صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!
ادبیات

پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!
جھیل کی داستان جب خاموش کناروں سے نکل کر لوگوں کی محفلوں تک پہنچی تو ابتدا میں ہر زبان پر صرف جھیل کا ہی ذکر تھا۔
کوئی اس کے انتظار پر افسوس کرتا۔
کوئی اس کی خاموشی کو کمزوری کہتا۔
کوئی اس کی محبت کو دیوانگی کا نام دیتا۔
مگر وقت گزرتا گیا تو گفتگو کا رخ بدلنے لگا۔
اب لوگوں نے جھیل کو نہیں۔۔۔۔
پرندے کو دیکھنا شروع کر دیا۔
ہر شخص نے اپنی اپنی عدالت سجا لی۔
اپنے اپنے پیمانے نکال لیے۔
اپنے اپنے فیصلے لکھنے لگا۔
کسی نے کہا:
پرندہ بےوفا ہے۔
دوسرے نے کہا:
نہیں، یہ تو بےمروتی ہے۔
تیسرے نے افسوس سے سر ہلایا:
جس جھیل نے اسے مدتوں اپنی آغوش میں جگہ دی، جس کے پانی نے اس کی پیاس بجھائی، جس کی لہروں نے اس کے پروں کی تھکن اتاری، آج اسی جھیل کو یوں فراموش کر دینا۔۔۔ یہ احسان فراموشی نہیں تو اور کیا ہے؟
کسی نے اسے بےحس کہا۔
کسی نے خودغرض۔
کسی نے نادان۔
اور کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پرندے نے محبت کی قدر ہی نہیں جانی۔
یہ سارے جملے ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے جھیل تک بھی پہنچے۔
اس نے سب کچھ سنا۔
پھر اس نے خاموشی سے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی۔۔۔۔
جہاں کبھی وہی سفید پرندہ اپنے پروں پر روشنی سمیٹے پرواز کیا کرتا تھا۔
جھیل نے پہلی بار محسوس کیا کہ لوگوں نے پرندے کو دیکھا ضرور ہے۔۔۔۔
مگر صرف باہر سے۔
کسی نے اس کے پروں کی سفیدی دیکھی۔
کسی نے اس کی بےنیازی دیکھی۔
کسی نے اس کا گزر جانا دیکھا۔
کسی نے اس کا کسی اور پنگھٹ پر اترنا دیکھا۔
مگر کسی نے اس کے دل میں جھانکنے کی کوشش نہ کی۔
اور شاید۔۔۔۔
دلوں تک راستے آنکھوں سے نہیں جاتے۔
کون جانتا ہے کہ پرندے کے اندر کون سا موسم چل رہا تھا؟
کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے دوری خوشی سے اختیار کی تھی؟
کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے ہر فیصلے کے پیچھے صرف بےرخی تھی؟
آخر کس نے اس کے دل کی دھڑکنیں سنیں؟
کس نے اس کی خاموشیوں کو پڑھا؟
کس نے اس کی تنہائیوں کا حساب رکھا؟
اور کس نے اس سے یہ پوچھا کہ وہ پہلے کی طرح جھیل میں کیوں نہ اترا؟
وہ اپنے پروں کو اسی پانی میں کیوں نہ بھگوتا رہا؟
وہ اس جھیل سے دور کیوں ہوتا چلا گیا جس کے کنارے کبھی اس کے لیے مانوس ترین جگہ تھے؟
ان سوالوں کے جواب شاید خود ہوا کے پاس بھی نہ تھے۔
پھر انسان کیسے اتنے یقین سے فیصلے سنا رہے تھے؟
جھیل نے ان سب فیصلوں کے درمیان ایک عجیب حقیقت محسوس کی۔
جو لوگ پرندے کو ملامت کر رہے تھے۔۔۔۔
ان میں سے اکثر کا نہ جھیل سے کوئی تعلق تھا، نہ پرندے سے۔
وہ نہ اس انتظار کے شریک تھے، نہ ان ملاقاتوں کے گواہ، جن میں خاموشیاں بھی گفتگو بن جاتی تھیں۔
پھر بھی وہ فیصلہ کن لہجے میں بول رہے تھے۔
جھیل نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔
اگر یہ اجنبی لوگ، جن کا میرے وجود سے کوئی رشتہ نہیں، میرے دکھ پر اس قدر دل گرفتہ ہیں، تو وہ پرندہ، جس نے برسوں میرے پانی میں اپنی پیاس بجھائی، میرے کناروں پر اپنے پر سکھائے، میری لہروں میں اپنے سفر کی گرد اتاری۔۔۔۔
کیا اس کے دل میں میرے لیے کوئی نرم گوشہ باقی نہ ہوگا؟
محبت کے سارے نقش کیا ایسے ہی مٹ جاتے ہیں؟
رفاقت کی ساری یادیں کیا ایک ہی موسم میں بکھر جاتی ہیں؟
اور اگر بکھر بھی جائیں۔۔۔۔
تو کیا دل اتنی آسانی سے ان سے خالی ہو جاتا ہے؟
جھیل ان سوالوں کا جواب نہ دے سکی۔
اس نے کبھی پرندے سے پوچھا بھی نہیں۔
کیونکہ بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لے آنا ہی ان کی حرمت کم کر دیتا ہے۔
اس نے بس اتنا جانا کہ جو کچھ نظر آتا ہے، وہ پوری حقیقت نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی دو کناروں کے درمیان بہتا ہوا پانی بہت کچھ جانتا ہے، مگر خاموش رہتا ہے۔
کبھی کبھی آسمان میں اڑتے ہوئے پر بھی اپنی خاموشی میں ایسی داستانیں چھپا لیتے ہیں جنہیں کوئی نگاہ پڑھ نہیں سکتی۔
شاید پرندہ واقعی بےنیاز ہو گیا ہو۔۔۔۔
اور شاید ایسا نہ ہو۔
شاید اس نے جھیل کو فراموش کر دیا ہو۔۔۔۔
اور شاید اس کی یاد کسی ایسی جگہ محفوظ ہو جہاں دوسروں کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی۔
شاید اس کی خاموشی بےحسی ہو۔۔۔۔
اور شاید اسی خاموشی میں کوئی ایسا اضطراب پوشیدہ ہو جس کا اظہار اس کے بس میں نہ رہا ہو۔
یہ سب صیغۂ راز میں ہے۔
وقت ابھی اس داستان کا آخری ورق نہیں لایا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جب کبھی تقدیر اس بند دروازے پر دستک دے گی، جب پردہ کسی حکمت کے تحت اٹھے گا، اور جب پرندے کی خاموشی بھی زبان پا لے گی۔۔۔۔
تب شاید معلوم ہو کہ جسے دنیا نے بےوفائی سمجھا، وہ حقیقت میں کیا تھا۔
اور تب شاید یہ بھی معلوم ہو کہ پرندہ واقعی بےمروت تھا۔۔۔۔
یا پھر اس کی پرواز کے پیچھے کوئی ایسا سبب تھا، جسے صرف آسمان جانتا تھا، اور جس کا حال نہ جھیل کو معلوم تھا، نہ کناروں پر کھڑے تماشائیوں کو۔
خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323

پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

پھر لوگوں نے پرندے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔۔۔۔!
جھیل کی داستان جب خاموش کناروں سے نکل کر لوگوں کی محفلوں تک پہنچی تو ابتدا میں ہر زبان پر صرف جھیل کا ہی ذکر تھا۔
کوئی اس کے انتظار پر افسوس کرتا۔
کوئی اس کی خاموشی کو کمزوری کہتا۔
کوئی اس کی محبت کو دیوانگی کا نام دیتا۔
مگر وقت گزرتا گیا تو گفتگو کا رخ بدلنے لگا۔
اب لوگوں نے جھیل کو نہیں۔۔۔۔
پرندے کو دیکھنا شروع کر دیا۔
ہر شخص نے اپنی اپنی عدالت سجا لی۔
اپنے اپنے پیمانے نکال لیے۔
اپنے اپنے فیصلے لکھنے لگا۔
کسی نے کہا:
پرندہ بےوفا ہے۔
دوسرے نے کہا:
نہیں، یہ تو بےمروتی ہے۔
تیسرے نے افسوس سے سر ہلایا:
جس جھیل نے اسے مدتوں اپنی آغوش میں جگہ دی، جس کے پانی نے اس کی پیاس بجھائی، جس کی لہروں نے اس کے پروں کی تھکن اتاری، آج اسی جھیل کو یوں فراموش کر دینا۔۔۔ یہ احسان فراموشی نہیں تو اور کیا ہے؟
کسی نے اسے بےحس کہا۔
کسی نے خودغرض۔
کسی نے نادان۔
اور کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پرندے نے محبت کی قدر ہی نہیں جانی۔
یہ سارے جملے ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے جھیل تک بھی پہنچے۔
اس نے سب کچھ سنا۔
پھر اس نے خاموشی سے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی۔۔۔۔
جہاں کبھی وہی سفید پرندہ اپنے پروں پر روشنی سمیٹے پرواز کیا کرتا تھا۔
جھیل نے پہلی بار محسوس کیا کہ لوگوں نے پرندے کو دیکھا ضرور ہے۔۔۔۔
مگر صرف باہر سے۔
کسی نے اس کے پروں کی سفیدی دیکھی۔
کسی نے اس کی بےنیازی دیکھی۔
کسی نے اس کا گزر جانا دیکھا۔
کسی نے اس کا کسی اور پنگھٹ پر اترنا دیکھا۔
مگر کسی نے اس کے دل میں جھانکنے کی کوشش نہ کی۔
اور شاید۔۔۔۔
دلوں تک راستے آنکھوں سے نہیں جاتے۔
کون جانتا ہے کہ پرندے کے اندر کون سا موسم چل رہا تھا؟
کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے دوری خوشی سے اختیار کی تھی؟
کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے ہر فیصلے کے پیچھے صرف بےرخی تھی؟
آخر کس نے اس کے دل کی دھڑکنیں سنیں؟
کس نے اس کی خاموشیوں کو پڑھا؟
کس نے اس کی تنہائیوں کا حساب رکھا؟
اور کس نے اس سے یہ پوچھا کہ وہ پہلے کی طرح جھیل میں کیوں نہ اترا؟
وہ اپنے پروں کو اسی پانی میں کیوں نہ بھگوتا رہا؟
وہ اس جھیل سے دور کیوں ہوتا چلا گیا جس کے کنارے کبھی اس کے لیے مانوس ترین جگہ تھے؟
ان سوالوں کے جواب شاید خود ہوا کے پاس بھی نہ تھے۔
پھر انسان کیسے اتنے یقین سے فیصلے سنا رہے تھے؟
جھیل نے ان سب فیصلوں کے درمیان ایک عجیب حقیقت محسوس کی۔
جو لوگ پرندے کو ملامت کر رہے تھے۔۔۔۔
ان میں سے اکثر کا نہ جھیل سے کوئی تعلق تھا، نہ پرندے سے۔
وہ نہ اس انتظار کے شریک تھے، نہ ان ملاقاتوں کے گواہ، جن میں خاموشیاں بھی گفتگو بن جاتی تھیں۔
پھر بھی وہ فیصلہ کن لہجے میں بول رہے تھے۔
جھیل نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔
اگر یہ اجنبی لوگ، جن کا میرے وجود سے کوئی رشتہ نہیں، میرے دکھ پر اس قدر دل گرفتہ ہیں، تو وہ پرندہ، جس نے برسوں میرے پانی میں اپنی پیاس بجھائی، میرے کناروں پر اپنے پر سکھائے، میری لہروں میں اپنے سفر کی گرد اتاری۔۔۔۔
کیا اس کے دل میں میرے لیے کوئی نرم گوشہ باقی نہ ہوگا؟
محبت کے سارے نقش کیا ایسے ہی مٹ جاتے ہیں؟
رفاقت کی ساری یادیں کیا ایک ہی موسم میں بکھر جاتی ہیں؟
اور اگر بکھر بھی جائیں۔۔۔۔
تو کیا دل اتنی آسانی سے ان سے خالی ہو جاتا ہے؟
جھیل ان سوالوں کا جواب نہ دے سکی۔
اس نے کبھی پرندے سے پوچھا بھی نہیں۔
کیونکہ بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لے آنا ہی ان کی حرمت کم کر دیتا ہے۔
اس نے بس اتنا جانا کہ جو کچھ نظر آتا ہے، وہ پوری حقیقت نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی دو کناروں کے درمیان بہتا ہوا پانی بہت کچھ جانتا ہے، مگر خاموش رہتا ہے۔
کبھی کبھی آسمان میں اڑتے ہوئے پر بھی اپنی خاموشی میں ایسی داستانیں چھپا لیتے ہیں جنہیں کوئی نگاہ پڑھ نہیں سکتی۔
شاید پرندہ واقعی بےنیاز ہو گیا ہو۔۔۔۔
اور شاید ایسا نہ ہو۔
شاید اس نے جھیل کو فراموش کر دیا ہو۔۔۔۔
اور شاید اس کی یاد کسی ایسی جگہ محفوظ ہو جہاں دوسروں کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی۔
شاید اس کی خاموشی بےحسی ہو۔۔۔۔
اور شاید اسی خاموشی میں کوئی ایسا اضطراب پوشیدہ ہو جس کا اظہار اس کے بس میں نہ رہا ہو۔
یہ سب صیغۂ راز میں ہے۔
وقت ابھی اس داستان کا آخری ورق نہیں لایا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جب کبھی تقدیر اس بند دروازے پر دستک دے گی، جب پردہ کسی حکمت کے تحت اٹھے گا، اور جب پرندے کی خاموشی بھی زبان پا لے گی۔۔۔۔
تب شاید معلوم ہو کہ جسے دنیا نے بےوفائی سمجھا، وہ حقیقت میں کیا تھا۔
اور تب شاید یہ بھی معلوم ہو کہ پرندہ واقعی بےمروت تھا۔۔۔۔
یا پھر اس کی پرواز کے پیچھے کوئی ایسا سبب تھا، جسے صرف آسمان جانتا تھا، اور جس کا حال نہ جھیل کو معلوم تھا، نہ کناروں پر کھڑے تماشائیوں کو۔
خیالِ خاطر
محمد شعیب خان نجمی ؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
3
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 44
Kalam 40
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

قندِ سمرقند

پھر موسم نے ایک نیا منظر دکھایا۔۔۔۔!

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢