ لڑنی پڑی ہو ، خصوصا ہندوستان میں ایسا صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور یہ سلسلہ اب دراز ہوتا جارہا ہے ،
وقتا فوقتاً فتنے مختلف شکلوں میں رو نما ہوتے رہے حتی کہ دور حاضر میں ایک نیا فتنہ، فتنۂ ارتداد نے سر اٹھایا جس کا پس منظر خود ایک ہندو لڑکی کی ٹویٹ کی شکل میں ملاحظہ فرمائیں :
ٹویٹر میں پونم کماری نام کی آئی ڈی ہے جس سے ٢٦ اپریل ٢٠٢٣ میں یہ ٹویٹ کی گئی :
مسلم لڑکیوں سے شادی کرو اسے سرکاری پراپرٹی سمجھ کر استعمال کرو خود بھی مزہ لو دوسروں کو بھی دلاؤ سب کا ساتھ سب کا وکاس تبھی ہوگا -
اس کے بعد بھگوائیوں کے لیے مزید پانچ ہدایات لکھی ہوئی ہیں من و عن آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں:
١) مسلم لڑکی کے سامنے اس کے مذہب کی تعظیم کرو
٢) اسلامی اسٹیٹس لگاؤ اور دکھاؤ تم بھی اسلام سے پیار کرتے ہو
٣) جب جنسی تعلقات قائم ہو جائیں تو اسے Oyo پہ لے کر بہت ساری تصویریں کھنچوا کر اپنے پاس رکھ لو
٤) بجرنگ دَل میں شامل کرو
٥) لڑکی کو بھگا لے جار شادی کرو بجرنگ دل سے پانچ یا چھ لاکھ روپے مل جائے گا اس روپے سے لڑکی کے ساتھ دو تین سال تک چل جائے گا پھر اس کے بعد اپنا رنگ دکھا دینا ۔ سمجھ گئے نا آگے!
بھگوائی سازشیں کیوں؟ _______
# آخر یہ سازشیں رچنے رچانے کی ضرورت کیا ہے ؟
اس کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیں:
پہلی ہدایت___اس میں کہا گیا کہ مسلم لڑکی کے سامنے اس کے مذہب کی تعظیم کرو ایسا کرنے سے وہ تم سے متاثر ہونے لگے گی وہ تمہارے افعال کو دیکھ کر سوچے گی کہ یہ تو ہماری عزت کرتا ہے ہمارے مذہب کو اچھا جانتا ہے شاید اگر میں اسے سمجھاؤں گی تو یہ بھی اسلام کو ماننے لگے گا ثواب بھی ملے گا تو کیونکر اس موقع کو ہاتھ سے جانے دوں جب تم ایسا کروگے تو پھر وہ دھیرے دھیرے تمہارے قریب آنے لگے گی اور تم اپنے ہدف میں بآسانی کامیابی حاصل کر سکوگے
دوسری ہدایت____ اس میں اسلامی اسٹیٹس لگانے کی ترغیب دلائی گئی ہے تاکہ اس کے رابطے میں جتنی مسلم لڑکیاں ہوں گی وہ سب دیکھیں گی یہ ہندو ہو کر بھی ہمارے اسلام کو بہت پسند کرتا ہے تو وہ اپنی اس سہیلی کو جو اس ہندو لڑکے کے دام فریب میں پھسنے کو ہے اس کی طرف جانے سے بھی نہیں روکے گی بلکہ مزید اس کی ترغیب دے گی
تیسری ہدایت____اس میں جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد پارک وغیرہ میں گھمانے اور تصویریں کھیچوانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اگر بعد میں گھر والے کو پتہ چلے کہ میری بیٹی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ عشق لڑا رہی ہے اور والدین اسے اس ناپاک رشتے کو توڑنے کے لیے کہیں تو لڑکی کے پاس سوائے اس ہندو لڑکے کو اپنانے کے کوئی راستہ نظر نہ آئے کیونکہ اگر وہ چھوڑ دے گی تو لڑکا تمام تصویریں شوشل میڈیا میں شئر کر دے گا جس سے لڑکی کی بے عزتی تو ہوگی ہی ہوگی لیکن اس سانحہ کے بعد کوئی غیرت مند مسلم لڑکا اس سے شادی کرنا بھی نہیں چاہے گا، اس لیے کہ اس کے پاس اپنے ہندو عاشق کو اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا -
چوتھی ہدایت____اس میں کہا گیا کہ لڑکی کو بجرنگ دَل میں شامل کرو
بجرنگ دل کیا ہے؟
بجرنگ دل سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کا یوتھ ونگ ہے،
بجرنگیوں کا یہ گروپ شری رام کے کام کے لیے ’بجرنگ دل‘ کی شکل میں کام کرتا ہے۔‘
بجرنگ دل تنظیم کا قیام ہندوؤں کو سماج دشمن عناصر سے بچانے کے لیے ہے۔ اس وقت صرف مقامی نوجوانوں کو ہی ذمہ داری دی گئی ہے جو شری رام جنم بھومی تحریک کے کام میں سرگرم رہتے ہیں۔
اس تنظیم کو اس کے سخت گیر اور ’مسلم اور مسیحی مخالف‘ نظریات کے لیے ابتدا سے ہی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ (ماخوذ از گوگل)
مذکورہ اقتباس کو پڑھیے اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بجرنگ دل کی ذمہ داری نوجوان ہندو سنبھال رہے ہیں تاکہ بجرنگ دل میں مسلم لڑکیوں کو شامل کرایا جائے اور ان کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ اسلام سے بد ظن ہو کر بھگوائیوں کے نرغے میں آجائیں -
پانچویں ہدایت____اس میں تو آسائش و آرام کی تمام سہولتوں کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ مسلم لڑکی کو بھگا کر لے جانے والے کو پانچ سے چھ لاکھ روپے ملے گا جس سے وہ دو تین سال تک خوب عیش کریں گے پھر جب من بھر جائے اور اس کی طرف رغبت نہ رہے تو اپنا رنگ دکھا دیں، جس کی ترغیب ان الفاظ کے ذریعے دی گئی
اپنا رنگ دکھا دینا سمجھ گئے نا آگے
یعنی آگے کیا کرنا ہے یہ سارا نظام جو بجرنگ دل میں بتایا گیا اسی کی طرف اشارہ ہے لہذا وہ تمام باتیں اپنے ذہن میں رکھ کر سارا کام انجام دینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،
آئیے مذکورہ اقتباس میں جو کہا گیا ہے کہ اپنا رنگ دکھا دینا وہ کونسا رنگ ہے آپ کو واقعات کے تناظر میں دکھاتے ہیں

اپنا رنگ دکھا دینا" واقعات کے تناظر میں___

پہلا رنگ:
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے ہندو لڑکے سے شادی کرنے والی نعیمہ کا عبرتناک انجام
١٧ مارچ ٢٠٢٣ء کو ایک خوبصورت حسین و جمیل لڑکی نعیمہ ہندو لڑکا آشو کے ساتھ گھر سے فرار ہو گئی
عاشق آشو کے لیے نعیمہ نے ماں باپ دھن دولت نعمت بلکہ سب سے بڑی نعمت ایمان و اسلام تک چھوڑ دی، لیکن اتنا سب کچھ کرنے با وجود آشو بجرنگ دل کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اپنا رنگ دکھا ہی دیا جب اس کا من بھر گیا تو اس نے نعیمیہ کو قتل کر دیا ظلم بالائے ظلم یہ کہ قتل کر کے نلکوپ کے کنویں میں ڈال دیا بلکہ اس سے بھی جی نہیں بھرا تو لاش کو گلنے کے لیے کنویں میں نمک بھی ڈال دیا تاکہ جلدی سے لاش گل جائے اور اس کا مقصد تمام ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا -
شاملی بابری تھانہ چھیتر میں ٣ اپریل بنتی کھیڑا میں نلکوپ کنویں سے نعش بر آمد ہو گئی اور آشو کے خلاف لڑکی کے گھر والوں نے رپورٹ درج کروائی ،
لیکن اب یہ کاروائی کرنے سے کیا ہوگا؟ آشو نے تو اپنا رنگ دکھا دیا!
یہ تو بجرنگ دل کا پہلا رنگ ہے دل کو تھامیے اور دوسرا رنگ ملاحظہ فرمائیے
دوسرا رنگ_________
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے :
بیچا: سمستی پور میں یوتی نے درج کروائی ایف، آئی ، آر، کہا لڑکوں نے چھ مہینے ریپ کر کے پھر دلی میں بیچ دیا،
واقعہ کا پس منظر________
ہندو لڑکے وکاس نے سازش کر کے مسلم لڑکی کو پیار کے جال میں پھنسایا،
پھر اس سے بھاگ کر شادی کی، وکاس نے کچھ دن اس نئی نویلی گڑیا سے کھیلا جب دل بھر گیا تو اس نے اس کو بنگلور میں چار لڑکوں کے ہاتھ بیچ دیا، چھ مہینے تک ان چار لڑکوں نے بھی گینگ ریپ کیا، اس کے جسم کو خوب نوچا پھر انھوں نے لڑکی کو دلی میں لا کر بیچ دیا،
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے با وجود مسلم لڑکیوں کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں کہتی ہیں میرا والا ایسا نہیں کرے گا یہ بالکل فریب ہے غلط ہے کیونکہ وہ اپنے دام فریب میں پھنساتا ہی اس لیے ہے کہ اپنا رنگ دکھا سکے -
اللہ سمجھ کی توفیق مرحمت فرمائے-
یہ تو دوسرا رنگ تھا جس کو دیکھنے کے بعد ضرور دل دہل گیا ہوگا
آئیے لگے ہاتھ تیسرا رنگ بھی ملاحظہ فرمائیے اور اس پر بھی غور کیجیے کہ کس طرح سے مسلم لڑکیوں پر بھگوائیوں کا رنگ چڑھتا جا رہا ہے
تیسرا رنگ____________
نویڈا - انسٹاگرام پر ریل بنانے والی سائبہ خان کو جیتندر سے پیار ہو گیا تو دونوں نے شادی کر لی ،
جیتیندر نے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کے بعد ١٥ مئی ٢٠٢٣ کو سائبہ کو شراب پلا کر اس کے ہاتھ کی نس کاٹ دی ، جب وہ بے ہوش ہو گئی تو گھبرا کر گلا گھونٹ کر مار دیا اور پاس ہی کے ایک گندی نالی میں پھینک دیا، کتے لاش کو نوچ رہے تھے تو کسی نے ١٨ مئی کو پولیس کو خبر دی ، لاش کے ہاتھ پر سائبہ خان لکھا تھا،
جیتیندر نے تو حد ہی کر دیا بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس نے انتہائی درجے کا رنگ دکھایا -
اسلام چھوڑنے پر کیا ملا؟ یہی کہ ذلت کی موت مرنے کے بعد لاش تک کو کتے نوچ نوچ کر کھانے لگے، دل پھٹا جاتا ہے ایسے واقعات کو پڑھ کر سن کر لیکن اب بھی قوم مسلم اور ہماری بچیاں بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں
کاش اگر سائبہ کسی مسلم سے شادی کرتی تو ملکہ بن کر ایک گھر میں راج کرتی اور ملکہ جیسی شان و شوکت کے ساتھ اپنی آخری آرام گاہ تک جاتی لیکن اس نے عزت پر ذلت کو فوقیت دی،
چوتھا رنگ________
حیدرآباد ٢٣ جون ٢٠٢٣ء کو تعلیم یافتہ مسلم لڑکی ثنا نے فیس بک میں لائو آکر خود کشی کر لی جس کی خبر بجلی کی طرح ہر طرف پھیل گئی ،
ہندو شوہر ہیمنت پاٹیل نے اسلام قبول کرنے کا ناٹک کر کے ثنا کو بھگوا لو ٹرپ میں پھنسایا
جب ثنا کی جوانی کو نوچ لیا من بھر گیا تو پھر ثنا کو دھوکا دے کر دوسری مسلم لڑکی صوفیہ کو اپنے دام فریب میں پھنسایا اور اس کے ساتھ مل کر ثنا کو چھیڑنے اور پریشان کرنے لگا، ثنا نے ہیمنت پاٹیل کی ان دل خراش باتوں سے پریشان و مجبور ہو کر خود کشی کر لی
دیکھیے بغور دیکھیے کہ اس ہندو لڑکے نے کیا رنگ دکھایا پہلے تو مسلمان ہونے کا ناٹک کیا لڑکی سمجھی کہ میں اس سے شادی کر لوں گی تو مجھے بھی ثواب ملے گا تو شادی کر لی،
لیکن اس غدار نفس کے شکار نے اپنا رنگ دکھایا اور ثنا کو تکمیل خواہشات نفس کے بعد بے یار و مددگار چھوڑ دیا،
صرف یہی نہیں بلکہ اس نے اس کے بعد دوسری مسلم لڑکی کو بھی پھنسایا یہاں سے قارئین سمجھ سکتے ہیں مسلم لڑکیاں کس قدر ان بھگوائیوں سے متاثر اور اسلام سے بد ظن ہو چکی ہیں کہ یہ دیکھنے کے بعد بھی کہ مسلم لڑکی اس درندے کے بھینٹ پہلے ہی چڑھ گئی لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ رہنے میں خود کو محفوظ سمجھ رہی ہے ،
حالانکہ وہ دن دور نہیں کہ یہ بھی بھگوائی رنگ کا اصل چہرہ دیکھے گی اور دین و ایمان سے ہاتھ دھوئے گی ہی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی -
مسلم لڑکیوں کو ثنا کی ماں کی نصیحت _______
اخبار کی سرخی میں لکھا ہے:
غیر مسلم شوہر کی ہراسانی پر خود کشی کرنے والی ثنا کی والدہ کی مسلم لڑکیوں سے التجا،
حیدرآباد ٢٣ جون : (سیاست نیوز): غیر مسلم شوہر کی ہراسانی کا شکار خود کشی کرنے والی ثنا کی والدہ نے مسلم لڑکیوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بچی جیسی غلطی نہ کریں،
انھوں نے مسلم لڑکیوں سے التجا کرتے ہوئے کہا :
کہ وہ کوئی دوسری مسلم بیٹی کے ساتھ اس طرح درد ناک انجام کو نہیں دیکھ سکتی ۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایسا سبق حاصل ہوا جس کو وہ زندگی بھر کبھی بھلا نہیں سکتی ۔ ثنا کی والدہ نے کہا ان کی بچی کو شادی کے وقت سے ہراسانی کا سامنا تھا۔ لڑکی کا شوہر لڑکی پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا تھا۔ لڑکی بر سر روزگار اور اعلی تعلیم یافتہ تھی۔ ثنا کی والدہ جو بچی کے غم میں صدمہ کا شکار ہے دیگر مسلم لڑکیوں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ ان کی بچی کے انجام کو دیکھیں اور دردمندانہ گزارش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ ثنا کی جیسی غلطی نہ کریں۔
یہاں ثنا کی ماں کے نصیحت کو اس لیے ذکر کیا کیونکہ ایک بیٹی کی جدائی کا درد ماں ہی جان سکتی ہے ہم اور آپ نہیں جان سکتے ۔
پانچواں رنگ________
ان بھگوائیوں کا ایک بہت ہی نا زیبا اور گھناؤنا رنگ دیکھیے اور اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ کیا اب بھی آپ کی اپنی ایمانی غیرت خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھنا چاہتی ہے یا بھگوائیوں سے انتقام پر آپ کو ابھارتی بھی ہے؟
ایم پی میں تقریبا دو مہینے پہلے ایک مسلم لڑکی کو ہندو لڑکے نے بھگوا لو ٹرپ میں پھنسا لیا
پھر اس کے بعد اس کی عزت سے کھلواڑ کیا جب من بھر گیا تو لڑکی کو زد و کوب کرنے لگا حتی کہ جب لڑکی زمین پر بے حس ہو کر گر پڑی تو اس کے چہرے پر ہندو لڑکا پیشاب کرنے لگا اس منظر کو جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی،
کہ آج مسلم بیٹیوں پر اس قدر ظلم و تشدد ہو رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ مصلحت کے ترانے گنگنا رہے ہیں ۔
اگر خاموشی اور تماشائی بنے رہنے کا نام مصلحت ہوتا تو حضرت محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کبھی بھی حجاز سے ایک ننھی جان کو بچانے کی خاطر سندھ نہیں آتے ایک نازک جان کے لیے کئی بہادر جان شہید نہیں کراتے، تاریخ سے واقفیت رکھنے والے حضرات سے یہ بات مخفی نہیں ہے
آخر بات کیا تھی حضرت محمد بن قاسم نے کئی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک جان بچائی، بات غیرت ایمانی کی تھی کہ مسلم سر تو کٹا سکتے ہیں لیکن اپنی غیرت کا سودا کبھی نہیں کر سکتے،
یہ تو صرف ماضی قریب کے پانچ رنگ واقعات کی شکل میں قارئین کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں ورنہ ایسے واقعات ہزاروں سے زیادہ ہیں جن کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے ایک دفتر بھی نا کافی لیکن اہل دل چشم بینا کے لیے یہ پانچ رنگ بھی کافی و وافی

اسباب و علاج _________

فتۂ ارتداد کے سد باب کے لیے پانچ اسباب ملاحظہ فرمائیں اور انھیں کو علاج بھی سمجھیں، رہی بات شفا کی تو وہ اللہ جل و علا کے دست قدرت میں ہے،
(١) سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اسلامی ماحول میں پرورش کریں خود بھی گناہوں سے بچتے رہیں اور اپنی اولاد کو بھی بچائیں کیونکہ ماں کی گود اولاد کے لیے پہلی درسگاہ ہے اس میں جو تربیت ہوگی اس کا اثر تا دم اخیر رہے گا
(٢) اسلامی اسکول اور مدرسے کا انتظام کیا جائے جس میں صرف مسلم بچیاں اسلامی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کریں اگر اس کا انتظام نہ کیا گیا تو عوام نہیں مانے گی وہ ضرور اپنی بچیوں کو غیروں کے اسکول میں بھیجیں گے اور ان کے افعال و اقوال شنیعہ قبیحہ سے متاثر ہو کر اسلام سے بد ظن ہو کر بھگوائیوں کو اپنا محافظ سمجھنے لگیں گی اور یہی فتنۂ ارتداد کی جڑ ہے جب بچی بچپن سے ہی ہندوتوا ماحول میں رہے گی تو اس کو کیونکر ہندوانہ رسم و رواج برا معلوم ہوگا بلکہ گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثر وہ ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کو ایک سمجھنے لگی گے
لہذا اسلامی اسکول کا قیام از حد ضروری ہے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم بھی دی جائے خصوصاً عقائد پر خاصی توجہ دی جائے اور یہ بہت مشکل کام نہیں بلکہ بہت آسان ہے بس مسلم قوم ایک دو سال جو روپے جلسے میں خرچ کرتی ہے وہ اسلامی اسکول بنانے اور مدارس کا انتظام و انصرام بہتر بنانے میں خرچ کر دے ،
اگر محاسبہ کیا جائے تو مسلم قوم صرف ایک سال کے جلسے اور خرافاتی ڈارموں میں کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہے یہ فقط ایک صوبے کی بات ہے،
تو اندازہ لگائیں پورے ہندوستان میں ہونے والے جلسوں کو ملا کر کتنا خرچ ہوتا ہوگا ؟
اتنا خرچ ہونے کے باوجو ان جلسوں کا نتیجہ کیا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے ،
میں یہ نہیں کہتا جلسہ نہ کیا جائے، جلسہ کیا جائے لیکن منظم طریقے سے ضلعی سطح پر کیا جائے با رسوخ موقر و معتمد علما کے ذریعے عقائد و نظریات اہل سنت پر ناصحانہ انداز میں تقریر کرائی جائے،
(٣) نکاح آسان کیا جائے جہیز جیسی بلا کو ختم کر دیا جائے نکاح میں تاخیر نہیں تعجیل کی ترغیب دلائی جائے جو غریب بیٹیاں ہیں ان کے نکاح کا انتظام و انصرام کیا جائے ان کی ہر طرح امداد کی جائے نکاح آسان اور عام ہوگا تو زنا کا دروازہ خود بخود بند ہو جائے گا بالخصوص شادیوں میں جو غیر شرعی رسم و رواج ہے اسے ختم کرنے کے لیے حتی الامکان کوشش کی جائے اس کے لیے ہر گاؤں میں ایک جماعت کی تشکیل دی جائے جس کے ماتحتی میں سارا کام سر انجام پائے
(٤) موبائل فون لیپ ٹاپ سے نوجوان نسل کو دور رکھنا ایک امر مشکل ہوتا جا رہا ہے
اگر والدین موبائل استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں تو بچے والدین سے متنفر ہو جاتے ہیں حتی کہ دھیرے دھیرے والدین کے صلاح و مشورہ چھوڑ کر غیروں کے صلاح و مشورہ پر عمل کرنے لگ جاتے ہیں ایسے عالم میں میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنی اولاد کو ان چیزوں کو صحیح استعمال کرنے کی ترغیب دیں اور ان پر اپنی نظر رکھیں،
ہاں سمجھائیں اگر سمجھانے سے سوشل میڈیا سے دور ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن ضد پر نہ اتر آئیں کہ اس کا رد عمل زہر ہلاہل بن کر سینے میں اتر جاتا ہے، ان کے ساتھ اپنا وقت گزاریں ان کو اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اکثر اوقات دینی اور مفید گفتگو کریں بروں کی صحبت سے بالکلیہ دور رکھیں اور اس کے مضر اثرات بھی بتائیں
(٥) طلاق، حلالہ، خلع، پردہ ، عدت، کفو، مقام نسواں، چار شادیاں، بہتر حوریں، جنت، جہنم، جہاد ، حب الوطن وغیرھم جیسے حساس مسائل پر داعیان اسلام کو کھل کر گفتگو کرنی چاہیے ان زیر بحث مسائل کے تمام نکات عوام کے سامنے کھل کر بیان کرنا چاہئیے اگر ہم اسے بیان نہیں کریں گے تو اسی طرح سے مسلم نوجوانوں کو مخالفین اسلام، اسلام سے بدظن کرتے رہیں گے
وہ دن اور تھے جب علما خطبا ان مسائل پر وضاحتا خطاب نہیں کرتے تھے کیونکہ اس وقت اس کی اتنی ضرورت بھی نہیں تھی اشاراۃ بھی کہنے سے بات بن جاتی تھی لیکن دور حاضر میں علما، خطبا، قائدین و داعیین پر فرض ہے کہ عوام کے سامنے اس کی صحیح تفہیم بیان کریں ان کے قلوب و اذہان سے ان تمام اشکال و شبہات کو دور کرنے کی کوشش کریں جو بھگوائیوں نے عوام کے ذہنوں میں ڈال دیے ہیں اگر ایسا نہ ہوا تو کل میدان حشر میں ہم سب کو اس کا جواب دینا پڑے گا میری نظر میں ارتداد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین کی صحیح تفہیم عوام تک نہیں پہنچائی بس انھیں کرامات سنا سنا کر خوش کرتے رہے ،
خلاصۂ کلام ________
ہر دور میں فتنے جنم لیتے رہے اور مسلمانوں کو دبانے کی تمام سازشیں کرتے رہے لیکن مسلمانوں نے شتر بے مہار کی طرح ان فتنوں کو چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہر دور میں ہر فتنے سے جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئے تو ہمیں بھی اسلاف کی تاریخ دھراتے ہوئے فتنۂ ارتداد کی سر کوبی کے لیے مستعد و متحد ہو کر میدان میں اترنا ہوگا۔
جتنے بھگوائیوں کے اعتراضات اسلام کے متعلق ہیں ان تمام کا تشفی بخش جواب دے کر مسلمانوں کو ان کے چنگل سے چھڑانا ہوگا خصوصا طلاق ، حلالہ، خلع جیسے حساس مسائل کی صحیح تفہیم عوام تک پہنچانی ہوگی تاکہ ہماری ذمہ داری پوری ہو جائے اور اللہ جل و علا کے سامنے میدان حشر میں شرمندہ نہ ہونا پڑے
اللہ جل و علا ہمیں حق گوئی کی توفیق مرحمت فرمائے مشرکین کی سازشوں سے بچائے
مالک و مختار عالم رحمت پرور دگار
یک نظر کن سوئے ما اے شافع عصیاں شعار
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ارتدادی فتنہ بڑھتا جا ہے ہے دن بدن
کیجیے چشم عنایت اے رسول ذی وقار
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
51
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

ایثار علامہ شاہ تراب الحق_

حب الوطن من الایمان

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 36 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 32 | Poetry: 11
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 24
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
تاثرات 12
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢