صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ سوم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ سوم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط سوم ]
وہ گلی، جہاں شام رک جاتی تھی
بچپن کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی گھر، صحن، اپنوں کی آوازیں اور وہ ابتدائی دن یاد آتے ہیں جن میں زندگی ابھی اپنی پوری سادگی کے ساتھ ہمارے سامنے تھی۔ مگر بچپن صرف گھر کے اندر نہیں رہتا تھا؛ گھر کا دروازہ کھلتے ہی جیسے اس کی ایک دوسری دنیا شروع ہو جاتی تھی۔ چند قدم باہر نکلتے ہی ایک ایسی سلطنت آباد تھی جس کے بادشاہ بھی ہم تھے، رعایا بھی ہم، قانون بنانے والے بھی ہم اور قانون توڑنے والے بھی ہم۔ وہ گلی شاید آج بھی اسی جگہ موجود ہو، اس کے موڑ شاید اب بھی وہیں ہوں، دیواریں بھی شاید زیادہ نہیں بدلی ہوں، مگر ان دیواروں کے درمیان گونجنے والی وہ آوازیں کہاں ہیں؟ وہ قہقہے، وہ شور، وہ دوڑتے قدم، گیند کے زمین سے ٹکرانے کی آواز، کسی بچے کا دور سے اپنے دوست کو پکارنا، اور پھر کسی گھر سے آنے والی وہ آواز جسے سنتے ہی سب سمجھ جاتے تھے کہ اب کھیل کا وقت ختم ہونے والا ہے۔
آج جب کبھی کسی پرانی گلی سے گزرتے ہوئے بچپن کی خوشبو سی محسوس ہوتی ہے تو دل بے اختیار ٹھہر جاتا ہے، جیسے گزرے ہوئے برسوں نے اچانک ہاتھ پکڑ کر کہا ہو: ”ذرا پیچھے دیکھو، یہاں کبھی تم بھی دوڑا کرتے تھے۔“
اس زمانے میں گلی ہمارے لیے محض راستہ نہیں تھی؛ وہ ہماری روز مرہ زندگی کا ایک بڑا حصہ تھی۔ گھر میں ذرا سی ڈانٹ پڑی، باہر نکلے اور دوستوں کے پاس پہنچ گئے تو جیسے ساری پریشانی ختم۔
کسی نے دور سے آواز دی،
کسی نے دروازے پر دستک دی،
کسی نے کھڑکی سے جھانک کر ہاتھ ہلایا اور بس، اگلے چند لمحوں میں پورا گروہ جمع۔
کسی کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ آج کیا کھیلنا ہے، کہاں کھیلنا ہے یا کون کس کے ساتھ ہوگا۔ گلی میں پہنچتے ہی کوئی نہ کوئی منصوبہ خود بخود بن جاتا تھا۔ کبھی گیند ہاتھ میں آ گئی تو کرکٹ، کبھی سائیکلیں نکل آئیں تو گلی سڑک بن گئی، اور کبھی کچھ بھی نہ ہو تو دوڑ ہی مقابلہ بن جاتی۔
وسائل کم تھے مگر تخیل بہت تھا۔ ایک لکڑی کا ٹکڑا کبھی بلّا بن جاتا،
پتھر وکٹ کا کام دیتے، چپلیں رکھ کر حدود مقرر ہو جاتیں اور اگر گیند کسی دور کے گھر میں چلی جائے تو پورا کھیل چند لمحوں کے لیے اس بات پر رک جاتا کہ ”اب گیند کون لائے گا ؟“ جس کے ہاتھ میں گیند جانے کا امکان زیادہ ہوتا، سب کی نظریں اسی پر ہوتیں؛ اور اگر وہ بچہ ذرا سمجھ دار نکلے تو فوراً کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دے دیتا۔ یوں کھیل کے ساتھ ساتھ سفارت کاری بھی چلتی رہتی تھی۔
گلی میں دوستوں کی اپنی اپنی پہچان تھی۔ کوئی اتنا تیز دوڑتا تھا کہ اسے پکڑنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا،
کوئی ہر کھیل میں خود کو کپتان سمجھتا،
کوئی ایسا بھی ہوتا جسے کھیل کے اصول صرف اس وقت یاد آتے جب فیصلہ اس کے حق میں ہو، اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو اچانک اسے اصول پر شدید اعتراض ہو جاتا۔ کرکٹ میں آؤٹ ہونے پر سب سے پہلے وہی آواز بلند ہوتی: ”نہیں، یہ آؤٹ نہیں ہے!“
اور اگر کوئی پوچھتا کہ کیوں نہیں ہے تو جواب ہوتا: ”بس نہیں ہے!“
بچپن کی دلیلیں بھی کتنی سادہ تھیں۔ نہ قانون کی کتاب، نہ امپائر کا فیصلہ، نہ کوئی تیسرا معتبر شخص؛ جس کی آواز سب سے اونچی ہو، چند لمحوں کے لیے اسی کی بات سچ سمجھی جاتی۔ پھر بحث بڑھتی، کھیل رک جاتا، کوئی ناراض ہو کر گھر جانے کی دھمکی دیتا، دوسرا کہتا ”جاؤ“، تیسرا اسے روکنے لگتا اور چوتھا اس فکر میں رہتا کہ اگر سب چلے گئے تو اس کی بیٹنگ کا کیا ہوگا۔
لیکن اس ساری لڑائی کے باوجود عجیب بات یہ تھی کہ اگلے دن پھر سب اسی جگہ موجود ہوتے۔ کل جس سے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی بات نہیں کریں گے، آج اسی کے ساتھ ٹیم بنانے کے لیے سب سے پہلے پہنچے ہوتے۔ بچپن کے جھگڑے شاید اسی لیے خوب صورت تھے کہ ان میں غصہ ہوتا تھا، مگر فاصلے نہیں۔
اور پھر بارش کے دن!
بارش شروع ہوتی تو بڑوں کے لیے شاید چھتری، کپڑے اور کیچڑ کی فکر شروع ہو جاتی، مگر بچوں کے لیے جیسے کسی نے کھیل کا نیا میدان کھول دیا ہو۔ گلی میں پانی جمع ہوا نہیں کہ کسی نے چھپاکا مار دیا، دوسرے نے اس سے بڑا چھپاکا بنانے کی کوشش کی، کسی نے کاغذ کی کشتی بنا کر پانی میں چھوڑ دی اور چند لمحوں کے لیے اسے یوں دیکھا جیسے وہ واقعی کسی سمندر کا جہاز ہو۔
اگر گھر سے آواز آتی کہ ”بارش میں مت بھیگنا!“ تو اس حکم کو سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا کہ بارش میں ایسا کیا ہے جس سے اتنی احتیاط کی جا رہی ہے ؟ اور پھر احتیاط کا بہترین طریقہ یہی سمجھا جاتا کہ جہاں پانی سب سے زیادہ ہو، وہیں قدم رکھا جائے۔ کپڑے بھیگتے، جوتے کیچڑ میں اترتے، بال بکھرتے اور ہم خوش ہوتے۔ گھر واپس پہنچ کر دروازے پر کھڑے ہوتے تو حالت ایسی ہوتی کہ اگر ہمیں خود نہ معلوم ہوتا کہ ہم کہاں تھے تو شاید ہمیں بھی کسی دوسری جگہ سے آیا ہوا بچہ لگتا۔ پھر سوال ہوتا: ”یہ کپڑے کس نے خراب کیے؟“ اور ہم خاموش۔
کبھی جوتوں کو دیکھتے، کبھی فرش کو، کبھی چہرے پر ایسی سنجیدگی لاتے جیسے ہم کسی بڑے قومی مسئلے پر غور کر رہے ہوں۔ مگر بچوں کی دنیا میں راز زیادہ دیر راز نہیں رہتے؛ کپڑے سب کچھ بتا دیتے تھے۔
گلی کی شامیں تو شاید بچپن کی یادوں کے سب سے روشن ابواب ہیں۔ سورج ڈھلنے لگتا، آسمان پر ہلکی سی سرخی پھیلتی، گھروں سے کھانے کی خوشبو آنے لگتی، دکانوں پر روشنی جلنے لگتی اور ایک ایک کرکے بچے گھروں کو لوٹنے لگتے، مگر ہمارا دل ماننے کو تیار نہ ہوتا کہ آج کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ دور سے کسی گھر کی چھت سے آواز آتی: ”بس اب گھر آ جاؤ!“ جواب فوراً آتا: ”بس پانچ منٹ!“ یہ پانچ منٹ بچپن کی تاریخ کے شاید سب سے طویل پانچ منٹ تھے۔ کبھی وہ واقعی پانچ منٹ رہتے، کبھی پندرہ، کبھی آدھا گھنٹہ۔ پھر دوسری آواز پہلے سے زیادہ واضح ہوتی، اور اس میں محبت کے ساتھ وہ تنبیہ بھی شامل ہوتی جسے بچہ بہت اچھی طرح سمجھتا تھا: ”ابھی آتے ہو یا میں خود آؤں ؟“ اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا تھا؛ سب کو معلوم ہوتا تھا کہ اب واقعی جانا ہے۔
گیند ایک طرف رکتی، سائیکل دیوار سے لگتی، کوئی آخری بار دوست سے اگلے دن ملنے کا وعدہ کرتا، کوئی اپنی ہاری ہوئی بازی کا بدلہ کل لینے کا اعلان کرتا اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چل پڑتے۔ اس وقت ہمیں کیا خبر تھی کہ زندگی میں کچھ شامیں ایسی بھی آئیں گی جن کے بعد وہی گلی، وہی کھیل اور وہی دوست دوبارہ کبھی اس طرح جمع نہیں ہوں گے۔
گلیوں نے ہمیں صرف کھیل نہیں دیے، اس نے ہمیں زندگی کے بہت سے ایسے سبق بھی دیے جنہیں ہم اس وقت سبق سمجھتے ہی نہیں تھے۔ وہیں معلوم ہوا کہ ہر بار جیتنا ضروری نہیں، ہر بات منوانا ضروری نہیں، دوست کی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے،
کبھی اپنی پسند کا کھیل چھوڑ کر دوسروں کے ساتھ چلنا پڑتا ہے،
کبھی ہارنے کے بعد اگلے دن دوبارہ میدان میں آنا پڑتا ہے،
اور کبھی دوست گر جائے تو اپنی جیت بھول کر اسے اٹھانا پڑتا ہے۔ ہم نے وہیں پہلی بار محسوس کیا کہ کسی کے پاس نئی چیز ہو تو اس سے حسد کرنے کے بجائے کچھ دیر اس کے ساتھ کھیلنا بھی ممکن ہے، کسی کا کھیل اچھا ہو تو اس کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے، اور اگر کوئی کمزور ہو تو اسے کھیل سے نکالنے کے بجائے اپنی ٹیم میں شامل کرنا زیادہ خوب صورت بات ہے۔ آج زندگی کے بڑے بڑے اصول کتابوں میں پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تب شاید ہم نے ان میں سے بہت سے اصول مٹی، دھوپ اور کھیل کے درمیان خود ہی سیکھ لیے تھے۔
پھر دوستیاں تھیں۔ ایسی دوستیاں جن میں نہ مطلب تھا، نہ حساب، نہ فائدہ، نہ نقصان۔ دوست کے گھر جانے کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں تھی؛ دروازہ کھٹکھٹایا، آواز دی اور اندر۔ کبھی ایک دوسرے کے گھر بیٹھ کر کچھ کھایا، کبھی کھیل کے لیے کسی کو ساتھ لے گئے، کبھی کسی کے پاس نئی چیز آئی تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔ دوست ناراض ہوا تو منانے کا طریقہ بھی کتنا آسان تھا: کبھی بس اتنا کہنا کافی تھا: ”اچھا، اب نہیں لڑوں گا۔“ اور اگر بات زیادہ بڑی ہو تو ایک ٹافی، ایک گیند یا کھیل میں اپنی باری پہلے دے دینا بھی معافی کا پوری دستاویز بن جاتا۔ نہ لمبے پیغامات، نہ دلائل، نہ خاموشی کی سزا۔ دوستی میں جگہ بہت تھی، اس لیے ناراضی کے لیے جگہ کم پڑ جاتی تھی۔
اسی ہنگامہ میں ایک بچہ ایسا بھی دکھتا جسے بس کھیلنے کو بلا لیا جاتا مگر دل سے نہیں۔ آتا دکھا بلا لیا، کوئی کھلونا اسی کے پاس ہو تو بلا لیا۔ مگر کچھ لمحات کھیلنے سے اس کی زندگی کے بھی ابواب چمکنے لگتے۔
آج کبھی انہیں گلیوں کا خیال آتا ہے تو دل ان جگہوں کو تلاش کرتا ہے جہاں کبھی ہم بیٹھا کرتے تھے،
وہ دیوار جہاں گیند بار بار لگتی تھی،
وہ موڑ جہاں دوست کا انتظار کیا کرتے تھے،
وہ گھر جہاں کسی نہ کسی بہانے جانا ہوتا تھا۔ شاید ان میں سے کچھ جگہیں اب موجود بھی نہ ہوں، شاید وہاں نئی دیواریں بن گئی ہوں، شاید پرانے گھر بدل گئے ہوں، شاید گلی میں اب وہ بچے کھیلتے ہوں جنہیں ہم جانتے تک نہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں سب کچھ اب بھی وہیں ہے۔ وہاں سورج اسی وقت ڈوبتا ہے، دوست اسی وقت آواز دیتا ہے، گیند اسی جگہ جاتی ہے، اور ہم ابھی بھی اسی عمر کے ہیں۔ وقت نے حقیقت بدل دی، مگر یادوں نے منظر محفوظ رکھا۔
کبھی کبھی دل یہ بھی سوچتا ہے کہ ہم اس زمانے میں واپس کیوں نہیں جا سکتے ؟ جواب شاید بہت سادہ ہے: کیونکہ بچپن کسی جگہ کا نام نہیں تھا، وہ ہماری عمر کا ایک حصہ تھا۔ گلی وہی ہو سکتی ہے، گھر وہی ہو سکتا ہے، دوستوں میں سے کوئی آج بھی سامنے آ سکتا ہے، مگر وہ آنکھیں کہاں سے آئیں گی جو ایک معمولی سی گیند کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز سمجھتی تھیں ؟ وہ دل کہاں سے آئے گا جو پانچ منٹ کی کھیل کی مہلت کے لیے پوری دنیا سے لڑنے کو تیار تھا ؟ وہ بے فکری کہاں سے آئے گی جس میں کل کی فکر نہیں تھی اور آج کا ہر لمحہ مکمل تھا ؟
پھر بھی، یادوں کا کمال یہی ہے کہ وہ ہمیں مکمل واپس نہ سہی، چند لمحوں کے لیے وہیں پہنچا دیتی ہیں۔ کسی پرانی گلی کا خیال آتا ہے تو ہم موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکل کر چند لمحوں کے لیے پھر وہی بچے بن جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کوئی دور سے آواز دے، ہم دوڑ کر جائیں، کوئی گیند اچھالے، کوئی ہنسے، کوئی بلا لے، کوئی کہے ”تم آؤٹ ہو“، ہم فوراً انکار کریں اور پھر وہی پرانی بحث شروع ہو جائے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ بحث کتنی قیمتی ہے، یہ ہنسی کتنی نایاب ہے اور یہ شام کتنی جلدی گزر جانے والی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مگر بچپن کی گلی ابھی ہمیں مکمل طور پر رخصت نہیں کر رہی۔ اس کے اندر ابھی بہت سے دروازے ہیں، بہت سے منظر ہیں، بہت سی آوازیں ہیں۔ گلی سے آگے وہ میدان ہے جہاں بچپن نے اپنی سب سے بے فکری والی زندگی گزاری؛ جہاں جیتنے کی خوشی سے زیادہ کھیلنے کی خوشی تھی، جہاں شکست اگلے دن کی نئی امید تھی اور جہاں شام کا ڈھلنا اس بات کی علامت تھا کہ آج پھر بچپن نے ایک دن جیت لیا۔
تو آئیے، اس گلی سے آگے بڑھتے ہیں۔
اگلی سیڑھی پر وہ کتابیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں جنہیں مغرب بعد لے کر بیٹھتے تھے................جاری
خیالِ خاطر:
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

بچپن کا سفر [قسطِ سوم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط سوم ]
وہ گلی، جہاں شام رک جاتی تھی
بچپن کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی گھر، صحن، اپنوں کی آوازیں اور وہ ابتدائی دن یاد آتے ہیں جن میں زندگی ابھی اپنی پوری سادگی کے ساتھ ہمارے سامنے تھی۔ مگر بچپن صرف گھر کے اندر نہیں رہتا تھا؛ گھر کا دروازہ کھلتے ہی جیسے اس کی ایک دوسری دنیا شروع ہو جاتی تھی۔ چند قدم باہر نکلتے ہی ایک ایسی سلطنت آباد تھی جس کے بادشاہ بھی ہم تھے، رعایا بھی ہم، قانون بنانے والے بھی ہم اور قانون توڑنے والے بھی ہم۔ وہ گلی شاید آج بھی اسی جگہ موجود ہو، اس کے موڑ شاید اب بھی وہیں ہوں، دیواریں بھی شاید زیادہ نہیں بدلی ہوں، مگر ان دیواروں کے درمیان گونجنے والی وہ آوازیں کہاں ہیں؟ وہ قہقہے، وہ شور، وہ دوڑتے قدم، گیند کے زمین سے ٹکرانے کی آواز، کسی بچے کا دور سے اپنے دوست کو پکارنا، اور پھر کسی گھر سے آنے والی وہ آواز جسے سنتے ہی سب سمجھ جاتے تھے کہ اب کھیل کا وقت ختم ہونے والا ہے۔
آج جب کبھی کسی پرانی گلی سے گزرتے ہوئے بچپن کی خوشبو سی محسوس ہوتی ہے تو دل بے اختیار ٹھہر جاتا ہے، جیسے گزرے ہوئے برسوں نے اچانک ہاتھ پکڑ کر کہا ہو: ”ذرا پیچھے دیکھو، یہاں کبھی تم بھی دوڑا کرتے تھے۔“
اس زمانے میں گلی ہمارے لیے محض راستہ نہیں تھی؛ وہ ہماری روز مرہ زندگی کا ایک بڑا حصہ تھی۔ گھر میں ذرا سی ڈانٹ پڑی، باہر نکلے اور دوستوں کے پاس پہنچ گئے تو جیسے ساری پریشانی ختم۔
کسی نے دور سے آواز دی،
کسی نے دروازے پر دستک دی،
کسی نے کھڑکی سے جھانک کر ہاتھ ہلایا اور بس، اگلے چند لمحوں میں پورا گروہ جمع۔
کسی کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ آج کیا کھیلنا ہے، کہاں کھیلنا ہے یا کون کس کے ساتھ ہوگا۔ گلی میں پہنچتے ہی کوئی نہ کوئی منصوبہ خود بخود بن جاتا تھا۔ کبھی گیند ہاتھ میں آ گئی تو کرکٹ، کبھی سائیکلیں نکل آئیں تو گلی سڑک بن گئی، اور کبھی کچھ بھی نہ ہو تو دوڑ ہی مقابلہ بن جاتی۔
وسائل کم تھے مگر تخیل بہت تھا۔ ایک لکڑی کا ٹکڑا کبھی بلّا بن جاتا،
پتھر وکٹ کا کام دیتے، چپلیں رکھ کر حدود مقرر ہو جاتیں اور اگر گیند کسی دور کے گھر میں چلی جائے تو پورا کھیل چند لمحوں کے لیے اس بات پر رک جاتا کہ ”اب گیند کون لائے گا ؟“ جس کے ہاتھ میں گیند جانے کا امکان زیادہ ہوتا، سب کی نظریں اسی پر ہوتیں؛ اور اگر وہ بچہ ذرا سمجھ دار نکلے تو فوراً کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دے دیتا۔ یوں کھیل کے ساتھ ساتھ سفارت کاری بھی چلتی رہتی تھی۔
گلی میں دوستوں کی اپنی اپنی پہچان تھی۔ کوئی اتنا تیز دوڑتا تھا کہ اسے پکڑنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا،
کوئی ہر کھیل میں خود کو کپتان سمجھتا،
کوئی ایسا بھی ہوتا جسے کھیل کے اصول صرف اس وقت یاد آتے جب فیصلہ اس کے حق میں ہو، اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو اچانک اسے اصول پر شدید اعتراض ہو جاتا۔ کرکٹ میں آؤٹ ہونے پر سب سے پہلے وہی آواز بلند ہوتی: ”نہیں، یہ آؤٹ نہیں ہے!“
اور اگر کوئی پوچھتا کہ کیوں نہیں ہے تو جواب ہوتا: ”بس نہیں ہے!“
بچپن کی دلیلیں بھی کتنی سادہ تھیں۔ نہ قانون کی کتاب، نہ امپائر کا فیصلہ، نہ کوئی تیسرا معتبر شخص؛ جس کی آواز سب سے اونچی ہو، چند لمحوں کے لیے اسی کی بات سچ سمجھی جاتی۔ پھر بحث بڑھتی، کھیل رک جاتا، کوئی ناراض ہو کر گھر جانے کی دھمکی دیتا، دوسرا کہتا ”جاؤ“، تیسرا اسے روکنے لگتا اور چوتھا اس فکر میں رہتا کہ اگر سب چلے گئے تو اس کی بیٹنگ کا کیا ہوگا۔
لیکن اس ساری لڑائی کے باوجود عجیب بات یہ تھی کہ اگلے دن پھر سب اسی جگہ موجود ہوتے۔ کل جس سے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی بات نہیں کریں گے، آج اسی کے ساتھ ٹیم بنانے کے لیے سب سے پہلے پہنچے ہوتے۔ بچپن کے جھگڑے شاید اسی لیے خوب صورت تھے کہ ان میں غصہ ہوتا تھا، مگر فاصلے نہیں۔
اور پھر بارش کے دن!
بارش شروع ہوتی تو بڑوں کے لیے شاید چھتری، کپڑے اور کیچڑ کی فکر شروع ہو جاتی، مگر بچوں کے لیے جیسے کسی نے کھیل کا نیا میدان کھول دیا ہو۔ گلی میں پانی جمع ہوا نہیں کہ کسی نے چھپاکا مار دیا، دوسرے نے اس سے بڑا چھپاکا بنانے کی کوشش کی، کسی نے کاغذ کی کشتی بنا کر پانی میں چھوڑ دی اور چند لمحوں کے لیے اسے یوں دیکھا جیسے وہ واقعی کسی سمندر کا جہاز ہو۔
اگر گھر سے آواز آتی کہ ”بارش میں مت بھیگنا!“ تو اس حکم کو سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا کہ بارش میں ایسا کیا ہے جس سے اتنی احتیاط کی جا رہی ہے ؟ اور پھر احتیاط کا بہترین طریقہ یہی سمجھا جاتا کہ جہاں پانی سب سے زیادہ ہو، وہیں قدم رکھا جائے۔ کپڑے بھیگتے، جوتے کیچڑ میں اترتے، بال بکھرتے اور ہم خوش ہوتے۔ گھر واپس پہنچ کر دروازے پر کھڑے ہوتے تو حالت ایسی ہوتی کہ اگر ہمیں خود نہ معلوم ہوتا کہ ہم کہاں تھے تو شاید ہمیں بھی کسی دوسری جگہ سے آیا ہوا بچہ لگتا۔ پھر سوال ہوتا: ”یہ کپڑے کس نے خراب کیے؟“ اور ہم خاموش۔
کبھی جوتوں کو دیکھتے، کبھی فرش کو، کبھی چہرے پر ایسی سنجیدگی لاتے جیسے ہم کسی بڑے قومی مسئلے پر غور کر رہے ہوں۔ مگر بچوں کی دنیا میں راز زیادہ دیر راز نہیں رہتے؛ کپڑے سب کچھ بتا دیتے تھے۔
گلی کی شامیں تو شاید بچپن کی یادوں کے سب سے روشن ابواب ہیں۔ سورج ڈھلنے لگتا، آسمان پر ہلکی سی سرخی پھیلتی، گھروں سے کھانے کی خوشبو آنے لگتی، دکانوں پر روشنی جلنے لگتی اور ایک ایک کرکے بچے گھروں کو لوٹنے لگتے، مگر ہمارا دل ماننے کو تیار نہ ہوتا کہ آج کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ دور سے کسی گھر کی چھت سے آواز آتی: ”بس اب گھر آ جاؤ!“ جواب فوراً آتا: ”بس پانچ منٹ!“ یہ پانچ منٹ بچپن کی تاریخ کے شاید سب سے طویل پانچ منٹ تھے۔ کبھی وہ واقعی پانچ منٹ رہتے، کبھی پندرہ، کبھی آدھا گھنٹہ۔ پھر دوسری آواز پہلے سے زیادہ واضح ہوتی، اور اس میں محبت کے ساتھ وہ تنبیہ بھی شامل ہوتی جسے بچہ بہت اچھی طرح سمجھتا تھا: ”ابھی آتے ہو یا میں خود آؤں ؟“ اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا تھا؛ سب کو معلوم ہوتا تھا کہ اب واقعی جانا ہے۔
گیند ایک طرف رکتی، سائیکل دیوار سے لگتی، کوئی آخری بار دوست سے اگلے دن ملنے کا وعدہ کرتا، کوئی اپنی ہاری ہوئی بازی کا بدلہ کل لینے کا اعلان کرتا اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چل پڑتے۔ اس وقت ہمیں کیا خبر تھی کہ زندگی میں کچھ شامیں ایسی بھی آئیں گی جن کے بعد وہی گلی، وہی کھیل اور وہی دوست دوبارہ کبھی اس طرح جمع نہیں ہوں گے۔
گلیوں نے ہمیں صرف کھیل نہیں دیے، اس نے ہمیں زندگی کے بہت سے ایسے سبق بھی دیے جنہیں ہم اس وقت سبق سمجھتے ہی نہیں تھے۔ وہیں معلوم ہوا کہ ہر بار جیتنا ضروری نہیں، ہر بات منوانا ضروری نہیں، دوست کی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے،
کبھی اپنی پسند کا کھیل چھوڑ کر دوسروں کے ساتھ چلنا پڑتا ہے،
کبھی ہارنے کے بعد اگلے دن دوبارہ میدان میں آنا پڑتا ہے،
اور کبھی دوست گر جائے تو اپنی جیت بھول کر اسے اٹھانا پڑتا ہے۔ ہم نے وہیں پہلی بار محسوس کیا کہ کسی کے پاس نئی چیز ہو تو اس سے حسد کرنے کے بجائے کچھ دیر اس کے ساتھ کھیلنا بھی ممکن ہے، کسی کا کھیل اچھا ہو تو اس کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے، اور اگر کوئی کمزور ہو تو اسے کھیل سے نکالنے کے بجائے اپنی ٹیم میں شامل کرنا زیادہ خوب صورت بات ہے۔ آج زندگی کے بڑے بڑے اصول کتابوں میں پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تب شاید ہم نے ان میں سے بہت سے اصول مٹی، دھوپ اور کھیل کے درمیان خود ہی سیکھ لیے تھے۔
پھر دوستیاں تھیں۔ ایسی دوستیاں جن میں نہ مطلب تھا، نہ حساب، نہ فائدہ، نہ نقصان۔ دوست کے گھر جانے کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں تھی؛ دروازہ کھٹکھٹایا، آواز دی اور اندر۔ کبھی ایک دوسرے کے گھر بیٹھ کر کچھ کھایا، کبھی کھیل کے لیے کسی کو ساتھ لے گئے، کبھی کسی کے پاس نئی چیز آئی تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔ دوست ناراض ہوا تو منانے کا طریقہ بھی کتنا آسان تھا: کبھی بس اتنا کہنا کافی تھا: ”اچھا، اب نہیں لڑوں گا۔“ اور اگر بات زیادہ بڑی ہو تو ایک ٹافی، ایک گیند یا کھیل میں اپنی باری پہلے دے دینا بھی معافی کا پوری دستاویز بن جاتا۔ نہ لمبے پیغامات، نہ دلائل، نہ خاموشی کی سزا۔ دوستی میں جگہ بہت تھی، اس لیے ناراضی کے لیے جگہ کم پڑ جاتی تھی۔
اسی ہنگامہ میں ایک بچہ ایسا بھی دکھتا جسے بس کھیلنے کو بلا لیا جاتا مگر دل سے نہیں۔ آتا دکھا بلا لیا، کوئی کھلونا اسی کے پاس ہو تو بلا لیا۔ مگر کچھ لمحات کھیلنے سے اس کی زندگی کے بھی ابواب چمکنے لگتے۔
آج کبھی انہیں گلیوں کا خیال آتا ہے تو دل ان جگہوں کو تلاش کرتا ہے جہاں کبھی ہم بیٹھا کرتے تھے،
وہ دیوار جہاں گیند بار بار لگتی تھی،
وہ موڑ جہاں دوست کا انتظار کیا کرتے تھے،
وہ گھر جہاں کسی نہ کسی بہانے جانا ہوتا تھا۔ شاید ان میں سے کچھ جگہیں اب موجود بھی نہ ہوں، شاید وہاں نئی دیواریں بن گئی ہوں، شاید پرانے گھر بدل گئے ہوں، شاید گلی میں اب وہ بچے کھیلتے ہوں جنہیں ہم جانتے تک نہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں سب کچھ اب بھی وہیں ہے۔ وہاں سورج اسی وقت ڈوبتا ہے، دوست اسی وقت آواز دیتا ہے، گیند اسی جگہ جاتی ہے، اور ہم ابھی بھی اسی عمر کے ہیں۔ وقت نے حقیقت بدل دی، مگر یادوں نے منظر محفوظ رکھا۔
کبھی کبھی دل یہ بھی سوچتا ہے کہ ہم اس زمانے میں واپس کیوں نہیں جا سکتے ؟ جواب شاید بہت سادہ ہے: کیونکہ بچپن کسی جگہ کا نام نہیں تھا، وہ ہماری عمر کا ایک حصہ تھا۔ گلی وہی ہو سکتی ہے، گھر وہی ہو سکتا ہے، دوستوں میں سے کوئی آج بھی سامنے آ سکتا ہے، مگر وہ آنکھیں کہاں سے آئیں گی جو ایک معمولی سی گیند کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز سمجھتی تھیں ؟ وہ دل کہاں سے آئے گا جو پانچ منٹ کی کھیل کی مہلت کے لیے پوری دنیا سے لڑنے کو تیار تھا ؟ وہ بے فکری کہاں سے آئے گی جس میں کل کی فکر نہیں تھی اور آج کا ہر لمحہ مکمل تھا ؟
پھر بھی، یادوں کا کمال یہی ہے کہ وہ ہمیں مکمل واپس نہ سہی، چند لمحوں کے لیے وہیں پہنچا دیتی ہیں۔ کسی پرانی گلی کا خیال آتا ہے تو ہم موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکل کر چند لمحوں کے لیے پھر وہی بچے بن جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کوئی دور سے آواز دے، ہم دوڑ کر جائیں، کوئی گیند اچھالے، کوئی ہنسے، کوئی بلا لے، کوئی کہے ”تم آؤٹ ہو“، ہم فوراً انکار کریں اور پھر وہی پرانی بحث شروع ہو جائے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ بحث کتنی قیمتی ہے، یہ ہنسی کتنی نایاب ہے اور یہ شام کتنی جلدی گزر جانے والی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مگر بچپن کی گلی ابھی ہمیں مکمل طور پر رخصت نہیں کر رہی۔ اس کے اندر ابھی بہت سے دروازے ہیں، بہت سے منظر ہیں، بہت سی آوازیں ہیں۔ گلی سے آگے وہ میدان ہے جہاں بچپن نے اپنی سب سے بے فکری والی زندگی گزاری؛ جہاں جیتنے کی خوشی سے زیادہ کھیلنے کی خوشی تھی، جہاں شکست اگلے دن کی نئی امید تھی اور جہاں شام کا ڈھلنا اس بات کی علامت تھا کہ آج پھر بچپن نے ایک دن جیت لیا۔
تو آئیے، اس گلی سے آگے بڑھتے ہیں۔
اگلی سیڑھی پر وہ کتابیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں جنہیں مغرب بعد لے کر بیٹھتے تھے................جاری
خیالِ خاطر:
محمد انس حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
44
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 79
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

جشن عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سےکچھ سوال و جواب کا سلسلہ

رد دیوبندیت پر مشہور کتب کی فہرست ۔

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢