صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
سیرت النبی ﷺ

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ [پارہ:17، سورہ: الانبیاء، آیت:107]
میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پورے جہاں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے ہیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا رحمت ہونا عام ہے، یعنی: آپ مومن و کافر، جانور، شجر و حجر، زمین و آسمان، چرند و پرند سب کے لیے رحمتِ مطلقہ، تامہ، عامہ، شاملہ، جامعہ، محیطہ بن کر تشریف لائے ہیں۔
مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی سیرتِ طیبہ کا ہر ہر عنوان رحمتوں اور برکتوں سے پر ہے۔ اس کا مطالعہ بھی باعثِ اجر و ثواب ہے۔ آئیں پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے بچپن کے مبارک حالات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

نسب شریف:

اپنے نسب شریف کے متعلق خود پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: مسلم شریف کی حدیث پاک ہے، نیز جامع ترمذی باب ما جاء فی فضل النبی اور مشکوٰۃ المصابیح، باب فضائل سید المرسلین ﷺ، فصل:١؍کی دوسری حدیث پاک ہے:
اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ اِبْرَاہِیْمَ اِسْمٰعِیْلَ و اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ اِسْمٰعِیْلَ بَنِیْ کِنَانَۃَ وَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ بَنِیْ کِنَانَۃَ قُرَیْشاً وَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ قُرَیْشٍ بَنِیْ ھَاشِمٍ وَ اصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ
ترجمہ: پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے حضرتِ سیدنا اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو منتخب فرمایا اور اولادِ اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام میں سے بنی کنانہ کو منتخب فرمایا اور بنو کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔
اللّٰہ رب العزت نے اپنے سب سے محبوب نبی کو سب سے افضل خاندان کے سب سے افضل قبیلے کے سب سے افضل گھر میں پیدا فرمایا۔ میرے امام لکھتے ہیں:
سب سے اعلیٰ و اولیٰ ہمارا نبی ﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والدِ ماجد کی جانب سے یہ ہے: حبیبِ کبریا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نظر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نظار بن معد بن عدنان۔
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا نسب شریف یہ ہے: نبئ اعظم محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بن آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ۔ پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کا نسب شریف حضرت کلاب بن مرہ پر مل جاتا ہے، اس کے بعد کے ناموں میں اختلاف ہے اور ایک روایت کے مطابق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب بھی اپنا نسب بیان فرماتے حضرتِ عدنان تک ہی فرماتے تھے۔ میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک پیاری شان یہ بھی ہے کہ سیدِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حضرت ابو البشر سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک سبھی حضرات مسلمان تھے اور نیک بندۂ خدا تھے۔
بنی ہاشم: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا کا نام حضرت ہاشم تھا جن کے بیٹے حضرت عبدالمطلب آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا نکاح حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا، جن سے ہمارے آخری نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت نیک اور نہایت خوبصورت تھے، پرہیزگار تھے، عیاشی سے دور عبادت گزار تھے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاک دامن حسین و جمیل اور پرہیزگار خاتون تھیں۔

ولادتِ با سعادت

فتاویٰ رضویہ شریف کے مطابق حضورِ اکرم، سید عالم، سرکارِ دو جہاں، شافعِ عاصیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش مبارک ١٢؍ربیع الاول شریف مطابق 20؍اپریل 571ء عیسوی بروز پیر بوقت صبح مکہ مکرمہ میں حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ہوئی۔
عثمان بن ابی العاص اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت گھر میں موجود تھی، مَیں نے دیکھا کہ ایک نور ظاہر ہوا جس سے سب منور ہو گیا اور آسمان کے تارے میرے سر کے اتنے قریب آ کہ گئے لگ رہا تھا مجھ پر گر جائیں گے۔
حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: وقتِ ولادت ایسا نور ظاہر ہوا کہ ملکِ شام کے محل مجھے نظر آگئے، ملک شام کے محل کا نظر آنا اس لیے تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اصل ملک شام ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والدہ حضرتِ شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں: میں وقتِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہیں موجود تھی جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں دیے گئے تو میں نے دیکھا کہ نال کٹا اور ختنہ شدہ تھے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو کعبہ شریف بھی آپ کی طرف جھک گیا اور سارے بت منہ کے بل گر پڑے، میرے امام خلیفۂ خاتم الاکابر حضور آل رسول احمدی مارہروی، امامِ اہلِ سنت، دافع نجدیت، سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں:
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چلے کعبہ کا کعبہ دیکھو
اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور نوری میاں مارہروی، حضور مفتئ اعظمِ ہند شاہ مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں:
تم آئے چھٹی بازی رونق ہوئی پھر تازی
کعبہ ہوا پھر کعبہ، کر ڈالا تھا بت خانہ
اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت جمیل القادری صاحب بریلوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
بت شکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل پر گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلوٰۃ والسلام
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کی خبر جب سید کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جد امجد حضرتِ عبدالمطلب تک پہنچی تو وہ تشریف لائے اور خوشی سے آپ کو ہاتھ میں لیا اور نام ”محمد“ رکھا اور حضرتِ آمنہ نے ”احمد“ ﷺ۔ ابولہب نے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں اپنی باندی کو انگلی کے اشارے سے آزاد کر دیا اس کے بدلے اس سڑے کافر کے عذاب میں ہر پیر کو تخفیف ہوتی ہے۔ وقتِ ولادت کے واقعات اس قدر کثیر ہیں کہ اگر سب پر تذکرہ کیا جائے تو بات طویل ہو جائے گی لہذا بغرضِ اختصار موقوف رکھا جاتا ہے۔
صومِ یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ: مسلم شریف کی حدیثِ پاک کو مدارج النبوۃ، جلد:٢؍میں نقل کرکے حضور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں: حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دو شنبہ (Monday) کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ اِس دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: مَیں اِس دن پیدا ہوا تھا۔ اِس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دو شنبہ کے ساتھ 12؍ربیع الاول شریف کو بھی روزہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا حبیب عطا فرمایا اس خوشی میں اور فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے۔
قبلِ ولادت: نبئ پاک ﷺ کی ولادت سے قبل دنیا اس قدر گہری تاریک میں ڈوبی ہوئی تھی کہ روشنی کا نام و نشان نہ تھا۔ ہر ملک میں یا تو بت پرستی یا کسی نبی کی عبادت کی جاتی تھی۔ ملکِ عرب کا سب سے برا حال تھا۔ خانۂ کعبہ ٣٦٠؍بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ بچیوں کو زندہ دفن کر دینا قابلِ فخر سمجھا جاتا تھا۔ طلاقِ رجعی دے دے کر پھر رجعت کر کے عورت کی زندگی سے کھیلا جاتا تھا۔ شوہر مر جاتا تو عورت کو مہینوں قیدی بنا کر ظلم کیا جاتا۔ ظلم و ستم عام تھا۔ امیر کے سامنے غریب جیسے سونے کے سامنے کیچڑ کے مانند تھا۔ غرض کہ پوری دنیا جہالت و تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے دورِ تاریکی میں خدائے وحدہٗ لاشریک نے اپنے سب سے محبوب بندے کو اِس دنیا میں بھیجا۔ نظامِ جہاں ہے کہ کوئی اپنا محبوب کسی کو نہیں دیتا مگر احسان ہے خدائے تعالیٰ کا کہ اُس نے ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایا۔
قبلِ ولادت خاندانِ قریش کا حال یہ تھا کہ وہ شدید قحط اور عظیم تنگی میں مبتلا تھے۔ تمام درخت خشک، تمام جانور لاغر ہوئے پڑے تھے۔ ایسے میں اللہ پاک نے ایس بارش نازل فرمائی کہ پوری زمین سبز و شاداب ہو گئی۔ غرض کے میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پوری دنیا چمک اٹھی، پریشانیاں ختم ہوئیں، اور بت بھی اوندھے منہ گر پڑے۔
حضرتِ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال: پیارے آقا ﷺ کی ولادت سے چھ ماہ قبل پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدِ ماجد جناب سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ہو گیا تھا۔ مدینہ منورہ میں مدفون ہوئے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی تو ملائکہ نے مناجات کی کہ اے ہمارے رب! محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو تیرے نبی و حبیب ہیں (ظاہراً) یتیم ہو گئے ؟ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان کا میں حافظ و ناصر وکفیل ہوں، ان پر صلوٰۃ والسلام پڑھو۔

رضاعت

رضاعت: سب سے پہلے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ ثوبیہ کا دودھ نوش فرمایا جو خبیث ابولہب کی آزاد کردہ باندی تھیں، پھر شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دودھ سے سیراب ہوتے رہے۔ شرفائے عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے گرد و نواح دیہاتوں میں بھیج دیتے، دیہات کی اچھی اور تروتازہ ہواؤں میں بچوں کی صحت اور اچھی رہتی۔
حضرتِ حلیمہ کی رضاعت: پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائشِ مبارک کے بعد دائیاں مکہ مکرمہ آئیں اور اپنے ساتھ بچوں کو لے لیا۔ ایک قافلے میں حضرتِ حلیمہ اور ان کے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے جن کی اونٹنی بیماری اور کمزوری سے آہستہ چل رہی تھی، دیر اس قدر ہو گئی کہ دائیاں مکہ شریف کے سبھی بچوں کو لے جا چکی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت حلیمہ سعدیہ کی قسمت میں سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضاعت کا شرف لکھا۔ اُن کو خبر ملی کہ ایک بچہ جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے حضرت عبدالمطلب کے گھر میں ہے۔ حضرت حلیمہ نے اپنے شوہر سے اجازت لی کہ صرف ایک شہزادہ ہی باقی ہے جو جن کے والد نہیں ہیں تو ان کے شوہر نے اجازت دی۔ حضرت حلیمہ سعدیہ نبئ اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ساتھ لے کر واپس ہوئیں۔
سرکارِ اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دودھ پینے کے زمانے سے انصاف فرمانے والے ہیں، صرف ایک تھن سے دودھ نوش فرماتے تھے اور داہنے تھن سے، جبکہ بائیں میں زیادہ دودھ ہوتا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ حضرت حلیمہ کے اپنے بھی بچے تھے، ان کی خاطر میرے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صرف ایک تھن سے دودھ نوش فرماتے اور داہنے تھن سے اس لیے بھی کہ اللہ پاک کو داہنا پسند ہے۔
جب پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حلیمہ کے نزد پہنچے تو ایسی ایسی برکتیں ظاہر ہوئیں جو کسی نے کبھی نہ دیکھی۔ جو اونٹنی اتنی کمزور تھی کہ چل نہیں پا رہی تھی اس کا تھن دودھ سے بھر گیا اور حضرت حلیمہ اور ان کے شوہر نے شکم سیر ہو کر دودھ پیا اور سکون کی نیند سوئے۔ اگلے دن وہ اونٹنی اس قدر تیز چلی کہ وہ دائیاں جو مکہ مکرمہ سے کتنے دن پہلے بچوں کو لے جا چکی تھیں، پیچھے رہ گئیں۔
حضرتِ حلیمہ کے گاؤں میں برکتوں کا ظہور: حضرت حلیمہ سعدیہ بیان فرماتی ہیں: ہمارے گھر میں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن خشک ہو چکے تھے مگر جب ہم محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو لے کر گھر میں داخل ہوئے تو سبھی جانوروں کے تھن دودھ سے بھر گئے۔ اس کے بعد روزانہ بکریاں جب چراگاہ سے واپس آتی تھیں تو تھن دودھ سے بھرے ہوتے، حالانکہ پوری بستی میں کسی اور کو ایک قطرہ دودھ نہ ملتا تھا، میرے قبیلہ والوں نے چرواہوں سے کہا تم بھی اپنے جانوروں کو اسی جگہ چرنے بھیجو جہاں حضرت حلیمہ کی بھی بکریاں چرتی ہیں۔ پھر ان بکریوں میں بھی برکتیں ہوئیں اور پوری بستی سے قحط ختم ہو گیا۔ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ یہ جنگل کی نہیں ابنِ عبداللہ یعنی سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتیں تھیں مگر کسی کو کیا سمجھ آئے۔
حضور ﷺ کے قدمِ مبارک میں شفا: حضرت حلیمہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک کو کوئیں کے پانی میں ڈال دیتی تھیں اور اس پانی سے اتنا شفا ملتا کہ زہر بھی بے اثر ہو جاتا، پورا گاؤں اس پانی سے اپنی بیماری دور کرتا تھا۔ یہ ہے حضورِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانۂ طفل میں برکتوں کا عالم۔
عادتِ انبیاء و مصطفیٰ ﷺ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کچھ بڑے ہوئے تو باہر بچوں کو کھیلتا دیکھتے مگر شرکت نہ فرماتے اور بلانے پر ارشاد فرماتے: میں کھیلنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ ایک دن حضرت حلیمہ سے دریافت فرمایا: اے امی جان! میرے بھائی، بہن روزانہ کہاں جاتے ہیں ؟ حضرتِ حلیمہ نے کہا وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ حضورِ اقدس نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی جانے کی خواہش فرمائی اور اصرار پر حضرت حلیمہ نے اجازت دے دیا، شروع میں راضی نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سرکارِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خود سے دور ہونا برداشت نہیں کرتی تھیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بکریاں چرانے جاتے تو بکریاں پیچھے پیچھے جاتی۔ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت رہی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں خصلتِ نبوت کا اظہار فرما دیا۔
بچپن کی ادائیں: حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے: حضورِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا۔ حضور اقدس سیدِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انگلئ مبارک سے چاند کی طرف اشارہ فرماتے تو چاند اشاروں سے حرکت کرتا۔ اسی کا نقشہ کھینچتے ہوئے امامِ اہلسنت، چشم و چراغِ مارہرہ، سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا
فضلِ پیدائشی پر ہمیشہ درود
کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام
زبانِ اقدس سے پہلا کلام: حضرتِ حلیمہ فرماتی ہیں کہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس سے سب سے پہلا کلام جو نکلا وہ یہ ہے: اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ سُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً
دودھ پینے کے زمانے میں حیا کا عالم: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کپڑے میں بول و براز نہیں کیے ایک وقت متعین تھا، اگر موضعِ طہارت کھل جاتی تو تب تک قرار نہ پاتے جب تک پردہ نہ کیا جائے، اور کبھی حضرتِ حلیمہ کو پردہ کرنے میں دیری ہوتی تو کوئی غیب سے پردہ کر کے چلا جاتا۔ کبھی کھیل میں شریک نہیں ہوئے پہلا شقِ صدر حضرتِ حلیمہ سعدیہ کے گاؤں میں ہوا اُس کے بعد چھ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس تشریف لے گئے۔ تقریباً چار سال کی عمر شریف میں ایک مرتبہ حضرت حلیمہ نبئ مکرم محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس ان کی والدہ ماجدہ کی بارگاہ میں پہنچانے گئیں مگر اس وقت مکہ مکرمہ میں ایک بیماری پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے حضرتِ حلیمہ کو دوبارہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس اپنے گاؤں لے جانے کا شرف ملا پھر چھ سال کی عمر شریف میں آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کے پاس آ گئے۔
حضور اقدس ﷺ کے بھائی بہن: حضرتِ عبداللہ و حضرتِ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کوئی دوسری اولاد نہ ہوئی اور نہ حضرتِ عبداللہ ہی سے لہٰذا پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کوئی حقیقی بھائی بہن نہیں۔ ہاں! رضاعی بھائی بہن ہیں یعنی حضرتِ حلیمہ کے بچے آپ کے رضاعی بھائی بہن ہوئے۔ جن میں چند کے نام یہ ہیں: عبداللہ، انیسہ، ضمرہ، حذیفہ، حذافہ (یہ شیما سے مشہور ہوئیں) حضرتِ حلیمہ و حضرت حارث بن عبدالعزیٰ مسلمان ہو گئے تھے نیز آپ کے رضاعی بھائی بہن میں عبداللہ و شیما کا اسلام لانا ثابت ہے۔
حضرتِ آمنہ کا وصال: جب آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر مبارک چھ برس ہوئی تو والدہ ماجدہ کے ساتھ مدینہ شریف اپنے والدِ ماجد کی قبر پر تشریف لے گئے۔ واپسی میں مقامِ ”ابواء“ میں حضرتِ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہو گیا۔ حضرت عبداللہ کی باندی حضرت ام ایمن بھی ساتھ تھیں جو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس لائیں۔ انہیں ام ایمن کا نکاح حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ سے کیا جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔
حضرتِ عبدالمطلب کا وصال: ام ایمن نے نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا جان حضرت عبدالمطلب کے سپرد کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف آٹھ سال ہوئی تو حضرت عبدالمطلب کا بھی وصال ہو گیا۔ دادا جان نے آپ کی کفالت کے ذمہ‌داری اپنے بیٹے ابوطالب کو سپرد کی جنہوں نے پورا حق کفالت ادا کیا۔
زمانۂ طفل کے اور مختصر واقعات: جب حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف 12؍سال ہوئی تو اپنے چچا کے ساتھ شام تشریف لے گئے جہاں بحیرہ راہب یہودی نے حبیبِ کبریا حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس چہرے کی چمک سے پہچان لیا کہ یہی آخری نبی ہیں۔ انہوں نے ابوطالب سے کہا کہ ان کو واپس لے جائیں۔ یہاں ان کے بہت دشمن ہیں، پھر ابو طالب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لے کر واپس آگئے۔
جب عمر شریف 14 سال ہوئی تو جنگ فجار پیش آیا ۔اس دفعہ یہ جنگ قریش و قیس کے درمیان ہوئی تھی، اس میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے چچاؤں کو تیر اٹھا کر دیتے تھے۔
جب پورے ملک میں قحط پڑ جاتا تو میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس لوگ آکر دعا کی گزارش کرتے کہ عبدالمطلب کے بعد آپ کعبہ کے متولی ہیں ہمارے لیے دعا فرمائیں، حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے بارش ہوتی اور ہمیشہ سب کو پریشانیوں سے نجات ملتی رہی کیونکہ میرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر کسی کے لیے رحمت ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرتِ خدیجہ سے نکاح: حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت سیدہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔ جب حضورِ اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر مبارک 25؍اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر مبارک 40؍سال تھی۔
از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
١٥؍صفر المظفر ؁١٤٤٥ھ

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ [پارہ:17، سورہ: الانبیاء، آیت:107]
میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پورے جہاں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے ہیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا رحمت ہونا عام ہے، یعنی: آپ مومن و کافر، جانور، شجر و حجر، زمین و آسمان، چرند و پرند سب کے لیے رحمتِ مطلقہ، تامہ، عامہ، شاملہ، جامعہ، محیطہ بن کر تشریف لائے ہیں۔
مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی سیرتِ طیبہ کا ہر ہر عنوان رحمتوں اور برکتوں سے پر ہے۔ اس کا مطالعہ بھی باعثِ اجر و ثواب ہے۔ آئیں پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے بچپن کے مبارک حالات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

نسب شریف:

اپنے نسب شریف کے متعلق خود پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: مسلم شریف کی حدیث پاک ہے، نیز جامع ترمذی باب ما جاء فی فضل النبی اور مشکوٰۃ المصابیح، باب فضائل سید المرسلین ﷺ، فصل:١؍کی دوسری حدیث پاک ہے:
اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ اِبْرَاہِیْمَ اِسْمٰعِیْلَ و اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ اِسْمٰعِیْلَ بَنِیْ کِنَانَۃَ وَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ بَنِیْ کِنَانَۃَ قُرَیْشاً وَ اصْطَفیٰ مِنْ وَلَدِ قُرَیْشٍ بَنِیْ ھَاشِمٍ وَ اصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ
ترجمہ: پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے حضرتِ سیدنا اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو منتخب فرمایا اور اولادِ اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام میں سے بنی کنانہ کو منتخب فرمایا اور بنو کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔
اللّٰہ رب العزت نے اپنے سب سے محبوب نبی کو سب سے افضل خاندان کے سب سے افضل قبیلے کے سب سے افضل گھر میں پیدا فرمایا۔ میرے امام لکھتے ہیں:
سب سے اعلیٰ و اولیٰ ہمارا نبی ﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والدِ ماجد کی جانب سے یہ ہے: حبیبِ کبریا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نظر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نظار بن معد بن عدنان۔
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا نسب شریف یہ ہے: نبئ اعظم محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بن آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ۔ پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کا نسب شریف حضرت کلاب بن مرہ پر مل جاتا ہے، اس کے بعد کے ناموں میں اختلاف ہے اور ایک روایت کے مطابق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب بھی اپنا نسب بیان فرماتے حضرتِ عدنان تک ہی فرماتے تھے۔ میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک پیاری شان یہ بھی ہے کہ سیدِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حضرت ابو البشر سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک سبھی حضرات مسلمان تھے اور نیک بندۂ خدا تھے۔
بنی ہاشم: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا کا نام حضرت ہاشم تھا جن کے بیٹے حضرت عبدالمطلب آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا نکاح حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا، جن سے ہمارے آخری نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت نیک اور نہایت خوبصورت تھے، پرہیزگار تھے، عیاشی سے دور عبادت گزار تھے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاک دامن حسین و جمیل اور پرہیزگار خاتون تھیں۔

ولادتِ با سعادت

فتاویٰ رضویہ شریف کے مطابق حضورِ اکرم، سید عالم، سرکارِ دو جہاں، شافعِ عاصیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش مبارک ١٢؍ربیع الاول شریف مطابق 20؍اپریل 571ء عیسوی بروز پیر بوقت صبح مکہ مکرمہ میں حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ہوئی۔
عثمان بن ابی العاص اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت گھر میں موجود تھی، مَیں نے دیکھا کہ ایک نور ظاہر ہوا جس سے سب منور ہو گیا اور آسمان کے تارے میرے سر کے اتنے قریب آ کہ گئے لگ رہا تھا مجھ پر گر جائیں گے۔
حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: وقتِ ولادت ایسا نور ظاہر ہوا کہ ملکِ شام کے محل مجھے نظر آگئے، ملک شام کے محل کا نظر آنا اس لیے تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اصل ملک شام ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والدہ حضرتِ شفا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں: میں وقتِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہیں موجود تھی جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں دیے گئے تو میں نے دیکھا کہ نال کٹا اور ختنہ شدہ تھے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو کعبہ شریف بھی آپ کی طرف جھک گیا اور سارے بت منہ کے بل گر پڑے، میرے امام خلیفۂ خاتم الاکابر حضور آل رسول احمدی مارہروی، امامِ اہلِ سنت، دافع نجدیت، سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں:
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چلے کعبہ کا کعبہ دیکھو
اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور نوری میاں مارہروی، حضور مفتئ اعظمِ ہند شاہ مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں:
تم آئے چھٹی بازی رونق ہوئی پھر تازی
کعبہ ہوا پھر کعبہ، کر ڈالا تھا بت خانہ
اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت جمیل القادری صاحب بریلوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
بت شکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل پر گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلوٰۃ والسلام
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کی خبر جب سید کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جد امجد حضرتِ عبدالمطلب تک پہنچی تو وہ تشریف لائے اور خوشی سے آپ کو ہاتھ میں لیا اور نام ”محمد“ رکھا اور حضرتِ آمنہ نے ”احمد“ ﷺ۔ ابولہب نے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں اپنی باندی کو انگلی کے اشارے سے آزاد کر دیا اس کے بدلے اس سڑے کافر کے عذاب میں ہر پیر کو تخفیف ہوتی ہے۔ وقتِ ولادت کے واقعات اس قدر کثیر ہیں کہ اگر سب پر تذکرہ کیا جائے تو بات طویل ہو جائے گی لہذا بغرضِ اختصار موقوف رکھا جاتا ہے۔
صومِ یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ: مسلم شریف کی حدیثِ پاک کو مدارج النبوۃ، جلد:٢؍میں نقل کرکے حضور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں: حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دو شنبہ (Monday) کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ اِس دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: مَیں اِس دن پیدا ہوا تھا۔ اِس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دو شنبہ کے ساتھ 12؍ربیع الاول شریف کو بھی روزہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا حبیب عطا فرمایا اس خوشی میں اور فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے۔
قبلِ ولادت: نبئ پاک ﷺ کی ولادت سے قبل دنیا اس قدر گہری تاریک میں ڈوبی ہوئی تھی کہ روشنی کا نام و نشان نہ تھا۔ ہر ملک میں یا تو بت پرستی یا کسی نبی کی عبادت کی جاتی تھی۔ ملکِ عرب کا سب سے برا حال تھا۔ خانۂ کعبہ ٣٦٠؍بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ بچیوں کو زندہ دفن کر دینا قابلِ فخر سمجھا جاتا تھا۔ طلاقِ رجعی دے دے کر پھر رجعت کر کے عورت کی زندگی سے کھیلا جاتا تھا۔ شوہر مر جاتا تو عورت کو مہینوں قیدی بنا کر ظلم کیا جاتا۔ ظلم و ستم عام تھا۔ امیر کے سامنے غریب جیسے سونے کے سامنے کیچڑ کے مانند تھا۔ غرض کہ پوری دنیا جہالت و تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے دورِ تاریکی میں خدائے وحدہٗ لاشریک نے اپنے سب سے محبوب بندے کو اِس دنیا میں بھیجا۔ نظامِ جہاں ہے کہ کوئی اپنا محبوب کسی کو نہیں دیتا مگر احسان ہے خدائے تعالیٰ کا کہ اُس نے ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایا۔
قبلِ ولادت خاندانِ قریش کا حال یہ تھا کہ وہ شدید قحط اور عظیم تنگی میں مبتلا تھے۔ تمام درخت خشک، تمام جانور لاغر ہوئے پڑے تھے۔ ایسے میں اللہ پاک نے ایس بارش نازل فرمائی کہ پوری زمین سبز و شاداب ہو گئی۔ غرض کے میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پوری دنیا چمک اٹھی، پریشانیاں ختم ہوئیں، اور بت بھی اوندھے منہ گر پڑے۔
حضرتِ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال: پیارے آقا ﷺ کی ولادت سے چھ ماہ قبل پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدِ ماجد جناب سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ہو گیا تھا۔ مدینہ منورہ میں مدفون ہوئے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی تو ملائکہ نے مناجات کی کہ اے ہمارے رب! محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو تیرے نبی و حبیب ہیں (ظاہراً) یتیم ہو گئے ؟ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان کا میں حافظ و ناصر وکفیل ہوں، ان پر صلوٰۃ والسلام پڑھو۔

رضاعت

رضاعت: سب سے پہلے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ ثوبیہ کا دودھ نوش فرمایا جو خبیث ابولہب کی آزاد کردہ باندی تھیں، پھر شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دودھ سے سیراب ہوتے رہے۔ شرفائے عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے گرد و نواح دیہاتوں میں بھیج دیتے، دیہات کی اچھی اور تروتازہ ہواؤں میں بچوں کی صحت اور اچھی رہتی۔
حضرتِ حلیمہ کی رضاعت: پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائشِ مبارک کے بعد دائیاں مکہ مکرمہ آئیں اور اپنے ساتھ بچوں کو لے لیا۔ ایک قافلے میں حضرتِ حلیمہ اور ان کے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے جن کی اونٹنی بیماری اور کمزوری سے آہستہ چل رہی تھی، دیر اس قدر ہو گئی کہ دائیاں مکہ شریف کے سبھی بچوں کو لے جا چکی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت حلیمہ سعدیہ کی قسمت میں سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضاعت کا شرف لکھا۔ اُن کو خبر ملی کہ ایک بچہ جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے حضرت عبدالمطلب کے گھر میں ہے۔ حضرت حلیمہ نے اپنے شوہر سے اجازت لی کہ صرف ایک شہزادہ ہی باقی ہے جو جن کے والد نہیں ہیں تو ان کے شوہر نے اجازت دی۔ حضرت حلیمہ سعدیہ نبئ اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ساتھ لے کر واپس ہوئیں۔
سرکارِ اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دودھ پینے کے زمانے سے انصاف فرمانے والے ہیں، صرف ایک تھن سے دودھ نوش فرماتے تھے اور داہنے تھن سے، جبکہ بائیں میں زیادہ دودھ ہوتا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ حضرت حلیمہ کے اپنے بھی بچے تھے، ان کی خاطر میرے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صرف ایک تھن سے دودھ نوش فرماتے اور داہنے تھن سے اس لیے بھی کہ اللہ پاک کو داہنا پسند ہے۔
جب پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حلیمہ کے نزد پہنچے تو ایسی ایسی برکتیں ظاہر ہوئیں جو کسی نے کبھی نہ دیکھی۔ جو اونٹنی اتنی کمزور تھی کہ چل نہیں پا رہی تھی اس کا تھن دودھ سے بھر گیا اور حضرت حلیمہ اور ان کے شوہر نے شکم سیر ہو کر دودھ پیا اور سکون کی نیند سوئے۔ اگلے دن وہ اونٹنی اس قدر تیز چلی کہ وہ دائیاں جو مکہ مکرمہ سے کتنے دن پہلے بچوں کو لے جا چکی تھیں، پیچھے رہ گئیں۔
حضرتِ حلیمہ کے گاؤں میں برکتوں کا ظہور: حضرت حلیمہ سعدیہ بیان فرماتی ہیں: ہمارے گھر میں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن خشک ہو چکے تھے مگر جب ہم محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو لے کر گھر میں داخل ہوئے تو سبھی جانوروں کے تھن دودھ سے بھر گئے۔ اس کے بعد روزانہ بکریاں جب چراگاہ سے واپس آتی تھیں تو تھن دودھ سے بھرے ہوتے، حالانکہ پوری بستی میں کسی اور کو ایک قطرہ دودھ نہ ملتا تھا، میرے قبیلہ والوں نے چرواہوں سے کہا تم بھی اپنے جانوروں کو اسی جگہ چرنے بھیجو جہاں حضرت حلیمہ کی بھی بکریاں چرتی ہیں۔ پھر ان بکریوں میں بھی برکتیں ہوئیں اور پوری بستی سے قحط ختم ہو گیا۔ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ یہ جنگل کی نہیں ابنِ عبداللہ یعنی سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتیں تھیں مگر کسی کو کیا سمجھ آئے۔
حضور ﷺ کے قدمِ مبارک میں شفا: حضرت حلیمہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک کو کوئیں کے پانی میں ڈال دیتی تھیں اور اس پانی سے اتنا شفا ملتا کہ زہر بھی بے اثر ہو جاتا، پورا گاؤں اس پانی سے اپنی بیماری دور کرتا تھا۔ یہ ہے حضورِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانۂ طفل میں برکتوں کا عالم۔
عادتِ انبیاء و مصطفیٰ ﷺ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کچھ بڑے ہوئے تو باہر بچوں کو کھیلتا دیکھتے مگر شرکت نہ فرماتے اور بلانے پر ارشاد فرماتے: میں کھیلنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ ایک دن حضرت حلیمہ سے دریافت فرمایا: اے امی جان! میرے بھائی، بہن روزانہ کہاں جاتے ہیں ؟ حضرتِ حلیمہ نے کہا وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ حضورِ اقدس نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی جانے کی خواہش فرمائی اور اصرار پر حضرت حلیمہ نے اجازت دے دیا، شروع میں راضی نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سرکارِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خود سے دور ہونا برداشت نہیں کرتی تھیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بکریاں چرانے جاتے تو بکریاں پیچھے پیچھے جاتی۔ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت رہی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں خصلتِ نبوت کا اظہار فرما دیا۔
بچپن کی ادائیں: حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے: حضورِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا۔ حضور اقدس سیدِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انگلئ مبارک سے چاند کی طرف اشارہ فرماتے تو چاند اشاروں سے حرکت کرتا۔ اسی کا نقشہ کھینچتے ہوئے امامِ اہلسنت، چشم و چراغِ مارہرہ، سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا
فضلِ پیدائشی پر ہمیشہ درود
کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام
زبانِ اقدس سے پہلا کلام: حضرتِ حلیمہ فرماتی ہیں کہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس سے سب سے پہلا کلام جو نکلا وہ یہ ہے: اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ سُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً
دودھ پینے کے زمانے میں حیا کا عالم: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کپڑے میں بول و براز نہیں کیے ایک وقت متعین تھا، اگر موضعِ طہارت کھل جاتی تو تب تک قرار نہ پاتے جب تک پردہ نہ کیا جائے، اور کبھی حضرتِ حلیمہ کو پردہ کرنے میں دیری ہوتی تو کوئی غیب سے پردہ کر کے چلا جاتا۔ کبھی کھیل میں شریک نہیں ہوئے پہلا شقِ صدر حضرتِ حلیمہ سعدیہ کے گاؤں میں ہوا اُس کے بعد چھ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس تشریف لے گئے۔ تقریباً چار سال کی عمر شریف میں ایک مرتبہ حضرت حلیمہ نبئ مکرم محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس ان کی والدہ ماجدہ کی بارگاہ میں پہنچانے گئیں مگر اس وقت مکہ مکرمہ میں ایک بیماری پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے حضرتِ حلیمہ کو دوبارہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس اپنے گاؤں لے جانے کا شرف ملا پھر چھ سال کی عمر شریف میں آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کے پاس آ گئے۔
حضور اقدس ﷺ کے بھائی بہن: حضرتِ عبداللہ و حضرتِ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کوئی دوسری اولاد نہ ہوئی اور نہ حضرتِ عبداللہ ہی سے لہٰذا پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کوئی حقیقی بھائی بہن نہیں۔ ہاں! رضاعی بھائی بہن ہیں یعنی حضرتِ حلیمہ کے بچے آپ کے رضاعی بھائی بہن ہوئے۔ جن میں چند کے نام یہ ہیں: عبداللہ، انیسہ، ضمرہ، حذیفہ، حذافہ (یہ شیما سے مشہور ہوئیں) حضرتِ حلیمہ و حضرت حارث بن عبدالعزیٰ مسلمان ہو گئے تھے نیز آپ کے رضاعی بھائی بہن میں عبداللہ و شیما کا اسلام لانا ثابت ہے۔
حضرتِ آمنہ کا وصال: جب آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر مبارک چھ برس ہوئی تو والدہ ماجدہ کے ساتھ مدینہ شریف اپنے والدِ ماجد کی قبر پر تشریف لے گئے۔ واپسی میں مقامِ ”ابواء“ میں حضرتِ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہو گیا۔ حضرت عبداللہ کی باندی حضرت ام ایمن بھی ساتھ تھیں جو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس لائیں۔ انہیں ام ایمن کا نکاح حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ سے کیا جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔
حضرتِ عبدالمطلب کا وصال: ام ایمن نے نبئ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا جان حضرت عبدالمطلب کے سپرد کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف آٹھ سال ہوئی تو حضرت عبدالمطلب کا بھی وصال ہو گیا۔ دادا جان نے آپ کی کفالت کے ذمہ‌داری اپنے بیٹے ابوطالب کو سپرد کی جنہوں نے پورا حق کفالت ادا کیا۔
زمانۂ طفل کے اور مختصر واقعات: جب حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف 12؍سال ہوئی تو اپنے چچا کے ساتھ شام تشریف لے گئے جہاں بحیرہ راہب یہودی نے حبیبِ کبریا حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس چہرے کی چمک سے پہچان لیا کہ یہی آخری نبی ہیں۔ انہوں نے ابوطالب سے کہا کہ ان کو واپس لے جائیں۔ یہاں ان کے بہت دشمن ہیں، پھر ابو طالب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لے کر واپس آگئے۔
جب عمر شریف 14 سال ہوئی تو جنگ فجار پیش آیا ۔اس دفعہ یہ جنگ قریش و قیس کے درمیان ہوئی تھی، اس میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے چچاؤں کو تیر اٹھا کر دیتے تھے۔
جب پورے ملک میں قحط پڑ جاتا تو میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس لوگ آکر دعا کی گزارش کرتے کہ عبدالمطلب کے بعد آپ کعبہ کے متولی ہیں ہمارے لیے دعا فرمائیں، حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے بارش ہوتی اور ہمیشہ سب کو پریشانیوں سے نجات ملتی رہی کیونکہ میرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر کسی کے لیے رحمت ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرتِ خدیجہ سے نکاح: حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت سیدہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔ جب حضورِ اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر مبارک 25؍اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر مبارک 40؍سال تھی۔
از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
١٥؍صفر المظفر ؁١٤٤٥ھ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
7
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 30
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 30 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢