صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ سوم]
اصلاح معاشرہ

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ سوم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟
قسط سوم
بدمذہبوں سے علم حاصل کرنے کے نقصانات
دینی علم کے معاملے میں سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ انسان جس سے دین سیکھ رہا ہے، اس کی علمی اور اعتقادی حیثیت کو بھی دیکھے۔ ہر خوش گفتار شخص عالم نہیں ہوتا، ہر پُرجوش مقرر رہنما نہیں ہوتا، اور ہر خوب صورت انداز میں بیان کی گئی بات حق نہیں ہو جاتی۔
خاص طور پر بدمذہبوں سے دینی علم حاصل کرنے میں یہی خطرہ ہے کہ ان کی ہر بات پہلی سماعت میں غلط محسوس نہیں ہوتی۔ بعض اوقات گفتگو میں قرآن و حدیث کے الفاظ ہوتے ہیں، زبان پر دین کی محبت کا ذکر ہوتا ہے، اصلاح اور اخلاق کی باتیں ہوتی ہیں، آنکھوں میں کذب سے سمندر میں غوطہ لگایا ہوا آنسو اور انداز اس قدر نرم و دل نشیں ہوتا ہے کہ سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہاں تو کوئی ایسی بات ہی نہیں جس سے احتیاط کی ضرورت ہو۔
مگر عقیدہ ہمیشہ ایک ہی نشست میں تبدیل نہیں ہوتا۔
کبھی تبدیلی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے، پھر ایک شبہ آتا ہے، پھر کسی مسلمہ بات کے بارے میں ذہن میں تردد پیدا ہوتا ہے، اور آہستہ آہستہ وہ چیز جسے انسان کبھی اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا تھا، اس کے نزدیک ایک قابلِ بحث مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دینی تعلیم میں استاد اور ماخذ کا انتخاب معمولی معاملہ نہیں۔
انسان جس بات کو بار بار سنتا ہے، اس کے الفاظ سے واقف ہوجاتا ہے؛ پھر اس کے ساتھ مانوسیت پیدا ہوتی ہے، اور مانوسیت بعض اوقات تنقیدی نگاہ کو کمزور کر دیتی ہے۔
فتنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ غلط بات پہلے اجنبی لگتی ہے، پھر مانوس، اور آخرکار معمولی۔
اسی لیے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں کہ مقرر کی گفتگو میں کتنی اچھی باتیں ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ عقائد کے بنیادی مسائل میں کیا موقف رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ [النساء]
یہ آیتِ کریمہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں باطل گفتگو میں پڑتے ہیں، اور اس میں ایسی مجلس سے الگ رہنے کی ہدایت ملتی ہے جب تک وہ دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔
اس سے کم از کم یہ اصول ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ باطل فکر کے ساتھ بے احتیاطی سے بیٹھنا اور اسے سنتے رہنا معمولی چیز نہیں۔
فتنوں کے باب میں احتیاط اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر باطل نظریے کو قریب جاکر پرکھے۔ بعض اوقات سلامتی اسی میں ہے کہ آدمی غیر ضروری exposure ہی سے بچے۔
میٹھی زبان ہمیشہ صحیح بات کی دلیل نہیں
آج ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اکثر اندازِ بیان کو حق کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔
آواز خوب صورت ہو، لہجہ نرم ہو، بات میں محبت ہو، مثالیں دل کو لگیں، گفتگو میں مزاح ہو اور مقرر سننے والوں کو مسلسل متوجہ رکھے اور دوستوں، رشتہ داروں میں مشہور ہو تو سامع کے دل میں اس کی بات کی قبولیت بڑھ جاتی ہے۔
لیکن دین کا معیار یہ نہیں کہ کس نے بات زیادہ خوب صورت انداز میں کہی، معیار یہ ہے کہ بات درست کیا ہے۔
باطل اگر سخت لہجے میں آئے تو انسان فوراً متنبہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ نرم لہجے، محبت بھرے الفاظ اور دینی اصطلاحات میں لپٹ کر آئے تو اس کی پہچان مشکل ہوسکتی ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم میں منافقین کے بارے میں فرمایا گیا: وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ [منافقون-٤]
اور اگر بات کریں تو تو اُن کی بات غور سے سنے۔
یہاں ایک بڑا سبق ہے: اچھی گفتگو اور درست عقیدہ دو الگ چیزیں ہیں۔
آواز کی شیرینی دلیل نہیں، الفاظ کی روانی دلیل نہیں، مجمع کی کثرت دلیل نہیں، ویوز کی تعداد دلیل نہیں۔ دلیل، دلیل ہی ہوتی ہے، اور دینی مسئلے میں اس کے ساتھ صحیح فہم اور معتبر علمی روایت بھی ضروری ہے۔
صرف مذاق کے لیے بھی ؟
بعض لوگ کہتے ہیں: ”ہم تو صرف مذاق کے لیے ان کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ ہم ان سے دین تھوڑی سیکھ رہے ہیں!“
یہ عذر بھی ہمیشہ محفوظ نہیں۔
اگر کوئی شخص ایسا مواد پیش کرتا ہے جس میں غلط عقائد، دینی شعائر کا استخفاف، اہلِ حق پر طنز یا گمراہ کن خیالات شامل ہوں تو اسے صرف مزاح سمجھ کر مسلسل دیکھتے رہنا مناسب نہیں۔ دل کوئی پتھر نہیں کہ ہر چیز دیکھ کر بالکل بے اثر رہے۔
آج جس شخص کی بات پر ہم ہنس رہے ہیں، کل ممکن ہے اسی کی بات کا ایک حصہ ہمیں معمولی محسوس ہونے لگے۔ پھر جو بات کل نامناسب لگتی تھی، وہ آج قابلِ سماعت محسوس ہوگی۔ پھر انسان کہے گا: ”اس میں بھی تو کچھ اچھی باتیں ہیں۔“ اور یوں تعلق بڑھتے بڑھتے اعتماد تک پہنچ جائے گا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غلط شخص کی ہر بات سن لینے سے فوراً عقیدہ خراب ہو جاتا ہے۔ بات اتنی ہے کہ اپنے ایمان کو غیر ضروری آزمائش میں ڈالنے کی کوئی وجہ نہیں۔
مذاق کے لیے بھی ہر دروازہ کھٹکھٹانا دانش مندی نہیں۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖٓ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ [النساء، آیت:140]
اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ استہزاء کی مجلس میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے معاملے میں تفریح اور مزاح کے نام پر بھی ایسی مجالس سے بے احتیاطی مناسب نہیں جہاں ایمان کی باتوں کا مذاق اڑایا جاتا ہو۔
آخر ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اپنے دل اور اپنے عقیدے کے ساتھ کتنی بے احتیاطی کر سکتے ہیں۔

گمراہ عالم کی رسوائی

ایک بات ذہن نشیں رکھیں کہ ایک حدیث پہلی قسط میں پیش کی گئی تھی ”العلماء ورثۃ الانبیاء“ اب اس کی تشریح حضور امام اہل سنت سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان میں مطالعہ فرمائیں:
بھائیو! عالم کی عزت تو اس بنا پر تھی کہ وہ نبی کا وارث ہے، نبی کا وارث وہ جو ہدایت پر ہو اور جب گمراہی پر ہے تو نبی کا وارث ہوا یا شیطان کا ؟ ( یقیناً شیطان کا) اُس وقت اس کی تعظیم نبی کی تعظیم ہوتی ہے اب اس ( گمراہ عالم) کی تعظیم شیطان کی تعظیم ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عالم کفر سے نیچے کسی گمراہی میں ہو، جیسے: بد مذہبوں کے علماء۔ پھر اس کا کیا پوچھنا جو خود کفر شدید میں ہو، اسے عالم دین جاننا ہی کفر ہے، نہ کہ عالم دین جان کر اس کی تعظیم۔ (یعنی: کسی ایسے شخص کو جس کے عقائد کفریہ ہوں جیسے شیعہ اور دیوبندیوں کے علماء ان کو عالم جاننا ہی کفر ہے تو ان کی تعظیم تو کتنا بڑا ظلم، اللہ تعالیٰ کی پناہ)
بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے جب دین کے ساتھ ہو، ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں ؟
ابلیس کتنا بڑا عالم تھا۔ پھر کیا کوئی مسلمان اس کی تعظیم کرے گا ؟ اسے تو معلم الملکوت کہتے ہیں یعنی: فرشتوں کو علم سکھاتا تھا اور حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سجدہ نہ کرنے سے ابلیس ملعون ہوا۔ [تمہیدِ ایمان، ص47، قادری کتاب گھر بریلی شریف]
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کتنا ہی ہو نبی کی تعظیم اور محبت دل میں نہیں تو یہ سببِ ہلاکت ہے اور جو خود ہلاک ہو اس کو رہنما بنانے والا بھی ہلاک ہوگا۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نبی کی گستاخی کرنے والا ابلیس کا پیروکار ہے جیسے اس زمانے میں انجینیر علی مرزا، ڈاکٹر اسرار احمد، ذلیل طارق جمیل، مردود طارق مسعود، ذاکر نائیک۔ ان کے کسی بیان سے نبی کی تعظیم نظر نہیں آتی۔
دنیا کی چیزوں میں انسان احتیاط کرتا ہے۔ کھانا خریدتے وقت دیکھتا ہے کہ خراب تو نہیں، دوا لیتے وقت دیکھتا ہے کہ صحیح ہے یا نہیں، ہر چیز میں Expiry Date ضرور دیکھتا ہے، کسی پر مالی اعتماد کرتے وقت اس کی امانت داری دیکھتا ہے۔ تو پھر اپنے دین کی بات کس سے لینی ہے، اس میں احتیاط کیوں نہ ہو ؟ کیا ہر ایرے غیرے سے علمِ دین حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں! غلط ڈاکٹر سے جانچ کرائیں گے تو جان جائے گی جو صرف دنیوی زندگی میں ہلاکت کا سبب ہے، ایمان و عقیدہ غلط دیوبندی وہابی وغیرہ بدمذہبوں سے سیکھیں گے تو ایمان بھی ہاتھ سے جائے گا اور جان بھی، کیونکہ جب ایمان ہی نہیں تو کوئی عمل بارگاہِ رب العزت میں مقبول نہیں تو صرف وہ سانس لیتا مردہ ہے اور مرنے کے بعد دائمی عذاب کا حقدار بنے گا۔ وجہ: بدمذہبوں سے دین سیکھنے چلنا۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے:
میٹھی زبان سے غلط بات صحیح نہیں ہوجاتی،
بہترین آواز سے باطل حق نہیں بن جاتا،
اور مذاق کے نام پر بار بار سنی جانے والی بات دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہتی۔
دین سننے کے لیے کان سب کے پاس ہیں، لیکن دین سیکھنے کے لیے عالم کا انتخاب ضروری ہے۔ سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو کئی دشک پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ یہ کتنے خطرناک ہیں اور کتنی آسانی سے دین چھین لیتے ہیں:
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے، سُونا بن ہے، سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی، تیری مت ہی نرالی ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الفاظ کے معانی:
پہلا سونا: Gold
دوسرا سونا: Desolate
بن: Jungle
تیسرا سونا: Sleeping
نتیجہ یہ نکلا کہ:
مسلمان کے لیے سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد و اعمال کی رہنمائی معتبر، مستند اور صحیح العقیدہ علماء سے لے، یعنی: صرف علمائے اہل سنت سے۔
اللہ تعالیٰ بدمذہبوں کے جال سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، ایمان و عقیدے کے حفاظت کرنے کی سعادت عطا فرمائے، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سچی پکی محبت اور شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
نتیجۂ فکر
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ سوم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟
قسط سوم
بدمذہبوں سے علم حاصل کرنے کے نقصانات
دینی علم کے معاملے میں سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ انسان جس سے دین سیکھ رہا ہے، اس کی علمی اور اعتقادی حیثیت کو بھی دیکھے۔ ہر خوش گفتار شخص عالم نہیں ہوتا، ہر پُرجوش مقرر رہنما نہیں ہوتا، اور ہر خوب صورت انداز میں بیان کی گئی بات حق نہیں ہو جاتی۔
خاص طور پر بدمذہبوں سے دینی علم حاصل کرنے میں یہی خطرہ ہے کہ ان کی ہر بات پہلی سماعت میں غلط محسوس نہیں ہوتی۔ بعض اوقات گفتگو میں قرآن و حدیث کے الفاظ ہوتے ہیں، زبان پر دین کی محبت کا ذکر ہوتا ہے، اصلاح اور اخلاق کی باتیں ہوتی ہیں، آنکھوں میں کذب سے سمندر میں غوطہ لگایا ہوا آنسو اور انداز اس قدر نرم و دل نشیں ہوتا ہے کہ سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہاں تو کوئی ایسی بات ہی نہیں جس سے احتیاط کی ضرورت ہو۔
مگر عقیدہ ہمیشہ ایک ہی نشست میں تبدیل نہیں ہوتا۔
کبھی تبدیلی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے، پھر ایک شبہ آتا ہے، پھر کسی مسلمہ بات کے بارے میں ذہن میں تردد پیدا ہوتا ہے، اور آہستہ آہستہ وہ چیز جسے انسان کبھی اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا تھا، اس کے نزدیک ایک قابلِ بحث مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دینی تعلیم میں استاد اور ماخذ کا انتخاب معمولی معاملہ نہیں۔
انسان جس بات کو بار بار سنتا ہے، اس کے الفاظ سے واقف ہوجاتا ہے؛ پھر اس کے ساتھ مانوسیت پیدا ہوتی ہے، اور مانوسیت بعض اوقات تنقیدی نگاہ کو کمزور کر دیتی ہے۔
فتنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ غلط بات پہلے اجنبی لگتی ہے، پھر مانوس، اور آخرکار معمولی۔
اسی لیے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں کہ مقرر کی گفتگو میں کتنی اچھی باتیں ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ عقائد کے بنیادی مسائل میں کیا موقف رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ [النساء]
یہ آیتِ کریمہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں باطل گفتگو میں پڑتے ہیں، اور اس میں ایسی مجلس سے الگ رہنے کی ہدایت ملتی ہے جب تک وہ دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔
اس سے کم از کم یہ اصول ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ باطل فکر کے ساتھ بے احتیاطی سے بیٹھنا اور اسے سنتے رہنا معمولی چیز نہیں۔
فتنوں کے باب میں احتیاط اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر باطل نظریے کو قریب جاکر پرکھے۔ بعض اوقات سلامتی اسی میں ہے کہ آدمی غیر ضروری exposure ہی سے بچے۔
میٹھی زبان ہمیشہ صحیح بات کی دلیل نہیں
آج ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اکثر اندازِ بیان کو حق کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔
آواز خوب صورت ہو، لہجہ نرم ہو، بات میں محبت ہو، مثالیں دل کو لگیں، گفتگو میں مزاح ہو اور مقرر سننے والوں کو مسلسل متوجہ رکھے اور دوستوں، رشتہ داروں میں مشہور ہو تو سامع کے دل میں اس کی بات کی قبولیت بڑھ جاتی ہے۔
لیکن دین کا معیار یہ نہیں کہ کس نے بات زیادہ خوب صورت انداز میں کہی، معیار یہ ہے کہ بات درست کیا ہے۔
باطل اگر سخت لہجے میں آئے تو انسان فوراً متنبہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ نرم لہجے، محبت بھرے الفاظ اور دینی اصطلاحات میں لپٹ کر آئے تو اس کی پہچان مشکل ہوسکتی ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم میں منافقین کے بارے میں فرمایا گیا: وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ [منافقون-٤]
اور اگر بات کریں تو تو اُن کی بات غور سے سنے۔
یہاں ایک بڑا سبق ہے: اچھی گفتگو اور درست عقیدہ دو الگ چیزیں ہیں۔
آواز کی شیرینی دلیل نہیں، الفاظ کی روانی دلیل نہیں، مجمع کی کثرت دلیل نہیں، ویوز کی تعداد دلیل نہیں۔ دلیل، دلیل ہی ہوتی ہے، اور دینی مسئلے میں اس کے ساتھ صحیح فہم اور معتبر علمی روایت بھی ضروری ہے۔
صرف مذاق کے لیے بھی ؟
بعض لوگ کہتے ہیں: ”ہم تو صرف مذاق کے لیے ان کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ ہم ان سے دین تھوڑی سیکھ رہے ہیں!“
یہ عذر بھی ہمیشہ محفوظ نہیں۔
اگر کوئی شخص ایسا مواد پیش کرتا ہے جس میں غلط عقائد، دینی شعائر کا استخفاف، اہلِ حق پر طنز یا گمراہ کن خیالات شامل ہوں تو اسے صرف مزاح سمجھ کر مسلسل دیکھتے رہنا مناسب نہیں۔ دل کوئی پتھر نہیں کہ ہر چیز دیکھ کر بالکل بے اثر رہے۔
آج جس شخص کی بات پر ہم ہنس رہے ہیں، کل ممکن ہے اسی کی بات کا ایک حصہ ہمیں معمولی محسوس ہونے لگے۔ پھر جو بات کل نامناسب لگتی تھی، وہ آج قابلِ سماعت محسوس ہوگی۔ پھر انسان کہے گا: ”اس میں بھی تو کچھ اچھی باتیں ہیں۔“ اور یوں تعلق بڑھتے بڑھتے اعتماد تک پہنچ جائے گا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غلط شخص کی ہر بات سن لینے سے فوراً عقیدہ خراب ہو جاتا ہے۔ بات اتنی ہے کہ اپنے ایمان کو غیر ضروری آزمائش میں ڈالنے کی کوئی وجہ نہیں۔
مذاق کے لیے بھی ہر دروازہ کھٹکھٹانا دانش مندی نہیں۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖٓ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ [النساء، آیت:140]
اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ استہزاء کی مجلس میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے معاملے میں تفریح اور مزاح کے نام پر بھی ایسی مجالس سے بے احتیاطی مناسب نہیں جہاں ایمان کی باتوں کا مذاق اڑایا جاتا ہو۔
آخر ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اپنے دل اور اپنے عقیدے کے ساتھ کتنی بے احتیاطی کر سکتے ہیں۔

گمراہ عالم کی رسوائی

ایک بات ذہن نشیں رکھیں کہ ایک حدیث پہلی قسط میں پیش کی گئی تھی ”العلماء ورثۃ الانبیاء“ اب اس کی تشریح حضور امام اہل سنت سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان میں مطالعہ فرمائیں:
بھائیو! عالم کی عزت تو اس بنا پر تھی کہ وہ نبی کا وارث ہے، نبی کا وارث وہ جو ہدایت پر ہو اور جب گمراہی پر ہے تو نبی کا وارث ہوا یا شیطان کا ؟ ( یقیناً شیطان کا) اُس وقت اس کی تعظیم نبی کی تعظیم ہوتی ہے اب اس ( گمراہ عالم) کی تعظیم شیطان کی تعظیم ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عالم کفر سے نیچے کسی گمراہی میں ہو، جیسے: بد مذہبوں کے علماء۔ پھر اس کا کیا پوچھنا جو خود کفر شدید میں ہو، اسے عالم دین جاننا ہی کفر ہے، نہ کہ عالم دین جان کر اس کی تعظیم۔ (یعنی: کسی ایسے شخص کو جس کے عقائد کفریہ ہوں جیسے شیعہ اور دیوبندیوں کے علماء ان کو عالم جاننا ہی کفر ہے تو ان کی تعظیم تو کتنا بڑا ظلم، اللہ تعالیٰ کی پناہ)
بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے جب دین کے ساتھ ہو، ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں ؟
ابلیس کتنا بڑا عالم تھا۔ پھر کیا کوئی مسلمان اس کی تعظیم کرے گا ؟ اسے تو معلم الملکوت کہتے ہیں یعنی: فرشتوں کو علم سکھاتا تھا اور حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سجدہ نہ کرنے سے ابلیس ملعون ہوا۔ [تمہیدِ ایمان، ص47، قادری کتاب گھر بریلی شریف]
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کتنا ہی ہو نبی کی تعظیم اور محبت دل میں نہیں تو یہ سببِ ہلاکت ہے اور جو خود ہلاک ہو اس کو رہنما بنانے والا بھی ہلاک ہوگا۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نبی کی گستاخی کرنے والا ابلیس کا پیروکار ہے جیسے اس زمانے میں انجینیر علی مرزا، ڈاکٹر اسرار احمد، ذلیل طارق جمیل، مردود طارق مسعود، ذاکر نائیک۔ ان کے کسی بیان سے نبی کی تعظیم نظر نہیں آتی۔
دنیا کی چیزوں میں انسان احتیاط کرتا ہے۔ کھانا خریدتے وقت دیکھتا ہے کہ خراب تو نہیں، دوا لیتے وقت دیکھتا ہے کہ صحیح ہے یا نہیں، ہر چیز میں Expiry Date ضرور دیکھتا ہے، کسی پر مالی اعتماد کرتے وقت اس کی امانت داری دیکھتا ہے۔ تو پھر اپنے دین کی بات کس سے لینی ہے، اس میں احتیاط کیوں نہ ہو ؟ کیا ہر ایرے غیرے سے علمِ دین حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں! غلط ڈاکٹر سے جانچ کرائیں گے تو جان جائے گی جو صرف دنیوی زندگی میں ہلاکت کا سبب ہے، ایمان و عقیدہ غلط دیوبندی وہابی وغیرہ بدمذہبوں سے سیکھیں گے تو ایمان بھی ہاتھ سے جائے گا اور جان بھی، کیونکہ جب ایمان ہی نہیں تو کوئی عمل بارگاہِ رب العزت میں مقبول نہیں تو صرف وہ سانس لیتا مردہ ہے اور مرنے کے بعد دائمی عذاب کا حقدار بنے گا۔ وجہ: بدمذہبوں سے دین سیکھنے چلنا۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے:
میٹھی زبان سے غلط بات صحیح نہیں ہوجاتی،
بہترین آواز سے باطل حق نہیں بن جاتا،
اور مذاق کے نام پر بار بار سنی جانے والی بات دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہتی۔
دین سننے کے لیے کان سب کے پاس ہیں، لیکن دین سیکھنے کے لیے عالم کا انتخاب ضروری ہے۔ سیدنا سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو کئی دشک پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ یہ کتنے خطرناک ہیں اور کتنی آسانی سے دین چھین لیتے ہیں:
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے، سُونا بن ہے، سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی، تیری مت ہی نرالی ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الفاظ کے معانی:
پہلا سونا: Gold
دوسرا سونا: Desolate
بن: Jungle
تیسرا سونا: Sleeping
نتیجہ یہ نکلا کہ:
مسلمان کے لیے سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد و اعمال کی رہنمائی معتبر، مستند اور صحیح العقیدہ علماء سے لے، یعنی: صرف علمائے اہل سنت سے۔
اللہ تعالیٰ بدمذہبوں کے جال سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، ایمان و عقیدے کے حفاظت کرنے کی سعادت عطا فرمائے، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سچی پکی محبت اور شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
نتیجۂ فکر
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
11
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

ایمان باللہ: معرفتِ الٰہی اور دل پر اس کے اثرات

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ دوم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢