مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
چھٹے قطب: حضور خاتم الاکابر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید شاہ ظہور حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید شاہ ظہور حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرتِ ”آل رسولِ“ مقتدیٰ کے واسطے (آمین)
نور جاں عطر مجموعہ آل رسول
میرے آقائے نعمت پہ لاکھوں سلام
تاجدارِ حضرت مارہرہ آل رسول
اے خدا خواہ و جدا از ما عدا امداد کن
(سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان)
آپ کا نام حضرت سید ”آل رسول احمدی“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب امام الواصلین، خاتم الاکابر، مرشدِ اعلیٰ حضرت ہے۔ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سیدنا سرکار آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں، حضور شمسِ مارہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سب سے خاص لاڈلے، خلیفہ و جانشین ہیں۔ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں چھٹے قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ آپ کے علاتی بھائی حضور آل امام جما میاں ہیں اور حقیقی بھائی سرکار اولاد رسول اور سرکار غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ سرکار خاتم الاکابر قدس سرہ العزیز خاتم المحققین حضرت علامہ نقی علی خان اور مجدد اعظم امام اہل سنت سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پیر و مرشد ہیں۔
حضرت مخدوم خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت رجب المرجب ١٢٠٩ھ مطابق ١٧٩۵ء میں ہوئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آغوشِ شفقت میں ہوئی۔ انہی کی خصوصی نگرانی اور تربیت کے زیرِ سایہ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشوونما ہوئی اور بچپن ہی سے علمی و روحانی اوصاف آپ کی شخصیت میں نمایاں ہونے لگے۔
ابتدائی تعلیم آپ نے خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں حضرت عین الحق شاہ عبدالمجید قادری بدایونی اور حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ شفیع بدایونی قدس سرہما سے حاصل کی۔ اس کے بعد فرنگ محل کے جلیل القدر علماء؛ حضرت مولانا انوار صاحب فرنگی محلی، حضرت مولانا عبدالواسع اور حضرت مولانا شاہ نور الحق رزاقی لکھنوی المعروف ملا نور سے معقولات، علمِ کلام، فقہ اور اصولِ فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور انہی سے سلسلۂ رزاقیہ کی سندِ اجازت سے بھی سرفراز ہوئے۔
سن ١٢٢٦ھ میں حضرت مخدوم شیخ العالم عبد الحق رودولوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی: ٨٧٠ھ) کے عرسِ مبارک کے موقع پر، اکابر علماء و مشائخ کی موجودگی میں حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دستارِ فضیلت سے بھی سرفراز فرمایا گیا۔ اسی سال حضور شمسِ ملت و الدّین، شمسِ مارہرہ حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقۂ درسِ حدیث میں حاضر ہوئے، جہاں صحاحِ ستہ کا مکمل دورہ کیا۔ تکمیلِ حدیث کے بعد حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلاسلِ حدیث و طریقت کی اسنادِ اجازت مرحمت ہوئیں۔ مزید برآں، علمِ ہندسہ کی سند دو مقالۂ اقلیدس حضرت مولانا شاہ نیاز احمد بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سنا کر حاصل فرمائی۔
فنِ طب میں بھی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نمایاں مہارت حاصل تھی۔ اس فن کی تعلیم حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والدِ ماجد حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے حاصل کی، جبکہ حکیم فرزند علی خاں موہانی سے بھی طب کی علمی و عملی تربیت حاصل فرمائی، جس کے نتیجے میں اس فن میں کامل مہارت پیدا ہوئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت و اجازت حضور شمسِ مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھی۔ اگرچہ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ ماجد نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا تھا، لیکن آپ اپنے مریدین کو بڑے ابا حضور شمس مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے سلسلۂ عالیہ میں بیعت فرمایا کرتے تھے۔
عالمِ ربانی، عارفِ کامل، حضرت مخدوم شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرہویں صدی ہجری کے جلیل القدر اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسی عظیم اور باوقار شخصیت عطا فرمائی تھی کہ آپ کی شبانہ روز مساعی، علمی خدمات اور روحانی جدوجہد سے اسلام اور مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کو غیر معمولی استحکام نصیب ہوا۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق گوئی میں نہایت نڈر اور بے باک تھے، جبکہ طبیعت میں شفقت، رحم دلی اور کریم النفسی بدرجۂ اتم موجود تھی۔ غرباء، مساکین اور حاجت مندوں کی خبرگیری اور ان کی ضروریات پوری کرنا آپ کا معمول تھا۔ علومِ ظاہر و باطن پر آپ کو کامل عبور حاصل تھا، اور میدانِ معرفت و سلوک میں آپ کا مقام نہایت بلند تھا۔ مکاشفات و کرامات میں بھی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امتیازی شان حاصل تھی۔ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اسلافِ کرام کی زندہ اور تابندہ یادگار تھے، اور آپ ہی کے عہدِ مبارک میں سلسلۂ برکاتیہ کو مزید وسعت، شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
آپ کی رفعتِ شان کا اندازہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی قدس سرہٗ کی لکھی اس منقبت سے بھی جانا جا سکتا ہے جو حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مدح و منقبت میں فارسی زبان کے بیالیس (42) اشعار قلم بند فرمائے، جن کا مطلع یہ ہے:
خوشا سرے کہ کنندش فدائے آلِ رسول
حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کی عملی تصویر تھی۔ حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر معاملے میں سنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور احکامِ شریعت کی نہایت پابندی فرماتے۔ نماز ہمیشہ باجماعت مسجد میں ادا فرماتے اور نمازِ تہجد کا اس قدر اہتمام تھا کہ کبھی ناغہ نہ ہونے دیتے۔ حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت کریم النفس، عیب پوش، متواضع اور حاجت رواؤں میں یکتائے روزگار۔ دعاؤں کے معاملے میں بھی صرف وہی دعائیں تلقین فرماتے جو احادیثِ مبارکہ سے منقول ہیں، اور ہر عمل کو سنت کے مطابق انجام دینا پسند فرماتے۔
لباس میں سادگی آپ کا شعار تھا۔ ہمیشہ اہلِ علم و درویشوں کا لباس زیبِ تن فرماتے اور مشائخانہ تکلفات و ظاہری نمود و نمائش سے سخت اجتناب کرتے تھے۔
حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خانقاہی نظام کو بھی مکمل طور پر شریعت کے تابع رکھا۔ محافلِ سماع کو بالکل موقوف فرما دیا تھا، جبکہ مجالسِ وعظ، نعتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منقبتِ اولیاء، ختمِ قرآنِ مجید، قراءتِ دلائل الخیرات اور عرس کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی خدمت و مہمان نوازی کو برقرار رکھا۔
فضول رسومات، بے مقصد مشاغل اور خلافِ شرع امور کو آپ کی خانقاہ میں ہرگز جگہ نہ تھی۔ آپ ظواہرِ شریعت کی اس قدر پابندی فرماتے کہ ایک ذرہ برابر بھی اس سے تجاوز گوارا نہ کرتے تھے، اور اپنی پوری حیاتِ طیبہ اتباعِ سنت اور احیاءِ شریعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
امام اہلسنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ١٢٩٥ھ میں مارہرہ شریف حاضر ہوکر بیعت ہوئے۔ حضرت سید شاہ اسمٰعیل حسن مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (صاحبِ عرسِ قاسمی) فرماتے ہیں کہ مولانا بدایونی (حضرت عبد القادر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ) کے ہمراہ مولانا نقی علی خان صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب مارہرہ شریف حاضر ہوئے تھے۔ یہ لوگ تجدید غسل اور کپڑے بدلنے کے لئے پہلے مارہرہ شریف میں سرائے میں جا کر فروکش ہوئے۔ مگر سرائے کے راستے میں یکہ سواری کا الٹ گیا اور مولانا نقی علی خاں صاحب کو چوٹ لگی۔ پھر اسی حالت میں انہوں نے نہا دھو کر کپڑے پہنے اور سب خانقاہِ برکاتیہ میں حاضر ہوئے اور فقیر ہی کے مکان موسوم بہ ”مدرسہ“ جو درگاہِ معلیٰ برکاتیہ کے روزے کے سامنے تھا، میں فروکش ہوئے۔ فقیر کے والد ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق صاحب اور حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب قدس سرہما بھی ان دنوں مارہرہ مطہرہ ہی میں تشریف فرما تھے۔ اسی دن ظہر کے وقت مولانا بدایونی، مولانا نقی علی خاں صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب اور مرزا عبد القادر بیگ صاحب کو ہمراہ لے کر، حضرت خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول صاحب قدس سرہ العزیز کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ فقیر کے والد حضرت سید شاہ محمد صادق اور میاں صاحب (حضرت نوؔری میاں علیہ الرحمۃ) بھی ہمراہ گئے ۔ حضرت خاتم الاکابر نے مولانا نقی علی خاں صاحب پھر مولانا احمد رضا خاں صاحب پھر مرزا عبد القادر بیگ صاحب کو داخل سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ فرمایا اور اسی جلسہ میں حضرت نے خلافت و اجازت جملہ سلاسل و اسناد و تبرکاتِ خاندانِ عالیہ قادریہ برکاتیہ سے بھی مولانا نقی علی خاں صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب کو مشرف فرمایا۔ بیعت و خلافت کے بعد ان سب حضرات نے کچھ عرصہ تک فقیر کے مکان پر قیام فرمایا اور اسی دوران میں مولانا تاج الفحول بدایونی نے فقیر سے ارشاد فرمایا کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا حضرت سے بیعت ہو جانا، ان کے لیے بھی اچھا ہوا، اور میرے لیے بھی اچھا ہوا۔
حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان ”چراغِ اُنْس“ میں حضرت تاج الفحول بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کو شکریہ ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اس سے بڑھ کر ہے کیا محب رسول ﷺ
سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مرید فرمانے کے بعد حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جملہ سلاسل کی اجازت عطا فرمائی تو لوگوں نے دریافت کیا کہ ایک نوجوان، پہلی مرتبہ آیا اور آپ نے اجازت بھی دے دی ؟ تو حضور آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ کوئی عام نو جوان نہیں، یہ اہل سنت کا امام ہے، میں ہمیشہ فکرمند رہتا کہ خالقِ دو جہاں مجھ سے روز محشر دریافت فرمائے کہ اے آل رسول! میرے لیے کیا لائے تو میں کیا پیش کروں گا ؟ تو آج میری فکر ختم ہوئی، روز محشر مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کو تحفۃً پیش کر دوں گا۔ سبحان اللّٰہ تعالیٰ!
جب حضور آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ہوا تو بھی حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لب تسبیح کر رہے تھے۔ یہ دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ولی مرتے نہیں اور بعدِ وصالِ ظاہری بھی وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ جب تدفین کا وقت قریب ہوا تو عرض کیا گیا: وقتِ تدفین ہو چلا ہے! پس لبہائے اقدس نے جنبش موقوف فرما دیا۔
سیدنا سرکار آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٨؍ذی الحجہ ١٢٩٦ھ بروز بدھ مارہرہ شریف میں ہوا۔ مزار شریف: جد امجد حضور حمزہ عؔینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے آخری قیام گاہ ہے۔ سر کی جانب قبر ہونے کی وجہ سے پَیر جد امجد کی طرف ہو رہے تھے تو بعد وصال بھی سرکار خاتم الاکابر ادب کی وجہ سے اپنے قدم کو موڑ لے رہے تھے، تب حضور حمزہ عینؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے ایک دیوار کھڑی کی گئی تب حضور آل رسول رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے قدم مبارک سیدھے ہوئے اور تدفین عمل میں آئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ نثار فاطمہ قدس سرہا بنت سید منتخب حسین بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادوں کی ولادت ہوئی: حضرت سید شاہ ظہور حسن و حضرت سید شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما۔
حضرت سید ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
نکاح و اولادِ امجاد: پہلا نکاح سید دلدار حیدر صاحب قدس سرہٗ کی شہزادی سے ہوا جن سے حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ہوئی اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی جن کا نکاح سید نورالمصطفیٰ بن سید غلام محی الدین علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ دوسرا نکاح میر سرفراز علی خاں صاحب کی شہزادی سے ہوا جن سے دو شہزادیاں پیدا ہوئیں۔
وصالِ ظاہری: حضرت سید شاہ ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٣٧؍برس کی عمر میں ٢٤؍جمادی الاولیٰ ١٢٦٦ھ کو بمقام دھاری ضلع احمدآباد ہوا۔ مزار شریف دھاری میں ہے۔
حضرت سید ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
jamiaturrazastudents.com
نکاح و اولادِ امجاد: شاہ ظہور حسین علیہ الرحمۃ کے دو نکاح ہوئے، دونوں زوجہ چچا حضرت سید شاہ اولاد رسول رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہزادیاں تھیں۔ زوجۂ اولیٰ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ ابوالحسن خرقانی عرف میر صاحب علیہ الرحمۃ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی۔
دوسرے نکاح سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔
وصال: شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٧؍ربیع الاول شریف ١٣١٣ھ میں ہوا، مزار شریف مارہرہ شریف میں ہے۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
چھٹے قطب: حضور خاتم الاکابر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید شاہ ظہور حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید شاہ ظہور حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرتِ ”آل رسولِ“ مقتدیٰ کے واسطے (آمین)
نور جاں عطر مجموعہ آل رسول
میرے آقائے نعمت پہ لاکھوں سلام
تاجدارِ حضرت مارہرہ آل رسول
اے خدا خواہ و جدا از ما عدا امداد کن
(سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان)
آپ کا نام حضرت سید ”آل رسول احمدی“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب امام الواصلین، خاتم الاکابر، مرشدِ اعلیٰ حضرت ہے۔ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سیدنا سرکار آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں، حضور شمسِ مارہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سب سے خاص لاڈلے، خلیفہ و جانشین ہیں۔ حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں چھٹے قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ آپ کے علاتی بھائی حضور آل امام جما میاں ہیں اور حقیقی بھائی سرکار اولاد رسول اور سرکار غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ سرکار خاتم الاکابر قدس سرہ العزیز خاتم المحققین حضرت علامہ نقی علی خان اور مجدد اعظم امام اہل سنت سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پیر و مرشد ہیں۔
حضرت مخدوم خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت رجب المرجب ١٢٠٩ھ مطابق ١٧٩۵ء میں ہوئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آغوشِ شفقت میں ہوئی۔ انہی کی خصوصی نگرانی اور تربیت کے زیرِ سایہ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشوونما ہوئی اور بچپن ہی سے علمی و روحانی اوصاف آپ کی شخصیت میں نمایاں ہونے لگے۔
ابتدائی تعلیم آپ نے خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں حضرت عین الحق شاہ عبدالمجید قادری بدایونی اور حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ شفیع بدایونی قدس سرہما سے حاصل کی۔ اس کے بعد فرنگ محل کے جلیل القدر علماء؛ حضرت مولانا انوار صاحب فرنگی محلی، حضرت مولانا عبدالواسع اور حضرت مولانا شاہ نور الحق رزاقی لکھنوی المعروف ملا نور سے معقولات، علمِ کلام، فقہ اور اصولِ فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور انہی سے سلسلۂ رزاقیہ کی سندِ اجازت سے بھی سرفراز ہوئے۔
سن ١٢٢٦ھ میں حضرت مخدوم شیخ العالم عبد الحق رودولوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی: ٨٧٠ھ) کے عرسِ مبارک کے موقع پر، اکابر علماء و مشائخ کی موجودگی میں حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دستارِ فضیلت سے بھی سرفراز فرمایا گیا۔ اسی سال حضور شمسِ ملت و الدّین، شمسِ مارہرہ حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقۂ درسِ حدیث میں حاضر ہوئے، جہاں صحاحِ ستہ کا مکمل دورہ کیا۔ تکمیلِ حدیث کے بعد حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلاسلِ حدیث و طریقت کی اسنادِ اجازت مرحمت ہوئیں۔ مزید برآں، علمِ ہندسہ کی سند دو مقالۂ اقلیدس حضرت مولانا شاہ نیاز احمد بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سنا کر حاصل فرمائی۔
فنِ طب میں بھی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نمایاں مہارت حاصل تھی۔ اس فن کی تعلیم حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والدِ ماجد حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے حاصل کی، جبکہ حکیم فرزند علی خاں موہانی سے بھی طب کی علمی و عملی تربیت حاصل فرمائی، جس کے نتیجے میں اس فن میں کامل مہارت پیدا ہوئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت و اجازت حضور شمسِ مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھی۔ اگرچہ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ ماجد نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا تھا، لیکن آپ اپنے مریدین کو بڑے ابا حضور شمس مارہرہ شاہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے سلسلۂ عالیہ میں بیعت فرمایا کرتے تھے۔
عالمِ ربانی، عارفِ کامل، حضرت مخدوم شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرہویں صدی ہجری کے جلیل القدر اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسی عظیم اور باوقار شخصیت عطا فرمائی تھی کہ آپ کی شبانہ روز مساعی، علمی خدمات اور روحانی جدوجہد سے اسلام اور مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کو غیر معمولی استحکام نصیب ہوا۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق گوئی میں نہایت نڈر اور بے باک تھے، جبکہ طبیعت میں شفقت، رحم دلی اور کریم النفسی بدرجۂ اتم موجود تھی۔ غرباء، مساکین اور حاجت مندوں کی خبرگیری اور ان کی ضروریات پوری کرنا آپ کا معمول تھا۔ علومِ ظاہر و باطن پر آپ کو کامل عبور حاصل تھا، اور میدانِ معرفت و سلوک میں آپ کا مقام نہایت بلند تھا۔ مکاشفات و کرامات میں بھی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امتیازی شان حاصل تھی۔ حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اسلافِ کرام کی زندہ اور تابندہ یادگار تھے، اور آپ ہی کے عہدِ مبارک میں سلسلۂ برکاتیہ کو مزید وسعت، شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
آپ کی رفعتِ شان کا اندازہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی قدس سرہٗ کی لکھی اس منقبت سے بھی جانا جا سکتا ہے جو حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مدح و منقبت میں فارسی زبان کے بیالیس (42) اشعار قلم بند فرمائے، جن کا مطلع یہ ہے:
خوشا سرے کہ کنندش فدائے آلِ رسول
حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کی عملی تصویر تھی۔ حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر معاملے میں سنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور احکامِ شریعت کی نہایت پابندی فرماتے۔ نماز ہمیشہ باجماعت مسجد میں ادا فرماتے اور نمازِ تہجد کا اس قدر اہتمام تھا کہ کبھی ناغہ نہ ہونے دیتے۔ حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت کریم النفس، عیب پوش، متواضع اور حاجت رواؤں میں یکتائے روزگار۔ دعاؤں کے معاملے میں بھی صرف وہی دعائیں تلقین فرماتے جو احادیثِ مبارکہ سے منقول ہیں، اور ہر عمل کو سنت کے مطابق انجام دینا پسند فرماتے۔
لباس میں سادگی آپ کا شعار تھا۔ ہمیشہ اہلِ علم و درویشوں کا لباس زیبِ تن فرماتے اور مشائخانہ تکلفات و ظاہری نمود و نمائش سے سخت اجتناب کرتے تھے۔
حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خانقاہی نظام کو بھی مکمل طور پر شریعت کے تابع رکھا۔ محافلِ سماع کو بالکل موقوف فرما دیا تھا، جبکہ مجالسِ وعظ، نعتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منقبتِ اولیاء، ختمِ قرآنِ مجید، قراءتِ دلائل الخیرات اور عرس کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی خدمت و مہمان نوازی کو برقرار رکھا۔
فضول رسومات، بے مقصد مشاغل اور خلافِ شرع امور کو آپ کی خانقاہ میں ہرگز جگہ نہ تھی۔ آپ ظواہرِ شریعت کی اس قدر پابندی فرماتے کہ ایک ذرہ برابر بھی اس سے تجاوز گوارا نہ کرتے تھے، اور اپنی پوری حیاتِ طیبہ اتباعِ سنت اور احیاءِ شریعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
امام اہلسنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ١٢٩٥ھ میں مارہرہ شریف حاضر ہوکر بیعت ہوئے۔ حضرت سید شاہ اسمٰعیل حسن مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (صاحبِ عرسِ قاسمی) فرماتے ہیں کہ مولانا بدایونی (حضرت عبد القادر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ) کے ہمراہ مولانا نقی علی خان صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب مارہرہ شریف حاضر ہوئے تھے۔ یہ لوگ تجدید غسل اور کپڑے بدلنے کے لئے پہلے مارہرہ شریف میں سرائے میں جا کر فروکش ہوئے۔ مگر سرائے کے راستے میں یکہ سواری کا الٹ گیا اور مولانا نقی علی خاں صاحب کو چوٹ لگی۔ پھر اسی حالت میں انہوں نے نہا دھو کر کپڑے پہنے اور سب خانقاہِ برکاتیہ میں حاضر ہوئے اور فقیر ہی کے مکان موسوم بہ ”مدرسہ“ جو درگاہِ معلیٰ برکاتیہ کے روزے کے سامنے تھا، میں فروکش ہوئے۔ فقیر کے والد ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق صاحب اور حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب قدس سرہما بھی ان دنوں مارہرہ مطہرہ ہی میں تشریف فرما تھے۔ اسی دن ظہر کے وقت مولانا بدایونی، مولانا نقی علی خاں صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب اور مرزا عبد القادر بیگ صاحب کو ہمراہ لے کر، حضرت خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول صاحب قدس سرہ العزیز کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ فقیر کے والد حضرت سید شاہ محمد صادق اور میاں صاحب (حضرت نوؔری میاں علیہ الرحمۃ) بھی ہمراہ گئے ۔ حضرت خاتم الاکابر نے مولانا نقی علی خاں صاحب پھر مولانا احمد رضا خاں صاحب پھر مرزا عبد القادر بیگ صاحب کو داخل سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ فرمایا اور اسی جلسہ میں حضرت نے خلافت و اجازت جملہ سلاسل و اسناد و تبرکاتِ خاندانِ عالیہ قادریہ برکاتیہ سے بھی مولانا نقی علی خاں صاحب اور مولانا احمد رضا خاں صاحب کو مشرف فرمایا۔ بیعت و خلافت کے بعد ان سب حضرات نے کچھ عرصہ تک فقیر کے مکان پر قیام فرمایا اور اسی دوران میں مولانا تاج الفحول بدایونی نے فقیر سے ارشاد فرمایا کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا حضرت سے بیعت ہو جانا، ان کے لیے بھی اچھا ہوا، اور میرے لیے بھی اچھا ہوا۔
حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان ”چراغِ اُنْس“ میں حضرت تاج الفحول بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کو شکریہ ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اس سے بڑھ کر ہے کیا محب رسول ﷺ
سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مرید فرمانے کے بعد حضور خاتم الاکابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جملہ سلاسل کی اجازت عطا فرمائی تو لوگوں نے دریافت کیا کہ ایک نوجوان، پہلی مرتبہ آیا اور آپ نے اجازت بھی دے دی ؟ تو حضور آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ کوئی عام نو جوان نہیں، یہ اہل سنت کا امام ہے، میں ہمیشہ فکرمند رہتا کہ خالقِ دو جہاں مجھ سے روز محشر دریافت فرمائے کہ اے آل رسول! میرے لیے کیا لائے تو میں کیا پیش کروں گا ؟ تو آج میری فکر ختم ہوئی، روز محشر مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کو تحفۃً پیش کر دوں گا۔ سبحان اللّٰہ تعالیٰ!
جب حضور آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ہوا تو بھی حضرت شاہ آلِ رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لب تسبیح کر رہے تھے۔ یہ دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ولی مرتے نہیں اور بعدِ وصالِ ظاہری بھی وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ جب تدفین کا وقت قریب ہوا تو عرض کیا گیا: وقتِ تدفین ہو چلا ہے! پس لبہائے اقدس نے جنبش موقوف فرما دیا۔
سیدنا سرکار آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٨؍ذی الحجہ ١٢٩٦ھ بروز بدھ مارہرہ شریف میں ہوا۔ مزار شریف: جد امجد حضور حمزہ عؔینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے آخری قیام گاہ ہے۔ سر کی جانب قبر ہونے کی وجہ سے پَیر جد امجد کی طرف ہو رہے تھے تو بعد وصال بھی سرکار خاتم الاکابر ادب کی وجہ سے اپنے قدم کو موڑ لے رہے تھے، تب حضور حمزہ عینؔی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے ایک دیوار کھڑی کی گئی تب حضور آل رسول رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے قدم مبارک سیدھے ہوئے اور تدفین عمل میں آئی۔
حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ نثار فاطمہ قدس سرہا بنت سید منتخب حسین بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادوں کی ولادت ہوئی: حضرت سید شاہ ظہور حسن و حضرت سید شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما۔
حضرت سید ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
نکاح و اولادِ امجاد: پہلا نکاح سید دلدار حیدر صاحب قدس سرہٗ کی شہزادی سے ہوا جن سے حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نورؔی علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ہوئی اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی جن کا نکاح سید نورالمصطفیٰ بن سید غلام محی الدین علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ دوسرا نکاح میر سرفراز علی خاں صاحب کی شہزادی سے ہوا جن سے دو شہزادیاں پیدا ہوئیں۔
وصالِ ظاہری: حضرت سید شاہ ظہور حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٣٧؍برس کی عمر میں ٢٤؍جمادی الاولیٰ ١٢٦٦ھ کو بمقام دھاری ضلع احمدآباد ہوا۔ مزار شریف دھاری میں ہے۔
حضرت سید ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
jamiaturrazastudents.com
نکاح و اولادِ امجاد: شاہ ظہور حسین علیہ الرحمۃ کے دو نکاح ہوئے، دونوں زوجہ چچا حضرت سید شاہ اولاد رسول رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہزادیاں تھیں۔ زوجۂ اولیٰ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ ابوالحسن خرقانی عرف میر صاحب علیہ الرحمۃ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی۔
دوسرے نکاح سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔
وصال: شاہ ظہور حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٧؍ربیع الاول شریف ١٣١٣ھ میں ہوا، مزار شریف مارہرہ شریف میں ہے۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 2 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 3 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 4 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 5 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 6 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 7 اخلاص
- 8 کسی کا انتظار ہے
- 9 انتظار
- 10 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 24 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 26 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 27 اسلام اور رزقِ حلال
- 28 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط دوم]
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا - شعر و شرع [قسط دوم] " شبہ: "بعض حضرات نے بعض حدیثیں پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی سعی پیہم کی کہ * [صورت...
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل،...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us