یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ادبیات
موقعہ پرست لوگ
موقعہ پرست لوگ
دنیا میں انسانوں کی بہت سی اقسام ہیں، مگر ان میں ایک قسم ایسے قبیلۂ بشر کی بھی ہے جو سب سے زیادہ خطرناک، سب سے زیادہ خودغرض اور سب سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہے، اور وہ ہے موقعہ پرستوں کی جماعت۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دوستی مفاد کی بنیاد پر، محبت غرض کے تابع اور تعلقات صرف نفع و نقصان کے حساب سے استوار ہوتے ہیں۔
یہ لوگ کبھی کسی کے نہیں ہوتے۔ ہمیشہ اسی سمت جھکتے ہیں جہاں سے اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل ہونے کی امید ہو۔ ان کی مسکراہٹ بھی وقتی، وعدے بھی عارضی، باتیں بھی صرف اتنی دیر سچی رہتی ہیں جب تک ان کے مطلب کی کوئی شے سامنے ہو۔ جیسے ہی مفاد ختم ہوا، یہ چہروں سے نقاب اتار کر اصلیت دکھا دیتے ہیں۔
ایسے لوگ دوست بن کر دشمنی کرتے ہیں، ہمدرد بن کر دل زخمی کرتے ہیں، اور خیرخواہ بن کر تریاق کو زہر بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کو شہد میں ڈبو کر بولتے ہیں، مگر دل میں حسد و حرص کا زہر پالتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانیت کی کوئی قیمت نہیں، تعلقات کی کوئی حرمت نہیں، اور دوستی کا کوئی وقار نہیں۔ بس مطلب پورا ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے کسی کا دل توڑنا پڑے، یا کسی کے اعتماد کو بیچ ڈالنا پڑے۔

موقعہ پرست لوگ
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
موقعہ پرست لوگ
دنیا میں انسانوں کی بہت سی اقسام ہیں، مگر ان میں ایک قسم ایسے قبیلۂ بشر کی بھی ہے جو سب سے زیادہ خطرناک، سب سے زیادہ خودغرض اور سب سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہے، اور وہ ہے موقعہ پرستوں کی جماعت۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دوستی مفاد کی بنیاد پر، محبت غرض کے تابع اور تعلقات صرف نفع و نقصان کے حساب سے استوار ہوتے ہیں۔
یہ لوگ کبھی کسی کے نہیں ہوتے۔ ہمیشہ اسی سمت جھکتے ہیں جہاں سے اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل ہونے کی امید ہو۔ ان کی مسکراہٹ بھی وقتی، وعدے بھی عارضی، باتیں بھی صرف اتنی دیر سچی رہتی ہیں جب تک ان کے مطلب کی کوئی شے سامنے ہو۔ جیسے ہی مفاد ختم ہوا، یہ چہروں سے نقاب اتار کر اصلیت دکھا دیتے ہیں۔
ایسے لوگ دوست بن کر دشمنی کرتے ہیں، ہمدرد بن کر دل زخمی کرتے ہیں، اور خیرخواہ بن کر تریاق کو زہر بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کو شہد میں ڈبو کر بولتے ہیں، مگر دل میں حسد و حرص کا زہر پالتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانیت کی کوئی قیمت نہیں، تعلقات کی کوئی حرمت نہیں، اور دوستی کا کوئی وقار نہیں۔ بس مطلب پورا ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے کسی کا دل توڑنا پڑے، یا کسی کے اعتماد کو بیچ ڈالنا پڑے۔
موقعہ پرستی دراصل کردار کی کمزوری اور روح کی بیماری ہے۔ یہ اس دل کی علامت ہے جو محبت سے خالی، صدق سے عاری، اور احساسِ وفا سے نابلد ہو۔ موقعہ پرست آدمی کے نزدیک سچائی، دیانت، قربانی، ایثار، سب بے معنی الفاظ ہیں، کیونکہ اس کا محور صرف میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے مفاد کے لیے کسی بھی اصول کو توڑ سکتا ہے، کسی بھی رشتے کو پامال کرسکتا ہے، اور کسی بھی چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجا سکتا ہے۔
ایسے لوگوں کی صحبت میں دل مرجھا جاتا ہے، اعتماد بکھر جاتا ہے، اور خلوص اپنی موت مرجاتا ہے۔ ان کے درمیان رہنے والا انسان ہمیشہ ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کب یہ شخص اپنا رخ بدل لے، کب اپنی بات سے پھر جائے، کب دوستی کے پردے میں دشمنی کا خنجر چلا دے۔
لیکن یاد رکھو! یہ رذالت کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔ وقتی فائدہ حاصل کرنے والا شخص بالآخر اپنی چالوں میں خود الجھ جاتا ہے۔ لوگ اس کی حقیقت پہچان لیتے ہیں، اعتماد کے دروازے اس پر بند ہوجاتے ہیں، اور وہ تنہائی کے اندھیروں میں گم ہوجاتا ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر اعتماد ایک بار کھو جائے تو دوبارہ نہیں ملتا۔
لہٰذا عقل مند وہ ہے جو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہے، ان کے مکر و فریب کو سمجھے، اور اپنی صحبت میں ان کے لیے کوئی جگہ نہ رکھے۔ کیونکہ جس دل میں وفا نہیں، وہاں تعلق کا پھول نہیں کھل سکتا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
اور آخر میں نجمیؔ کی بات یاد رکھیے:
موقعہ پرست وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، جبکہ صاحبِ کردار لوگ وقت کو بدل دیتے ہیں۔
موقعہ پرست وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، جبکہ صاحبِ کردار لوگ وقت کو بدل دیتے ہیں۔
از قلم
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323










