صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)
رضویات

اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)

✍️ Mohd Qasim ul Qadri Markazi

اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)
پروردگار عالم نے کائنات ہستی کو پیدا فرمایا اس میں قسم قسم کے عجائب و غرائب کو رکھا۔ گردش لیل و نہار، رنگ و بوئے گل و گلزار، سحر انگیز نغمات آبشار، پہاڑوں کی ہیبت و وقار، فضا کی دلکش بہار، سمندروں کی گہرائی و اسرار، موجوں کا تموجِ بے کنار، پرندوں کی دل نواز چہچہاہٹ، ستاروں کی درخشاں جھلملاہٹ، چاند کی دل آویز چاندنی، سورج کی تابندہ کرنیں غرضیکہ کہ کائنات کو حسن و جمال کا پیرہن عطا فرما کر
ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
اپنی قدرت کاملہ میں عقل والوں کو غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا:
قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ
فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے
کائناتِ لیل و نہار اپنے دامن میں بے شمار عجائب، لاتعداد اسرار اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ان گنت نشانیاں سموئے ہوئے ہے۔ ہر دور میں اہلِ عقل و دانش نے اپنی اپنی فہم و فراست، استعداد اور زاویۂ نگاہ کے مطابق اس وسیع کائنات میں غور و فکر کیا، اس کے اسرار کو جاننے کی کوشش کی اور اس کے حقائق تک رسائی حاصل کرنے کا عزم کیا۔
تاہم غور و فکر کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے، کیونکہ ہر شخص کا معیارِ فکر اور میزانِ تحقیق مختلف تھا۔ بعض لوگوں نے اپنی محدود عقل، ناقص تجربے اور محض انسانی قیاس کو فیصلہ کن معیار بنایا۔ چنانچہ کبھی وہ حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اکثر اوقات عقل کی محدودیت کے باعث راہِ حق سے ہٹ گئے، شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے یا ایسے نظریات قائم کیے جو بعد میں باطل ثابت ہوئے۔
اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی عقل کو وحیِ الٰہی کی رہنمائی کے تابع رکھا، قرآنِ مجید کو ہدایت کا سرچشمہ اور سنتِ نبوی ﷺ کو معیارِ فکر و نظر بنایا، ان کا غور و فکر انہیں حقیقت، بصیرت اور صوابِ رائے تک لے گیا۔ ان کے نزدیک کائنات کا مطالعہ محض سائنسی تحقیق یا مادی انکشاف کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور وحدانیت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار انسان کو آسمانوں، زمین، پہاڑوں، سمندروں، ستاروں، سورج، چاند، نباتات، حیوانات اور خود اپنی ذات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ ان نشانیوں کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے اور اس کی عظمت و کبریائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
پس صحیح غور و فکر وہی ہے جس کی بنیاد عقلِ سلیم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات پر ہو، کیونکہ وحی وہ نور ہے جو عقل کو صحیح سمت عطا کرتا ہے، اور یہی امتِ مسلمہ کے فکر و نظر کا امتیاز ہے۔
انہیں نابغہ روزگار شخصیات میں تابندہ اور روشن نام امام عشق و محبت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے۔ جنہوں نے جس فن میں قدم رکھا علم و حکمت کے دریا بہا دیئے۔ اس مضمون میں ہم ان کو بحیثیت بحری سائنسدان )Oceanographer( دیکھیں گے کہ کس طرح اعلی حضرت نے صرف عقل کے پیمانہ پر تحقیق کرنے والوں کے نظریات کو پارہ پارہ کردیا۔ اور قرآن و حدیث سے حق کو ثابت و روشن کر دیا۔
سمندروں میں اٹھنے والی لہروں کو مدّ و جزر (hight tide/low tide) کہتے ہیں۔ سائنس اس کا سبب چاند کو قرار دیتی ہے۔ جیسا کہ NASA نے اپنی ویب سائٹ https://science.nasa.gov/moon/tides/ پر اسے واضح طور پر لکھا ہے
When the Moon’s gravity pulls at Earth, the water doesn’t float outward, it just gets pushed and squeezed around on the globe, directed by both gravitational pull and other forces, until it ultimately ends up bulging out on the side closest to the Moon and the side farthest away.
جب چاند کی کشش (gravity) زمین پر اثر انداز ہوتی ہے پانی ہوا میں نہیں اٹھ جاتا ہے۔ بلکہ کشش اور دوسری طاقتوں کی وجہ سے زمین پر ادھر ادھر منتقل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چاند کے قریبی حصے میں مد و جزر (tides) ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے مخالف والے حصے پر بھی مد و ہوتا ہے۔
سائنس کے اس نظریہ کہ سمندروں میں لہریں چاند و سورج کی کشش کے سبب اٹھتی ہیں کا اعلی حضرت نے دلائل و براہین سے ابطال فرمایا اور قرآن و حدیث سے اثبات فرمایا کہ یہ لہریں در حقیقت سمندروں کے اندر آتشی مادے کی حرارت (Geothermal Heat) کی وجہ سے اٹھتی ہیں۔
سائنس کی ایک ایک دلیل کو اعلی حضرت کس طرح باطل کرتے ہیں اور ایراد قائم کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔
سائنس کہتی ہے پانی کو چاند کھینچتا ہے اور زمین کی دوسری سمت کے پانی کو مرکز گریز قوت (Centrifugal force) کھینچتا ہے۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کا رد فرماتے ہوئے لکھا: چاند زمین کے ایک طرف ہوگا (یعنی پورب سمت میں) دوسری طرف ( یعنی پچھم سمت میں) پانی کس نے کھینچا؟ یہ تو جذب attractions) نہ ہوا بلکہ دفع (repulsion) ہوا۔ (یعنی پورب سمت کا پانی تو چاند نے کھینچا تو اس میں مد پیدا ہوا لیکن پچھم سمت کے پانی کو پورب سمت سے کھینچنے کی وجہ سے مد پیدا نہیں ہونا چاہیے بلکہ پانی کو سطح سے اور کم ہونا چاہیے)
اعلی مزید فرماتے: اگر کشش ماہ سے مد (lunar tide) ہوتا ہے تو چھوٹے پانیوں میں مد کیوں نہیں ہوتا۔ چاند جس پانی کے سامنے آئے گا اسے کھینچے گا اس کے جواب میں اصول ہییات نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اور کہا یہ کسی مقامی سبب سے ہے۔
سائن عاجز آتی ہے تو کہتی ہے تالاب وغیرہ کے پانی میں لہر اس لیے پیدا نہیں ہوتی کیوں کہ اس کے پانی کے اجزا سب کے سب چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے لہر نہیں اٹھتی جبکہ سمندروں میں چھوٹے بڑے اجزا والے پانی ہیں اس لیے چھوٹے اجزا والے پانی اٹھتے ہیں تو لہر دکھائی دیتی ہے۔
یہی بات ہے تو چھوٹے تالابوں کے سارے پانی یکبارگی اٹھنے چاہیے اور پانی کا لیول بڑھتا دکھنا چاہیے، یہاں بھی سائنس نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
ایک سوال اٹھتا ہے چاند کے بالمقابل سورج میں قوت کشش (attraction) زیادہ ہے تو سورج پانی کو کیوں نہیں کھینچتا۔ اس کا جواب سائنس دیتی ہے کیوں کہ سورج چاند سے بہت دور ہے اس لیے پانی کو چاند کی طرح نہیں کھینچتا۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کو مضبوط دلیل کے ذریعہ پارہ پارہ کر دیا۔ فرماتے ہیں: "کیا آفتاب پانی کا جذب نہیں کرتا حالانکہ وہ حرارت اور یہ رطوبت ہے اور حرارت جاذب رطوبت ہے۔شمس اگر بہ نسبت قمر بعید تر ہے تو دونوں کے مادے کی نسبت،تو دیکھو بعد شمس(سورج کی دوری) بعد قمر (چاند کی دوری) کا ۳۳ء۳۷۳ ہی مثل ہے اور مادہ شمس (سورج کی سائز) تو مادہ قمر (چاند کی سائز) کا تقریبًا ڈھائی کروڑ گنا یا اس سے بھی زائد ہے تو اسی حساب سے جذب شمس )Sun attraction ) زائد ہونا تھا رات دن میں چار مد ہوتے ہیں دو قمر دو شمس سے،حالانکہ دو ہی ہوتے ہیں،تو معلوم ہوا کہ جذب شمس نہیں تو جذب قمر بالاولی نہیں۔
خلاصہ یہ کہ سورج تو چاند سے تقریبا ڈھائی کروڑ گنا بڑا ہے اور سورج کی دوری چاند کے دوری کا 373.33 ہی ہے۔ اس حساب سے بھی سورج میں (attraction force) زیادہ ہونا چاہیے۔ تو دن میں چار مد ہوں دو سورج سے اور دو چاند سے۔ لیکن اگر سورج سے نہیں مانتے ہو تو چاند سے بھی نہیں مانو۔
چاند جب سمندر کے بالکل سامنے ہوتا ہے جس کو نصف النہار کہتے ہیں اس وقت پانی کو کھینچنا چاہیے لیکن نصف النہار گزرنے کے گھنٹوں بعد وہاں کا پانی اٹھتا ہے جہاں سے چاند گزر چکا ایسا کیوں؟ اس کا جواب سائنس دیتی ہے پانی ٹھہرا (initial state of rest) ہوتا ہے اور ٹھہراؤ فورا جذب کو قبول نہیں کرنے دیتا۔
اعلی حضرت اس پر بھی قاہر ایراد فرماتے ہیں: باطل صریح ہے کہ جس وقت جذب ہو رہا تھا پانی نہ ہلا،جب جذب اصلًا نہ رہا گزوں اٹھا یعنی وجود مسبب وجود سبب سے نہیں ہوتا بلکہ سبب معدوم ہونے کے گھنٹوں بعد (یعنی جس جذب (attraction) کی وجہ سے پانی میں مد tide) اٹھنا تھا اس جذب کے گزرنے کے گھنٹوں بعد لہر اٹھی گویا شادی ختم ہونے کے بعد نکاح)
اعلی حضرت امام عشق و محبت سائنس کے عقلی دلائل فاسدہ کا رد اور جواب دینے کے بعد اپنے اصل ماخذ و بنیاد کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور سمندروں میں مد و جزر کی حقیقت کو واشگاف فرماتے ہیں۔ جو نہ عقل سے پرے نہ شریعت کی خلاف ورزی۔
فرماتے ہیں: اولا: ہمارے نزدیک ہر حادث کی علت محض ارادۃ اﷲ جل وعلا ہے۔
ثانیاً: ہمارے یہاں تو ثابت ہی تھا کہ سمندر کے نیچے آگ ہے۔قرآن عظیم نے فرمایا: وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾ (اور قسم ہے سلگائے ہوئے سمندر کی،)
حدیث میں ہے:انّ تحت البحرنارًا۔ (بے شک سمندر کے نیچے آگ ہے۔)
بالآخر آپ نے یہ بات ثابت فرمائی کہ سمندروں میں اٹھنے والی مد و جزر کا سبب سمندروں کے نیچے سلگتی ہوئی آگ کی لہریں ہیں۔ جس کے اثبات میں آپ نے ایک واقعہ نقل فرمایا: ہیأت جدیدہ (modern astronomy) بھی اسے مانتی ہے ۱۰۵۶ء میں بحرالکاہل سے دھواں نکلنا شروع ہوا اور مادہ آتشی (Volcanic material) کہ قعر دریا سے نکلا تھا مجتمع و منجمد ہو کر سطح آب پر بشکل جزیرہ ہوگیا اس میں سوراخ تھے جن سے ایسے شعلے نکلتے کہ دس میل تک روشن کرتے۔طوفان آب کے اسباب سے ایک سبب دریا کے اندر بخارو دخان پیدا ہونا ہے،ایسے ہی بخارات (Heat) اندر سے آتے اور پانی کو اٹھاتے ہوں یہ مد ہوا جیسے جوش کرنے میں پانی اونچا ہوتا ہے ان کے منتشر ہونے پر پانی بیٹھتا ہو یہ جزر ہوا،جاڑوں میں صبح کا مد زیادہ ہونا بھی اس کا موید ہے سرما میں صبح کو تالابوں سے بکثرت بخارات نکلتے ہیں،کنویں کا پانی گرم ہوتا ہے،سطح ارض پر استیلائے برد (prevailing cold) کے سبب حرارت (Heat) باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور رات بڑی اس طویل عمل حرارت سے ادھر بخارات زیادہ اٹھے پانی میں زیادہ بلند ہونے کی استعداد آگئی " وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۴﴾٪
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سبحان اللہ! جس نظریہ کو ثابت کرنے میں سائنس نے اتنی ٹھوکریں کھائیں اور مستقبل کوئی نظریہ قائم نہ کر سکی اور حقیقت کی تلاش میں بھٹکتی رہی امام اہل سنت نے اس حقیقت کو قرآن و حدیث کے حوالے سے فقط دو فقروں میں ایسا حل فرما دیا کہ ایراد کی گنجائش نہ عقل کے خلاف۔
فدائے اعلی حضرت
محمد قاسم القادری گھوسوی

اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)

مضمون نگار: Mohd Qasim ul Qadri Markazi

اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)
پروردگار عالم نے کائنات ہستی کو پیدا فرمایا اس میں قسم قسم کے عجائب و غرائب کو رکھا۔ گردش لیل و نہار، رنگ و بوئے گل و گلزار، سحر انگیز نغمات آبشار، پہاڑوں کی ہیبت و وقار، فضا کی دلکش بہار، سمندروں کی گہرائی و اسرار، موجوں کا تموجِ بے کنار، پرندوں کی دل نواز چہچہاہٹ، ستاروں کی درخشاں جھلملاہٹ، چاند کی دل آویز چاندنی، سورج کی تابندہ کرنیں غرضیکہ کہ کائنات کو حسن و جمال کا پیرہن عطا فرما کر
ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
اپنی قدرت کاملہ میں عقل والوں کو غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا:
قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ
فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے
کائناتِ لیل و نہار اپنے دامن میں بے شمار عجائب، لاتعداد اسرار اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ان گنت نشانیاں سموئے ہوئے ہے۔ ہر دور میں اہلِ عقل و دانش نے اپنی اپنی فہم و فراست، استعداد اور زاویۂ نگاہ کے مطابق اس وسیع کائنات میں غور و فکر کیا، اس کے اسرار کو جاننے کی کوشش کی اور اس کے حقائق تک رسائی حاصل کرنے کا عزم کیا۔
تاہم غور و فکر کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے، کیونکہ ہر شخص کا معیارِ فکر اور میزانِ تحقیق مختلف تھا۔ بعض لوگوں نے اپنی محدود عقل، ناقص تجربے اور محض انسانی قیاس کو فیصلہ کن معیار بنایا۔ چنانچہ کبھی وہ حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اکثر اوقات عقل کی محدودیت کے باعث راہِ حق سے ہٹ گئے، شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے یا ایسے نظریات قائم کیے جو بعد میں باطل ثابت ہوئے۔
اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی عقل کو وحیِ الٰہی کی رہنمائی کے تابع رکھا، قرآنِ مجید کو ہدایت کا سرچشمہ اور سنتِ نبوی ﷺ کو معیارِ فکر و نظر بنایا، ان کا غور و فکر انہیں حقیقت، بصیرت اور صوابِ رائے تک لے گیا۔ ان کے نزدیک کائنات کا مطالعہ محض سائنسی تحقیق یا مادی انکشاف کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور وحدانیت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار انسان کو آسمانوں، زمین، پہاڑوں، سمندروں، ستاروں، سورج، چاند، نباتات، حیوانات اور خود اپنی ذات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ ان نشانیوں کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے اور اس کی عظمت و کبریائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
پس صحیح غور و فکر وہی ہے جس کی بنیاد عقلِ سلیم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات پر ہو، کیونکہ وحی وہ نور ہے جو عقل کو صحیح سمت عطا کرتا ہے، اور یہی امتِ مسلمہ کے فکر و نظر کا امتیاز ہے۔
انہیں نابغہ روزگار شخصیات میں تابندہ اور روشن نام امام عشق و محبت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے۔ جنہوں نے جس فن میں قدم رکھا علم و حکمت کے دریا بہا دیئے۔ اس مضمون میں ہم ان کو بحیثیت بحری سائنسدان )Oceanographer( دیکھیں گے کہ کس طرح اعلی حضرت نے صرف عقل کے پیمانہ پر تحقیق کرنے والوں کے نظریات کو پارہ پارہ کردیا۔ اور قرآن و حدیث سے حق کو ثابت و روشن کر دیا۔
سمندروں میں اٹھنے والی لہروں کو مدّ و جزر (hight tide/low tide) کہتے ہیں۔ سائنس اس کا سبب چاند کو قرار دیتی ہے۔ جیسا کہ NASA نے اپنی ویب سائٹ https://science.nasa.gov/moon/tides/ پر اسے واضح طور پر لکھا ہے
When the Moon’s gravity pulls at Earth, the water doesn’t float outward, it just gets pushed and squeezed around on the globe, directed by both gravitational pull and other forces, until it ultimately ends up bulging out on the side closest to the Moon and the side farthest away.
جب چاند کی کشش (gravity) زمین پر اثر انداز ہوتی ہے پانی ہوا میں نہیں اٹھ جاتا ہے۔ بلکہ کشش اور دوسری طاقتوں کی وجہ سے زمین پر ادھر ادھر منتقل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چاند کے قریبی حصے میں مد و جزر (tides) ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے مخالف والے حصے پر بھی مد و ہوتا ہے۔
سائنس کے اس نظریہ کہ سمندروں میں لہریں چاند و سورج کی کشش کے سبب اٹھتی ہیں کا اعلی حضرت نے دلائل و براہین سے ابطال فرمایا اور قرآن و حدیث سے اثبات فرمایا کہ یہ لہریں در حقیقت سمندروں کے اندر آتشی مادے کی حرارت (Geothermal Heat) کی وجہ سے اٹھتی ہیں۔
سائنس کی ایک ایک دلیل کو اعلی حضرت کس طرح باطل کرتے ہیں اور ایراد قائم کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔
سائنس کہتی ہے پانی کو چاند کھینچتا ہے اور زمین کی دوسری سمت کے پانی کو مرکز گریز قوت (Centrifugal force) کھینچتا ہے۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کا رد فرماتے ہوئے لکھا: چاند زمین کے ایک طرف ہوگا (یعنی پورب سمت میں) دوسری طرف ( یعنی پچھم سمت میں) پانی کس نے کھینچا؟ یہ تو جذب attractions) نہ ہوا بلکہ دفع (repulsion) ہوا۔ (یعنی پورب سمت کا پانی تو چاند نے کھینچا تو اس میں مد پیدا ہوا لیکن پچھم سمت کے پانی کو پورب سمت سے کھینچنے کی وجہ سے مد پیدا نہیں ہونا چاہیے بلکہ پانی کو سطح سے اور کم ہونا چاہیے)
اعلی مزید فرماتے: اگر کشش ماہ سے مد (lunar tide) ہوتا ہے تو چھوٹے پانیوں میں مد کیوں نہیں ہوتا۔ چاند جس پانی کے سامنے آئے گا اسے کھینچے گا اس کے جواب میں اصول ہییات نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اور کہا یہ کسی مقامی سبب سے ہے۔
سائن عاجز آتی ہے تو کہتی ہے تالاب وغیرہ کے پانی میں لہر اس لیے پیدا نہیں ہوتی کیوں کہ اس کے پانی کے اجزا سب کے سب چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے لہر نہیں اٹھتی جبکہ سمندروں میں چھوٹے بڑے اجزا والے پانی ہیں اس لیے چھوٹے اجزا والے پانی اٹھتے ہیں تو لہر دکھائی دیتی ہے۔
یہی بات ہے تو چھوٹے تالابوں کے سارے پانی یکبارگی اٹھنے چاہیے اور پانی کا لیول بڑھتا دکھنا چاہیے، یہاں بھی سائنس نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
ایک سوال اٹھتا ہے چاند کے بالمقابل سورج میں قوت کشش (attraction) زیادہ ہے تو سورج پانی کو کیوں نہیں کھینچتا۔ اس کا جواب سائنس دیتی ہے کیوں کہ سورج چاند سے بہت دور ہے اس لیے پانی کو چاند کی طرح نہیں کھینچتا۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کو مضبوط دلیل کے ذریعہ پارہ پارہ کر دیا۔ فرماتے ہیں: "کیا آفتاب پانی کا جذب نہیں کرتا حالانکہ وہ حرارت اور یہ رطوبت ہے اور حرارت جاذب رطوبت ہے۔شمس اگر بہ نسبت قمر بعید تر ہے تو دونوں کے مادے کی نسبت،تو دیکھو بعد شمس(سورج کی دوری) بعد قمر (چاند کی دوری) کا ۳۳ء۳۷۳ ہی مثل ہے اور مادہ شمس (سورج کی سائز) تو مادہ قمر (چاند کی سائز) کا تقریبًا ڈھائی کروڑ گنا یا اس سے بھی زائد ہے تو اسی حساب سے جذب شمس )Sun attraction ) زائد ہونا تھا رات دن میں چار مد ہوتے ہیں دو قمر دو شمس سے،حالانکہ دو ہی ہوتے ہیں،تو معلوم ہوا کہ جذب شمس نہیں تو جذب قمر بالاولی نہیں۔
خلاصہ یہ کہ سورج تو چاند سے تقریبا ڈھائی کروڑ گنا بڑا ہے اور سورج کی دوری چاند کے دوری کا 373.33 ہی ہے۔ اس حساب سے بھی سورج میں (attraction force) زیادہ ہونا چاہیے۔ تو دن میں چار مد ہوں دو سورج سے اور دو چاند سے۔ لیکن اگر سورج سے نہیں مانتے ہو تو چاند سے بھی نہیں مانو۔
چاند جب سمندر کے بالکل سامنے ہوتا ہے جس کو نصف النہار کہتے ہیں اس وقت پانی کو کھینچنا چاہیے لیکن نصف النہار گزرنے کے گھنٹوں بعد وہاں کا پانی اٹھتا ہے جہاں سے چاند گزر چکا ایسا کیوں؟ اس کا جواب سائنس دیتی ہے پانی ٹھہرا (initial state of rest) ہوتا ہے اور ٹھہراؤ فورا جذب کو قبول نہیں کرنے دیتا۔
اعلی حضرت اس پر بھی قاہر ایراد فرماتے ہیں: باطل صریح ہے کہ جس وقت جذب ہو رہا تھا پانی نہ ہلا،جب جذب اصلًا نہ رہا گزوں اٹھا یعنی وجود مسبب وجود سبب سے نہیں ہوتا بلکہ سبب معدوم ہونے کے گھنٹوں بعد (یعنی جس جذب (attraction) کی وجہ سے پانی میں مد tide) اٹھنا تھا اس جذب کے گزرنے کے گھنٹوں بعد لہر اٹھی گویا شادی ختم ہونے کے بعد نکاح)
اعلی حضرت امام عشق و محبت سائنس کے عقلی دلائل فاسدہ کا رد اور جواب دینے کے بعد اپنے اصل ماخذ و بنیاد کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور سمندروں میں مد و جزر کی حقیقت کو واشگاف فرماتے ہیں۔ جو نہ عقل سے پرے نہ شریعت کی خلاف ورزی۔
فرماتے ہیں: اولا: ہمارے نزدیک ہر حادث کی علت محض ارادۃ اﷲ جل وعلا ہے۔
ثانیاً: ہمارے یہاں تو ثابت ہی تھا کہ سمندر کے نیچے آگ ہے۔قرآن عظیم نے فرمایا: وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾ (اور قسم ہے سلگائے ہوئے سمندر کی،)
حدیث میں ہے:انّ تحت البحرنارًا۔ (بے شک سمندر کے نیچے آگ ہے۔)
بالآخر آپ نے یہ بات ثابت فرمائی کہ سمندروں میں اٹھنے والی مد و جزر کا سبب سمندروں کے نیچے سلگتی ہوئی آگ کی لہریں ہیں۔ جس کے اثبات میں آپ نے ایک واقعہ نقل فرمایا: ہیأت جدیدہ (modern astronomy) بھی اسے مانتی ہے ۱۰۵۶ء میں بحرالکاہل سے دھواں نکلنا شروع ہوا اور مادہ آتشی (Volcanic material) کہ قعر دریا سے نکلا تھا مجتمع و منجمد ہو کر سطح آب پر بشکل جزیرہ ہوگیا اس میں سوراخ تھے جن سے ایسے شعلے نکلتے کہ دس میل تک روشن کرتے۔طوفان آب کے اسباب سے ایک سبب دریا کے اندر بخارو دخان پیدا ہونا ہے،ایسے ہی بخارات (Heat) اندر سے آتے اور پانی کو اٹھاتے ہوں یہ مد ہوا جیسے جوش کرنے میں پانی اونچا ہوتا ہے ان کے منتشر ہونے پر پانی بیٹھتا ہو یہ جزر ہوا،جاڑوں میں صبح کا مد زیادہ ہونا بھی اس کا موید ہے سرما میں صبح کو تالابوں سے بکثرت بخارات نکلتے ہیں،کنویں کا پانی گرم ہوتا ہے،سطح ارض پر استیلائے برد (prevailing cold) کے سبب حرارت (Heat) باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور رات بڑی اس طویل عمل حرارت سے ادھر بخارات زیادہ اٹھے پانی میں زیادہ بلند ہونے کی استعداد آگئی " وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۴﴾٪
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سبحان اللہ! جس نظریہ کو ثابت کرنے میں سائنس نے اتنی ٹھوکریں کھائیں اور مستقبل کوئی نظریہ قائم نہ کر سکی اور حقیقت کی تلاش میں بھٹکتی رہی امام اہل سنت نے اس حقیقت کو قرآن و حدیث کے حوالے سے فقط دو فقروں میں ایسا حل فرما دیا کہ ایراد کی گنجائش نہ عقل کے خلاف۔
فدائے اعلی حضرت
محمد قاسم القادری گھوسوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
42
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 12
Kalam 14
Mohd Qasim ul Qadri Markazi
زمرہ جات

کون اعلیٰ حضرت ؟

قندِ سمرقند

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢