صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ دوم]
اصلاح معاشرہ

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ دوم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟
قسط دوم:
آج کا زمانہ عجیب سہولتوں کا زمانہ ہے۔ پہلے کسی دینی مسئلے کی تحقیق کے لیے کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا، اہلِ علم کی مجلس میں بیٹھنا پڑتا تھا، کسی مستند مفتی سے سوال کرنا پڑتا تھا۔ اب ایک سوال لکھیے اور چند لمحوں میں اس کے سامنے درجنوں جوابات موجود ہوتے ہیں۔ یوٹیوب پر ایک موضوع تلاش کیجیے تو مختلف مسلکوں اور مختلف افکار کے مقررین کی سینکڑوں تقاریر سامنے آجاتی ہیں۔ موبائل میں موجود ایپلیکیشن سے سوال کیجیے تو فوراً ایک جواب حاضر ہے۔
بظاہر یہ علم کی فراوانی ہے، لیکن غور کیا جائے تو علم کی فراوانی اور صحیح علم کی فراوانی ایک چیز نہیں۔
عام مسلمان کے لیے اصل مشکل اب یہ نہیں کہ اسے معلومات کہاں سے ملیں گی، اصل مشکل یہ ہے کہ صحیح بات اور غلط بات میں امتیاز کیسے کرے گا ؟
یہیں سے عالمِ دین کی ضرورت شروع ہوتی ہے۔
دین کوئی ایسا موضوع نہیں کہ آدمی مختلف لوگوں کی چند باتیں سن کر خود ہی سب کو برابر وزن دے اور پھر اپنی پسند کا نتیجہ نکال لے۔ قرآن و حدیث کا علم ایک پورا نظامِ فہم رکھتا ہے۔ نصوص کو سمجھنے کے لیے عربی زبان، سیاق و سباق، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، فقہ، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر علمی مباحث سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ عام آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ ان تمام علوم کا ماہر بنے، اسی لیے وہ اہلِ علم کی طرف رجوع کرتا ہے۔
اسی لیے یوٹیوب پر کسی عالم کی ویڈیو دیکھتے وقت بھی صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ پُرجوش ہیں یا اس کی گفتگو بہت مقبول ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس علمی روایت سے وابستہ ہے، اس کے عقائد کیا ہیں، اس کے اساتذہ کون ہیں، وہ مسائل کو کس اصول کے تحت بیان کرتا ہے اور معتبر علماء اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
محض ویوز، لائکس، سبسکرائبرز یا تقریر کی مقبولیت کسی شخص کو دینی رہنما نہیں بنا دیتی۔ جیسے اس زمانے میں انجینیر محمد علی مرزا، ڈاکٹر اسرار احمد، طارق جمیل، طارق مسعود، ذاکر نائیک وغیرہ کالج، یونیورسٹی اور اسکول کے بچوں میں بہت مشہور و مقبول ہیں (معاذ اللہ تعالیٰ) جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ مگر حقیقت میں یہ سب ابلیس کے نقش قدم پر لوگوں کو بہکانے کا کام کرتے ہیں۔ وجہ ہی یہ ہے کہ ان کی ایک بھی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہوتی اور جو ظاہراً صحیح نظر آتی ہے اس میں بھی بہت سے نکات ہوتے ہیں جن کو صرف اہل علم بیان کر سکتے ہیں اور جو ان کے بس کا نہیں اس لیے آدھی ادھوری بات بتا کر عوام کے ایمان و عقیدے کو برباد کر دیتے ہیں اور ایک طرف اہل سنت کی ایک بزرگ اور معتبر ہستی، جن کے علم و حکمت کی گہرائی بھی سمجھ پانا مشکل ہے حضور حکیم الامت حضرت علامہ مفتی محمد احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان جنہوں نے قرآنِ مجید کی اکثر آیات سے اہل سنت کو حق ثابت کیا اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دیا، یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کو قرآنِ مجید کا علم بارگاہِ رب العزت سے ملا، سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے فیض ملا۔
ایک مقرر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہر مسئلے میں اس سے فتویٰ لیا جائے۔ کوئی شخص بہت عمدہ خطیب ہو سکتا ہے، لیکن خطابت اور افتاء دو الگ صلاحیتیں ہیں۔ اسی طرح کسی شخص کا کسی خاص موضوع پر اچھا علم ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ عقائد، فقہ اور تمام دینی مسائل میں رہنمائی کا اہل بھی ہو۔ دین میں شہرت، اہلیت کا بدل نہیں۔ یہی اصول آج کے مصنوعی ذہانت والے ذرائع (AI) اور دینی ایپلیکیشنز کے بارے میں بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ کوئی AI یا ایپلیکیشن چند سیکنڈ میں جواب دے دے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مفتی بن گیا، وہ الفاظ جمع کر سکتا ہے، مختلف مواد سامنے لا سکتا ہے، حوالہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن دینی فتویٰ محض معلومات اکٹھا کرنے کا نام نہیں۔
فتویٰ کے لیے مسئلے کی صحیح صورتِ حال سمجھنا، متعلقہ نصوص و اصول کو جاننا، مختلف اقوال میں امتیاز کرنا، فقہی قواعد کو ملحوظ رکھنا اور سائل کے حالات کے مطابق حکم دینا ضروری ہے اس کے علاوہ اور بھی قواعد و ضوابط ہیں۔ ایک مصنوعی نظام یہ تأثر دے سکتا ہے کہ اس نے مکمل جواب دے دیا، جبکہ اس کے جواب میں حوالہ غلط ہو، مسئلہ کا محل بدل گیا ہو، کسی استثنا کو نظر انداز کر دیا گیا ہو یا مختلف فقہی اقوال کو خلط ملط کر دیا گیا ہو۔
لہٰذا AI یا کسی (ظاہراً) دینی ایپلیکیشن کو عالمِ دین اور مفتی کا قائم مقام سمجھنا درست نہیں۔ علم کے لیے علمائے اہل سنت کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کرنا ہی چاہیے۔
عقائد و عبادات، حلال و حرام، نکاح و طلاق، معاملات اور دوسرے اہم شرعی معاملات میں اعتماد کا اصل مرکز مستند اہلِ علم ہی ہونے چاہییں۔
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ [سنن ابی داؤد، کتاب الطهارۃ'
نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے۔
اور پوچھا اس سے جائے گا جسے آتا ہے اور بدمذہبوں کو کچھ آتا سوائے گمراہ کرنے کے۔
یہ صرف سوال کرنے کی ترغیب نہیں؛ اس میں یہ رہنمائی بھی ہے کہ جہاں خود علم نہ ہو وہاں اہلِ علم سے پوچھا جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہر دینی بات سننے کے بجائے دینی بات کا ماخذ پہچانے۔ یوٹیوب پر ویڈیو سامنے آئے تو فوراً شیئر کرنے کے بجائے غور و فکر کرے۔ کوئی کلپ جذبات کو متأثر کرے تو جذبات سے پہلے اس کی علمی حیثیت دیکھے۔ کسی ایپلیکیشن نے جواب دے دیا تو اسے آخری شرعی فیصلہ نہ سمجھے اور اگر محلے کی مسجد میں کوئی خطیب و امام بدمذہب ہو تو اس کو دفع کرے اور اہل سنت کا عالم لا کر ان سے علم حاصل کرے۔
کیونکہ دین میں سب سے خطرناک غلطی وہ ہوتی ہے جسے انسان صحیح سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔
اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت کے علماء سے وابستگی کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان اپنے دین کو ایسے اہلِ علم سے سمجھتا جو قرآن و سنت کو امت کی معتبر علمی روایت، صحیح عقائد اور اصولِ شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہوں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہر آواز قابلِ سماعت ہوسکتی ہے، مگر ہر آواز قابلِ اتباع نہیں۔
ہر جواب پڑھا جاسکتا ہے، مگر ہر جواب پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
اور ہر شخص سے بات سنی جاسکتی ہے، مگر دین ہر شخص سے نہیں سیکھا جاسکتا۔
یہی فرق معلومات کے ہجوم اور علم کی رہنمائی میں ہے........... جاری
نتیجۂ فکر:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ دوم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟
قسط دوم:
آج کا زمانہ عجیب سہولتوں کا زمانہ ہے۔ پہلے کسی دینی مسئلے کی تحقیق کے لیے کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا، اہلِ علم کی مجلس میں بیٹھنا پڑتا تھا، کسی مستند مفتی سے سوال کرنا پڑتا تھا۔ اب ایک سوال لکھیے اور چند لمحوں میں اس کے سامنے درجنوں جوابات موجود ہوتے ہیں۔ یوٹیوب پر ایک موضوع تلاش کیجیے تو مختلف مسلکوں اور مختلف افکار کے مقررین کی سینکڑوں تقاریر سامنے آجاتی ہیں۔ موبائل میں موجود ایپلیکیشن سے سوال کیجیے تو فوراً ایک جواب حاضر ہے۔
بظاہر یہ علم کی فراوانی ہے، لیکن غور کیا جائے تو علم کی فراوانی اور صحیح علم کی فراوانی ایک چیز نہیں۔
عام مسلمان کے لیے اصل مشکل اب یہ نہیں کہ اسے معلومات کہاں سے ملیں گی، اصل مشکل یہ ہے کہ صحیح بات اور غلط بات میں امتیاز کیسے کرے گا ؟
یہیں سے عالمِ دین کی ضرورت شروع ہوتی ہے۔
دین کوئی ایسا موضوع نہیں کہ آدمی مختلف لوگوں کی چند باتیں سن کر خود ہی سب کو برابر وزن دے اور پھر اپنی پسند کا نتیجہ نکال لے۔ قرآن و حدیث کا علم ایک پورا نظامِ فہم رکھتا ہے۔ نصوص کو سمجھنے کے لیے عربی زبان، سیاق و سباق، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، فقہ، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر علمی مباحث سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ عام آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ ان تمام علوم کا ماہر بنے، اسی لیے وہ اہلِ علم کی طرف رجوع کرتا ہے۔
اسی لیے یوٹیوب پر کسی عالم کی ویڈیو دیکھتے وقت بھی صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ پُرجوش ہیں یا اس کی گفتگو بہت مقبول ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس علمی روایت سے وابستہ ہے، اس کے عقائد کیا ہیں، اس کے اساتذہ کون ہیں، وہ مسائل کو کس اصول کے تحت بیان کرتا ہے اور معتبر علماء اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
محض ویوز، لائکس، سبسکرائبرز یا تقریر کی مقبولیت کسی شخص کو دینی رہنما نہیں بنا دیتی۔ جیسے اس زمانے میں انجینیر محمد علی مرزا، ڈاکٹر اسرار احمد، طارق جمیل، طارق مسعود، ذاکر نائیک وغیرہ کالج، یونیورسٹی اور اسکول کے بچوں میں بہت مشہور و مقبول ہیں (معاذ اللہ تعالیٰ) جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ مگر حقیقت میں یہ سب ابلیس کے نقش قدم پر لوگوں کو بہکانے کا کام کرتے ہیں۔ وجہ ہی یہ ہے کہ ان کی ایک بھی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہوتی اور جو ظاہراً صحیح نظر آتی ہے اس میں بھی بہت سے نکات ہوتے ہیں جن کو صرف اہل علم بیان کر سکتے ہیں اور جو ان کے بس کا نہیں اس لیے آدھی ادھوری بات بتا کر عوام کے ایمان و عقیدے کو برباد کر دیتے ہیں اور ایک طرف اہل سنت کی ایک بزرگ اور معتبر ہستی، جن کے علم و حکمت کی گہرائی بھی سمجھ پانا مشکل ہے حضور حکیم الامت حضرت علامہ مفتی محمد احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان جنہوں نے قرآنِ مجید کی اکثر آیات سے اہل سنت کو حق ثابت کیا اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دیا، یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کو قرآنِ مجید کا علم بارگاہِ رب العزت سے ملا، سرکارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے فیض ملا۔
ایک مقرر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہر مسئلے میں اس سے فتویٰ لیا جائے۔ کوئی شخص بہت عمدہ خطیب ہو سکتا ہے، لیکن خطابت اور افتاء دو الگ صلاحیتیں ہیں۔ اسی طرح کسی شخص کا کسی خاص موضوع پر اچھا علم ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ عقائد، فقہ اور تمام دینی مسائل میں رہنمائی کا اہل بھی ہو۔ دین میں شہرت، اہلیت کا بدل نہیں۔ یہی اصول آج کے مصنوعی ذہانت والے ذرائع (AI) اور دینی ایپلیکیشنز کے بارے میں بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ کوئی AI یا ایپلیکیشن چند سیکنڈ میں جواب دے دے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مفتی بن گیا، وہ الفاظ جمع کر سکتا ہے، مختلف مواد سامنے لا سکتا ہے، حوالہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن دینی فتویٰ محض معلومات اکٹھا کرنے کا نام نہیں۔
فتویٰ کے لیے مسئلے کی صحیح صورتِ حال سمجھنا، متعلقہ نصوص و اصول کو جاننا، مختلف اقوال میں امتیاز کرنا، فقہی قواعد کو ملحوظ رکھنا اور سائل کے حالات کے مطابق حکم دینا ضروری ہے اس کے علاوہ اور بھی قواعد و ضوابط ہیں۔ ایک مصنوعی نظام یہ تأثر دے سکتا ہے کہ اس نے مکمل جواب دے دیا، جبکہ اس کے جواب میں حوالہ غلط ہو، مسئلہ کا محل بدل گیا ہو، کسی استثنا کو نظر انداز کر دیا گیا ہو یا مختلف فقہی اقوال کو خلط ملط کر دیا گیا ہو۔
لہٰذا AI یا کسی (ظاہراً) دینی ایپلیکیشن کو عالمِ دین اور مفتی کا قائم مقام سمجھنا درست نہیں۔ علم کے لیے علمائے اہل سنت کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کرنا ہی چاہیے۔
عقائد و عبادات، حلال و حرام، نکاح و طلاق، معاملات اور دوسرے اہم شرعی معاملات میں اعتماد کا اصل مرکز مستند اہلِ علم ہی ہونے چاہییں۔
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ [سنن ابی داؤد، کتاب الطهارۃ'
نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے۔
اور پوچھا اس سے جائے گا جسے آتا ہے اور بدمذہبوں کو کچھ آتا سوائے گمراہ کرنے کے۔
یہ صرف سوال کرنے کی ترغیب نہیں؛ اس میں یہ رہنمائی بھی ہے کہ جہاں خود علم نہ ہو وہاں اہلِ علم سے پوچھا جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہر دینی بات سننے کے بجائے دینی بات کا ماخذ پہچانے۔ یوٹیوب پر ویڈیو سامنے آئے تو فوراً شیئر کرنے کے بجائے غور و فکر کرے۔ کوئی کلپ جذبات کو متأثر کرے تو جذبات سے پہلے اس کی علمی حیثیت دیکھے۔ کسی ایپلیکیشن نے جواب دے دیا تو اسے آخری شرعی فیصلہ نہ سمجھے اور اگر محلے کی مسجد میں کوئی خطیب و امام بدمذہب ہو تو اس کو دفع کرے اور اہل سنت کا عالم لا کر ان سے علم حاصل کرے۔
کیونکہ دین میں سب سے خطرناک غلطی وہ ہوتی ہے جسے انسان صحیح سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔
اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت کے علماء سے وابستگی کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان اپنے دین کو ایسے اہلِ علم سے سمجھتا جو قرآن و سنت کو امت کی معتبر علمی روایت، صحیح عقائد اور اصولِ شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہوں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہر آواز قابلِ سماعت ہوسکتی ہے، مگر ہر آواز قابلِ اتباع نہیں۔
ہر جواب پڑھا جاسکتا ہے، مگر ہر جواب پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
اور ہر شخص سے بات سنی جاسکتی ہے، مگر دین ہر شخص سے نہیں سیکھا جاسکتا۔
یہی فرق معلومات کے ہجوم اور علم کی رہنمائی میں ہے........... جاری
نتیجۂ فکر:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
12
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟ [قسطِ سوم]

صرف علمائے اہلِ سنت سے علم کیوں حاصل کریں ؟

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢